10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر الکتاب

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ را، یہ پُر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں۔

Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک آدمی پر وحی بھیجی کہ لوگوں کو (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کرے اور جو لوگ ایمان لے آئیں انہیں خوشخبری سنا دے کہ ان کے رب کے پاس ان کے لئے بلند مرتبہ ہے ؟ کافر (تو اس پر اس قدر متعجب ہوئے کہ) کہنے لگے بلاشبہ یہ شخص کھلا جادوگر ہے۔

[1] مشرکین کا یہ قول قرآن کی حیرت انگیز تاثیر کی سب سے بڑی شہادت ہے۔ قرآن کا اثر اس درجہ نمایاں تھا کہ باوجود عناد و سرکشی کے وہ اس سے انکار نہیں کرسکتے تھے اور جب اس کی کوئی توجیہہ نہ بنتی تو اسے جادوگری سے تعبیر کرنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

(لوگو، ) تمہارا رب تو اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر عرش (بریں) پر متمکن ہوگیا۔ وہی ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ ( اس کے حضور) کوئی (کسی کا) سفارشی نہیں ہوسکتا مگر (ہاں) اس کی اجازت سے۔ یہ ہے اللہ تمہارا رب پس اسی کی عبادت کرو۔ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے ؟

[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حواشی 25-26 صفحہ نمبر 382 [3] مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محض خالق کائنات ہی نہیں بلکہ مدبر کائنات بھی ہے۔ وہ دنیا کو پیدا کر کے اس سے بےتعلق نہیں ہوگیا ہے بلکہ عملاً سارے جہان پر حکمرانی کر رہا ہے۔
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

(لوگو، ) تم سب کو (بالآخر) اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ کا (یہ) وعدہ برحق ہے۔ وہی ہے جو پیدائش کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دہرائے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے انہیں انصاف کے ساتھ (ان کے کئے کا) بدلہ دے اور جن لوگوں نے کفر (کا طریقہ اختیار) کیا ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی ہوگا اور عذاب دردناک اس کفر کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔

[4] یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔
Ayah 10:5

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہ ( اللہ) ہی ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن اور اس کی منزلیں ٹھہرائیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور (تاریخوں کا) حساب معلوم کرلیا کرو۔ یہ (سب کچھ) اللہ نے بےمقصد نہیں پیدا کیا ہے۔ وہ (اپنی) نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔

[5] منزلوں سے مراد وہ مسافت ہے جو چاند اپنی روز کی رفتار میں طے کرتا ہے۔ [6] یعنی اگر یہ سب کچھ بغیر مصلحت کے نہیں ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کا وجود بغیر کسی غرض و مصلحت کے ہو اور صرف اس لئے ہو کہ وہ کھائے، پئے اور مر کر ہمیشہ کے لئے فنا ہوجائے ؟
Ayahs 10:6–9

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بلاشبہ رات اور دن کے ردوبدل میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان (سب) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو متقی ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جو لوگ (مرنے کے بعد) ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں،

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

(تو) یہی لوگ ہیں جن کا (آخری) ٹھکانا دوزخ ہوگا بسبب اس کمائی کے جو وہ (اپنے غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے) کرتے رہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

(مگر) جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے تو ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب انہیں (نجات کا) راستہ دکھا دے گا اور نعمت بھرے باغوں میں ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔

[7] متقی کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 2 صفحہ 92۔
Ayahs 10:10–14

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

ان (باغوں) میں (داخل ہوتے ہی) وہ پکار اٹھیں گے '' سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ !'' اور ان (باغوں) میں ان کی (باہمی) دعائے خیر سلام (علیک) ہوگی اور ان کی بات کا خاتمہ اس پر ہوگا '' الحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ''

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) اگر اللہ بھی لوگوں کے ساتھ (ان کی بداعمالیوں کی پاداش میں) برائی کرنے میں (اسی طرح) جلد باز ہوتا تو جس طرح وہ (اپنے) فائدوں کے لئے جلدی مچاتے ہیں تو ان کی مہلت (عمل کبھی کی) ختم کردی گئی ہوتی (اور ان کا قلع و قمع ہوگیا ہوتا لیکن قانون جزا نے ڈھیل دے رکھی ہے) ، پس جو لوگ (مرنے کے بعد) ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے تو ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑے رکھتے ہیں۔

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا یا بیٹھا یا کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارے چلا جاتا ہے۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں تو ایسا (بےپروا بن کر) چل دیتا ہے کہ گویا جو تکلیف اسے پہنچی تھی اس کے (دور کرنے کے) لئے اس نے ہمیں (کبھی) پکارا ہی نہ تھا۔ (تو دیکھو، ) اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لئے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیئے گئے ہیں۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

(لوگو، ) تم سے پہلے (بہت سی) نسلوں کو ہم نے ہلاک کر مارا جب انہوں نے ظلم (کا طریقہ اختیار) کیا حالانکہ ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تھے مگر (اس پر بھی) انہوں نے ایمان لا کر ہی نہ دیا۔ (تو دیکھو، ) مجرموں کو ہم اسی طرح (ان کے جرائم کا) بدلہ دیا کرتے ہیں۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے (اب) تمہیں زمین میں ان کا جانشین بنایا ہے تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔

[8] یعنی پاک ہے تو اے اللہ [9] یعنی ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) جب ہماری واضح آیتیں انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جو لوگ (مرنے کے بعد) ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے وہ (تم سے) کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لاؤ یا اس میں ردوبدل کردو۔ تم (ان سے) کہو کہ میرا یہ مقدور نہیں کہ اپنی طرف سے اس میں (کسی قسم کا بھی) ردوبدل کروں۔ میں تو بس اسی کی پیروی کروں گا جو مجھ پر وحی کیا جاتا ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے (بھاری) دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔

[10] یعنی یا تو ہماری مرضی کے مطابق دوسرا قرآن لاؤ یا اس قرآن میں اس طرح ردوبدل کردو کہ ہمارے عقائد کے خلاف اس میں مضمون باقی نہ رہے تو ہم تمہاری بات ماننے کو تیار ہیں۔
Ayahs 10:16–17

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

اور (ان سے یہ بھی) کہو کہ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ (قرآن) تمہیں پڑھ کر ہی نہ سناتا اور نہ تمہیں اس سے آگاہ ہی کرتا۔ پھر (دیکھو، ) یہ واقعہ ہے کہ اس سے پہلے میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں، تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

پھر (بتلاؤ) اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے ؟ یقینا مجرم کبھی فلاح پایا نہیں کرتے۔

[11] یعنی میں تمہارے درمیان اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ میری راست بازی اور صداقت شعاری پر تم سب گواہ ہو، پھر کیا تم مجھ سے یہ توقع کرسکتے ہو کہ اللہ پر جھوٹ باندھوں اور اپنے کلام کو اللہ کا کلام کہوں۔ کیا تمہیں قرآن میں اور میرے کلام میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ؟ اگر یہ میرا کلام ہے تو یہ کیسی بات ہے کہ چالیس سال کی عمر تک تو ایک جملہ کبھی اس طرح کا میرے منہ سے نہ نکلا اور پھر دفعتاً ایسے اعلیٰ طرز کا کلام پیش کردیا ؟ کیا اتنی موٹی بات بھی تم نہیں سمجھ سکتے ؟
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور (دیکھو، یہ مشرک) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ تو ان کو نقصان ہی پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع، اور کہتے ہیں (ہم اس لئے ان کی پرستش کرتے ہیں کہ) وہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو کہ کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو جسے نہ تو وہ آسمانوں میں پاتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔

[12] یہاں سفارشیوں کے معدوم ہونے کی وجہ نہایت لطیف انداز میں بیان کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز اللہ کے علم میں نہیں اس کا وجود ہی باطل ہے، پھر وہ کون سے سفارشی ہیں جن کے بارے میں تم اللہ کو خبر دے رہو ؟
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور (یہ واقعہ ہے کہ ابتدا میں) سارے انسان ایک ہی امت تھے، پھر انہوں نے اختلاف کیا۔ اور (اے پیغمبر، ) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے نہ ٹھہرا دی گئی ہوتی تو جس چیز میں یہ لوگ اختلاف کررہے ہیں اس کا فیصلہ (دنیا ہی میں) کردیا گیا ہوتا۔

[13] یعنی سب موحد تھے کیونکہ آدم (علیہ السلام) موحد تھے لہذا بہت دنوں تک ان کی اولاد ان ہی کے طریقے پر رہی۔ [14] یعنی یہ بات کہ لوگ مختلف راہوں پر چلیں گے اور اس اختلاف میں ان کے لئے آزمائش عمل ہوگی، کیونکہ دنیا کی زندگی تو ہے ہی امتحان کے لئے اور سارا امتحان اس بات کا ہے کہ لوگ حق کو دیکھے بغیر عقل و شعور سے پہچانتے ہیں یا نہیں۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور (یہ لوگ جو) کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی، تو (اے پیغمبر، ) تم (ان سے) کہہ دو کہ غیب (کی خبر) تو بس اللہ ہی کو ہے، سو انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔

[15] یعنی محمد ﷺ پر۔
Ayahs 10:21–24

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور (دیکھو، ) جب لوگوں کو بعد اس کے کہ کوئی مصیبت ان پر پڑچکی ہو ہم اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ فوراً ہماری (رحمت کی) نشانیوں کے بارے میں چالیں چلنے لگتے ہیں۔ (اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہہ دو کہ اللہ چال چلنے میں (تم سے) زیادہ تیز ہے، جو چالیں تم چل رہے ہو بلاشبہ ہمارے فرشتے انہیں لکھتے جا رہے ہیں۔

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

(لوگو، ) وہ ( اللہ) ہی تو ہے جو تمہیں خشکی اور تری میں چلاتا ہے۔ چناچہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور وہ باد موافق کی مدد سے تمہیں لے کر چلتی ہیں اور لوگ ان (کی رفتار) سے خوش ہوتے ہیں کہ (ناگاہ) ہوائے تند کے جھونکے چلنے لگتے ہیں اور ہر طرف سے موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ (بس اب) ہم ان میں گھر گئے (اور بچنے کی کوئی امید باقی نہ رہی) تو (اس وقت) اللہ کو خالص اس کے بندے ہو کر پکارنے لگتے ہیں کہ (اے اللہ ، ) اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دے دی تو ہم ضرور تیرے شکرگزار ہوں گے۔

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو (وہ اپنے عہد و پیمان بھول جاتے ہیں اور) فوراً ہی حق سے منحرف ہو کر زمین میں سرکشی کرنے لگ جاتے ہیں۔ لوگو، (سن لو، ) یہ تمہاری سرکشی تمہارے لئے وبال (جان) ہونے والی ہے۔ (یہ) دنیا کی (چند روزہ) زندگی کے فائدے ہیں (سو اٹھالو، ) پھر تمہیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے تو (اس وقت) ہم تمہیں بتادیں گے کہ تم (دنیا میں) کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

(لوگو، ) دنیا کی زندگی کی مثال تو ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر زمین کی روئیدگی جسے انسان اور چوپائے کھاتے ہیں پانی کے ساتھ مل گئی (اور اس سے شاداب ہو کر پھلی پھولی) یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا بناؤ سنگھار کرلیا اور خوب آراستہ ہوگئی اور اس کے مالک سمجھ رہے تھے کہ وہ اس (کی فصل سے فائدہ اٹھانے) پر قادر ہیں (تو اچانک) رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) اس پر آ نازل ہوا اور ہم نے اس کو اس طرح (جڑ سے) کاٹ کر رکھ دیا گویا وہ کل موجود ہی نہ تھی۔ اس طرح ہم اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔

[16] لوگوں سے مراد کافر ہیں جیسا کہ سیاق سے واضح ہے۔ [17] یعنی طرح طرح کی تاویلیں اور توجیہیں کرنے لگتے ہیں۔
Ayahs 10:25–27

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

(لوگو، تم اس دنیا کی ناپائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہو رہے ہو) اور اللہ تمہیں دارالسلام کی طرف بلا رہا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر لگا دیتا ہے۔

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

(اس کا قانون تو یہ ہے کہ) جن لوگوں نے (دنیا میں) بھلائی کی ان کے لئے (آخرت میں بھی ویسی ہی) بھلائی ہے اور (اس سے کچھ) بڑھ کر (بھی) ، اور (گنہگاروں کی طرح) ان کے چہروں پر نہ تو سیاہی چھائی ہوگی اور نہ ذلت۔ یہی لوگ ہیں جنتی، ہمیشہ (ہمیشہ) جنت میں رہنے والے۔

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں تو برائی کا بدلہ ویسی ہی (برائی) ہے اور (اس کے علاوہ) ان (کے چہروں) پر ذلت چھائی ہوگی۔ کوئی اللہ (کے عذاب) سے انہیں بچانے والا نہ ہوگا۔ (ان کے چہرے ایسے سیاہ ہوں گے کہ) گویا شب تاریک (کی چادر کو پھاڑ کر اس) کے ٹکڑے ان کے چہروں پر اوڑھا دیئے گئے ہوں۔ یہی لوگ ہیں دوزخی، ہمیشہ (ہمیشہ) دوزخ میں رہنے والے۔

[18] یعنی سلامتی کا گھر۔ مراد اس سے جنت ہے۔ [19] یعنی دنیا میں زندگی بسر کرنے کے اس طریقے کی طرف بلا رہا ہے جس پر عمل پیرا ہو کر تم آخرت میں جنت کے مستحق ہوجاؤ۔
Ayah 10:28

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ان لوگوں کو اس دن سے خبردار کردو) جس دن ہم ان سب کو (اپنے حضور) اکٹھا کریں گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ تم اور وہ سب جن کو تم نے (خدائی میں) شریک ٹھہرایا تھا اپنی جگہ ٹھہرو، پھر ہم ان کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ تب ان کے (بنائے ہوئے) شریک (خدائی ان سے) کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو کرتے نہ تھے۔

[20] یعنی مشرکین اور ان کے معبودوں کے درمیان جیسا کہ سیاق مضمون سے ظاہر ہے۔
Ayahs 10:29–30

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

(آج کے دن) ہمارے اور تمہارے درمیان بس اللہ ہی گواہ ہے، (وہ جانتا ہے کہ) ہم تمہاری عبادت سے بالکل بیخبر تھے۔

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

(غرض) اس وقت ہر آدمی (اپنے اعمال کو) جو وہ پہلے کرچکا ہے جانچ لے گا اور سب لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے لوٹائے جائیں گے اور جو افترا پردازیاں وہ (دنیا میں) کرتے رہے تھے ان سے گم ہوجائیں گی۔

[21] یعنی وہ تمام فرشتے جن کو دیویاں قرار دے کر پوجا گیا اور انبیاء، اولیاء اور جنات جن کو اللہ کا شریک ٹھہرایا گیا تھا۔ وہ اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبادت بجا لا رہے ہو۔
Ayahs 10:31–38

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ (وہ) کون (ہے جو) تمہیں آسمان و زمین سے روزی دیتا ہے، (تمہاری) سماعت و بصارت (کی قوتیں) کس کے اختیار میں ہیں، کون (ہے جو) زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور کون (ہے جو) تمام کاموں کی تدبیر کرتا ہے ؟ تو یہ فوراً بول اٹھیں گے کہ اللہ۔ تو تم (ان سے) کہو کہ (اگر ایسا ہی ہے) تو پھر تم (انکار حق کے نتائج سے) ڈرتے (کیوں) نہیں ؟

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

تب تو یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے۔ (پھر بتلاؤ کہ) سچائی کے (جان لینے کے) بعد (اسے نہ ماننا) گمراہی نہیں تو اور کیا ہے ؟ آخر (حقیقت سے) منہ موڑ کر کدھر پھرے جاتے ہو ؟

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

(اے پیغمبر، دیکھو، ) اس طرح ان نافرمان لوگوں پر تمہارے رب کی بات صادق آگئی کہ وہ کسی طرح ایمان نہ لائیں گے۔

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) پوچھو کہ تمہارے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی (مخلوق کو) پیدا کرے پھر (فنا کے بعد) دوبارہ بھی پیدا کرے ؟ (یہ تو اس کا کیا جواب دیں گے تم ہی ان سے) کہو کہ اللہ ہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا، پھر تم کہاں (حق سے) پھرے جاتے ہو ؟

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ تمہارے (ٹھہرائے ہوئے) شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو حق کی راہ دکھا سکے ؟ تم کہو کہ اللہ ہی حق کی راہ دکھاتا ہے۔ تو پھر (بتلاؤ) جو حق کی راہ دکھاتا ہے وہ زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو (خود ہی) راہ نہیں پاتا جب تک کہ اسے راہ نہ دکھائی جائے ؟ (افسوس تم پر ! ) تمہیں کیا ہوگیا ہے، کیسے فیصلے کرتے ہو !

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور (حقیقت یہ ہے کہ) ان لوگوں میں سے اکثر محض (اپنے وہم و) گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور یقیناً حق (کی معرفت) میں گمان کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ بلاشبہ اللہ اس سے خوب واقف ہے جو یہ کر رہے ہیں۔

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ (کی وحی) کے بغیر (اپنے جی سے) گھڑ لیا جائے، بلکہ یہ تو ان (کتابوں) کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں اور (ان ہی) کتابوں (کے احکام) کی تفصیل ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ( اللہ) سارے جہانوں کے پالنے والے کی طرف سے ہے۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے (خود) گھڑ لیا ہے ؟ تو (اے پیغمبر، تم ان سے) کہو کہ اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو ایسی ہی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور اللہ کے سوا جن جن (ہستیوں) کو (اپنی مدد کے لئے) بلا سکتے ہو بلا لو

[22] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة انعام حواشی 33، 34 صفحہ 923۔