10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsسراج البیان

Ayah 10:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الر ۔ یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں ۔

Ayah 10:2

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کو تعجب ہوا ، کہ ہم نے ان میں سے ایک آدمی پر وحی نازل کی ، کہ لوگوں کو ڈرا اور ایمانداروں کو بشارت دے کر خدا کے پاس ان کے لئے بڑا رتبہ ہے ‘ کافروں نے کہا کہ یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صریح جادوگر ہے (ف 1) ۔

جادو اثری : (ف 1) (آیت) ” ان ھذا لسحر مبین “۔ کے معنے یہ ہیں کہ منکرین کو بھی حضور کی قوت تاثیر اور طاقت جذب وکشش کا اندازہ تھا وہ جانتے تھے کہ یہ شخص اپنے اندر ایک خاص نوع کا مقناطیسی اثر رکھتا ہے ، جو اس کی باتیں سنے گا وہ ضرور متاثر ہوگا اور حضور ﷺ کی جانب کھینچا ہوا چلا آئے گا ۔ چناچہ کتب سیر میں بیشمار ایسے واقعات موجود ہیں کہ لوگوں نے انتہائی دشمنی کے باوجود بالاخر حضور ﷺ کے قدموں میں آجانے کی سعادت حاصل کی ۔
Ayah 10:3

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

تمہارا رب وہ اللہ ہے ، جس نے آسمان و زمین چھ دن میں (ف 2) ۔ بنائے ، پھر عرش پر قائم ہوا ، سب کاموں کا بندوبست کرتا ہے ، کوئی شفیع نہیں ، مگر بعد اس کے اذن کے ، یہ اللہ ہے تمہارا رب سو اسی کی عبادت کرو ، کیا تم دھیان نہیں کرتے ۔

کائنات کا دل : (ف 2) ایام سے غرض مدت ہائے دراز ہیں کیونکہ یوم کے لفظ میں باعتبار لغت و ادب بہ نسبت نہار لفظ کے جس کے معنے دن کے ہیں اور زیادہ وسعت ہے ، (آیت) ” استوی علی العرش “ سے غرض عطوفت الہی کا کائنات کی جانب متوجہ ہونا ہے ، عرش تدابیر الہی کا مقام و مرکز ہے ، جس طرح دل انسان کے لئے تمام ارادوں کا مدارو محور ہے ، اس طرح عرش کا ئنات مادی کا دل ہے ، یا غیر اعلی سمجھ لیجئے تجلیات تدبیری عرش کی وساطت سے نافذ ہوتی ہیں ، یعنی اللہ کے تمام احکام یہیں سے صادر ہوتے ہیں ، تفصیل گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے ۔ حل لغات : الامر : وہ حقیقت عامہ جو ساری کائنات کو شامل ہے ۔
Ayahs 10:4–5

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

تم سب اسی کی طرف جاؤ گے ، اللہ کا سچا وعدہ ہے ، وہی ہی اولا پیدا کرتا ہے ، پھر وہی اسے دہرائے گا تاکہ ایمانداروں اور نیک کرداروں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے اور جو کافر ہیں ‘ ان کو کھولتا پانی پینا پڑے گا ‘ اور ان کے کفر کے سبب ان کو دیکھ کا عذاب ہوگا ۔ (ف 1) ۔

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی ہے جس نے سورج کو روشنی اور چاند کو اجالا بنایا ، اور اس کی منزلیں مقرر کیں ، تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب جانو خدا نے یہ تب تدبیر کے ساتھ بنایا ہے ‘ اور اہل علم کے لئے پتے کھولتا ہے ۔

(ف 1) اس آیت میں حشر ونشر کا ثبوت دیا گیا ہے قرآن چونکہ مدلل کتاب ہے اس لئے کوئی دعوی تشنہ برہان نہیں رہنے دیا ، امکان حشر کے متعلق فرمایا (آیت) ” انہ یبدؤالخلق “۔ کہ وہ اس وقت کائنات کو وجود میں لاتا ہے ، جب کہ وہ کہیں موجود نہیں ہوتی ، بلکہ خود وجود اس کی قدرت کا کرشمہ ہے ، اس لئے جب کائنات کی کیفیت فنا ہوجائے گی ، تو اس وقت بھی اسے دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے ، جو بات ایک دفعہ ممکن ہے ، وہ دوسری بار کیوں محال ہو ، ضرورت حشر کے متعلق ارشاد فرمایا ، (آیت) ” لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت بالقسط “۔ یعنی تاکہ صلحاء اور پاکباز لوگوں کو اجر سے بہرہ ور کیا جائے ، اس دنیا میں مکافات عمل کا پورا سامان وانتظام نہیں ہوسکتا ہے ، ایک شخص ڈاکو ہو ، چور ہو ، اور قوم وعدالت کی گناہوں میں معزز ہو ، یہ بھی ممکن ہے ، ایک شخص نیک اور پاکباز ہو ، مگر عوام میں اس کی بدعملی کا شہرہ ہو ، اس لئے ضرورت ہے ، ایک ایسے عالم کے فرض کرنے کی جہاں عدل وظلم میں حلو فاصل موجود ہو ، جہاں نیک وبد میں امتیاز ہو ، جہاں کی عدالتیں جرم سے اغماض نہ کرسکیں ، اور ایک پاکباز انسان کو پاکبازی کی پوری پوری قیمت مل سکے ، یہی عالم آخرت ہے جسے اسلام پیش کرتا ہے ۔
Ayahs 10:6–9

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

رات اور دن کے اختلاف ہیں ، اور جو چیزیں خدا نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں (ف 2) ۔ ان میں ڈرنے والوں کیلئے نشانیاں ہیں ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

جن کو ہم سے ملنے کی امید نہیں ، اور وہ حیات دنیا پر راضی اور مطمئن ہوئے ہیں ، اور جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں ۔

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

ان کا ٹھکانا آگ ہے ، ان کے کاموں کے سبب ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کا رب ان کے ایمان کے باعث ان کی رہنمائی کرے گا ، ان کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، نعمتوں کے باغوں میں ۔

الایات : (ف 2) قرآن حکیم کا یہ عجب طرزاستدلال ہے کہ وہ زیر بحث مطالب کی کائنات کے مظاہر پیش کرکے آسانی سے ثابت کردیتا ہے ۔ ” لایات “ کہہ دینے سے تمام دعاوی کی جانب ذہن خود بخود منتقل ہوجاتا ہے ، توحید وجود باری ، بعثت ، رسالت اور دیگر قسم کے تمام دعاوی اس مظاہرہ قدرت سے عیاں ہیں ، غور فرمائیے ، دن اور رات کا تعین اور کائنات کی دوسری خوبیاں جو ہر ذرہ میں جاری وساری ہیں ، کیا بغیر خدا کے ممکن ہیں ، کائنات کا نظم وفسق اور ایک مخصوص وحدت کے جلوے کیا توحید کی جانب ذہن انسان کو متوجہ نہیں کرتے کیا یہ سب کچھ بےغرض وغایت ہے آسمان کی بلندیاں اور زمین کی بستیاں بےمطلب ہیں ؟ کیا یہ بعثت وحشر کی طرف صاف اشارہ نہیں ، مادی نظام کی تکمیل کے بعد کیا روحانی نظام کی تکمیل غیر ضروری ہے ، کیا عقل مان سکتی ہے کہ انسان کو اور کارگاہ حیات کو یونہی بےفائدہ اور بےغرض پیدا کیا گیا ہے ، اس کے لئے کوئی پروگرام اور کوئی نصب العین نہیں ؟ کیا یہ احتیاج روحانی بجائے نبوت کی دلیل نہیں ؟ یہ سب مطالب لایات کہہ کر بیان کردیئے ہیں ، یہ قرآن کا اعجاز ہے ۔
Ayah 10:10

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

وہاں ان کی دعا ” سبحانک اللہم “ اور باہم ملاقات کی دعا ، خیر سلام ہے ، اور آخری دعاء ان کی ” الحمد للہ رب العلمین ہے ۔ (ف 1) ۔

(ف 1) یعنی صالحین کی اخروی زندگی اس درجہ کامل ، خوش گوار اور راحت افزا ہوگی کہ وہ بالآخر حمد و ستائش کرنے لگیں گے ، اور کہنے لگیں گے کہ اللہ یہ تیری ربوبیت کا کرشمہ ہے اور انسان کہاں اور یہ رتبہ والی کہاں ؟ حل لغات : حمیم : گرم پانی ۔ تحیتھم : تحفہ ملاقات ، سلام ۔
Ayah 10:11

وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 10:11 in the Quran reader

اور اگر خدا آدمیوں کو جلد برائی پہنچائے جیسے کہ وہ جلد بھلائی چاہتے ہیں ‘ تو ان کی اجل پوری کی جائے ، سو ہم ان کو جو ہماری ملاقات سے ناامید ہیں چھوڑ دیتے ہیں اپنی گمراہی میں سرگردان ہوتے ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) یعنی اللہ میں علم وعلم ہے وہ تمہاری بددعاؤں اور برے مطالبوں کو سنتا ہے مگر قبول اس لئے نہیں کرتا ، کہ تمہارا اسی میں بھلا ہے ۔
Ayahs 10:12–14

وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:12 in the Quran reader

اور جب آدمی پر تکلیف آتی ہے ، تو کروٹ پڑا ہوا یا بیٹھا ہوا یا کھڑا ہمیں پکارتا ہے ، پھر جب ہم اس سے اس کا رنج دور کردیتے ہیں تو چلا جاتا ہے گویا اس نے پہنچے ہوئے دکھ میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا ، اسی طرح حد سے نکلنے والوں کے لئے ان کے اعمال مزین کئے گئے ہیں (ف 2) ۔

وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 10:13 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے امتوں کو ہلاک کیا جب وہ ظالم ہوئے اور ان کے رسول ان کے پاس نشانیاں لے کر آئے اور وہ ایمان لانے والے نہ تھے ‘ یوں ہی ہم مجرموں کو سزا دیتے ہیں ۔

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:14 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں نائب کیا ، تاکہ دیکھیں ، کہ تم کیا کرتے ہو ۔

(ف 2) اس آیت میں انسان کی اس نفسی خوبی کو بیان کیا ہے کہ مصیبت کے وقت اس کا دل مجلی ہوتا ہے ، اور اس وقت وہ اللہ کی ضرورت کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتا ہے مگر جب تکلیف کا وقت گزر جاتا ہے ، دل پر بدستور غفلت کا حجاب پڑجاتا ہے ، اور فطرت کی آواز دب جاتی ہے ۔ سچا مومن وہ ہے جو دولت و عافیت کے نشوں میں بھی فطرت پر نظر رکھتا ہے ، اور مذہب وملت کی ضروریات کو کسی حالت میں بھی فراموش نہیں کرتا ۔ حل لغات : اجلھم : مدت ۔ القرون : جمع قرن ، بمعنے زمانہ ہائے طول ، یعنی اہل زمانہ ۔
Ayah 10:15

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 10:15 in the Quran reader

اور جب ہماری صاف آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں ، تو جو ہماری ملاقات سے ناامید ہیں یوں کہتے ہیں کہ اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لا ، یا اسی کو بدل ڈال ، تو کہہ یہ میرا کام نہیں کہ میں اپنی طرف سے اسے بدلوں ‘ میں اسی کے تابع ہوں جو مجھے حکم آتا ہے ، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے ان کے عذاب کا خوف ہے (ف 1) ۔

(ف 1) مکہ والوں کی سب سے بڑی بدبختی یہ تھی کہ آکر وقت تک انہوں نے حضور ﷺ کے منصب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ، ان کا یہ مطالبہ کہ قرآن میں حسب دل خواہ تبدیلیاں کر دو ، اس دعوی پر دلیل ہے ، بھلا کیا انبیاء (علیہم السلام) اپنی مرضی سے تعلیمات الہیہ میں اصلاح و ترمیم کرسکتے ہیں ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے تو معنے ہی یہ ہیں ، کہ وہ ارادہ الہی کے ترجمان ہیں اپنی جانب سے وہ کچھ نہیں کہتے ، انکی ہر بات منشاء الہی کے مطابق ہوتی ہے ، انبیاء (علیہم السلام) کا نفس بشری اپنی تمام خواہشوں اور اقتضاء کو نفس نبوت کے تابع کرلیتا ہے ، اس لئے اپنی جانب سے تبدیلی اور اصلاح کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اگر نبی اپنے دعوے سے دست بردار ہوجائے اور قوم کے جذبات وخیالات کے ماتحت ہوجائے ، تو پھر اس میں اور فریب کار انسان میں کیا فرق ہے ، انبیاء (علیہم السلام) کی باتیں محکم اور اٹل ہوتی ہیں ، جو خدا کی جانب سے ہیں ، اس میں انسان مداخلت سراسر بےجا اور بےضرورت ہے ۔ اس آیت میں اسی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے ۔ حل لغات : خلٓئف : قائمقام ، پس آیندگان ۔
Ayahs 10:16–17

قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:16 in the Quran reader

تو کہہ اگر خدا چاہتا ، تو میں تم پر قرآن نہ پڑھتا اور نہ وہ تمہیں اس کی خبر ہی دیتا ۔ کیونکہ میں تو اس سے پہلے تم میں ایک عمر تک رہ چکا ہوں کیا تم نہیں سمجھتے (ف 1) ۔

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 10:17 in the Quran reader

سو اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے ، یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے بیشک مجرموں کا بھلا نہیں ہوتا ۔

معیار رسالت : (ف 1) مکہ والوں نے جب قرآن کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تو جوابا فرمایا گیا کہ یہ ناممکن ہے ، انبیاء کو اپنی جانب سے تعلیمات الہیہ میں کمی بیشی کرنے کا مطلقا اختیار نہیں دیا گیا ، وہ تو محض اللہ کے قرابت اور اطاعت شعار ہوتے ہیں منصب نبوت کا مقصد ہی یہی ہے ۔ کہ نفس کی ترجمانی نہ ہو ، منشاء الہی کی تعمیل ہو ، پھر انبیاء سے یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ پیغام خداوندی کو بدل دیں ، ان آیات میں ایک اور طریق سے جواب دیا گیا ہے حضور دعوی نبوت سے قبل چالیس سالہ زندگی کفار مکہ کے سامنے تھی ، آپ سے کہا گیا ہے کہ ان سے پوچھیں کہ کیا تم نے کبھی کوئی بات چالیس (40) سال کے طویل عرصے میں ایسی دیکھی ہے جو قابل اعتراض ہو ، حضور ﷺ کا بےلوث بچپن انہوں نے دیکھا ، جوانی دیکھی اور جوانی کے پاکیزہ مشاغل دیکھے ، اور اب جبکہ آفتاب شباب نصف النہار سے آگے گذر چکا ہے ، تم یہ سمجھتے ہو کہ محمد ﷺ نفس کی خواہشات کا شکار ہوچکا ہے ، اور محض جاہ و حشمت کے لئے نبوت کا مدعی ہے ، یہ بات کبھی عقل تسلیم کرسکتی ہے ، کہ جو شخص چالیس (40) برس تک پاکباز رہے ، صادق وامین کہلائے جس کا خیال وعمل معصیت کی آلودگیوں سے پاک رہے ، بنی نوع کا ہمدرد وغمگسار ہو ، اور شاندار سیرت کا مالک ہو ، یکایک اس کی سیرت بدل جائے ، اور وہ خدا پر جھوٹ بولنے لگے ، یہ کیسے ممکن ہے ؟ کیونکر ایک پاکباز انسان اتنے بڑے جھوٹ کی جرات کرسکتا ہے ۔ ” عمرا من قبلہ “ سے غرض شاندار اور غیر معمولی اور معلوم عمر ہے ، کیونکہ کسی شخص کے متعلق کسی برائی کا علم نہ ہونا اور چیز ہے اور اس شخص کا نیک ہونا اور اس طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی نبوت کے قبل کے واقعات زندگی لوگوں کو معلوم ہوں ، اور ان میں وہ بلندی اور رفعت کے لحاظ سے شہرت رکھتا ہوں ورنہ ہر شخص جس کے حالات سے آپ پوری طرح آگاہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ میری پہلی زندگی میں کوئی عیب دکھاؤ ۔
Ayahs 10:18–19

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 10:18 in the Quran reader

اور وہ لوگ اللہ کے سوا ان کی پرستش کرتے ہیں ، جو ان کا نفع نقصان نہیں کرسکتے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہمارے شفیع ہیں تو کہہ کیا تم خدا کو وہ باتیں بتاتے ہو ‘ جو اس کو نہ آسمان میں معلوم ہیں اور نہ کہیں زمین ہیں ؟ وہ ان کے شرک سے پاک اور بلند ہے (ف 2) ۔

وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:19 in the Quran reader

اور سب لوگ پہلے ایک ہی دین پر تھے ‘ پھر پیچھے مختلف ہوگئے ، اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے سے مقرر نہ ہوتی تو ان کی اختلافی باتوں کا فیصلہ ہوجاتا ۔

(ف 2) (آیت) ” بما لا یعلم فی السموت “۔ سے غرض یہ نہیں کہ ایسے معبودان باطل بھی کائنات میں موجود ہیں ، جن کو خدا نہیں جانتا ، بلکہ غرض یہ ہے کہ اللہ کا علم چونکہ نہایت کامل اور حاوی ہے ، اس لئے جب اس کے علم میں اس کا کوئی ساجھی نہیں تو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اس کے سوا دوسرون کو بھی خدا گردانتے ہو ۔
Ayahs 10:20–21

وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ Open ayah 10:20 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کے پاس سے کوئی معجزہ کیوں نازل نہ ہوا سو تو کہہ غیب کی بات اللہ جانے تم منتظر رہو ، میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں (ف 1) ۔

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ Open ayah 10:21 in the Quran reader

اور جب ہم لوگوں کو بعد تکلیف کے جو انہیں پہنچی ہو کچھ رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو فورا ہی وہ ہماری نشانیوں میں حیلہ نکالتے ہیں تو کہہ اللہ تدبیر میں سب سے تیز رو ہے ‘ ہمارے رسول تمہارے مکر لکھتے ہیں ۔

(ف 1) ایۃ سے مراد مطلوبہ معجزات ہیں ، قرآن کی آیت نہیں ۔ حل لغات : شفعآؤنا : جمع شفیع ، سفارش کرنے والا ۔ امۃ : مشترک العقیدہ جماعت ، ہدایت شرط نہیں ، ہر گروہ جو کسی مقصد میں متحد ہو امت کہلائے گا مگر یہاں صحیح العقیدہ لوگ مراد ہیں ، کیونکہ (آیت) ” فاختلفوا “۔ کا قرینہ اس پر دلالت کر رہا ہے ۔
Ayahs 10:22–24

هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 10:22 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہیں جنگل اور دریا میں پھراتا ہے ‘ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہو ، اور وہ لوگوں کو اچھی ہوا سے لے چلیں ، اور وہ اسی ہوا سے خوش ہوں ‘ ناگاہ کشتیوں پر طوفانی ہوا آئے ، اور ہر طرف سے ان پر موج مارے اور وہ سمجھیں کہ اب ہم گھر گئے تو صاف دلی سے اللہ کو خالص اسی کی بندگی کرکے یوں پکارتے ہیں کہ اگر تو ہمیں اس آفت سے بچالے تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے (ف 1) ۔

فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 10:23 in the Quran reader

پھر جب اس نے بچا دیا ، اسی وقت زمین میں ناحق شرارت شروع کرتے ہیں ‘ لوگو ! تمہاری شرارت تمہاری جانوں پر ہے ، حیات دنیا کی پونجی برت لو ، پھر تمہیں ہماری طرف آنا ہے ، سو ہم تمہیں تمہارے کاموں سے آگاہ کریں گے ۔

اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 10:24 in the Quran reader

حیات دنیا کی مثال اس پانی کی ہے ، جو ہم نے آسمان سے برسایا ، پھر اس میں زمین کا سبزہ مل نکلا ، جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں ‘ یہاں تک کہ جب زمین (اپنی خوبصورتی اور) اپنی چمک پر آئی اور آراستہ ہوگئی ، اور زمیندار سمجھے کہ ہم اس پر قادر ہوئے تو اس پر رات کو یا دن کو ہمارا حکم آیا ، پھر ہم نے اسے کٹا ہوا ڈھیر کردیا گویا کل وہاں کچھ نہ تھا ، یوں ہم فکر کرنے والوں کے لئے پتے کھولتے ہیں ۔

(ف 1) فطرت کے لحاظ سے ہر شخص کو پاکیزہ پیدا کیا گیا ہے ہر قلب میں اللہ کی توحید کے چشمے بہتے ہیں ، ہر آنکھ جلوہ ہائے طور وسینا کا تماشہ کرسکتی ہے ، مگر ہوتا یہ ہے کہ زندگی کی کثافتوں میں فطرت کی پاکیزگی ضائع ہوجاتی ہے ، خیالات فاسدہ کی وجہ سے دل بےنور ہوجاتا ہے ، اور جہالت تعصب کی وجہ سے بصیرت بھی باقی نہیں رہتی ، عیش وتنعم کی زندگی میں انسان اللہ کو بھول جاتا ہے ۔ مگر جونہی کوئی حوادث سے آنکھیں کھلتی ہیں ، سوئی ہوئی فطرت بیدار نظر آتی ہے ، دل کے تمام حجاب ایک ایک کر کے اٹھ جاتے ہیں ، اور قہر قلب سے توحید کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ ان آیات میں انسان کی اس فطرت مستور کا حال بیان کیا ہے کہ مصیبت کے وقت یہ ہمیں یاد کرتے ہیں اور جہاں ہم نے اس کی سن لی ، پھر وہی تمردو معصیت پھر وہی گناہوں کا ارتکاب اور جذبہ عیش وتنعم موجزن ہونے لگتا ہے ۔ قرآن چونکہ علیم بذات الصدور “ خدا کی کتاب ہے اس لئے اس میں یہ تمام الجھنیں دور کی گئی ہیں ، جو دلوں میں پیدا ہوتی ہیں ، اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ انسان کس کس راہ سے فریب کھاتا ہے اس لئے ان واردات کو کھول کھول کر بیان کیا ہے ، (آیت) ” یسیرکم فی البروالبحر “۔ سے غرض یہ بھی ہے کہ انسان کے تجربوں کی دنیا وسیع ہونی چاہئے اور چل پر کر اسے دیکھنا چاہئے کہ کائنات میں کیا رہا ہے ۔ حل لغات : عاصف : تیز اور سخت ہوا ۔
Ayah 10:25

وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 10:25 in the Quran reader

اور اللہ سل امتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے ‘ اور جسے چاہتا ہے ، سیدھی راہ دکھاتا ہے (ف 1) ۔

دنیا کی ایک مثال : (ف 1) دنیائے دوں ہزار لباس فاخرہ پہن کر جلوہ گر ہو ، مرد مومن سے اس کے عیوب پنہاں نہیں رہ سکتے وہ بالغ النظر ہوتا ہے ، اس کی نظریں محسن ظاہری سے گزر کر تبع باطن تک پہنچ جاتی ہیں ، مگر وہ لوگ جو صرف ظاہر پرست ہیں ، اس کے جلوؤں سے آنکھیں خیرہ کرلیتے ہیں ۔ اس آیت میں آرائش عالم کی کیفیت کو واضح صورت میں پیش کیا ہے ، اور بتایا ہے کہ دنیا کا جو پہلو تمہیں نظر آتا ہے ، وہ حسین نہیں ، غور سے دیکھو ، اس کے چہرہ پر سرور پر فنا اور موت کی کس قدر خوفناک جھریاں پڑی ہوئی ہیں ۔ آج جہاں دولت ہے کل افلاس ہے جس جگہ قصر ومحل تھے وہاں جھونپڑیاں نظر آرہی ہیں جنہیں مخمل و باغات پر قدم رکھنا مشکل تھا جو نازوتنعم کے آغوش میں پروان چڑھے ، آج آغوش لحد میں پڑے ہوئے ہیں ۔ ٍقرآن حکیم کی یہ مثال دنیا عبرت کے لئے بہترین مثال ہے ، دنیا ایک کھیت ہے ، ایک باغ ہے جو پانی برس جانے سے لہہا اٹھتا ہے ، اور سرسبز شاداب نظر آنے لگتا ہے ، پھل کثرت سے پیدا ہوتے ہیں ، مالک سمجھتا ہے کہ اب خوش بختی وخوش حالی میں کون میرا مقابلہ کرسکتا ہے ، کہ اچانک رات کو اللہ کا عذاب آجاتا ہے اور وہ ہرا بھرا باغ اجڑ جاتا ہے ، دنیا کی یہ کس قدر صحیح مثال ہے مگر دیدہ عبرت کہاں جو تماشہ کرے ۔ حل لغات : لم تغن : غنی یغنی ، اس کے معنی باقی رہنے اور قیام کے ہیں ۔ صفائی کے معنی قیام گاہیں ۔ بالامس : سے مراد ماضی قریب کا زمانہ ہے ، قتر : بمعنی گردوغبار ۔
Ayahs 10:26–30

لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:26 in the Quran reader

جو نیکی کرتے ہیں ، ان کے لئے بھلائی اور زیادتی ہے ، اور ان کے چہروں پر سیاہی اور ذلت نہ چھائے گی وہ بہشتی ہیں ، وہاں ہمیشہ رہیں گے (ف 1) ۔

وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 10:27 in the Quran reader

اور جنہوں نے بدی کمائی ، بدی کا بدلہ اس کے برابر ہے ، اور ان پر ذلت چھا جائیگی ، اور اللہ سے بچانے والا انہیں کوئی نہیں ، گویا کالی رات کا ایک ٹکڑا ان کے مونہوں پر ڈھانک دیا گیا ہے ، وہ دوزخی ہیں ، وہاں ہمیشہ رہیں گے ۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ Open ayah 10:28 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شریک اپنی اپنی جگہ کھڑے رہو ، پھر ہم ان میں اور ان کے بتوں میں جدائی کریں گے ، اور ان کے شریک ان سے کہیں گے کہ ہم ہماری تو عبادت نہ کرتے تھے ۔

فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ Open ayah 10:29 in the Quran reader

سو ہمارے اور تمہارے درمیان خدا کافی گواہ ہے کہ ہم تمہاری عبادت سے بیخبر تھے ۔

هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 10:30 in the Quran reader

اسی موقعہ پر ہر کوئی جو آگے بھیجا اسے جانچ لے گا ، اور وہ سب اپنے سچے ملک اللہ کی طرف پھیرے جائیں گے اور سب جھوٹ جو وہ باندھتے تھے ان سے گم ہوجائیں گے ،

(ف 1) جب کہ دنیا کا یہ حشر ہے تو پھرجائے پناہ کہاں ہے ؟ وہ کون ہے جس کی وجہ سے صحبت وسل امتی کی راہیں کھلتی ہیں ، اس آیت میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر فنا وموت کے بعد نجات حاصل کرنا چاہتے ، اور دائمی خوش زندگی کے خواہشمند ہو تو اللہ سے اچھا تعلق پیدا کرو ، وہ حی وقیوم ہے ، اسی کی ذات کو ثبات وقرار ہے ، وہ سل امتی کی دعوت دیتا ہے ، مبارک ہیں وہ لوگ جو اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔ اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔
Ayahs 10:31–36

قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 10:31 in the Quran reader

تو پوچھ کون تمہیں آسمان و زمین سے رزق پہنچاتا ہے یا کون کانوں اور آنکھوں کا مالک ہے ؟ اور کون مردہ میں سے زندہ اور زندہ میں سے مردہ نکالتا ہے ؟ اور کون ہے جو کام کی تدبیر کرتا ہے ؟ سو وہ جواب دیں گے ، کہ اللہ تو کہہ پھر کیا تم نہیں ڈرتے (ف 1) ۔

فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ Open ayah 10:32 in the Quran reader

سو یہی اللہ ہے تو تمہارا سچا رب ہے ، اب سچ کے بعد سوائے گمراہی کے اور کیا باقی رہا پھر کدھر جاتے ہو ۔

كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:33 in the Quran reader

یوں تیرے رب کی بات ، ان فاسقوں پر درست آئی ، کہ وہ ایمان نہ لائیں گے ۔

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 10:34 in the Quran reader

ان سے پوچھ تمہارے شریکوں میں کوئی ہے کہ پہلے پیدا کرے پھر اسے لوٹائے ، تو کہہ اللہ ہی پہلے پیدا کرتا ہے ، پھر لوٹائے گا ، سو کہاں الٹے جاتے ہو ۔

قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ Open ayah 10:35 in the Quran reader

تو پوچھ تمہارے شریکوں میں کوئی ہے جو سچی راہ بتائے ، تو کہہ ، اللہ راہ حق بتاتا ہے ، سو بھلا جو راہ حق بتائے ، وہ پیروی کے زیادہ لائق ہے یا وہ شخص کہ آپ ہی نہیں راہ پاتا ، مگر یہ کہ راہ بتایا جائے ؟ تمہیں کیا ہوا ، کیسا انصاف کرتے ہو ۔

وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 10:36 in the Quran reader

اور اکثر ان میں صرف گمان کے پیرو ہیں اور حق میں گمان کچھ کام نہیں آتا ، خدا جانتا ہے ، جو وہ کرتے ہیں ۔

دعوت توحید : (ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے توحید کی جانب انسانوں کو دعوت دی ہے ، ان سے پوچھا ہے کہ تمہیں رزق کون دیتا ہے ، کون تمہارے لئے کھانے پینے کا سامان مہیا کرتا ہے ، وہ کون ہے ، جس نے کان عطا کہئے کس نے آنکھیں بخشیں ، زندگی کو موت سے اور موت کو زندگی کے خوشگوار لمحات میں تبدیل کرنے والا کون ہے ؟ کائنات کا نظم ونسق کس کے اشارہ چشم کا محتاج ہے ، ظاہر ہے ان باتوں کا فطرت انسانی کی جانب سے یہی جواب ملے گا ، کہ اللہ قرآن حکیم میں پوچھتا ہے ، کہ جب اللہ ہی اس کا رحیات کو چلا رہا ہے ، تو پھر تم میں کیوں توحید کے جذبات پیدا نہیں ہوتے ، تمہیں کیا ہوگیا ہے ، کہ ایسے حکیم وقدیر خدا کو چھوڑ کر دوسروں کے آستانوں پر جھکتے ہو ، یہ کھلی گمراہی اور شرک ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل عفو نہیں ہے ۔ جب موت وحیات اس کے اختیار میں ہے ، اور سب کے لئے فنا وموت لازم ولابد ہے تو یہ سفہاء کیونکر الوہیت کا دعوی کرسکتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قسم کی محرومی ہے وہ نہ فطرتا انسان توحید کی جانب مائل ہے دل کی گہرائیوں میں توحید کے چشمے ابل رہے ہیں فطرت کی آواز ہے کہ توحید کے سوا کوئی عقیدہ تسلی بخش نہیں ، توحید کے سوا کسی عقیدے میں تسکین قلب کا سامان موجود نہیں مگر یہ نہیں کہ مناسق کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ سے نہیں ڈرتے ۔ حل لغات : فسقوا : جنہوں نے حدود فطرت سے تجاوز کیا فسق کے حقیقی معنے فطری حدود سے تجاوز کرنے کے ہیں اور راہ راست سے بھٹک جانے کے ۔
Ayahs 10:37–38

وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫ Open ayah 10:37 in the Quran reader

اور یہ قرآن اللہ کے سوا کسی کا بنایا ہوا نہیں ہے ، لیکن وہ کتب سابقہ کا مصدق ، اور جہاں کے رب سے کتاب کی تفصیل ہے ، جس میں شبہ نہیں (ف 1) ۔

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 10:38 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ (محمد ﷺ نے) یہ جھوٹ بنالیا تو کہہ تم اس کی مانند ، ایک سورت لے آؤ ، اور اللہ کے سوا جسے بلا سکتے ہو ، بلاؤ اگر سچے ہو ۔

کتاب الہی : (ف 1) قرآن حکیم کا تعارف ہے کہ یہ کتاب دماغی افتراع نہیں ، عقل و دانش انسان کی رہن منت نہیں ، اس کا تعلق الہام ووحی سے ہے ، یہ صحیفہ آسمانی خدا کی جانب سے ، ہے نبوت یہ ہے کہ اس کا تعلق تمام سابقہ کتب سے ہے ، یہ تمام صداقتوں اور سچائیوں کی تصدیق کرتی ہے ، ہر صداقت کا خیر مقدم کرتی ہے ، اور اس میں اور دنیا کی تمام کتابوں میں ایک ربط موجود ہے پھر یہ بھی کہ ضروریات انسانی کی اس میں تفصیل ہے ، تمام معاشی واخلاقی الجھنوں کو سنبھلا گیا ہے زندگی کا لائحہ عمل اور پروگرام اس میں موجود ہے ، قلب وروح کے تمام تقاضوں کی اس میں تکمیل ہے اور غیر مشکوک کلام ہے ، اسے تسلیم کرلینے میں کوئی منطقی اشکال نہیں ، کوئی معاشی الجھن نہیں ، فطرت کا پیغام ہے اور فطرت کی طرح سادہ اور حسین ۔ حل لغات : الا ظنا : یہاں مراد وہم وتخمین ہے ۔
Ayahs 10:39–40

بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:39 in the Quran reader

بلکہ انہوں نے اس کو جس کا علم انہیں حاصل نہیں ہوا اور نہ ابھی اس کی حقیقت ان پر کھلی جھٹلایا ہے ، اسی طرح ان سے اگلوں نے جھٹلایا تھا ، سو دیکھ ظالموں کا انجام کیا ہوا (ف 1) ۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 10:40 in the Quran reader

اور اہل مکہ میں کوئی تو اس (قرآن) کو مانے گا ، اور کوئی نہ مانے گا اور اللہ مفسدوں کو جانتا ہے ،

(ف 1) یہ قرآن حکیم کا وہ مطالبہ ہے کہ جس نے چودہ سو سال سے دنیا ، کفر وعناد میں تہلکہ بپا کر رکھا ہے ، قرآن حکیم کہتا ہے تمہیں اگر میرے منزل من اللہ ہونے میں شبہ ہے تو تم پوری قوت و استعداد کے ساتھ مقابلہ پر آجاؤ فصاحت وبلاغت کے سازوسامان کے ساتھ مسلح وآراستہ ہو کر آؤ تم میں یہ ہرگز جرات پیدا نہیں ہو سکے گی کہ تم ایک سورت بھی قرآن کے مقابلہ تصنیف کرسکو ، یہ چیلنج ان لوگوں کو دیا گیا جن کا بچہ بچہ شاعر تھا ، فصاحت وبلاغت جن کی بےدم کنیز تھی جن کی گھٹی میں حذاق سخن پڑا تھا مگر کسی کی ہمت نے قرآن کے اعلان مقابلہ کو قبول نہیں کیا ، یہ چیلنج آج بھی موجود ہے ، دنیا ترقی کی بہت سی منزلیں طے کرچکی ہے عربی کی قید نہیں ، وقت ومکان کی شرط نہیں ، کوئی قوم کسی وقت ایسا کلام پیش کرے ، جس میں قرآن کی سی معرفت اور حقائق ہوں ، قرآن کی سی جامعیت ہو ، جو قرآن کی طرح زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہو ، اور پھر فصاحت وبلاغت کا بھی یہ درجہ ہو کہ لوگ سنیں اور آویزہ گوش بنائیں ، اگر کفر میں دم خم ہے ، اور قرآن کو وہ حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے تو اسے آج بھی دعوت مقابلہ ہے ، قرآن اللہ کی کتاب ہے ، اس لئے انسانی طاقت سے باہر ہے کہ وہ اس کے ہم پلہ کتاب لکھ سکے ، اس لئے جن لوگوں کو قدرت نے سوچنے کا مادہ عطا فرمایا ہے انہیں اس حقیقت پر غور کرنا چاہئے اور قرآن کی برکات سے مستفید ہونا چاہئے ۔