تخلیق کائنات کی قرآنی روداد
تمام عالم کا رب وہی ہے۔ آسمان و زمین کو صرف چھ دن میں پیدا کردیا ہے۔ یا تو ایسے ہی معمولی دن یا ہر دن یہاں کی گنتی سے ایک ہزار دن کے برابر کا۔ پھر عرش پر وہ مستوی ہوگیا۔ جو سب سے بڑی مخلوق ہے اور ساری مخلوق کی چھت ہے۔ جو سرخ یاقوت کا ہے۔ جو نور سے پیدا شدہ ہے۔ یہ قول غریب ہے۔ وہی تمام مخلوق کا انتظام کرتا ہے اس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں۔ اسے کوئی کام مشغول نہیں کرلیتا۔ وہ سوالات سے اکتا نہیں سکتا۔ مانگنے والوں کی پکار اسے حیران نہیں کرسکتی۔ ہر چھوٹے بڑے کا، ہر کھلے چھپے کا، ہر ظاہر باہر کا، پہاڑوں میں سمندروں میں، آبادیوں میں، ویرانوں میں وہی بندوبست کر رہا ہے۔ ہر…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 4
یعنی پیدا کر کے وہ معطل نہیں ہوگیا بلکہ اپنی پیدا کی ہوئی کائنات کے تخت سلطنت پر وہ خود جلوہ فرما ہوا اور اب سارے جہان کا انتظام عملا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ نادان لوگ سمجھتے ہیں خدا نے کائنات کو پیدا کر کے یونہی چھوڑ دیا ہے کہ خود جس طرح چاہے چلتی رہے، یا دوسروں کے حوالے کردیا ہے کہ وہ اس میں جیسا چاہیں تصرف کریں۔ قرآن اس کے برعکس یہ حقیقت پیش کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق کی اس پوری کار گاہ پر آپ ہی حکمرانی کر رہا ہے، تمام اختیارات اس کے اپنے ہاتھ میں ہیں، ساری زمام اقتدار پر وہ خود قابض ہے، کائنات کے گوشے گوشے میں ہر وقت ہر آن جو کچھ ہو رہا ہے براہ راست اس کے حکم یا اذن سے…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں توحید کو اس ناقابل انکار حقیقت کے ذریعہ ثابت کیا گیا ہے کہ آسمان اور زمین کو پیدا کرنے میں اور پھر پورے عالم کے کاموں کی تدبیر کرنے اور چلانے میں جب اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں تو پھر عبادت و اطاعت میں کوئی دوسرا کیسے شریک ہوسکتا ہے، بلکہ کسی دوسرے کو اس میں شریک کرنا بڑی بےانصافی اور ظلم عظیم ہے۔
اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا ہے، لیکن ہمارے عرف میں دن اس وقت کو کہا جاتا ہے جو آفتاب کے طلوع ہونے سے غروب ہونے تک ہوتا ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ آسمان و زمین اور ستاروں کے پیدا ہونے سے پہلے آفتاب ہی کا وجود نہیں تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
تفسیر آیات 3۔ 4: اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭمَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۭ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۔ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا ۭوَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ۭ اِنَّهٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ۔
مذکورہ بالا انذار و بشارت کی دلیل : اوپر والے ٹکڑے میں…
Read the full tafseer →3۔ 1 اس کی وضاحت کے لئے دیکھئے سورة اعراف آیت 54 کا حاشیہ۔
3۔ 2 یعنی آسمان و زمین کی تخلیق کرکے اس نے ان کو یوں ہی نہیں چھوڑ دیا، بلکہ ساری کائنات کا نظم و تدبیر وہ اس طرح کر رہا ہے کہ کبھی کسی کا آپس میں تصادم نہیں ہوا، ہر چیز اس کے حکم پر اپنے اپنے کام میں مصروف ہے۔
3۔ 3 مشرکین و کفار، جو اصل ' مخاطب تھے، ان کا عقیدہ تھا کہ یہ بت، جن کی وہ عبادت کرتے تھے اللہ کے ہاں ان کی شفاعت کریں گے اور ان کو اللہ کے عذاب سے چھڑوائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، وہاں اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو سفارش کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اور یہ اجازت بھی صرف انہی لوگوں کے لئے ہوگی جن کے لئے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3: اسْتَوٰى: کے لفظی معنی سیدھا ہونے قابو پانے اور بیٹھ جانے کے ہیں، اللہ تعالیٰ مخلوقات کی طرح نہیں ہیں، اس لئے ان کا استواء بھی مخلوقات جیسا نہیں، اس کی ٹھیک ٹھیک کیفیت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
ہمارے لئے اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش پر اس طرح استواء فرمایا جو ان کی شان کے لائق ہے، اس سے زیادہ کسی بحث میں پڑنے کی نہ ضرورت ہے نہ ہماری محدود عقل اس کا احاطہ کرسکتی ہے۔
Read the full tafseer →ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض حقیقت ناقابل شک یہ ہے کہ تمہارا مالک وہ اللہ ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ آسمان و زمین تمام ممکنات (مخلوقات) کے اصول ہیں (تمام چیزیں بقول فلاسفۂ یونان انہی کی تائید و تأثر سے بنی ہیں۔
فی ستۃ ایام چھ دن میں ‘ یعنی دنیا کے چھ روز کے بقدر مدت میں۔ یوں تو اللہ آن کی آن میں سارے جہان کو پیدا کرسکتا تھا مگر مخلوق کو آہستہ روی اور تدریج کی تعلیم دینے کیلئے اس نے چھ روز میں آسمان و زمین بنائے۔
ثم استوی علی العرش پھر عرش (تخت شاہی) پر وہ قائم ہوا۔ سلف سے خلف تک تمام اہل سنت کا باتفاق عقیدہ ہے کہ اللہ تمام جسمانی صفات اور حدوث کے عوارض سے پاک ہے ‘ لیکن آیت…
Read the full tafseer →4 یعنی اتنے وقت میں جو چھ دن کے برابر تھا۔ اور ایک دن ابن عباس کی تفسیر کے موافق ایک ہزار سال کا لیا جائے گا۔ گویا چھ ہزار سال میں زمین و آسمان وغیرہ تیار ہوئے۔ بلاشبہ حق تعالیٰ قادر تھا کہ آن واحد میں ساری مخلوق کو پیدا کردیتا۔ لیکن حکمت اسی کو مقتضی ہوئی کہ تدریجاً پیدا کیا جائے۔ شاید بندوں کو سبق دینا ہو کہ قدرت کے باوجود ہر کام سوچ سمجھ کر تأنّی اور متانت سے کیا کریں۔ نیز تدریجی تخلیق میں بہ نسبت دفعتاً پیدا کرنے کے اس بات کا زیادہ اظہار ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ فاعل بالاضطرار نہیں بلکہ ہر چیز کا وجود بالکلیہ اس کی مشیت و اختیار سے وابستہ ہے جب چاہے، جس طرح چاہے پیدا کرے۔
5 سورة " اعراف " کے…
Read the full tafseer →آیت 3 اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ”یقیناً تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی چھ دنوں میں“
ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ ط ”پھر وہ عرش پر متمکن ہوگیا ‘ اور وہ تدبیر کرتا ہے ہر معاملہ کی۔“
اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور منصوبہ بندی کے مطابق پوری کائنات کا انتظام سنبھالے ہوئے ہے۔ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی رح نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف ”حجۃ اللہ البالغہ“ کے باب اول میں اللہ تعالیٰ کے تین افعال کے بارے میں بڑی تفصیل سے بحث کی ہے : 1 ابداع creation ex nehilo یعنی کسی چیز کو عدم محض…
Read the full tafseer →5 عبادت کا مستحق صرف وہ ہے جو پروردگار ہو :۔ اس آیت سے ربوبیت کے دلائل اور ان کے نتائج کا آغاز ہو رہا ہے۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے ارض و سماوات کو چھ ایام (ادوار) میں پیدا کیا یعنی یہ کائنات از خود ہی وجود میں نہیں آگئی جیسا کہ دہریوں کا خیال ہے پھر عرش پر قرار پکڑا (تشریح کے لیے دیکھئے سورة اعراف کی آیت نمبر 54) پھر وہ کائنات کو پیدا کرکے بیٹھ نہیں گیا جیسا کہ بعض گمراہ لوگوں کا خیال ہے۔ بلکہ اس کا پورا انتظام چلارہا ہے۔ شمس و قمر اور ستارے سب اسی کے حکم کے مطابق گردش کر رہے ہیں اس کا رعب و داب اور اس کا تصرف اتنا زیادہ ہے کہ کوئی اس کے سامنے کسی دوسرے کی سفارش بھی کرنے کی جرأت…
Read the full tafseer →4۔ سورة یونس مکی ہے۔ اب تک سورتیں (زیادہ تر) مدنی تھیں، صلوۃ، زکوٰۃ، حج، صوم، جہاد، میراث، نکاح، طلاق وغیرہ احکام فقہی وتفصیلات شریعت سے لبریز۔ اب اس سورة میں عام مکی سورتوں کی طرح بیان عقائد ہی کا شرح و تفصیل کے ساتھ ہوگا، توحید، رسالت، معاد وغیرہ، آیت میں متعدد صفات الہی کا اثبات کیا جارہا ہے، مثلا یہ کہ وہی خالق ہے، ساری کائنات کا وہی خالق ہے، وہی حاکم وآمر ہے، زمین و آسمان سب میں احکام اسی کے جاری وساری ہیں۔ (آیت) ” ربکم “۔ رب پر حاشیہ سورة فاتحہ رب العالمین کے تحت میں گذر چکا یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ سب کا حاکم و خالق ہی نہیں، سب کو تربیت دینے والا، سب کو پستی سے بلندی تک، ضعف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ محکم کتاب (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں (آیت الکتاب) میں اضافت بمعنی من ہے کیا ان لوگوں کو یعنی اہل مکہ کو اس بات سے تعجب ہوا، استفہام انکاری ہے اور مجرور اس کے قول عَجَبًا نصب کے ساتھ کان کی خبر ہے اور رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اور خبر أن اَوْحَیْنَا الخ ہے اور اَوَحَیْنَا اسم ہے پہلی (یعنی نصب کی) صورت میں أن اَوْحینا، اِیحَاؤنا مصدر کے معنی میں ہے، کہ ہم نے ان میں کے ایک شخص محمد ﷺ کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں یعنی کافروں کو عذاب سے…
Read the full tafseer →ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض حقیقت ناقابل شک یہ ہے کہ تمہارا مالک وہ اللہ ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ آسمان و زمین تمام ممکنات (مخلوقات) کے اصول ہیں (تمام چیزیں بقول فلاسفۂ یونان انہی کی تائید و تأثر سے بنی ہیں۔
فی ستۃ ایام چھ دن میں ‘ یعنی دنیا کے چھ روز کے بقدر مدت میں۔ یوں تو اللہ آن کی آن میں سارے جہان کو پیدا کرسکتا تھا مگر مخلوق کو آہستہ روی اور تدریج کی تعلیم دینے کیلئے اس نے چھ روز میں آسمان و زمین بنائے۔
ثم استوی علی العرش پھر عرش (تخت شاہی) پر وہ قائم ہوا۔ سلف سے خلف تک تمام اہل سنت کا باتفاق عقیدہ ہے کہ اللہ تمام جسمانی صفات اور حدوث کے عوارض سے پاک ہے ‘ لیکن آیت…
Read the full tafseer →(3) بلاشبہ تمہارے رب حقیقی نے دنیا کے پہلے چھ دنوں میں جس کا پہلا دن اتوار اور آخری دن جمعۃ المبارک ہے جن میں سے ہر ایک دن کی لمبائی ایک ہزار سال کے برابر ہے، آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر قائم ہوا یا یہ کہ پھر عرش پر غالب اور متمکن ہوا۔
اور وہ بندوں کے ہر ایک کام کی تدبیر کرتا ہے یا یہ کہ بندوں کے ہر کام میں غور فرماتا ہے یا یہ کہ وہ فرشتوں کو وحی تنزیل اور مصیبت کے ساتھ بھیجتا ہے۔
اس کے سامنے کوئی قریبی فرشتہ اور نہ کوئی نبی مرسل کسی کی سفارش کرسکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ساتھ، جو ان تمام امور کو انجام دیتا ہے وہ تمہارا پروردگار ہے سو تم اسی کی توحید بجا لاؤ کیا تم پھر…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ۔۔ : نبوت کے اثبات کے بعد توحید و قیامت کے دلائل شروع ہوتے ہیں۔ توحید کی پہلی اور اظہر من الشمس دلیل جو قرآن بار بار بیان کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا آسمان و زمین اور ہر چیز کا خالق ومالک، رب اور مدبر ہونا ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (21، 22) یہ بات مکہ کے مشرک بھی مانتے تھے۔ دیکھیے سورة مومنون (84 تا 89) جب رب وہی ہے تو عبادت کسی اور کی کیوں کی جائے۔ اس آیت میں اور دوسرے بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور دوسری صفات کو اس کے واحد معبود برحق ہونے کی دلیل بنایا ہے۔
فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ : اس آیت میں دہر یہ کا بھی رد ہے جو رب تعالیٰ کے وجود ہی کے منکر ہیں، جب…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 3۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش “۔ اس کی تفسیر سورة الاعراف میں گزر چکی ہے۔ (آیت) ” یدبر الامر “۔ حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : وہ اکیلے ہر کام کا فیصلہ کرتا ہے اور اس کو مقرر کرتا ہے۔ (1) المحررالوجیز، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 104)
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اپنی خلق کی تدبیر میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ امر کے ساتھ بھیجتا ہے۔ یہ قول بھی ہے وہ امر کے سات نازل کرتا ہے۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے : وہ ہر کام کے بارے حکم دیتا ہے اور اسے کر گزرتا ہے۔ یہ تمام معانی باہم متقارب ہیں، پس حضرت جبرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یدبرالامر “ کہ وہ ہر کام کا اکیلا ہی فیصلہ کرتا ہے اور فرمایا (آیت) انہ یبدوا الخلق ثم یعیدہ “ یعنی وہی زندہ کرتا ہے مخلوق کو پھر وہی اس کو موت دے گا پھر وہ اس کو زندہ کرے گا۔
Read the full tafseer →اِنَّ [ بیشک ] رَبَّكُمُ [ تم لوگوں کی پرورش کرنے والا ] اللّٰهُ الَّذِيْ [ وہ اللہ ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ [ چھ دنوں میں ] ثُمَّ [پھر ] اسْتَوٰى [ وہ متمکن ہوا ] عَلَي الْعَرْشِ [ عرش پر ] يُدَبِّرُ [ وہ تدبیر کرتا ہے ] الْاَمْرَ ۭ [ تمام معاملات کی ] مَا [ نہیں ہے ] مِنْ شَفِيْعٍ [ کوئی بھی شفاعت کرنے والا ] اِلَّا [ مگر ] مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۭ [ اس کی اجازت کے بعد ] ذٰلِكُمُ اللّٰهُ [ یہ اللہ ] رَبُّكُمْ [ تم لوگوں کی پرورش کرنے والا ہے ] فَاعْبُدُوْهُ ۭ [ پس تم لوگ اس کی بندگی کرو ] اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ…
Read the full tafseer →(ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ) (پھر عرش پر مستوی ہوا) استواء علی العرش کے بارے میں سورة اعراف کی آیت (اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ ) (رکوع 7) میں ضروری مضمون لکھ دیا گیا ہے۔ وہاں ملاحظہ فرمالیں۔ (انوار البیان ص 440 ج 3)
پھر فرمایا (یُدَبِّرُ الْاَمْرَ ) (اللہ تعالیٰ تمام امور کی تدبیر فرماتا ہے) سورة الم سجدہ میں فرمایا (یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَی الْاَرْضِ ) (وہ آسمان سے لے کر زمین تک ہر امر کی تدبیر کرتا ہے) یعنی تمام امور اس کی تدبیر کے مطابق اور حکمت کے موافق اور اسی کی قضاء وقدر کے مطابق وجود میں آتے ہیں۔ قال صاحب الروح والمراد بہ ھاھنا التقدیر الجاری علی وفق الحکمۃ…
Read the full tafseer →ذکر تکوین عالم برائے اثبات ربوبیت رب اکرم
قال اللہ تعالیٰ ۔ ان ربکم اللہ الذی خلق السموات۔۔ الی۔۔ افلا تذکرون۔
(ربط) اوپر قرآن کریم کی عظمت اور نبوت و رسالت کی حقانیت کا ذکر تھا اب ان آیات میں تکوین عالم کو بیان کرتے تاکہ اس سے اللہ کی معرفت اور اس کی ربوبیت کا علم حاصل ہو جو بعثت کا اولین مقصد ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا کہ تمہارا پروردگار اور تمہارا معبود وہ ذات بابرکات ہے جس نے چھ دن میں عرش سے لے کر فرش تک تمام کائنات کو پیدا کی اور یہ تمام کارخانہ اسی کی تدبیر اور حکمت سے چل رہا ہے اسی پروردگار عالم نے تمہاری ہدایت اور تربیت کے لیے ایک مرد کامل کو مبعوث کیا ہے اور اس مرد…
Read the full tafseer →7:“ اِنَّ رَبَّکُمْ الخ ”۔ پیغمبر خدا ﷺ کے بشر رسول ہونے پر وہ اس قدر حیران اور متعجب ہیں آخر وہ کہتا کیا ہے اور اللہ کے پاس سے پیغام کیا لایا ہے اس کی بات تو غور سے سنو وہ جو کچھ کہتا ہے عقل و فطرت کے عین مطابق اور حکمت و دانائی پر مبنی ہے۔ یہ توحید (نفی شرک فی التصرف) پر پہلی دلیل عقلی ہے۔ یعنی تمہارا کارساز تو وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے چھ دن میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور پھر سارے عالم کا نظام کار اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ زمین و آسمان کی حکومت تنہا اسی کے قبضہ میں ہے اور وہی سارے عالم میں متصرف و مختار ہے۔ اس نے نظام عالم کا کوئی شعبہ کسی کے اختیار و تصرف میں نہیں دے رکھا۔
8:“ فِیْ سِتَّةِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ربط آیات :
اس سورة کی پہلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا۔ فرمایا یہ کتاب وحی الٰہی کے ذریعے نازل ہوئی اور یہ علم و حکمت کا خزینہ ہے۔ پھر دوسری آیت میں رسالت کے متعلق فرمایا کہ یہ نافرمان لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ ہم نے ایک مرد کی طرف وحی بھیجی ہے جس کا مقصد ایمان سے بےبہرہ لوگوں کو ڈرانا اور اہل ایمان کو خوشخبری سنانا ہے۔ گر کافر لوگ جب اس دعوت کا کوئی معقول جواب نہ دے سکے تو کہنے لگے یہ تو کھلا جادوگر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس لغو اعتراض کا رد فرمایا اور نہایت لطیف پیرایہ میں معاد کا ذکر بھی فرمایا کہ ایمان والوں کے لیے ان کے رب کے ہاں سچائی کا…
Read the full tafseer →اِنَّ رَبَّكُمُ اللہُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّۃِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ 0 ۭ مَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِہٖ 0 ۭ ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْہُ 0 ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 3
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : للناس کان سے متعلق ان اوحینا اسم عجبًا خبر ان انذر تفسیر ہے اوحینا کی وعد اللّٰہ اور اسی طرح حقًا منصوب ہیں فعل محذوف کے مصدر ہو کر لآیات اسم ان فی اختلاف اللیل خبر اور والنہار اللیل پر معطوف وما الخ بھی یہ سب مجرور ہیں فی کے جو خبر میں شامل ہیں۔ الذین اسم ان اسم والذین ھم اس پر معطوف اولئک خبر دعواھم مبتدا سبحانک اللہم خبر استعجالہم منصوب ہے بنزع خافض ای کا ستعجالہم۔
Read the full tafseer →اِنّ َربَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُالْاَمْرَط مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْ م بَعْدِ اِذْنِہٖ ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (یونس : 3)
(بےشک تمہارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو 6 دنوں میں پیدا فرمایا، پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔ وہ ہر کام کی تدبیر کرتا ہے۔ اس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرنے والا نہیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے، پس تم اسی کی بندگی کرو۔ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے۔ )
گزشتہ آیت میں پروردگار نے آنحضرت ﷺ کی بعثت کا مقصد یہ بیان فرمایا ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء کرام (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کرنے کی سب سے بڑی وجہ عقیدہ توحید تھا اس لیے نبی کی بشریت کا ذکر کرنے کے بعد توحید کے دلائل دیے جاتے ہیں۔
اے لوگو ! تم نبی کے انسان ہونے پر تعجب کرتے ہو۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ معمولی بات ہے کہ کسی شخص کو اپنے پیغام اور کام کے لیے منتخب فرمائے۔ اس کی ذات اتنی عظیم ہے کہ اس نے زمین و آسمان صرف چھ دن میں پیدا فرمائے اور پھر ذات کبریا عرش عظیم پر متمکن ہوئی جس طرح اس کی شان ہے۔ البتہ ہمارے لیے یہ سوچنا عظیم تر گناہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں وقت کس حالت میں ہوگا ایسی سوچ آنے پر اعوذ باللہ۔۔ پڑھنا چاہیے جہاں تک زمین و آسمان پیدا کرنے کا…
Read the full tafseer →قضاء و قدر کا وہی مالک :
3: اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ (بلاشبہ تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ روز میں پیدا فرمایا پھر عرش پر قائم ہوا) استویکا معنی استیلاء و غلبہ ہے کیونکہ دَیَّان مکان سے پاک اور معبود حدود سے وارء الوراء ہے۔
یُدَبِّرُ (وہ تدبیر کرتا ہے) حکمت کے مطابق اندازہ کرتا اور فیصلہ فرماتا ہے۔ الْاَمْرَ (ہر کام کی) تمام مخلوقات کا معاملہ اور آسمان زمین اور عرش کا معاملہ۔ اولًا اللہ تعالیٰ کی عظمت و ملکیت کا تذکرہ آسمان و زمین اور عرش کی پیدائش سے کیا۔ اور پھر یدبر الامرکا جملہ…
Read the full tafseer →(3)” ان ربکم اللہ الذی خلق السموات والارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش یدبر الامر “ تنہا ان کے فیصلے کرتا ہے۔ ” ما من شفیع الامن بعد اذنہ “ مطلب یہ ہے کہ سفارش کرنے والے اس کی اجازت کے بغیر سفارش نہ کرسکیں گے۔ اس آیت میں نضر بن حارث کی تردید ہے وہ کہتا تھا کہ قیامت کے دن لات اور عزیٰ میری سفارش کریں گے ۔ ” ذلکم اللہ ربکم ‘ ‘ یعنی جس نے یہ کام کیے وہی تمہارا رب ہے اس کے سوائی کوئی تمہارا رب نہیں ہے۔ ” فاعبدوہ افلا تذکرون “ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →3۔ اللہ پاک نے چھ دن کی مدت میں زمین و آسمان بنایا اگر وہ چاہتا تو ایک لمحہ میں بنا دیتا لیکن چھ دن کی مدت میں آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں یہ حکمت ہے کہ انسان اس عادت الٰہی کو سیکھ کر ہر کام کو سہولت سے کرے کسی کام میں عادت سے بڑھ کر جلدی نہ کرے کہ اس طرح کی جلدی شیطان کی عادت میں داخل ہے۔ چناچہ مسند ابی یعلی میں انس بن مالک ؓ کی صحیح روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہر ایک کام میں سہولت عادت الٰہی ہے اور حد سے زیادہ جلدی عادت شیطانی 1 ؎ ہے۔ کفار بھی اس بات کے تو قائل تھے کہ خدا نے زمین و آسمان کو بنایا ہے مگر بتوں کی تعظیم کرتے اور رسول کو نہیں مانتے تھے اس لئے فرمایا کہ جس کو اتنی بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آیت : (3-4)
اللہ تبارک و تعالیی اپنی ربوبیت ‘ الوہیت اور عظمت بیان کرتے وئے فرماتا ہے : (ان ربکم اللہ الذین خلق السموت والارض فی ستۃ ایام) “ بیشک تمہارا رب الہ ہے جس نے آسمانوں اور زمن کو چھ دنوں میں پیدا کیا “ اس کے باوجود کہ وہ زمین اور آسمان کو ایک لحظہ میں پیدا کرنے پر قادر ہے۔ مگر حکمت الٰہی انہیں اسی طرح تخلیق کرنے میں تھی وہ اپنے افعال میں بہت نرم اور مہربان ہے۔ یہ اس کی حکمت ہے کہ اس نے کائنات کو حق کے ساتھ اور حق کے لئے پیدا کیا ‘ تاکہ اس کے اسماء وصفات کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہو نیز یہ کہ وہ اکیلا عبادت کا مستحق ہے۔ (ثم) ” پھر “ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد (استوی علی…
Read the full tafseer →3 ۔ تخلیق کائنات کے چھ دنوں سے مراد ؟: سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب اے لوگو ! وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین (کی اس حکمتوں بھری کائنات) کو پیدا فرمایا چھ دنوں میں یعنی چھ مختلف زمانوں، میں کہ " یوم " کا اطلاق زمانے اور مطلق وقت پر بھی ہوتا ہے (المراغی، المنار وغیرہ) اور یہ اطلاق ہمارے محاوروں اور روزمرہ کی عام گفتگو میں بھی پایا جاتا ہے۔ چناچہ کہا جاتا ہے " خوشی کا دن "، " غمی کا دن " وغیرہ ظاہر ہے کہ ایسے اطلاق میں دن سے معروف معنوں میں میں نپاتلا دن مراد نہیں ہوتا بلکہ مطلق وقت مراد ہوتا ہے جو کہ معروف دن سے کم بھی ہوسکتا ہے اور زیادہ بھی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
اللہ کی قدرتیں اور نیک و بد کا انجام
تشریح : سب سے پہلے کتاب، یعنی قرآن پاک کی تعریف کی گئی، پھر جس کے ذریعے بھیجی گئی رسول اللہ ﷺ کی تعریف کی گئی اور اب اس کتاب کے خالق الہ العلمین، قادر مطلق، عظیم الشان مالک کی تعریف، اس کی تخلیقات کی تعریف، ان کے فائدے، ان پر غور و فکر کرنے والے اچھے برے لوگوں کا اعتقاد، ایمان، اعمال اور بندگی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
جب کبھی ہم کسی اچھی چیز کو دیکھتے ہیں یا کوئی اچھی کتاب پڑھتے ہیں تو ہم ضرور اس کی تعریف کرتے ہیں اور فوراً سوچتے ہیں کس نے لکھی ہے۔ لکھنے والے کی ضرور تعریف کرتے ہیں کیونکہ کتاب کے مضمون طرز تحریر سے مصنف کی قابلیت کا پتہ ضرور چل جاتا ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
الٓرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے کہ ان کا علم اللہ کو یا اس کے رسول ﷺ کو ہے یا پھر ان اللہ کے بندوں کو جو راسخین فی المعلم کے درجہ کو پالیتے ہیں کسی قدرعطا فرمایا جاتا ہے ۔ عامتہ المسلمین کے لئے تلاوت ہی کافی ہے اور معانی میں اندازے اور قیاس سے رائے قائم کرنا مناسب نہیں ۔
فرمایا ، یہ آیات ایسی عالیشان کتاب کی ہیں جو حکمت سے بھر اخزانہ ہے اور اس قدرعام فہم ہیں کسی ان پڑھ گڈریا اور چرواہاکو بھی بتانے پر انکے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی عقل سلامت ہو کہ بات عقلمندی کی ہومگرسننے والا عقل سے محروم ہو تو سمجھ نہیں پاتا ۔ یہی دیکھ لیں کہ لوگوں…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی چھ دن کی مدت میں آسمان و زمین بنائے۔ (نیز دیکھئے اعراف 145) ۔
3۔ یعنی اس ملک کا دربار ٹھہرا یا عرش پر، سب (ہر) کام کی تدبیر وہاں سے ہو۔ (موضح) نیز دیکھئے۔ (اعراف : 45) ۔
4۔ یہ مضمون کہ اللہ تعالیٰ کے حضور کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر قناعت نہیں کرسکے گا قرآن کی متعددآیات میں بیان ہوا ہے مثلاً دیکھئے سورة بقرہ آیت 552، سورة طہ آیت 901، السبا : 32، سورة النجم : 62۔ (قرطبی۔۔۔۔ ) قرآن نے جہاں مطلق شفاعت کے فائدہ مند ہونے کی نفی کی ہے وہاں یا تو کفار کا ذکر ہے اور یا بلا اذن شفاعت کی نفی ہے۔ ورنہ امت کے گنہگار مسلمانوں کے حق میں شفاعت صحیح احادیث سے ثابت ہے اور یہ بھی کہ آپ ﷺ کی شفاعت…
Read the full tafseer →(10:3) استوی علی۔ اس نے قرار پکڑا۔ وہ قائم ہوا۔ وہ متمکن ہوا۔ نیز ملاحظہ ہو 2:29 اور 7:54 ۔
العرش۔ عرش اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع عروش ہے قرآن میں ہے : وہی خاویۃ علی عروشھا (2: 259) اور اس مکانات اپنی چھتوں پر گرے پڑے تھے اسی سے عرشت الکرم وعرشتہ (باب نصر) کا محاورہ ہے۔ جس کے معنی انگور کی بیلوں کے لئے بانس وغیرہ کی ٹیٹاں بنانا ہے اور ٹٹیوں پر چڑھائی بیل کو معرش بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن میں آیا ہے : معروشت وغیر معروشت (6:141) ٹٹیوں پر چڑھائے ہوئے اور ٹیٹوں پر نہ چڑھائے ہوئے اور وما کانوا یعرشون (7:137) اور جو وہ ٹیٹوں پر چڑھاتے تھے۔ یا بقول حضرت ابن عباس و مجاہد ما کانوا یبنون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
لغات القرآن آیت نمبر 3 تا 4
خلق (اس نے پیدا کیا) ستہ ایام (چھ دن، اس سے چھ دن مراد ہیں، ممکن ہے چھ زمانے اور پیریڈ مراد ہوں) استوی (وہ برابر ہوا، یعنی اس نے نظام کائنات کا آغاز کردیا) یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے، فیصلے کرتا ہے) شفیع (سفارش کرنے والا) افلاتذکرون (کیا پھر بھی وہ اس حقیقت پر غور و فکر نہیں کرتے) حق سچ بالکل درست اور صحیح) یبدا (وہ شکر کرتا ہے) یعید (وہ لوٹاتا ہے، واپس لاتا ہے) لیجزی (تاکہ وہ بدلہ اور جزا دے) القسط (انصاف، عدل و انصاف) شراب (ہر پینے کی چیز کو شراب کہتے ہیں) حمیم (گرم ، کھولتا ہوا پانی)
تشریح :- آیت نمبر 3 تا 4
سورئہ یونس کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
زمین آسمان کے چھ روز میں قائم ہونے کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے چھ دن مین زمین وآسمان بنائے اگر وہ چاہتا تو ایک لمحہ مین بنادیتا لیکن چھ دن کی مدت میں یہ حکمت ہے کہ انسان اس عادت الٰہی کو سیکھ کر ہر کام کو سہولت سے کرے۔ عرش خدا کی ساری مخلوق سے بڑا ہے۔ پھر اس آیت میں کفار کی طرف خطاب کر کے فرمایا کہ تم جو بتوں کو پوجتے ہو اور یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ یہی بت تمہاری سفارش کریں گے تو یاد رکھو کہ تمہارا رب اگر ہے تو وہی خدا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کی عبادت کرنی زیبا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب چیزوں کو پیدا کر کے پھر ان کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ مثلا یوں تو سورج مشرق سے نکلتا ہے لیکن اس کا مغرب…
Read the full tafseer →[2] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حواشی 25-26 صفحہ نمبر 382
[3] مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محض خالق کائنات ہی نہیں بلکہ مدبر کائنات بھی ہے۔ وہ دنیا کو پیدا کر کے اس سے بےتعلق نہیں ہوگیا ہے بلکہ عملاً سارے جہان پر حکمرانی کر رہا ہے۔
Read the full tafseer →کائنات کا دل :
(ف 2) ایام سے غرض مدت ہائے دراز ہیں کیونکہ یوم کے لفظ میں باعتبار لغت و ادب بہ نسبت نہار لفظ کے جس کے معنے دن کے ہیں اور زیادہ وسعت ہے ،
(آیت) ” استوی علی العرش “ سے غرض عطوفت الہی کا کائنات کی جانب متوجہ ہونا ہے ، عرش تدابیر الہی کا مقام و مرکز ہے ، جس طرح دل انسان کے لئے تمام ارادوں کا مدارو محور ہے ، اس طرح عرش کا ئنات مادی کا دل ہے ، یا غیر اعلی سمجھ لیجئے تجلیات تدبیری عرش کی وساطت سے نافذ ہوتی ہیں ، یعنی اللہ کے تمام احکام یہیں سے صادر ہوتے ہیں ، تفصیل گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے ۔
حل لغات :
الامر : وہ حقیقت عامہ جو ساری کائنات کو شامل ہے ۔
Read the full tafseer →3 بلاشبہ تمہارا رب تو اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو تدریجاً چھ روز میں پیدا کیا پھر عرش پر اپنی شان کے لائق قائم اور جلوہ گر ہوا وہی ہر کام کی مناسب تدبیر کرتا ہے کوئی شخص اس سے سفارش کرنے والا نہیں مگر اس کی اجازت کے بعد یہی اللہ تمہارا حقیقی رب ہے لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو یا تم اس بات پر غور اور سچ بچار نہیں کرتے۔ یعنی چھ روز کی جس عرصہ میں مقدار پوری ہو اتنے عرصے میں تدریجاً پیدا کیا ہوسکتا ہے کہ ہزار برس کا ایک دن ہو اور ہوسکتا ہے یہی معمولی دن ہوں۔ اس کے روبرو کسی کو بدون اس کی اجازت کے شفاعت کا بھی حق نہیں۔ چہ جائے کہ تم عبادت میں شریک کرلو۔ یہ دلائل توحید و رسالت سننے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1۔ یعنی زمین و آسمان میں احکام جاری کرنے لگا۔
Read the full tafseer →تمہارا رب وہی ہے جس نے زمین و آسمان اور اس کی ہرچیز کو چھ دنوں میں پیدا کیا
4 ؎ اس جگہ غور طلب بات یہ ہے کہ آسمان و زمین کی چھ ایام میں خلقت سے مقصود کیا ہے ؟ ایام ، یوم کی جمع ہے اور عام طور پر صبح سے لے کر شام تک کے وقت کو یوم کہا جاتا ہے لکنن اس جگہ اسوقت کا ذکر ہو رہا ہے جب کہ نہ سورج تھا اور نہ ہی صبح و شام کا کوئی وجود ۔ اس لئے آیت کریمہ میں یوم سے مراد وہ دن تو ہو نہیں سکتا جس کا ابھی ہی موجود نہ تھا۔ ہاں ! اس سے مراد مطلق وقت ہی ہو سکتا ہے اور لفظ یوم کا اطلاق اس معنی میں عموماً ہوتا رہتا ہے ۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت میں ” یوم “ سے مراد وقت کی وہ مقدار ہے جو ہمارے ہزار سال کے…
Read the full tafseer →In the third verse, the Oneness of Allah (Tauhid) has been proved through the undeniable reality that there is no associate or partner to Allah Ta` ala when it comes to the creation of the heavens and the earth and then to the management and operation of this entire universal system. When this reality stands established, how could someone else be made an associate or partner in His pristine Divinity or in worship for Him and in obedience to Him? In fact, doing so is the highest conceivable injustice.
It was said in this verse that Allah Ta'ala has created the heavens and the earth in six…
Read the full tafseer →4. There is no reason to believe that after having created everything God chose to consign Himself to the limbo of unconcern. On the contrary, after His great act of creation He established Himself on the Throne and holds the reins of the entire universe so that He not only reigns but in fact also effectively rules over the universe. The Qur'an considers it a colossal error - an error to which the ignorant have succumbed - to believe that after creating the universe God either left it to run on its own, or entrusted its affairs to others to govern it as they please. On the contrary, the…
Read the full tafseer →