10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsانوار البیان

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الرا، یہ بڑی دانائی کی کتاب کی آیتیں ہیں۔

(10:1) الٓرٓا۔ الف۔ لام۔ را۔ حروف مقطعات ہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (2:1) تلک ایت الکتب الحکیم۔ تلک اسم اشارہ بعید۔ مفرد۔ مؤنث ایتٍ مضاف الکتب الحکیم موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ۔ مضاف مجاف الیہ مل کر مشار الیہ۔ یہ براز حکمت کتاب کی آیاتیں ہیں۔ آیات سے مراد وہ آیات بھی ہوسکتی ہیں جو اس سورة میں ہیں اس سورة میں الکتاب سے مراد السورۃ یعنی سورة ہذا ہے۔ یا آیات سے مراد آیات قرآنی ہیں اور الکتاب سے مراد القرآن ہے۔ یعنی یہ آیات قرآن کی آیات ہیں جو حکمت سے پر ہیں۔ اسم اشارہ بعید آیات کی عظمت شان کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک مرد کو حکم بھیجا کہ لوگوں کو ڈر سنا دو اور ایمان لانے والوں کو خوشخبری دے دو کہ ان کے پروردگار کے ہاں انکا سچا درجہ ہے (ایسے شخص کی نسبت) کافر کہتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگر ہے۔

اکان للناس عجبا۔ میں ا استفہام انکاری کے لئے ہے۔ کیا لوگوں کو یہ بات بہت ہی عجیب نظر آتی ہے (حالانکہ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے) الناس سے مراد کفار عرب ہیں۔ رجل۔ سے مراد محمد ﷺ ہیں ۔ الی رجل منہم ای الیٰ بشر من جنسہم۔ انہیں کی جنس سے ایک فرد۔ انذر۔ انذار سے امر واحد مذکر حاضر۔ تو ڈرا۔ انذر الناس میں الناس سے مراد جمیع الناس ہیں۔ قدم صدق۔ مضاف مضاف الیہ ان کا اسم ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قدم بمعنی پاؤں اور صدق کے معنی ہیں سچائی۔ قوت۔ خیر۔ خلوص۔ شرف۔ فضیلت۔ قدم صدق کے مختلف معانی کئے گئے ہیں :۔ (1) القدم ۔ السابقۃ۔ والمعنی انھم قد سبق لہم عند اللہ خیر (رازی) یعنی القدم کے معنی السابقۃ ہیں اور آیت کے معنی ہیں ان کے لئے اللہ کے حضور ایسی خیر مقدر ہے جس میں انہیں ترجیح دی جائے گی۔ (2) ان لہم اجر احسنا۔ ان کے لئے نیک اجر ہے (مجمع البیان۔ مظہری) (3) ان لہم منزلۃ رفیعۃ۔ ان کے لئے بلند مرتبہ ہے (کشاف ، بیضاوی۔ زجاج۔ روح المعانی) (4) ان لہم مقام صدق۔ ان کے لئے فضیلت کا مقام ہے (کشاف) (5) قدم صدق۔ سے مراد اعمال صالحہ ہیں۔ اور قدم سے کنایۃ مراد عمل ہے جو اقدام کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے جس طرح کنایۃً نعمت کو ید (ہاتھ) کے لفظ سے بیان کردیتے ہیں اس صورت میں اس کے معنی ہوں گے : ان کے لئے اللہ کے حضور وہ اعمال صالحہ ہوں گے۔ جو انہوں نے کئے (مدارک) ۔ (6) قدم صدق سے مراد حضور ﷺ کی ذات اقدس ہے (ضیاء القرآن بحوالہ مظہری و قرطبی) لیکن آیت کے سیاق وسباق سے مناسبت نہیں رکھتا۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش (تخت شاہی) پر قائم ہوا وہی ہر ایک کام کا انتظام کرتا ہے۔ کوئی (اس کے پاس) اس کا اذن حاصل کئے بغیر (کسی کی) سفارش نہیں کرسکتا۔ یہی خدا تمہارا پروردگار ہے تو تم اسی کی عبادت کرو۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

(10:3) استوی علی۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ متمکن ہوا۔ نیز ملاحظہ ہو 2:29 اور 7:54 ۔ العرش۔ عرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع عروش ہے قرآن میں ہے : وہی خاویۃ علی عروشھا (2: 259) اور اس مکانات اپنی چھتوں پر گرے پڑے تھے اسی سے عرشت الکرم وعرشتہ (باب نصر) کا محاورہ ہے۔ جس کے معنی انگور کی بیلوں کے لئے بانس وغیرہ کی ٹیٹاں بنانا ہے اور ٹٹیوں پر چڑھائی بیل کو معرش بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن میں آیا ہے : معروشت وغیر معروشت (6:141) ٹٹیوں پر چڑھائے ہوئے اور ٹیٹوں پر نہ چڑھائے ہوئے اور وما کانوا یعرشون (7:137) اور جو وہ ٹیٹوں پر چڑھاتے تھے۔ یا بقول حضرت ابن عباس و مجاہد ما کانوا یبنون من القصور وغیرھا۔ محل وغیرہ جو وہ تعمیر کرتے تھے۔ اس بلندی کو ملحوظ رکھتے ہوئے بادشاہ کے تخت کو بھی عرش کہا جاتا ہے۔ جیسے ورفع ابویہ علی العرش (12:100) اور اپنے والدین کو تخت پر بتھایا۔ اور بطور کنایہ عرش کا لفظ عزت۔ غلبہ۔ سلطنت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے چناچہ محاورہ ہے فلان ثل عرشہ (یعنی فلاں کی عزت جاتی رہی) ۔ عرش الٰہی سے ہم صرف نام کی حد تک واقف ہیں اور اس کی حقیقت ہمارے فہم سے بالاتر ہے وہ عام بادشاہ کے تخت کی مانند نہیں کیونکہ ذات الٰہی اس سے بالاتر ہے کہ کوئی چیز اسے اٹھائے ۔ بعض کے نزدیک عرش سے مراد فلک الاعلیٰ (فلک الافلاک) ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ یدبر۔ مضارع واحد مذکر غائب دبر یدبر تدبیر (تفعیل) وہ انتطام کرتا ہے۔ تدبیر کرتا ہے۔ الامر ہر کام کی۔ شفیع۔ شفاعت کرنے والا۔ سفارش کرنے والا۔ بروزن فعیل بمعنی فاعل ہے۔ تذکرون۔ ای تفکرون۔ تم کیوں نہیں غور و فکر کرتے۔ تم کیوں نہیں سوچتے۔
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کے پاس تم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ خدا کا وعدہ سچا ہے۔ وہی خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا۔ تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے۔ اور جو کافر ہیں ان کے لئے پینے کو نہایت گرم پانی اور درد دینے والا عذاب ہوگا کیونکہ (خدا سے) انکار کرتے تھے۔

(10:4) وعد اللہ۔ وعد۔ اسم ومصدر منصوب۔ مضاف الیہ مضاف الیہ (یہ) اللہ کا وعدہ (ہے) یہاں وعدہ سے مراد الیہ مرجعکم جمیعا ہے۔ حقا اسم ومصدر۔ وعدہ کی تاکید ہے وعد اللہ حقا۔ ای وعدکم اللہ ذلک وعدا حقا یہ ایک سچا وعدہ ہے جو اللہ نے تم سے کیا ہے۔ انہ یبدؤ الخلق۔ مضارع واحد مذکر غائب بدء مصدر (باب فتح) یہ جملہ مستانفہ (نیا) ہے وہ ابتدائی تخلیق کرتا ہے۔ یہاں مضارع بمعنی ماضی ہے۔ یعنی تخلیق اول اسی نے کی۔ یعیدہ۔ اس کو دہراتا ہے۔ اس کا اعادہ کرتا ہے۔ یعنی دوبارہ پیدا کرے گا۔ لوٹائے گا۔ بالقسط۔ ای بالعدل۔ عدل و انصاف کے ساتھ۔ حمیم۔ نہایت گرم پانی۔ گہرے دوست کو بھی حمیم کہتے ہیں۔ کہ اپنے دوست کی حمایت میں گرم ہوجاتا ہے۔
Ayahs 10:5–6

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لئے وہ (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے۔

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

رات اور دن کے (ایک دوسرے کے) پیچھے آنے جانے میں اور جو چیزیں خدا نے آسمان اور زمین میں پیدا کی ہیں (سب میں) ڈرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔

(10:5) ضیائ۔ چمک ۔ روشنی ۔ چمکنا۔ روشن ہونا۔ اجوف وادی ہے۔ اور مہموز اللام۔ اصل میں ضواء تھا۔ چونکہ واؤ کا ماقبل مکسور ہے اس لئے اس کو یاء سے بدل دیا۔ ضیاء یا تو مصدر ہے۔ جیسے قام سے قیام اور صام سے صیام یا ضوء کی جمع ہے جیسے سوط سے سیاط اور حوض سے حیاض لیکن نورا (جو چاند کی صفت میں آیا ہے) سے اس کا مصدر ہونا ہی زیادہ مناسب ہے۔ مصدر کی صورت میں بمعنی اسم فاعل بھی ہوسکتا ہے روشن کنندہ۔ جعل الشمس ضیائ۔ ای ذات ضیائ۔ روشی والا۔ روشن۔ درخشاں۔ ضیاء اس روشنی کو کہتے ہیں جو بالذات ہو (لسان) ۔ نورا۔ ای ذانور (غور والا) منیرا۔ چمکدار۔ نور اس روشنی کو کہتے ہیں جو بالواسطہ ہو۔ (لسان العرب) ۔ قدر اللہ لہ الامر۔ اللہ تعالیٰ کا کسی چیز کا فیصلہ کرنا۔ یا اس کا حکم عائد کرنا۔ قدر الشیء بالشیء کسی چیز کو کسی دوسری چیز پر قیاس کرنا۔ مقرر کرنا۔ تقدیر میں لکھ دینا۔ مقدر کردینا۔ آیۃ ہذا میں منزلیں مقرر کرنا۔ جیسا کہ قرآن میں اور جگہ آیا ہے وقدر فیہا السیر (34:18) اور ان میں سفر کی منزلیں ایک اندازے پر مقرر کردیں۔ اور والقمر قدرنہ منازل (36:39) اور ہم نے حساب سے چاند کی منزلیں مقرر کردیں۔ بعض کے نزدیک یہ ضمیر واحد مذکر غائب القمر کے لئے ہے اور منازل سے مراد یہاں چاند کی مختلف منزلیں ہیں جو ایک ماہ میں طے کرتا ہے۔ چاند کو اس لئے مختص کیا گیا ہے کہ بہ نسبت سورج کے اس کی گردش عام فہم ہے اور اسی پر مہینے اور سال مرتب کئے جاتے ہیں اور یہی حساب شرع میں رائج ہے۔ الحساب۔ حساب الاوقات۔ ساعات۔ ایام ۔ شہور وغیرہ کا حساب۔
Ayah 10:7

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطمئن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں۔

(10:7) لایرجون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب رجائ۔ مصدر۔ وہ امید نہیں رکھتے۔ یقین نہیں رکھتے۔ رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا مکان ہو۔ بعض مفسرین نے اس کا معنی لایخافون وہ نہیں ڈرتے ۔ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خوف اور رجاء باہم لازم ملزوم ہیں۔ جب کسی محبوب چیز کے ملنے کی توقع ہو تو ساتھ ہی اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ بھی دامن گیر رہتا ہے اور ایسے ہی اس کا برعکس صورت میں اندیشہ کے ساتھ امید پائی جاتی ہے۔ لقاء نا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہماری ملاقات۔ ہمارے سامنے (ان کی) پیشی ۔ ہم سے (ان کی) ملاقات۔ ہمارا دیدار۔ لقی یلقی (سمع) لقائ۔ ملنا۔ دیکھنا۔ ملاقات کرنا۔ لاقی یلاقی ملاقاۃ (باب مفاعلہ) آمنے سامنے آنا۔ ملاقات کرنا۔ ایتنا۔ ہماری آیات۔ ہماری نشانیاں۔ مراد دلائل توحید۔ یا بقول حضرت ابن عباس ؓ کے رسول کریم ﷺ اور قرآن۔ غفلون۔ غفلت برتنے والے۔ دھیان نہ دینے والے۔ روگردانی کرنے والے۔ اعراض کرنے والے۔
Ayah 10:8

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان کا ٹھکانا ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے۔

(10:8) اولئک۔ اسم اشارہ بعید۔ جمع مذکر۔ وہ لوگ ۔ یہاں مشار الیہ دو ٹولے مذکور ہوئے ہیں۔ الذین لایرجون لقاء نا اور الذین ہم عن ایتنا غفلون۔ ماوہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا ٹھکانا۔
Ayah 10:9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

(اور) جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان کو پروردگار ان کے ایمان کی وجہ سے (ایسے محلوں کی) راہ دکھائے گا (کہ) ان کے نیچے نعمت کے باغوں میں نہریں بہ رہی ہوں گی۔

(10:9) جنت النعیم۔ موصوف وصفت۔ نعمت و راحت۔ عیش و آرام کے باغات۔
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

(جب وہ) ان میں (ان کی نعمتوں کو دیکھیں گے تو بےساختہ) کہیں گے سبحان اللہ اور آپس میں انکی دعا سلام علیکم ہوگی اور ان کا آخری قول (یہ ہوگا) کہ خدائے رب العالمین کی حمد (اور اس کا شکر) ہے۔

(10:10) دعوہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی دعا۔ ان کی پکار۔ ان کی صدا۔ ان کا نعرہ۔ تحیتھم۔ ان کی دعائے ملاقاۃ۔ ان کی دعائے خیر۔ تحیۃ کے معنی کسی کو حیاک اللہ (خدا تمہیں زندہ رکھے) کہنے کے ہیں۔ اصل میں یہ جملہ خبریہ ہے لیکن دعا کے طور پر استعمال ہوتا ہے اصل میں تحیہ حیات سے مشتق ہے پھر دعائے حیات کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ تحیتہم۔ ان کا ایک دوسرے کو دعاء حیات دینا بھی ہوسکتا ہے اور ملائکہ کی طرف سے بھی ان کے لئے دعاء حیات ہوسکتا ہے۔ پہلی صورت میں اس کا معنی ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کو سلامتی کی دعا دیں گے۔ اور دوسری صورت میں (ملائکہ کی طرف سے) ان کو دعاء حیات اور سلامتی کی دعا ہوگی۔ واخر دعوھم اور آخر میں وہ سب پکار اٹھیں گے۔ ان الحمدللہ رب العالمین۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کی برائی میں جلدی کرتا جس طرح وہ طلب خیر میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی (عمر کی) میعاد پوری ہوچکی ہوتی۔ سو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کو توقع نہیں انہیں ہم چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بہکتے رہیں۔

(10:11) یعجل۔ مضارع واحد مذکر غائب تعجیل (تفعیل) مصدر۔ وہ جلدی کردیتا۔ تعجیل ، کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ عجلت سے جلدی کرنا۔ جیسے قرآن میں ہے ولا تعجل بالقرآن (20:114) قرآن کی تلاوت میں جلدی مت کرو۔ تعجیل بھی معنی جلدی کرنا ہے مثلاً من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیہا مانشاء لمن ترید (17:18) جو دنیا کی آسودگی کے خواہشمند ہیں ہم ان میں سے جسے چاہیں اور جتنا چاہیں جلدی دے دیتے ہیں (العاجلۃ بمعنی دنیاوی سازوسامان) یا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب (38:16) ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے۔ استعجالہم۔ استعجال (استفعال) مصدر۔ مضاف۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ کسی کام میں جلدی کی طلب کرنا۔ عجلت چاہنا۔ مثلاً یستعجلونک بالعذاب (22:47) وہ لوگ تم سے جلدی عذاب لانے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ استعجالہم ان کا جلدی کے لئے طلب گار ہونا ۔ ولو یعجل اللہ للناس الشر استعجالہم بالخیر۔ انسان جس طرح فائدہ کے لئے جلد باز ہوتا ہے اگر اسی طرح اللہ تعالیٰ اسے نقصان پہنچانے میں جلد باز ہوتا (یعنی اگر اس کا قانون جزاء ایسا ہوتا کہ ہر بدعمل کا برا نتیجہ فوراً کام کر جائے) تو اس کا وقت کب کا پورا ہوچکا ہوتا (لیکن قانون جزا نے یہاں ڈھیل دے رکھی ہے) ابو الکلام آزاد۔ لقضی الیہم اجلہم۔ ان کا وقت ختم ہوگیا ہوتا۔ اور وہ کب کے ہلاک ہوگئے ہوتے۔ فنذر۔ مضارع جمع متکلم وذر یذر (باب سمع) وذر مصدر ہم ناقابل پرواہ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کا ماضی مستعمل نہیں صرف مضارع اور امر مستعمل ہے۔ اس کا عطف فعل محذوف پر ہے ای ولکن لا نجعل فنذر۔ لیکن ہم ایسا نہیں کرتے بلکہ ہم ان کو چھوڑ دیتے ہیں۔ طغیانہم۔ ان کی سرکشی۔ ان کی گمراہی۔ ان کی نافرمانی۔ یعمھون مضارع جمع مذکر غائب عمۃ مصدر۔ (باب فتح۔ سمع) وہ سرگردان پھرتے رہیں ۔ عمۃ۔ سرگردانی۔ گمراہی میں حیرانی
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹا اور بیٹھا اور کھڑا (ہر حال میں) ہمیں پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس تکلیف کو اس سے دور کردیتے ہیں تو (بےلحاظ ہوجاتا اور) اس طرح گزر جاتا ہے کہ گویا کسی تکلیف پہنچنے پر ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا۔ اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کو ان کے اعمال آراستہ کر کے دکھائے گئے ہیں۔

(10:12) الضر۔ تکلیف، بلا، سختی۔ ایذا۔ اسم ہے۔ یہ بدحالی خواہ اپنے نفس (اندورون) میں ہو بسبب علم و فضل اور عفت کی کمی ہونے کے۔ یا اپنے بدن میں کسی عضو کے نہ ہونے کے باعث یا کسی نقص کی بناء پر۔ خواہ حالت ظاہری میں بوجہ مال و جاہ کی قلت کے۔ لجنبہ۔ جنب پہلو۔ یعنی اپنے پہلو کے بل۔ کشفنا ماضی جمع متکلم۔ ہم نے دور کردیا۔ ہم نے ٹال دیا۔ (آیۃ ہذا) کھولنا اور پردہ ہٹانا کے معنی میں جیسے لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطاء ک (50:22) یہ وہ دن ہے کہ اس سے تو غافل ہو رہا تھا اب ہم نے تجھ پر سے پردہ ہٹا دیا۔ مسرفین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مجرور۔ اسراف مصدر۔ حد اعتدال سے آگے بڑھ جانے والے ۔ بےجا و بےہودہ صرف کرنے والے۔ حدّ حلال سے حرام کی طرف بڑھنے والے۔ زین للمسرفین۔ (1) یہ تزئین اللہ کی جانب سے بھی ہوسکتی ہے۔ (2) شیطان کی جانب سے بھی اور (3) انسان کی اپنے نفس امارہ کی طرف سے بھی۔
Ayahs 10:13–14

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔

(10:13) القرون۔ قرن کی جمع۔ وہ قومیں جن سے ہر ایک کا زمانہ دوسری سے جدا ہو۔ قومیں۔ امتیں۔ (10:13) لما۔ جب۔
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اسکو بدل دو ۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے۔

(10:15) ائت۔ اتی یاتی (ضرب) اتیان مصدر۔ بمعنی آنا۔ جب اس کے صلہ میں باء آتی ہے تو یہ متعدی بمعنی لانا ہوجاتا ہے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اتی ب ۔۔ لانا۔ اور اتی ۔۔ ہ کسی کو کوئی چیز پیش کرنا۔ (10:15) من تلقاء نفسی۔ تلقاء ی۔ میری طرف سے۔ اپنی طرف سے۔ تلقائ۔ طرف ۔ لقائ۔ سے جس کے معنی ملاقات کرنے کے ہیں۔ ملاقات کرنے اور آمنے سامنے ہونے کی جگہ کو تلقاء کہتے ہیں اسی اعتبار سے طرف اور جہت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لقاء کا اسم ہے۔ جلس تلقاء وہ اس کے مقابل بیٹھا۔ فعل الامر من تلقاء نفسہ۔ اس نے اس کام کو خود کیا بغیر اس کے کہ کسی نے اس کو مجبور کیا ہو۔ ان اتبع۔ میں ان نافیہ ہے۔ یوم عظیم۔ بڑا سخت دن۔ یوم قیامت۔ یوم ترونھا تذہل کل مرضعۃ عما ارضعت (22:2) جس روز تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائیگی۔ عذاب یوم عظیم۔ یوم عظیم۔ موضوف وصفت مل کر مضاف الیہ عذاب مضاف مضاف مضاف الیہ مل کر فعل اخاف کا مفعول۔
Ayah 10:16

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر خدا چاہتا تو (نہ تو) میں ہی یہ (کتاب) تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ وہی تمہیں اس سے واقف کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر رہا ہوں (اور کبھی) ایک کلمہ بھی اس طرح کا نہیں کہا بھلا تم سمجھتے نہیں ؟

(10:16) من تلقاء نفسی۔ تلقاء ی۔ میری طرف سے۔ اپنی طرف سے۔ تلقائ۔ طرف ۔ لقائ۔ سے جس کے معنی ملاقات کرنے کے ہیں۔ ملاقات کرنے اور آمنے سامنے ہونے کی جگہ کو تلقاء کہتے ہیں اسی اعتبار سے طرف اور جہت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لقاء کا اسم ہے۔ جلس تلقاء وہ اس کے مقابل بیٹھا۔ فعل الامر من تلقاء نفسہ۔ اس نے اس کام کو خود کیا بغیر اس کے کہ کسی نے اس کو مجبور کیا ہو۔ ان اتبع۔ میں ان نافیہ ہے۔ یوم عظیم۔ بڑا سخت دن۔ یوم قیامت۔ یوم ترونھا تذہل کل مرضعۃ عما ارضعت (22:2) جس روز تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائیگی۔ عذاب یوم عظیم۔ یوم عظیم۔ موضوف وصفت مل کر مضاف الیہ عذاب مضاف مضاف مضاف الیہ مل کر فعل اخاف کا مفعول۔ (10:12) ماتلوتہ۔ میں تلاوت نہ کرتا۔ میں نہ پڑھتا اس کو (قرآن کو) تلوت ماضی واحد متکلم ۔ لاادرکم۔ لاادری۔ ماضی منفی واحد مذکر غائب۔ وہ خبردار نہ کرتا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ نہ ہی وہ (اللہ تعالیٰ ) آگاہ کرتا تمہیں بہ اس (قرآن) سے۔ لبث۔ ماضی واحد متکلم لبث مصدر۔ میں رہا۔ میں رہتا رہا۔
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر چھوٹ افترا کرے اور اس کی آیتوں کو جھٹلائے۔ بیشک گنہگار فلاح نہیں بائیں گے۔

(10:17) افتری۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ افتراء سے۔
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور یہ (لوگ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انکا کچھ بگاڑ ہی سکتی ہیں اور نہ کچھ بھلا ہی کرسکتی ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کہ کیا تم خدا کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں ؟ وہ پاک ہے اور (اسکی شان) انکے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔

(10:18) اتنبئون۔ الف استفہام کے لئے ہے تنبئون جمع مذکر حضر۔ تنبئۃ اور تنبئی سے۔ کیا تم خبر دیتے ہو۔ کیا تم آگاہ کرتے ہو۔ اتنبئون اللہ بما لا یعلم فی السموت ولا فی الارض کیا تم اللہ کو ایسی بات بتا رہے ہو جو زمین و آسمان میں اس کے علم میں نہیں۔ یعنی زمین و آسمان کی ہر بات تو اس کے علم میں ہے پھر تم یہ کیا بات اس کو بتا رہے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری اس بات کا وجود ہی نہیں اور تم محض ایک بےبنیاد ۔ من گھڑت بات بنا رہے ہو (اس سے کفار کی بتوں سے شفاعت کی امید کی حقیقت کی نفی قطعی طور پر مقصود ہے) ۔
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور (سب) لوگ پہلے ایک ہی امت (یعنی ایک ہی ملت پر) تھے۔ پھر جدا جدا ہوگئے اور اگر ایک بات جو تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے نہ ہوتی تو جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔

(10:19) فاختلفوا۔ بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنالئے۔ بعد میں مختلف عقیدوں میں بٹ گئے۔ کلمۃ ۔ ای القضاء والتقدیر۔ ایک بات پہلے سے طے شدہ ۔ ازلی حکم۔ سبقت (جو) پہلے سے (طے) ہوچکا ہے۔ واحد مؤنث غائب۔ باب ضرب سے۔ اسی سے مسابقہ اور استباق آتے ہیں۔ اس کے اصل معنی چلنے میں آگے ہونے کے ہیں۔ ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم فیما فیہ یختلفون ۔ اگر تیرے رب کا فیصلہ پہلے سے صادر نہ ہوچکا ہوتا تو ان کا آپس میں جھگڑا کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا ہی کو ہے۔ سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

(10:20) لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ۔ (کیوں نہ نازل کی گئی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی جانب سے۔ کفار کا ابتداء سے یہ طریق رہا ہے کہ جو نشان نازل ہوچکے ہیں ان کو تو مانتے نہیں ۔ اور یہ رٹ لگائے رہتے ہیں کہ کوئی نشان کیوں نہیں نازل ہوا۔ نشان سے اصل مقصد ان کا اپنا مطلوبہ نشان ہے۔
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں۔

(10:21) اذقنا۔ ماضی جمع متکلم۔ اذاقۃ۔ مصدر۔ (افعال) ذوق (اجوف وادی) اذاق یذیق اذاقۃ چکھانا۔ ماضٰ بمعنی مجارع۔ ہم چکھاتے ہیں۔ اذقنا الناس رحمۃ۔ لوگوں کو رحمت سے نوازتے ہیں۔ مستھم۔ ماضی واحد مؤنث غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ان کو پہنچی۔ ان کو لاحق ہوئی۔ مس یمس (نصر) چھونا۔ پہنچنا۔ مس المرض او الکبر فلانا۔ فلاں کو بیماری یا پڑھاپا لاحق ہوا۔ مکر۔ المکر کے معنی حیلہ سے کسی شخص کو اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں۔ اگر اس چال سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو یہ محمود ہے ورنہ مذموم۔ جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو ہمیشہ اول الذکر معنی میں آتا ہے جیسے قرآن میں آیا ہے واللہ خیر الماکرین (3:54) اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ اذا لہم مکر فی ایتنا۔ تو فوراً ہماری آیات میں مکرو فریب کرنے لگ پڑتے ہیں یعنی ان کی الٹ تاویلیں کرنی شروع کردیتے ہیں۔ (یعنی بجائے اس کے کہ تکلیف سے خلاصی اور نعمت و رحمت کی نوازش کو اللہ تعالیٰ سے منسوب کریں وہ حیلہ بہانہ سے اسے یا تو اپنے بتوں کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں یا ستاروں کی گردش پر اسے محمول گردانتے ہیں) اسرع مکرا۔ ای اسرع مکرا منکم۔ وہ اپنی چال چلنے میں تم سے بہت تیز ہے۔ یعنی جب وہ تمہاری چالوں پر سزا دینے کو آجائے تو وہ تم سے بہت تیز تر ہے۔ رسلنا۔ ہمارے رسول۔ ہمارے فرستادہ۔ یعنی فرشتے۔ کراماً کاتبین۔ ماتمکرون۔ جو فریب تم کر رہے ہو۔ جو چالین تم چل رہے ہو۔
Ayah 10:22

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے ہو اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں سے) سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کر کے اس سے دعا مانگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں۔

(10:22) یسیرکم۔ مضارع واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو سیر کراتا ہے۔ تم کو لئے پھرتا ہے۔ تسیر (تفعیل) مصدر۔ الفلک۔ کشتی۔ جہاز۔ یہ لفظ مؤنث ۔ مزکر ۔ واحد ۔ جمع سب کے لئے آتا ہے ۔ یہاں جمع کے لئے آیا ہے۔ جرین۔ ماضی جمع مؤنث غائب۔ جری یجری (ضرب) جری سے۔ وہ چلیں ۔ وہ جاری ہوئیں۔ وہ رواں ہوئیں۔ بھم۔ ان کو لے کر۔ بریح میں ب سببیہ ہے۔ ریح طیبہ کی وجہ سے۔ یعنی موافق ہوا کی وجہ سے۔ ریح عاصف کی ضد ہے۔ فرحوا بھا۔ وہ اس موافق ہوا کی وجہ سے شادان وفرحاں ہیں۔ ریح عاصف۔ باد تند ۔ آندھی۔ عاصف عصف یعصف (ضرب) سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ عصفت الریح۔ ہوا تیز چلی۔ عصف الرجل آدمی تیز دوڑا۔ احیط بہم۔ ان کو گھیر لیا گیا ہے۔ احیط۔ احاط یحیط سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ مخلصین لہ الدین۔ خالصۃ۔ اسی کی اطاعت کرتے ہوئے۔ اطاعت و عبادت میں خالصۃ اسی کے بن کر۔ بلاشرکت غیرے اسی کی اطاعت میں ہوکر۔ یہاں پہلے مخاطب کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ پھر وجرین بھم سے لے کر اگلی آیت تک غیب کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ خطاب سے غیبت کی طرف انتقال اظہار ناراضگی اور بعد کے لئے ہے۔ انجیتنا۔ تو ہمیں بچالے۔ تو ہمیں نجات بخشے۔ تو ہمیں چھٹکارا دلادے انجی ینجی انجاء (افعال) رہائی دلانا۔ بجات دلانا من ھذہ ای من ھذہ الاحوال۔ من ھذہ الریح العاصف۔ ان مصائب وشدائد سے۔ اس باد تند (طوفان) سے۔
Ayah 10:23

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں لوگو ! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا۔ (تم) دنیا کی زندگی کے فائدے (اُٹھالو) پھر تم کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

(10:23) انجھم۔ اس نے ان کو نجات دلائی۔ اس نے ان کو بچا لیا۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ اذا۔ یہاں اور آیہ (21) اذا لہم مکر۔ میں بطور حرف مفاجاۃ استعمال ہوا ہے۔ تو ۔ لو۔ اچانک (اچانک اپنا رویہ بدل کر دوسرا رخ اختیار کرلیتے ہیں) اس کو اذا الفجائیہ بھی کہتے ہیں خرجت فاذا اسد بالباب۔ میں نکلا تو اچانک دروازہ پر شیر تھا۔ یبغون۔ بغی یبغی بغی (باب ضرب) زیادتی کرنے لگتے ہیں۔ سرکشی کرنے لگتے ہیں بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ اصل میں یبغیون تھا۔ ی کی حرکت ماقبل کو دی۔ ی اجتماع ساکنین سے گرگیا۔ اسی باب سے چاہنا اور طلب کرنے کے معنی بھی آتے ہیں۔ بغی کا تعلق فعل محمود اور فعل مذموم دونوں سے ہے۔ محمود اس طرح کہ عدل سے بڑھ کر احسان کرنا۔ مثلاً مزدور کو زیادہ مزدوری دینا۔ اور مذموم اس طرح کہ حق سے تجاوز کرکے باطل کو اختیار کرنا۔ قرآن میں پانچ معانی میں استعمال ہوا ہے۔ ظلم۔ گناہ۔ حسد۔ زنا۔ طلب و تلاش۔ انما بغیکم علی انفسکم۔ تحقیق تمہاری سرکشی کا (وبال) تمہیں پر پڑے گا۔ تمہاری سرکشی تمہارے اپنے ہی خلاف جائے گی ننبئکم۔ مضارع جمع متکلم۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم آگاہ کریں گے۔ ہم تم کو جتلا دیں گے یعنی جتلانے کے بعد سزا دیں گے۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگی کی مثال مینہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی۔ اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں۔ ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لئے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں

(10:24) اختلط۔ اختلاط سے (باب افتعال) وہ مل گیا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ بہ ای بالماء (بارش کے) پانی کے ساتھ۔ نبات الارض۔ زمین کا سبزہ۔ اگنے والی ہر چیز۔ نبت ینبت (نصر) اگنا۔ اگانا۔ فاختلط بہ نبات الارض مما یا کل الناس والانعام۔ زمین سے اگنے والا سبزہ جس میں سے بعض کو انسان اور چوپائے کھاتے ہیں بارش کے پانی سے مل گیا۔ (اور بکثرت اگ آیا) ۔ زخرف۔ ملمع۔ سنہری۔ سونا۔ آراستہ۔ زینت۔ کسی شے کے کمال حسن کو زخرف کہتے ہیں ۔ لیکن جب اس کا استعمال قول کے لئے ہو تو جھوٹ سے آراستہ اور ملمع سازی کی باتیں کرنے کے معنی ہوں گے۔ جیسے قرآن میں آیا ہے۔ زخرف القول غرورا (6:112) ملمع کی باتیں ۔ فریب کی باتیں۔ اخذت الارض زخرفھا۔ وازینت زمین اپنے ہرے بھرے زیوروں سے آراستہ ہوئی۔ ازینت۔ اصل میں باب تفعل سے تزینت تھا۔ تاکوزائیں مدغم کیا۔ راء ساکن ہوگئی اس نے قبل ہمزہ وصل لایا گیا۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ تزین زینت پانا۔ آراستہ ہونا۔ ازینت وہ (زمین انواع و اقسام کی بناتات سے) آراستہ و پیراستہ ہوگئی۔ مزین ہوگئی۔ اہلہا۔ اہل زمین ۔ زمین کے باسی۔ انھم قادرون علیہا۔ کہ وہ اس پر قادر ہیں۔ قدرت و قبضہ رکھتے ہیں۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الارض کی طرف راجع ہے۔ مراد اس سے وہ نباتات جو اس پر اگی ہوئی ہے ۔ یعنی اہل زمین خیال کرنے لگے کہ یہ زمین اور اس پر ہمہ نوع نباتات ان کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اتاھا امرنا۔ اذا کا جواب ہے۔ یعنی جب زمین اپنے جوبن پر آگئی۔ اور اہل زمین اس پر اپنا مکمل قبضہ خیال کرکے اترانے لگے تو اچانک ہمارا حکم آپہنچا عذاب کی صورت میں ۔ لیلا او نھارا۔ رات کے وقت یا دن کے وقت۔ اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہے کہ ہمارے حکم کو وقوع پذیر ہونے میں کوئی امر مانع نہیں ہوسکتا۔ خواہ دن ہو یا رات اور وہ سب جاگ رہے ہوں یا سب سو رہے ہوں۔ فجعلناھا۔ میں ھا ضمیر الارض کی طرف راجع ہے لیکن اس سے مراد زمین پر کی بناتات ہے جو اس کی آرائش و زیبائش کا باعث تھی۔ جعلناھا۔ بنا ڈالا ہم نے اس کو۔ حصیدا۔ حصد یحصد ویحصد (باب ضرب و نصر) حصار وحصاد فصل کا ٹنا حصید بروزن فعیل۔ مفعول ۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جڑ سے کٹی ہوئی کھیتی۔ لم تغن۔ تغن اصل میں تغی تھا۔ لم کی وجہ سے آخر سے حرف علت ساقط ہوگیا۔ مضارع نفی بلم صیغہ واحد مؤنث غائب مضارع منفی بمعنی ماضی منفی۔ غنی یغنی (باب سمع) غنی بالمکان۔ کسی جگہ ٹھہرنا ۔ بسنا۔ رہنا۔ کان لم تغن بالامس۔ گویا وہ کل یہاں تھی ہی نہیں۔ امس کل گزشتہ۔ کان۔ جیسے کہ۔ گویا کہ۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور خدا سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔

(10:25) دارالسلام۔ سلامتی کا گھر۔ یعنی جنت۔
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جن لوگوں نے نیکو کاری کی انکے لئے بھلائی ہے اور (مزید برآں) اور بھی اور انکے مونہوں پر نہ تو سیاہی چھائے گی اور نہ رسوائی۔ یہی جنتی ہیں کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

(10:26) احسنوا۔ انہوں نے بھلائی کی۔ انہوں نے احسان کیا۔ احسان سے ماضی جمع مذکر غائب۔ یعنی جس کام کے کرنے کا حکم تھا اس کو بجالائے۔ اور جس سے منع کیا گیا اس سے باز رہے۔ حضور رسول اکرم ﷺ نے احسان کی تعریف یہ کی ہے : ان تعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک۔ کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے جیسا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اسے نہیں دیکھ سکتا تو اس طرح کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے الحسنی۔ حسن سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث۔ اچھی۔ عمدہ نیک جزاء ای المنزلۃ الحسنی۔ یعنی جنت۔ وزیادۃ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ یعنی دیدار الٰہی۔ لایرھق مضارع منفی واحد مذکر غائب رھق مصدر (باب سمع) نہیں چھائے گا۔ رھق چھا جانا۔ پالینا۔ ایک شے کا دوسری شے پر زبردستی چھا جانا۔ قتر۔ غبار (الفرائد الدریۃ) فتروقتار کے اصل معنی لکڑی کا اٹھتا ہوا دھواں ہے۔ کنجوس آدمی بھی مال دینے کی بجائے گویا دھواں دے کر بہلاتا ہے۔ یہاں مراد سیاہی سے ہے (المفردات) کنجوسی، بخیلی، اسراف کی ضد ہے۔ یہاں غبار ہی زیادہ موزوں ہے (رسوائی و ذلت کا ) غبار۔ (ضیاء القرآن) ولا یرھق وجوہہم قتر ولاذلۃ۔ اور ان کے چہروں پر نہ رسوائی کا غبار چھایا ہوگا اور نہ ذلت کا (اثر ہوگا) ۔
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے تو برائی کا بدلہ ویسا ہی ہوگا۔ اور ان کے مونہوں پر ذلّت چھا جائے گی اور کوئی انکو خدا سے بچانے والا نہ ہوگا۔ ان کے مونہوں (کی سیاہی کا یہ عالم ہوگا کہ ان) پر گویا اندھیری رات کے ٹکڑے اوڑھا دئیے گئے ہیں۔ یہی دوزخی ہیں کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

(10:27) والذین کسبوا السیئات۔ اس کا عطف للذین احسنوا پر ہے۔ ای وللذین کسبوا السیئات۔ اور سیئات سے مراد برائیاں از قسم کفر و شرک۔ جزائ۔ یہاں بمعنی سزا کے ہے۔ یا بمعنی بدلہ۔ بمثلہا۔ باء زائدہ ہے۔ یا متعلقہ بجزاء ہے۔ جزاء سییۃ بمثلہا۔ برائی کی سزا اس برائی جیسی ہی ہوگی۔ یعنی یہ لوگ جیسا کریں گے ویسا بھریں گے یہاں اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کریں گے اور برائی کا بدلہ اس سے زیادہ نہیں بلکہ اس کے برابر ہی دیں گے بخلاف اپنی اس کرم نوازی کے جو احسان کرنے والوں پر فرمائی تھی وہاں نیکی بدلہ الحسنیٰ سے دے کر فرمایا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ عاصم۔ بچانے والا۔ حفاظت کرنے والا۔ روکنے والا۔ عصمۃ سے جس کے معنی حفاظت کرنے اور روکنے کے ہیں۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ مالہم من اللہ من عاصم ای لا یعصمہم احد من عقابہ۔ کوئی ان کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکے گا۔ کانما۔ کان حرف مشبہ بالفعل ما زائدہ ۔ ماکے آنے سے کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ البتہ کان کا لفظی تصرف باطل ہوجاتا ہے اس وقت یہ اپنے مابعد کو نہ منصوب کرسکتا ہے نہ مرفوع۔ گویا کہ ۔ اغشیت۔ اغشاء (افعال) سے ماضی مجہول۔ واحد مؤنث غائب۔ وہ ڈھانک دی گئی۔ (ان کے چہرے ڈھانک دئیے گئے ہیں) ۔ قطعا۔ قطعۃ کی جمع ۔ ٹکڑے ۔ من اللیل۔ قطعا کا بیان ہے۔ مظلما۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اظلام (افعال) مصدر۔ تاریکی میں پڑا ہوا۔ تاریک۔ ظلمۃ اندھیرا ظلمت جمع۔ مظلما۔ الیل سے حال ہے۔ کانما اغشیت وجوہہم قطعا من اللیل مظلما۔ ترجمہ ہوگا : گویا کہ ان کے چہرے ڈھانپ دئیے گئے ہیں تاریک رات کے ٹکڑوں سے۔ صاحب تفسیر مظہری نے ترجمہ کیا ہے :۔ ایسا معلوم ہوگا کہ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت پرت لپیٹ دئیے گئے ہیں۔
Ayah 10:28

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ تو ہم ان میں تفرقہ ڈال دیں گے اور انکے شریک (ان سے) کہیں گے کہ تم ہم کو تو نہیں پوجا کرتے تھے۔

(10:28) مکانکم۔ ای الزموا مکانکم ولا تبرحوا۔ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہر جاؤ۔ اپنی اپنی جگہ کو مت چھوڑو۔ اپنی اپنی جگہ پر قائم رہو۔ زیلنا۔ زیل یزیل تزییل (تفعیل) متفرق اور پراگندہ کرنا۔ زیلنا۔ ماضی جمع متکلم۔ ہم نے جدا کردیا۔ ہم نے تفریق کردی۔ فزیلنا بینہم پھر ہم ان کے باہمی تعلقات منقطع کردیں گے۔ ماضی بمعنی مضارع زیل مادہ۔ ما کنتم ایان تعبدون ۔ ما نافیہ ہے۔ تم ہماری تو عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔
Ayah 10:29

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

ہمارے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ ہم تمہاری پرستش سے بالکل بیخبر تھے۔

(10:29) ان۔ ان سے مخفف ہے اور لغافلین میں لام ان مخففہ اور نافیہ میں فرق کے لئے آیا ہے۔
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

وہاں ہر شخص (اپنے اعمال کی) جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے آزمائش کرلے گا اور وہ اپنے سچے مالک کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ وہ بہتان باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

(10:30) ھنالک۔ تب ۔ ظرف مکان ہے مجازا ! یہاں بطور ظرف زمان استعمال ہوا ہے بطور ظرف مکان مطلب ہوگا۔ وہاں ۔ میدان حشر میں۔ تبلوا۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ بلاء سے۔ ہر جان آزمالے گی۔ جان لیگی۔ خبر پالے گی۔ بلو مادہ۔ ما اسلفت۔ یعنی جو اعمال اس نے آگے بھیجے تھے۔ اسلفت ماضی واحد مؤنث غائب وہ پہلے کرچکی۔ اس نے آگے بھیجا۔ ردوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ ماضٰ بمعنی مضارع۔ وہ لوٹائے جائیں گے۔ وہ واپس لائے جائیں گے۔ اس کا عطف زیلنا پر ہے۔ اور ضمیر جمع مذکر غائب الذین اشرکوا کے لئے ہے۔ ضل عن۔ ذھب عن۔ چھوڑ جائیں گے۔ ان سے کھو جائیں گے۔ ما کانوا یفترون۔ جو انہوں نے من گھڑت خود ساختہ (معبود) بنا رکھے تھے۔ یا جو افترائ۔ وہ باندھا کرتے تھے ۔ وہ ان سے گم ہوجائیگا۔ وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے۔ گم ہوجائیں گے۔
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ تم کو آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے ؟ یا (تمہارے) کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ اور بےجان سے جاندار کون پیدا کرتا ہے ؟ اور جاندار سے بےجان کون پیدا کرتا ہے ؟ اور (دنیا کے) کاموں کا انتظام کون کرتا ہے ؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ خدا تو کہو کہ پھر تم (خدا سے) ڈرتے کیوں نہیں ؟

(10:31) امن۔ ام من۔ یاکون۔ بھلا کون۔ السمع والبصار۔ سمع سے مراد قوت سماعت بھی ہے اور کان بھی اسی طرح ابصار سے مراد بینائی بھی ہے اور آنکھیں بھی۔ ابصار بصر کی جمع ہے۔ یدبر الامر۔ کارخانہ ہستی کے جملہ امور کا انتظام و انصرام کرتا ہے۔ دبر یدبر تدبیر (تفعیل) تدبیر کرنا۔ چلانے کا انتظام کرنا افلا تتقون۔ الھمزہ للانکار الواقع۔ ہمزہ انکار واقع کے لئے ہے۔حرف عطف ہے اور عبارت محذوف پر دلالت کرتا ہے ۔ یعنی اذا اعترفتم بربوبیتہ جب تم اس کو ربوبیت کا اعتراف کرتے ہو تو کیوں نہیں تقویٰ اختیار کرتے۔ تقویٰ کے معنی ڈرنا یا بچنا کے ہیں۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب ہوگا۔ افلا تتقون عذابہ پھر اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے۔ دوسری صورت میں اس کا مطلب ہوگا : افلا تتقون الشرک فی العبودیۃ۔ تو پھر اس کی عبادت میں شرک کرنے سے کیوں نہیں بچتے۔
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

یہی خدا تو تمہارا پروردگار برحق ہے اور حق بات کے ظاہر ہونے کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا ؟ تو تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟

(10:32) الحق۔ ربکم کی صفت ہے۔ ماذا۔ ما استفہامیہ ہے اور ذا بمعنی الذی۔ یعنی کیا ہے۔ کون ہے۔ فما ذو بعد الحق الا الضلال۔ کیا ہے حق کے بعد سوائے گمراہی کے۔ فانی تصرفون۔ انی اسم ظرف ہے۔ (1) جب ظرف زمان ہو تو بمعنی متی۔ جب ۔ جس وقت۔ (2) اگر ظرف مکان ہو تو بمعنی این۔ جہاں۔ کہاں۔ ہوتا ہے۔ (3) اگر استفہامیہ ہو تو بمعنی کیف۔ کیسے۔ کیونکر۔ ہوتا ہے۔ آیت ہذا میں 2 اور 3 ہر دو معنی ہوسکتے ہیں۔ یعنی تم کدھر بھٹکائے جا رہے ہو۔ یا تم کیسے بھٹکائے جا رہے ہو۔ تصرفون۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے تم پھیرے جاتے ہو۔ تمہیں پھیر دیا جا ریا ہے۔ صرف۔ سے بمعنی پھرنا۔ اس سے تصریف پھیرنا۔ بدلنا۔ (باب تفعیل سے) ۔
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح خدا کا ارشاد ان نافرمانوں کے حق میں ثابت ہو کر رہا۔ کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

(10:33) کذلک۔ اسی طرح۔ فسقوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ انہوں نے فسق کیا۔ انہوں نے نافرمانی کی۔ وہ حدود شریعت سے نکل گئے۔ یعنی جس طرح یہ ثابت ہوگیا کہ حق نہ ہوگا تو نتیجۃً گمراہی ہوگی۔ اسی طرح تیرے رب کا فرمان فاسقوں کے بارے میں پورا ہو رہیگا کہ یہ چونکہ حدود شریعت سے نکل گئے ہیں لہٰذا اب یہ ایمان لانے سے رہے۔ یعنی اب یہ ایمان نہیں لائیں گے۔ انھم لا یؤمنون۔ بدل ہے الکلمۃ کا۔
Ayah 10:34

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کوئی ایسا ہے کہ مخلوقات کو ابتداًء پیدا کرے (اور) پھر اس کو دوبارہ بنائے۔ کہہ دو کہ خدا ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے۔ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا تو تم کہاں اک سے جا رہے ہو ؟

(10:34) ہل من شرکائکم ہے کوئی تمہارے خود ساختہ معبودوں میں سے ؟ من یبدؤ الخلق جو ابتدائی تخلیق کرے۔ ثم یعیدہ۔ پھر (فنا کے بعد) اس کا اعادہ کرے۔ یعنی دوبارہ پیدا کر دے۔ یہ سوال استفہام انکاری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ معبود ن باطل میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کرسکتا۔ تؤفکون مجارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ افک یافک (ضرب) افک یافک (سمع) جھوٹبولنا۔ افکم عن رابہ۔ کسی کو اپنی رائے سے پھیر دینا۔ افک کے اصلی معنی کسی شے کا اس کی اصلی جانب سے منہ پھیرنا ہے۔ پس جو بات اپنی اصلی صورت سے پھر گئی اس کو افک کہیں گے۔ جھوٹ اور بہتان میں چونکہ یہ صفت بدرجہ اتم موجود ہے اس لئے ان کو افک کہا گیا ہے۔ تؤفکون۔ تم کدھر پھیرے جا رہے ہو۔ یہاں اعتقاد میں حق سے باطل کی طرف ۔ قول میں راستی سے دورغ گوئی کی طرف۔ اور فعل میں نکوکاری کی طرف پھیرا جانا مراد ہے۔
Ayah 10:35

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

پوچھو کہ بھلا تمہارے شریکوں میں کون ایسا ہے کہ حق کا راستہ دکھائے ؟ کہہ دو کہ خدا ہی حق کا راستہ دکھاتا ہے بھلا جو حق کا راستہ دکھائے وہ اس قابل ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ کہ جب تک کوئی اسے راستہ نہ بتائے راستہ نہ پائے ؟ تو تم کو کیا ہوا ہے کیسا انصاف کرتے ہو ؟

(10:35) لایھدی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب اصل میں یھتدی تھا ۔ بمعنی وہ ہدایت نہیں پاتا ہے۔ وہ راہ نہیں پاتا ہے۔ یھدی۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب اس کو ہدایت کی جائے ۔ اس کی رہنمائی کی جائے۔ لایھدی الا ان یھدی۔ جو ازخود راہ نہ پائے مگر یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ الھدی سے یہاں مراد نقل و حرکت ہے چناچہ جب کسی عورت کی ڈولی اپنے خاوند کے گھر جاتی ہے تو کہتے ہیں اھدیت المرأۃ الی زوجھا ھدی۔ اسی طرح قربانی کو جو حرم کی طرف لے جائی جاتی ہے الھدی کہتے ہیں۔ اور تحفہ کو ہدیہ اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ ایک آدمی سے دوسرے آدمی کے پاس منتقل ہوتا ہے۔ اسی طرح جو آدمی دوسرے دو آدمیوں کے درمیان ان کے سہارے چلتا ہو۔ اس کے متعلق کہتے ہیں۔ فلان یھادی بین اثنین۔ پس جب ثابت ہوگیا کہ الھدی کے معنی نقل و حرکت کے ہیں۔ تو اس آیۃ کے معنی یہ ہوئے کہ جو خود بخود ایک جگہ سے دوسری جگہ نہیں جاسکتا ۔ سوائے اس کے کہ اسے اٹھا کر وہاں لیجایا جائے۔ فما لکم۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے۔ کیف تحکمون۔ کیسے فیصلے کرتے ہو۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ حکم۔ تم حکم کرتے ہو۔ تم فیصلہ کرتے ہو۔
Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں۔ اور کچھ شک نہیں کہ ظن حق کے مقابلے میں کچھ بھی کارآمد نہیں ہوسکتا۔ بیشک خدا تمہارے (سب) اعمال سے واقف ہے۔

(10:36) لا یغنی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب اغنی یغنی اغناء (افعال) فائدہ نہیں دیگا بےنیاز نہیں کرے گا۔ اغنی من۔ کسی چیز سے بےنیاز کرنا۔ اس کا قائم مقام ہوکر اس کی ضرورت پوری کرنا ۔
Ayah 10:37

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ خدا کے سوا کوئی اس کو اپنی طرف سے بنا لائے۔ ہاں (یہ خدا کا کلام ہے) جو (کتابیں) اس سے پہلے (کی) ہیں انکی تصدیق کرتا ہے اور انہی کتابوں کی (اس میں) تفصیل ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں (کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے (نازل ہوا) ہے۔

(10:37) ما کان ھذا القرآن ان یفتری من دون اللہ۔ اسکی تقدیر یوں ہے ما کان ھذا القران لان یفتری من دون اللہ۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے وما کان المؤمنون لیتفروا کافۃ (9:122) ایسا نہیں ہوسکتا کہ مومن نکل کھڑے ہوں سارے کے سارے اس آیت کا مطلب ہوگا کہ یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اور بنا سکے۔ افتراء بمعنی اختلاق۔ گھڑنا۔ یعنی کسی اور کا خود ساختہ ہو۔ کان فعل ناقص۔ ھذا اسم کان۔ القرآن تعریف اسم۔ ان بفتری خبر اول کان من دون اللہ خبر ثانی۔ ولکن تصدیق الذی بین یدیہ۔ تصدیق۔ کا نصب دودرجہ سے ہوسکتا ہے :۔ (1) کہ اس سے قبل کان مقدر ہے اور یہ اس کی خبر ہے ۔ یا (2) اس سے قبل فعل انزلہ محذوف ہے اور یہ فعل محذوف کی علت ہے۔ یدیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القران ہے۔ تفصیل الکتب۔ تفصیل کا نصب بھی مثل تصدیق کے ہے۔ الکتب سے مراد وہ اصولی تعلیمات۔ حقائق و شرائع جو تمام کتب آسمانی کا لب لباب ہیں۔ لاریب فیہ۔ یعنی اس کے من رب العلمین ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس کو اپنی طرف سے بنالیا ہے ؟ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تم بھی اس طرح کی ایک سورت بنا لاؤ اور خدا کے سوا جن کو تم بلا سکو بلا بھی لو۔

(10:38) ام ۔ کیا۔ استفہام انکاری ہے۔ قل فاتوا۔ ای قل ان کان الامر کما تقولون فاتوا ۔۔ الخ یعنی اے محمد ﷺ ان سے کہو کہ اگر حقیقت الامر وہی ہے جو تو لے آؤ۔
Ayahs 10:39–40

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

حقیقت یہ ہے کہ جس چیز کے علم پر یہ قابو نہیں پاسکے اس کو (نادانی سے) جھٹلا دیا اور ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی ہی نہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے تکذیب کی تھی سو دیکھ لو کہ ظالموں کا کیسا انجام ہوا ؟

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ اس پر ایمان لے آتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ اور تمہارا پروردگار شریروں سے خوب واقف ہے۔

(10:39) بل۔ بلکہ (ملاحظہ ہو 2:135) آیۃ ہذا میں اس کا استعمال ماقبل کے ابطال کے لئے ہے کہ ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ یہ کلام من گھڑت اور خود ساختہ ہے (ام یقولون افترہ) اور مابعد کے اثبات کے لئے کہ (حقیقت یہ ہے) وہ اس کلام کو پوری طرح سمجھ نہیں پائے اور نہ ہی اس کلام کا انجام (جس کی وہ خبر دیتا ہے) ابھی تک ان کے سامنے آیا ہے۔ کذبوا بما لم یحیطوا بعلم۔ کذبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب انہوں نے جھٹلایا (باب تفعیل) ب تعدیہ کے لئے ہے اس صورت میں مطلب ہوگا۔ کذبوا ب انہوں نے جھٹلایا اور اس سے اگلا جملہ مالم یحیطوا بعلم مفعول ہوگا۔ انہوں نے جھٹلایا (اس کلام کو) جس کے علم کو وہ احاطہ ادراک میں نہ لاسکے (ہ ضمیر القرآن کے لئے ہے) ما موصولہ ہے لم یحیطوا مضارع نفی جحد بلم بمعنی ماضی۔ انہوں نے احاطہ نہ کیا۔ وہ حاوی نہ ہوئے۔ انہوں نے پوری طرح نہ جانا۔ علمہ مضاف ۔ مضاف الیہ۔ اس کے علم کو (یعنی قرآن حکیم کے جملہ علوم کو) یعنی اس چیز (قرآن حکیم) کو جسے وہ پوری طرح نہ جان سکے۔ انہوں نے جھٹلادیا۔ اس کا انکار کردیا۔ یا انہوں نے تکذیب کی اس چیز کی جس کے معارف پر وہ مکمل آگہی ھاصل نہ کرسکے۔ لما۔ حرف نفی۔ لما سے جس نفی کا حصول ہوتا ہے وہ زمانہ حال تک ممتد۔ مسلسل ہوتی ہے۔ (ابھی تک نہیں) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (2:214) ۔ تاویلہ۔ تاویل (تفعیل) اول سے مشتق ہے جس کا معنی کسی چیز کا اپنی اصل کی طرف رجوع کرنے کے ہیں۔ اور جس مقام کی طرف کوئی چیز لوٹ کر آئے اسے موئل کہتے ہیں (یعنی جائے باز گشت) کہا جاتا ہے۔ لوٹ آنے کی جگہ۔ جائے پناہ۔ بل لہم موعد لن یجدوا من دونہ موئلا (18:58) بلکہ ان کے لئے ایک مقررہ وقت ہے بدوں جس کے وہ کوئی پناہ گاہ نہ پائیں گے۔ پس تاویل کسی چیز کو اس کی غایت کی طرف لوٹانا کے ہیں جو اس سے بلحاظ علم یا عمل کے مقصود ہوتی ہے۔ چناچہ غایت علمی کے متعلق فرمایا۔ وما یعلم تاویلہ الا اللہ (3:6) حالانکہ اس کی مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ غایت عمل کے متعلق ہے ہل ینظرون الا تاویلہ یوم یاتی تاویلہ (7:53) کیا اب صرف وہ اس کی تاویل یعنی وعدہ عذاب کے انجام کار کا انتظار کر رہے ہیں جس دن اس وعدہ عذاب کے نتائج سامنے آجائیں گے۔ یعنی اس دن سے جو غایت مقصود ہے وہ عملی طور پر ان کے سامنے ظاہر ہوجائے گی۔ آیۃ ہذا میں اسی عملی غایت کی طرف اشارہ ہے یعنی ابھی تک وہ اجر و ثواب یا سزا و عذاب جس کا ذکر قرآن حکیم میں ہوا ہے پردہ غیب میں مستور ہے اور ابھی تک اس کا وقوع نہیں ہوا۔ اور ترجمہ آیت ہذا کا ہوگا جس کی حقیقت یا انجام کار ابھی تک ان پر ظاہر بھی نہیں ہوا۔