قیامت کا عمل اسی تخلیق کا اعادہ ہے
قیامت کے دن ایک بھی نہ بچے گا سب اپنے اللہ کے پاس حاضر کئے جائیں گے جیسے اس نے شروع میں پیدا کیا تھا۔ ایسے ہی دوبارہ اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہوگا۔ اس کے وعدے اٹل ہیں۔ عدل کے ساتھ وہ اپنے نیک بندوں کو اجر دے گا اور پورا پورا بدلہ عنایت فرمائے گا۔ کافروں کو بھی ان کے کفر کا بدلہ ملے گا۔ طرح طرح کی سزائیں ہوں گی۔ گرم پانی، گرمی، گرم لو ان کے حصے میں آئیں گے اور بھی قسم قسم کے عذاب ہوتے رہیں گے۔ وہ جہنم جسے یہ جھٹلا رہے تھے ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگی۔ اس کے اور گرم پگھلے ہوئے تانبے جیسے پانی کے درمیان یہ حیران و پریشان ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة یُوْنُس 8
یہ نبی کی تعلیم کا دوسرا بنیادی اصول ہے۔ اصل اول یہ تمہارا رب صرف اللہ ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔ اور اصل دوم یہ کہ تمہیں اس دنیا سے واپس جا کر اپنے رب کو حساب دینا ہے۔
سورة یُوْنُس 9
یہ فقرہ دعوے اور دلیل دونوں کا مجموعہ ہے۔ دعوی یہ ہے کہ خدا دوبارہ انسان کو پیدا کرے گا اور اس پر دلیل یہ دی گئی ہے کہ اسی نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا۔ جو شخص یہ تسلیم کرتا ہو کہ خدا نے خلق کی ابتدا کی ہے (اور اس سے بجز ان دہریوں کے جو محض پادریوں کے مذہب سے بھاگنے کے لیے خلق بےخالق جیسے احمقانہ نظریے کو اوڑھنے پر آمادہ ہوگئے اور کون انکار کرسکتا ہے) وہ اس بات کو ناممکن یا بعد از فہم قرار نہیں…
Read the full tafseer →چوتھی آیت میں عقیدہ آخرت کا بیان ہے (آیت) اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا، یعنی اسی کی طرف لوٹنا ہے تم سب کو، وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا، یہ وعدہ ہے اللہ کا حق اور صحیح، (آیت) اِنَّهٗ يَبْدَؤ ُ ا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ ، یعنی وہ اول پیدا کرتا ہے تمام مخلوق کو اور وہی اس کو قیامت میں دوبارہ زندہ فرمائے گا، اس جملہ میں بتلا دیا کہ اس پر کوئی تعجب کرنے کی جگہ نہیں کہ یہ ساری کائنات فنا ہوجانے کے بعد پھر کیسے زندہ ہوگی کیونکہ جس ذات اقدس کے قبضہ میں یہ ہے کہ اول کسی چیز کو بغیر کسی مادہ کے اور بغیر کسی سابقہ شکل و صورت کے پیدا کردے اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ پیدا شدہ مخلوق کو فنا کرنے کے بعد پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
تفسیر آیات 3۔ 4: اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭمَا مِنْ شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ ۭ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۔ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا ۭوَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ۭ اِنَّهٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ۔
مذکورہ بالا انذار و بشارت کی دلیل : اوپر والے ٹکڑے میں…
Read the full tafseer →4۔ 1 اس آیت میں قیامت کے وقوع، بارگاہ الٰہی میں سب کی حاضری اور جزا سزا کا بیان ہے، یہ مضمون قرآن کریم میں مختلف اسلوب سے متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3: اسْتَوٰى: کے لفظی معنی سیدھا ہونے قابو پانے اور بیٹھ جانے کے ہیں، اللہ تعالیٰ مخلوقات کی طرح نہیں ہیں، اس لئے ان کا استواء بھی مخلوقات جیسا نہیں، اس کی ٹھیک ٹھیک کیفیت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
ہمارے لئے اتنا ایمان رکھنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عرش پر اس طرح استواء فرمایا جو ان کی شان کے لائق ہے، اس سے زیادہ کسی بحث میں پڑنے کی نہ ضرورت ہے نہ ہماری محدود عقل اس کا احاطہ کرسکتی ہے۔
Read the full tafseer →الیہ مرجعکم جمیعًا (مرنے کے بعد قیامت کے دن زندہ ہو کر) تم سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے۔ مرجع مصدر ہے یا ظرف مکان۔
وعد اللہ حقًا اللہ نے اس کا سچا وعدہ کر رکھا ہے۔ وعد اللہ مفعول مطلق ہے۔ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ اللہ کی طرف سے وعدہ ہے ‘ اس وعدہ کی تاکید وعد اللہ کا لفظ کر رہا ہے۔ حقًّا بھی مفعول مطلق ہے اور اس مضمون کی تاکید کر رہا ہے جس پر وعد اللہ کا لفظ دلالت کر رہا ہے۔ گویا اول مفعول مطلق ہے تاکید لنفسہ کا اور دوسرا تاکید بغیرہ کا فائدہ دے رہا ہے۔
انہ یبدوا الخلق بلاشبہ وہی ابتدائی تخلیق کرتا ہے۔ یعنی یہ دنیوی زندگی وہی دیتا ہے۔
ثم یعیدہ پھر (موت دینے کے بعد آخرت میں) دوبارہ زندگی بھی…
Read the full tafseer →9 یعنی اسی سے تم سب کا آغاز ہوا، اور اسی کی طرف انجام کار سب کو جانا ہے۔ پھر اس کے احکام و سفراء سے سرتابی کرنا کیسے روا ہوسکتا ہے۔
10 یعنی چھوٹی سے چھوٹی نیکی بھی ضائع نہ ہو۔
Read the full tafseer →آیت 4 اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًاط وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا ط ”تم سب کا لوٹنا اسی کی جانب ہے۔ یہ وعدہ ہے اللہ کا سچا۔“
اِنَّہٗ یَبْدَؤُالْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ”وہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے ‘ پھر وہی اس کا اعادہ کر دے گا“
پہلے پہل کسی کام کا کرنا یا ابتدائی طور پر کسی چیز کو تخلیق کرنا مشکل ہوتا ہے جبکہ اس کا اعادہ کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ یہ ایک معقول اور منطقی بات ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہی نے یہ سب کچھ پیدا فرمایا ہے اور پہلی بار اسے اس تخلیق میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے کیونکر مشکل ہوجائے گا ! بہر حال وہ تمام انسانوں کو دوبارہ پیدا کرے گا :
لِیَجْزِیَ…
Read the full tafseer →6 اخروی زندگی کا مقصد :۔ پہلی دلیل اللہ کے مالک و مختار ہونے سے متعلق تھی اور یہ دوسری دلیل دوسری زندگی کے حشر و نشر سے متعلق ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ جس اللہ نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا ہے وہ تمہیں مرنے کے بعد دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے بلکہ دوبارہ پیدا کرنا اس کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ آسان ہے اور تمہیں دوبارہ پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس دارفانی میں جس کسی نے ایمان لاکر اچھے کام کیے ہوں انہیں اس کا بدلہ دیا جائے اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہو انہیں اس کا بدلہ دیا جائے کیونکہ اس دنیا میں نہ تو انسان کے ایمان کا بدلہ دیا جانا ضروری ہے اور نہ ہی یہ دنیا کی زندگی اتنی طویل ہے کہ اس میں…
Read the full tafseer →8۔ انصاف سے جزا دینے کے معنی یہ ہیں کہ جو اجر وانعام موعود ہے، اس میں کمی ذرا بھی نہ کرے اور اس سے زاید اپنے فضل وکرم سے جتنا چاہے عطا کردے۔ (آیت) ” یبدؤا الخلق “۔ ابداء میں یہ بات بھی آگئی کہ خلق کی پیدائش عدم محض سے ہوئی ہے، کسی مادہ وغیرہ سے نہیں، جیسا کہ بعض مشرک فرقے اب تک سمجھ رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ محکم کتاب (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں (آیت الکتاب) میں اضافت بمعنی من ہے کیا ان لوگوں کو یعنی اہل مکہ کو اس بات سے تعجب ہوا، استفہام انکاری ہے اور مجرور اس کے قول عَجَبًا نصب کے ساتھ کان کی خبر ہے اور رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اور خبر أن اَوْحَیْنَا الخ ہے اور اَوَحَیْنَا اسم ہے پہلی (یعنی نصب کی) صورت میں أن اَوْحینا، اِیحَاؤنا مصدر کے معنی میں ہے، کہ ہم نے ان میں کے ایک شخص محمد ﷺ کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں یعنی کافروں کو عذاب سے…
Read the full tafseer →الیہ مرجعکم جمیعًا (مرنے کے بعد قیامت کے دن زندہ ہو کر) تم سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے۔ مرجع مصدر ہے یا ظرف مکان۔
وعد اللہ حقًا اللہ نے اس کا سچا وعدہ کر رکھا ہے۔ وعد اللہ مفعول مطلق ہے۔ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ اللہ کی طرف سے وعدہ ہے ‘ اس وعدہ کی تاکید وعد اللہ کا لفظ کر رہا ہے۔ حقًّا بھی مفعول مطلق ہے اور اس مضمون کی تاکید کر رہا ہے جس پر وعد اللہ کا لفظ دلالت کر رہا ہے۔ گویا اول مفعول مطلق ہے تاکید لنفسہ کا اور دوسرا تاکید بغیرہ کا فائدہ دے رہا ہے۔
انہ یبدوا الخلق بلاشبہ وہی ابتدائی تخلیق کرتا ہے۔ یعنی یہ دنیوی زندگی وہی دیتا ہے۔
ثم یعیدہ پھر (موت دینے کے بعد آخرت میں) دوبارہ زندگی بھی…
Read the full tafseer →(4) مرنے کے بعد تم سب لوگوں کو اللہ ہی کے پاس جانا ہے، یہ سچا وعدہ کر رکھا ہے، جو یقیناً پورا ہونے والا ہے، بیشک وہی پہلی بار نطفہ سے پیدا کرتا ہے، پھر وہی مرنے کے بعد بھی پیدا کرے گا۔
Read the full tafseer →اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا۔۔ : اس میں قیامت، یعنی سب لوگوں کے دوبارہ زندہ ہو کر اللہ کے حضور پیش ہونے کا بیان ہے۔ یہ اللہ کا پکا سچا وعدہ ہے کیونکہ دنیا میں نیک و بد کی جزا و سزا نہ ضروری ہے نہ ممکن، نہ یہاں اس کے لیے مطلوب فرصت میسر ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہر حال میں اپنے سچے وعدے کو پورا کرتے ہوئے تمہیں دوبارہ زندہ کرکے ایمان والوں کو انصاف کے ساتھ جزا دے گا اور کافروں کو ان کے کفر کا بدلہ دے گا۔ اگر کوئی اسے ناممکن سمجھے تو سوچ لے کہ جو ذات تمہیں شروع میں پیدا کرتی ہے، یعنی عدم سے وجود میں لاتی ہے، کیا اس کے لیے یہ مشکل ہے کہ تمہارے مرجانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندگی دے۔ مزید دیکھیے سورة…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 4 :
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” الیہ مرجعکم “۔ یہ مبتدا ہونے کے سبب مرفوع ہے۔ (آیت) ” جمیعا “ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اور رجوع الی اللہ کا معنی اس کی جزا کی طرف لوٹنا ہے۔ (آیت) ” وعداللہ حقا “۔ یہ دونوں مصدر ہیں، یعنی وعداللہ ذالک وعدا وحققہ، حقا، صدقا لا خلف فیہ، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرما رکھا ہے اور اس نے اسے سچ ثابت کیا ہے اس میں اس کا خلاف قطعا نہیں۔ اور ابراہیم بن ابی عبلہ نے (آیت) ” وعداللہ حق “۔ پڑھا ہے اور اس استیناف پر محمول کیا ہے۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” انہ یبدؤاالخلق “۔ بیشک وہی مٹی سے پیدائش کی ابتداء کرتا ہے، (آیت) ” ثم یعیدہ “۔ پھر وہ اسی کی طرف لوٹائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یدبرالامر “ کہ وہ ہر کام کا اکیلا ہی فیصلہ کرتا ہے اور فرمایا (آیت) انہ یبدوا الخلق ثم یعیدہ “ یعنی وہی زندہ کرتا ہے مخلوق کو پھر وہی اس کو موت دے گا پھر وہ اس کو زندہ کرے گا۔
Read the full tafseer →اِلَيْهِ [ اس کی طرف ہی ] مَرْجِعُكُمْ [ تمہیں لوٹنا ہے ] جَمِيْعًا ۭ [ سب کے سب کو ] وَعْدَ اللّٰهِ [ (بیشک ) اللہ کا وعدہ (ثابت) ہے ] حَقًّا ۭ [ حق ہوتے ہوئے ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] يَبْدَؤُا [ابتدا کرتا ہے ] الْخَلْقَ [ پیدا کرنے کی ] ثُمَّ [ پھر ] يُعِيْدُهٗ [ وہ دوبارہ (پیدا) کرے گا اسکو ] لِيَجْزِيَ [ تاکہ وہ بدلہ دے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور انھوں نے عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] بِالْقِسْطِ ۭ [ انصاف سے ] وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] لَھُمْ [ ان کے لیے ] شَرَابٌ [ پینے کی چیز ہے ] مِّنْ حَمِيْمٍ [ کھولتے (پانی…
Read the full tafseer →(اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا) (اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے) (وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا) (اللہ نے وعدہ فرمایا ہے اس کا وعدہ حق ہے) اس کے علم میں قیامت کا جو وقت مقرر ہے اس وقت آجائے گی سب زندہ ہوجائیں گے پھر پشیمانیاں ہوں گی۔ حساب دینا ہوگا۔ قیامت کے آنے میں جو دیر لگ رہی ہے اس دیر کی وجہ سے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ وہ نہیں آئے گی ‘ اللہ کا وعدہ سچا ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اِنَّ الْاٰخِرَۃَ وَعْدٌ صَادِقٌ یَحْکُمُ فِیْھَا مَلَکٌ عَادِلٌ قَادِرٌ) (بلاشبہ آخرت کا وعدہ سچا وعدہ ہے اس میں وہ بادشاہ فیصلے فرمائے گا جو عادل بھی ہے اور قادر بھی ہے۔ ) (مشکوٰۃ…
Read the full tafseer →حقیقت معاد وذکر جزائے اعمال
قال اللہ تعالی۔ الیہ مرجعکم میعا۔۔۔ الی۔۔۔ بما کانوا یکفرون۔
(ربط ): اوپر کی آیتوں میں مبدا اور توحید کا ذکر تھا اب معاد اور جزاء اعمال کو ذکر کرتے ہیں جو اصول دین میں سے ایک عظیم اصل ہے (یا یوں کہو) کہ گزشتہ آیت میں فاعل حقیقی کی صفات کو بیان کیا اب یہ بتلاتے ہیں کہ تمہارا مرجع اور مآل اسی فاعل حقیقی کی طرف ہے جس نے تم کو ابتداء پیدا کیا۔ پس کیا تم اس کے دلائل وحدانیت اور براہین ربوبیت میں غور نہیں کرتے۔ اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے نہ کہ کسی اور کی طرف۔ یہ اللہ تعالیٰ نے تم سے سچا وعدہ کیا ہے اور اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا محال اور…
Read the full tafseer →12:“ اِلَیْهِ مَرْجِعُکُمْ الخ ” یہ ما بعد کے لیے تمہید ہے۔ مشرکین اگر مسئلہ توحید مان لیں تو ان کا فائدہ ہے کیونکہ ماننے والے اور نہ ماننے والے سب آخرت میں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں حاضر ہوں گے۔ “ لِیَجْزِيَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ ” لام برائے عاقبت ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ “ بِالْقِسْطِ ” یعنی انصاف کے ساتھ۔ حرف جار “ لِیَجْزِيَ ” سے متعلق ہے۔ “ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا الخ ” نہ مانے والوں کے لیے تخویف اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
ربط آیات :
اس سورة کی پہلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا۔ فرمایا یہ کتاب وحی الٰہی کے ذریعے نازل ہوئی اور یہ علم و حکمت کا خزینہ ہے۔ پھر دوسری آیت میں رسالت کے متعلق فرمایا کہ یہ نافرمان لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ ہم نے ایک مرد کی طرف وحی بھیجی ہے جس کا مقصد ایمان سے بےبہرہ لوگوں کو ڈرانا اور اہل ایمان کو خوشخبری سنانا ہے۔ گر کافر لوگ جب اس دعوت کا کوئی معقول جواب نہ دے سکے تو کہنے لگے یہ تو کھلا جادوگر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس لغو اعتراض کا رد فرمایا اور نہایت لطیف پیرایہ میں معاد کا ذکر بھی فرمایا کہ ایمان والوں کے لیے ان کے رب کے ہاں سچائی کا…
Read the full tafseer →اِلَيْہِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيْعًا 0 ۭ وَعْدَ اللہِ حَقًّا 0 ۭ اِنَّہٗ يَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُہٗ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ 0 ۭ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ 4
رجع
الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود،
( ر ج ع ) الرجوع
اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : للناس کان سے متعلق ان اوحینا اسم عجبًا خبر ان انذر تفسیر ہے اوحینا کی وعد اللّٰہ اور اسی طرح حقًا منصوب ہیں فعل محذوف کے مصدر ہو کر لآیات اسم ان فی اختلاف اللیل خبر اور والنہار اللیل پر معطوف وما الخ بھی یہ سب مجرور ہیں فی کے جو خبر میں شامل ہیں۔ الذین اسم ان اسم والذین ھم اس پر معطوف اولئک خبر دعواھم مبتدا سبحانک اللہم خبر استعجالہم منصوب ہے بنزع خافض ای کا ستعجالہم۔
Read the full tafseer →اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا ط وَعْدَاللّٰہِ حَقًّاط اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌ م بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ۔ (یونس : 4)
(اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے۔ یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بیشک وہی خلق کا آغاز کرتا ہے۔ پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک اعمال کیے ان کو پورے انصاف کے ساتھ بدلہ دے اور جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے کھولتا پانی ہے اور دردناک عذاب ہے۔ بسبب اس کے کہ وہ کفر کرتے تھے۔ )
عقیدہ آخرت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ ہی نے ساری کائنات اور انسان کو پیدا کیا وہی اس کائنات کو ملیا میٹ کرکے نئی صورت میں پیدا کرے گا۔ ہر انسان کو اس کی بارگاہ میں حاضر ہونا اور اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔
ہر دور میں بیشمار ایسے لوگ رہے ہیں اور ہوں گے۔ جن کا یہ نظریہ ہے کہ کائنات کا نظام اسی طرح ہی چلتا رہتا ہے۔ انسان بھی مر کر مٹی کے ساتھ مٹی ہوجاتا ہے۔ ہندوؤں اور کچھ لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ کائنات کا نظام اس طرح چلتا رہے گا۔ مگر انسان جب مرجاتا ہے تو اس کی روح دنیا میں کسی دوسرے روپ میں پلٹ آتی ہے۔ جسے آواگون کا عقیدہ کہا جاتا ہے۔ آخرت کے منکرین میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ کائنات…
Read the full tafseer →4: اِلَـیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا (تم تمام نے اسی ہی کی بارگاہ میں لوٹنا ہے) جمیعًا حال ہے مطلب یہ ہے کہ تم بالآخر اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ پس اسکی ملاقات کی تیاری کرلو۔ نمبر 1۔ المرجع ؔ کا معنی رجوع کرنا۔ نمبر 2۔ رجوع کی جگہ وَعْدَ اللّٰہِ (اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے) یہ الیہ مرجعکم کیلئے مصدر بطورتاکید لایا گیا ہے۔ حَقًّا (سچا) یہ وعد اللہ کیلئے مصدر مؤکد ہے۔۔ اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ (وہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی پیدا کرے گا) یہ جملہ مستانفہ ہے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنے کی علت بیان کرنا ہے۔
شرک نہ کرنے والے منصف ہیں :
لِیَجْزِیَ…
Read the full tafseer →(4) ” الیہ مرجعکم جمعیا ً وعد اللہ حقاً “ سچا ہے وعدہ اس کا خلاف نہ ہوگا ۔ یہ مصدر کی وجہ سے منصوب یعنی ” وعدکم وعداً حقاً “ انہ یبدوا الخلق ثم یعیدہ “ یعنی ابتداء ان کو زندہ کیا پھر ان کو موت دے گا پھر ان کو زندہ کرے گا ۔
اکثر کی قرأت ” انہ “ الف کی زیر کے ساتھ ہے استئناف کی بناء پر اور ابو جعفر نے ” انہ “ زبر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ” بانہ “ ( اس وجہ سے) یا ” لانہ “ ( اس لیے) ہے۔
” لیجزی الذی امنوا وعملوا الصالحات بالقسط “ انصاف کے ساتھ ” والذین کفروا لھم شراب من حمیم “ گرم پانی کہ اس کی حرارت انتہاء کو پہنچ چکی ہو ۔ ” و عذاب الیم بما کانوا یکفرون “۔
Read the full tafseer →4۔ منکرین حشر کی تنبیہ کے لئے فرمایا کہ یہ بھی یاد رکھو ایک نہ ایک روز سب کے سب خدا الٰہی کی طرف اکھٹے ہو کر آؤ گے پھر جیسے جس کے عمل ہوں گے ویسا اس کو اس کا بدلہ ملے گا ایمان والوں اور نیک عمل والوں کو ان کے عمل جیسا اور کافروں کو ان کے عمل جیسا ایمان والوں کو جنت کی نعمتیں نصیب ہوں گی اور منکر شریعت لوگوں کو کھولتا ہوا پانی پینے کو دیا جائے گا اور طرح طرح کے عذاب ہوں گے بعضے کافر یہ اعتراض کرتے تھے کہ جب سب کے سب مر کر خاک ہوجائیں گے ہڈیاں تک گھل کر خاک ہوجائیں گی تو پھر کیوں کر ویسے کا ویسا کوئی اٹھ کھڑا ہوگا اس کے جواب میں فرمایا (انہ یبدؤا الخلق ثم یعیدہ) جس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
آیت : (3-4)
اللہ تبارک و تعالیی اپنی ربوبیت ‘ الوہیت اور عظمت بیان کرتے وئے فرماتا ہے : (ان ربکم اللہ الذین خلق السموت والارض فی ستۃ ایام) “ بیشک تمہارا رب الہ ہے جس نے آسمانوں اور زمن کو چھ دنوں میں پیدا کیا “ اس کے باوجود کہ وہ زمین اور آسمان کو ایک لحظہ میں پیدا کرنے پر قادر ہے۔ مگر حکمت الٰہی انہیں اسی طرح تخلیق کرنے میں تھی وہ اپنے افعال میں بہت نرم اور مہربان ہے۔ یہ اس کی حکمت ہے کہ اس نے کائنات کو حق کے ساتھ اور حق کے لئے پیدا کیا ‘ تاکہ اس کے اسماء وصفات کے ذریعے سے اس کی معرفت حاصل ہو نیز یہ کہ وہ اکیلا عبادت کا مستحق ہے۔ (ثم) ” پھر “ آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے بعد (استوی علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
11 ۔ چاند اور سورج قدرت کے دوعظیم الشان نشان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے پیدا کیا سورج کو جگمگاتا اور چاند کو چمکتا ہوا۔ یعنی ضیاء اور نور کے درمیان یہی فرق ہے وضع اور استعمال دونوں کے اعتبار سے چونکہ ضیاء نور کے مقابلے میں زیادہ قوی ہوتی ہے کہ اس کی روشنی ذاتی ہے اور اس میں تپش و تمازت کی بجائے خنکی اور ٹھنڈک ہوتی ہے۔ اسی لئے ضیاء کی نسبت سورج کی طرف فرمائی گئی اور نور کی چاند کی طرف (جامع البیان وغیرہ) تو جس ذات اقدس واعلیٰ نے تمہارے لئے حسی روشنی اور جسمانی ضروریات کی تکمیل کے لئے اس قدر انتظامات فرمائے ہیں کیا وہ تمہاری روحانی ضروریات اور آخروی نجات کا کوئی انتظام نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
اللہ کی قدرتیں اور نیک و بد کا انجام
تشریح : سب سے پہلے کتاب، یعنی قرآن پاک کی تعریف کی گئی، پھر جس کے ذریعے بھیجی گئی رسول اللہ ﷺ کی تعریف کی گئی اور اب اس کتاب کے خالق الہ العلمین، قادر مطلق، عظیم الشان مالک کی تعریف، اس کی تخلیقات کی تعریف، ان کے فائدے، ان پر غور و فکر کرنے والے اچھے برے لوگوں کا اعتقاد، ایمان، اعمال اور بندگی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
جب کبھی ہم کسی اچھی چیز کو دیکھتے ہیں یا کوئی اچھی کتاب پڑھتے ہیں تو ہم ضرور اس کی تعریف کرتے ہیں اور فوراً سوچتے ہیں کس نے لکھی ہے۔ لکھنے والے کی ضرور تعریف کرتے ہیں کیونکہ کتاب کے مضمون طرز تحریر سے مصنف کی قابلیت کا پتہ ضرور چل جاتا ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
الٓرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے کہ ان کا علم اللہ کو یا اس کے رسول ﷺ کو ہے یا پھر ان اللہ کے بندوں کو جو راسخین فی المعلم کے درجہ کو پالیتے ہیں کسی قدرعطا فرمایا جاتا ہے ۔ عامتہ المسلمین کے لئے تلاوت ہی کافی ہے اور معانی میں اندازے اور قیاس سے رائے قائم کرنا مناسب نہیں ۔
فرمایا ، یہ آیات ایسی عالیشان کتاب کی ہیں جو حکمت سے بھر اخزانہ ہے اور اس قدرعام فہم ہیں کسی ان پڑھ گڈریا اور چرواہاکو بھی بتانے پر انکے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی عقل سلامت ہو کہ بات عقلمندی کی ہومگرسننے والا عقل سے محروم ہو تو سمجھ نہیں پاتا ۔ یہی دیکھ لیں کہ لوگوں…
Read the full tafseer →ف 7۔ جو ذات تمہیں شروع میں پیدا کرتی ہے یعنی عدم سے وجودم میں لاتی ہے کیا اس کے لئے یہ مشکل ہے کہ تمہارے مرجانے کے بعد تمہیں دوبارہ زندگی دے۔ (کذافی ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(10:4) وعد اللہ۔ وعد۔ اسم ومصدر منصوب۔ مضاف الیہ مضاف الیہ (یہ) اللہ کا وعدہ (ہے) یہاں وعدہ سے مراد الیہ مرجعکم جمیعا ہے۔ حقا اسم ومصدر۔ وعدہ کی تاکید ہے وعد اللہ حقا۔ ای وعدکم اللہ ذلک وعدا حقا یہ ایک سچا وعدہ ہے جو اللہ نے تم سے کیا ہے۔ انہ یبدؤ الخلق۔ مضارع واحد مذکر غائب بدء مصدر (باب فتح) یہ جملہ مستانفہ (نیا) ہے وہ ابتدائی تخلیق کرتا ہے۔ یہاں مضارع بمعنی ماضی ہے۔ یعنی تخلیق اول اسی نے کی۔
یعیدہ۔ اس کو دہراتا ہے۔ اس کا اعادہ کرتا ہے۔ یعنی دوبارہ پیدا کرے گا۔ لوٹائے گا۔ بالقسط۔ ای بالعدل۔ عدل و انصاف کے ساتھ۔ حمیم۔ نہایت گرم پانی۔ گہرے دوست کو بھی حمیم کہتے ہیں۔ کہ اپنے دوست کی حمایت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
لغات القرآن آیت نمبر 3 تا 4
خلق (اس نے پیدا کیا) ستہ ایام (چھ دن، اس سے چھ دن مراد ہیں، ممکن ہے چھ زمانے اور پیریڈ مراد ہوں) استوی (وہ برابر ہوا، یعنی اس نے نظام کائنات کا آغاز کردیا) یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے، فیصلے کرتا ہے) شفیع (سفارش کرنے والا) افلاتذکرون (کیا پھر بھی وہ اس حقیقت پر غور و فکر نہیں کرتے) حق سچ بالکل درست اور صحیح) یبدا (وہ شکر کرتا ہے) یعید (وہ لوٹاتا ہے، واپس لاتا ہے) لیجزی (تاکہ وہ بدلہ اور جزا دے) القسط (انصاف، عدل و انصاف) شراب (ہر پینے کی چیز کو شراب کہتے ہیں) حمیم (گرم ، کھولتا ہوا پانی)
تشریح :- آیت نمبر 3 تا 4
سورئہ یونس کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
زمین آسمان کے چھ روز میں قائم ہونے کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے چھ دن مین زمین وآسمان بنائے اگر وہ چاہتا تو ایک لمحہ مین بنادیتا لیکن چھ دن کی مدت میں یہ حکمت ہے کہ انسان اس عادت الٰہی کو سیکھ کر ہر کام کو سہولت سے کرے۔ عرش خدا کی ساری مخلوق سے بڑا ہے۔ پھر اس آیت میں کفار کی طرف خطاب کر کے فرمایا کہ تم جو بتوں کو پوجتے ہو اور یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ یہی بت تمہاری سفارش کریں گے تو یاد رکھو کہ تمہارا رب اگر ہے تو وہی خدا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کی عبادت کرنی زیبا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب چیزوں کو پیدا کر کے پھر ان کا انتظام اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ مثلا یوں تو سورج مشرق سے نکلتا ہے لیکن اس کا مغرب…
Read the full tafseer →[4] یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(ف 1) اس آیت میں حشر ونشر کا ثبوت دیا گیا ہے قرآن چونکہ مدلل کتاب ہے اس لئے کوئی دعوی تشنہ برہان نہیں رہنے دیا ،
امکان حشر کے متعلق فرمایا (آیت) ” انہ یبدؤالخلق “۔ کہ وہ اس وقت کائنات کو وجود میں لاتا ہے ، جب کہ وہ کہیں موجود نہیں ہوتی ، بلکہ خود وجود اس کی قدرت کا کرشمہ ہے ، اس لئے جب کائنات کی کیفیت فنا ہوجائے گی ، تو اس وقت بھی اسے دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے ، جو بات ایک دفعہ ممکن ہے ، وہ دوسری بار کیوں محال ہو ، ضرورت حشر کے متعلق ارشاد فرمایا ، (آیت) ” لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت بالقسط “۔ یعنی تاکہ صلحاء اور پاکباز لوگوں کو اجر سے بہرہ ور کیا جائے ، اس دنیا میں مکافات عمل کا پورا…
Read the full tafseer →4 تم سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف واپس جانا ہے اور تم سب کی جائے رجوع اسی کے پاس ہے یہ وعدہ کیا ہے اللہ نے وعدہ سچا۔ بلاشبہ وہی مخلوق کو پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے اور وہی اس کو دوبارہ بھی قیامت میں پیدا کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کو انصاف کے ساتھ پورا صلہ عطا فرمائے اور جو لوگ کفر کرتے رہے ان کو سخت کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا اور ان کو سخت دردناک عذاب ہوگا۔ اس کفر و انکار کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے۔ یعنی واپس ہونا خدا کی طرف ضروری ہے۔
اول تو وہی پہلی بار اور دوسری بار پیدا کرنے والا ہے پھر اس کا وعدہ حق ہے نیز یہ کہ نیکودں کو ان کے اعمال کا صلہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 2۔ مزل سے مراد وہ مسافت ہے جس کو کوئی کو کب شب وروز میں قطع کرلے خواہ وہ مسافت خلا ہو یا ملا ہو اور اس معنی کر آفتاب بھی ذی منازل ہے لیکن چونکہ قمر کی چال بہ نسبت سورج کے سریع ہے اور اس کا منازل کو طے کرنا محسوس ہے اس لیے اس کے سیر منازل کی تخصیص مناسب ہوئی اور اس اعتبار سے قمر کی انتیس یا تیس منزلیں ہوئیں مگر چونکہ اٹھائیس رات سے زیادہ نظر نہیں آتا اس لیے اٹھائیس منزلیں اس کی مشہور ہیں اور ہرچند کہ شمس وقمر دونوں عدد سنین اور حساب کے آلات میں سے ہیں لین آفتاب کا دورہ ایک سال میں پورا ہونے کی وجہ سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ عددالسنین کو شمس کے متعلق کہا جائے اور اس سے چھوٹے حساب کو قمر کے متعلق…
Read the full tafseer →اللہ کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے یہ اللہ کا وعدہ ہے
9 ؎ اب سلسلہ بیان آخرت کی طرف متوجہ ہوگیا ہے جس سے مشرکین عرب کو انکار تھا اس طرح جس طرح وہ وحی کے نزول کو تسلیم نہیں کرتے اور خصوصاً ” بشر “ کا رسول ہونا ان کیلئے ایک انہونی بات تھی ۔ کسی انسان کا شرف نبوت سے مشرف ہونا بھی ان کے لئے محل تعجب تھا جیسا کہ آپ پڑھ چکے ۔ اسی طرح قیامت کے وقوع پذیر ہونے کی بات بھی ان کے فہم سے بالا تر تھی ۔ یہاں انہیں اس بات کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ لامحالہ تمہیں قیامت کے روز بارگاہ رب العزت میں حاضر ہونا ہوگا ۔ ساتھ ہی انہیں یہ بھی بتا دیا کہ قیامت کے دن تمہیں دوبارہ زندہ کر کے جواب دہی کیلئے حاضر کرنے والی…
Read the full tafseer →The fourth verse describes the ` Aqidah of 'Akhirah (Belief in the Hereafter) إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا (Towards Him is the return of you all). The announcement is asserted by saying: وَعْدَ اللَّـهِ حَقًّا (a real [ and true ] promise from Allah). That it must be as promised has been explained through the simple logic of: إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ (Surely, He originates the creation, then He will bring it again). The sentence is telling us that there is nothing surprising about it and that there is no sense in worrying about as to how this entire universe would start…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
8. The Prophet's teachings comprise two fundamental doctrines: (i) that God alone is man's Lord and hence man should worship Him, and (ii) that man is bound to return to his Lord in the Next Life wherein he will be made to render an account to his Lord. This particular verse focuses on the second of these two doctrines.
9. This Qur'anic statement combines the enunciation of a basic doctrine with its supporting argument. The doctrine that is being enunciated here is that God will resurrect man. This is supported by the argument that it is God Who brought about the creation in the first place.…
Read the full tafseer →