10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الف لا ... م را یہ آیتیں ہیں کتاب حکمت والی کی

الر حروف مقطعات سے ہے : 1: الف ۔ لا ۔۔۔۔ م را۔۔۔۔ حروف مقطعات کے متعلق پوری تفصیل اس سے پہلے عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ 2 کی آیت اول میں کردی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ مخاطب کو متنبہ اور آگاہ کرنے کے لئے ہر زبان میں ایک آواز نکالی جاتی ہے اور یہ بھی کہ اگر مخاطب کچھ فاضلہ پر ہو یا بات زیادہ ہی اہم ہو تو آواز میں شدت اور زور کے ساتھ ساتھ کچھ لمبی آواز نکالنا بھی فطری بات ہے۔ بس اس طرح کے یہ حروف ہیں جن کو کہنے والا بھی سمجھتا ہے اور سننے والا بھی۔ بلاشبہ علماء مفسرین نے ان کے مختلف معانی بیان کئے ہیں اور بہت طویل بحثیں بھی کی ہیں لیکن چونکہ یہ سب کی سب ذہنی اختراعات ہیں ، کتاب و سنت کی روشنی ان کا ساتھ نہیں دیتی اس لئے ہم ان سے صرف نظر کرتے ہیں۔ ” تِلْكَ “ سے اشارہ اس سورت کی آیات کریمات کی طرف ہی ہو سکتا ہے جن کا ذکر آگے شروع کیا جا رہا ہے اور ” الْكِتٰبِ “ سے مراد قرآن کریم ہے اور ” الْحَكِیْمِ “ اس کی صفت ہے جو اس جگہ بیان کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ” یہ کتاب حکمت والی ہے “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکیم محکم کے معنی میں ہے یعنی یہ کتاب ایسی کتاب ہے جو اپنے الفاظ اور معانی میں پختہ اور سچی ہے اور اسی طرح معانی ، علوم و احکام ، اخبار و قصص حتیٰ کہ ہر لحاظ سے اور ہر اعتبار سے درست اور صحیح ہے۔ یہ سب باتیں کلام الٰہی کے متعلق سچ ہیں اور ان میں کوئی اختلاف بھی نہیں۔ اس جگہ اس کتاب الٰہی کی یہ خاص صفت کیوں ذکر کی گئی ؟ اس لئے کہ یہ سورة بھی سورة الانعام کی طرح مشرکین عرب کو مخاطب کر رہی ہے اور اس کے مواعظ کا مرکز دین حق کے مبادی و اساسات ہیں جن کو اصول دین بھی کہا جاتا ہے یعنی توحید ، وحی ، نبوت اور آخرت کی زندگی اور ظاہر ہے کہ مخاطب جتنا اکھڑ ہو بات کرنے والے کو اتنا ہی زیادہ محتاط ہو کر بات کرنا پڑتی ہے اور اس چیز کا نام حکمت ہے۔ سلسلہ بیان منکرین وحی کے ذکر سے شروع ہوا ہے کیونکہ ہدایت اسلام کی سب سے پہلی کڑی یہی ہے اور اس کے اعتقاد پر اور تمام باتوں کا اعتقاد موقوف ہے اور کوئی عمل اس وقت ہی درست ہو سکتا ہے جب اس کے متعلق اعتقاد درست ہو۔ اگر حروف مقطعات سے ہے 1 ؎ الف۔ لا ۔۔۔۔۔ م را ۔۔۔ حرہوف مقطعات کے متعلق پوری تفصیل اس سے پہلے عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ 2 کی آیت اول میں کردی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں ۔ مخاطب کو متنبہ اور آگاہ کرنے کیلئے ہر زبان میں ایک آواز نکالی جاتی ہے اور یہ بھی کہ اگر مخاطب کچھ فاصلہ پر ہو یا بات زیادہ ہی اہم ہو تو آواز میں شدت اور زور کے ساتھ ساتھ کچھ لمبی آواز نکالنا بھی فطری بات ہے ۔ بس اس طرح کے یہ حروف ہیں جن کو کہنے والا بھی سمجھتا ہے اور سننے والا بھی ۔ بلا شبہ علماء مفسرین نے ان کے مختلف معانی بیان کئے ہیں اور بہت طویل بحثیں بھی کی ہیں لیکن چونکہ یہ سب کی سب ذہنی اختراعات ہیں ، کتاب و سنت کی روشنی ان کا ساتھ نہیں دیتی اس لئے ہم ان سے صرف نظر کرتے ہیں۔ ” تلک “ سے اشارہ اس سورت کی آیات کریمات کی طرف ہی ہو سکتا ہے جن کا ذکر آگے شروع کیا جا رہا ہے اور ” کتاب “ سے مراد قرآن کریم ہے اور ” حکیم “ اس کی صفت ہے جو اس جگہ بیان کی گئی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ’ ’ یہ کتاب حکمت والی ہے “ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکیم محکم کے معنی میں ہے یعنی یہ کتاب ایسی کتاب ہے جو اپنے الفاظ اور معانی میں پختہ اور سچی ہے اور اسی طرح معانی ، علوم و احکام ، اخبار و قصص حتیٰ کہ ہر لحاظ سے اور ہر اعتبار سے درست اور صحیح ہے ۔ یہ سب باتیں کلام الٰہی کے متعلق سچ ہیں اور ان میں کوئی اختلاف بھی نہیں ۔ اس جگہ اس کتاب الٰہی کی یہ خاص صفت کیوں ذکر کی گئی ؟ اس لئے کہ یہ سورة بھی سورة الانعام کی طرح مشرکین عرب کو مخاطب کر رہی ہے اور اس کے مواعظ کا مرکز دین حق کے مبادی و اساسات ہیں جن کو اصول دین بھی کہا جاتا ہے یعنی توحید ، وحی ، نبوت اور آخرت کی زندگی اور ظاہر ہے کہ مخاطب جتنا اکھڑ ہو بات کرنے والے کو اتنا ہی زیادہ محتاط ہو کر بات کرنا پڑتی ہے اور اس چیز کا نام حکمت ہے ۔ سلسلہ بیان منکرین وحی کے ذکر سے شروع ہوا ہے کیونکہ ہدایت اسلام کی سب سے پہلی کڑی یہی ہے اور اس کے اعتقاد پر اور تمام باتوں کا اعتقاد موقوف ہے اور کوئی عمل اس وقت ہی درست ہو سکتا ہے جب اس کے متعلق اعتقاد درست ہو۔
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو اس بات پر اچنبھا ہوا کہ انہیں میں سے ایک آدمی پر ہم نے وحی بھیجی ؟ اس بات کی وحی کہ لوگوں کو خبردار کر دے اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دے کہ پروردگار کے حضور ان کیلئے اچھا مقام ہے ؟ کافروں نے کہا بلاشبہ یہ شخص جادوگر ہے کھلا جادوگر

مشرکین یک ایک شبہ اور اعتراض کا صاف صاف جواب 2 ؎ مشرکین مکہ کا ایک شبہ یا اعتراض تھا کہ کوئی ” بشر “ رسول نہیں ہو سکتا اس لئے جس کو وہ ” بشر “ یعنی انسان دیکھتے تھے یا سنتے تھے اس کو رسول ماننے کیلئے تیار نہیں ہوتے تھے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد جتنے رسول آئے کسی ایک کی نبوت و رسالت کو بھی تسلیم نہ کیا ۔ ان کے خیال میں کوئی فرشتہ ہی رسول ہو سکتا تھا۔ چناچہ ان کے اس لغو خیال کا جواب قرآن کریم نے مختلف عنوانات سے دیا ہے اور ہر ممکن ان کی تفہیم کرانے کی پوری پوری کوشش کی ہے ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَائَ ہُمُ الْہُدٰٓی اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللہ ُ بَشَرًا رَّسُوْلًا قُلْ لَّوْ کَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآئِ مَلَکًا رَّسُوْلًا (بنی اسرائیل 17 : 94 ، 95) ” اور حقیقت یہ ہے کہ جب کبھی اللہ کی ہدایت ظاہر ہوئی تو صرف اس بات نے لوگوں کو ایمان لانے سے روکا کہ متعجب ہو کر کہنے لگے ” کیا اللہ نے ایک آدمی کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا ہے “ ۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے اگر ایسا ہوتا کہ زمین میں ( انسانوں کی جگہ) فرشتے بستے ہوتے اور اطمینان سے چلتے پھرتے تو ہم ضرور آسمان سے ایک فرشتہ پیغمبر بنا کر اتار دیتے “۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور اگر ہم کسی فرشتے کو پیغمبر کرتے تو اسے بھی انسان ہی بناتے اور جیسے کچھ شبہات یہ لوگ اب کر رہے ہیں ویسے ہی شبہوں میں اس وقت بھی انہیں ڈال دیتے “ ۔ ( سورة الانعام 6 : 9) کیونکہ دنیا میں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ فرشتے اتر کر انسانوں کے سامنے چلنے پھرنے لگیں ۔ یہاں اگر فرشتے بھی آئیں گے تو انسان ہی ہوں گے ۔ پھر ان لوگوں کا شبہ کیونکر دور ہوگا کیونکہ وہ دیکھنے میں تو ان ہی جیسا انسان ہوگا ۔ رہا فرشتہ تو وہ کوئی ایسا وجود تو نہیں رکھتا جس کو یہ لوگ دیکھ سکیں ۔ زیر نظر آیت میں اس مضمون کو ایک دوسرے اندازے سے سمجھانے کی کوشش کی گئی اور فرمایا گیا کہ کیا لوگوں کو اس بات پر اچنبھا ہوا کہ انہی میں سے ایک آدمی پر ہم نے وحی بھیجی ؟ اس بات کی وحی کہ لوگوں کو انکار و بد عملی کے نتائج سے خبر دار کر دے اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دے کہ پروردگار کے حضور ان کیلئے اچھا مقام ہے۔ اس وقت جن ” لوگوں کو بشر “ کے رسول ہونے پر تعجب تھا وہ کون تھے ؟ جواب بالکل واضح اور صاف ہے کہ وہ مشرک تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ اللہ کبھی کسی ” بشر “ کو رسول نہیں بناتا ۔ لیکن آج جن لوگوں کو تعجب ہے وہ کون ہوئے ؟ اس کا فیصلہ خود کرلو ۔ ہاں ! ہمیں یہ معلوم ہے کہ ایسا کہنے والے کہتے ضرور ہیں ۔ چنانچہ ایک جگہ تحریر ہے کہ : ” مسئلہ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو ” بشر ‘ ‘ کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے انکار کا پہلو رکھتا ہے ۔ اس لئے قرآن کریم میں جا بجا انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ” بشر “ کہنے والوں کو کافر فرمایا گیا ہے اور در حقیقت انبیاء (علیہ السلام) کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کفار کا دستور ہے “۔ ( القرآن الحکیم ترجمہ احمد رضا خاں تفسیر سید محمد نعیم الدین ص 5) ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ” رسول اللہ ﷺ کو ” بشر “ کہنا کفار کا مقولہ ہے۔ ( فتویٰ رضویہ ج 2 ص 143 ، مواعظ نعیمیہ ص 115) ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” فرشتے آپ ہی کے نور سے پیدا ہوئے ہیں ( صلوٰۃ الصفا مجموعہ رسائل ج 1 ص 37) ایک جگہ رقم طراز ہیں کہ جو آپ ﷺ کے نور ہونے کی کیفیت اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمائی اور نہ ہی سمجھ سکتے ہیں بغیر سچے سمجھے اس پر ایمان لانا فرض ہے “۔ ( من ہو احمد رضا ، شجاعت علی ص 39) لیکن اس تعجب پر مزید تعجب دیکھئے کہ ایک جگہ قرآن کریم کی تفسیر ( سورة الحج 22 : 75) میں فرماتے ہیں کہ : ” یہ آیت ان کفار کے رد میں نازل ہوئی جنہوں نے ” بشر “ کے رسول ہونے کا انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ ” بشر “ کیسے رسول ہو سکتا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اللہ مالک ہے جسے چاہے اپنا رسول بنائے وہ انسانوں سے بھی رسول بناتا ہے اور ملائکہ میں سے بھی جنہیں چاہے “۔ ( ترجمہ احمد رضا خاں تفسیر سید محمد نعیم الدین ص 493) مزید تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : فرشتوں میں سے رسول مثل جبریل (علیہ السلام) و میکائل (علیہ السلام) وغیرہ۔ آدمیوں میں سے رسول مثل حضرت ابراہیم و حضرت موسیٰ و حضرت عیسیٰ و حضرت سید عالم صلوٰۃ اللہ تعالیٰ علیہم وسلامہ ۔ اب دونوں عبارتوں کو ذرا قریب قریب کر کے دیکھ لو ایک ترجمہ کے ص 3 سے اور دوسری ترجمہ کے ص 493 سے : ارشاد اول : قرآن پاک میں جا بجا انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ” بشر “ کہنے والوں کو ” کافر “ فرمایا گیا ہے۔ ص 3۔ ارشاد دوم : یہ آیت ان ” کفار “ کے رد میں نازل ہوئی جنہوں نے ” بشر “ کے رسول ہونے کا انکار کیا تھا۔ (ص 493) ہم نے دونوں عبارتیں آپ کو قریب قریب کردی ہیں اس لئے کہ ہمارے عوام تو عوام خاص کا حافظہ بھی بڑا کمزور ہے ۔ اب غور و فکر کر کے یہ بتا دیں کہ کیا دونوں عبارتوں کا مطلب و مفہوم ایک ہی ہے یا الگ الگ ایک ہے تو کیسے ؟ اور الگ الگ ہے تو کیا ؟ اس جگہ سورة یونس کی آیت 2 میں کفار کے اس شبہ کا ازالہ کیا جا رہا ہے ۔ انہیں یہ بات سمجھ میں نہ آتی تھی کہ ایک ’ ’ بشر “ یعنی انسان کس طرح اللہ تعالیٰ کے اتنا قریب ہو سکتا ہے کہ وہ اسے وحی سے سرفراز فرما کر دوسرے انسانوں کی رہبری کیلئے متعین فرمائے ۔ جس انسان سے وہ متعارف تھے اور جس انسانیت کے وہ خود اعلیٰ نمائندہ تھے وہ تو اس سرفرازی کا قطعاً مستحق نہ تھا لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ ” انسان “ خالق کائنات کی تخلیق کا شاہکار ہے ۔ اس میں جو صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں اگر ان کو بروئے کار لایاجائے اور تقویٰ و اخلاص سے ان کی آبیاری کی جائے تو بارگاہ عزت میں جس مقام قرب کا یہ مستحق قرار پا سکتا ہے وہاں روح الامین کو بھی دم مارنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ مشرکین مکہ کے ایک تعجب کا جواب تو اس جگہ دیا گیا لیکن ان کو ایک تعجب اور بھی تھا جو اس پہلے تعجب کے بعد پیدا ہوا اور اس کا جواب بھی ان کو دیا گیا ۔ ان کا دوسرا تعجب اس طرح کا تھا کہ ” کہتے تھے ، یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہ نازل کیا گیا ؟ “ ( الزخرف 43 : 31) ان کے دونوں شہروں سے مراد مکہ اور طائف ہیں ۔ کفار و مشرکین کا کہنا یہ تھا کہ اگر واقعی اللہ کو کوئی رسول بھیجنا ہوتا اور وہ اس پر اپنی کتاب نازل کرنے کا ارادہ کرتا تو ہمارے ان مرکزی شہروں میں سے کسی بڑے آدمی کو اس غرض کیلئے منتخب کرتا ۔ رسول بنانے کیلئے اللہ کو ملا بھی تو وہ شخص جو بےباپ پیدا ہوا ، جس کے حصے میں کوئی میراث نہ آئی ، جس کا بچپن بکریاں چراتے گزر گیا اور جوانی آئی تو گزر اوقات کیلئے بیوی کے مال کو مال تجارت بنایا ، جو کسی قبیلے کا بڑا شیخ یا خانوادہ کا سربراہ نہیں ہے ۔ کیا مکہ میں ولید بن مغیرہ اور عتبہ بن ربیع جیسے نامی گرامی سردار موجود نہ تھے ؟ کیا طائف میں عروہ بن مسعود ، حبیب بن عمرو ، کنانہ بن عمرو اور ابن عبدیا لیل جیسے رئیس اعظم موجودہ نہ تھے ؟ کیا طائف میں عروہ بن مسعود ، حبیب بن عمرو ، کنانہ بن عمرو اور ابن عبد یا لیل جیسے رئیس اعظم موجود نہ تھے ؟ یہ تھا ان لوگوں کا استدلال ۔ پہلے تو وہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ کوئی بشر بھی رسول ہو سکتا ہے مگر جب قرآن کریم میں پے در پے دلائل دے کر ان کے اس خیال کا پوری طرح ابطلال کردیا گیا اور ان سے کہا گیا کہ اس سے پہلے ہمیشہ بشر ہی رسول بن کر آتے رہے ہیں اور انسانوں کو ہدایت کیلئے بشر ہی رسول ہو سکتا ہے نہ کہ غیر بشر اور جو رسول بھی دنا میں آئے ہیں وہ یکا یک آسمان سے نہیں اتر آئے تھے بلکہ انہی انسانی بستیوں میں پیدا ہوئے تھے ۔ بازاروں میں چلتے پھرتے تھے ، بال بچوں والے تھے اور کھاتے پیتے تھے تو اس وقت انہوں نے یہ دوسرا پینترا بدلا کہ اچھا بشر ہی رسول سہی مگر وہ کوئی ہونا چاہئے تھا جو مال دار اور با اثر ہوتا اور بڑے جتھے والا ہوتا ، لوگوں میں اس کی شخصیت کی دھاک بیٹھی ہوتی ، محمد بن عبد اللہ اس مرتبے کیلئے کیسے موزوں ہو سکتا ہے ؟ یہ کفار مکہ کا دوسرا اعتراض تھا جو سورة الزخرف میں بیان ہوا ہے اس کو آج کل ہماری زبان میں کہا جاتا ہے کہ چھوٹا منہ اور بڑی بات ۔ ان کے خیال میں کیا تھا ؟ یہی کہ رسول کا ہونا اور قرآن کریم کا اترنا ایک بہت بڑی بات ہے اور بڑی بات تو بڑے ہی لوگوں کی ہوتی ہے ۔ ان کے ذہن میں بڑے بڑے لوگوں کا تصور جو یہی تھا اسی کے پیش نظر ان کا اعتراض تھا لیکن تعجب ہے کہ آج بھی لوگوں کی سوچ کوئی مختلف نہیں بلکہ وہی جو اس وقت تھی ، فرق صرف یہ ہے کہ وہ یہ سوچ رکھ کر مشرک و کافر کہلاتے اور آج کل اسی طرح کی سوچ رکھنے والے بڑے زیرک زمرہ علماء کرام کے لوگ اور مذہبی گروہ بندیوں کے قائدین ہیں وہ جب یہ دیکھتے ہیں کہ یہ کام تو بہت بڑا ہے اور کرنے والا بالکل چھوٹا کیوں ؟ اس لئے کہ وہ زمرہ علماء اور مذہبی رہنمائوں اور قائدین میں کبھی شمار نہیں آتا تو وہ بڑے تعجب کے ساتھ منہ بسورتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ آدمی اس کام کے لائق کب ہے ؟ وہ تو ایک رذیل آدمی ہے اس میں تو کوئی علم نام کی چیز موجود ہی نہیں ، وہ تو کچھ پڑھا ہی نہیں ، وہ تو ایک جاہل اور ناسمجھ ہے ، وہ یہ کام کر رہا ہے ؟ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ یہ تفسیر جو آپ کے ہاتھوں میں ہے اس کے مولف پر بھی یہی اعتراضات ہیں جو کئے جا رہے ہیں کہ وہ بندہ دیکھو ، اس کا شہر دیکھو ، اس کی جماعت دیکھو ، بھلا وہ کیا لکھے گا جس کو کتاب کا نام رکھنا بھی نہیں آتا یہ ” عروۃ الوثقیٰ “ کا نام ہی غلط ہے پھر اسکے اندر جو تحریر ہے سبحان اللہ ! اس کو کہتے ہیں کہ ” نہ مونہہ نہ متھا تے جن پہاڑوں لتھا “ بھلا یہ کام اس کے کرنے کا تھا ؟ مشرکین مکہ کے دوسرے تعجب کا جواب بھی ان کو دیا گیا ، چناچہ ارشاد ہوا کہ : ” کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دنیا کی زندگی میں ان کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے ان کے درمیان تقسیم کئے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بد رجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور تیرے رب کی رحمت اس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو ان کے رئیس سمیٹ رہے ہیں “۔ (الزخرف 43 : 32) غور کرو کہ ان کے اس تعجب بھرے اعتراض کا جواب کس انداز میں دیا ہے اور مختصر الفاظ میں تین اہم باتیں ارشاد فرما دی ہیں جن میں سے کسی ایک کا جواب بھی انکے پاس موجود نہیں ہے۔ 1۔ یہ کہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرنا ان کے سپرد کب سے ہوگیا ؟ کیا یہ طے کرنا ان کا کام ہے کہ اللہ اپنی رحمت سے کس کو نوازے ؟ خیال رہے کہ اس جگہ رب کی رحمت سے مراد وہ عام رحمت ہے جس میں ہر ایک کو کچھ نہ کچھ حصہ ملتا رہتا ہے۔ 2۔ یہ کہ نبوت تو خیر بہت بڑی چیز ہے دنیا میں زندگی بسر کرنے کے جو عام ذرائع ہیں ان کی تقسیم بھی ہم نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھی ہے کسی اور کے حوالے نہیں کردی ۔ ہم کسی کو حسین اور کسی کو بد صورت ، کسی کو خوش آواز اور کسی کو بد آواز ، کسی کو قومی ہیکل اور کسی کو کمزور ، کسی کو ذہین اور کسی کو کند ذہن ، کسی کو قوی الحافظہ اور کسی کو نسیان میں مبتلا ، کسی کو سلیم الاعضاء اور کسی کو اپاہج یا اندھا ، لنگڑا ، گونگا اور بہرہ ، کسی کو امیر زادہ اور کسی کو فقیر زادہ پیدا کرتے ہیں ۔ اس پیدائشی قسمت میں کوئی ذرہ برابر بھی داخل نہیں دے سکتا ۔ جس کو جو کچھ ہم نے بنا دیا ہے وہی کچھ بننے پر وہ مجبور ہے اور ان مختلف پیدائشی حالتوں کا جو اثر بھی کسی کی تقدیر پر پڑتا ہے اسے بدل دینا کسی کے بس میں نہیں ہے پھر انسانوں کے درمیان رزق ، طاقت ، عزت ، دولت اور حکومت وغیرہ کی تقسیم بھی ہم ہی کر رہے ہیں جس کو ہماری طرف سے اقبال نصیب ہوتا ہے اسے کوئی گرا نہیں سکتا اور جس پر ہماری طرف سے اوبار آجاتا ہے اسے گرنے سے کوئی بچا نہیں سکتا ۔ ہمارے فیصلوں کے مقابلے میں انسانوں کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔ اس عالمگیر الٰہی انتظام میں یہ لوگ کہاں فیصلہ کرنے چلے ہیں کہ کائنات کا مالک کسے اپنا رسول بنائے اور کسے نہ بنائے ؟ 3۔ یہ کہ اس الٰہی انتظام میں یہ مستقل قاعدہ ملحوظ رکھا گیا ہے کہ سب کچھ ایک ہی کو یا سب کچھ سب کو نہ دے دیا جائے ۔ آنکھیں کھول کر دیکھو ، ہر طرف تمہیں بندوں کے درمیان ہر پہلو میں تفاوت ہی تفاوت نظر آئے گی ۔ کسی کو ہم نے کوئی چیز دی ہے تو دوسری کسی چیز سے اس کو محروم کردیا ہے اور وہ کسی اور کو عطا کردی ہے ۔ یہ اسی حکمت کی بناء پر کیا گیا ہے کہ کوئی انسان دوسرے سے بےنیاز نہ ہو بلکہ ہر ایک کسی نہ کسی معاملہ میں دوسرے کا محتاج رہے ۔ اب یہ کیسا احمقانہ خیال تمہارے خیال میں سمایا ہے کہ جسے ہم نے ریاست اور وجاہت دی ہے اس کو نبوت بھی دے دی جائے ؟ کیا اس طرح تم بھی یہ کہو گے کہ عقل ، علم ، دولت ، حسن ، طاقت ، اقتدار اور دوسرے تمام کمالات ایک ہی میں جمع کردیئے جائیں اور جس کو ایک چیز نہیں ملی ہے اسے دوسری بھی کوئی چیز نہ دی جائے ؟ منکرین اسلام پیغمبر اسلام ﷺ جادوگر کا خطاب کیوں دیتے تھے ؟ 3 ؎ منکرین حق ایک طرف تو وحی و نبوت سے انکار کرتے تھے اور دوسری طرف یہ بھی دیکھتے تھے کہ یہ آدمی دوسرے آدمیوں کی طرح نہیں ہے اور اس طرح ان کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا تو کہتے تھے کہ آخر کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے پھر جب ان سے اس کی کوئی توجہہ نہ بن پڑتی تو کہتے کہ ہو نہ ہو یہ جادوگری ہے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ جب ان کے پاس کوئی دلیل نہ رہی جس سے وہ قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کا انکار کرسکیں اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی نبوت و رسالت کی تردید کرسکیں تو نا چار اپنی شکست پر پردہ ڈالنے کیلئے یہ افتراء باندھ دیا کہ یہ عقل و ودل اور نگاہ و بصارت کو خیرہ کردینے والی روشنی ، یہ روح کو سر شار کردینے والا کلام جادو ہے اور اس کو سنانے والا یہ دل نواز شخصیت نبی نہیں بلکہ کوئی جادوگر ہے ۔ غور کرو کہ کفر کے کفر کے ساتھ کسی طرح ڈانڈے ملتے ہیں ۔ فرعون نے بھی تو اعجاز موسویٰ کے سامنے اپنی بےبسی پر یہہ کہہ کر پردہ ڈالا تھا۔ شاید کفر کے پاس یہی اوچھا ہتھیار ہے جو وہ اہل حق کے خلاف ہمیشہ استعمال کرتا ہے۔ مشرکین نے نبی رحمت ﷺ کو جادوگرتو کہہ دیا لیکن انہوں نے یہ نہ سوچا کہ ان کا یہ الزام کتنا بےسروپا ہے ، کیا وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے فلاں جادوگر سے یہ جادو سیکھا ؟ کیا وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ جادوگروں کی پست اور رذیل ذہنیت اور ان کے رذیل اعمال کی کوئی اذنیٰ بھی علامت یہاں موجود ہے ؟ جادوگروں کے سامنے ان کے ذاتی حقیر مفادات ہوتے ہیں اور انہیں کی تکمیل کیلئے وہ سارے پاپڑ بیلتے ہیں لیکن اس پاک ہستی کی کتاب زندگی میں خود غرضی ، جاہ طلبی اور دولت کے جمع کرنے کا کوئی ادنیٰ سا ثابت بھی تو نہیں ملتا ۔ پھر فکر و عمل کے اس قدر واضح ثبوت دیکھنے کے باوجود نبی اعظم و آخر ﷺ فداہ ابی و امی کو جادوگر کہنا افتراء محض اور صریح بہتان تراشی نہیں تو اور کیا ہے ؟
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تو وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو چھ ایام میں (یعنی چھ معین زمانوں میں) پیدا کیا پھر اپنے تخت پر متمکن ہوگیا ، وہی تمام کاموں کا بندوبست کر رہا ہے اس کے حضور کوئی سفارش نہیں کرسکتا مگر یہ کہ وہ خود اجازت دے دے ، یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار پس اس کی بندگی کرو کیا تم غور و فکر سے کام نہیں لیتے ؟

تمہارا رب وہی ہے جس نے زمین و آسمان اور اس کی ہرچیز کو چھ دنوں میں پیدا کیا 4 ؎ اس جگہ غور طلب بات یہ ہے کہ آسمان و زمین کی چھ ایام میں خلقت سے مقصود کیا ہے ؟ ایام ، یوم کی جمع ہے اور عام طور پر صبح سے لے کر شام تک کے وقت کو یوم کہا جاتا ہے لکنن اس جگہ اسوقت کا ذکر ہو رہا ہے جب کہ نہ سورج تھا اور نہ ہی صبح و شام کا کوئی وجود ۔ اس لئے آیت کریمہ میں یوم سے مراد وہ دن تو ہو نہیں سکتا جس کا ابھی ہی موجود نہ تھا۔ ہاں ! اس سے مراد مطلق وقت ہی ہو سکتا ہے اور لفظ یوم کا اطلاق اس معنی میں عموماً ہوتا رہتا ہے ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت میں ” یوم “ سے مراد وقت کی وہ مقدار ہے جو ہمارے ہزار سال کے برابر ہے۔ ( مفرادت امام راغب) اور یہی آیت اس سے قبل سورة الاعراف آیت 54 میں بھی گزر چکی ہے اس لئے وہاں سے بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ یہاں ہم چاہتے ہیں کہ وہ تمام اشارات جمع کردیئے جائیں جو آسمان و زمین کی ابتدائی کے پیدائش کے بارے میں جا بجا کئے گئے ہیں اور قرآن کریم نے مختلف جگہ پر ان کو بیان کیا ہے۔ فرمایا : 1۔ آسمان و زمین کی پیدائش ایک ایسے مادہ سے ہوئی ہے جسے قرآن کریم میں ’ ’ دخاق “ کے لفظ سے تعبیر کیا۔ ثم استویٰ الی السماء وھی دخان ( دخان 41 : 11) ” دخان “ کے معنی دھوئیں یا ایسی بھاپ کے ہیں جو اوپر کو چڑھی ہوئی ہو اور اس کے باعث اوپر کچھ دکھائی نہ دے۔ 2۔ یہ مادہ دخانیہ ابتداء ً آپس میں ملا ہوا تھا الگ الگ نہ تھا پھر اس کے مختلف حصے ایک دوسرے سے جدا کردیئے گئے اور ان سے احرام سماویہ کی پیدائش ظہور میں آئی جیسا کہ ارشاد فرمایا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰہُمَا (21 : 30) 3۔ یہ تمام کائنات بیک دفعہ ظہور میں نہیں آگئی بلکہ تخلیق کے مختلف دور یکے بعد دیگرے طاری ہوئے۔ یہ دور چھ تھے جیسا کہ آیت زیر بحث سے معلوم ہوتا ہے۔ 4۔ سات ستاروں کی تکمیل دو دوروں میں ہوئی جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ قُلْ اَئِنَّکُمْ لَتَکْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْنِ وَتَجْعَلُوْنَ لَـہٗٓ اَنْدَادًاط ذٰلِکَ رَبُّ الْعٰـلَمِیْنَ (41 : 9) 6۔ زمین کی سطح کی درستگی اور پہاڑوں کی نمود اور قوت نشو ونما کی تکمیل بھی دو دوروں میں ہوئی اور اس طرح یہ چار دور ہوئے فرمایا : وَجَعَلَ فِیْھَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِھَا وَبٰـرَکَ فِیْھَا وَقَدَّرَ فِیْھَآ اَقْوَاتَھَا فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍط سَوَآئً لِّلسَّآئِلِیْنَ (41 : 10) 7۔ یہ تمام اجسام حیہ یعنی نباتات و حیوانات کی پیدائش پانی سے ہوئی جیسا کہ فرمایا وجعلنا من الماء کمل شی حی (21 : 30) 8۔ انسان کے باوجود پر بھی یکے بعد دیگرے مختلف حالتیں گزری ہیں جیسا کہ ارشاد ہوا وقد خلقکم اطوارا (71 : 14) ان آیات کریمات کو ان کے اصل مقامات سے دیکھ لو انشاء اللہ بہت کچھ ملے گا اور ہم انشاء اللہ ان کے اصل مقامات پر اپنی تفہیم عرض کریں گے۔ اسوقت مختصر عرض یہ ہے کہ ان اشارات کا ماحصل بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں مادہ دخانی تھا پھر اس میں قدرت الٰہی سے انقسام ہوا یعنی اس کے بہت سے ٹکڑے ہوگئے ، پھر ہر ٹکڑے نے ایک کرہ کی شکل اختیار کرلی اور اس کے ایک ٹکڑے سے یہ ہماری زمین بنی ۔ پھر زمین میں کوئی ایسی تبدیلی واقع ہوئی کہ دخانیت نے مائیت کی شکل اختیار کرلی اور اس کے ایک ٹکڑے سے یہ ہماری زمین بنی ۔ پھر زمین میں کوئی ایسی تبدیلی اقع ہوئی کہ دخانیت نے مائیت کی شکل اختیار کرلی یعنی پانی پیدا ہوگیا ۔ پھر خشکی کے قطعات درست ہوئے ، پھر پہاڑوں کے سلسلے نمایاں ہوئے ، پھر زندگی کا نمو شروع ہوا اور نباتات ظہور میں آگئیں۔ موجودہ زما نہیں اجرام سمایہ کی ابتدائی تخلیق اور کرہ ارض کی ابتدائی نشو ونماکے جو نظریئے تسلیم کر لئے گئے ہیں یہ اشارات بظاہر ان کی تائید کرتے ہیں اور اگر ہم چاہیں تو ان بنیادوں پر شرح و تفصیل کی بڑی بڑی عمارتیں اٹھا سکتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسا کرنا ہرگز صحیح نہ ہوگا یہ نظریئے کتنے ہی مستند تسلیم کر لئے گئے ہوں لیکن آخر پھر بھی نظریئے ہی ہیں اور نظریات جزم یقین کے ساتھ حقیقت کا فیصلہ نہیں کرسکتے ۔ پھر اس سے کیا فائدہ کہ ان کی روشنی میں قرآن کریم کے مجمل اور متحمل اشارات کی تفسیر کی جائے۔ فرض کرو آج ہم نے ذخان اور ذخان کے انقسام کا مطلب اس روشنی میں آراستہ کردیا جو وقت کی نظروں میں تسلیم کیا جاتا ہے لیکن آنے والے کل کو کیا کریں گے اگر ان نظریوں کی جگہ دوسرے نظریئے پیدا ہوگئے ؟ صاف بات یہی ہے کہ یہ معاملہ عالم غیب سے تعلق رکھتا ہے جس کی اصل ہم اپنے علم و ادراک کے ذریعہ معلوم نہیں کرسکتے اور قرآن کریم کا مقصود ان اشارات سے تخلیق عالم کی شرح و تحقیق نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کی طرف انسان کی توجہ دلانا ہے لکین اس کے ساتھ ہی ہم یہ بھی کہنے پر مجبور ہیں کہ آج تک ہمارے مفسرین نے جو پیدائش عالم کے بارے میں بہت سی روایات نقل کردی ہیں ان کی صحت بھی کوئی یقینی نہیں اور وہ سب کی سب ایک دو کی استثناء کے ساتھ انہی قصص و روایات سے ماخوذ ہیں جو یہودیوں کے ہاں سے ہم کو مستعارمل گئی تھیں اور ان کو بد قسمتی سے حرف آخر سمجھ لیا گیا اور وہ اس طرح مانی اور بیان کی گئیں جیسے صحیح احادیث کے بیان کا التزام ہوتا ہے اور پھر بعض ان میں سے وہ بھی ہیں جو کتب احادیث میں شامل ہوگئی ہیں اگرچہ ان کی تعدادآٹے میں نمک کی بھی نہ ہوتا ہم معترضین کلئے وہ ایک ہتھیار کا کام دیتی ہیں لیکن اگر مترجمین صحاج اس کی طرف توجہ دیتے تو معاملہ بالکل صاف ہو سکتا تھا لیکن افسوس کہ اس وقت ایسی چیزوں پر توجہ نہ دی گئی اور اب ایسا وقت شاید کسی کے پاس نہیں رہا جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دکھائے۔ ہاں ! اتنی بات تو آسانی سے یاد رکھی جاسکتی ہے کہ اسلام میں اصل حجت قرآن کریم اور اس کے بعد صحیح حدیث کو ہے اور جب ان احادیث پر جو کثرت سے کتب احادیث میں موجود ہیں ان پر بحث کی گئی ہے اور کی جاتی ہے اور پھر ان کے واضح اور جانے سمجھے مفہوم کو چھوڑ کر تفہیم کا رخ کسی دوسری طرف کیا جاسکتا ہے جیسے رفیع الدین ، آمین اور فاتحہ خلف الامام اور اس طرح کی بیحد و شمار احادیث پر لے دے کی جا رہی ہے تو ان احادیث پر جو بالکل شاذ اور تلاش کرنے کے بعد ایسے ابواب میں ملتی ہیں جن کے متعلق بہت کچھ بیان کیا جاسکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کے اسی مفہوم کی صحیح سمجھ لیا جائے جو مترجمین نے بغیر سعی بلیغ کے ان کے تراجم کردیئے اور وہاں محتاط انداز اختیار کیا جائے۔ اشارات ہم نے کردیئے ہیں اور صاحب علم و فضل انشاء اللہ اس کی راہیں تلاش کریں گے کہ مترجمین سے ان کا جو رخ غلطی سے ٹیڑھا ہوگیا تھا اس کو سیدھا کر دکھائیں ۔ کیونکہ کسی کا ترجمہ بہر حال حجت نہیں بلکہ حجت صرف قول قائل عنی رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے جس میں یقینا کوئی چیز ایسی بیان نہیں کی گئی جو اصل سے الگ ہو اور نہ ہی ایسا ممکن تھا کہ ما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی۔ ارض و سماء اور جو کچھ ان میں ہے کی تخلیق کے بعد سب کا ناظم بھی وہ خود ہی ہوا 5 ؎ جس ذات الٰہ نے زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے چھ ادوار میں پیدا کردیا وہ ان کو پیدا کرکے تھک نہیں گیا کہ ان کا انتظام اس نے دوسروں کے ہاتھوں میں دے دیا ہو بلکہ اس کارخانہ ہستی کی زمام حکومت بھی اسی کے دست قدرت میں ہے ہر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام اسی کے حکم اور اسی کے اذن سے انجام پاتا ہے۔ وہ خالق بھی ہے اور مالک بھی ، اس نے تخلیق اور ملکیت کا اذن کبھی کسی کو نہیں دیا اور نہ ہی وہ کبھی دے گا ۔ ہرچیز جس کو اس نے پیدا فرمایا ہے وہ گویا ایک آئینہ ہے جس میں اس کے خالق کے علم کامل اور حکمت بالغہ کے ان گنت جلوے دکھائی دے رہے ہیں بشرطیکہ کوئی بینا آنکھ رکھتا ہو ۔ تدبیر کے لغوی معنی ہی یہ ہیں کہ ” تمام کاموں کو اس طرح کرنا کہ ان سے بہترین نتائج ظاہر ہوں اور اس جگہ بھی اس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کائنات کی ہر بڑی اور چھوٹی چیز کو اس طرح اپنے اپنے مقام پر مناسب صفات سے متصف کر کے رکھتا ہے کہ کسی کو انگشت نمائی کی جرأت نہیں ہوسکتی ۔ مختصر یہ کہ اس طرح اللہ نے اپنی توحید ربوبیت سے توحید الوہیت پر استدلال کرنا سکھا دیا ۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم مانتے ہو کہ کائنات ہستی کا پیدا کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور نہیں تو پھر تدبیر و انتظام عالم کے بہت سے تخت اقتدار تم نے کیوں بنا رکھے ہیں ؟ اور کیوں انہیں بندگی و نیاز کا مستحق سمجھتے ہو ؟ جس طرح یہ بات ہوئی کہ پیدا کرنے والی ہستی اس کے سوا کوئی بھی نہیں اسی طرح تدبر و فرمانروائی کا تخت بھی صرف اور صرف اسی کا تخت ہوا ۔ غور کرو گے تو بہت کچھ سمجھتے جائو گے۔ اس کے پاس کوئی سفارش نہیں کرسکتا مگر وہی جس کو وہ خود اجازت دے 6 ؎ مشرکین مکہ نے جو مٹی اور پتھر کے بت بنا رکھے تھے وہ ان نیک لوگوں کی یاد تازہ کرنے کیلئے تھے جو ان کے ہاں اللہ تعالیٰ کے پاس سفارشی تسلیم کئے جاتے تھے ۔ جیسا کہ اس سے پہلے ہم متعدد بار وضاحت کرچکے ہیں کہ آج تک جب سے دنیا پیدا ہوئی کبھی کسی قوم نے محض بت کی پوجا نہیں کی بلکہ پوجا ہمیشہ صاحب بت کی ہوتی رہی فی نفسہ بت کوئی چیز نہیں بت انہی نیک لوگوں کے بنائے گئے جو اپنے اپنے زمانہ میں نیک متصور ہوتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد لوگوں نے ان کی یاد کو تازہ رکھنے کیلئے بت گھڑنے شروع کئے حالانکہ ان سب کو بھی یہ معلوم تھا کہ یہ بت ہیں جو ہمارے ہی لوگوں نے تراش لئے ہیں لیکن چونکہ ان کی نسبت ان بزرگوں کے ساتھ تھی جو ان کے ہاں مکرمو معظم سمجھے جاتے تھے جب وہ اس دنیا میں نہ رہے تو ان کے ماننے والوں نے ان کے مجسمے تیار کر لئے اور انہی کے سامنے سجدہ ریز ہونے لگے۔ آج فی زماننا وہ بت متروک ہوگئے اور ان کی جگہ قبروں اور استانوں نے لے لی ۔ جس طرح سب کو معلوم ہے کہ کبھی کسی شخص نے کسی قبر کی پرستش نہیں کی بلکہ پرستش ہمیشہ صاحب قبر ہی کی کی جاتی ہے اس لئے اس سے یہ غلط فہمی مطلق نہ ہونی چاہئے۔ بعض لوگوں نے محض دکانداری چمکانے کئے او دھوکا دیا اور ان کو یہ بات سمجھا دی کہ مشرکین مکہ تو بتوں کی پرستش کرتے تھے اور انہی کی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے تھے اور انہی کی عند اللہ شفیع مانتے اور تسلیم کرتے تھے۔ غور کرو کہ مشرکین اپنے ان بزرگوں کو جن کے انہوں نے بت بنا رکھے تھے قیامت کے روز ان کی شفاعت کرنے کا عقیدہ رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ہماری سفارش کریں گے اور ہمیں بخشوالیں گے۔ آیت کے اس حصہ میں ان کا مکمل رد کردیا گیا اور دو ٹوک الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ ” اللہ کے حضور کوئی سفارش نہیں کرسکتا ، مگر ہاں ! یہ کہ وہ خود یعنی اللہ تعالیٰ ہی کسی کو اجازت دے دے اور اجازت کے بعد وہ اس کی جرأت کرے “۔ اس میں نہ تو کسی سفارشی کی سفارش کو دخل ہے اور نہ کسی مقرب کے تقرب کو ۔ سفارش کرے گا تو صرف وہ جس کو سفارش کی اجازت دی جائے گی اور یہ بھی کہ جس کیلئے سفارش کی اجازت ہوگی ۔ سفارش میں اذن الٰہی کیوں ؟ اس لئے کہ سفارش کرنا فی نفسہ برا عمل و فعل نہیں بلکہ مستحسن ہے اور مستحسن چیز سے کلی طور پر روکا نہیں جاسکتا ۔ اچھی سفارش ایک اچھا عمل ہے اور بری سفارش برا عمل لہٰذا مشرکنے کے ہاں بلا امتیاز سفارش جائز سمجھی گئی تھی اس لئے اس کی نفی لازم و ضروری تھی کیونکہ انسانوں میں اچھے بھی ہیں اور برے بھی بعینہٖ اچھے انسانوں سے برائی کا امکان ہے اور وہ ہو بھی جاتی ہے اس طرح بہت سے برے لوگ اچھے کام بھی کر جاتے ہیں اس لئے یہ مسئلہ خالصتہً علم الٰہی کا ہے کہ کون اچھا ہے اور کون برا اور یہ بھی کہ کون کتنا اچھا اور کتنا برا ؟ یہ مسئلہ انسانوں کے بس کا نہیں بہت سے نیک لوگ گزرے ہیں جن کو اس وقت کے لوگوں نے اچھا نہیں سمجھا اور اب بھی یہ حالت اسی حال پر موجود ہے اور بہت سے ایسے لوگ موجود تھے اور ہیں جن کو ان کے زمانہ کے لوگوں نے اچھا سمجھا اور آج بھی اچھا سمجھتے ہیں لیکن بادی النظر میں وہ بالکل اچھے نہیں ۔ اس لئے کلی طور پر کسی انسان کو خواہ وہ کوئی نبی و رسول ہو یا ولی اللہ سفارش کی اجازت نہیں دی جاسکتی تھی اور نہ ہی دی گئی ہاں ! علم الٰہی میں بعض ایسے نیک بھی ہوں گے جن سے کچھ تساہل و تسامح ہوئے ہوں ۔ اور وہ سو فیصد کامیاب قرار نہیں پائیں گے تا ہم اللہ تعالیٰ چاہے گا جس کے متعلق کسی کو سفارش کا حق دے دے گا اور پھر ان کی سفارش سے ان کی کامیابی کا اعلان ہوجائے گا ۔ اس کی مثال یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ایک طالب علم نے سوالات کے جوابات دینے کی پوری کوشش کی لیکن وہ کماحقہ صحیح جواب نہ دے سکا اور کامیابی کے نمبر اس کو نہ مل سکے لیکن جب مجموعی طور پر دیکھا گیا تو ایک دو نمبر سے وہ کامیاب ہو سکتا تھا تو اس کی سفارش ، جو خود ہی دیکھنے والے نے نمبر دے کر کامیاب قرار دے دیا تو یہ کوئی بری بات نہیں اور نہ ہی یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ اس نے فیل کو پاس کردیا ۔ یہی طریقہ سفارش ہے جس کو جائز تسلیم کیا گیا ہے اور یہ رعایت اعزاز ہے ان لوگوں کا جن کو سفارش کی اجازت ہوگی نہ کہ ان لوگوں نے کوئی اپنا حق استعمال کیا کہ جس پر انہوں نے چاہا وہ استعمال کر کے فیل کو پاس یا پاس کو فلج کردیا ۔ حاشاء اللہ کہ کوئی بات اس طرح کہ اس اجازت سے سمجھی جاسکتی ہو۔ بلا شبہ اس وقت کے مشرکوں کا شرک بھی شرک تھا تب ہی قرآن کریم نے بار بار اس شرک کا ذکر کیا اور مشرکین کیلئے سخت سے سخت وعیدیں سنائی گئیں لیکن قربان جایئے اس دور کے مشرکین پر انہوں نے اس دور کے مشرکوں کے بھی کان کاٹ دیئے اور توحید الٰہی کی روشنی کو اس قدر مدھم کرنے کی کوشش کی کہ وہ کوشش اس وقت کے مشرکین بھی نہ کرسکے۔ آج یہ شرک حکومت کے ایوانوں سے طے کر کے اس ملک عزیز کے سارے اداروں میں ، بڑے بڑے گروہوں سے لے کرچھوٹے چھوٹے فرقوں اور پارٹیوں میں عام ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت صاحب بت کی جگہ صاحب قبر نے لے لی ہے اور بت کی جگہ قبر نے ۔ قرآن کریم ان سب کی تردید کر رہا ہے اور دو ٹوک سنا رہا ہے کہ اللہ کے ہاں اس طرح کا کوئی سفارشی بھی سفارش نہیں کرسکے گا جس طرح کی سفارش ان لوگوں نے سمجھ رکھی ہے کہ سفارش جس کی چاہے سفارش کر دے اور جب چاہے سفارش کرلے۔ یہ اختیار اللہ نے مطلق کسی کو نہیں دیا اور نہ ہی دیا جاسکتا ہے۔ وہی اللہ ہے جو تمہارا پروردگار ہے پس تم اس کی عبادت کرو 7 ؎ تمہارا اللہ وہی ہے جو ان قدرتوں اور حکمتوں کا مالک ہے۔ ہر چھوٹے اور بڑے کام کو وہ اپنی مرضی اور اپنے اختیار سے سر انجام دیتا ہے اور اس نے ہرچیز کو ایک قانون میں باندھ دیا ہے اور وہ اسی دائرہ میں کام کرتی آتی ہے ، رہی ہے اور کرتی رہے گی ۔ وہی جس کے حضور کوئی بڑے سے بڑا بھی بلا اجازت لب کشائی نہیں کرسکتا اور وہی تمہارا پروردگار بھی ہے اور تمہارا معبودبھی ۔ جب اور ایسا کوئی نہیں تو اسے چھوڑ کر اور کسی کو عبادت کیوں کی جائے ۔ اب تک اگر بعض غلط فہمیوں کے باعث تم حقیقت حال سے بیخبر رہے ہو اور اپنے معبود بر حق کے ساتھ عبودیت و بندگی کا رشتہ صحیح معنوں میں استوار نہیں کرسکتے تو اب جب کہ حقیقت عیاں ہوچکی اور تم کو دودھ کا ددھ اور پانی کا پانی کر دکھایا اور گرد و غبار مکمل طور پر چھٹ گیا تو اب ہوش میں آئو اور اپنی عمر کا بقیہ حصہ خالصتہ ً اللہ کی یاد میں صرف کرو اور اپنے کئے کی تلافی کرلو ۔ ابھی وقت ہے جب تک کہ موت کے ساتھی سے ملاقات نہیں ہوتی اس وقت کہ غنیمت سمجھو اور اپنی بھول سے توبہ کر کے راہ ہدایت اختیار کرلو۔ بتائو اب بھی تم غورو فکر سے کام لو گے یا نہیں ؟ 8 ؎ اگر بات تم نے غور سے سنی ہے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کی ہے تو اب ذرا یہ بھی بتاتے جائو کہ تم خود بھی نصیحت پکڑنے کیلئے تیار ہو یا نہیں ؟ یہ تاکید کیوں فرمائی ؟ اس لئے کہ اس دنیا میں سنی ان سنی کرنے والوں کی اتنی بہتات ہے کہ ان کے مقابلہ میں صحیح معنوں میں سننے والے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ۔ ایسے بہت ہیں جو سر بلاتے اور ہاں ! ہاں جی کرتے رہتے ہیں لیکن جب وقت آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ وہاں ! ہاں ! کہنے والے اور سر ہلا ہلا کر تصدیق کرنے والے کوئی اور تھے اور یہ وہ لوگ بالکل نہیں اس لئے کہ انہوں نے تو کچھ بھی نہیں سنایا پھر سن کر سارا بھول گئے۔ اس نصیحت کے بعد اب مشرکین کو آخرت کی یاد دہانی کرائی جا رہی ہے جس پر ان کو یقین نہیں آتا تھا۔
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

تم سب کو بالآخر اسی کی طرف لوٹنا ہے یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے وہی ہے جو پیدائش شروع کرتا ہے اور پھر اسے دہراتا ہے (مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا) تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے انہیں انصاف کے ساتھ بدلہ دے ، باقی رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی تو انہیں پاداش کفر میں کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور عذاب دردناک

اللہ کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے یہ اللہ کا وعدہ ہے 9 ؎ اب سلسلہ بیان آخرت کی طرف متوجہ ہوگیا ہے جس سے مشرکین عرب کو انکار تھا اس طرح جس طرح وہ وحی کے نزول کو تسلیم نہیں کرتے اور خصوصاً ” بشر “ کا رسول ہونا ان کیلئے ایک انہونی بات تھی ۔ کسی انسان کا شرف نبوت سے مشرف ہونا بھی ان کے لئے محل تعجب تھا جیسا کہ آپ پڑھ چکے ۔ اسی طرح قیامت کے وقوع پذیر ہونے کی بات بھی ان کے فہم سے بالا تر تھی ۔ یہاں انہیں اس بات کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ لامحالہ تمہیں قیامت کے روز بارگاہ رب العزت میں حاضر ہونا ہوگا ۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی بتا دیا کہ قیامت کے دن تمہیں دوبارہ زندہ کر کے جواب دہی کیلئے حاضر کرنے والی ذات ہے جس نے تمہیں پہلے خلعت وجود سے نوازا جب تم کچھ نہیں تھے اور اس نے نہیں پیدا فرمایا ، بتائو تم پیدا ہوئے ہو یا نہیں ؟ اچھا تم خود پیدا ہوگئے تھے ، تمہارا پیدا کرنے والا کوئی نہیں ؟ اگر یہ بات سچ ہے تو پھر تم بھی کچھ پیدا کر دکھائو ، چلو یہ بھی نہیں تو تم اب زندہ ہی رہ کر دکھا دو اگر تمہارا پیدا کرنے والا نہیں تو یقینا مارنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا پھر کیا مرنے والے جو روزانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے مر رہے ہیں اپنی مرضی سے مرتے ہیں کہ جب ان کا جی چاہا تو مر گئے ۔ اگر نہیں تو من حیث العقل ہی مان لو کہ تمہارا مانے والا بھی وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا تھا اور پھر جب چاہے گا مارے گا اور اس موت کے بعد دوبارہ زندگی بھی لازم ہے اور اس نے یہ وعدہ کیا ہے کہ اس دوبارہ زندگی کے بعد میں کسی کو نہیں ماروں گا اور اس کا وعدہ یہی ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ اس کا وعدہ کبھی غلط نہیں ہوتا ۔ جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا وہی تمہیں دوبارہ زندہ کر دے گا اور یہ زندگی محض اس مقصد کیلئے ہوگی کہ جو کچھ تم نے دنیا میں کیا تھا اس کا نتیجہ تمہارے سامنے لایا جائے گا اور یہ یقینا ہو کر رہے گا ۔ اخروی زندگی کا مقصد دوبارہ واضح کیا جا رہا ہے کہ وہ کیوں ہے ؟ 10 ؎ دوسری بات اس آیت میں یہ بیان کی گئی کہ اگر تم اپنی پہلی پیدائش پر یقین رکھتے ہو اور تم کو یہ بات بھی سمجھ آ چکی ہے کہ تم خود بخود نہیں پیدا ہوئے بلکہ تمہارا پیدا کرنے والایقینا کوئی ہے اور اسلام نے تم کو بتا دیا ہے کہ وہی ” اللہ “ ہے تو پھر تم خود ہی غور کردیکھو کہ یہ دوسری زندگی کیوں ضروری ہوئی ؟ اس لئے کہ جزائے عمل کا قانون چاہتا تھا کہ جس طرح ایک زندگی آزمائش عمل کیلئے ہے اسی طرح زندگی جزائے عمل کیلئے بھی ہو اور وہی آخرت کی زندگی کہی جا رہی ہے۔ پھر یہ اس لئے بھی لازم ضروری ہے تاکہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کا اور بڑوں کو ان کی بڑائی کی سزا ملے۔ یہ دنیا دارالعمل ہے دارالجزاء نہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اہل خیر و صلاح کو ان کے اعمال حسنہ کا بدلہ اس دنیا میں نہیں ملتا ۔ ان کی زندگیاں اکثر آلام و مصائب میں گھری ہوتی ہیں اور کئی فاسق و فاجر عیش و عشرت سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کے اعمال بد پر انہیں کوئی سزا نہیں ملتی ہے۔ اگر اس دنیا کے بعد دارالاخرت نہ ہو تو تسلیم کرنا پڑے کہ عدل و نصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے اور یہ بات اللہ کی ذات کو زیبا نہیں ۔ اگر وہ کوئی ذات ہے ؟ وہ ذات یقینا ہے تو پھر ضروری ہے کہ اس دارفناء کے بعد داربقاء بھی ہو جہاں ہر شخص کو اسکے اعمال نیک و بد کا بدلہ ملے ۔ قیامت پر ایمان انسان میں اعمال بد سے نفرت پیدا کرنے اور اعمال حسنہ کی ترغیب دلانے میں بہت موثر ہے اور ضروری بھی ورونہ ظلم لازم آئے گا اور کوئی شخص بھی خواہ درندہ صفت بن جائے اس کو ظالم نہیں کہا جاسکے گا اور ظاہر ہے کہ یہ محال ہے اور اگر یہ محال ہے تو دارلاخرت لازم و ضروری ہے مان لو گے تو اچھے رہو گے نہیں مانو گے تو یقینا تم سے منوا لیا جائے گا اور تمہارے اس نہ ماننے کی سزا تم پر لازم آئے گی اور وہ لوگ جنہوں نے اس کفر کی راہ اختیار کی تو انہیں پاداش کفر میں کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور درد ناک عذب اسکے سوا ہوگا جو ویسے بھی سوار ہی ہوگا ۔
Ayah 10:5

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن اور پھر چاند کی منزلوں اکا اندازہ ٹھہرا دیا تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو ، اللہ نے یہ سب کچھ نہیں بنایا ہے مگر حکمت و مصلحت کے ساتھ ان لوگوں کے لیے جو جاننے والے ہیں وہ دلیلیں کھول کھول کر بیان کردیتا ہے

وہی اللہ ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا دکھائی دینے والا بنایا 11۔ تمام نظام خلقت اس کی شہادت دے رہا ہے کہ یہاں کوئی بات بغیر حکمت و مصلحت کے نہیں ۔ سورج کو دیکھو جس کی درخشندگی سے تمام ستارے روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس بات پر ذرا غور کرو کہ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کمال کے اثبات کمال جو طرز استدلال اختیار کیا ہے وہ دنیا بھر کے فلسفیوں اور اہل علم کے طرز استدلال سے بالکل جدا ہے۔ قوت و تاثیر میں بھی اور وضاحت وبیان میں بھی کہیں پیچیدہ اور فنی اصطلاحات کا نام و نشان بھی نہیں ملتا ، دل میں اتر جانے والی صاف صاف باتیں ہوتی ہیں جن سے ہر طرح کے آدمی خواہ وہ عالم ہوں یا ان پڑھ اپنی اپنی استعداد کے مطابق یکساں طور پر مستفید ہو سکتے ہیں ۔ زیر نظر آیت میں بھی چند نشانیاں بیان کر کے ان میں غور و فکر کی دعوت دی جا رہی ہے۔ کونسی آنکھ ہے جو صبح کے وقت مشرق کے افق سے سورج کو ابھرتے ہوئے نہیں دیکھتی جو ابھرتا ہے تو سارا جہاں جگ مگ اٹھتا ہے۔ زندگی کی حرارت ہو شے کے رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے پھر وہ اپنی روزمرہ کی مقررہ راہ سے گزرتے ہوئے شام کے وقت مغربی افق میں غروب ہوجاتا ہے۔ پھر غور کرو کہ اس کی روزانہ کی راہ مختلف بھی ہے اور ایک طرف کو جاتی بھی ہے۔ کونسی آنکھ ہے جس نے رات کے وقت چاند کو اپیہ دو پہلی کرنیں بکھیرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ پھر سورج اور چاند دونوں کروڑوں سال سے اس گردش میں ہیں اور کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ اپنے وقت پر طلوع و غروب نہ ہوتے ہوں یا انہوں نے اپنے اپنے مقررراستہ سے سر مو انحراف کیا ہو ۔ کیا ان کا پیدا کرنے والا علیم و حکیم اور سمیع وبصیر نہیں ؟ کیوں نہیں ، یقینا وہ علیم و حکیم اور سمیع وبصیر ہے۔ چاند کو روشن کر کے اس کی منزلیں قائم کرنیوالا اللہ ہی تو ہے 12 ؎ ذرا چاند کو دیکھو اور پھر دیکھو ہاں ! دیکھ لیا پھر دیکھو کہ وہ کون ہے جس نے اس کیلئے 28 منزلیں مقرر کی ہیں اور اس سے تم مہینے کا حساب کرتے ہو اور پھر برسوں کی گنتی معلوم کرتے ہو ۔ اگر یہ سب کچھ بغیر مصلحت کے نہیں ہے تو کیا ممکن ہے کہ انسان کا وجود بغیر کسی غرض و مصلحت کے ہو اور صرف اس لئے ہو کہ کھائے پئے اور نسل چھوڑتے ہوئے مرکر ہمیشہ کیلئے فنا ہوجائے ؟ اگر ایسا ہے تو ایک انسان اور حیوان کی زندگی میں کوئی خط امتیاز نہ رہا۔ پھر آخر انسان کیوں انسان ہوا ؟ اس آیت کے خاتمہ پر ایک بار پھر غور کرو اور یاد رکھو کہ اس قسم کے تمام مواعظ کا خاتمہ ہمیشہ اس قسم کے جملوں پر ہوتا ہے کہ لقوم تعلمون ۔ لقوم یعلقون کیوں ؟ اس لئے کہ ان باتوں کو وہی سمجھ سکتا ہے جو علم و بصیرت سے محروم نہ ہو۔ اس جگہ ایک بات مزید غور طلب ہے وہ یہ کہ یہاں منازل قمر کی تقدیر سے مقصود کیا ہے ؟ فرمایا وقدرہ منازل یعنی چاند کیلئے یکے بعد دیگرے سے وارد ہونے کی منزلیں اندازہ کر کے ٹھہرا دیں اور اس طرح سورة یٰسین کی آیت 39 میں بھی ان منزلوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ فرمایا وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰـہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ (یٰسین : 36 : 39) پس مختصران منازل کا مطلب سمجھ لینا چاہئے۔ چاند زمین کے گرد گردش میں رہتا ہے اور اپنی گردش کے فلک کو 27 دن سات گھنٹے اور 43 منٹوں میں قطع کرلیتا ہے۔ اس دور کو علماء ہتئا چاند کے نجومی دور سے یا نجومی مہینے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ کیونکہ اس دور کے ختم ہونے پر چاند پھر اسی ستارہ کے قریب دکھائی دیتا ہے جس کے پاس سے اس کی گردش شروع ہوئی تھی ۔ نیز اپنی گردش کی ہر رات میں وہ کسی نہ کسی ستارہ یا ستاروں کے مجموعہ کے پاس ضرور پہنچ جاتا ہے اور وہ گویا اس کی گردش کیلئے ہر روز کی ایک منزل بن گیا ہے ۔ وہ ہمیشہ ایک خاص منزل سے سفر شروع کرتا ہے اور ہر روز کی مقرر منزل میں نمایاں ہوتا ہے اور پھر وہیں پہنچ جاتا ہے جہاں سے زمین کا طواف شروع کیا تھا۔ اس طرح 27 دن اور سات گھنٹے اور 43 منٹ کی مدت نے 28 منزلیں بنا دیں ۔ جب ہم 360 کے درجوں کو جو کامل دور کی مقرر مقدار ہے 28 راتوں پر تقسیم کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چاند ہر روز تقریباً 13 درجہ مسافت اپنے فلک کی طے کرلیتا ہے اور یہ ” تقریباً ‘ اس لئے کہا گیا ہے کہ حساب میں کچھ دقیقے زیادہ ہوتے ہیں۔ انسان کی نگاہ کیلئے آسمان کی کوئی چیز بھی اس درجہ نمایاں اور پر کشش نہیں جس قدر سورج و چاند کا طلوع و غروب ہے کیونکہ انہی دو ستاروں نے بغیر کسی کاوش اور پیچیدگی کے اسے اوقات شماری کا راز بتلا دیا ۔ اس نے دیکھا کہ سورج نکلتا ہے ، پھر گھٹتے گھٹتے چھپ جاتا ہے ۔ پس اسے یہ اندازہ مقرر کرلینے میں ذرا بھی دیر نہ لگی کہ یہ ایک معین وقت ہے جس میں کبھی خلل واقع نہیں ہو سکتا اور اسے اس کو ایک دن ٹھہرا لینا چاہئے پھر اس نے چاند کو دیکھا اور فوراً معلوم کرلیا کہ اس کے طلوع و غروب کا بھی ایک خاص اندازہ مقرر ہے وہ ایک خاص زمانہ تک دکھائی دیتا ہے پھر نمایاں ہو کر بڑھنے گھٹنے لگتا ہے۔ پس اوقات شماری کا دوسرا اندازہ بھی اسے معلوم ہوگیا اور اس نے چاند کے چھپنے اور نکلنے کی مدت کو مہینہ ٹھہرا دیا ۔ پھر یہی مطالعہ جب آگے بڑھا تو معلوم ہوا کہ ہر رات چاند آسمان کے کسی نہ کسی ستارے کے پاس دکھائی دیتا ہے اور یہ نظارہ ایسا ہے جس میں کبھی فرق نہیں پڑتا۔ پس ان ستاروں سے اس کی روزانہ منزلیں بن گئیں اور پھر ہر منزل پر کسی خاص مناسبت سے ایک نام تجویز کردیا گیا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ مطالعہ اور ضرورت کی یکساں حالت نے مختلف قوموں کو اس نتیجہ تک پہنچا دیا ۔ چناچہ نیو یارک میں ان منازل کیلئے نچھتر کا لفظ استعمال کیا گیا اور ستائیس نچھتر قرار دیئے گئے جو ’ ’ السونی “ سے شروع ہوتے اور ” ریوتی “ پر ختم ہوتے ہیں ۔ چنیوں نے بھی 28 منزلیں بنائی تھیں اور اسے ” سیو “ کہتے تھے۔ بابل داشوار کے باشندوں نے شاید سب سے پہلے اس کا سراغ لگایا اور مجوسیوں کی ایک مذہبی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی بھی اس سے بیخبر نہ تھے۔ ( بون دہشی) ایک کتاب کا نام ۔ اس سے آگے بڑھنے سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اسلام نے قمری حساب کو شمسی حساب پر فوقیت دی جس کی اصل وجہ فطری حساب ہونے سے ہے کیونکہ اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کو فطرت کا پسند ہونا بھی یقینا فطرت ہوگی ۔ مسلمان سائنس دان اس سے آگے بڑھ کر مزید اس کی افادیت بنا سکتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ کھلی کتاب سب کے لئ یکساں راہنمائی کر رہی ہے۔ کیونکہ انسانی زندگی کے بہت سے مسائل اسی چاند کی تاریخ سے وابستہ رکھے گئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نظام قمری اور انسانی زندگی کا نظام آپس میں کوئی خاص ربط رکھتے ہیں ۔ انسان کی پیدائش ، حمل کی مدت ، عورت کی اذیت کے دن ، طلاق ، نماز ، روزہ اور حج غرض کہ سب عبادات اسلامی کا تعلق بھی اسی سے ملتا جلتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ کوئی خاص قانون ضرور مخفی ہے جو ابھی تک منظر عام میں نہیں آیا اور مسلمانوں نے ایک مدت سے اس معاملہ پر غور و غوض بھی ترک کر رکھا ہے۔ مختصر یہ کہ چاند کی 28 منزلیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا کے نام بھی رکھے گئے ہیں جن کی طرف سے ہم جان بوجھ کر نظر پھیر رہے ہیں اور ان کو درج نہیں کر رہے ہیں۔ دوسرے فوائد واضح تھے اس لئے سورج و چاند کا فائدہ معلوم اوقات کا ذکر لیا 13 ؎ سورج روزانہ گردش اور چاند کی منزلوں کے تعین کی حکمت بھی واضح کردی کہ اس کا مقصد خاص یہ کہ تم اوقات معلوم کرو اور سالوں کی گنتی کرسکو ۔ اپنی کھیتی باڑی اس کے کاروبار کیلئے مہینے اور دن مقرر کرسکو ۔ دن رات کا تعین سورج کی یومیہ گردش سے ہوتا ہے اور مہینے اور سال کی پہچان چاند سے ہوتی ہے اسلام نے اپنے کثر و بیشتر احکام کی بنیاد قمری سال پر رکھی ہے کیونکہ اس کا جانناہر ایک کیلئے یکساں طور پر آسان ہے۔ ہلال طلوع ہوتا ہے تو سب کو پتہ چل جاتا ہے کہ نیا مہینہ شروع ہوگیا اور جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا ہے یہ حساب سہل ہونے کے ساتھ ساتھ اس قدرتی نظام کے بھی زیادہ قریب ہے جو اس کائنات کے چلانے کا مقرر کیا گیا ہے اور اس طرح انسانی زندگی کے ہر شعبہ سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے لیکن افسوس کہ اس معاملہ میں مسلمانوں نے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کی اس لئے یہ نظام وہیں رکے کا رکا رہ گیا۔ مزید وضاحت انشاء اللہ سورة الاسراء کی آیت 12 کے تحت ہوگی۔ کائنات کی ساری تخلیق کسی خاص حکمت و مصلحت کے تحت کی گئی 14 ؎ ” اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ نہیں بنایا مگر حکمت مصلحت کے تحت ان لوگوں کیلئے جو جاننے والے ہیں وہ دلیلیں کھول کھول کر بیان کردیتا ہے “۔ مطلب یہ ہے کہ ان سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے بےفائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان میں بڑی بڑی حکمتیں اور انسان کیلئے بیشمار فوائد مضمر ہیں ۔ وہ یہ دلائل ان لوگوں کو صاف صاف بتلا رہے ہیں جو عل و دانش رکھتے ہیں ۔ سارے مقاصد و مصالح تو اللہ ہی کی ذات کو معلوم ہیں کہ وہ کتنے اور کیسے کیسے ہیں ؟ سب سے بڑا اور کھلاہوا مقصد یہ ہے کہ انسان اس کے قوانین کی یک رنگی اور ان کے ضوابط کا نظام دیکھ کر توحید الٰہی اور رد شرک پر استدلال کرے۔ ( قرطبی) اس آیت کی مزیدتشریح دیکھنا مطلوب ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الانعام کی آیت 73 کا حاشیہ ملاحظہ کریں ۔ اس جگہ اس کی پوری وضاحت کردی گئی ہے۔
Ayah 10:6

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بلاشبہ اس بات میں کہ رات کے پیچھے دن اور دن کے پیچھے رات آتی ہے اور بلاشبہ ان تمام چیزوں میں جو اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں ان لوگوں کیلئے نشانیاں ہیں جو متقی ہیں

رات دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں بھی ان گنت نشانات توحید موجود ہیں 15 ؎ آیت زیر نظر میں ارشاد فرمایا کہ رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کیلئے توحید الٰہی اور آخرت کی زندگی کے دلائل موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ۔ توحید کے دلائل تو اس طرح ہیں کہ جس ذاب حکیم نے ان تمام چیزوں کو انسانوں کے فائدہ کیلئے بنایا ہے اور محکم نظام کا پابند کردیا ہے اس سے یہ ممکن نہیں کہ یہ اس مخدوم کائنات کو اس نے بےفائدہ محض کھانے پینے اور نسل چھوڑنے کیلئے پیدا کیا ہو اور اس کے ذمہ کچھ فرائض نہ لگائے ہوں اور پھر جب یہ لازم ہوا اس مخدوم کائنات پر بھی کچھ پابندیاں ہونا ضروری ہیں تو یہ بھی لازم ہوا کہ ان پابندیوں کو پورا کرنے والوں اور نہ کرنے والوں کا کبھی کہیں حساب بھی ہو اور کرنے والوں کو اچھا بدلہ ملے اور نہ کرنے والوں کو سزا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس دنیا میں تو جزاء و سزا کا یہ قانون و دستورموجود نہیں یہاں تو مجرم بسا اوات متقی و پارسا سے زیادہ اچھی زندگی گزارتا ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ حساب اور جزاء و سزا کا کوئی دن مقرر ہو اور اس کا ان کا قیامت اور آخرت ہے اور اللہ تعالیٰ کا نظام عدل و خود اس کا مطالبہ کرتا ہے۔