10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 10:77–82

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ Open ayah 10:77 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا، کیا تم حق کے بارے میں جب کہ وہ تمہارے سامنے آگیا (ایسی لغویات) کہتے ہو ؟ کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادوگر (کبھی) فلاح نہیں پاتے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:78 in the Quran reader

وہ بولے، کیا تم اس غرض سے ہمارے پاس آئے ہو کہ جس (دین) پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو (چلتے ہوئے) پایا اس سے ہمیں برگشتہ کردو اور ملک میں بڑائی تم دونوں (بھائیوں) کی قائم ہوجائے ؟ ہم تو تمہیں ماننے والے نہیں۔

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 10:79 in the Quran reader

اور فرعون نے (اپنے آدمیوں سے) کہا کہ تم ماہر جادوگروں کو (جو ہماری سلطنت میں ہیں) ہمارے حضور لا کر حاضر کرو۔

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ Open ayah 10:80 in the Quran reader

پھر جب جادوگر آموجود ہوئے تو موسیٰ نے ان سے کہا کہ تمہیں جو کچھ (میدان میں) ڈالنا ہے ڈال دو ۔

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے (اپنی جادو کی رسیاں اور لاٹھیاں) ڈال دیں تو موسیٰ نے کہا کہ تم جو کچھ (بنا کر) لائے ہو یہ جادو ہے اور یقیناً اللہ اس کو دم کے دم میں ملیامیٹ کر دے گا۔ اللہ (کا یہ قانون ہے کہ وہ) مفسدوں کے کام نہیں سنواراتا۔

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

وہ اپنے احکام سے حق کو حق کر دکھاتا ہے خواہ مجرموں کو ناگوار (ہی کیوں نہ) لگے۔

[30] یعنی آخری اور مستقل کامیابی جادوگروں اور شعبہ بازوں کے نصیب میں کہاں۔ ذرا دیر کے لئے وہ گرمی محفل تو پیدا کرسکتے ہیں لیکن کمال اخلاق سے وہ عاری ہوتے ہیں۔ دنیوی اعتبار سے بھی تو کوئی اعلیٰ مستقل کمال ان میں نہیں ہوتا۔ کیا جادوگر کا یہ کام ہوتا ہے کہ ایک ظالم سرکش حکمران کو اللہ کی پرستش کی دعوت دے !
Ayahs 10:83–84

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

تو (دیکھو اس پر بھی) موسیٰ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا (سو وہ بھی) فرعون اور (خود) اپنے سرداروں سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں (فرعون) انھیں کسی مصیبت میں نہ ڈال دے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون ملک میں بڑا سرکش (بادشاہ) تھا اور (ظلم و استبداد میں) حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (اپنی قوم سے) کہا کہ اے میری قوم (کے لوگو، ) اگر تم (واقعی) اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ رکھو۔ اگر تم مسلمان ہو۔

[31] اصل میں لفظ '' ذرّیت '' استعمال ہوا ہے جس کے اصلی معنی کم سن اولاد کے ہیں لیکن نسل اور اولاد کے معنوں میں مطلقاً بھی بولا جاتا ہے۔ یہاں کیونکہ قوم کے ساتھ ذریت کا لفظ آیا ہے اس لئے ضروری ہے لفظی معنی میں آیا ہو، یعنی قوم بنی اسرائیل کے کم سن افراد۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کبھی مقاصد و عزائم کی راہ میں شدائد و محن کا ساسمنا کرنا پڑتا ہے تو قوم کے بڑے بوڑھوں سے بہت کم امید کی جاسکتی ہے کیونکہ محکومی کی حالت میں رہتے رہتے وہ عافیت کوشی کے عادی ہوجاتے ہیں۔ البتہ نوجوانوں میں نیا دماغ، نیا خون اور نئی امنگیں ہوتی ہیں۔ وہ شدائد و محن سے مرعوب نہیں ہوتے۔ چناچہ وہی سب سے پہلے قدم اٹھاتے ہیں پھر تمام قوم ان کے پیچھے چلنے لگتی ہے۔
Ayahs 10:85–86

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ (ہم دعا کرتے ہیں کہ) اے ہمارے رب ہمیں (ان) ظالم لوگوں کے لئے (موجب) آزمائش نہ بنا

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور اپنی رحمت سے ہمیں کافروں سے نجات دے۔

[32] یعنی انھیں غالب نہ کرنا کہ وہ یہ گمان نہ کریں کہ وہ حق پر ہیں۔
Ayah 10:87

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی (ہارون) پر وحی کی کہ اپنی قوم کے لئے مصر میں مکانات بناؤ اور اپنے مکانوں کو قبلہ رخ تعمیر کرو اور (ان پر) نماز قائم کرو اور ایمان والوں کو خوشخبری بھی سنا دو (کہ اب تمہاری نجات کا وقت قریب آگیا) ۔

[33] مصر میں حکومت کے تشدد سے اور خود بنی اسرائیل میں اپنے ضعف ایمانی کی وجہ سے بنی اسرائیل کے ہاں نماز باجماعت کا نظام ختم ہوچکا تھا اور یہ ان کی دینی روح پر موت طاری ہونے کا ایک بہت بڑا سبب تھا۔ اس لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ اس نظام کو ازسرنو قائم کریں اور مصر میں چند مکان اس غرض کے لیے تعمیر کرلیں کہ وہاں باجماعت نماز ادا کی جائے۔ کیونکہ ایک بگڑی ہوئی اور بکھری ہوئی مسلمان قوم میں دینی روح کو پھر سے زندہ کرنے اور اس کی منتشر طاقت کو ازسرنو مجتمع کرنے کے لیے اسلامی طرز پر جو کوشش بھی کی جائے گی اس کا پہلا قدم لازماً یہی ہوگا کہ اس میں نماز باجماعت کا نظام قائم کیا جائے۔ ان مکانوں کو قبلہ ٹھہرانے کا مفہوم یہ ہے کہ ان کو ساری قوم کے لیے مرکز اور مرجع ٹھہرایا جائے۔ اس کے بعد ہی '' نماز قائم کرو '' کا مطلب یہ ہے کہ متفرق طور پر نماز پڑھ لینے کی بجائے لوگ ان مقررہ مقامات پر جمع ہو کر نماز پڑھا کریں کیونکہ قرآن کی اصطلاح میں '' اقامت صلوٰۃ '' جس چیز کا نام ہے اس کے مفہوم میں لازماً نماز باجماعت بھی شامل ہے۔ نیز ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 4 صفحہ 92۔
Ayahs 10:88–89

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ نے دعا مانگی، '' اے ہمارے رب، تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں (طرح طرح کے سامان) زینت (و آرائش) اور مال و دولت سے نواز رکھا ہے (تو کیا یہ اس لئے ہے) اے ہمارے رب، کہ وہ تیری راہ سے لوگوں کو بھٹکائیں ؟ اے ہمارے رب، ان کے مال نیست و نابود کردے اور ان کے دلوں کو (اور زیادہ) سخت کردے کہ وہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ عذاب درد ناک دیکھ لیں ''

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا، '' تم دونوں کی دعا قبول ہوئی، پس تم ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے طریقے کی پیروی نہ کرنا جو علم نہیں رکھتے ''۔

[34] یعنی پے در پے نشانات دیکھ لینے اور دین کی حجت پوری ہوجانے کے بعد بھی فرعون اور اس کے اعیان سلطنت اپنی سرکشی اور نافرمانی پر جمے رہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہدایت ان کے مقدر میں نہیں اس لئے ایسے نفوس کو باقی ہی کیوں رکھا جائے کہ وہ کفر میں ترقی کرتے چلے جائیں۔ ایسے بدبختوں کی ہلاکت و بربادی کی تمنا کرنا ایسا ہی ہے جیسے موذی جانوروں، سانپ، بچھو وغیرہ کی ہلاکت کی تمنا کرنا۔
Ayah 10:90

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور (پھر ایسا ہوا کہ) ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار کردیا۔ پھر فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم و زیادتی کے ارادے سے ان کا پیچھا کیا یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو بولا، '' اب مجھ کو یقین آیا کہ جس ( اللہ) پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اس کے سوا کوئی (اور) معبود نہیں اور (اب) میں (بھی اسی کے) فرمانبرداروں میں ہوں ''۔

[35] جب موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے حکم سے بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر چلے تو راستے میں سمندر حائل تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اس میں راستہ ہوگیا۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو سورة شعرآء آیات 61 سے 67 تک۔
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

(ہم نے کہا، ) کیا اب (ایمان لاتا ہے) حالانکہ (اس سے) پہلے تو برابر نافرمانی کرتا رہا اور فساد کرنے والوں میں سے تھا ؟

[36] یعنی جب مشاہدہ ہمارے عذاب کا ہونے لگا اور انکشاف آخرت شروع ہوچکا اس وقت ایمان لاتا ہے !
Ayahs 10:92–93

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

اب تو ہم (صرف) تیری لاش (ہی) کو بچائیں گے تاکہ جو لوگ تیرے بعد آنے والے ہیں ان کے لئے تو نشان (عبرت) ہو۔ اور بیشک بہت سے لوگ ہماری (قدرت کی) نشانیوں سے غافل ہیں۔

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور (فرعون کی غرقابی کے بعد) ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور انھیں پاکیزہ چیزوں کا رزق عطا کیا۔ پھر انہوں نے (دین کے بارے میں) آپس میں اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جب کہ علم ان کے پاس آچکا تھا۔ (اے پیغمبر، ) یقینا تمہارا رب قیامت کے دن ان باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے۔

[37] قدیم مصریوں میں حنوط کا طریقہ رائج تھا یعنی بادشاہوں اور امیروں کی نعشیں ایک خاص طرح کا مصالحہ لگا کر ایک عرصے تک کے لئے محفوظ کرلی جاتی تھیں۔ چناچہ اٹھارویں صدی کے اوائل سے اب تک اس طرح کی بیشمار نعشیں جنہیں ممی (Mummy) کہا جاتا ہے مصر میں نکل چکی ہیں۔ یہ یاد رہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں دو فرعون یکے بعد دیگرے تخت نشین ہوئے۔ پہلا رامسیس دوم جس کے زمانے میں موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور چالیس سال تک اس کے ہاں رہے۔ دوسرا منفطہ (Mineptah) جو اول الذکر کا بیٹا تھا۔ یہی وہ فرعون ہے جو بنی اسرائیل کا تعاقب کرتے ہوئے بحرقلزم میں غرق ہوا تھا۔ 1907 ء میں انگریز مستشرق سرگرافٹن ایلیٹ اسمتھ نے منفطہ کی ممی دریافت کی اور جب اس کے جسم سے پٹیاں کھولی گئیں تو اس کی لاش پر نمک کی تہہ جمی ہوئی تھی جو کسی اور ممی کے جسم پر نہیں پائی گئی۔ یہ کھاری پانی میں اس کی غرقابی کی کھلی علامت تھی۔ منفطہ کی ممی آج تک قاہرہ کے عجائب خانے میں محفوظ ہے۔ قرآن کے کلام اللہ ہونے پر اس سے بڑی شہادت کیا ہوسکتی ہے کہ فرعون کی غرق شدہ لاش کو بچانے اور اسے درس عبرت بنانے کی جو پیش گوئی اس آیت میں دی گئی تھی وہ تقریباً ساڑھے تین ہزار برس گزر جانے کے بعد بیسویں صدی کے آغاز میں پوری ہوئی۔
Ayah 10:94

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) اگر تمہیں اس (قرآن) کے بارے میں جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے (کسی قسم کا) شک ہو تو ان لوگوں سے پوچھ لو جو تم سے پہلے کی کتابیں پڑھتے رہتے ہیں۔ یقینا یہ حق ہے جو تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہے پس تم ہرگز شک کرنے والوں (کے زمرے) میں نہ ہونا

[38] یعنی اہل کتاب۔
Ayah 10:95

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور نہ ان لوگوں (کے زمرے) میں ہونا جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا، ورنہ تم بھی نقصان اٹھانے والوں میں ہوجاؤ گے۔

[39] اس آیت میں بظاہر خطاب نبی ﷺ سے ہے مگر دراصل بات ان لوگوں کو سنانی مقصود ہے جو آپ کی دعوت میں شک کررہے تھے یعنی مشرکین عرب جو آسمانی کتابوں کے علم سے ناآشنا تھے چناچہ ان سے کہا جا رہا ہے کہ تم اہل کتاب کے منصف مزاج علماء سے اس بات کی تصدیق کرسکتے ہو کہ جس چیز کی دعوت نبی ﷺ دے رہے ہیں اس میں اور پچھلے انبیاء کی دعوت میں کوئی بنیادی فرق نہیں۔
Ayah 10:96

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) جن لوگوں کے حق میں تمہارے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ کبھی ایمان نہ لائیں گے

[40] یعنی اس کا یہ قانون کہ جو دل کی آنکھیں بند کرلے اسے کچھ نظر نہ آئے گا۔
Ayah 10:97

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

یہاں تک کہ عذاب درد ناک (اپنی آنکھوں سے) نہ دیکھ لیں اگرچہ (دنیا جہان کی) ساری نشانیاں بھی ان کے سامنے آجائیں۔

[41] اور مشاہدہ عذاب کے بعد ایمان لانا بےسود ہوگا۔
Ayahs 10:98–109

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

چناچہ کوئی بستی (عذاب دیکھ کر) ایمان نہ لائی کہ اس کا ایمان لانا اسے نفع پہنچاتا بجز قوم یونس کے۔ جب وہ لوگ (عذاب آتا ہوا دیکھ کر جھٹ سے) ایمان لے آئے تو ہم نے ان پر سے رسوائی کے عذاب کو دنیوی زندگی میں ٹال دیا اور ان کو ایک وقت (خاص) تک کے لئے زندگی سے بہرہ مند ہونے (کا موقع) دیا۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) اگر تمہارا رب چاہتا تو جتنے آدمی (روئے) زمین پر ہیں سب کے سب ایمان لے آتے (لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ اس نے ایسا نہیں چاہا) ۔ پھر (اگر لوگ نہیں ایمان لاتے تو) کیا تم ان کو مجبور کرو گے کہ وہ مومن ہوجائیں ؟

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

(یاد رکھو، ) کسی شخص کے اختیار میں نہیں کہ اللہ کے اذن کے بغیر ایمان لے آئے اور اللہ (کا قانون یہ ہے کہ وہ) ان لوگوں پر (شرک اور کفر کی) گندگی ڈال دیتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے۔

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہو، تم (آنکھیں کھول کر تو) دیکھو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں (جو اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت و صفت پر دلالت کرنے والی ہیں) ۔ لیکن جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے لئے (قدرت کی) نشانیاں اور (خبردار کرنے والوں کی) تنبی ہیں کچھ بھی سود مند نہیں۔

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

پھر کیا (یہ لوگ بھی) اسی طرح کے (برے) ایام کا انتظار کررہے ہیں جس طرح ان سے پہلے (لوگوں پر) گزر چکے ہیں ؟ (اگر ایسا ہے تو اے پیغمبر، ان سے) کہہ دو کہ اچھا، انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر (جب عذاب کی گھڑی آجاتی ہے تو ہمارا قانون یہ ہے کہ) ہم اپنے رسولوں کو (عذاب سے) بچا لیا کرتے ہیں اور اسی طرح ان لوگوں کو بھی جو ایمان لائے ہوں۔ ہم نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ (ایسے وقت میں) مومنوں کو بچا لیں۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ان لوگوں سے) کہہ دو کہ لوگو، اگر تم میرے دین کے بارے میں (کسی) شک میں ہو تو (میں تم سے صاف کہے دیتا ہوں کہ) میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا بلکہ میں (تو اس) اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے اور مجھے (اس کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے کہ میں مومنوں (کے زمرے) میں رہوں،

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور (مجھ سے) یہ (بھی کہا گیا ہے) کہ تو یکسو ہو کر اپنا رخ اللہ کے دین کی طرف کرلے اور مشرکوں (کے زمرے) میں ہرگز (شامل) نہ ہو۔

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا کسی (اور) کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکے اور نہ نقصان۔ اگر تم نے ایسا کیا تو یقینا تم ظالموں میں سے ہوگے۔

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اس (تکلیف) کا دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تجھے (کسی قسم کا) فائدہ پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کو رد کرنے والا (بھی) کوئی نہیں۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے فضل کرے وہ اللہ تو (بڑا ہی) بخشنے والا (اور) ہمیشہ رحم کرنے والا ہے۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

(اے پیغمبر، ) کہہ دو کہ لوگو، تمہارے رب کی طرف سے حق تمہارے پاس آچکا ہے پس جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا تو اپنے ہی بھلے کے لئے کرے گا اور جو گمراہ رہے گا تو اس کی گمراہی (کا وبال) اسی پر ہے۔ اور میں تمہارے اوپر داروغہ تو ہوں نہیں (کہ زبردستی کسی راہ میں کھینچ لے جاؤں اور پھر اس سے نکلنے نہ دوں) ۔

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم اس (ہدایت) کی پیروی کئے جاؤ جو تم پر وحی کی جا رہی ہے اور (منکرین کی ایذا رسانی پر) صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے اور وہی (سب) فیصلہ کرنے والوں میں بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

[42] مفسرین نے عذاب ٹل جانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یونس (علیہ السلام) اپنی نافرمان قوم کو عذاب کی اطلاع دینے کے بعد اللہ کی اجازت کے بغیر بستی سے چلے گئے تھے۔ اس لئے جب آثار عذاب ظاہر ہونا شروع ہوئے تو پوری قوم نے اللہ تعالیٰ کے روبرو گریہ زاری شروع کی اور ایمان لے آئی لہذا عذاب ہٹا لیا گیا۔