Ayah 10:11:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ (جسے حروف مقطعات) سے مراد ہیں سورتوں کو کھولنے والے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے یہ بھی ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں وابن النجار (رح) نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ ہوں اور میں دیکھتا ہوں (ساری مخلوق کو ) ۔
3:۔ ابن منذر (رح) (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ دیکھ رہا ہوں۔
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ دیکھ رہا ہوں۔
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ اور حمٓ اور نٓ“ یہ سب اسم مقطع ہیں (یعنی یہ آیت ایک اسم ہے جو الگ الگ حروس میں لھ گیا اور وہ اسم الرحمن ہے۔
6:ـ۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الرحیم “ اور نٓ میں لفظ رحمن کے حروف ہیں جدا جدا کئے ہوئے۔
7:۔ ابوالشیخ (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ اس میں الف اور لام اور راء یہ لفظ رحمن میں سے ہیں۔
واما قولہ : تلک ایت الکتب الحکیم (1)
8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” تلک “ سے مراد وہ ہے ھذ۔
9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) تلک ایت الکتب “ سے مراد ہے وہ کتابیں جو قرآن مجید سے پہلے گزر گئیں۔
Ayah 10:2رسول اللہ ﷺ بن آدم میں سے تھے۔
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا تو عرب نے اس کو ماننے سے انکار کردیا ان میں سے جنہوں نے انکار کیا انہوں نے کہا کہ اللہ اس سے اعظم اور بلند تر ہیں اس بات سے کہ ان کا رسول محمد ﷺ کی طرح ایک بشر ہو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” اکان للناس عجبا ان اوحینا الی رجل منہم “ (اور فرمایا) ” وما ارسلنا من قبلک من رسول الانوحی الیہ “ (الانبیاء آیات)
جب اللہ تعالیٰ نے ان پر دلائل کو باربار ذکر فرمایا تو انہوں نے کہا جب (رسول) ایک بشر ہے تو محمد ﷺ کے علاوہ (دوسرے بڑے لوگ) رسالت کے زیادہ حقدار ہیں (اسی کو فرمایا) (آیت) ” وقالوا لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم (31) (یعنی ان بستیوں یعنی مکہ اور طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر قرآن کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ وہ کہتے تھے کہ مکہ سے ولید بن مغیرہ (نعوذ باللہ) محمد ﷺ سے زیادہ عزت والا ہے اور اسی طرح مسعود بن عمر وثقفی طائف سے (زیادہ عزت والے ہیں) تو اللہ تعالیٰ نے (ان کی بات کو) رد کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” اھم یقسمون رحمت ربک “ (زخرف آیت 32) واللہ اعلم۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وبشرالذین امنوا ان لہم قد صدق عند ربہم “ سے مراد ہے جو کچھ ان کے لئے سعادت مندی میں گزر چکا اول ذکر میں۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ان لہم قدم صدق “ سے مراد ہے ان کے لئے اچھا اجر ہے ان کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کے سبب۔
4:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) قدم صدق عندربہم “ کے بارے میں فرمایا ” القدم “ سے مراد وہ عمل جو انہوں نے آگے بھیجا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ونکتب ما قدموا وثارہم “ (یسین آیات 12) والا تار سے مراد ہے ان کی گزر گاہ اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ چلے دو ستونوں کے درمیان ان کی مسجد میں پھر فرمایا یہ اثر لکھا ہوا۔
5:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) قدم صدق “ سے مراد ہے صدق کا ثواب۔
6:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) قدم صدق “ سے مراد ہے کہ وہ اسماعیل پر بڑھتے ہیں اپنے رب کے پاس۔
7:۔ ابن جرر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) قدم صدق “ سے مراد ہے خیر اور نیکی۔
8:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) قدم صدق “ سے مراد ہے سلف صدق (یعنی نیک عمل کے ساتھ آگے بڑھنا)
9:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) قدم صدق “ سے مراد ہے سلف صدق۔
10:۔ ابوالشیخ (رح) نے بکاربن مالک (رح) سے روایت کہ (آیت) قدم صدق عندربہم “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ قیامت کے دن ان کے لئے شکار پیش کریں گے۔
11:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان لہم قدم صدق عندربہم “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ قیامت کے ان کے لئے شکار پیش کریں گے۔
12:۔ ابن مردویہ (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان لہم قدم صدق عندربہم “ کے بارے میں فرمایا کہ محمد ﷺ قیامت کے دن ان کے لئے سفارش فرمائیں گے۔
13:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قدم صدق عندربہم “ کے بارے میں فرمایا کہ محمد ﷺ سچے سفارش کرنے والے ہیں ان کے لئے قیامت کے دن۔
14:۔ امام حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان لہم قدم صدق “ سے مراد ہے سلف صدق (یعنی آگے بڑھنا نیک عمل کے ساتھ)
15:۔ ابن ابی حاتم ابوالشیخ (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان لہم قدم صدق عندربہم “ کے بارے میں فرمایا کہ ان کی مصیبت ان کے بارے میں (یعنی ان کی مصیبت ان کے نبی کریم ﷺ نے اٹھائی)
16:۔ ابن جریر (رح) نے زید بن اسلم سے روایت کیا کہ (آیت) ” قدم صدق “ سے مراد ہے محمد ﷺ ۔ اما قولہ تعالیٰ : قال الکفرون ان ھذا لسحر مبین (2)
17:۔ ابو الشیخ (رح) نے زائدہ (رح) سے روایت کیا کہ سلیمان نے سورة یونس میں دو آیتوں میں ” (آیت) ” لسحر مبین “ پڑھا۔
Ayahs 10:3–41:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یدبرالامر “ کہ وہ ہر کام کا اکیلا ہی فیصلہ کرتا ہے اور فرمایا (آیت) انہ یبدوا الخلق ثم یعیدہ “ یعنی وہی زندہ کرتا ہے مخلوق کو پھر وہی اس کو موت دے گا پھر وہ اس کو زندہ کرے گا۔
Ayah 10:5آسمانوں زمین کی تخلیق چھ دنوں میں ہوئی :
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہمارے رب نے کلام فرمایا دو کلموں کے ساتھ ان میں سے ایک سورج بن گیا اور دوسرا چاند۔ اور دونوں مکمل طور پر نور سے بنے ہیں اور قیامت کے دن دونوں جنت کی طرف لوٹا دئیے جائیں گے۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” جعل الشمس ضیآء والقمر نورا “ سے مراد ہے کہ سورج چاند کی طرح نہیں بنایا گیا تاکہ رات کو دن سے علیحدہ پہچان کرادے۔ اور یہی قول ہے (آیت) ” فمحونا ایۃ الیل “
3:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوالذی جعل الشمس ضیآء والقمر نورا “ سے مراد ہے کہ ان دونوں دونوں کے چہرے آسمانوں کی طرف ہیں اور دونوں کی پشتیں زمین کی طرف ہیں۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبد اللہ بن عمر سے روایت کیا کہ سورج اور چاند دونوں کے چہرے عرش کی طرف ہیں اور ان کی پشتیں زمین کی طرف ہیں۔
5:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ان کے آگے آگ تھی جب وہ خوب بھڑکی (اور) تو آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم کہ جس کے ہاتھ میں میری جان بیشک یہ بڑی آگ ہے اللہ تعالیٰ کی ذات کی پناہ طلب کررہی ہے اور آپ نے چاند کو دیکھا جب وہ غروب ہونے قریب تھا اور فرمایا اللہ کی قسم کہ وہ اب رو رہا ہے۔
6:۔ ابن ابی شیبہ (رح) سعیدبن مسیب ؓ سے روایت کیا کہ فرمایا کہ سورج نہیں طلوع ہوتا یہاں تک کہ تین سو ستر فرشتے اس کے ساتھ ہوتے ہیں کیا تو نے امیہ بن ابی صلت کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
لیست بطالعۃ لنا فی رسلنا الا معذبہ والاتجلد
ترجمہ ہمارے لئے ہمارے رسولوں میں سے کسی کا سورج طلوع نہیں ہوا مگر یہ کہ اسے عذاب دیا گیا یا اسے کوڑے لگائے گئے۔
Ayah 10:61:۔ ابوالشیخ (رح) نے حذیفہ عبدی (رح) سے روایت کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت اسے دیکھے بغیر نہ کی جائے تو کسی نے بھی اس کی عبادت نہ کی لیکن ایمان والے لوگوں نے غور وفکر کیا اس رات کے آنے میں کہ اس نے ہر چیز کو بھر دیا اور ہر چیز کو ڈھانک دیا ہے۔ اور دن کے آنے میں غور وفکر کیا کہ جب وہ آیا کہ رات کے غلبہ کو مٹا دیا اور ان بادلوں میں غور وفکر کیا جن کو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر کردیا اور ستاروں میں اور گرمی اور سردی میں غور وفکر کیا اللہ کی قسم برابر مومن لوگ اس میں فکر کرتے رہتے ہیں کہ جن کو ان کے رب تبارک وتعالیٰ نے پیدا فرمایا یہاں تک کہ ان کے دلوں نے یقین کرلیا اپنے رب عزوجل کے بارے میں گویا کہ انہوں نے اللہ کی عبادت اسے دیکھ کر کی۔
Ayahs 10:7–81:۔ ابن مردویہ وابو الشیخ رحمہما اللہ ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ان الذین لا یرجون لقآءنا ورضوا بالحیوۃ الدنیا “ سے مراد کفر کرنے والے ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” ورضوا بالحیوۃ الدنیا واطمانوا بھا “ مثل اس قول کے ہے۔ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیہم اعمالہم فیھا وھم فیھا “ (ھود آیت 15)
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے یوسف بن اسباط (رح) سے روایت کیا کہ دنیا ظالموں کے لئے نعمت والا گھر ہے اور علی بن ابی طالب نے فرمایا دنیا بدبودار لاش ہے جس شخص نے اس کا ارادہ کیا تو اس کو چاہئے کہ وہ کتوں کی مخالطت پر صبر کرے۔
Ayah 10:91:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یھدیہم ربہم بایمانیہم “ یعنی ان کے لئے نور ہوگا جس کے ساتھ وہ چلیں گے۔
مومن کا عمل حسین صورت میں ہوگا :
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یھدیہم ربہم بایمانیہم “ کے بارے میں فرمایا کہا کہ حسن (رح) نے ہم کو بیان فرمایا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل حسین صورت میں اور پاکیزہ خوشبو کے ساتھ اس کے سامنے ہوگا۔ وہ اس سے کہے گا تو کون ہے اللہ کی قسم ! بلا شبہ میں تجھ کو دیکھ رہا ہوں سچے آدمی کا عین (یعنی حقیقت) وہ اس سے کہے گا کہ میں تیرا عمل ہوں یعی وہ اس کے لئے ایک نور ہوگا اور اس کے لئے رہنمائی کرنے والا بن جائے گا جنت کی طرف اور کافر جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل انتہائی بدصورت اور بری شکل میں اس کے سامنے ہوگا اور اس سے بدبوآرہی ہوگی، اور وہ اس سے کہے گا تو کون ہے ؟ میں تجھ کو دیکھ رہا ہوں ایک برے آدمی کا عین۔ وہ کہے گا میں تیرا عمل ہوں پھر وہ اس کو لے کر چلے گا یہاں تک کہ اس کو دوزخ میں داخل کردے گا۔
3:۔ ابن جریر وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ مومن بندہ کو بہت خوبصورت صورت میں ظاہر کیا جائے گا اور اس کی خوشبو بہت پاکیزہ ہوگی اور اپنے جانب (یعنی عمل کرنے والے) کے سامنے آئے گا اور اسے ہر قسم کی بھلائی اور خیر کی خوشخبری دے گا وہ اس سے پوچھے گا تو کون ہے ؟ تو وہ جواب دے گا کہ میں تیرا نیک عمل ہوں پس اسے اس کے سامنے نور بنادیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اپنے صاحب (یعنی عمل کرنے والے) کے ساتھ رہے گا یہاں تک کہ اسے جہنم میں پھینک دے گا۔
4:۔ ابوالشیخ (رح) نے ربیع (رح) نے (آیت) ” یھدیہم ربہم بایمانہم “ کی تفسیر میں فرمایا یہاں تک کہ ان کا رب ان کو جنت میں داخل کردے گا نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ نے بیان فرمایا اس دن تم میں سے ہر ایک اپنے (جنت والے) گھر کو اپنے اس ( دنیا والے) گھر سے زیادہ جاننے والا ہوگا پھر علماء کے بارے میں یہ ذکر کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت کی سات منزلوں میں اتارے گا اور ان منازل کی ہر منزل پر سات فضائل والے لوگ ہوں گے پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو چیز وہ مانگیں گے اور جس کا خیال ان کے دل میں آئے گا وہ ان کی طرف دوڑتی ہوئی حاضر ہوگی یہاں تک کہ وہ سیر ہوجائیں گے ان کے کھانے سے ڈکار آئے گا اور اس میں مشک کی خوشبو ہوگی اس میں حدث لاحق نہ ہوگی پھر وہ سانس کے ساتھ حمد وثنا اور تسبیح کرنے لگیں گے پھر وہ جنگ کے پھل ہر حال میں چنیں گے کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے اور ٹیک لگائے ہوئے یعنی وہ جس حال پر بھی ہوں گے جنتی کے منہ تک وہ چیز جانے سے پہلے دوبارہ وہ چیز پہلے کی طرح اپنے مقام میں لگ جائے گی یہ رحمت کی برکت ہے اور رحمن کی برکت ہے وہ ختم نہ ہوگی یہ وہ خزانے ہیں جو کبھی ختم نہ ہوں گے جو چیز ان سے لے لی گئی اس کے سبب کمی نہیں آئے گی اور ان میں سے جو چیز باقی چھوڑ دی گئی وہ کبھی خراب نہ ہوگی۔
Ayah 10:10سبحان اللہ کہنے کی فضلیت :
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب (جنتی لوگ) (آیت) ” سبحنک اللہم “ کہیں گے تو ان کے لئے ان کے رب کی طرف سے جنت میں وہ چیز میسر ہوگئ جس کی وہ خواہش کریں گے۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ جنت والے جب کسی چیز کی خواہش کریں گے تو کہیں گے (آیت) ” سبحنک اللہم وبحمدک “ تو اچانک ہی وہ چیز ان کے پاس ہوگی اسی کو فرمایا (آیت) دعوہم فیھا سبحنک اللہم “
3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ جنت والے جب کھانا مانگیں گے تو کہیں گے (آیت) سبحنک اللہم “ اس میں سے ایک (کی خدمت) کے لئے دس ہزار خادم کھڑے ہوں گے ہر خادم کے پاس سونے کا ایک پیالہ ہوگا جس میں ایسا کھانا ہوگا (ایسا کھانا) دوسرے (پیالہ) میں نہ ہوگا پس وہ ان سب میں سے کھائے گا۔
4:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) دعوہم فیھا سبحنک اللہم “ اس جنت میں اور ان کا یہ ایک قول ہے۔
5:۔ ابن جریر وابن منذر وابو الشیخ نے ابن جریر (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ خبر دی گئی کہ ان کا (آیت) ” سبحنک اللہم “ کہنا (جب ہوگا) کہ جب ان کے پاس سے کوئی پرندہ گزرے گا جس کی وہ خواہش کریں گے تو وہ کہیں گے (آیت) ” سبحنک اللہم “ اس (کلمہ) کے ذریعہ ان کا پلانا ہوا تو ایک فرشتہ ان کے پاس وہ لے آئے گا جس کی انہوں نے خواہش کی۔ جب وہ فرشتہ ان کے پاس وہ چیز لائے گا جس کی وہ خواہش کررہے تھے تو وہ ان کو سلام کرے گا اور یہ لوگ اس کو جواب دیں گے۔ اسی کو فرمایا (آیت) ” وتحیتہم فیھا سلم “ جب یہ لوگ اپنی حاجت کے بقدر کھالیں گے تو وہ کہیں گے (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واخر دعوہم ان الحمد للہ رب العلمین “
6:۔ ابن ابی حاتم ابو الشیخ (رح) نے ابن ابی العذیل (رح) سے روایت کیا کہ ” الحمد “ پہلا کلام اور آخری کلام ہوگا پھر (یہ آیت) ” واخر دعوہم ان الحمد للہ رب العلمین “ تلاوت کی۔
Ayah 10:111:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ولو یعجل اللہ للناس الشر الستعجالہم بالخیر “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ انسان کا قول ہے اپنی اولاد اور اپنے مال کے لئے جب وہ اس پر غصہ ہوتا ہے (اور کہتا ہے) اے اللہ اس میں برکت نہ دے اور اس پر لعنت بھیج (آیت) لقضی الیہم اجلہم “ یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کردیتا اور اس کو موت دے دیتا جس کو انسان نے بددعا کی۔
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ولو یعجل اللہ للناس الشر الستعجالہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو یہ کہنا ہے اے اللہ اس کو رسوا کر اور اس پر لعنت بھیج راوی نے کہا کہ وہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے جیسے وہ اس دعا کو پسند کرتا ہے۔ اے اللہ اس کی مغفرت فرما دے اور اے اللہ اس پر رحم فرما دے۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ وہ کسی آدمی کا بدعا کرنا اپنی ذات پر اور اپنے مال پر جو مکروہ اور ناپسندیدہ ہو (اور یہ چاہتا ہے) اس کی دعا قبول کی جائے۔
Ayahs 10:12–131:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” دعانا لجنبہ “ سے مراد ہے لیٹے ہوئے (ہم کو پکارتا ہے)
2:۔ ابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” دعانا لجنبہ اوقاعدا اوقآئما “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ وہ ہم کو ہر حال میں پکارتا ہے۔
3:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کو پکار اپنے خوشی کے دن میں وہ تیری دعا قبول کرے گا تیرے تکلیف کے دن میں۔
Ayah 10:141:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ثم جعلنکم خلٓئف فی الارض من بعدہم لننظر کیف تعملون (14) کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ عمر بن خطاب ؓ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا ہمارے رب نے سچ فرمایا کہ ہم کو زمین میں خلفیہ نہیں بنایا مگر (اس لئے) کہ وہ دیکھیں گے ہمارے اعمال کی طرف پس دکھاؤ تم اللہ تعالیٰ کو اپنے بہترین اعمال رات کو چھپے ہوئے اور علانیہ طور پر۔
2:۔ ابن منذر (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم جعلنکم خلیف “ یعنی یہ خطاب امت محمد ﷺ کے لئے ہے۔
Ayah 10:15قرآن کریم میں تبدیلی ممکن نہیں :
1: ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” واذا تتلی علیہم ایاتنا بینت “ کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے ہیں (وہ کہتے ہیں) کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے آؤ یا اس کو بدل دو (اور فرمایا) کہ ( یہ بات) مکہ والوں کے مشرک لوگوں نے نبی کریم ﷺ کو کہا تو ( اس کے جو اب میں) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے فرمایا (آیت) قل لو شآء اللہ ما تلوتہ علیکم “ (یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو میں تم پر قرآن کی تلاوت نہ کرتا )
Ayah 10:161:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ادرکم بہ “ نہ ہی تم کو اس بارے میں بتایا۔
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ادرکم بہ “ یعنی وہ تم کو اس کا شعور دلاتا۔
3:۔ ابو عبید وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے رویت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” ولا ادرکم بہ “ یعنی ہمزہ کے ساتھ فراء نے کہا میں نہیں جانتا کہ یہ جائز ہے (دریت سے اور نہ ادریت سے) مگر یہ کہ حسن نے کہ اس کو دیا ہے ان طبیعت کے مطابق کیونکہ عرب کبھی غلل کرجاتے ہیں اور وہاں ہمزہ پڑھتے ہیں جہاں ہمزہ نہ ہو۔
4:۔ سعید بن منصور وابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھا کرتے تھے (آیت) ” قل لو شآء اللہ ما تلوتہ علیکم ولا ادرکم بہ “
5:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ادرکم بہ “ کہ تم کو اس کے ذریعہ نہ ڈراتا۔
6:۔ ابن ابی حاتم و ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ “ (میں تو تمہارے درمیان اس سے پہلے عمر کا ایک حصہ گزر چکا ہوں) یعنی میں نے تم پر تلاوت کی اور نہ میں نے ذکر کیا۔
7:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ “ یعنی چالیس سال (ان کے درمیان) رہے آپ کے پاس وحی آنے سے پہلے اور آپ نے دو سال خواب دیکھے پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی بھیجی دس سال مکہ میں اور دس سال مدینہ منورہ میں اور آپ نے باسٹھ یا تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
8:۔ ابن ابی شیبہ والبخاری والترمذی رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی چالیس سال کے بعد بعثت ہوئی (یعنی نبوت ملی) مکہ مکرمہ میں تیرہ سال ٹھہرنے کے ان کی طرف وحی کی جاتی تھی پھر ہجرت کا حکم دیا گیا تو اور آپ دس سال ہجرت فرما رہے اور آپ نے تریسٹھ سال کی عمر میں وفات پائی۔
نبوت چالیس سال کی عمر میں ہوئی۔
9:۔ احمد والبیہقی (رح) نے دلائل میں انس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کس عمر میں نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا گیا۔ (یعنی نبوت عطا کی گئی) تو انہوں نے فرمایا کہ چالیس سال کی عمر تھی۔
10:۔ بیہقی نے دلائل میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ پر چالیس سال کی عمر میں نبوت کو نازل کیا گیا یعنی تین سال تک آپ کو نبوت کے ساتھ اسرافیل (علیہ السلام) متصل رہے اور آپ کو حکمت اور دوسری چیزیں سکھاتے تھے اور (ابھی) قرآن نازل نہیں ہوا تھا جب تین سال گزر گئے تو ان کی نبوت کے ساتھ جبرئیل (علیہ السلام) منسلک ہوئے پھر آپ کو زبان پر بیس سال قرآن نازل ہوا دس سال مکہ میں اور دس سال مدینہ منورہ میں۔
11:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ چالیسویں سال کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کو نبوت ملی آپ مکہ میں دس سال رہے اور مدینہ میں دس سال رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی۔
Ayahs 10:17–181:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ نصر نے کہا جب قیامت کا دن ہوگا میرے لئے لات اور عزی سفارش کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔ (آیت) ” فمن اظلم ممن الفتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ، انہ لا یفلغ المجرمون (17) وعبدون من دون اللہ مالا یضرہم ولا ینفعہم ویقولون ھولآء شفعآ وناعنداللہ۔
Ayah 10:191:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کان الناس الا امۃ واحدۃ “ یعنی اسلام پر (سب لوگ تھے)
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما کان الناس الا امۃ واحدۃ فاختلفوا “ کے بارے میں فرمایا کہ ابن مسعود ؓ کی قرآن میں فرمایا کہ ابتدا میں (سب لوگ) ہدایت پر تھے پھر آپس میں اختلاف کرنے لگے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کان الناس الا امۃ واحدۃ “ اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) میں اس حال میں آپ اکیلے تھے ” واحدۃ فاختلفوا “ جب آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی کو قتل کردیا تو (آپس میں اختلاف ہونے لگا)
4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کان الناس “ الا یہ یعنی کہ لوگ ایک ہی دن والے تھے آدم (علیہ السلام) کے دین پر (پھر) انہوں نے کفر کیا پس اگر تیرے رب نے قیامت کے دن ان کو مہلت نہ دے رکھی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
Ayah 10:201:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فانتظروا انی معکم من المنتظرین “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان کو اپنے عذاب اور سزا سے خوف دلایا۔
Ayah 10:211:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) واذا اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضرآ مستہم اذا لہم مکر فی ایاتنا “ یعنی آیات کے ساتھ مذاق کرنا اور ان کو جھٹلانا۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) سے روایت کیا کہ ہر مکر قرآن میں عمل کے معنی میں ہے۔
Ayahs 10:22–231: بیہقی (رح) نے اپنی سنن میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ تمیم داری نے عمر بن خطاب سے سمندر میں سوار ہونے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے غار میں قصر کرنے کا حکم فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ھوالذی یسیرکم فی البر والبحر “۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بہم “ کے بارے میں فرمایا اور اس کا ذکر کیا پھر ان کے سوا دوسروں کے لئے اس بات کو ایک دوسری بات میں شمار کیا اور فرمایا (آیت) ” وجرین “ پھر بات کو ان کی طرف منسوب کیا پس اول چیز یہ ہے کہ تم کشتیوں میں سوار ہوئے اور ان کے ساتھ چلیں جس کی یہ طاقت نہیں رکھتے تھے پھر فرماتے ہیں کہ وہ تم کو لے کر چلیں اور حالانکہ وہ بیان کررہا ہے دوسری قوم کا پھر اس کو ذکر فرمایا تاکہ ان کو اور ان کے علاوہ دوسری مخلوق کو جامع ہوجائے (اور فرمایا) (آیت) ” وجرین بہم “ یعنی ان لوگوں کو اور ان کے علاوہ مخلوق میں سے دوسروں کو لے کر چلیں۔
3:۔ ابن منذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وظنوا انہم احیط بہم “ یعنی گمان کرنے لگتے ہیں ان کو ہلاک کردیا گیا۔
4:۔ بیہقی (رح) نے دلائل میں عروہ (رح) سے روایت کیا کہ فتح مکہ کے دن عکرمہ ابوجہل کا بیٹا بھاگ گیا اور سمندر میں کشتی پر سوار ہوگیا (کشتی کو) ہوا نے پکڑ لیا اس نے لات اور عزی کو پکارا تو کشتی والوں نے کہا یہاں ایک اللہ کے سوا کسی کو پکارنا جائز نہیں عکرمہ ؓ نے کہا اللہ کی قسم اگر سمندر میں وہی اکیلا (اللہ) ہے تو البتہ خشکی میں بھی تو اکیلا وہی ہے۔ چناچہ اس نے اسلام قبول کرلیا۔
5:۔ ابن سعد (رح) نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو عکرمہ بن ابی جہل بھاگ کر سمندر میں کشتی پر سوار ہوگیا، سمندر میں جوش مارا تو ملاح نے (اور) سواریوں نے ایک اللہ کو پکارنا شروع کردیا، اور اس کی توحید بیان کرنے لگے، عکرمہ نے فرمایا یہ کیا ہے انہوں نے کہا یہ وہ جگہ ہے کہ اس میں اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نفع نہیں دے سکتا۔ عکرمہ ؓ نے فرمایا یہ محمد ﷺ کا خدا ہے جس کی طرف وہ ہم کو بلاتے ہیں تو ہم کو ان کے ساتھ لوٹ جانا چاہئے چناچہ وہ واپس لوٹ گیا اور اس نے اسلام قبول کرلیا۔
فتح مکہ کے دن چھ افراد کے قتل کا حکم :
6:۔ ابن ابی شیبہ وابو داود والنسائی وان مردویہ رحمہم اللہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ جب فتح مکہ کا دن تھا تو رسول اللہ ﷺ نے چار آدمی اور دو عورتوں کے سوا سب کو امن دے دیا اور فرمایا ان کو قتل کردو اگر تم ان کو کعبہ کے پردوں سے چپکا ہوا پاؤ (چار آدمی یہ تھے) عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن ضیابہ اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح (ان میں سے) عبداللہ بن خطل کو کعبہ کے پردے سے چمٹا ہوا پایا سعید بن حریث اور عمار اس کی طرف آگے بڑھے، سعید عمار سے آگے بڑھ گئے اور دونوں میں سے مضبوط جوان تھے چناچہ انہوں نے اس کو قتل کردیا اور مقیس بن ضبابہ کو لوگوں نے بازار میں پایا تو اس کو بھی قتل کردیا اور عکرمہ بھاگ کر سمندر میں کشتی میں سوار ہوئے ان کو تیز آندھی پہنچ گئی اور کشتی والوں نے کشتی پر بیٹھنے والوں سے کہا مخلص ہوجاؤ یعنی ایک اللہ کو پکارو کیونکہ تمہارے معبود تم کو کسی کو نفع نہیں دے سکتے عکرمہ نے کہا اگر وہ (ہمارے معبود سمندر میں کوئی نجات نہیں دے سکتا مگر اخلاص (یعنی اللہ کی ذات) تو یقینی طور پر خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا اے اللہ تیرے ساتھ وعدہ ہے اگر اس (طوفان) سے جس میں ہوں آپ نے عافیت عطا فرما دی اگر میں محمد ﷺ کے پاس حاضر ہو کر اپنے ہاتھوں کو ان کے ہاتھ میں رکھ دوں تو یقینی طور پر ان کو ضرور پاوں گا۔ درگزر کرنے والا اور کرم کرنے والا، راوی نے کہا کہ عکرمہ آیا اور مسلمان ہوگیا اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، عثمان ؓ کے پاس چھپا ہوا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے بیعت کے لئے بلایا تو وہ اسے لے کر آئے اور نبی کریم ﷺ کے سامنے کھڑا کردیا اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ عبداللہ کو بیعت کرلیجئے آپ نے اپنے سر کو اٹھایا اس کی طرف تین مرتبہ ہر دفعہ اس نے انکار کیا اور تین دفعہ کے اس کو بیعت فرما لیا (بیعت کرنے سے پہلے) آپ اپنے صحابہ پر متوجہ ہوئے اور فرمایا کوئی تم میں سے عقلمند آدمی اس کے ساتھ کھڑا ہوجائے جب وہ دیکھے کہ میں نے اپنے ہاتھ کو اس کی بیعت سے کھینچ لیا ہے تو اس کو قتل کردے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نہیں جانتے کہ آپ کے دل میں کیا ہے ؟ آپ نے ہماری طرف اپنی آنکھوں کے ساتھ اشارہ نہیں کیا آپ نے فرمایا کہ کسی نبی کے یہ لائق نہیں کہ وہ اس کی آنکھیں خیانت کرنے والی ہوں۔
7:۔ ابو الشیخ وابن مردویہ وابو نعیم والخطیب نے اپنی تاریخ میں والدیلمی سے مسند الفردوس میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو اپنے ہی اصل پر لوٹ جاتی ہیں مکر کرنا، عہد توڑنا اوظلم وانصافی کرنا پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیات (آیت) ” یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم “ اور ” ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ “ (فاطر آیت 24)
سرکشی اختیار کرنے کی ممانعت :
8:۔ ابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن نفیل کنانی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین کام ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں فیصلہ فرمانے سے فارغ ہوگئے ہیں (اب) ہرگز تم میں سے کوئی سرکشی نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم “ اور ہرگز تم میں سے کوئی مکر نہ کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” ولا یحیق المکر السیئ الا باھلہ “ اور نہ تم میں سے کوئی بیعت کو توڑے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت) ” فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ “
9:۔ حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا والبیہقی نے شعب الایمان میں ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو سرکش نہ کر اور بغاوت کرنے و الا نہ بن جا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” انما بغیکم علی انفسکم “
10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو سرکشی نہ کر اور بغاوت کرنے والا نہ بن جا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” انما بغیکم علی انفسکم “۔
11:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سرکشی کرنے والے کی سزا کو موخر نہیں فرماتے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انما بغیکم علی انفسکم “۔
12:۔ بیہقی (رح) نے الشعب میں ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سرکش اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسا نہیں ہے جو اس لائق ہے کہ اس کے کرنے والے کو اللہ تعالیٰ جلدی سزا دیں۔
13:۔ ابوداود والبیہقی نے الشعب میں عیاض بن جابر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی اس بات کی طرف کہ آپس میں تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ کوئی کسی پر سرکشی نہ کرے اور کوئی کسی پر فخر نہ کرے۔
14:۔ بیہقی (رح) نے الشعب میں ہلال بن ابی بردہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ظلم و زیادتی کی مگر وہی جو ظالم پیدا ہو یا اس میں ظلم کی کوئی رگ ہو۔
15:۔ ابن منذر والبیہقی نے رجاء بن حیوہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے منی کی مسجد میں ایک واعظ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تین کام ایسے ہیں کہ اس کا گناہ اسی پر ہوگا جو ان کے ساتھ عمل کرے گا سرکشی کرنا مگر اور بیعت توڑنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انما بغیکم علی انفسکم “ اور ” ولا یحیق المکر السیئی الا باھلہ (فاطر آیت 42) اور فمن نکث فانما ینکث علی نفسہ۔ (الفتح آیت 10) پھر فرمایا یہ تین کام ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو عذاب نہ دے گا۔ جو تم ان کے ساتھ عمل کرو گے، شکر، دعا اور استغفار پھر یہ آیات پڑھیں (آیت) ” مایفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم۔ “ ( اور فرمایا) (آیت) ” قل ما یعبوا بکم ربی لولا دعآوکم ‘ (الفرقان آیت 77) اور (آیت) ” وما کان اللہ معذبہم وھم یستغفرون (33)
16:۔ ابوالشیخ (رح) نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ تین چیزیں ایسی ہیں جس میں یہ ہوں گی تو اس کا وبال اس پر ہوگا مکر کرنا سرکشی کرنا اور عہد توڑنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انما بغیکم علی انفسکم “
17:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ پر سرکشی کرے تو ان میں سے سرکش کرنے والا پاش پاش ہوجائے گا۔
18۔ ابو نعیم (رح) نے حلیہ میں ابو جعفر محمد بن علی ؓ سے روایت کیا کہ بندوں میں سے اس سے افضل کوئی نہیں جو سوال کرتا ہے (اللہ تعالیٰ سے) قضا کو کوئی نہیں ٹال سکتا مگر دعا۔ اور بلاشبہ بہت جلد پہنچنے والی بھلائی نیکی کا ثواب ہے اور بہت جلدی پہنچنے والا سرکشی کی سزا ہے۔ اور آدمی کے عیب دار ہونے کے لئے یہ کافی ہے کہ وہ لوگوں میں ایسی چیزیں دیکھتا رہے جن کو وہ اپنی ذات میں دیکھنے سے اندھا ہو اور وہ لوگوں کو حکم دیتے ہیں اس چیز کے ساتھ کہ جس کو وہ چھوڑنے کی خود طاقت نہ رکھتا ہو اور یہ کہ وہ اپنے ساتھی کو تکلیف دے اس چیز کے ساتھ کہ جس کا اس نے ارادہ کیا ہو۔
Ayah 10:24دنیاوی زندگی کا فانی ہونا :ـ۔
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فاختلط بہ نبات الارض “ کہ پانی مٹی کے ساتھ ملاتو پانی کی وجہ سے سبزہ نکلا ہر رنگ کا (آیت) ” مما یا کل الناس “ (جو لوگ کھاتے ہیں مثلا) جیسے گیہوں جو اور زمین سے اگنے والے سارے قسم کے دانے سبزیاں اور پھل اور جو چوپائے اور جانور کھاتے ہیں سوکھی گھاس اور ہر قسم کا چارہ۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وازینت “ یعنی زمین نے سبزہ اگایا اور خوبصورت ہوئی (آیت) ” کان لم تغن بالامس “ یعنی گویا نہ وہ یہاں گی اور نہ سرسبز اور تازہ ہوگئی۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن کعب ؓ ، ابن عباس ؓ اور مروان بن الحکم ؓ یہ حضرات یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وازینت وظن اھلھا انہم قدرون علیھا “ اور نہیں ہیں اللہ تعالیٰ تاکہ ان کو ہلاک کرلے مگر اس کے مالکوں کے گناہوں کی وجہ سے۔
4:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کیا کہ ابی کی قرأت میں یوں ہے۔ (آیت) کان لم تغن بالامس وما اھلکنا ھا لا بذنوب اھلھا کذلک نفصل الایت لقوم یتفکرون “
5:۔ ابن منذر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ سورة یونس میں لکھا ہوا ہے اس آیت کے پہلو میں (آیت) حتی اذا اخذت الارض زخرفھا “ سے لے کر ” یتفکرون “ تک اگر آدم کے بیٹے کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کی تمنا کرے گا آدم کے بیٹے کا نفس کو مٹی کے سوا کوئی چیز میسر نہیں ہوسکتی اور اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتے ہیں جو توبہ کرتا ہے تو اس کے گناہ مٹادیئے جاتے ہیں۔
Ayah 10:251:۔ ابونعیم والدمیاطی نے اپنی معجم میں الکلبی کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) واللہ یدعوا الی دارالسلم “ یعنی اللہ تعالیٰ بلاتے ہیں جنت کے عمل کی طرف اور اللہ تعالیٰ سلام ہیں اور جنت ان کا گھر ہے۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ویھدی من یشآء “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کو راستہ دکھاتا ہے شبہات فتن اور گمراہیوں سے نکلنے کے لئے۔ (آیت) واللہ یدعوا الی دارالسلم ویھدی من یشآء الی صراط مستقیم (25) ۔
3:۔ احمد وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ جس میں اس کا سورج طلوع ہو مگر یہ کہ اس کے دونوں جانبوں میں دو فرشتے مقرر ہوتے ہیں جو اس بلند آواز کو لگاتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سنتی ہے سوائے جن اور انس کے اے لوگو آجاؤ اپنے رب کی طرف اور جو مال تھوڑا ہو اور کافی ہوجائے۔ وہ بہتر ہے اس مال سے جو بہت ہو اور غافل کرنے والا ہو اور اس دن کا سورج غروب نہیں ہوتا مگر کہ کہ ان کے جانبوں میں دو فرشتے ندا دیتے ہیں۔ جس کو اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سنتی ہے سوائے انسان اور جنوں کے (اور یہ دعا کرتے ہیں) اے اللہ جو خرچ کرنے والا ہے اس کو اس کا بدلہ عطا فرما اور روک لینے والے کے مال کو تلف کر تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کے بارے میں ان دو فرشتوں کے قول کو قرآن مجید میں نازل فرمایا کہ اے لوگوں اپنے رب کی طرف آجاؤ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) واللہ یدعوا الی دارالسلم ویھدی من یشآء الی صراط مستقیم (25) ۔ اور ان دونوں کے اس قول کے بارے میں نازل فرمایا اے اللہ خرچ کرنے والے کو اس کا بدلہ عطا فرما اور روک رکھنے والے کو مال کو تلف کر فرمایا (آیت) ” والیل اذا یغشی (1) والنھار اذا تجلی (2) “ تک
جنت اور جنتی اعمال کی دعوت :
4:۔ ابن جریر والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں سعید بن ابی ہلال (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابو جعفر محمد بن علی ؓ کو سنا اور انہوں نے یہ (آیت) واللہ یدعوا الی دارالسلم ویھدی من یشآء الی صراط مستقیم (25) ۔ تلاوت کی اور کہا کہ مجھ کو جابر ؓ سے بیان فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں نے نیند میں دیکھا ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے سر کے پاس ہیں اور مکائیل (علیہ السلام) میرے پاوں کے پاس ہیں ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ اس کی ایک مثال بیان کی ہے تو سن تو اس نے کہا دوسرے دونوں کان خوب سننے والے ہیں اور سمجھ تیرا دل خوب عقل مند ہے یہ آپ کی اور آپ کی امت کی مثال ہے جیسے ایک بادشاہ کی مثال ہے جس نے ایک گھر بنایا پھر اس میں ایک کمرہ بنایا پھر اس میں ایک دستر کو ان رکھ دیا پھر ایک قاصد کو بھیجا لوگوں کو اس کھانے کی طرف بلانے کے لئے بعض نے ان میں سے وہ ہیں جنہوں نے قاصد کی دعوت کو قبول کیا اور انہوں نے اس گھر میں کھانا ہے پس اللہ تعالیٰ وہ بادشاہ ہیں اور داراسلام ہے اور گھر جنت ہے اور آپ اے محمد ﷺ قاصد ہیں جس نے آپ کی دعوت کو قبول کیا وہ اسلام میں داخل ہوا اور جو اسلام میں داخل ہوا (گویا) جنت میں داخل ہوا اور جو شخص جنت میں داخل ہوا اس نے اس (دسترخوان) میں سے کھالیا۔
5:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ چلا ہم ایک جگہ پر آئے ہم نہیں جانتے کہ وہ کون سی جگہ ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے اپنے سرمبارک میری گود میں رکھا۔ پھر وہ ایک گروہ ان کے پاس آیا سفید لمبے کپڑے میں ملبوس اور رسول اللہ ﷺ کو غنودگی طاری ہوگئی (یعنی آپ سو گئے) عبداللہ نے فرمایا کہ میں ان کو دیکھ کر ڈر گیا تو انہوں نے کہا بندہ بہت خیر دیا گیا (بہت عظمت اور شان کی گئی) کہ اس کی آنکھیں سو رہی ہے اور دل جاگ رہا ہے پھر ان کے بعض نے بعض سے کہا کہ اس کی مثال بیان کرو اور ہم اس کی تاویل بیان کریں گے یا ہم مثال بیان کرتے ہیں اور تم اس کی حقیقت بیان کرو ان کے بعض نے کہا اس کی مثال اس سردار کی مثال ہے کہ جس نے دسترخوان بنایا پھر ایک مضبوط گھر بنایا پھر لوگوں کی طرف پیغام بھیجا پس جو اس کے کھانے پر نہیں آئے اس نے ان کو سخت ترین عذاب میں مبتلا کردیا اور دوسروں نے کہا کہ وہ سردار رب العالمین ہیں اور عمارۃ اسلام ہے کھانے سے مراد جنت ہے اور یہ بلانے والے ہیں جس نے اس کی تابعداری کی وہ جنت میں ہوگا اور جس نے ان کی تابعداری نہیں کی تو اس کو اللہ تعالیٰ دردناک عذاب دیں گے پھر رسول اللہ ﷺ جاگ گئے۔ اور فرمایا اے ابن ام عبد تو نے کیا دیکھا ؟ میں نے عرض کیا ہاں میں نے اس طرح اور اس طرح دیکھا ہے اور فرمایا کئی چیزیں مجھ پر چھپائی گئی ہیں ان چیزوں میں سے جو انہوں نے کہیں اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ فرشتوں میں سے ایک جماعت تھی۔
6:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک سردار نے گھر بنایا پھر ایک دسترخوان لگایا (اور) ایک بلانے والے کو بھیجا۔ جو شخص بلانے والے کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے گھر میں داخل ہوا اور دسترخوان میں سے کھانا کھایا تو سردار اس سے راضی ہوگیا خبردار ! بلاشبہ وہ سردار اللہ پاک ہیں اور گھر اسلام ہے اور دسترخوان جنت ہے اور بلانے والے محمد ﷺ ہیں۔
ہر رات کی دعوت دی جاتی ہے :۔
7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ کوئی رات ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں ایک آواز لگانے والا (یہ آواز) لگاتا ہے کہ اے خیر اور نیکی کرنے والے آگے اور اے شر اور برائی کرنے والے رک جاؤ ایک آدمی نے حسن ؓ سے عرض کیا کہا آپ اس کو اللہ کی کتاب میں پاتے ہیں ؟ فرمایا ہاں (اللہ تعالیٰ ) نے فرمایا (آیت) واللہ یدعوا الی دارالسلم “ پھر فرمایا ہم کو یہ ذکر کی گئی کہ تورات شریف میں لکھا ہوا ہے اے خیر کے طلب کرنے والے آگے بڑھتا جا اور اے شر کے طلب کرنے والے رک جا۔
8:۔ ابو الشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب (یہ آیت) واللہ یدعوا الی دارالسلم “ پڑھتے تو (جواب میں یوں) فرماتے ” لبیک ربنا وسعدیک “ اے ہمارے رب میں حاضر ہوں۔