10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

یہ آیتیں ہیں پکی کتاب کی1

1 یہ آیتیں ایسی مضبوط و محکم کتاب کی ہیں جس کی ہر بات پکی ہے۔ الفاظ اس لیے کہ ہمیشہ تبدیل و تحریف سے محفوظ رہیں گے۔ علوم اس لیے کہ تمام تر عقل و حکمت کے موافق ہیں۔ احکام اس وجہ سے کہ آئندہ کوئی دوسری ناسخ کتاب آنے والی نہیں۔ اخبارو قصص اس طرح کہ ٹھیک ٹھیک واقعہ کے مطابق ہیں۔ اور ایسا کیوں نہ ہو، جب کہ خدائے علیم و حکیم نے اس کو اپنے علم کامل کے زور سے اتارا ہے۔
Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا کہ وحی بھیجی ہم نے ایک مرد پر ان میں سے یہ کہ ڈر سنادے لوگوں کو اور خوشخبری سنا دے ایمان والوں کو کہ ان کے لیے پایہ سچا ہے اپنے رب کے یہاں2 کہنے لگے منکر بیشک یہ تو جادوگر ہے صریح3

2 یعنی اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ انسانوں کی اصلاح و ہدایت کے لیے حق تعالیٰ ایک انسان ہی کو مامور فرما دے اور اس کی طرف وہ پیغام بھیجے جس کی دوسروں کو بلاواسطہ خبر نہ ہو۔ وہ تمام لوگوں کو خدا کی نافرمانی کے مہلک نتائج و عواقب سے آگاہ کرے۔ اور خدا کی بات ماننے والوں کو بشارت پہنچائے کہ رب العزت کے یہاں اعمال صالحہ کی بدولت ان کا کتنا اونچا مرتبہ اور کیسا بلند پایہ ہے۔ اور کیسی سعادت و فلاح ازل سے ان کے لیے لکھی جاچکی ہے۔ 3 یعنی وحی قرآنی کو فوق العادت موثر وبلیغ ہونے کی وجہ سے جادو اور اس کے لانے والے کو جادوگر کہتے ہیں۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تحقیق تمہارا رب اللہ ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں4 پھر قائم ہوا عرش پر5 تدبیر کرتا ہے کام کی6 کوئی سفارش نہیں کرسکتا مگر اس کی اجازت کے بعد7 وہ اللہ ہے رب تمہارا سو اس کی بندگی کرو کیا تم دھیان نہیں کرتے8

4 یعنی اتنے وقت میں جو چھ دن کے برابر تھا۔ اور ایک دن ابن عباس کی تفسیر کے موافق ایک ہزار سال کا لیا جائے گا۔ گویا چھ ہزار سال میں زمین و آسمان وغیرہ تیار ہوئے۔ بلاشبہ حق تعالیٰ قادر تھا کہ آن واحد میں ساری مخلوق کو پیدا کردیتا۔ لیکن حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کہ تدریجاً پیدا کیا جائے۔ شاید بندوں کو سبق دینا ہو کہ قدرت کے باوجود ہر کام سوچ سمجھ کر تأنّی اور متانت سے کیا کریں۔ نیز تدریجی تخلیق میں بہ نسبت دفعتاً پیدا کرنے کے اس بات کا زیادہ اظہار ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ فاعل بالاضطرار نہیں بلکہ ہر چیز کا وجود بالکلیہ اس کی مشیت و اختیار سے وابستہ ہے جب چاہے، جس طرح چاہے پیدا کرے۔ 5 سورة " اعراف " کے ساتویں رکوع کے شروع میں اسی طرح کی آیت گزر چکی اس کا فائدہ ملاحظہ کیا جاوے۔ 6 یعنی مخلوق کے تمام کاموں کی تدبیر و انتظام اسی کے ہاتھ میں ہے۔ 7 یعنی شریک اور حصہ دار تو اس کی خدائی میں کیا ہوتا، سفارش کے لیے بھی اس کی اجازت کے بدون لب نہیں ہلا سکتا۔ 8 یعنی دھیان کرو کہ ایسے رب کے سوا جس کی صفات اوپر بیان ہوئیں دوسرا کون ہے جس کی بندگی اور پرستش کی جاسکے۔ پھر تم کو کیسے جرأت ہوتی ہے کہ اس خالق ومالک شنہشاہ مطلق اور حکیم برحق کے پیغاموں اور پیغامبروں کو محض اوہام و ظنوں کی بناء پر جھٹلانے لگو۔
Ayah 10:4

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو9 وعدہ ہے اللہ کا سچا وہی پیدا کرتا ہے اول بار پھر دوبارہ کرے گا اس کو تاکہ بدلہ دے ان کو جو ایمان لائے تھے اور کیے تھے کام نیک انصاف کے ساتھ10 اور جو کافر ہوئے ان کو پینا ہے کھولتا پانی اور عذاب ہے دردناک اس لیے کہ کفر کرتے تھے

9 یعنی اسی سے تم سب کا آغاز ہوا، اور اسی کی طرف انجام کار سب کو جانا ہے۔ پھر اس کے احکام و سفراء سے سرتابی کرنا کیسے روا ہوسکتا ہے۔ 10 یعنی چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی ضائع نہ ہو۔
Ayah 10:5

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بنایا سورج کو چمک اور چاند کو چاندنا1 مقرر کیں اس کے لیے منزلیں2 تاکہ پہچانو گنتی برسوں کی اور حساب3 یوں ہی نہیں بنایا اللہ نے یہ سب کچھ مگر تدبیر سے4 ظاہر کرتا ہے نشانیاں ان لوگوں کے لیے جن کو سمجھ ہے5

1 بعض کے نزدیک " نور " عام ہے " ضیاء " سے " ضیاء " خاص اس نور کو کہتے ہیں جو زیادہ تیز اور چمکدار ہو۔ بعض نے کہا کہ جس کی روشنی ذاتی ہو، وہ ضیاء اور جس کی دوسرے سے مستفاد ہو، وہ " نور " ہے۔ سورج کی روشنی البتہ سورج سے مستفاد ہے۔ اور بعض محققین نے دونوں میں یہ فرق بتلایا ہے کہ " نور " مطلق روشنی کو کہتے ہیں۔ " ضیاء " اور " ضوء " اس کے انتشار (پھیلاؤ) کا نام ہے۔ سورج کی روشنی کا پھیلاؤ چونکہ زیادہ ہے۔ اس لیے " ضیاء " سے تعبیر فرمایا۔ واللہ اعلم بمرادہ۔ 2 یعنی روزانہ بتدریج گھٹتا بڑھتا ہے۔ (وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ ) 36 ۔ یس :39) علمائے ہیئت نے اس کے دورے کی تقسیم کر کے اٹھائیس منزلیں مقرر کی ہیں۔ جو بارہ بروج پر منقسم ہیں۔ قرآن میں خاص ان کی مصطلحات مراد نہیں، مطلق سیرو مسافت کے مدارج مراد ہیں۔ 3 یعنی برسوں کی گنتی اور مہینوں اور دنوں کے چھوٹے موٹے حساب سب چاند سورج کی رفتار سے وابستہ کردیے ہیں۔ اگر چاند سورج نہ ہوں تو دن رات، قمری اور شمسی مہینے، اور سال وغیرہ کیسے متعین ہوں۔ حالانکہ علاوہ دنیاوی زندگی اور معاشی کاروبار کے بہت سے احکام شرعیہ میں بھی تعین اوقات کی ضرورت ہے۔ 4 یعنی فلکیات کا سلسلہ یوں ہی کیف ما اتفق نہیں۔ بلکہ بڑے عظیم الشان نظام و تدبیر کے ماتحت اور ہزارہا فوائدو حِکَم پر مشتمل ہے۔ 5 یعنی سمجھ دار لوگ مصنوعات کے اس نظام کو دیکھ کر خداوند قادر وحکیم کی ہستی کا سراغ پاتے ہیں۔ اور مادیات کے انتظام سے روحانیات کے متعلق بھی اندازہ کرلیتے ہیں کہ وہاں کی دنیا میں کیسے کیسے چاند سورج خدا نے پیدا کیے ہوں گے۔ انہی کو انبیاء ومرسلین کہہ لیجئے۔
Ayah 10:6

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

البتہ بدلنے میں رات اور دن کے اور جو کچھ پیدا کیا ہے اللہ نے آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں6

6 بلاشبہ دنیا کی ہر چھوٹی بڑی چیز میں خدا کی ہستی اور وحدانیت کے دلائل موجود ہیں۔وَفِی کُلِّ شَیْ ءٍ لَہُ اٰیَۃٌ تَدُلُّ عَلَی اَنَّہُ وَاحِدٌ سورة بقرہ میں پارہ سیقول کے ربع کے قریب ایک آیت گزر چکی جس میں زیادہ بسط و تفصیل سے ان نشانہائے قدرت کا بیان ہوا ہے۔
Ayah 10:7

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

البتہ جو لوگ امید نہیں رکھتے ہمارے ملنے کی اور خوش ہوئے دنیا کی زندگی پر اور اسی پر مطمئن ہوگئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے بیخبر ہیں7

7 یعنی دنیا میں ایسا دل لگایا کہ آخرت کی اور خدا کے پاس جانے کی کچھ خبر ہی نہ رہی۔ اسی چند روزہ حیات کو مقصود و معبود بنا لیا۔ اور قدرت کی جو نشانیاں اوپر بیان ہوئیں، ان میں کبھی غور و تامل نہ کیا کہ ایسا مضبوط اور حکیمانہ نظام یوں ہی بیکار نہیں بنایا گیا۔ ضرور اس سارے کارخانہ کا کوئی خاص مقصد ہوگا۔ پھر جس نے پہلی مرتبہ ایسی عجیب و غریب مخلوقات پیدا کردی، اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔
Ayah 10:8

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ایسوں کا ٹھکانا ہے آگ بدلہ اس کا جو کماتے تھے8

8 یعنی دل و دماغ سے، زبان سے، ہاتھ پاؤں سے، جو کچھ انہوں نے کمائی کی اس کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے۔
Ayah 10:9

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

البتہ جو لوگ ایمان لائے اور کام کیے اچھے ہدایت کرے گا ان کو رب ان کے ایمان سے9 بہتی ہیں ان کے نیچے نہریں باغوں میں آرام کے

9 یعنی ایمان کی بدولت اور اس کی روشنی میں حق تعالیٰ مومنین کو مقصد اصلی (جنت) تک پہنچائے گا۔
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

ان کی دعا اس جگہ یہ کہ پاک ذات ہے تیری یا اللہ10 اور ملاقات ان کی سلام11 اور خاتمہ ان کی دعا کا اس پر کہ سب خوبی اللہ کو جو پروردگار سارے جہان کا12

10 جنتی جنت کی نعمتوں اور خدا کے فضل و احسان کو دیکھ کر " سبحان اللہ " پکاریں گے۔ اور جب خدا سے کچھ مانگنے کی خواہش ہوگی، مثلاً کوئی پرندہ یا پھل دیکھا اور ادھر رغبت ہوئی تو سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ کہیں گے۔ اتنا سنتے ہی فرشتے وہ چیز فوراً حاضر کردیں گے۔ گویا یہ ہی ایک لفظ تمام دعاؤں کے قائم مقام ہوگا۔ دنیا میں بھی بڑے آدمیوں کے یہاں دستور ہے کہ مہمان اگر کسی چیز کو پسند کر کے صرف تعریف کر دے تو غیور میزبان کوشش کرتا ہے کہ وہ چیز مہمان کے لیے مہیا کرے۔ 11 جنتی ملاقات کے وقت ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔ جیسے دنیا میں مسلمانوں کا دستور ہے، نیز فرشتوں کا جنتیوں کو سلام کرنا، بلکہ خود خداوند رب العزت کی طرف سے تحفہ سلام کا آنا قرآن میں منصوص ہے۔ (سَلٰمٌ ۣ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ ) 36 ۔ یس :58) (وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ 23؀ۚ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ ) 13 ۔ الرعد :23) 12 جنت میں پہنچ کر جب دنیاوی تفکرات و کدورات کا خاتمہ ہوجائے گا اور محض سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ کہنے پر ہر چیز حسب خوہش ملتی رہے گی تو ان کی ہر دعا کا خاتمہ " اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ " پر ہوگا اور طبعاً ایسا ہی ہونا چاہیے۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر جلدی پہنچا دے اللہ لوگوں کو برائی جیسے کہ جلدی مانگتے ہیں وہ بھلائی تو ختم کردی جائے ان کی عمر سو ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان کو جن کو امید نہیں ہماری ملاقات کی ان کی شرارت میں سرگرداں13

13 دو آیت پہلے فرمایا تھا جو لوگ غفلت میں پڑے ہیں اور ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ یہاں یہ بتلانا ہے کہ خدا ایسے مجرموں کو دنیا میں فوراً نہیں پکڑتا بلکہ مہلت دیتا ہے۔ حالانکہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ کبھی بےباک و بےحیا بن کر خود اپنے اوپر جلد عذاب آنے کا مطالبہ کرتے ہیں مثلاً کہتے ہیں (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ ) 8 ۔ الانفال :32) کبھی دنیاوی حوادث سے تنگ آکر اپنے یا اپنی اولاد وغیرہ کے حق میں بددعائیں کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ تجربہ سے ظاہر ہے۔ اب اگر خدا تعالیٰ ان کی درخواست و دعاء کے موافق فوراً ہاتھوں ہاتھ کوئی عذاب یا برائی اس قدر جلد ان کو پہنچا دے جتنی جلد وہ بھلائی کے پہنچنے کی خواہش رکھتے ہیں تو بدی کے وبال سے ایک منٹ بھی فرصت نہ پائیں اور رشتہ حیات اسی وقت منقطع ہوجائے، مگر خدا کے یہاں نیکی و بدی دونوں میں حسب مصلحت تاخیر و تحمل ہوتا ہے، تاکہ نیک لوگ تربیت پائیں اور بدکار غفلت میں پڑے رہ کر پیمانہ شرارت لبریز کرلیں۔
Ayah 10:12

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب پہنچے انسان کو تکلیف پکارے ہم کو پڑا ہوا یا بیٹھا یا کھڑا پھر جب ہم کھول دیں اس سے وہ تکلیف چلا جائے گویا کبھی نہ پکارا تھا ہم کو کسی تکلیف پہنچنے پر اسی طرح پسند آیا ہے بیباک لوگوں کو جو کچھ کر رہے ہیں1

1 یعنی انسان اول بےباکی سے خود عذاب طلب کرتا اور برائی اپنی زبان سے مانگتا ہے۔ مگر کمزور اور بودا اتنا ہے کہ جہاں ذرا تکلیف پہنچی گھبرا کر ہمیں پکارنا شروع کردیا۔ جب تک مصیبت رہی کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حالت میں خدا کو پکارتا رہا۔ پھر جہاں تکلیف ہٹا لی گئی، سب کہا سنا بھول گیا۔ گویا خدا سے کبھی کوئی واسطہ نہ تھا۔ وہ ہی غرور غفلت کا نشہ، وہ ہی اکڑفوں رہ گئی۔ جس میں پہلے مبتلا تھا۔ حدیث میں ہے کہ تو خدا کو اپنے عیش و آرام میں یاد رکھ، خدا تجھ کو تیری سختی اور مصیبت میں یاد رکھے گا۔ مومن کی شان یہ ہے کہ کسی وقت خدا کو نہ بھولے۔ سختی پر صبر اور فراخی پر خدا کا شکر ادا کرتا رہے۔ یہ ہی وہ چیز ہے جس کی توفیق مومن کے سوا کسی کو نہیں ملتی۔
Ayah 10:13

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور البتہ ہم ہلاک کرچکے ہیں جماعتوں کو تم سے پہلے جب ظالم ہوگئے حالانکہ لائے تھے ان کے پاس رسول ان کی کھلی نشانیاں اور ہرگز نہ تھے ایمان لانے والے یوں ہی سزا دیتے ہیں ہم قوم گناہ گاروں کو2

2 یعنی اگر ان کی درخواست کے موافق جلدی عذاب نہ آئے یا تکلیف و مصیبت آکر ٹل جائے تو بےفکر نہیں ہونا چاہیے۔ ظلم و شرارت اور بےایمانی کی سزا جلد یا بدیر مل کر رہے گی۔ سنت اللہ قدیم سے یہ ہی ہے کہ جب لوگ انبیاء ومرسلین کے کھلے نشان دیکھنے کے بعد بھی ظلم و تکذیب پر کمر بستہ رہے اور کسی طرح ایمان و تسلیم کی طرف نہ جھکے تو آسمانی عذاب نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ ہمیشہ مجرموں کو کسی نہ کسی رنگ میں سزا ملتی رہی۔
Ayah 10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر تم کو ہم نے نائب کیا زمین میں ان کے بعد تاکہ دیکھیں تم کیا کرتے ہو3

3 یعنی پہلوں کی جگہ اب تم کو زمین پر بسایا تاکہ دیکھا جائے کہ تم کہاں تک خالق و مخلوق کے حقوق پہچانتے ہو۔ اور خدا کے پیغمبروں کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہو۔ نیک و بد جیسے عمل کرو گے اسی کے مناسب تم سے برتاؤ کیا جائے گا۔ آگے اس معاملہ کا ذکر ہے جو قرآن کریم یا پیغمبر ﷺ یا خداوند قدوس کے ساتھ انہوں نے کیا۔
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب پڑھی جاتی ہیں ان کے سامنے آیتیں ہماری واضح کہتے ہیں وہ لوگ جن کو امید نہیں ہم سے ملاقات کی لے آ کوئی قرآن اس کے سوا یا اس کو بدل ڈال4 تو کہہ دے میرا کام نہیں کہ اس کو بدل ڈالوں اپنی طرف سے میں تابعداری کرتا ہوں اسی کی جو حکم آئے میری طرف میں ڈرتا ہوں اگر نافرمانی کروں اپنے رب کی بڑے دن کے عذاب سے5

4 قرآن کی عام پندو نصیحت تو بہت سے پسند کرتے لیکن بت پرستی یا ان کے مخصوص عقائد و رسوم کا رد ہوتا تو وحشت کھاتے اور ناک بھوں چڑھا کر رسول اللہ ﷺ سے کہتے کہ اپنے خدا سے کہہ کر یا تو دوسرا قرآن لے آئیے جس میں یہ مضامین نہ ہوں اور اگر یہ ہی قرآن رہے تو اتنے حصہ میں ترمیم کر دیجئے جو بت پرستی وغیرہ سے متعلق ہے۔ جن لوگوں نے پتھر کی مورتیوں پر خدائی اختیارات تقسیم کر رکھے تھے، ان کی ذہنیت سے کچھ مستبعد نہیں کہ ایک پیغمبر کو اس طرح کے تصرفات و اختیارات کا مالک فرض کرلیں۔ یا یہ کہنا بھی محض الزام و استہزاء کے طور پر ہوگا۔ بہرحال اس کا تحقیقی جواب آگے مذکور ہے۔ 5 یعنی کسی فرشتہ یا پیغمبر کا یہ کام نہیں کہ اپنی طرف سے کلام الٰہی میں ترمیم کر کے ایک شوشہ بھی تبدیل کرسکے۔ پیغمبر کا فرض یہ ہے کہ جو وحی خدا کی طرف سے آئے بلاکم وکاست اس کے حکم کے موافق چلتا رہے۔ وہ خدا کی وحی کا تابع ہوتا ہے۔ خدا اسکا تابع نہیں ہوتا کہ جیسا کلام تم چاہو، خدا کے یہاں سے لا کر پیش کر دے۔ وحی الٰہی میں ادنیٰ سے ادنیٰ تصرف اور قطع وبرید کرنا بڑی بھاری معصیت ہے ' پھر جو معصوم بندے سب سے زیادہ خدا کا ڈر رکھتے ہیں (انبیاء علیہم السلام) وہ ایسی معصیت و نافرمانی کے قریب کہاں جاسکتے ہیں۔ (اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ ) 6 ۔ الانفال :15) میں گویا ان بیہودہ فرمائش کرنے والوں پر تعریض ہوگئی کہ ایسی سخت نافرمانی کرتے ہوئے تم کو بڑے دن کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔
Ayah 10:16

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

کہہ دے اگر اللہ چاہتا تو میں نہ پڑھتا اس کو تمہارے سامنے اور نہ وہ تم کو خبر کرتا اس کی کیونکہ میں رہ چکا ہوں تم میں ایک عمر اس سے پہلے کیا پھر تم نہیں سوچتے6

6 یعنی جو خدا چاہتا ہے وہ ہی تمہارے سامنے پڑھتا ہوں اور جتنا وہ چاہتا ہے میرے ذریعہ سے تم کو خبردار کرتا ہے۔ اگر وہ اس کے خلاف چاہتا تو میری کیا طاقت تھی کہ خود اپنی طرف سے ایک کلام بنا کر اس کی طرف منسوب کردیتا۔ آخر میری عمر کے چالیس سال تمہاری آنکھوں کے سامنے گزرے۔ اس قدر طویل مدت میں تم کو میرے حالات کے متعلق ہر قسم کا تجربہ ہوچکا۔ میرا صدق و عفاف، امانت و دیانت وغیرہ اخلاق حسنہ تم میں ضرب المثل رہے۔ میرا اُمّی ہونا اور کسی ظاہری معلم کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہ کرنا ایک معروف و مسلم واقعہ ہے۔ پھر چالیس برس تک جس نے نہ کوئی قصیدہ لکھا ہو، نہ مشاعروں میں شریک ہوا ہو، نہ کبھی کتاب کھولی ہو نہ قلم ہاتھ میں لیا ہو، نہ کسی درسگاہ میں بیٹھا ہو دفعتاً ایسا کلام بنا لائے جو اپنی فصاحت و بلاغت، شوکت و جزالت، جدّت اسلوب اور سلاست و روانی سے جن و انس کو عاجز کر دے۔ اس کے علوم و حقائق کے سامنے تمام دنیا کے معارف ماند پڑجائیں۔ ایسا مکمل اور عالمگیر قانون ہدایت نوع انسان کے ہاتھوں میں پہنچائے جس کے آگے سب پچھلے قانون ردی ہوجائیں۔ بڑی بڑی قوموں اور ملکوں کے مردہ قالب میں روح تازہ پھونک کر ابدی حیات اور نئی زندگی کا سامان بہم پہنچائے۔ یہ بات کس کی سمجھ میں آسکتی ہے۔ تم کو سوچنا چاہیے کہ جس پاک سرشت انسان نے چالیس برس تک کسی انسان پر جھوٹ نہ لگایا ہو، کیا وہ ایک دم ایسی جسارت کرسکتا ہے کہ معاذ اللہ خداوند قدوس پر جھوٹ باندھنے اور افتراء کرنے لگے ؟ ناچار ماننا پڑے گا کہ جو کلام الٰہی تم کو سناتا ہوں، اس کے بنانے یا پہنچانے میں مجھے اصلاً اختیار نہیں۔ خدا جو کچھ چاہتا ہے میری زبان سے تم کو سناتا ہے۔ ایک نقطہ یا زیر زبر تبدیل کرنے کا کسی مخلوق کو حق حاصل نہیں۔
Ayah 10:17

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

پھر اس سے بڑا ظالم کون جو باندھے اللہ پر بہتان یا جھٹلائے اس کی آیتوں کو بیشک بھلا نہیں ہوتا گناہ گاروں کا7

7 یعنی گنہگاروں اور مجرموں کو حقیقی کامیابی اور بھلائی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اب تم خود فیصلہ کرلو کہ ظالم و مجرم کون ہے اگر (بفرض محال) میں جھوٹ بنا کر خدا کی طرف منسوب کرتا ہوں تو مجھ سا ظالم کوئی نہیں ہوسکتا۔ لیکن گذشتہ آیت میں جو دلیل بیان کی گئی اس سے ثابت ہوچکا کہ یہ احتمال بالکل باطل ہے۔ پس جب میرا سچا ہونا ثابت ہے اور تم جہل یا عناد سے خدا کے کلام کو جھٹلا رہے ہو تو اب زمین کے پردہ پر تم سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 10:18

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا اس چیز کی جو نہ نقصان پہنچا سکے ان کو نہ نفع اور کہتے ہیں یہ تو ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے پاس1 تو کہہ کیا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو اس کو معلوم نہیں آسمانوں میں اور نہ زمین میں وہ پاک ہے اور برتر ہے اس سے جس کو شریک کرتے ہیں2

1 وہ معاملہ تو خدا اور پیغمبر کے ساتھ تھا۔ اب ان کی خدا پرستی کا حال سنیے کہ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جن کے قبضہ قدرت میں نفع و ضرر کچھ بھی نہیں۔ جب پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ بیشک بڑا خدا تو ایک ہے جس نے آسمان و زمین پیدا کیے مگر ان اصنام (بتوں) وغیرہ کو خوش رکھنا اس لیے ضروری ہے کہ یہ سفارش کر کے بڑے خدا سے دنیا میں ہمارے اہم کام درست کرا دیں گے اور اگر موت کے بعد دوسری زندگی کا سلسلہ ہوا تو وہاں بھی ہماری سفارش کریں گے باقی چھوٹے موٹے کام جو خود ان کے حدود اختیار میں ہیں ان کا تعلق تو صرف ان ہی سے ہے۔ بناء ً علیہ ہم کو ان کی عبادت کرنی چاہیے۔ 2 یعنی بتوں کا شفیع ہونا اور شفیع کا مستحق عبادت ہونا دونوں دعوے غلط اور بےاصل ہیں اور ظاہر ہے کہ خدا کے علم میں وہ ہی چیز ہوگی جو واقعی ہو۔ لہذا تعلیم الٰہی کے خلاف ان غیر واقعی اور خود تراشیدہ اصول کو حق بجانب ثابت کرنا گویا خدا تعالیٰ کو ایسی چیزوں کے واقعی ہونے کی خبر دینا ہے جن کا وقوع آسمان و زمین میں کہیں بھی اسے معلوم نہیں یعنی کہیں ان کا وجود نہیں۔ ہوتا تو اس کے علم میں ضرور ہوتا۔ پھر اس سے منع کیوں کرتا۔
Ayah 10:19

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور لوگ جو ہیں سو ایک ہی امت ہیں پیچھے جدا جدا ہوگئے اور اگر نہ ایک بات پہلے ہو چکتی تیرے رب کی تو فیصلہ ہوجاتا ان میں جس بات میں کہ اختلاف کر رہے ہیں3

3 ممکن تھا مشرکین کہتے کہ خدا نے تمہارے دین میں منع کیا ہوگا ہمارے دین میں منع نہیں کیا۔ اس کا جواب دے دیا کہ اللہ کا دین ہمیشہ سے ایک ہے۔ اعتقادات حقّہ میں کوئی فرق نہیں۔ درمیان میں جب لوگ بہک کر جدا جدا ہوگئے۔ خدا نے ان کے سمجھانے اور دین حق پر لانے کو انبیاء بھیجے۔ کسی زمانہ اور کسی ملت میں خدا نے شرک کو جائز نہیں رکھا باقی لوگوں کے باہمی اختلافات کو زبردستی اس لیے نہیں مٹایا گیا کہ پہلے سے خدا کے علم میں یہ بات طے شدہ تھی کہ یہ دنیا دار عمل (موقع واردات) ہے۔ قطعی اور آخری فیصلہ کی جگہ نہیں۔ یہاں انسانوں کو کسب و اختیار دے کر قدرے آزاد چھوڑا گیا ہے کہ وہ جو راہ عمل چاہیں اختیار کریں۔ اگر یہ بات پیشتر طے نہ ہوچکی ہوتی تو سارے اختلافات کا فیصلہ ایک دم کردیا جاتا۔
Ayah 10:20

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیوں نہ اتری اس پر ایک نشانی اس کے رب سے سو تو کہہ دے کہ غیب کی بات اللہ ہی جانے، سو منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں4

4 یعنی جن نشانیوں کی وہ فرمائش کرتے تھے، ان میں سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری ؟ جواب کا حاصل یہ ہے کہ صداقت کے نشان پہلے بہتیرے دیکھ چکے ہو۔ فرمائشی نشان دکھلانا ضروری نہیں نہ چنداں مفید ہے۔ آئندہ جو خدا کی مصلحت ہوگی وہ نشان دکھلائے گا۔ اس کا علم خدا ہی کو ہے کہ مستقبل میں کس شان اور نوعیت کے نشان ظاہر کرے گا۔ سو تم منتظر رہو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ " موضح القرآن " میں ہے۔ " یعنی اگر کہیں کہ ہم کا ہے سے جانیں کہ تمہاری بات سچ ہے، فرمایا کہ آگے دیکھو حق تعالیٰ اس دین کو روشن کرے گا اور مخالف ذلیل ہوں گے برباد ہوجائیں گے سو ویسا ہی ہوا۔ سچ کی نشانی ایک بار کافی ہے اور ہر بار مخالف ذلیل ہوں تو فیصلہ ہوجائے۔ حالانکہ فیصلے کا دن دنیا میں نہیں۔
Ayah 10:21

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب چکھائیں ہم لوگوں کو مزا اپنی رحمت کا بعد ایک تکلیف کے جو ان کو پہنچی تھی اس وقت بنانے لگیں حیلیہ ماری قدرتوں میں، کہہ دے کہ اللہ سب سے جلد بنا سکتا ہے حیلے تحقیق ہمارے فرشتے لکھتے ہیں حلیہ بازی تمہاری5

5 اہل مکہ پر حق تعالیٰ نے سات سال کا قحط مسلط کیا۔ جب ہلاکت کے قریب پہنچ گئے تو گھبرا کر حضور ﷺ سے دعاء کی درخواست کی اور وعدہ کیا کہ یہ عذاب اٹھ جائے تو ہم ایمان لے آئیں گے آپ ﷺ کی دعاء سے خدا نے سماں کردیا، قحط کی بلاء دور ہوئی تو پھر وہی شرارتیں کرنے لگے، خدا کی آیتوں کو جھٹلاتے اور اس کی قدرت و رحمت پر نظر نہ رکھتے۔ بلکہ انعامات الٰہیہ کو ظاہری اسباب و حیل اور محض بےاصل خیالات و اوہام کی طرف نسبت کرنے لگتے۔ اس کا جواب دیا کہ اچھا تم خوب مکروفریب اور حیلہ بازی کرلو۔ مگر یہ یاد رہے کہ تمہاری حیلہ بازیاں ایک ایک کر کے لکھی جا رہی ہیں۔ وہ سارا دفتر قیامت کے دن تمہارے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ پھر جب تمہاری کوئی حیلہ بازی فرشتوں سے مخفی نہیں، خدا کے علم محیط سے کہاں باہر رہ سکتی ہے۔ تم اپنے مکرو حیلہ سازی پر مغرور ہو، حالانکہ خدا کا جوابی مکر (تدبیر خفی) تمہارے مکرو تدبیر سے کہیں تیز اور سریع الاثر ہے وہ مجرم کی باگ اتنی ڈھیلی چھوڑ دیتا ہے کہ مجرم کو نشہ غفلت میں چور ہو کر سزا کا تصور بھی نہیں آتا۔ جب پیمانہ شقاوت لبریز ہوجاتا ہے تو دفعتاً پکڑ کر ٹینٹوا دبا دیتا ہے۔ لہذا عاقل کو چاہیے کہ خدا کی نرمی، بردباری اور خوش کن حالات کو دیکھ کر مغرور نہ ہو، نہ معلوم نرمی کے بعد کیسی سخت آنے والی ہے۔ جیسے آگے بحری سفر کی مثال میں بیان فرمایا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ " سختی کے وقت آدمی کی نظر اسباب سے اٹھ کر صرف اللہ پر رہتی ہے، جہاں سخت گھڑی گزری اور کام بن گیا پھر خدا کو بھول کر اسباب پر آرہتا ہے۔ ڈرتا نہیں کہ خدا پھر ویسی ہی تکلیف اور سختی کا ایک سبب کھڑا کر دے۔ اسی کے ہاتھ میں سب اسباب کی باگ ہے۔ چناچہ آگے دریائی سفر کی مثال میں اس کی ایک صورت بیان فرمائی۔
Ayahs 10:22–23

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی تم کو پھراتا ہے جنگل اور دریا میں یہاں تک کہ جب تم بیٹھے کشتیوں میں اور لے کر چلیں وہ لوگوں کو اچھی ہوا سے اور خوش ہوئے اس سے، آئی کشتیوں پر ہوا تند اور آئی ان پر، موج ہر جگہ سے اور جان لیا انہوں نے کہ وہ گھر گئے پکارنے لگے اللہ کو خالص ہو کر اس کی بندگی میں اگر تو نے بچا لیا ہم کو اس سے تو بیشک ہم رہیں گے شکر گزار

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب بچا دیا ان کو اللہ نے لگے شرارت کرنے اسی وقت زمین میں ناحق کی1 سنو لوگوں تمہاری شرارت ہے تمہی پر نفع اٹھالو دنیا کی زندگانی کا پھر ہمارے پاس ہے تم کو لوٹ کر آنا پھر ہم بتلا دیں گے جو کچھ کہ تم کرتے تھے2

1 یعنی ابتداء میں ہوا خوشگوار اور موافق تھی۔ مسافر ہنستے کھیلتے آرام سے چلے جا رہے تھے کہ یکایک ایک زور کا طوفانی جھکڑ چلنے لگا اور چاروں طرف سے پانی کے پہاڑ اٹھ کر کشتی (یا جہاز) سے ٹکرانے لگے۔ جب سمجھ لیا کہ ہر طرف سے موت کے منہ میں گھرے ہوئے ہیں۔ بھاگنے اور نکلنے کی کوئی سبیل نہیں، تو سارے فرضی معبودوں کو چھوڑ کر خدائے واحد کو پکارنے لگے جو اصل فطرت انسانی کا تقاضا تھا، ہر چیز سے مایوس ہو کر خالص خدا کی بندگی اختیار کی اور بڑے پکے عہد و پیمان باندھے کہ اگر مصیبت سے خدا نے نجات دی تو ہمیشہ اس کے شکر گذار رہیں گے۔ کوئی بات کفران نعمت کی نہ کریں گے لیکن جہاں ذرا امن نصیب ہوا ساحل پر قدم رکھتے ہی شرارتیں اور ملک میں اودھم مچانا شروع کردیا، تھوڑی دیر بھی عہد پر قائم نہ رہے۔ (تنبیہ) اس آیت میں ان مدعیان اسلام کے لیے بڑی عبرت ہے جو جہاز کے طوفان میں گھر جانے کے وقت بھی خدائے واحد کو چھوڑ کر غیر اللہ کو مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ فتح مکہ کے بعد ابو جہل کا بیٹا عکرمہ مسلمان نہ ہوا تھا۔ مکہ سے بھاگ کر بحری سفر اختیار کیا۔ تھوڑی دور جاکر کشتی کو طوفانی ہواؤں نے گھیر لیا، ناخدا نے مسافروں سے کہا کہ ایک خدا کو پکارو۔ یہاں تمہارے معبود کچھ کام نہ دیں گے۔ عکرمہ نے کہا کہ یہ ہی تو وہ خدا ہے جس کی طرف محمد ﷺ ہم کو بلاتے ہیں۔ اگر دریا میں رب محمد کے بدون نجات نہیں مل سکتی تو خشکی میں بھی اس کی دستگیری اور اعانت کے بغیر نجات پانا محال ہے۔ اے خدا ! اگر تو نے اس مصیبت سے نکال دیا تو میں واپس ہو کر محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دوں گا۔ مجھے امید ہے کہ وہ اپنے اخلاق کریمہ سے میری تقصیرات کو معاف فرمائیں گے۔ چناچہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف با اسلام ہوئے۔ ؓ 2 یعنی تمہاری شرارت کا وبال تمہیں پڑے گا۔ اگر چند روز شرارتیں کر کے فرض کرو کچھ دنیا کا نفع حاصل کر ہی لیا تو انجام کار پھر خدا کی طرف لوٹنا ہے۔ وہاں تمہارا سب کیا دھرا آگے آئے گا۔ خداوند رب العزت سزا دے کر بتلا دے گا کہ تمہارے کرتوت کیسے تھے۔
Ayah 10:24

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

دنیا کی زندگانی کی وہی مثل ہے جیسے ہم نے پانی اتارا آسمان سے پھر رلا ملا نکلا اس سے سبزہ زمین کا جو کہ کھائیں آدمی اور جانور3 یہاں تک کہ جب پکڑی زمین نے رونق اور مزین ہوگئی اور خیال کیا زمین والوں نے کہ یہ ہمارے ہاتھ لگے گی4 ناگاہ پہنچا اس پر ہمارا حکم رات کو یا دن کو پھر کر ڈالا اس کو کاٹ کر ڈھیر گویا کل یہاں نہ تھی آبادی اسی طرح ہم کھول کر بیان کرتے ہیں نشانیوں کو ان لوگوں کے سامنے جو غور کرتے ہیں5

3 بعض نے (فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ ) 10 ۔ یونس :24) کے معنی کثرت پیداوار کے لیے ہیں۔ کیونکہ جب زمین کی پیداوار زیادہ قوی ہوتی ہے تو گنجان ہو کر ایک جز دوسرے سے مل جاتا اور لپٹ جاتا ہے۔ بعض نے " بہ " کی " ب " کو مصاحبت کے لیے لے کر یہ معنی کیے ہیں کہ زمین کا سبزہ پانی کے ساتھ رل مل جاتا ہے۔ کیونکہ نباتات اجزائے مائیہ کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں، جس طرح کھانا انسان کا جزو بدن بنتا ہے۔ ایسے ہی پانی، گویا نباتات کی غذا بنتی ہے۔ مترجم (رح) کے صنیع سے مترشح ہوتا ہے کہ اختلاط سے یہ مراد لے رہے ہیں کہ زمین اور پانی کے ملنے سے جو سبزہ نکلتا ہے اس میں آدمی کی اور جانوروں کی خوراک مخلوط (رلی ملی) ہوتی ہے۔ مثلاً گیہوں کے درخت میں دانہ ہے جو انسان کی غذا بنتی ہے اور بھوسہ بھی ہے جو جانوروں کی خوراک ہے۔ اسی طرح درختوں میں پھل اور پتے لگتے ہیں جن میں سے ہر ایک کے کھانے والے علیحدہ ہیں۔ 4 یعنی مختلف الوان و اشکال کی نباتات میں زمین کو پر رونق اور مزین کردیا اور کھیتی وغیرہ ایسی تیار ہوگئی کہ مالکوں کو کامل بھروسہ ہوگیا کہ اب اس سے پورا فائدہ اٹھانے کا وقت آگیا ہے۔ 5 یعنی ناگہاں خدا کے حکم سے دن میں یا رات میں کوئی آفت پہنچی (مثلاً بگولا آگیا، یا اولے پڑگئے یا ٹڈی دل پہنچ گیا۔ وعلیٰ ہذا القیاس) اس نے تمام زراعت کا ایسا صفایا کر ڈالا، گویا کبھی یہاں ایک تنکا بھی نہ اگا تھا۔ ٹھیک اسی طرح حیات دنیا کی مثال سمجھ لو کہ خواہ کتنی ہی حسین و تروتازہ نظر آئے، حتی کہ بیوقوف لوگ اس کی رونق و دلربائی پر مفتون ہو کر اصلی حقیقت کو فراموش کردیں لیکن اس کی یہ شادابی اور زینت و بہجت محض چندہ روزہ ہے جو بہت جلد زوال و فناء کے ہاتھوں نسیًا منسیًا ہوجائے گی۔ حضرت شاہ صاحب نے اس مثال کو نہایت لطیف طرز میں خاص انسانی حیات پر منطبق کیا ہے یعنی پانی کی طرح روح آسمان (عالم بالا) سے آئی، کا لبد خاکی میں مل کر قوت پکڑی، دونوں کے ملنے سے آدمی بنا، پھر کام کیے انسانی اور حیوانی دونوں طرح کے۔ جب ہر ہنر میں پورا ہوا اور اس کے متعلقین کو اس پر بھروسہ ہوگیا، ناگہاں موت آپہنچی۔ جس نے ایک دم میں سارا بنا بنایا کھیل ختم کردیا۔ پھر ایسا بےنام نشان ہوا گویا کبھی زمین پر آباد ہی نہ ہوا تھا (فائدہ) لَیْلاً اَوْنَہَاراً (رات کو یا دن کو) شاید اس لیے فرمایا کہ رات کا وقت غفلت کا ہے اور دن میں لوگ عموماً بیدار ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب خدا کا حکم آپہنچے، پھر سوتا ہو یا جاگتا، غافل ہو یا بیدار کوئی شخص کسی حالت میں اس کو روک نہیں سکتا۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ بلاتا ہے سلامتی کے گھر کی طرف اور دکھلاتا ہے جس کو چاہے راستہ سیدھا6

6 یعنی دنیا کی زائل وفانی زندگی پر مت ریجھو۔ دارالسلام (جنت) کی طرف آؤ۔ خدا تم کو سلامتی کے گھر کی طرف بلا رہا ہے اور وہاں تک پہنچنے کا راستہ بھی دکھلاتا رہا ہے۔ وہ ہی گھر ہے جہاں کے رہنے والے ہر قسم کے رنج و غم، پریشانی، تکلیف، نقصان، آفت اور فناوزوال وغیرہ سے صحیح وسالم رہیں گے۔ فرشتے ان کو سلام کریں گے۔ خود رب العزّت کی طرف سے تحفہ سلام پہنچے گا۔
Ayah 10:26

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جنہوں نے کی بھلائی ان کے لیے ہے بھلائی اور زیادتی7 اور نہ چڑھے گی ان کے منہ پر سیاہی اور نہ رسوائی وہ ہیں جنت والے وہ اسی میں رہا کریں گے8

7 بھلے کام کرنے والوں کو وہاں بھلی جگہ ملے گی (یعنی جنت) اور اس سے زیادہ بھی کچھ ملے گا۔ یعنی حق تعالیٰ کی رضاء اور اس کا دیدار " زیادۃ " کی تفسیر " دیدار مبارک " سے کئی احادیث صحیحہ میں وارد ہوئی ہے اور بہت سے صحابہ وتابعین ؓ سے منقول ہے۔ حضرت صہیب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو چکیں گے تو ایک پکارنے والا پکارے گا " اے اہل جنت ! تمہارے لیے ایک وعدہ خدا کا باقی ہے جو اب پورا کرنا چاہتا ہے۔ جنتی کہیں گے کہ وہ کیا ہے ؟ کیا خدا نے اپنے فضل سے ہماری حسنات کا پلہ بھاری نہیں کردیا۔ کیا اس نے ہمارے چہروں کو سفید اور نورانی نہیں بنایا ؟ کیا اس نے ہم کو دوزخ سے بچا کر جنت جیسے مقام میں نہیں پہنچایا ؟ (یہ سب کچھ تو ہوچکا، آگے کون سی چیز باقی رہی) اس پر حجاب اٹھا دیا جائے گا۔ اور جنتی حق تعالیٰ کی طرف نظر کریں گے۔ پس خدا کی قسم کوئی نعمت جو ان کو عطا ہوئی ہے دولت دیدار سے زیادہ محبوب نہ ہوگی نہ اس سے بڑھ کر کوئی چیز ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرسکے گی۔ رزقنا اللہ سبحانہ، وتعالیٰ بمنہ وفضلہ۔ 8 یعنی عرصات محشر میں جو جس طرح کفار فجار کے چہروں پر سخت ذلت و ظلمت چھائی ہوگی۔ جنتیوں کے چہرے اس کے خلاف ہوں گے۔ سیاہی اور رسوائی کیسی وہاں تو نور ہی نور اور رونق ہی رونق ہوگی۔
Ayah 10:27

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے کمائیں برائیاں بدلہ ملے برائی کا اس کے برابر1 اور ڈھانک لے گی ان کو رسوائی کوئی نہیں ان کو اللہ سے بچانے والا گویا کہ ڈھانک دیئے گئے ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے2 وہ ہیں دوزخ والے وہ اسی میں رہا کریں گے

1 یعنی ہدی سے زائد نہ ہوگا۔ کم سزا دیں یا بعض برائیوں کو بالکل معاف کردیں ان کو اختیار ہے۔ 2 یعنی ان کے چہرے اس قدر سیاہ و تاریک ہوں گے گویا اندھیری رات کی تہیں ان پر جما دی گئی ہیں (اعاذنا اللہ منہا)
Ayah 10:28

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن جمع کریں گے ہم ان سب کو پھر کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو کر اپنی اپنی جگہ تم اور تمہارے شریک3 پھر تڑوادیں گے ہم آپس میں ان کو اور کہیں گے ان کے شریک تم ہماری تو بندگی نہ کرتے تھے

3 یعنی جن کو تم نے اپنے خیال میں خدا کا شریک ٹھہرا رکھا تھا، یا جن کو خدا کے بیٹے بیٹیاں کہتے تھے، مثلاً مسیح (علیہ السلام) جو نصاریٰ کے نزدیک " ابن اللہ " بلکہ " عین اللہ " تھے یا " ملائکۃ اللہ " یا " احبارو رہبان " کہ انہیں بھی ایک حیثیت سے خدائی کا منصب دے رکھا تھا، یا اصنام و اوثان جن پر مشرکین مکہ نے خدائی کے اختیارات تقسیم کر رکھے تھے، سب کو حسب مراتب اپنی اپنی جگہ کھڑے ہونے کا حکم ہوگا۔
Ayah 10:29

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

سو اللہ کافی ہے شاہد ہمارے اور تمہارے بیچ میں ہم کو تمہاری بندگی کی خبر نہ تھی4

4 یعنی اسی وقت عجیب افراتفری اور نفسی نفسی ہوگی۔ عابدین و معبودین میں جدائی پڑجائے گی اور دنیا میں اپنے اوہام و خیالات کے موافق جو رشتے جوڑ رکھے تھے، سب توڑ دیے جائیں گے۔ اس ہولناک وقت میں جبکہ مشرکین کو اپنے فرضی معبودوں سے بہت کچھ توقعات تھیں، وہ صاف جواب دے دیں گے کہ تمہارا ہم سے کیا تعلق۔ تم جھوٹ بکتے ہو کہ ہماری بندگی کرتے تھے (تم اپنے عقیدہ کے موافق جس چیز کو پوجتے تھے اس کے لیے وہ خدائی صفات تجویز کرتے تھے، جو فی الواقع اس میں موجود نہیں تھیں تو حقیقت میں وہ عبادت اور بندگی واقعی " مسیح " یا " ملائکہ " کی نہ ہوئی اور نہ حقیقت میں بےجان مورتیوں کی پوجا تھی۔ محض اپنے خیال اور وہم یا شیطان لعین کی پرستش کو فرشتے یا نبی یا نیک انسان یا کسی تصویر وغیرہ کے نامزد کردیتے تھے) خدا گواہ ہے کہ ہماری رضا یا اذن سے تم نے یہ حرکت نہیں کی۔ ہم کو کیا خبر تھی کہ انتہائی حماقت و سفاہت سے خدا کے مقابلہ میں ہمیں معبود بنا ڈالو گے۔ (تنبیہ) یہ گفتگو اگر حضرت " مسیح " وغیرہ ذوی العقول مخلوق کی طرف سے مانی جائے تو کوئی اشکال نہیں۔ اور " اصنام " (بتوں) کی جانب سے ہو تو کچھ بعید نہیں کہ حق تعالیٰ مشرکین کی انتہائی مایوسی اور حسرت ناک درماندگی کے اظہار کے لیے اپنی قدرت کاملہ سے پتھر کی مورتیوں کو گویا کر دے۔ (قَالُوْٓا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْٓ اَنْــطَقَ كُلَّ شَيْءٍ ) 41 ۔ فصلت :21)
Ayah 10:30

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

وہاں جانچ لے گا ہر کوئی جو اس نے پہلے کیا تھا اور رجوع کریں گے اللہ کی طرف جو سچا مالک ہے ان کا اور جاتا رہے گا ان کے پاس سے جو جھوٹ باندھا کرتے تھے5

5 یعنی جھوٹے اور بےاصل توہمات سب رفو چکر ہوجائیں گے۔ ہر شخص بہ رائ العین مشاہدہ کرلے گا کہ اس سچے مالک کے سوا رجوع کرنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ اور ہر ایک انسان کو اپنے تمام برے بھلے اعمال کا اندازہ ہوجائے گا کہ کتنا وزن رکھتے ہیں۔
Ayah 10:31

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

تو پوچھ کون روزی دیتا ہے تم کو آسمان سے اور زمین سے6 یا کون مالک ہے کان اور آنکھوں کا7 اور کون نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور نکالتا ہے مردہ کو زندہ سے8 اور کون تدبیر کرتا ہے کاموں کی9 سو بول اٹھیں گے کہ اللہ تو تو کہہ پھر ڈرتے نہیں ہو

6 آسمان کی طرف سے بارش اور حرارت شمس وغیرہ پہنچتی ہے اور زمینی مواد اس کے ساتھ ملتے ہیں تب انسان کی روزی مہیا ہوتی ہے۔ 7 یعنی ایسے عجیب و غریب محیر العقول طریقہ سے کس نے کان اور آنکھ پیدا کی۔ پھر ان کی حفاظت کا سامان کیا۔ کون ہے جو ان تمام قوائے انسانی کا حقیقی مالک ہے کہ جب چاہے عطا فرما دے اور جب چاہے چھین لے۔ 8 مثلاً " نطفہ ' یا " بیضہ " سے جاندار کو، پھر جاندار سے نطفہ اور بیضہ کو نکالتا ہے۔ یا روحانی اور معنوی طور پر جو شخص یا قوم مردہ ہوچکی اس میں سے زندہ دل افراد پیدا کرتا ہے اور زندہ قوموں کے اخلاف پر ان کی بدبختی سے موت طاری کردیتا ہے۔ 9 یعنی دنیا کے تمام کاموں کی تدبیر و انتظام کون کرتا ہے۔
Ayah 10:32

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

سو یہ اللہ ہے رب تمہارا سچا پھر کیا رہ گیا سچ کے پیچھے مگر بھٹکنا سو کہاں سے لوٹے جاتے ہو1

1 مشرکین کو بھی اعتراف تھا کہ یہ امور کلیہ اور عظیم الشان کام اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ اس لیے فرمایا کہ جب اصل خالق ومالک اور تمام عالم کا مدبر اسی کو مانتے ہو، پھر ڈرتے نہیں کہ اس کے سوا دوسروں کو معبود بناؤ۔ معبود تو وہ ہی ہونا چاہیے، جو خالق کل، مالک الملک، رب مطلق اور تصرف علی الاطلاق ہو۔ اس کا اقرار کر کے کہاں الٹے پاؤں واپس جا رہے ہو۔ جب سچا وہ ہی ہے تو سچ کے بعد بجز جھوٹ کے کیا رہ گیا۔ سچ کو چھوڑ کر جھوٹے اوہام میں بھٹکنا عاقل کا کام نہیں ہوسکتا۔
Ayah 10:33

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

اسی طرح ٹھیک آئی بات تیرے رب کی ان نافرمانوں پر کہ یہ ایمان نہ لائیں گے2

2 یعنی اللہ نے ازل سے ان متمرد سرکشوں کی قسمت میں ایمان نہیں لکھا۔ جس کا سبب علم الٰہی میں ان کی سرکشی اور نافرمانی ہے۔ اس طرح خدا کی لکھی ہوئی بات ان پر فسق و نافرمانی کی وجہ سے راست آئی۔
Ayah 10:34

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

پوچھ کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو پیدا کرے خلق کو پھر دوبارہ زندہ کرے تو کہہ اللہ پہلے پیدا کرتا ہے پھر اس کو دہرائے گا سو کہاں سے پلٹے جاتے ہو3

3 یہاں تک " مبدأ " کا ثبوت تھا۔ اب " معاد " کا ذکر ہے۔ یعنی جب اعتراف کرچکے کہ زمین، آسمان، سمع وبصر، موت وحیات، سب کا پیدا کرنے والا اور تھامنے والا وہ ہی ہے تو ظاہر ہے کہ مخلوق کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا اور دوہرا دینا بھی اسی کا فعل ہوسکتا ہے پھر انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی جب وہ خود اس دہرانے کی خبر دیتا ہے تو اس کی تسلیم میں کیا عذر ہے " مبدأ " کا اقرار کر کے " معاد " کی طرف سے کہاں پلٹے جاتے ہو۔
Ayah 10:35

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

پوچھ کوئی ہے تمہارے شریکوں میں جو راہ بتلائے صحیح تو کہہ اللہ راہ بتلاتا ہے صحیح تو اب جو کوئی راہ بتائے صحیح اس کی بات ماننی چاہیے یا اس کی جو آپ نہ پائے راہ مگر جب کوئی اور اس کو راہ بتلائے سو کیا ہوگیا تم کو کیسا انصاف کرتے ہو4

4 " مبدأ " و " معاد " کے بعد درمیانی وسائط کا ذکر کرتے ہیں۔ یعنی جس طرح اول پیدا کرنے والا اور دوبارہ چلانے والا وہ ہی خدا ہے، ایسے ہی " معاد " کی صحیح راہ بتلانے والا بھی کوئی دوسرا نہیں۔ خدا ہی بندوں کی صحیح اور سچی راہنمائی کرسکتا ہے۔ مخلوق میں کوئی بڑا ہو یا چھوٹا، سب اسی کی راہنمائی کے محتاج ہیں۔ اسی کی ہدایت و راہنمائی پر سب کو چلنا چاہئے۔ بت مسکین تو کس شمار میں ہیں جو کسی کی راہنمائی سے بھی چلنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ بڑے بڑے مقربین (انبیاء و ملائکہ علیہم السلام) بھی برابر یہ اقرار کرتے آئے ہیں کہ خدا کی ہدایت و دستگیری کے بدون ہم ایک قدم نہیں اٹھا سکتے۔ ان کی راہنمائی بھی اسی لیے بندوں کے حق میں قابل قبول ہے کہ خدا بلاواسطہ ان کی راہنمائی فرماتا ہے۔ پھر یہ کس قدر ناانصافی ہے کہ انسان اس ہادی مطلق کو چھوڑ کر باطل اور کمزور سہارے ڈھونڈے یا مثلاً احبارو رہبان، برہمنوں اور مہنتوں کی راہنمائی پر اندھا دھند چلنے لگے۔
Ayah 10:36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور وہ اکثر چلتے ہیں محض اٹکل پر سواٹکل کام نہیں دیتی حق بات میں کچھ بھی5 اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

5 جب معلوم ہوچکا کہ " مبدی "، " معید " اور " ہادی " وہ ہی اللہ ہے تو اس کے خلاف شرک کی راہ اختیار کرنے والوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کے ہاتھ میں کون سی دلیل وبرہان ہے جس کی بناء پر " توحید " کے مسلک قویم و قدیم کو چھوڑ کر ضلالت کے گڑھے میں گرے جا رہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے پاس سوائے ظنوں و اوہام اور اٹکل پچو باتوں کے کوئی چیز نہیں۔ بھلا اٹکل کے تیر حق و صداقت کی بحث میں کیا کام دے سکتے ہیں۔
Ayah 10:37

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور وہ نہیں یہ قرآن کہ کوئی بنا لے اللہ کے سوا6 اور لیکن تصدیق کرتا ہے اگلے کلام کی7 اور بیان کرتا ہے ان چیزوں کو جو تم پر لکھی گئیں جس میں کوئی شبہ نہیں پروردگار عالم کی طرف سے8

6 پچھلی آیات میں فرمایا تھا کہ مشرکین محض ظن وتخمین کی پیروی کرتے ہیں۔ حالانکہ پیروی کے قابل اس کی بات ہے جو صحیح راستہ بتلائے۔ اسی مناسبت سے یہاں قرآن کریم کا ذکر شروع کیا کہ آج دنیا میں وہی ایک کتاب صحیح راستہ بتلانے والی اور ظنون و اوہام کے مقابلہ میں سچ حقائق پیش کرنے والی ہے۔ اس کے علوم و معارف، احکام و قوانین اور معجزانہ فصاحت و جزالت پر نظر کر کے کہنا پڑتا ہے کہ یہ قرآن وہ کتاب نہیں جو خداوند قدوس کے سوا کوئی دوسرا شخص بنا کر پیش کرسکے۔ پورا قرآن تو بجائے خود رہا اس کی ایک سورت کا مثل لانے سے بھی تمام جن و انس عاجز ہیں جیسا کہ آگے آتا ہے۔ 7 قرآن کا کلام الٰہی ہونا اس سے ظاہر ہے کہ وہ تمام کتب سماویہ سابقہ کی سچائی پر مہر تصدیق ثبت کرتا، ان کے اصل مضامین کی حفاظت اور ان کی پیشین گوئیوں کی صداقت کا اعلانیہ اظہار کرتا ہے۔ 8 یعنی احکام الٰہیہ اور ان حقائق و معارف کو جو پچھلی کتابوں میں نہایت اجمالی طور پر مذکور تھیں کافی تفصیل سے بیان کرتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس کتاب میں عاقل کے لیے شک و شبہ کی قطعاً گنجائش نہیں۔ ایسا جامع، بلیغ، پر حکمت اور نور صداقت سے بھرا ہوا کلام رب العالمین ہی کا ہوسکتا ہے۔
Ayah 10:38

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا لوگ کہتے ہیں کہ یہ بنا لایا ہے تو کہہ دے تم لے آؤ ایک ہی سورت ایسی اور بلا لو جس کو بلا سکو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو9

9 یعنی اگر میں بنا لایا ہوں تو تم بھی میری طرح بشر ہو سب مل کر ایک سورت جیسی سورت بنا لاؤ۔ ساری مخلوق کو دعوت دو ، جن و انس کو جمع کرلو، تمام جہان کے فصیح وبلیغ، پڑھے لکھے اور اَن پڑھ اکٹھے ہو کر ایک چھوٹا سا کلام قرآن کی مانند پیش کردو تو سمجھ لیا جائے گا کہ قرآن بھی کسی بشر کا کلام ہے جس کا مثل دوسرے لوگ لاسکتے ہیں۔ مگر محال ہے کہ ابدالآباد تک کوئی مخلوق ایسا حوصلہ کرسکے۔ قرآن کریم ہی وہ کتاب ہے جس میں تہذیب اخلاق، تمدن و معاشرت، حکومت و سیاست، معرفت و روحانیت، تزکیہ نفوس، تنویر قلوب، غرضیکہ وصول الی اللہ اور تنظیم و رفاہیۃ خلائق کے وہ تمام قوانین و طریق موجود ہیں، جن سے آفرینش عالم کی غرض پوری ہوتی ہے۔ اور جن کی ترتیب و تدوین کی ایک اُمّی قوم کے اُمّی فرد سے کبھی امید نہیں ہوسکتی تھی۔ پھر ان تمام علوم و ہدایات کا تکفل کرنے کے ساتھ اس کتاب کی غلغلہ انداز فصاحت و بلاغت، جامع و مؤثر اور دلربا طرز بیان، دریا کا سا تموج، سہل ممتنع سلاست و روانی، اسالیب کلام کا تفنن اور اس کی لذت و حلاوت اور شہنشاہانہ شان و شکوہ یہ سب چیزیں ایسی ہیں جنہوں نے بڑے زور و شور اور بلند آہنگی سے سارے جہان کو مقابلہ کا چیلنج دے دیا ہے۔ جس وقت سے قرآن کے جمال جہاں آراء نے غیب کی نقاب الٹی اور اولاد آدم کو اپنے سے روشناس کیا، اس کا برابر یہ ہی دعویٰ رہا کہ میں خدائے قدوس کا کلام ہوں۔ اور جس طرح خدا کی زمین جیسی زمین، خدا کے سورج جیسا سورج، اور خدا کے آسمان جیسا آسمان پیدا کرنے سے دنیا عاجز ہے، اسی طرح خدا کے قرآن جیسا قرآن بنانے سے بھی دنیا عاجز رہے گی۔ قرآن کے مٹانے کی لوگ سازشیں کریں گے، مکر گانٹھیں گے، مقابلہ کے جوش میں کٹ مریں گے۔ اپنی مدد کے لیے دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں کو دعوت دیں گے۔ کوئی حیلہ، کوئی تدبیر، کوئی داؤ پیچ اٹھا نہ رکھیں گے، اپنے کو اور دوسروں کو مصیبت میں ڈالیں گے۔ سارے مصائب و دوا ہی کا تحمل ان کے لیے ممکن ہوگا مگر قرآن کی چھوٹی سی سورت کا مثل لانا ممکن نہ ہوگا۔ (قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا) 17 ۔ الاسراء :88)
Ayah 10:39

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ جھٹلانے لگے جس کے سمجھنے پر انہوں نے قابو نہ پایا1 اور ابھی آئی نہیں اس کی حقیقت2 اسی طرح جھٹلاتے رہے ان سے اگلے سو دیکھ لے کیسا ہوا انجام گناہگاروں کا

1 یعنی قرآن کو " مفتریٰ " کہنا سمجھ کر نہیں، محض جہل و سفاہت اور قلت تدبر سے ہے۔ تعصب وعناد انہیں اجازت نہیں دیتا کہ ٹھنڈے دل سے قرآن کے حقائق اور وجوہ اعجاز میں غور کریں۔ بدفہمی یا قوائے فکریہ کے ٹھیک استعمال نہ کرنے کی وجہ سے جب قرآن پاک کے دلائل و عجائب کو پوری طرح نہیں سمجھ سکے، تو جھٹلانا شروع کردیا۔ 2 بعض مفسرین نے " تاویل " کے معنی " تفسیر " کے لیے ہیں۔ یعنی مطالب قرآن ان کے دماغ میں نہیں اترے اور بعض نے قرآنی پیشین گوئیاں مراد لی ہیں۔ یعنی تکذیب کی ایک وجہ بعض سادہ لوحوں کے حق میں یہ بھی ہے کہ مستقبل کے متعلق قرآن نے جو خبریں دی ہیں۔ ان کے وقوع کا ابھی وقت نہیں آیا۔ لہذا وہ منتظر ہیں کہ ان کا ظہور کب ہوتا ہے۔ مگر سوچنا چاہیے کہ یہ وجہ تکذیب کی کیسے ہوسکتی ہے ؟ زائد از زائد توقف کی وجہ ہو تو ہو۔
Ayah 10:40

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور بعضے ان میں یقین کریں گے قرآن کا اور بعضے یقین نہ کریں گے اور تیرا رب خوب جانتا ہے شرارت والوں کو3

3 یعنی آگے چل کر ان میں کچھ لوگ مسلمان ہونے والے ہیں۔ انہیں چھوڑ کر جو باقی لوگ شرارت پر قائم رہیں گے، خدا سب کو خوب جانتا ہے۔ موقع پر مناسب سزا دے گا۔