10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الرا، یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں۔

(1) یعنی میں اللہ تعالیٰ ہوں سب کو دیکھ رہا ہوں یا یہ کہ یہ قسم ہے یہ سورت قرآن کریم کی محکم آیات ہیں جو حلال و حرام کو بیان کررہی ہیں۔
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں انکا سچا درجہ ہے (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگر ہے۔

(2) کیا مکہ والوں کو اس بات حیرانی ہوئی کہ ہم نے ان ہی جیسے ایک انسان کے پاس وحی بھیجی تاکہ مکہ والوں کو بھی قرآن کریم کے ذریعے ڈرائے، اور مومنوں کو بہترین ثواب کی خوشخبری سنائیے یا یہ کہ ان کو دنیا میں ایمان لانے کے صلہ میں آخرت میں اے پروردگار کے پاس پہنچ کر پورا مرتبہ ملے گا یا یہ کہ ان کے لیے شرافت و بزرگی والے نبی ہیں یا یہ کہ بلند مرتبہ والے شفیع ہیں مگر کفار مکہ کہنے لگے کہ (نعوذ باللہ) یہ قرآن کریم تو جھوٹا جادو ہے۔ شان نزول : (آیت) ”اکان للناس عجبا“۔ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ضحاک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو رسول بناکر بھیجا تو تمام عرب نے یا عرب میں سے کچھ لوگوں نے اس بات کا انکار کیا اور کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ کی شان کے یہ خلاف ہے کہ کوئی انسان اس کا رسول ہو، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔”اکان للناس“۔ یعنی کیا ان لوگوں کو اس بات سے تعجب ہوا کہ ہم نے ان میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی اور یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”وما ارسلنا من قبلک الا رجالا ”۔ (الخ) چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کئی دلیلیں پیش کیں تو کہنے لگے کہ اگر انسان ہی کو رسول بنا کر بھیجنا تھا تو معاذ اللہ محمد ﷺ کے علاوہ دوسرا اس کا زیادہ مستحق تھا اس کا خیال تھا کہ مکہ والوں میں سے ولید بن مغیرہ اور طائف والوں میں سے مسعود بن عمر وثقفی ہوتا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ”۔ اھم یقسمون رحمۃ ربک“۔ (الخ)
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کام کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کئے بغیر (کسی کی) سفارش نہیں کرسکتا۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو تم اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

(3) بلاشبہ تمہارے رب حقیقی نے دنیا کے پہلے چھ دنوں میں جس کا پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعۃ المبارک ہے جن میں سے ہر ایک دن کی لمبائی ایک ہزار سال کے برابر ہے، آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر قائم ہوا یا یہ کہ پھر عرش پر غالب اور متمکن ہوا۔ اور وہ بندوں کے ہر ایک کام کی تدبیر کرتا ہے یا یہ کہ بندوں کے ہر کام میں غور فرماتا ہے یا یہ کہ وہ فرشتوں کو وحی تنزیل اور مصیبت کے ساتھ بھیجتا ہے۔ اس کے سامنے کوئی قریبی فرشتہ اور نہ کوئی نبی مرسل کسی کی سفارش کرسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ساتھ، جو ان تمام امور کو انجام دیتا ہے وہ تمہارا پروردگار ہے سو تم اسی کی توحید بجا لاؤ کیا تم پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیونکہ (خدا سے) انکار کرتے تھے۔

(4) مرنے کے بعد تم سب لوگوں کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے، یہ سچا وعدہ کر رکھا ہے، جو یقیناً پورا ہونے والا ہے، بیشک وہی پہلی بار نطفہ سے پیدا کرتا ہے، پھر وہی مرنے کے بعد بھی پیدا کرے گا۔
Ayah 10:5

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لئے وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

(5) تاکہ اس طرح لوگوں کو جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور حقوق اللہ انصاف کے ساتھ ادا کیے ایسے لوگوں کو بدلہ میں جنت دے اور جن لوگوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم ﷺ کا انکار کیا ان کو کھولتا ہوا پانی ملے گا اور ایسا دردناک عذاب ہوگا جس کی شدت ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی کیوں کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتے تھے۔ وہ اللہ ایسا ہے جس نے تمام جہانوں کو دن میں روشنی کے لیے سورج اور ررات کو روشنی کے لیے چاند دیا اور ان کی چال کے لیے منزلیں رکھیں تاکہ تم برسوں مہینوں اور دونوں کی گنتی اور حساب رکھ سکو۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے بیان کرنے کے لیے پیدا کی ہیں اور یہ دلائل قرآنیہ ان لوگوں کو جو کہ تصدیق کرتے ہیں، واضح علامات توحید بیان کررہے ہیں۔
Ayah 10:6

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

رات اور دن کے (ایک دوسرے کے) پیچھے آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

(6) بلاشبہ دن اور رات کی تبدیلی اور ان کی کمی بیشی اور ان کے آنے جانے میں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں چاند سورج اور ستارے وغیرہ اور جو کچھ زمین میں درخت، جانور، پہاڑ اور دریا پیدا کیے ان سب میں وحدانیت خداوندی کے دلائل ہیں ان لوگوں کے واسطے جو اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔
Ayahs 10:7–8

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطمئن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان کا ٹھکانا ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے۔

(7۔ 8) جن لوگوں کو مرنے کے بعد کا ڈر نہیں اور مرنے کے بعد کا وہ اقرار نہیں کرتے اور آخرت کے مقابلہ میں دنیاوی زندگی کو انہوں نے اختیار کررکھا ہے اور اس پر وہ خوش ہوگئے اور جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر ہیں اور اس سے روگردانی کر رہے ہیں، ان لوگوں کا ٹھکانا انکے اقوال اور اعمال شرکیہ کی وجہ سے جہنم ہے۔
Ayah 10:9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہ رہی ہوں گی۔

(9) اور یقیناً جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انھوں نے اطاعت خداوندی کی تو بوجہ ان کے مومن ہونے کے ان کا پروردگار ان کو جنت میں بھیجے گا جس کے محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ، شہد، پانی اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی ،
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

(جب وہ) ان میں (ان کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان اللہ اور آپس میں انکی دعا سلام علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول (یہ ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے۔

(10) اور جنت میں جب وہ کسی چیز کی آرزوکریں گے تو ان کے منہ سے سبحان اللہ نکلے گا جس کو سن کر خدام جو وہ چاہیں گے لے کر ہوجائیں گے اور ان کا ملاقات کے وقت باہمی سلام، سلام علیکم ہوگا اور کھانا اور پینے کے بعد ان کی آخری بات یہ ہوگی۔ الحمد للہ رب العلمین۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی۔ سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کو توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

(11) اور اگر لوگوں کی برائی کے لی جلدی مچانے کے مطابق جیسا کہ وہ فائدے کے لیے جلدی مچاتے ہیں اللہ تعالیٰ نقصان واقع کردیا کرتا تو سب کے سب ہلاک ہوچکے ہوتے، سو ہم ان لوگوں کو جن کو مرنے کے بعد کا کھٹکا ہی نہیں، ان کے حال پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ یہ اپنے کفر اور گمراہیوں میں اندھوں کی طرح بھٹکتے رہیں۔
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں تو (بےلحاظ ہوجاتا اور) اس طرح گزر جاتا ہے کہ گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں۔

(12) اور جب کو یعنی ہشام بن مغیرہ مخزومی کو کوئی تکلیف یا بیماری پہنچتی ہے تو بستر پر بھی ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اس سے اس کی وہ تکلیف دور کردیتے ہیں تو پھر دعا کر چھوڑ کر اپنی پہلی حالت پر آجاتا ہے، گویا جو تکلیف اس کو پہنچتی تھی اس کے ہٹانے کے لیے کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا، ان مشرکین کو ان کے اعمال شرکیہ اسی طرح اچھے معلوم ہوتے ہیں کہ سختی اور تکلیف میں ہمیں پکارتے ہیں اور فراخی و خوشحالی میں ہمیں بھول جاتے ہیں۔
Ayah 10:13

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

(13) اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، جب کہ انہوں نے کفر وشرک اختیار کیا، حالانکہ کہ ان کے پیغمبر بھی انکے پاس اوامرو انواہی اور دلائل لے کر آئے تھے اور وہ ایسے کب تھے کہ ایمان لے آتے جب کہ میثاق میں اس چیز کو جھٹلاچکے تھے، ہم مشرکوں کو اس طرح ہلاک کردیا کرتے ہیں۔
Ayah 10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔

(14) پھر اے امت محمد یہ ﷺ ان لوگوں کی ہلاکت کے بعد دنیا میں ہم نے تمہیں آباد کیا تاکہ ہم دیکھ لیں تم کس طرح نیک اعمال کرتے ہو۔
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اسکو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے۔

(15) اور جب ان ٹھٹھہ کرنے والوں یعنی ولید بن مغیرہ اور اس کی جماعت کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں جو بالکل واضح طور پر اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی ہیں۔ تو یہ لوگ جن کو مرنے کے بعد کا خوف ہی نہیں اور وہ اسکا مذاق اڑاتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ یا تو اس کے سوا کوئی پورا دوسرا قرآن ہی لے آؤ یا کم سے کم اسی میں کچھ ترمیم کردو، یعنی آیت رحمت کو آیت عذاب اور آیت عذاب کو آیت رحمت سے بدل دیں، اے محمد ﷺ آپ ان سے یوں فرما دیجیے کہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اپنے پاس سے اس میں کچھ ترمیم کروں، میں تو وہی کہوں گا اور اسی پر عمل کروں گا جو قرآن حکیم بذریعہ وحی میرے پاس پہنچتا ہے اگر میں اس میں تبدیلی کردوں تو میں ایک بڑے بھاری دن کے عذاب کا خود رکھتا ہوں۔
Ayah 10:16

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی) ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا بھلا تم سمجھتے نہیں ؟

(16) اے محمد ﷺ آپ ان سے یوں فرما دیجیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہوتا کہ میں اس کا رسول نہ ہوں تو نہ میں تمہیں یہ قرآن حکیم پڑھ کر سنا سکتا اور نہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس قرآن حکیم کے ملنے کی اطلاع کرتاکیوں کہ آخر اس کلام پاک کے ظاہر کرنے سے پہلے بھی چالیس سال تک تم میں رہ چکا ہوں اور اس وقت اس کے متعلق ایک جملہ بھی نہیں نکلا تو پھر کیا تم انسانوں جیسی اتنی عقل بھی نہیں رکھتے کہ یہ قرآن کریم میری اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کلام ہے۔
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر چھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بیشک گنہگار فلاح نہیں بائیں گے۔

(17) اس شخص سے بڑا ظالم اور دلیر کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کو جھٹلائے یقیناً مشرکین عذاب الہی سے اصلا فلاح اور نجات پانے والے بالکل نہیں ہوں گے۔
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انکا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کرسکتی ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک ہے اور (اسکی شان) انکے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔

(18) یہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کی عبادت کرتے ہیں کہ عبادت نہ کرنے کی صورت میں نہ ان کو دنیا وآخرت میں نقصان پہنچا سکیں، اور نہ عبادت کرنے کی صورت میں دنیا وا آخرت میں ان کو کوئی نفع پہنچا سکیں اور اپنی طرف سے بلادلیل کہتے ہیں کہ یہ معبود ہمارے سفارشی ہیں۔ اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ کو ایسی چیز کی خبردیتے ہیں ہو جو اس کو معلوم نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں کہ کوئی معبود اور بھی ہے جو نفع ونقصان کا مالک بھی ہو، اس کی ذات اولا، شریک اور ان لوگوں کے شرک سے پاک اور بالا ہے۔
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور (سب) لوگ پہلے ایک ہی امت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔

(19) حضرت ابراہیم ؑ یا حضرت نوح ؑ کے زمانہ میں سب لوگ ایک ہی ملت پر تھے (یعنی سب موحد تھے) یا یہ کہ ملت کفر پر تھے، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو بھیجا جو کہ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں تو اپنے کجرا ہی سے بعض مومن ہوگئے اور بعض مشرک اور اگر اس امت سے تاخیر عذاب نہ ہوتا جو کہ پہلے سے ٹھہر چکا ہے تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کررہے ہیں یہ ہلاک اور برباد ہوچکے ہوتے۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا ہی کو ہے۔ سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

(20) اور یہ کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر کوئی معجزہ کیوں نازل نہیں ہوا جیسا کہ یہ نبوت کا دعوی کرتے ہیں آپ ﷺ فرما دیجیے نزول معجزہ کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے تم بھی میرے ہلاک ہونے کا انتظار کرو، میں بھی تمہاری ہلاکت کا انتظار کرتا ہوں۔
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں۔

(21) اور جب ہم ان کفار کو کسی مصیبت کے بعد کسی نعمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو فورا رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرنے لگتے ہیں، آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس شرارت کی سخت ترین سزا دے گا، چناچہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کو ہلاک کردیا۔
Ayah 10:22

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں سے) سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کر کے اس سے دعا مانگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں۔

(22) ہمارے فرشتے، جو کچھ جھوٹ کہہ رہے ہو اور جو خداوند کی نافرمانیاں کررہے ہو، سب کچھ لکھ رہے ہیں یعنی جس وقت تم خشکی میں سواری پر سفر کرتے ہو اور دریا میں کشتیوں میں سفر کرتے ہو، وہ تمہاری حفاظت کرتا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات جب تم کشتی میں سوار ہوتے ہو، اور وہ کشتیاں لوگوں کو موافق ہوا کے ذریعے سے لے کر چلتی ہیں اور کشتی چلانے والے موافق ہوا سے خوش ہوتے ہیں اس حالت میں اچانک ایک جھونکا ان کشتیوں پر سخت ترین باد مخالف کا آتا ہے اور ہر طرف سے ان لوگوں پر موجیں اٹھی چلی آتی ہیں، اس وقت انھیں اس بات کا قطعی یقین اور علم ہوجاتا ہے کہ سب ہلاک ہوجائیں گے، تب سب خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں کہ اگر آپ ہمیں اس مصبیت اور اس سخت ہوا سے بچالیں تو ہم ضرور فرمانبردار اور مومن بن جائیں گے۔
Ayah 10:23

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں لوگو ! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا۔ (تم) دنیا کی زندگی کے فائدے (اُٹھالو) پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

(23) پھر جب اللہ تعالیٰ ان کو اس ہوا اور غرق ہونے سے بچا لیتا ہے تو وہ فورا ہی حق سے سرکشی کرنے لگتے ہیں اے مکہ والو یہ تمہاری سرکشی اور ایک دوسرے پر ظلم وستم تمہارے لیے وبال بن جان بن جانے والا ہے اور دنیاوی منافع عارضی ہیں، ان کو بقا نہیں اور مرنے کے بعد ہمارے پاس تمہیں آنا ہے پھر جو کچھ تم نیکیاں اور برائیاں کرتے تھے، ہم سب تمہیں بتلا دیں گے۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کی مثال مینہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی۔ اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔ ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لئے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

(24) دنیاوی زندگی کی بقا اور فنا کی حالت تو اسی طرح ہے جس طرح کہ ہم نے بارش برسائی جس سے زمین پر پھل اور دانے اور گھاس پھوس خوب گنجان ہو کر نکلے، یہاں تک جب وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور وہ نباتات سبز، سرخ اور پیلے ہوگئے اور کاشتکاروں نے سمجھ لیا کہ اب نباتات ان کے قبضہ میں آگئی تو ایسی حالت میں ہماری طرف سے عذاب آگیا جس طرح بکریاں اپنے پیروں سے روند کر کاشتکاروں کی کھیتوں کو تباہ وبرباد کردیتی ہیں تو ہم نے ایسا صاف کردیا جیسا کہ وہ کل یہاں موجود ہی نہ تھی، جیسا کہ گرمیوں میں کھیتی کٹ جاتی ہے۔ ہم اسی طرح قرآن میں دنیا کے فانی ہونے کو واضح طور بیان کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے جو امور دنیا و آخرت میں سوچتے ہیں۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

(25) اور اللہ تعالیٰ مخلوق کو توحید کے ذریعے دارالبقاء کی طرف بلاتا ہے، سلام اللہ تعالیٰ کا نام اور جنت اس کا گھر ہے اور جسے چاہتا ہے، دین مستقیم یعنی دین اسلام پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے نیکو کاری کی انکے لئے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور انکے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

(26) جو لوگ توحید کے قائل ہونے ان کے لیے جنت ہے اور مزید برآں اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی یا یہ کہ ثواب میں زیادتی ہے اور ان کے چہروں پر نہ کدورت اور سیاہی چھائے گی اور نہ غم ذات، یہ لوگ جنت میں رہنے والے ہیں۔
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلّت چھا جائے گی اور کوئی انکو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دئیے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

(27) اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر اور شرک کیا تو اس کے بدلہ میں انہیں جہنم ملے گی اور ان پر ذلت و غم سوار ہوگا اور انھیں اللہ کی عذاب سے کوئی نہ بچا سکے گا گویا کہ غم سے ان کے چہروں پر اندھیری رات پردے چڑھادیئے گئے یہ لوگ دوزخی ہیں اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 10:28

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور انکے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو تو نہیں پوجا کرتے تھے۔

(28) اور جس روز ہم ان کافروں اور ان کے تمام معبودوں کو جمع کریں گے اور ان لوگوں سے جنہوں نے بتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا تھا کہیں گے کہ تم اور تمہارے معبود اپنی جگہ پر ٹھہرو، پھر ہم ان کے اور ان کے معبودوں کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ تب کافر کہیں گے کہ انہوں نے ہمیں اس کا حکم دیا تھا کہ آپ کو چھوڑ کر ان کی ہم عبادت کریں اور ان کے معبود ان کی تردید کرکے کہیں گے کہ کیا تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے، کفار ان کے جواب میں کہیں گے بیشک تم نے ہمیں اپنی عبادت کا حکم دیا تھا ،
Ayah 10:29

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بیخبر تھے۔

(29) پھر ان کے معبود کہیں گے سو ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے کہ ہمیں تمہاری عبادت کی خبر بھی نہ تھی اور ہم سے بیخبر تھے۔
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

(30) اس موقعہ پر ہر ایک انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو جان لے گا کہ کیا اس نے نیکیاں کی ہیں اور کیا کیا برائیاں اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا معبود حقیقی ہے، لوٹا دیے جائیں گے اور انہوں نے جھوٹے معبود تراش رکھے تھے وہ سب باطل اور ان سے علیحدہ اور غائب ہوجائیں گے۔
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے ؟ یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے ؟ اور جاندار سے بےجان کون پیدا کرتا ہے ؟ اور (دنیا کے) کاموں کا انتظام کون کرتا ہے ؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں ؟

(31) اے محمد ﷺ آپ کفار مکہ سے فرما دیجیے کہ وہ کون ہے جو آسمان سے بارش برساتا ہے اور زمین سے نباتات اور پھل اگاتا ہے یا یہ بتلاؤ کہ وہ کون ہے جسے کان اور آنکھیں پیدا کرنے پر پوری قدرت حاصل ہے اور وہ کون ہے جسے جاندار چیز کو بےجان چیز سے نکالنے پر قدرت حاصل ہے یعنی بچوں اور جانوروں کو نطفہ سے پیدا کرتا ہے یا یہ کہ پرندوں کو انڈوں سے نکالتا ہے یا یہ کہ گندم کی بالیوں کو دانوں سے اگاتا ہے۔ اور وہ کون ہے جو بندوں کے تمام کاموں کی تدبیر کرتا اور ان کے معاملات میں نظر فرماتا ہے اور فرشتوں کے ذریعے وحی تنزیل اور مصیبت بھیجتا ہے۔ اور ضرور جواب میں یہی کہیں گے کہ اس سب کچھ کا کرنے والا اللہ ہے تو اسے محمد ﷺ آپ ان سے فرمائیے کہ پھر تم اللہ تعالیٰ کی کیوں اطاعت نہیں کرتے۔
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا ؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

(32) جو یہ تمام امور سرانجام دیتا ہے وہی تمہارا رب حقیقی ہے اور اسی کی عبادت حق اور ضروری ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے بعد اور کس کی عبادت کی گنجائش رہ گئی، ماسوا شیطان کی پوجا کی پھر اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان جھوٹے معبودوں کو کہاں لاتے ہو۔
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا۔ کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

(33) اسی طرح آپ کے رب کا عذاب ان کافروں کے لیے ہے کیوں کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے، علم ازلی میں ثابت ہوچکا ہے۔
Ayah 10:34

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ مخلوقات کو ابتداًء پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اک سے جا رہے ہو ؟

(34) اے محمد ﷺ آپ ان سے یوں بھی کہیے کہ کیا تمہارے معبودوں میں کوئی ایسا بھی ہے کہ جو پہلی بار مخلوق کو نطفہ سے پیدا کرکے اس میں جان ڈالے، پھر مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ بھی زندہ کرے اگر وہ اس کا جواب دے سکیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان سے فرما دیجیے کہ اللہ ہی پہلی بار نطفہ سے پیدا کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ بھی قیامت کے دن اٹھائے گا پھر تم کہاں کا جھوٹ باندھتے پھرتے ہو۔
Ayah 10:35

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا راستہ دکھائے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا راستہ دکھاتا ہے بھلا جو حق کا راستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے راستہ نہ بتائے راستہ نہ پائے ؟ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو ؟

(35) یا یہ کہ اے محمد ﷺ آپ دیکھیے تو یہ کہاں کی جھوٹ باتیں ملاتے ہیں۔ اور آپ ان سے یوں بھی فرمائیے کہ کیا تمہارے معبودوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو امر حق اور ہدایت کا راستہ بتائے اگر وہ اس کا کچھ جواب دے سکیں تو خیر ! ورنہ ان سے فرما دیجیے کہ اللہ ہی امر حق اور ہدایت کا بھی راستہ بتلاتا ہے۔ تو پھر جو شخص امر حق اور ہدایت کا راستہ بتلاتا ہو تو وہ زیادہ اتباع اور اطاعت کے لائق ہے یا وہ شخص جس کو امر حق اور ہدایت کا بغیر بتلائے ہوئے اور اس پر چلائے بغیرراستہ نہ سوجھے، تمہیں کیا ہوا کہ اپنے لیے بدترین تجویزیں کرتے ہو۔
Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بیشک خدا تمہارے (سب) اعمال سے واقف ہے۔

(36) بلکہ ان میں سے بہت لوگ اپنے معبودوں کی صرف بےبنیاد خیالات پر پرستش کررہے ہیں، یقیناً ان کی محض اپنے خیالات کے مطابق پرستش عذاب الہی سے نجات دلانے میں ذرا بھی کارگر نہیں۔ یہ جو کچھ شرک اور بتوں وغیرہ کی پوجا کررہے ہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ کو اس سب کی خبر ہے۔
Ayah 10:37

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں انکی تصدیق کرتا ہے اور انہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے۔

(37) اور یہ قرآن کریم جس کی رسول اکرم ﷺ تمہارے سامنے تلاوت فرماتے ہیں افتراء کیا ہوا نہیں ہے بلکہ یہ تو توریت، انجیل، زبور اور تمام آسمانی کتب کی توحید اور صفات رسول اکرم ﷺ میں تصدیق کرنے والا ہے اور نیز قرآن حکیم حلال و حرام اور اوامراونواہی کی تفصیل بیان کرنے والا ہے، اس میں کوئی بات بھی شک وشبہ کی نہیں ہے اور وہ تمام جہانوں کے آقا ومالک کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو۔

(38) باوجود اس کے مکہ کے کافر یوں کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ رسول اکرم ﷺ نے قرآن حکیم کو اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے، آپ ان سے کہہ دیجیے تو پھر تم بھی قرآن کریم جیسی ایک سورت تو بنا لاؤ اور اپنے معبود ان باطل میں سے جن جن کو اپنی مدد کے لیے بلانا چاہو، ان کو بلالو اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ (نعوذ باللہ) رسول اکرم ﷺ نے قرآن حکیم اپنی طرف سے از خود بنالیا ہے۔
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟

(39) بلکہ یہ کافر ایک ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کو اپنے احاطہ علمی میں نہیں لائے اور ابھی تک انکو اس قرآن حکیم کی تکذیب کا جس سے انکو قرآن حکیم میں ڈرایا گیا ہے، آخری نتیجہ نہیں پہنچا جو کافر ان سے پہلے ہوئے انہوں نے بھی اسی طرح آسمانی کتب اور رسولوں کو جھٹلایا تھا، جیسا کہ آپ کی قوم، آپ اور قرآن کریم کو جھٹلا رہے ہیں سو دیکھ لیجیے کہ ان مشرکین کا جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا، کیسا برا انجام ہو ایا یہ کہ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے تاکہ کفار کی ایذا رسانی پر آپ صبر کریں اور اس کی وجہ سے غمگین اور پریشان نہ ہوں۔
Ayah 10:40

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمہارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے۔

(40) اور ان یہودیوں میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے مرنے سے پہلے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لائیں گے اور حالت کفر ہی میں مرجائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان یہودیوں کو اچھی طرح جانتا ہے کہ کون ان میں سے ایمان لائے گا اور کون ایمان نہیں لائے گا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت مشرکین کے متعلق نازل ہوئی ہے۔