10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الر، یہ پر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں،1۔

1۔ (اور اس لیے ہر طرح واجب الاحترام ہیں) (آیت) ” ا آر “۔ حروف مقطعات پر حاشیہ آغاز پارہ (آیت) ” ا آآ “۔ میں گزر چکا۔ (آیت) ” ا آر “۔ کو یہاں ابن عباس صحابی ؓ اور ضحاک تابعی نے انا اللہ اری کا مخفف قرار دیا ہے۔ (ابن جریر) (آیت) ” الکتب الحکیم “۔ یعنی ایسی کتاب جو پختہ اور سچی اپنے الفاظ ومعانی، علوم و احکام، اخبار وقصص، ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے ہے اور ہر طرح کلام الہی مانے جانے کے قابل ہے۔ حکیم محکم کے معنی میں ہے جیسے الیم مؤلم کے معنی میں آتا ہے۔ ومعنی الحکیم فی ھذا الموضع المحکم صرف مفعل الی فعیل کما قیل عذاب الیم بمعنی مؤلم (ابن جریر) تلک یہاں ھذا کے مرادف ہے اور ایات سے مراد آیات قرآنی ہیں۔ ذلک پر جو حاشیہ شروع سورة بقرہ میں گزر چکا ہے وہ قابل ملاحظہ ہے۔ واولی التاویلین فی ذالک بالصواب تاویل من تاولہ ھذہ ایات القران ووجہ معنی تلک الی معنی ھذہ (ابن جریر) قال الضحاک وغیرہ اے ھذہ ایات القران المحکم المبین (ابن کثیر)
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو اس پر حیرت ہے کہ ہم نے انہیں میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں کو ڈرائیے اور جو ایمان لے آئیں ان کو خوشخبری سنائیے کہ انکے لئے ان کے پروردگار کے پاس اونچا مرتبہ ہے،2۔ کافر کہتے ہیں کہ یہ (شخص) تو کھلا ہوا جادوگر ہے،3۔

2۔ دنیا، شرک پسند دنیا دیوی ودیوتاؤں کو تو مان لیتی ہے، اوتار اور مظہر ربانی کے عقیدہ کو بھی بہ آسانی قبول کرلیتی ہے لیکن بشر کا بشر رہ کر رسول ہوجانا یہ کسی طرح اس کی سمجھ میں نہیں آتا۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ ان کا اس عقیدہ پر حیرت کرنا یہ خود بڑی حیرت کی بات ہے۔ (آیت) ” للناس “۔ الناس سے مراد دنیا کی اکثریت ہے جو ادہام مشرکانہ میں گرفتا رہے۔ مفسرین نے کفار عرب مراد لی ہے۔ المراد بالناس کفار العرب (روح) (آیت) ” الی رجل منھم “۔ یعنی محمد ﷺ کے پاس۔ محض ایک شخص کے پاس، ایک مرد کے پاس ! جاہلی دماغ انسان کو خدا مان لے گا، خدا کا بیٹا مان لے گا، خدا کا اوتار مان لے گا لیکن نہ مانے گا تو انسان کو رسول خدا ! اے الی بشر من جنسھم (روح) ان یتعجبوا من ان یجعل اللہ بشرا رسولا (کبیر) (آیت) ” ان انذر الناس وبشر الذین امنوا “۔ پیغمبر کے اصلی فرائض یہی دو ہیں۔ ایک انذار دوسرے تبشیر۔ (آیت) ” قدم صدق “۔ یعنی درجہ عالی، قال الزجاج درجۃ عالیۃ ومنزلۃ رفیعۃ (بحر) 3۔ مشرکین عرب اپنے سے قدیم تر جاہلی قوموں کی طرح اپنے پیغمبر کے پیام کی اعجازی کیفیت وتاثیر کو بس سحر ہی پر محمول کرسکتے اور یہی کرتے۔ اور آج جاہلیت جدید کے علمبردار بڑے بڑے ” دانایان فرنگ “ بھی اس کے سوا کیا کررہے ہیں۔ حیرت انگیز، محیرالعقول محمدی ﷺ کا کامیابیوں اور فتح مندیوں سے تو انکار کر ہی نہیں سکتے بس تعبیر یہ کرنے لگتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) ساری اسکیمیں کسی بڑے ” چالاک دماغ “ کا نتیجہ تھیں۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ وقتوں میں پیدا کیا پھر وہ عرش (حکومت) پر مستوی ہوا (ہر) کام کی تدبیر (وہی) کرتا ہے،4۔ کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہے مگر ہاں بعد اس کی اجازت کے،5۔ یہی تو اللہ ہے تمہارا پروردگار، سو اسی کی عبادت کرو،6۔ کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے،7۔

4۔ سورة یونس مکی ہے۔ اب تک سورتیں (زیادہ تر) مدنی تھیں، صلوۃ، زکوٰۃ، حج، صوم، جہاد، میراث، نکاح، طلاق وغیرہ احکام فقہی وتفصیلات شریعت سے لبریز۔ اب اس سورة میں عام مکی سورتوں کی طرح بیان عقائد ہی کا شرح و تفصیل کے ساتھ ہوگا، توحید، رسالت، معاد وغیرہ، آیت میں متعدد صفات الہی کا اثبات کیا جارہا ہے، مثلا یہ کہ وہی خالق ہے، ساری کائنات کا وہی خالق ہے، وہی حاکم وآمر ہے، زمین و آسمان سب میں احکام اسی کے جاری وساری ہیں۔ (آیت) ” ربکم “۔ رب پر حاشیہ سورة فاتحہ رب العالمین کے تحت میں گذر چکا یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ سب کا حاکم و خالق ہی نہیں، سب کو تربیت دینے والا، سب کو پستی سے بلندی تک، ضعف سے کمال تک پہنچانے والا بھی وہی ہے۔ (آیت) ” خلق السموت والارض “۔ اس میں دہرے دہرے مشرکانہ مغالطوں کی تردید ہے۔ پہلی بات تو یہ کہی کہ یہ آسمان و زمین خود آفریدہ نہیں، مخلوق ہیں، کسی کے پیدا کرنے سے وجود میں آئے ہیں، خود بخود نہیں آگئے ہیں، دوسری بات یہ بتا دی کہ ان سب کا خالق اللہ ہی ہے، کوئی دیوی دیوتا نہیں، (آیت) ” ستۃ ایام “۔ یوم پر حاشیہ سورة اعراف میں گزر چکا۔ یوم سے مراد 24 گھنٹہ والا دن نہیں۔ ذکر وقت آفرینش عالم کا ہورہا ہے۔ جب یہ ” دن “ ” رات “ اور ان کی تقسیم کا وجود ہی کہاں تھا۔ (آیت) ” ثم استوی علی العرش “۔ عرش اور استوی دونوں پر حاشیے گزر چکے ہیں۔ (آیت) ” یدبر الامر “۔ مراد یہ ہے کہ خالق کل ہونے کے ساتھ حاکم کل بھی وہی ہے۔ خلق کے بعد وہ معطل ہو کر نہیں بیٹھ رہا ہے (جیسا کہ بہت سی جاہلی قوموں کا اعتقاد ہے) بلکہ چھوٹے بڑے ہر کام کا انتظام بھی اسی کی مشیت کررہی ہے۔ قال مجاھد یقضیہ ویقدرہ وحدہ (قرطبی) 5۔ یعنی مستقل منصب شفاعت رکھنے والا (MEDIATOR) تو کوئی بھی نہیں۔ ہاں اللہ ہی اپنے جس کسی مقرب ومقبول بندہ کو جس حد تک اور جن حالات میں جس کے لئے چاہے اجازت شفاعت دے دے تو اصل اور مقدم شے شفاعت نہیں۔ بلکہ اذن شفاعت ہوئی۔ اذن کے لفظ نے پورا یہ مفہوم ادا کردیا کہ اصل حاکم متصرف ومختار تو بس وہی ہے۔ شفاعت ہونے دینا اور نہ ہونے دنیا سب اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس میں جاہلی مشرک قوموں کا رد تو خیر ہے ہی، پوری تردید مسیحیت کی بھی آگئی ہے کہ موجودہ مذہب مسیحی کا دارومدار ہی عقیدہ شفاعت وکفارہ پر ہے۔ عربی شرک میں بھی دیوتاؤں کے شفیع ہونے کا عقیدہ بہت زیادہ گھسا ہوا تھا۔ 6۔ ( اور اس کی ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ کرو) اے وحدوہ واخلصوا لہ العبادۃ (قرطبی) 7۔ (اور اب تک اپنی مشرکانہ گمراہیوں پر مصر ہو)
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

تم سب کو اسی کی لوٹنا ہے اللہ نے سچا وعدہ کر رکھا ہے، بیشک اسی نے خلق کو پہلی بار پیدا کیا ہے پھر وہی اس کو دہرائے گا، تاکہ انصاف کے ساتھ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے،8۔ اور جن لوگوں نے کفر (اختیار) کیا ان کے لئے پینے کو کھولتا پانی اور عذاب دردناک ہے بہ سبب اس کے کہ کفر کرتے رہتے تھے،

8۔ انصاف سے جزا دینے کے معنی یہ ہیں کہ جو اجر وانعام موعود ہے، اس میں کمی ذرا بھی نہ کرے اور اس سے زاید اپنے فضل وکرم سے جتنا چاہے عطا کردے۔ (آیت) ” یبدؤا الخلق “۔ ابداء میں یہ بات بھی آگئی کہ خلق کی پیدائش عدم محض سے ہوئی ہے، کسی مادہ وغیرہ سے نہیں، جیسا کہ بعض مشرک فرقے اب تک سمجھ رہے ہیں۔
Ayah 10:5

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن،9۔ اور اس کے لئے منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب جان لیا کرو،10۔ اللہ نے یہ (چیزیں) بےمقصد نہیں پیدا کی ہیں وہ نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے، ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں،11۔

9۔ یہاں یہ بتا دیا کہ آفتاب میں ضیاء اور چاند میں نور رکھنا سب اسی قادر مطلق حکیم علی الاطلاق کا کام ہے، نہ کہ کسی دیوی دیوتا کا، اور نہ خود ان اجرام فلکی نے اپنے آپ میں یہ صفات پیدا کرلی ہیں۔ شمس پرستی اور قمر پرستی دنیا میں بہت عام رہی ہے اور اب تک ہے۔ مزید تفصیل کے لئے تفسیر انگریزی کے حاشیہ ملاحظہ ہوں۔ (آیت) ” ضیآء “۔ وہ روشنی ہے جو اپنی ذاتی، مستقل حیثیت رکھتی ہو۔ نور وہ روشنی ہے جو ضیاء سے مستعار ہو۔ اس کا انعکاس ہو۔ قرآن مجید نے (چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کے عرب کے ایک امی ﷺ کے لائے ہوئے قرآن نے) دو لفظ الگ الگ لا کر جدید سائنس کے اس بیان پر مہر تصدیق لگادی کہ چاند بذات خود بےنور ہے، اس میں چمک دمک جو کچھ ہے وہ سورج کے عکس سے ہے۔ 10۔ یہاں یہ حقیقت ظاہر کردی کہ اللہ نے ان اجرام فلکی کو خود انسان کی خدمت و راحت ونفع رسانی کے لئے پیدا کیا ہے تو انسان کی یہ کیسی شدید حماقت ہے کہ وہ الٹی انہی کی پوجا شروع کردیتا ہے ! (آیت) ” قدرہ “۔ ضمیر مذکر قمر کی جانب ہے۔ یعنی چاند کی چال کے لئے منزلیں مقرر کردی ہیں۔ (آیت) ” منازل “۔ منزل سے مراد وہ مسافت ہے جو کوئی کو کب شب وروز میں قطع کرے، چاند کی منزلیں 29 یا 30 ہیں۔ (آیت) ” لتعلموا عدد السنین والحساب “۔ کو قدرہ سے متعلق رکھنے سے منشائے خداوندی یہی معلوم ہوتا ہے کہ وقت وزمانہ کا حساب کتاب تقویم قمری ہی کے مطابق رکھا جائے۔ 11۔ (اور ہر چیز سے معرفت حاصل کرتے رہتے ہیں) (آیت) ” الابالحق “۔ کل مقاصد ومصالح تو خدا معلوم کتنے ہوں، سب سے بڑا اور کھلا ہوا مقصد یہ ہے کہ انسان ان کے قوانین کی یک رنگی اور ان کے ضوابط کا نظام دیکھ کر توحید باری اور رد شرک پر استدلال کرے۔ اے ما اراد اللہ بخلق ذالک الا الحکمۃ والصواب واظھار الصنعۃ و حکمۃ ودلالۃ علی قدرتہ وعلمہ (قرطبی)
Ayah 10:6

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بیشک رات اور دن کے الٹ پلٹ میں اور اللہ نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان (سب) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (اللہ سے) ڈرتے رہتے ہیں،12۔

12۔ (اور برائیوں سے بچتے رہتے ہیں) (آیت) ” لایت “۔ اور سب سے بڑا نشان ہے مخلوقات کے عاجز، فانی اور محکوم ہونے پر اور اللہ کی صنعت، قدرت، تصرف و حکومت پر استدلال۔ (آیت) ” لقوم یتقون “۔ یہ دلائل ہیں تو ساری ہی خلقت کے لئے۔ لیکن ان سے نفع یاب وہی ہوں گے جو اہل تقوی ہیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ آیت اگر آیت ماقبل کے ساتھ ملا کر پڑھی جائے تو اس سے ہئیت، حساب اور دیگر علوم طبعیات کے سیکھنے کا جواز ثابت ہوگا۔ لیکن قید اتقاء نے ان تمام علوم کو اصلاح معاد ومعاش تک بہ شرط اتباع شریعت محدود کردیا ہے۔
Ayah 10:7

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں کو ہماری ملاقات کا کھٹکا ہی نہیں،13۔ اور وہ دنیوی زندگی پر راضی،14۔ ہوگئے اور اسی سے جی لگا بیٹھے ہیں،15۔ اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے (بالکل) بےپروا رہتے ہیں،16۔

13۔ یا ” جن لوگوں کو ہماری ملاقات کی امید ہی نہیں “۔ رجاء لغات اضداد میں سے ہے، اس کے معنی ” اندیشہ “ اور ” امید “ دونوں کے ہیں۔ اور مطلق توقع کے بھی۔ الرجاء یطلق علی توقع الخیر وعلی الخوف و توقع الشر وعلی مطلق التوقع (روح) بہرحال آخرت سے غفلت ہر صورت میں مشترک ہے، اور انسان کی گمراہی کا پہلا زینہ عموما یہی آخرت سے غفلت ہی ہوتی ہے۔ 14۔ (اور اس لیے آخرت کی طلب ہی نہیں رکھتے، اسی دنیوی زندگی میں مگن ہیں) گمراہی کی یہ دوسری منزل ہوئی۔ 15۔ (اور مادی زندگی پر شادوشادمان ہو کر آخرت کی طرف سے بالکل ہی بےپرواہوبیٹھے ہیں) گمراہی کی یہ تیسری منزل ہوئی، پہلے تو یہ ہوتا ہے کہ نعمت آخرت کی تمنا وطلب دل سے مٹ جاتی ہے اور پھر یہ ہوجاتا ہے کہ اپنے انجام وفنا کی طرف بھی خیال نہیں جاتا۔ اسی دنیوی زندگی کی دلچسپیوں اور رنگینیوں میں ایسا انہماک ہوجاتا ہے کہ ” اوپر “ کی کھٹک کبھی کبھی بھی نہیں پیدا ہوتی۔ 16۔ یعنی روز مرہ کی غفلت وبے حسی، بےپروائی کے علاوہ ایسی نشانیاں جو خاص طور پر چونکا دینے والی ہوتی ہیں۔ مثلا قحط، زلزلہ وبا، جنگ عمومی، ناگہانی مالی وجانی صدمات، یہ تک بھی انہیں بیدار نہیں کرتے۔ اور یہ بدستور فکر آخرت کی طرف سے بےپرواہی رہتے ہیں۔ شامت زدہ انسان کی ضلالت کا یہ چوتھا اور بالکل آخری مرتبہ ہے ! اور افسوس ہے کہ ذکر وفکر آخرت کی طرف سے یہی بےاعتنائی اور دنیوی سازوسامان اور مادی علوم وفنون وصنائع کی طرف یہی انہماک اور شدت التفات تہذیب فرنگی کا جزء اعظم ہیں !” مہذب “ اور ” اعلی “ سو سائٹی میں دوزخ و جنت برزخ اور وقت نزع کا کسی کی زبان پر نام تک نہ آنے پائے۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی)
Ayahs 10:8–9

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے بہ سبب اس کے جسے وہ کرتے دھرتے رہے،

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے ان کا پروردگار انہیں پہنچا دے گا (ان کی منزل تک) بوجہ انکے ایمان کے ان کے نیچے نہریاں بہ رہی ہوں گی عیش (ومسرت) کے باغوں میں،17۔

17۔ جنت تک اصلی رہنمائی کرنے والی شے ایمان ہے، نقطہ آغاز یہی ہے۔ اعمال صالحہ اس میں صرف معین ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے (آیت) ” یھدیھم “۔ کے ساتھ ذکر صرف ایمان کا کیا گیا (آیت) ” یھدیھم “۔ انہیں پہنچا دے گا ان کی منزل تک اور خود منزل سے مراد جنت ہے۔ یھدیھم بسبب ایمانھم الی ما واھم ومقصدھم وھی الجنۃ (روح) قال ابو وق یھدیھم ربھم بایمانھم الی الجنۃ (قرطبی)
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

اسی میں ان کا قول ہوگا، پاک ہے تو اے اللہ،18۔ اور اس میں ان کی (باہمی) دعا ” سلام “ ہوگی،19۔ اور ان کی آخری بات ہوگی کہ ساری تعریف اللہ پروردگار عالمین کیلئے ہے،20۔

18۔ یہ نعرہ بےاختیار اس وقت زبانوں پر آئے گا جب وہ عجائبات جنت کا دفعۃ معائنہ کریں گے (حسب تفسیر تھانوی (رح ) 19۔ یہ اس وقت جب وہ ایک دوسرے کو دیکھیں گے، ملیں گے اور باہم مخاطب ہوں گے۔ (حسب تفسیر تھانوی (رح) اے یحییٰ بعضھم بعضا بالسلام (معالم) 20۔ یہ اس وقت جب وہ اطمینان سے وہاں بیٹھ لیں گے، اور دنیا کی فانی لذتوں کا مقابلہ وہاں کے دائمی عیش و سرور سے کریں گے۔ (حسب تفسیر تھانوی (رح) (آیت) ” دعوھم “۔ دعوی یہاں دونوں موقوں پر دعا، یا پکار کے معنی میں لیا گیا ہے۔ دعوھم ای دعاءھم (قرطبی) آیت سے معلوم ہوا کہ خالق کی تسبیح اور خلق کے سلام سے مدارج بلند ہوتے ہیں اور آخر میں منزل ادائے شکر کی آتی ہے۔ آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت میں ذکر و عبادت بہ طور شعار و عادت ہوگا۔ تکلیف وجہد کا وجود نہیں۔ ورنہ صبر ومشقت کا ذکر بھی ضرور ہوتا۔ بعض صوفیہ عارفین نے اخر دعوھم الخ سے یہ اشارہ سمجھا ہے کہ عاشقان صادق کے لئے آخرت میں حجاب لذات بھی حائل نہ ہوگا۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر اللہ لوگوں پر برائی واضح کردیا کرتا، جس طرح وہ بھلائی کی جلدی مچاتے ہیں تو ان کی میعاد (کبھی کی) پوری ہوچکی ہوتی،21۔ لیکن ہم ان لوگوں کو جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے ہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑے رکھتے ہیں،22۔

21۔ (اور یہ کبھی کے ختم ہوچکے ہوتے) (آیت) ” لو یعجل اللہ للناس الشر استعجالھم بالخیر “۔ مشرکین مکہ نے کہا یہ نبی اگر سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے پتھر کیوں نہیں برسا دیتے۔ جواب ملتا ہے کہ اگر کہیں اللہ کا معاملہ ان کے ساتھ عذاب کے باب میں بھی اسی عجلت کا ہوتا جس کی توقع یہ باب رحمت میں رکھتے ہیں تو اب تک ان کا قلع قمع ہی ہوگیا ہوتا۔ قیل المعنی لوفعل اللہ مع الناس فی اجابتہ الی المکروہ مثل ما یرید ان فعلہ معھم فی اجابتہ الی الخیر لاھلکھم (قرطبی) (آیت) ” بالخیر “۔ یعنی جس طرح کی عجلت وہ ثواب و رحمت کے موقع پر چاہتے ہیں یا جس طرح خیر و رحمت کے موقع دعا پر حق تعالیٰ کا دستور ہے۔ اے کما یحبون استعجالھم بالخیر (معالم) اے کما یستجیب لھم اذا دعوا لانفسھم اولاموالھم اولاولادھم بالخیر (ابن کثیر) 22۔ (کہ فورا عذاب لے آنا حکمت تکوینی کے منافی ہے)
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے، لیٹے بھی اور بیٹھے بھی اور کھڑے بھی،23۔ پھر جب ہم اس سے اس کو تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ ایسا ہوجاتا ہے کہ گویا جو تکلیف اسے پہنچی ہے اس کے لئے ہم کو پکاراہی نہ تھا،24۔ اسی طرح فضول کاروں کو ان کے اعمال خوشنما کردکھائے جاتے،25۔

23۔ یعنی ہر حال میں اور ہر وضع کے ساتھ ہم کو پکارتا رہتا ہے۔ شدت اضطراب واضطرار میں ناشکر انسان بھی توجہ الی اللہ میں لگ جاتا ہے۔ (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے یہاں مراد ناشکرا کافر انسان ہے۔ قیل المراد بالانسان ھنا الکافر (قرطبی) 24۔ یعنی ادھر مصیبتیں دور ہوئیں، ادھر غافل انسان پھر غفلتوں کا شکار ہوگیا۔ انما اراد جمیع حالاتہ (قرطبی) اے فی حال اضطجاعہ وقعودہ وقیامہ وفی جمیع احوالہ (ابن کثیر) 25۔ عارفین نے اسی لئے ہمیشہ بڑے تضرع وابتہال کے ساتھ دعائیں مانگی ہیں کہ اے اللہ ہم کو حق ہمیشہ حق ہی کی صورت میں اور باطل ہمیشہ باطل ہی کی شکل میں دکھا۔ ؂ آب خوش را صورت آتش مدہ !
Ayah 10:13

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور بالیقین ہم تم سے قبل (بہت سی) نسلوں کو ہلاک کرچکے ہیں جبکہ، انہوں نے ظلم کیا درآنحالیکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے دلائل کے ساتھ آتے رہے اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لے آتے ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں مجرم لوگوں کو،26۔

26۔ (بہ وجہ اپنی غایت قساوت قلب وعناد کے) مراد یہ ہے کہ جب بعثت رسل اور ان کافروں کی طرف سے ان کی تکذیب کے بعد حجت ان پر پوری طرح ثابت ہوچکی تھی تو اب مزید تاخیر وامہال سے کوئی نتیجہ ہی نہ تھا۔ (آیت) ” لما ظلموا “۔ اس ظلم کے تحت میں کفر وشر کے جملہ اقسام آگئے۔ نیز حدود شرعی سے تجاوز اور بدنی ومالی حق تلفیاں۔ (آیت) ” بالبینت “۔ اس میں اللہ کی توحید اور پیغمبروں کی صداقت پر ہر قسم کے دلائل اور معجزات وغیرھا آگئے۔ (آیت) ” لیؤمنوا “۔ میں ل تاکید نفی کے لئے ہے۔ واللام لتاکید النفی (مدارک۔ بیضاوی)
Ayah 10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین پر نائب کیا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو،27۔

27۔ یعنی آباد ویسے ہی کفر وشرک میں لگے رہتے ہو یا ایمان لے آتے ہو۔ (آیت) ” لننظر “۔ یعنی ظاہری طور پر بھی تمہاری جانچ کرلیں۔
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب انہیں ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کوئی کھٹکا نہیں ہے کہنے لگتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اسی میں ترمیم کردو۔28۔ آپ کہہ دیجیے میں یہ نہیں کرسکتا کہ اس میں اپنے جی سے ترمیم کردوں میں تو بس اسی کی پیروی کروں گا جو میرے پاس وحی سے پہنچتا ہے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں یوں عظیم کے عذاب سے ڈرتا ہوں،29۔

28۔ (کہ ہمارے مسلک کے خلاف اس میں کوئی مضمون باقی نہ رہے) (آیت) ” ائت بقران غیر ھذا “۔ مخاطب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تھے۔ آپ ﷺ ہی کو جاہلیت عرب کے بڑے بڑے ” روشن خیال “۔ جاہلیت فرنگ کے ” روشن خیالوں “ کی طرح قرآن کا مصنف خیال کرتے تھے اور اس لیے قدرۃ فرمایش بھی آپ ﷺ ہی سے کرتے تھے کہ یا تو اپنی کوئی دوسری تصنیف سنائیے یا کم از کم اسی تصنیف میں ہمارے نقطہ نظر سے مناسب کانٹ چھانٹ کردیجیے۔ 29۔ یہ ایک بار پھر اس حقیقت کا تصریحی اعادہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ صرف حامل شریعت ہیں، بانی شریعت نہیں۔ احکام الہی کا اتباع آپ ﷺ پر بھی اسی درجہ میں ضروری تھا جتنا کسی اور فرد بشر پر۔ (آیت) ” قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقآی نفسی “۔ یعنی تمہاری اس فرمایشی ترمیم پر عمل کرنا میری بساط سے باہر ہے۔ فقہاء نے یہیں سے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ بدعت حرام ہے۔ دین میں نئی بات پیدا کرنے کا حق جب پیغمبر معصوم ﷺ تک کو حاصل نہ ہوسکا تو کسی غیر معصوم کو کب اس کا حوصلہ ہوسکتا ہے۔ اور علماء حق نے یہ جو لکھا ہے کہ سنت بعض حالات میں قرآن کی ناسخ ہوجاتی ہے۔ سو ” نسخ “ سے ان کی مراد ترمیم وتبدیل ہرگز نہیں کہ یہ تو بالاتفاق حرام ہے۔ ” نسخ “۔ سے ان کی اصطلاح میں مراد صرف اس قدر ہے کہ قرآن میں جو حکم مجمل تھا۔ سنت نے اس کی تفصیل کردی۔ اور جس باب میں اجمال تھا اس کی تصریح کردی، یا یہ کہ جو حکم موقت تھا اور اس کا موقت ہونا ہم پر مخفی تھا، اسے واضح کردیا۔ اور پھر جو سنت کسی معنی میں بھی قرآن کو ” نسخ “ کرتی ہے وہ بھی رسول اللہ ﷺ کی اپنی رائے وفہم کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ وہ بھی وحی الی ہی ہوتی ہے۔ ان نسخ القران لایجوز عندنا الا بسنۃ ھی وحی من قبل اللہ قال اللہ وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی فنسخ حکم القران بالسنۃ انما ھو نسخ بوحی اللہ لامن قبل النبی ﷺ (جصاص) فقہاء نے یہ بھی لکھا ہے کہ کسی حاکم یا قاضی کے لیے جائز نہیں کہ کسی کی رعایت سے یا نفع کی خاطر کسی شرعی حکم کو متروک اور مسکوت عنہ قرار دے دے۔ البتہ فتنہ اور خوف حاکم سے سکوت کی گنجائش نکالی ہے۔ پیر پرستی بلکہ پیر زادگی پرستی میں مبتلا حضرات غور کریں کہ معاذ اللہ رسول معصوم ﷺ تک امکان عذاب آخرت سے خائف ہورہے ہیں۔ ایسے حال میں کسی شیخ یا کسی شیخ کی اولاد کو بہرحال مامون و محفوظ سمجھتے رہنا تعلیمات اسلام پر کیسا ظلم صریح ہے !
Ayah 10:16

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ اگر اللہ کی مشیت (یہی) ہوتی تو میں نہ تم کو یہ (کلام) پڑھ کر سنا سکتا اور نہ (اللہ) تم کو اس کی اطلاع کرتا، اور پھر میں تو تمہارے در میان اس کے قبل بھی اتنے حصہ عمر تک رہ چکا ہوں کیا تم عقل سے کام (ہی) نہیں لیتے،30۔

30۔” روشن خیالان “ عرب کی اسی فرمایشی ترمیم کے جواب میں رسول اللہ ﷺ کے جواب کا خلاصہ حسب ذیل ہے :۔ (1) اپنی عمر کے 40۔ 50 سال تمہاری آنکھوں کے سامنے گزار چکا ہوں۔ میرے تدین، راستبازی، صداقت شعاری پر تم سب گواہ ہو کبھی کسی خفیف معاملہ میں بھی کذب وافتراء سے مجھے کام لیتے تم نے دیکھا یا سنا ہے ؟ پھر جب یہ نہیں، تو اتنے بڑے افتراء کی کہ اپنے کلام کو خدا کا کلام کہہ کر پکاروں، آخر مجھے جرأت ہو ہی کیونکر سکتی ہے ؟ تمہاری عقلیں اس احتمال ہی کو کیسے تسلیم کررہی ہیں ؟ (2) تمہارے درمیان اپنی عمر کا اتنا بڑا حصہ میں گزار چکا۔ میری ایک ایک خوبو سے تم واقف ہوچکے۔ میری بولی، میرے انداز کلام کو تم خوب اچھی طرح جان چکے، پہچان چکے، تمہیں قرآن میں اور میرے کلام میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ؟ میں چاہوں بھی تو قرآن جیسے ممتنع النظیر کلام پر کب قادر ہوسکتا ہوں ؟ اب تک میرا کوئی کلام اس ٹکر کا جب نہ ہوا، تو آج کیسے ہوا جارہا ہے ؟ قرآن کا یہ استدلال اپنے کلام الہی ہونے پر پورا وزن دار اس وقت بھی تھا۔ پھر جس وقت سے احادیث رسول مدون ہوگئیں اس وقت سے تو اس دلیل میں اور زیادہ جان پڑگئی ہے حدیثوں کے چھوٹے بڑے مجموعہ ایک دو نہیں، بیسیوں کی تعداد میں آج سے نہیں صدیوں سے شائع چلے رہے ہیں، کیا عقل کے اندھوں کو اتنانظر نہیں آتا کہ جو زبان بخاری، مسلم، ترمذی وغیرہ کی ہے وہ قرآن کی ہے یا ہوسکتی ہے ؟۔ زبان، انداز بیان اسلوب کلام، نوعیت تراکیب کا اتنا نمایاں وواضح فرق بھی کیا شام، مصر، فلسطین، عراق وغیرہ کے اہل زبان یہود اور نصرانیوں کو نہیں سجھائی دیتا ؟ (آیت) ” ادرکم “۔ میں ضمیر فاعلی حق تعالیٰ کی جانب ہے۔ اے لااعلمکم اللہ (قرطبی) بعض نے رسول کی طرف بھی سمجھی ہے۔ مقصد ومآل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے، یقیناً مجرموں کو فلاح نہیں ہوتی،31۔

31۔ یہاں یہ بتایا کہ اپنے دل کی گڑھی ہوئی چیزوں کو وحی الہی قرار دے دینا اور آئی ہوئی وحی الہی کی تکذیب دونوں یکساں اور شدید ترین جرائم ہیں اور فلاح ایسے مجرموں کے نصیب میں نہیں۔
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

یہ اللہ کے سوا (ایسی چیزوں کی) عبادت کرتے ہیں جو انکو نہ نقصان پہنچا سکیں اور نہ نفع پہنچا سکیں، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی پاس ہمارے سفارشی ہیں آپ کہہ دیجیے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو (اللہ کو) معلوم نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں،32۔ وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے،33۔

32۔ اس آیت میں تمام مشرک قوموں کے معبود ان باطل کی بےحقیقتی بیان کی ہے اور ان کا یہ جھوٹا عذر بھی کہ ہم ان دیویوں دیوتاؤں کو کچھ مستقلا متصرف فی الکائنات اور خدا تھوڑے ہی مانتے ہیں ہم تو ان کی حیثیت مستقل شفیع کی مانتے ہیں۔ عرب کے مشرکین کی طرح یہی عقیدہ عیسائیوں کا بھی ہے۔ مسیحی پرستی کے سلسلہ میں تو کھلا ہوا اور سب کا اور اولیاء پرستی کے سلسلہ میں ان کے فرقہ کیتھولک کا۔ اولیاء کو وہ شفعاء ہی ٹھیراتے ہیں۔ ہمارے زمانہ کے اہل بدعات کا بھی کچھ ایسا ہی عقیدہ ہے کہ اگر قبور اکابر کی تعظیم مفرط کی جائے گی تو یہ اکابر صالحین اپنے پرستاروں کے حق میں شافع وشفیع بن جائیں گے۔ اور ہر طرح عذاب الہی سے ان کے آڑے آجائیں گے اور یہ بلا اس امت پر آج سے نہیں۔ کم از کم امام رازی (رح) (متوفی 606 ؁ ہجری) کے زمانہ سے تو ضرور مسلط ہے۔ ونظیرہ فی ھذا الزمان اشتغال کثیر من الخلق بتعظیم قبور الاکابر علی اعتقاد انھم اذا عظموا قبورھم فانھم یکونون شفعاء لھم عند اللہ (کبیر) اور ظاہر ہے کہ جو چیز اللہ کے علم میں نہیں تو اس کا وجود ہی باطل ہے۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ اللہ کے حدود علم سے خارج کون سی چیز ہے ؟ آیا ان ” معبودوں “ کا شفیع ہونا یا ہر شفیع کے لیے مرتبہ معبودیت کا لزوم ؟ جواب یہ ہے کہ دونوں۔ استدلال مشرکین کی صغری اور کبری دونوں ہی مہمل تھے۔ 33۔ (اور ایک گروہ ان میں کا شرک میں مبتلا ہوگیا) (آیت) ” کان الناس امۃ واحدۃ “۔ یعنی ابتداء سب کے سب موحد تھے۔ قرآن ان کھلے ہوئے الفاظ میں دین میں ” ارتقاء “ کی قطعی تردید کررہا ہے۔ ابتداء صرف دین توحید ہی تھا۔ اس کے بعد ارتقاء کے نہیں، انحطاط کے اثر سے شرک اور بت پرستی کی مختلف صورتیں ظہور میں آنے لگیں۔ چناچہ اب جدید ترین ماہرین علم الاصنام وماہرین اثریات پروفیسر (Schmidt) (اشمٹ) پروفیسر (Langden) (لینگڈن) سرچارلس مارسٹن وغیرہ سب تسلیم کررہے ہیں۔ اور ” ارتقاء عقیدہ توحید “۔ کا وہ نظریہ جو انیسویں صدی کے آخر میں بہ طور فیشن کے چلا ہوا تھا علمی دنیا میں اب خود ہی متروک ہوگیا ہے۔
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور انسان تو ایک ہی طریقہ پر تھے۔ پھر انہوں نے اختلاف کیا اور اگر تیرے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے نہ ٹھیرچ کی ہوتی تو ان کے درمیان اس باب میں جس میں یہ اختلاف کررہے ہیں فیصلہ کردیا گیا ہوتا،34۔

34۔ یعنی عذاب موعود جو عملی فیصلہ ہے اسی دنیا میں نازل ہوگیا ہوتا۔ (آیت) ” ولولا کلمۃ سبقت من ربک “۔ کلمۃ سے مراد یہ وعدہ یا حکم ہے کہ پورے عذاب کے لیے انہیں مہلت آخرت تک کی ملے گی۔ اشارۃ الی القضاء والقدر اے لولا ما سبق فی حکمہ (قرطبی) الکلمۃ ھنا ھو القضاء والتقدیر لبنی ادم بالاجال الموقتۃ (بحر)
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشان کیوں نہیں نازل ہوتا،35۔ سو آپ کہہ دیجئے کہ غیب (کی خبر) تو بس اللہ ہی کو ہے، سوانتظار کرو میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں،36۔

35۔ (ہمارے فرمایشی نشانوں اور معجزات میں سے) پیغمبر کی زندگی تو سر تا پا معجزہ ہی ہوتی ہے اس کی ایک ایک بات سے خدائی روح ٹپکتی رہتی اور قدم قدم پر اس کے اور عام مخلوق کے درمیان فرق نمایاں رہتا ہے۔ ع روئے وآواز پیغمبر معجزہ ست : لیکن یہ سب صرف اہل بصیرت کے لیے ہے۔ باقی معاندین، جہلاء ہر زمانہ میں مخصوص فرمایشیں کر کر کے فلاں فلاں متعین مادی معجزات کی طلب کرتے رہے ہیں، فلاں پہاڑ سونے کا ہوجائے، فلاں فلاں کھانوں کا خوان آسمان سے نازل ہوجائے، آسمان کا ٹکڑا ٹوٹ کر زمین پر گر پڑے۔ وقس علی ھذا۔ چناچہ یہاں بھی ایۃ سے مراد اسی قسم کے متعین فرمایشی معجزات ہیں۔ اے من الایات التی اقترحوھا (بیضاوی) (آیت) ” یقولون “۔ یہ طلب ہی تحقیق حق کی راہ سے نہیں۔ عناد وتعریض کے طور پر تھی۔ ورنہ اگر دل میں ذرا بھی طلب صحیح ہوتی تو سیرت مصطفوی ﷺ کا تو ایک ایک جزئیہ معجزہ تھا، ہر دوسرے اور خارجی معجزہ سے مستغنی کردینے والا۔ ولعمری لوانصفوا الا ستغنوا من کل ایۃ غیرہ علی الصلوۃ والسلام فانہ الایۃ الکبری ومن راہ وسیراحوالہ لم یکدیشک فی انہ رسول اللہ ﷺ (روح) 36۔ پیغمبر اعظم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی بشریت وعبدیت پر یہ کیسے کھلے کھلے نصوص موجود ہیں اور حیرت ہے کہ ایک گروہ ان تک کو پس پشت ڈالے رکھنے کی جرات رکھتا ہے ! پیغمبر کو صاف صاف یہ کہنے کی ہدایت ہورہی ہے کہ میرا دخل کسی معجزہ کے وقوع وعدم وقوع میں بالکل نہیں۔ ظہور معجزات تمامتر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پردۂ غیب سے جو کچھ بھی ظہور میں آئے۔ جہاں تم وہیں میں ہوں۔ انتظار کرنے میں ہم سب شریک۔
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم (ناشکر) لوگوں کو بعد اس کے کہ ان پر کوئی مصیبت پڑچکی ہو، اپنی رحمت کا مزا چکھا دیتے ہیں تو فورا ہی وہ ” لوگ “۔ ہماری نشانیوں کے باب میں چالیں چلنے لگتے ہیں،37۔ آپ کہہ دیجیے اللہ چالوں میں ان سے بھی بڑھا ہوا ہے جو چالیں تم چل رہے ہو ہمارے قاصد انہیں لکھتے جارہے ہیں۔38۔

37۔ منکرین کی مریض ذہنیت کا بیان ہے کہ وہ تسکین تو کسی معجزہ، کسی آیت سے بھی نہیں حاصل کرتے اور تسکین تو انہیں مقصود ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ یہ اعجازی واقعہ کی کوئی نہ کوئی مادی توجیہ وتاویل پیدا ہی کرلیتے ہیں۔ اور اس پر اعتراض کر۔ چٹ دوسرے معجزہ کی فرمائش شروع کردیتے ہیں۔ (آیت) ” مکر فی ایاتنا “۔ یعنی آیات الہی میں طرح طرح کی تاویلیں اور توجیہیں۔ سمی تکذیبھم بایات اللہ مکرا لان المکر عبارۃ عن صرف الشیء عن وجھہ الظاہر بطریق الحیلۃ (کبیر) الاحتیال فی دفعھا (روح) لیجعلوا لتلک الرحمۃ سببا اخر (ابن قتیبۃ) (آیت) ” الناس “۔ سے مراد اس سیاق میں دنیا کی کافر آبادی ہے۔ الناس عام لجمیع الکفار (روح) (آیت) ” رحمۃ “۔ صحت و عافیت، جاہ و ثروت یہ سب اسی رحمت کی فردیں ہیں۔ 38۔ (اور وقت معین پر انہیں پوری پوری سزائیں مل کر رہیں گی) (آیت) ” رسلنا “۔ رسل یہاں فرشتوں کے لیے ہے۔ اے الرسل الحفظۃ (قرطبی) (آیت) ” اللہ اسرع مکرا “۔ یعنی اللہ نہ ان کی کوئی تدبیر چلنے دے گا، نہ انہیں کوئی موقع بچاؤ گا دے گا اور جلد سے جلد ان کی چالوں کا توڑ کر دے گا۔ اے اعجل عقوبتہ علی جزاء مکرھم (قرطبی) عربی کے قاعدۂ مشاکلت کا ذکر دیباچہ تفسیر میں آچکا ہے۔ مکر کا لفظ اللہ کے سلسلہ میں بہ قاعدۂ مشاکلت ہی آیا ہے۔ مکر پر حاشیہ واللہ خیر الماکرین کے تحت میں پ 3 سورة آل عمران میں گزر چکا۔ المراد بہ الجزاء والعقوبۃ علی المکر مجازا مرسلا او مشاکلۃ (روح)
Ayah 10:22

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہ وہی (اللہ) ہے جو تم کو خشکی اور سمندر میں لئے لئے پھرتا ہے چناچہ جب تم کشتی میں (سوار) ہوتے ہو اور وہ (کشتیاں) لوگوں کو ہوائے موافق کے ذریعہ سے لے کرچلتی ہیں اور وہ لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں کہ (ناگہاں) ایک تھپیڑا ہوا کا آتا ہے اور ان کے اوپر ہر طرف سے موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ (بس اب) ہم گھرگئے،39۔ (تو اس وقت) اللہ کو اس کے ساتھ اعتقاد کو (بالکل) خالص کرکے پکارتے ہیں (کہ) اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دلادی تو ہم یقیناً بڑے شکر گزاروں میں ہوں گے،40۔

39۔ (اور اب نجات پانے کی کوئی سبیل مادی اسباب وذرائع سے ممکن نہیں) (آیت) ” ھو الذی۔۔۔۔ البحر “۔ یعنی انہیں سفر بری و سیاحت بحری کے آلات واسباب بہم پہنچا دیتا ہے۔ زمین اور سمندر دونوں کے طے کرنے کے لئے سواریاں، گھوڑے، گدھے، ہاتھی، اونٹ سے لے کر ریل، موٹر سائیکل، موٹر لانچ، آبدوز کشتی، آہن پو ش جہاز وغیرہا تک جتنی بھی نکل چکی ہیں یا آیندہ نکل سکیں، یہ سب بالکل آخر میں جا کر کسی علت فاعلی پر ٹھیرتی ہیں ؟ ظاہر ہے کہ حق تعالیٰ یا حق تعالیٰ کی بخشی ہوئی قوتوں پر۔ قرآن مجید درمیانی واسطوں کو چھوڑ کر علت حقیقی کی یاد دلارہا ہے۔ (آیت) ” جرین بھم “۔ صنعت التفات کے لئے ملاحظہ ہودیباچہ تفسیر۔ حاضر سے معا غیب کی ظرف منتقل ہوجانے کا اسلوب بیان عربی ادب وانشاء میں عام ہے خروج من الخطاب الی الغیبۃ وھو فی القران واشعار العرب کثیر (قرطبی) یہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ امام رازی (رح) نے اپنی نکتہ رسی سے لکھا ہے کہ جس طرح صیغہ غائب سے حاضر کی طرف انتقال اظہار تقرب واکرام کے لئے ہوتا ہے یہ حاضر سے غائب کی طرف انتقال اس کی برعکس بعد وبیزاری کے اظہار کے لئے ہو۔ وھو الذی خطر بالبال فی الحال ان الانتقال فی الکلام من لفظ الغیبۃ الی لفظ الحضور یدل علی مزید التقرب والاکرام واما ضدہ وھو الانتقال من لفظ الحضور الی لفظ الغیبۃ فانہ یدل علی المقت والتبعید (کبیر) (آیت) ” بریح طیبۃ “۔ یعنی ہوائے نرم۔ مراد ہے وہ ہوا جو جہاز کے موافق ہو۔ والمراد بطیبۃ حسبما یقتضیہ المقام الھبوب موافقہ المقصد (روح) (آیت) ” ریح عاصف “۔ یعنی ہوائے تندوتیز، مراد ہے وہ ہوا جو جہاز کے مخالف ہو۔ العاصف الشدیدۃ (قرطبی) ومعنی عصفت الریح اذا اشتدت واصل العصف السرعۃ (کبیر) (آیت) ” ظنوا “۔ ظن کے معنی جس طرح گمان و قیاس کے ہیں۔ یقین یا خیال اغلب کے بھی ہیں۔ اے ایقنوا (قرطبی) (آیت) ” بھم “۔ میں ب تعدیہ کی ہے اور بریح اور بھا میں دونوں جگہ سببیت کی۔ 40۔ (اور بڑا شکر یہی ہے کہ مومن مخلص بن جائیں گے) ایسے نازک موقعوں پر اسباب سے قطع نظر کرکے ساری توجہ مسبب الاسباب کی طرف کر دنیا عین انسان کی فطرت سلیم کا متقضا ہے اور جو بدنصیب ایسے وقت بھی رجوع وانابت کی توفیق نہیں پاتے ان کے دل نور انسانیت کی آخری شعاع سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ (آیت) ” دعوا اللہ مخلصین لہ الدین “۔ یہ حالت اضطرار کا اخلاص ایمان کے قائم مقام اور نجات اخروی کے لئے کافی نہیں، والدعاء ان لم یکن عن ایمان بل عن الاضطرار لا ینفع (روح) البتہ کشایش دنیوی یعنی غرق سے بچانے میں مؤثر ہوسکتا ہے۔ (آیت) ” لئن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشکرین “۔ فقہاء نے تصریح کردی ہے کہ اقرار مشروط مثلا یہ کہ اگر میرا فلاں کام بن گیا تو میں دین توحید قبول کرلوں گا۔ شریعت میں معتبر نہیں۔ (آیت) ” ظنوا۔۔۔ الشکرین “۔ علامہ آلوسی (رح) بغدادی صاحب تفسیر روح المعانی نے اس مقام پر کچھ دور تک اپنی ملت کے حال زار پر نوحہ وماتم کیا ہے کہ مشرکین تک ایسے موقع پر خدائے واحد وقدوس کو پکارنے لگتے ہیں لیکن ہم لوگوں میں کوئی فلاں بزرگ کو پکارتا ہے، کوئی فلاں شیخ کے نام کی دہائی دینے لگتا ہے سو خدا کے لئے فیصلہ کیجئے کہ ہم اس لحاظ سے مشرکوں سے بھی ابتر ہوچکے ہیں یا نہیں۔ فباللہ تعالیٰ علیک قل لی ای الفریقین من ھذہ الحیثیۃ اھدی سبیلا وای الداعیین اقوم قیلا (روح) ہمارے ملک کے ” یاغوث “ اور ” یاخواجہ “ کی صدائیں لگانے والے اور ” یاعلی مشکل کشا “ کا نعرہ لگانے والے ذرا اپنے اپنے انجام پر غور کرلیں۔ منقول ہے کہ کسی نے حضرت جعفر صادق (رح) کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ پروردگار عالم کی بابت کچھ مجھے ارشاد فرمایئے، آپ نے کہا کہ تم کیا کرتے ہو ؟ اس نے کہا کہ تجارت بحری میرا پیشہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اچھا، تم اس کا کچھ حال بیان کرو، اس نے کہا کہ ایک بار میری کشتی عین دریا میں ٹوٹ گئی اور میں ایک تختہ پر بیٹھا ہوا بہا جارہا تھا کہ ہوائے تندوتیز کا تھپیڑا آیا۔ آپ نے فرمایا کہ اچھا یہ بتاؤ اس وقت تمہارے دل میں خشوع وشکستگی کی کیفیت پیدا ہوئی تھی ؟ اس نے کہا، بیشک، آپ نے فرمایا کہ جس کی طرف تمہاری تضرع وشکستگی نے رخ کیا تھا بس وہی تو پروردگار عالم ہے۔ (کبیر)
Ayah 10:23

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو وہ فورا ہی زمین میں ناحق کی سرکشی کرنے لگتے ہیں،41۔ اے لوگو یہ تمہاری سرکشی تمہارے ہی اوپر (الٹ پڑنے والی) ہے (یہی) دنیوی زندگی کا چند روزہ نفع ہے پھر ہماری ہی طرف تمہاری واپسی ہے پھر ہم تمہیں جتلا دیں گے جو کچھ تم کرتے رہے ہو،42۔

41۔ (اور اپنے اس وعدہ واقرار کو بھول بھال کر پھر شرک و فساد میں لگ جاتے ہیں) (آیت) ” بغیر الحق “۔ کی قید اس لئے ہے کہ ان لوگوں کی یہ زیادتی اور سرکشی خود ان کے ضمیر میں اور ان کے معیار سے بھی جرم تھی۔ 42۔ یہاں اس حقیقت کا اعلان ہے کہ کفر ومعصیت کے ساتھ دنیا میں جو عیش و کامرانی جمع ہوسکتی ہے وہ محض چند روزہ ہے اس کی دائمی سزا آخرت میں بھگتنا ہے۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

بس دنیا کی زندگی کا حال تو ایسا ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کی سبزی گنجان ہو کر نکلی جس کو انسان اور چوپائے کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین (پوری طرح) اپنی رونق پر پہنچ چکی، اور اس کی زیبائش ہوگئی اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب وہ اس پر بالکل متصرف ہوچکے تو ہمارا حکم اس پر (اچانک) رات کو یا دن کو آپڑا، سو ہم نے اسے (ایسا) صاف کردیا کہ گویا وہ کل موجود ہی نہ تھی،43۔ ہم اسی طرح آیتوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے جو سوچتے رہتے ہیں ،

43۔ (سو یہ دنیا اپنی ساری زیب وزینت کے ساتھ بس ایسی ہی ناپائدار اور سریع الزوال ہے) (آیت) ” حتی اذا اخذت الارض زخرفھا “۔ یعنی اس کی خوشنمائی اپنے کمال کو پہنچ گئی۔ اے استوفت واستکملت حسنھا (روح) یہاں دنیا کی بےثباتی کو مثال کی صورت میں یوں پیش کیا ہے کہ جیسے آسمان سے خوب زور شور کی بارش ہو، ہر قسم کے نباتات کی روئیدگی خوب ہو۔ آدمی کے کھانے کے قابل پھل پھلاری، میوہ، غلہ اور جانوروں کے کھانے کے قابل پتیاں، بھوسہ وغیرہ کی خوب پیداوار ہو، پھر جب ہر طرف سرسبزی وشادابی پھیل جائے، لہلہاتا کھیت، سرسبز درخت، شاداب باغ ہر طرف پورے زیب وزینت کے ساتھ نظر آنے لگیں اور انسان سمجھنے لگے کہ بس ہم ان تمام لذتوں اور نعمتوں سے لطف اٹھانے کے پوری طرح مالک ومختار ہیں کہ یک بیک حکم الہی سے کوئی ایسا آسمانی یا زمینی حادثہ پیش آجائے کہ سارا گل و گلزار تہس نہس ہو کر رہ جائے اور حالت یہ ہوجائے کہ گویا کل یہاں کچھ تھا ہی نہیں ! یہ مرقع ہے انسانی زندگی کا کہ بڑے سے بڑے نامور وبااقبال انسان کا بھی خاتمہ دفعۃ موت پر ہو کر رہ جاتا ہے ! اور یہ حال ہے دنیا کا جس میں غافل انسان ہمہ تن مصروف رہتا ہے ! (آیت) ” وازینت “۔ یعنی سبزہ سے خوب خوشنما معلوم ہونے لگی۔ (آیت) ” اتھآامر نا “۔ امر سے مراد ہے کوئی تکوینی عذاب مثلا پالا، پتھر، سیلاب وقس علی ھذا اے عذابنا (قرطبی) قال ابن عباس یرید عذابنا (کبیر) (آیت) ” ظن اھلھا “۔ ظن یہاں بھی یقین کے معنی ہے۔ اے ایقن (قرطبی)
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر چلا دیتا ہے،44۔

44۔ اور یہی لوگ ہیں جنہیں اس سلامتی کے گھر تک پہنچ جانے کی توفیق ہوجاتی ہے۔ (آیت) ”’ واللہ یدعوا “۔ اللہ اپنے بندوں کو بلاتا ہے اپنے انہیں احکام وہدایات کے ذریعہ سے۔ (آیت) ” الی دارالسلم “۔ سلامتی کا گھر یعنی اس فانی وناپائدار دنیا کے برعکس ہمیشہ قائم اور سلامت رہنے والا گھر مراد جنت ہے۔ اے الی الجنۃ (قرطبی) قال قتادۃ والحسن السلام ھو اللہ ودارہ الجنۃ وسمیت الجنۃ دارالسلام لان من دخلھا سلم من الافات (قرطبی) لاشبھۃ ان المراد من دارالسلام الجنۃ الا انھم اختلفوا فی سبب الذی لاجلہ حصل ھذا الاسم (کبیر) عارفین نے لکھا ہے کہ آیت میں مومنین کے لئے تو عبرت ہے کہ شہنشاہ خود بلا رہا ہے اور غلام حاضری میں توقف کر رہے ہیں اور منکرین کے لئے سرزنش ہے کہ وہ کیسی دعوت ونعمت سے محروم رہے جارہے ہیں اور دنیا پرستوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے کہ وہ کیسی پست و حقیر چیزوں کے پھیر میں پڑے ہوئے ہیں اور عاشقوں کے لئے بشارت ہے کہ ان کے حق میں اشارے خلوت خاص کے ہورہے ہیں۔ (آیت) ” یھدی من یشآء “۔ اللہ کی طرف سے یہ ہدایت ہمیشہ مشیت تکوینی اور بیشمار مصلحتوں اور حکمتوں کے ماتحت ہوتی ہے۔
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جو لوگ نیکی کرتے رہے ان کے لئے بھلائی ہے اور اس کے علاوہ بھی،45۔ ان کے چہروں پر نہ کدورت چھائے گی اور نہ ذلت ہوگی اہل جنت یہی ہیں یہ اس میں ہمیشہ (ہمیش) رہیں گے،46۔

45۔ یعنی دیدار الہی جو ہر نعمت اور ہر لذت سے افضل تر ہے۔ (آیت) ” زیادۃ “۔ کی یہ تفسیر خود حدیث میں آچکی ہے۔ عن النبی ﷺ فی ھذہ الایۃ قال اذا دخل اھل الجنۃ الجنۃ فیکشف الحجاب فیتجلی لھم فو اللہ ما اعطاھم شیئا احب الیھم من النظر الی اللہ (ابن جریر) قال رسول اللہ ﷺ الزیادۃ النظر الی وجہ اللہ الکریم (قرطبی عن انس ؓ) یہی حدیث صحیح مسلم میں حضرت صہیب صحابی ؓ کی روایت سے آئی۔ صحابہ ؓ وتابعین سب سے یہی تفسیر منقول ہے۔ الزیادۃ النظر الی وجہ اللہ تبارک وتعالیٰ (ابن جریر عن ابی بکر الصدیق ؓ زیادۃ النظر الی الرب (ابن جریر۔ عن الحسن ؓ الزیادۃ ھنا النظر الی وجہ الرحمن (ابن جریر۔ عن قتادہ) وھو قول ابی بکر الصدیق ؓ وعلی ؓ فی روایۃ وحذیفۃ وعبادۃ بن الصامت وکعب بن عجرۃ وابن موسیٰ وصھیب وابن عباس ؓ فی روایۃ وھو قول جماعۃ من التابعین (قرطبی) دیدار الہی کو لفظ (آیت) ” زیادۃ “۔ سے تعبیر کرنے میں بھی شاید یہی اشارہ ہے کہ وہ ایسی نعمت ہے جو ہر ممکن نعمت کے علاوہ اور اس کے مافوق ہے۔ اشارۃ الی انعام واحوال لا یمکن تصورھا فی الدنیا (راغب) (آیت) ” احسنوا “۔ نیک کام کئے، نیک کرداری کرتے رہے۔ اور سب سے بڑی نیکی خود ایمان لانا ہے۔ (آیت) ” الحسنی “۔ یعنی اجر عمل نیک کرداری کا صلہ۔ یا خود جنت۔ المنزلۃ الحسنی وھی الجنۃ (روح) آیت میں مومنین کو اطمینان دلایا ہے کہ نیک روی اور نیک کرداری کا پورا صلہ تو خیر ملے ہی گا لیکن اس کے علاوہ کچھ ” اور بھی “ ملے گا، یہ صرف عالم آخرت ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس ” کچھ اور “ کی لذت کوئی اہل محبت کے دلوں سے پوچھے۔ 46۔ یعنی مومنین کو دوام عیش تو حاصل رہے ہی گا۔ لیکن اس کے علاوہ کسی صدمہ اور غم والم سے بھی وہ کبھی دو چار نہ ہوسکیں گے۔
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے بدیاں کمائی ہیں (سو) بدی کی سزا بھی ویسی ہی (بدی) ہے اور ایسے لوگوں کو ذلت چھالے گی اور کوئی انہیں اللہ (کے عذاب) سے نہ بچا سکے گا،47۔ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے لپیٹ دیئے گئے ہیں دوزخ والے یہی ہیں اس میں (ہمیشہ) پڑے رہیں گے،48۔

47۔ اور ان کے دیوی، دیوتا، اکابر واعاظم جن پر آج انہیں اتنا بھروسہ ہے، یہ سب اس روز بیکار ہی نظر آئیں گے۔ (آیت) ” بمثلھا “۔ یعنی بدی کی سزا بس بدی کے برابر ہی ملے گی، اس سے زاید نہیں، یہ لفظ جزاء بدی کے سلسلہ میں وزیادۃ کے مقابل آیا ہے جو نیکی کے سلسلہ میں آچکا ہے۔ یعنی نیکی کا صلہ تو اصل معاوضہ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ملے گا لیکن بدی کا معاوضہ بس اسی درجہ کا ملے گا، اس سے زاید نہیں۔ والمقصود من ھذا القید التنبیہ علی الفرق بین الحسنات وبین السیات لانہ تعالیٰ ذکر فی اعمال البرانہ یوصل الی المشتغلین بھا الثواب مع الزیادۃ واما فی عمل السیئات فانہ تعالیٰ ذکر انہ لا یجازی الا بالمثل (کبیر) (آیت) ” ترھقھم ذلۃ “۔ یعنی ہر طرح کی توہین ورسوائی بھی ان کے شامل حال رہے گی۔ یصبھم ذل وخزی وھو ان (فتح الخبیر) اے یغشاھم ھو ان وخزی (قرطبی) (آیت) ” من اللہ “۔ یعنی عذاب الہی سے۔ اللہ کی گرفت سے۔ اے من عذاب اللہ (قرطبی) 48۔ حشر جو حقائق کے ظہور وانکشاف کا وقت ہوگا، اس وقت اہل کفر کے دلوں کی سیاہیاں چہروں سے نمایاں ہو کر رہیں گی، (آیت) ” کانما۔۔۔ مظلما “۔ یہ حالت ان روسیاہ دروزخیوں کے چہروں کی ہوگی، حکماء اسلام نے کہا ہے کہ یہ سیاہی جہل وضلالت کی ہوگی۔ اعلم ان حکماء الاسلام قالوا المراد من ھذا السواد المذکور ھھنا مداد الجھل وظلمۃ الضلالۃ (کبیر) صاحب بحر المحیط علامہ ابوحیان غرناطی اندلسی نے اس موقع پر جوش میں آکر ” حکماء اسلام “۔ کو بہت ہی برابھلا کہا ہے اور کہا ہے کہ ان ” فلاسفہ “ کو حقیقۃ جہلاء وسفہاء کہنا چاہیے، یہ اسلام کے حق میں یہ ود ونصاری سے بھی بڑھ کر دشمن ہیں اور یہ انبیاعلیہم السلام کے دشمن اور شریعت کے محرفین ہیں۔ ان کی کتابوں کا مطالعہ حرام ہونا چاہیے۔ وقس علی ھذا۔ یعنی بحکماء الفلاسفۃ الذین خلقوا فی ھذہ الملۃ الاسلامیۃ ھم احق بان یسموا سفھاء جھلاء من ان یسموا حکماء اذھم اعداء الانبیاء والمحرفون للشریعۃ وھم اضر علی المسلمین من الیھود والنصاری الخ لیکن ستم یہ کیا ہے کہ اپنی خفگی کی اس لپیٹ میں سیدالمفسرین امام رازی (رح) کو بھی لے لیا اور ان کا ذکر صرف ” ہذا الرجل “ سے کیا ہے۔ امام رازی (رح) کے سنہ وفات اور علامہ غرناطی کے سنہ وفات میں فرق کچھ کم ڈیڑھ سو سال کا ہوا ہے۔
Ayah 10:28

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے،49۔ پھر ہم شرک کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شرکاء (خدائی) اپنی جگہ ٹھیرو،50۔ پھر ہم ان میں باہم خوب پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے (وہ مزعومہ) شرکاء (ان سے) کہیں گے تم ہماری عبادت تو کرتے نہ تھے،51۔

49۔ (میدان حشر میں) (آیت) ” نحشرھم جمیعا “۔ یعنی سارے خلائق کو۔ 50۔ (ذرا کی ذرا تاکہ تم پر تمہارے عقیدہ کی حقیقت روشن ہوجائے) (آیت) ” شرکآؤکم “۔ یعنی وہ جنہیں تم اپنے زعم میں شریک خدائی سمجھتے رہے ہو۔ (آیت) ” مکانکم “۔ یعنی اپنی جگہ ٹھیرجاؤ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ امکثوا مکانکم، اے امکثوا مکانکم وقفوا فی موضعکم (ابن جریر) اے الزموا مکانکم (روح) 51۔ (تو آج ہم تمہارے شرک کے وبال میں کیوں پھنسیں) (آیت) ” زیلنا۔ زیلنا کے کھلے ہوئے معنی فرقنا کے ہیں۔ لیکن یہاں یہ صیغہ باب تفعیل سے لایا گیا ہے تاکہ معنی سے شدت تکثیر کا اظہار ہوسکے وقال فزیلنا ارادۃ تکثیرالفعل وتکریرہ ولم یقل فزلنا بینھم (ابن جریر) التضعیف للتکثیر لا للتعدیۃ (روح) اہل شرک کے لئے سب تکلیفوں اور عذابوں سے بڑھ کر اس منظر کا بھی سامنا کرنا ہوگا کہ خود انہی کے معبود الٹے ان سے تبری وبیزاری کررہے ہیں۔ ذلک یدل علی نھایۃ النکال والخزی فی حق ھؤلآء الکفار (کبیر)
Ayah 10:29

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

تو اللہ ہمارے تمہارے درمیان کافی گواہ ہے کہ ہم کو تو تمہاری عبادت کی خبر ہی نہ تھی،52۔

52۔ (چہ جائیکہ ہم اس سے راضی ہوتے ! ) عجب نہیں یہ گفتگو پتھر کی مورتیاں اور ٹھاکردواروں کے بت اپنے بچاریوں سے کررہے ہوں۔ قیل الاصنام فینطقھا اللہ تعالیٰ فتکون بینھم ھذہ المحاورۃ (قرطبی)
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

اس جگہ ہر شخص اس (عمل) کا امتحان کرے گا جو وہ پیشتر بھیج چکا ہے اور یہ لوگ اللہ اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ (معبود) انہوں نے گڑھ رکھے تھے وہ ان سے غائب ہوجائیں گے،53۔

53۔ یعنی کوئی کام نہ آئے گا، اس وقت سب گم ہوجائیں گے۔ (آیت) ” ھنالک۔۔۔ اسلفت “۔ یعنی ہر شخص عیانا دیکھ لے گا جو اعمال اس نے کئے تھے، وہ واقع میں نافع تھے یا اس کے برعکس، یہ اجمالی علم تو انسان کو مرنے کے ساتھ ہی ہوجاتا ہے حشر میں اس کا تحقق کامل اور مفصل طور ہوگا۔ (آیت) ” مولھم الحق “۔ یعنی واقعی اور حقیقی مالک۔ کوئی گڑھا ہوا معبود نہیں۔ اے المتحقق الصادق فی ربوبیتہ لا ما اتخذوہ ربا باطلا (روح) یہاں اللہ کو جو کافروں کا ” مولی “ کہا گیا ہے تو یہ مالکیت بہ اعتبار اصل واقعہ کے ہے اور سورة محمد میں جہاں اس کی نفی آئی ہے۔ ان الکافرین لا مولی لھم۔ وہاں ” مولی “ حامی، ناصر اور سہارے کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” مولھم الحق “۔ کے ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ وہ مالک جو حق و انصاف کے مطابق انہیں جزاء دے گا۔ قال ابن عباس ؓ اے الذی یجازیھم بالحق (قرطبی) (آیت) ” ھنالک “۔ اصلی معنی تو اس جگہ کے ہیں مجازا اس وقت بھی مراد ہوسکتی ہے۔ معناہ فی ذلک المقام وفی ذلک الموقف اویکون المراد فی ذلک الوقت علی استعارۃ اسم المکان للزمان (کبیر)
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

آپ کہیے کون تمہیں آسمان و زمین سے رزق پہنچاتا ہے ؟ یا کون کان اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ؟ اور کون جاندار کو نکالتا ہے بےجان سے اور بےجان کو نکالتا ہے جاندار سے ؟ اور کون ہر کام کا انتظام کرتا ہے،54۔ (جواب میں) وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ تو کہیے کہ پھر کیوں نہیں بچتے ہو ؟ ،55۔

54۔ یہ سارے سوالات مشرکین سے بہ طور جرح ہورہے ہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ سوالات میں ایک خاص ترتیب ملحوظ رکھی گئی ہے۔ پہلا سوال رزق سے متعلق ہے جو سلسلہ ربوبیت میں نمبر اول پر ہے۔ پھر انسان کے حواس ظاہری سے متعلق ہے جن کے بغیر بشر وجماد سب برابر ہیں پھر حیات وموت سے متعلق ہے اور آخری انتظام امور سے متعلق ہے۔ (آیت) ” من یرزقکم من السمآء والارض “۔ یعنی کون ہوائیں چلاتا ہے ؟ کون پانی برساتا ہے ؟ کون سورج کی روشنی اور گرمی پہنچاتا ہے ؟ کون بارش کے وقت مناسب فصل اور مناسب مقدار کا فیصلہ کرتا ہے ؟ اور پھر کون زمین کو گرماتا ہے اسے زرخیز بناتا ہے، اس سے نباتات اگاتا ہے ؟ غرض زمین و آسمان دونوں جگہ اس کی قدرت و حکمت کی مستقل کارفرمائیاں ہیں اور السماء اور الارض دونوں ناموں میں سے کوئی نام بیکار نہیں لایا گیا۔ (آیت) ’ من یخرج۔۔۔ الحی۔ بےجان سے جاندار جیسے انڈے سے مرغی، جاندار سے بےجان جیسے مرغی سے انڈا۔ (آیت) ” من یدبر الامر “۔ الامر میں ال استغراق کا ہے۔ یعنی چھوٹے بڑے ہر کام کا انتظام کون کرتا ہے۔ 55۔ (شرک سے اور افعال شرکیہ سے)
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

یہی ہے اللہ تمہارے پروردگار حقیقی اور (امر) حق کے بعد رہ کیا گیا بجز گمراہی کے تو کدھر پھرے چلے جاتے ہو ؟ ،56۔

56۔ (حق کو چھوڑے ہوئے اور باطل کی طرف رخ کئے ہوئے) (آیت) ” فذلکم اللہ “۔ یعنی یہی اللہ جس کے صفات وافعال اوپر بیان ہوچکے اور جس کی ذات میں سارے کمالات ربوبیت جمع ہیں۔ (آیت) ” فما ذا بعد الحق الا الضلل “۔ مطلب یہ کہ امر حق کی جو ضد ہے اسی کا نام گمراہی ہے اور توحید کا حق ہونا ثابت ہوچکا پس شرک تو یقیناً گمراہی ہی ہوا قاضی ابوبکر ابن العربی مالکی (رح) نے آیت کے تحت میں شطرنج نردوغیرہ کے جواز وعدم جواز پر تفصیلی بحث کی ہے۔ اور اسی ضمن میں مسئلہ غناء پر بھی گفتگو کی ہے اور لکھا ہے کہ غناء کو اکثر علما نے ایک ہیجان انگیز لہو قرار دیا ہے لیکن اس کی حرمت پر قرآن وسنت سے کوئی دلیل قائم نہیں۔ بلکہ ایک حدیث صحیح سے تو اس کی اباحت ہی نکلتی ہے لیکن جن الفاظ میں آنحضور ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی گرفت کو رد کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت میں غناء کی مستقلا تو کراہت ہے البتہ خاص حالات میں اجازت بھی ہے۔ اور حق یہ ہے کہ فقیہ موصوف کا یہی فیصلہ عین حق وصواب اور افراط وتفریط کی راہوں سے الگ ہے۔ واما الغناء فانہ من اللھو المھیج للقلوب عند اکثر العلماء منھم مالک ابن انس ولیس فی القران ولا فی السنۃ دلیل علی تحریمہ اما ان فی الحدیث الصحیح اباحتہ وھو الحدیث الصحیح ان ابابکر دخل علی عائشہ عندھا جاریتان حا دیتا ن من حادیات الانصار تغنیان بما تقاولت الانصار بہ یوم بعاث فقال ابوبکر امز مار الشیطان فی بیت رسول اللہ ﷺ فقال رسول اللہ دعھما یا ابابکر فانہ یوم عید فلوکان الغناء حراما ما کان فی بیت رسول اللہ ﷺ وقد انکرہ ابوبکر بظاہر الحال فاقرہ النبی ﷺ بفعل الرخصۃ والرفق بالخلیفۃ فی اجمام القلوب اذلیس جمیعھا یحمل الجد دائما وتعلیل النبی ﷺ بانہ یوم عید یدل علی کراھیۃ دوامہ ورخصتہ فی الاسباب کالعید والعرس وقدوم الغائب ونحو ذلک وکل حدیث یروی فی التحریم اوایۃ تتلی فیہ فانہ باطل سندا باطل معمتدا خبرا وتاویلا وقد ثبت ان النبی ﷺ رخص فی الغناء فی العیدین (ابن العربی)
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح آپ کے پروردگار کی بات (تمام) سرکشی کرنے والوں کے حق میں پوری ہوچکی کہ وہ ایمان نہ لائیں گے،57۔

57۔ (تو پھر آپ ان کے ایمان نہ لانے پر اس قدر مغموم ومحزون کیوں ہوں) (آیت) ” کذلک “۔ اس کا تعلق اوپر کے کلام سے ہے یعنی جس طرح اللہ کی وحدت و ربوبیت حق ہے۔ وضوح حق کے بعد ضلال کا اور قیام دلائل کے بعد انکار پر جمے رہنے کا حمق وعصیان ہونا بالکل ثابت ومسلم ہے اسی طرح کلمہ رب یعنی تخویف عذاب نافرمانوں کے حق میں ثابت وحق ہے۔ (آیت) ” الذین فسقوا “۔ یعنی وہ لوگ جو اپنی ضد اور ہٹ سے کفر پر قائم رہے۔ اے تمرددوا فی کفر ھم یہ ہوں گے کہ ان سرکش نافرمانوں پر عذاب الہی کا تحقق اس لئے ہو کر رہے گا کہ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے ہیں۔
Ayah 10:34

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

آپ کہیے کیا تمہارے (تجویز کئے ہوئے) شرکاء میں کوئی ایسا بھی ہے جو پہلی بار پیدا کرے پھر دوبارہ بھی کرے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی کرے گا پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟ ،58۔

58۔ یعنی حق سے ضلال کی طرف۔ قرآن مجید کا ایک عام اسلوب بیان یہ ہے کہ اکثر ایسے موقعوں پر جواب میں ” اللہ “ بھی مشرکوں ہی کی زبان سے نقل کردیتا ہے۔ (آیت) ” فسیقولون اللہ “۔ لیکن یہاں کوئی ایسا اقرار مشرکوں کی زبان سے نقل نہیں کیا ہے۔ بلکہ (آیت) ” قل اللہ “ خود اپنی طرف سے کہا ہے۔۔۔ راز اس فرق کا یہ ہے کہ مخاطبین اول یعنی مشرکین عرب تو سرے سے عقیدہ بعثت ومعاد کے قائل ہی نہ تھے۔
Ayah 10:35

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ کیا تمہارے (تجویز کئے ہوئے) شرکاء میں کوئی ایسا ہے جو حق کے راستہ پر چلاتا ہو ؟ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ہی حق کا راستہ بتلاتا ہے تو پھر جو کوئی حق کا راستہ دکھاتا ہے وہ زیادہ مستحق ہے اس کا کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جس کو (خود ہی) راستہ نہ ملتا ہو، بلکہ اسے راستہ بتایا جائے سو تم کو کیا ہوگیا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟ ،59۔

59۔ (کہ توحید جیسی سیدھی بات نہیں قبول کرتے ہو۔ اور شرک پر اڑے ہوئے ہو) مشرکوں سے سوال ہے کہ جو (خالق) راستہ دکھا اور بتارہا ہے، وہ پیروی کئے جانے کا اہل ہے یا وہ (مخلوق) جسے خود ہی راستہ معلوم نہیں اور وہ اپنی راہ یابی میں دوسروں کا محتاج ہے ؟ (آیت) ” من یھدی الی الحق “۔ یعنی حق پر چلاتا ہو اپنی قدرت ونصرت سے۔ (آیت) ” من لا یھدی الا ان یھدی “۔ اس عموم کے تحت میں ساری مخلوق آجاتی ہے۔ باقی اگر شیاطین ہی مراد لئے جائیں تو وہ تو اور بھی گئے گزرے ہوئے ہیں انہیں تو بتانے اور بجھانے پر بھی راستہ نہیں سوجھتا۔
Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

ان میں سے اکثر تو صرف (اپنے) گمان کی پیروی کررہے ہیں اور یقیناً گمان تو حق (کے اثبات) میں ذرا بھی مفید نہیں یقیناً اللہ خوب واقف ہے اس سے جو کچھ یہ کررہے ہیں،60۔

60۔ (اور وقت مناسب پر اپنے اسی علم کامل و محیط کے مطابق جزا و سزا بھی دے گا) (آیت) ” وما۔۔۔۔ ضنا “۔ یہاں یہ صاف بتادیا کہ مشرکین ومنکرین کے پاس نہ کوئی دلیل عقلی محکم ہے اور نہ کوئی استدلال نقلی مستحکم۔ یہ لوگ تو اندھیرے میں پڑے محض اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں۔ ہمارے زمانہ کے ایک فاضل یگانہ علامہ مناظر احسن گیلانی نے یہ بات بہت خوب کہی ہے کہ اثبات توحید کے دلائل قائم کرنے کے بجائے ہم کو تو مطالبہ اہل شرک سے کرنا چاہیے کہ وہ الٹی سیدھی کوئی دلیل تو تعدد آلہہ کے ثبوت میں لائیں، ! (آیت) ” ان۔۔۔۔ شیئا “۔ یہاں سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ انسانی ظن وتخمین، وہم و خیال جن کا شاندار اور موعوب کن نام ” حکمت وفلسفہ “ یا ” علوم عقلیہ “ رکھا گیا ہے، قرآن اور شریعت اسلامی میں مطلق ان کا کوئی درجہ نہیں۔ قرآن صرف حقائق کا قائل ہے، جو ہر روز بدلتے نہیں۔ ” علوم نظری “” اصول موضوعہ “ اور ” نظریات “ انہیں کو مبارک رہیں جن کی تحقیقات ہر صبح اور ہر شام بدلتی رہتی ہیں۔ یہیں سے یہ ہے کہ عقائد کے لئے دلائل ظنی کافی نہیں۔ وفی ھذہ الایۃ دلیل علی انہ لا یکتفی بالظن فی العقائد (قرطبی) فقہاء نے بھی آیت سے خوب خوب مسائل مستنبط کئے ہیں مثلا :۔ (1) یقین شک سے زائل نہیں ہوسکتا۔ (2) نص کے مقابلہ میں کوئی قیاس معتبر نہیں۔ (3) اطلاق وعموم قرآنی کی تحدید وتقیید اخبار آ حاد سے جائز نہیں۔ (4) وہ دلائل جو ثبوت میں یا دلالت میں ظنی ہوں، قطعی ویقینی کے معارض ومقابل نہ ہوسکیں گے۔ (5) ایمانیات اعتقادیات امر ثابت وحق سے متعلق ہیں۔ اس لئے ان میں دلائل ظنی کافی نہیں۔ (6) جب کوئی دلیل قطعی نہ موجود ہو تو دلائل ظنی پر عمل ممنوع نہیں۔ اس لئے کہ ظن کی عدم کفایت بہ مقابل حق مذکور ہے نہ کہ مطلقا۔ (7) مسائل فقہی میں اختلاف اجتہاد معتبر ہے اس لئے کہ اجتہاد ظن ہے اور یہاں ظن مقید اور مسائل اعتقادی میں تاویل واختلاف ممنوع۔ اس لئے کہ ان کا مدار یقین پر ہے۔ پس فرق ضالہ دائرۂ اہل حق سے خارج ہیں۔ (آیت) ” ان۔۔۔۔ شیئا “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے علماء رسوم بہت کم محفوظ ہیں۔ چناچہ اکثر متکلمین اہل ظاہر کے دلائل (ذات وصفات حق کے بارہ میں) باہم متعارض پائے جاتے ہیں جو ظنیات کی شان ہوتی ہے۔ پس جو کوئی اس سے بچنا چاہے۔ چاہیے کہ وہ سلف صالح کے اتباع میں لگا رہے اور فلسفیات میں مشغول نہ ہو۔ جس سے بجز شک بڑھنے کے اور کچھ حاصل نہیں۔