Yunus 10:5

Yunus · from ayah 5

10:5

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ؕ— مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ ۚ— یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۟هُوَ الَّذِىۡ جَعَلَ الشَّمۡسَ ضِيَآءً وَّالۡقَمَرَ نُوۡرًا وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعۡلَمُوۡا عَدَدَ السِّنِيۡنَ وَالۡحِسَابَ‌ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالۡحَـقِّ‌ۚ يُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ لِقَوۡمٍ يَّعۡلَمُوۡنَ

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیاتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is He who made the sun a shining light and the moon a derived light and determined for it phases - that you may know the number of years and account [of time]. Allah has not created this except in truth. He details the signs for a people who know

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:5

وہی ہے جس نے سُورج کو اجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اُس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو اللہ نے یہ سب کچھ (کھیل کے طور پر نہیں بلکہ) با مقصد ہی بنایا ہے وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ (سب کچھ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیاتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه اللہ تعالیٰ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بے فائده نہیں پیدا کیں۔ وه یہ دﻻئل ان کو صاف صاف بتلا رہا ہے جو دانش رکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اللہ وہی ہے جس نے سورج کو سراپا روشنی بنایا، اور چاند کو سراپا نور، اور اس کے (سفر) کے لیے منزلیں مقرر کردیں، تاکہ تم برسوں کی گنتی اور (مہینوں کا) حساب معلوم کرسکو۔ اللہ نے یہ سب کچھ بغیر کسی صحیح مقصد کے پیدا نہیں کردیا وہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لیے کھول کھول کر بیان کرتا ہے جو سمجھ رکھتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہے جس نے سورج کو جگمگاتا بنا یا اور چاند چمکتا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرائیں کہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جانو، اللہ نے اسے نہ بنایا مگر حق نشانیاں مفصل بیان فرماتا ہے علم والوں کے لیے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہی ہے جس نے سورج کو روشنی (کا منبع) بنایا اور چاند کو (اس سے) روشن (کیا) اور اس کے لئے (کم و بیش دکھائی دینے کی) منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (اوقات کا) حساب معلوم کر سکو، اور اللہ نے یہ (سب کچھ) نہیں پیدا فرمایا مگر درست تدبیر کے ساتھ، وہ (ان کائناتی حقیقتوں کے ذریعے اپنی خالقیت، وحدانیت اور قدرت کی) نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل سے واضح فرماتا ہے جو علم رکھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہی ہے جس نے سورج کو تیز روشنی اور چاند کو نور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں، تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو۔ اللہ نے یہ (سب کچھ) نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ۔ وہ آیات کو ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے جو جانتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہی تو ہے جس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور بنایا اور چاند کے لئے منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم برسوں اور تاریخوں کا حساب معلوم کرسکو۔ اللہ نے یہ سب چیزیں کسی حقیقی غایت کے لئے ہی پیدا کی ہیں۔ وہ اپنی نشانیاں ان لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتا ہے جو علم رکھتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہی ہے جس نے سورج کو تاباں اور چاند نور بنایا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرا دیں تاکہ تم سالوں کو شمار اور حساب معلوم کرسکو اللہ نے یہ کارخانہ بےمقصد نہیں بنایا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے پیدا کیا سورج کو جگمگاتا، اور چاند کو چمکتا ہوا اور اس نے اس کی منزلیں مقرر کردیں، تاکہ تم لوگ معلوم کرسکو سالوں کی گنتی، اور حساب، اللہ (تعالیٰ) نے یہ سب کچھ نہیں پیدا فرمایا مگر حق کے ساتھ، وہ کھول کر بیان کرتا ہے اپنی نشانیوں کو ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں (حق اور حقیقت کا)

— مولانا اسحاق مدنی

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن۔ اور اس کے لئے منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب جان لیا کرو۔ اللہ نے یہ (چیزیں) بےمقصد نہیں پیدا کی ہیں وہ نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہی ہے جس نے بنایا سورج کو چمکدار اور چاند کو نور اور اس نے اس (چاند) کی منزلیں مقرر کردیں تاکہ تمہیں معلوم ہو گنتی برسوں کی اور تم (معاملات زندگی میں) حساب کرسکو اللہ نے یہ سب کچھ پیدا نہیں کیا مگر حق کے ساتھ اور وہ تفصیل بیان کرتا ہے اپنی آیات کی ان لوگوں کے لیے جو علم حاصل کرنا چاہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور چاند کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور (کاموں کا) حساب معلوم کرو۔ یہ سب کچھ اللہ نے تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ سمجھنے والوں کے لیے وہ اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

He it is Who gave the sun radiance and the moon light, and determined the stages (for the waxing and waning of the moon) that you may learn the calculation of years and the reckoning of time. Allah has created all this with a rightful purpose (rather than out of play). He expounds His signs for the people who know.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is the One who has made the sun a glow, and the moon a light, and determined for it stages, so that you may learn the number of the years, and the calculation (of time). Allah has not created all this but for a rightful purpose. He elaborates the signs for a people who understand.

— Muhammad Taqi Usmani

He is the One who has made the sun a glow, and the moon a light, and determined for it stages, so that you may learn the number of the years, and the calculation (of time). Allah has not created all this but for a rightful purpose. He elaborates the signs for a people who understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is He Who made the sun a shining thing and the moon as a light and measured out for it stages that you might know the number of years and the reckoning. Allah did not create this but in truth. He explains the Ayat in detail for people who have knowledge.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He it is Who appointed the sun a splendour and the moon a light, and measured for her stages, that ye might know the number of the years, and the reckoning. Allah created not (all) that save in truth. He detaileth the revelations for people who have knowledge.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is He who made the sun a shining light and the moon a derived light and determined for it phases - that you may know the number of years and account [of time]. Allah has not created this except in truth. He details the signs for a people who know

— Saheeh International

It is God who has made the sun radiant and the moon luminous and has appointed for the moon certain phases so that you may compute the number of years and other reckonings. God has created them for a genuine purpose. He explains the evidence (of His existence) to the people of knowledge.

— Muhammad Sarwar

He it is Who made the sun a shining brightness and the moon a light, and ordained for it mansions that you might know the computation of years and the reckoning. Allah did not create it but with truth; He makes the signs manifest for a people who know.

— Muhammad Habib Shakir

He it is who hath made the sun a glow and the moon a light, and hath determined mansions for her that ye may know the number of the years and the reckoning Allah hath not created all this except with a purpose; He detaileth these signs unto those who know.

— Abdul Majid Daryabadi

It is He Who made the sun to be a shining glory and the moon to be a light (of beauty), and measured out stages for her; that ye might know the number of years and the count (of time). Nowise did Allah create this but in truth and righteousness. (Thus) doth He explain His Signs in detail, for those who understand.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:5

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 5–6

اللہ عزوجل کی عظمت وقدرت کے ثبوت مظاہر کائنات اس کی کمال قدرت، اس کی عظیم سلطنت کی نشانی یہ چمکیلا آفتاب ہے اور یہ روشن ماہتاب ہے۔ یہ اور ہی فن ہے اور وہ اور ہی کمال ہے۔ اس میں بڑا ہی فرق ہے۔ اس کی شعاعیں جگمگا دیں اور اس کی شعاعیں خود منور رہیں۔ دن کو آفتاب کی سلطنت رہتی ہے، رات کو ماہتاب کی جگمگاہٹ رہتی ہے، ان کی منزلیں اس نے مقرر کر رکھی ہیں۔ چاند شروع میں چھوٹا ہوتا ہے۔ چمک کم ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور روشن بھی ہوتا ہے پھر اپنے کمال کو پہنچ کر گھٹنا شروع ہوتا ہے واپسی اگلی حالت پر آجاتا ہے۔ ہر مہینے میں اس کا یہ ایک دور ختم ہوتا ہے نہ سورج چاند کو پکڑلے، نہ چاند سورج کی راہ روکے، نہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة یُوْنُس 8 یہ نبی کی تعلیم کا دوسرا بنیادی اصول ہے۔ اصل اول یہ تمہارا رب صرف اللہ ہے لہٰذا اسی کی عبادت کرو۔ اور اصل دوم یہ کہ تمہیں اس دنیا سے واپس جا کر اپنے رب کو حساب دینا ہے۔ سورة یُوْنُس 9 یہ فقرہ دعوے اور دلیل دونوں کا مجموعہ ہے۔ دعوی یہ ہے کہ خدا دوبارہ انسان کو پیدا کرے گا اور اس پر دلیل یہ دی گئی ہے کہ اسی نے پہلی مرتبہ انسان کو پیدا کیا۔ جو شخص یہ تسلیم کرتا ہو کہ خدا نے خلق کی ابتدا کی ہے (اور اس سے بجز ان دہریوں کے جو محض پادریوں کے مذہب سے بھاگنے کے لیے خلق بےخالق جیسے احمقانہ نظریے کو اوڑھنے پر آمادہ ہوگئے اور کون انکار کرسکتا ہے) وہ اس بات کو ناممکن یا بعد از فہم قرار نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر وہ اللہ ایسا ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو (بھی) نورانی بنایا اور اس (کی چال) کے لئے منزلیں مقرر کیں (کہ ہر روز ایک منزل قطع کرتا ہے) تاکہ (ان اجرام کے ذریعہ سے) تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو، اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں بےفائدہ نہیں پیدا کیں، وہ یہ دلائل ان لوگوں کو صاف بتلا رہے ہیں جو دانش رکھتے ہں، بلاشبہ رات اور دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے (توحید کے) دلائل ہیں جو (خدا کا) ڈر مانتے ہیں۔ معارف و مسائل ان آیتوں میں کائنات عالم کی بہت سی نشانیاں مذکور ہیں جو اللہ جل شانہ کی قدرت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 5–10

تفسیر آیات 5 تا 10: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (5)إِنَّ فِي اخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ (6)إِنَّ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ (7) أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (8)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–8

5۔ 1 ضیاء ضوء کے ہم معنی ہے۔ مضاف یہاں محذوف ہے ذات ضیاء والقمر ذانور، سورج کو چمکنے والا اور چاند کو نور والا بنایا۔ یا پھر انہیں مبالغے پر محمول کیا جائے گویا کہ یہ بذات خود ضیا اور نور ہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق اور ان کی تدبیر کے ذکر کے بعد بطور مثال کچھ اور چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کا تعلق تدبیر کائنات سے ہے جس میں سورج اور چاند کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سورج کی حرارت اور تپش اور اس کی روشنی، کس قدر ناگزیر ہے اس سے ہر با شعور آدمی واقف ہے۔ اسی طرح چاند کی نورانیت کا جو لطف اور اس کے فوائد ہیں، وہ بھی محتاج بیان نہیں۔ حکما کا خیال ہے کہ سورج کی روشنی بالذات ہے اور چاند کی نورانیت ہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–10

4: اس کائنات کے جن حقائق کی طرف قرآن کریم اشارہ فرماتا ہے اس سے دو باتیں ثابت کرنی مقصود ہوتی ہیں، ایک یہ کہ کائنات کا یہ محیر العقول نظام جس میں چاند سورج ایسے نپے تلے حساب کے پابند ہو کر اپنا کام کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی نشانی ہے، اس بات کو مشرکین عرب بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں، قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو ذات اتنے عظیم الشان کاموں پر قادر ہو اسے اپنی خدائی میں آخر کسی اور شریک کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے، لہذا یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دیتی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ ساری کائنات بےمقصد پیدا نہیں کی گئی، اگر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ھو الذی جعل الشمس ضیآء اللہ وہی ہے جس نے آفتاب کو روشنی والا بنایا۔ ضیاءً سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی ذات۔ ضیاءٍ روشنی والا۔ ضیاءً قیام کی طرح مصدر ہے یا سیاط کی طرح جمع ہے۔ اس کا واحد ضوء ہے جیس سیاطکا واحد سَوْطہے۔ والقمر نورًا اور چاند کو نور والا۔ نور کا لفظ معنی کے اعتبار سے ضوء سے عام ہے۔ نور کے اعلیٰ مرتبہ کا نام ضوء ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ براہ راست روشنی کو ضوء اور بالواسطہ روشنی کو نور کہتے ہیں (اور چاند کا نور چونکہ آفتاب کا عکس پڑنے سے حاصل ہوتا ہے ‘ اسلئے شمس کے ساتھ ضیاء اور قمر کے ساتھ نور کا لفظ استعمال کیا) ۔ وقدرہ منازل اور اس (کی چال) کیلئے منزلیں مقرر کیں۔ یعنی چاند اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 بعض کے نزدیک " نور " عام ہے " ضیاء " سے " ضیاء " خاص اس نور کو کہتے ہیں جو زیادہ تیز اور چمکدار ہو۔ بعض نے کہا کہ جس کی روشنی ذاتی ہو، وہ ضیاء اور جس کی دوسرے سے مستفاد ہو، وہ " نور " ہے۔ سورج کی روشنی البتہ سورج سے مستفاد ہے۔ اور بعض محققین نے دونوں میں یہ فرق بتلایا ہے کہ " نور " مطلق روشنی کو کہتے ہیں۔ " ضیاء " اور " ضوء " اس کے انتشار (پھیلاؤ) کا نام ہے۔ سورج کی روشنی کا پھیلاؤ چونکہ زیادہ ہے۔ اس لیے " ضیاء " سے تعبیر فرمایا۔ واللہ اعلم بمرادہ۔ 2 یعنی روزانہ بتدریج گھٹتا بڑھتا ہے۔ (وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ حَتّٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ ) 36 ۔ یس :39) علمائے ہیئت نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 5 ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا ”وہی ہے جس نے بنایا سورج کو چمکدار اور چاند کو نور“ یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ سورج کے اندر جاری احتراق یعنی جلنے combustion کے عمل کی وجہ سے جو روشنی پیدا generate ہو رہی ہے اس کے لیے ”ضیاء“ جبکہ منعکس reflect ہو کر آنے والی روشنی کے لیے ”نور“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ سورج اور چاند کی روشنی کے لیے قرآن حکیم نے دو مختلف الفاظ استعمال کیے ہیں ‘ اس لیے کہ سورج کی اپنی چمک ہے اور چاند کی روشنی ایک انعکاس ہے۔ وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ط ”اور اس نے اس چاند کی منزلیں مقرر کردیں تاکہ تمہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 ضیاء اور نور کا فرق :۔ ضیاء اور نور میں فرق یہ ہے کہ نور کا لفظ عام ہے اور ضیاء کا خاص۔ گویا ضیاء بھی نور ہی کی ایک قسم ہے نور میں روشنی اور چمک ہوتی ہے جبکہ ضیاء میں روشنی اور چمک کے علاوہ حرارت، تپش اور رنگ میں سرخی بھی ہوتی ہے۔ قرآن کریم نے عموماً ضیاء کا لفظ سورج کی روشنی کے لیے اور نور کا لفظ چاند کی روشنی کے لیے استعمال فرمایا ہے۔ 8 چاند کی منزلیں :۔ بطلیموسی نظریہ ہیئت کے مطابق ہئیت دانوں نے آسمان پر چاند کی اٹھائیس منزلیں مقرر کر رکھی ہیں دور نبوی میں یہی نظریہ ہیئت مقبول عام تھا اور درس گاہوں میں اسی نظریہ کی درس و تدریس ہوتی تھی۔ لہذا اس آیت میں اگر وہی 28 منزلیں مراد لی جائیں تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

9۔ یہاں یہ بتا دیا کہ آفتاب میں ضیاء اور چاند میں نور رکھنا سب اسی قادر مطلق حکیم علی الاطلاق کا کام ہے، نہ کہ کسی دیوی دیوتا کا، اور نہ خود ان اجرام فلکی نے اپنے آپ میں یہ صفات پیدا کرلی ہیں۔ شمس پرستی اور قمر پرستی دنیا میں بہت عام رہی ہے اور اب تک ہے۔ مزید تفصیل کے لئے تفسیر انگریزی کے حاشیہ ملاحظہ ہوں۔ (آیت) ” ضیآء “۔ وہ روشنی ہے جو اپنی ذاتی، مستقل حیثیت رکھتی ہو۔ نور وہ روشنی ہے جو ضیاء سے مستعار ہو۔ اس کا انعکاس ہو۔ قرآن مجید نے (چھٹی اور ساتویں صدی عیسوی کے عرب کے ایک امی ﷺ کے لائے ہوئے قرآن نے) دو لفظ الگ الگ لا کر جدید سائنس کے اس بیان پر مہر تصدیق لگادی کہ چاند بذات خود بےنور ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ محکم کتاب (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں (آیت الکتاب) میں اضافت بمعنی من ہے کیا ان لوگوں کو یعنی اہل مکہ کو اس بات سے تعجب ہوا، استفہام انکاری ہے اور مجرور اس کے قول عَجَبًا نصب کے ساتھ کان کی خبر ہے اور رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اور خبر أن اَوْحَیْنَا الخ ہے اور اَوَحَیْنَا اسم ہے پہلی (یعنی نصب کی) صورت میں أن اَوْحینا، اِیحَاؤنا مصدر کے معنی میں ہے، کہ ہم نے ان میں کے ایک شخص محمد ﷺ کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں یعنی کافروں کو عذاب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ھو الذی جعل الشمس ضیآء اللہ وہی ہے جس نے آفتاب کو روشنی والا بنایا۔ ضیاءً سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی ذات۔ ضیاءٍ روشنی والا۔ ضیاءً قیام کی طرح مصدر ہے یا سیاط کی طرح جمع ہے۔ اس کا واحد ضوء ہے جیس سیاطکا واحد سَوْطہے۔ والقمر نورًا اور چاند کو نور والا۔ نور کا لفظ معنی کے اعتبار سے ضوء سے عام ہے۔ نور کے اعلیٰ مرتبہ کا نام ضوء ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ براہ راست روشنی کو ضوء اور بالواسطہ روشنی کو نور کہتے ہیں (اور چاند کا نور چونکہ آفتاب کا عکس پڑنے سے حاصل ہوتا ہے ‘ اسلئے شمس کے ساتھ ضیاء اور قمر کے ساتھ نور کا لفظ استعمال کیا) ۔ وقدرہ منازل اور اس (کی چال) کیلئے منزلیں مقرر کیں۔ یعنی چاند اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(5) تاکہ اس طرح لوگوں کو جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور حقوق اللہ انصاف کے ساتھ ادا کیے ایسے لوگوں کو بدلہ میں جنت دے اور جن لوگوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم ﷺ کا انکار کیا ان کو کھولتا ہوا پانی ملے گا اور ایسا دردناک عذاب ہوگا جس کی شدت ان کے دلوں تک پہنچ جائے گی کیوں کہ وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتے تھے۔ وہ اللہ ایسا ہے جس نے تمام جہانوں کو دن میں روشنی کے لیے سورج اور ررات کو روشنی کے لیے چاند دیا اور ان کی چال کے لیے منزلیں رکھیں تاکہ تم برسوں مہینوں اور دونوں کی گنتی اور حساب رکھ سکو۔ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے بیان کرنے کے لیے پیدا کی ہیں اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً۔۔ : ”ضِيَاۗءً“ ”ضَاءَ یَضُوْءُ ضَوْءً ا وَ ضِیَاءً“ سے ہے اور ”قِیَامًا“ کی طرح مصدر ہے، بعض کہتے ہیں یہ ”ضَوْءٌ“ کی جمع ہے، جیسا کہ ”سَوْطٌ۔“ کی جمع ”سِیَاطٌ“ یعنی سورج کو ”ذَاتَ ضِیَاءٍ“ تیز روشنی والا اور چاند کو ”ذَا نُوْرٍ“ نور والا بنایا، پھر ”ذَاتَ“ اور ”ذَا“ کو حذف کرکے مبالغہ کے لیے سورج کو سراپا ضیاء اور چاند کو سراپا نور قرار دیا۔ ضیاء اور نور میں وہی فرق ہے جو سورج کی تیز اور گرم روشنی اور چاند کی پر سکون روشنی میں ہوتا ہے۔ انسان اور کائنات کی حرکت و سکون کے لیے دن اور رات کی طرح سورج اور چاند بھی ضروری ہیں۔ وَّقَدَّرَهٗ مَنَازِلَ۔۔ : یعنی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 5۔ قولہ تعالیٰ : تعالیٰ : (آیت) ” ھوالذی جعل الشمس ضیآء “۔ یہ دونوں (الشمس اور ضیائ) مفعول ہیں، ضیاء بمعنی مضیۃ (روشن کرنے والا) اور اسے مونث ذکر نہیں کیا کیونکہ یہ مصدر ہے، یا پھر یہ بمعنی ذات ضیاء ہے (روشنی والا) (آیت) ” والقمر نورا “۔ یہ ماقبل پر معطوف ہے۔ یہ بھی نور بمعنی منیرا یا ذانور ہے (نور والا) پس ضیاء سے مراد وہ روشنی ہے جو چیزوں کو روشن کردیتی ہے، اور نور وہ ہے جو ظاہر ہوتا ہے اور چھپ جاتا ہے کیونکہ یہ ایک ہی اصل نار سے ہے، اور ضیاء ضؤ کی جمع ہے، جیسا سیاط سوط (کوڑا) کی جمع ہے اور حیاض حوض کی جمع ہے قنبل نے ابن کثیر سے ضئا یا کو حمزہ سے بدل کر پڑھا ہے اور اس کی کوئی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

آسمانوں زمین کی تخلیق چھ دنوں میں ہوئی : 1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہمارے رب نے کلام فرمایا دو کلموں کے ساتھ ان میں سے ایک سورج بن گیا اور دوسرا چاند۔ اور دونوں مکمل طور پر نور سے بنے ہیں اور قیامت کے دن دونوں جنت کی طرف لوٹا دئیے جائیں گے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” جعل الشمس ضیآء والقمر نورا “ سے مراد ہے کہ سورج چاند کی طرح نہیں بنایا گیا تاکہ رات کو دن سے علیحدہ پہچان کرادے۔ اور یہی قول ہے (آیت) ” فمحونا ایۃ الیل “ 3:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ھُوَ [وہ ] الَّذِيْ [ وہی ہے جس نے ] جَعَلَ [ بنایا ] الشَّمْسَ [ سورج کو ] ضِيَاۗءً [ روشنیاں ] وَّالْقَمَرَ [ا ورچاند کو ] نُوْرًا [ نور ] وَّقَدَّرَهٗ [ اور اس نے مقرر کیا اس کو ] مَنَازِلَ [ بلحاظ منزلوں کے ] لِتَعْلَمُوْا [ تاکہ تم لوگ جان لو ] عَدَدَ السِّـنِيْنَ [ سالوں کی گنتی کو ] وَالْحِسَابَ ۭ [اور حساب کو ] مَا [ نہیں ] خَلَقَ [ پیدا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] ذٰلِكَ [ یہ ] اِلَّا [ مگر ] بِالْحَقِّ ۚ [ حق کے ساتھ ] يُفَصِّلُ [ وہ کھول کھول کر بیان کرتا ہے ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] لِقَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے لیے جو ] يَّعْلَمُوْنَ [ علم رکھتے ہیں ] نوٹ ۔ 1: لفظ ضیاء میں روشنی کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–6

اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو روشن بنایا ‘ منزلیں مقرر فرمائیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جان لو ان آیات میں مزید مظاہر قدرت بیان فرمائے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول آفتاب کی روشنی کا اور پھر چاند کی روشنی کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو سراپا روشنی بنایا۔ ان کی روشنی کا تذکرہ فرماتے ہوئے آفتاب کے لئے لفظ ضَیَاءً اور چاند کے لئے لفظ نُوْرًا استعمال فرمایا۔ علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ ضیاء بڑی اور قوی روشنی کو کہتے ہیں اور نور قوی اور ضعیف ہر روشنی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا آفتاب کے لئے لفظ ضیاء استعمال میں لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے آفتاب کو زیادہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 5–6

ذکر دلائل قدرت مقرون بتذکیر نعمت قال اللہ تعالی۔ ھو الذی جعل الشمس ضیاء۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یتقون۔ (ربط): اوپر توحید کا ذکر تھا اب مزید دلائل قدرت کو بیان کرتے ہیں کہ جو شخص ان عجائب قدرت میں ذرا غور کرے گا تو سمجھ جائے گا کہ اس کارخانہ عالم کا کوئی صانع اور کاریگر ضرور ہے جس کی قدرت و حکمت کا اندازہ حیطۂ عقل سے باہر ہے اور یہ آیت درحقیقت گزشتہ آیت کی تفصیل ہے جس میں تخلیق سموات والارض کا ذکر فرمای تھا۔ مزید اتمام حجت کے لیے ان دلائل کو بیان فرمایا اور یہ امور علاوہ دلائل قدرت کے اس کی بےمثال نعمتیں بھی ہیں۔ جن میں غور کرنے سے صانع کی معرفت بھی حاصل ہوتی ہے اور اس کی محبت بھی حاصل ہوتی ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

13:“ ھُوَ الَّذِيْ جَعَلَ الخ ” یہ نفی شرک فی التصرف پر دوسری عقلی دلیل ہے، خبر معرفہ ہونے کی وجہ سے مفید حصر ہے یعنی صلہ میں جن کاموں کا ذکر کیا گیا ہے ان سب کا فاعل صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں، نظام شمسی، نظام عالم کا سب سے اہم حصہ ہے۔ اس لیے یہاں خصوصیت سے اس کا ذکر کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو پیدا کیا اور ان کو روشنی عطا فرمائی اور چاند کے دورے کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ اس کے دوسرے سے مہینوں اور سالوں کی تعداد معلوم ہوسکے۔ ماہِ رمضان، ذی الحجہ اور دیگر مہینوں اور دنوں کی تعیین ہوسکے جن سے اسلامی احکام متعلق ہیں نیز دنیوی کاروبار اور معاملات کے اوقات کا اندازہ ہوسکے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–10

ربط آیات : اس سورة کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت کو واضح کیا پھر نبوت پر اعتراض کرنے والوں کا رد فرمایا اور توحید کے دلائل بیان فرمائے زمین وآسمان کی پیدائش ، اللہ کی صفات ربوبیت ، خالقیت ، تدبیر اور اختیار اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دی۔ پھر قیامت کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہے۔ پھر ایمان والوں کے انعامات اور کفار کے برے حشر کا تذکرہ کیا اور بتلایا کہ ارض وسما کی پیدائش دارصل توحید کی دلیل ہے کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ سورج اور چاند۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ھُوَالَّذِيْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاۗءً وَّالْقَمَرَ نُوْرًا وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّـنِيْنَ وَالْحِسَابَ۝ 0 ۭ مَا خَلَقَ اللہُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ۝ 0 ۚ يُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۝ 5 جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–8

1 ؎ چاند کی منزلیں یہ ہیں کہ وہ نمودار ہونے کے بعد ہر روز تھوڑا تھوڑا چلتا آتا ہے یہاں تک تیس یا انتیس دن میں پھر وہی آنمودار ہوتا ہے۔ اس بات کی اہل تقویم و اہل نجوم نے یہ تشریح بیان کی ہے کہ آسمان کے بارہ حصہ ہیں یعنی فرضی ٹکڑے جیسے خرپزہ کی پھانکیں جن کو برج کہتے ہیں۔ اپنی ذاتی رفتار سے چاند ایک رات دن میں ایک برج کے نصف حصہ سے کم کو طے کرتا ہے۔ جس طرح کہ آفتاب اپنی رفتار سے برس بھر میں ان بارہ برجوں کو طے کرتا ہے۔ یہ مہینے بھر میں۔ اس سے موسم اور رات دن بدلتے ہیں جن سے دنیا بھر کے اسباب زندگی غلہ اور پھول وغیرہ پیدا ہوتے ہیں اور اسی سے شمسی اور قمری مہینوں کا حساب قائم ہوا ہے۔ حقانی

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآئً وَّ الْقَمَرَ نُوْراً وَّقَدَّرَہٗ مَنَازِلَ لِتٗعْلَمُوْا عَدَدَالسِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ ط مَاخَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْحَقِّ ج یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ ۔ (یونس : 5) (وہی ہے جس نے سورج کو درخشاں اور چاند کو نور بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم جان لو سالوں کا شمار اور حساب۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کارخانہ بےمقصد نہیں بنایا۔ وہ تفصیل سے بیان کرتا ہے اپنی قدرت کی نشانیاں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید تسہیل گزشتہ آیت کریمہ میں قیامت کے وقوع اور اللہ کی صفت عدل کے اظہار پر مسکت اور شافی دلائل دیئے گئے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 5–6

فہم القرآن ربط کلام : پچھلی آیت میں مرنے کے بعد جی اٹھنے کی یہ دلیل دی تھی کہ وہ ذات تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھائے گی جس نے ابتدا میں تمہیں پیدا کیا اب شمس و قمر کے حوالے سے موت کے بعد اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اختیار کی دلیل سنو۔ وہی ایک ذات ہے جس نے زمین و آسمان اور انسان کو پیدا کیا۔ وہی ذات ہے جس نے سورج کو روشنی دی اور چاند کو چاندنی عطا فرمائی۔ سورج کی روشنی ہلکی سرخ اور تیز گرم ہوتی ہے۔ چاند کی روشنی سفید ٹھنڈی اور پر کشش ہوتی ہے۔ جس وجہ سے کچھ فصلیں سورج کی تیز روشنی میں اور کچھ فصلیں چاند کی پر کشش روشنی میں تیار ہوتی ہیں۔ دنیا کو دونوں قسم کی روشنی کی ضرورت تھی۔ جس کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نمونہ قدرت : 5: ھُوَالَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآئً (وہی ذات جس نے سورج کو تیز روشنی والا بنایا) یہ ضوء سے ضیاء بنا ہے۔ ضیاء میں یاؔ اصل میں وائو ہے ماقبل کسرہ کی وجہ سے یا ؔ بنی ہے۔ اور ہمزہ سے قبل یہ تبدیلی لائی گئی کیونکہ یا حرکت کیلئے زیادہ مناسب ہے۔ دوسرا نمونہ : وَّالْقَمَرَ نُوْرًا (اور چاند کو نورانی بنایا) ضیاء ؔ، نور کی بنسبت تیز روشنی کو کہتے ہیں۔ اسی لئے چاند کے لئے نور (دھیمی روشنی) اور سورج کیلئے ضیاء (تیز روشنی) کا لفظ لایا گیا وَّ قَدَّرَہٗ َمنَازِلَ (اور اس کے لئے مقرر کردیا منازل کا اندازہ) اور چاند کا اندازہ کیا یعنی اس کے چلنے کی منازل مقرر فرمائیں۔ نمبر 2۔ ذامنازل۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر :(5) ” ھو الذی جعل الشمس ضیاء ضیاء دن کی روشنی کو کہتے ہیں ” والقمر نورا “ رات میں چاند کو نور والا بعض نے کہا ہے کہ سورج کو ضیاء والا اور قمر کو نور والا بنایا ۔ ” وقدرہ منازل “ یعنی ان کی منازل مقرر کیں کہ نہ ان سے آگے بڑھ سکتا ہے نہ پہلے رک سکتا ہے۔ یہاں تثنیہ کی ضمیر استعمال کر کے ” قدرھما “ کیوں نہیں کہا ؟ تو بعض نے جواب دیا کہ منازل تو دونوں کے لیے مقرر کی ہیں لیکن ایک کے ذکر پر اکتفاء کیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ “ اور بعض نے کہا کہ ضمیر کی طرف لوٹ رہی ہے کیونکہ چاند کے ذریعے مہینوں اور سالوں کے ختم ہونے کی پہچان ہوتی ہے نہ کہ سورج کے ذریعے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–7

5۔ 6۔ اللہ پاک نے زمین و آسمان اور جو جو چیزیں دنیا میں ہیں ان سب کو اپنے بندے کے فائدے کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے فرمایا کہ آفتاب کو الگ چمک بخشی ہے جس کے سبب سے دن ہے اور چاند کو الگ روشنی دی ہے اور وہ راتوں کو نکلا کرتا ہے چاند کے لئے منزلیں مقرر کیں جس میں وہ برابر آتا جاتا رہتا ہے کبھی گھٹ جاتا ہے کبھی بڑھ جاتا ہے اور پورا ہو کر پھر گھٹنے لگتا ہے یہاں تک کہ بالکل نہیں دکھائی دیتا پھر ایک یا دو روز میں ہلال بن کر نکلتا ہے اسی کے سبب سے لوگ مہینوں اور سال کا حساب کرتے ہیں تو جو لوگ عقل و شعور رکھتے ہیں ان سب باتوں پر غور کر کے خدا پر ایمان لاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ وحدہ لا شریک ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 5–6

آیت : (5-6) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ربوبیت اور الوہیتکومتحقق کرنے کے بعد اپنے اسماء وصفات کے کمال پر عقلی اور آفاقی دلائل بیان کرتا ہے جو تمام آفاق ‘ یعنی سورج ‘ چاند ‘ زمین و آسمان اور کائنات میں پھیلی ہوئی تمام مخلوقات پر محیط ہیں اور آگاہ فرماتا ہے کہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لئے ہیں (لقوم یعلمون) ” جو علم رکھتے ہیں “ اور ان کے لئے ہیں جو تقویٰ کا التزام کرتے ہیں ‘ کیونکہ علم دلالت کی معرفت اور انتہائی مناسب طریقے سے دلائل کے استنباط کی کیفیت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ تقویٰقلب میں بھلائی کی طرف رغبت اور برائی سے خوف کو جنم دیتا ہے۔ یہ دونوں دلائل وبراہین اور علم و یقین سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 4–5

11 ۔ چاند اور سورج قدرت کے دوعظیم الشان نشان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اللہ وہی ہے جس نے پیدا کیا سورج کو جگمگاتا اور چاند کو چمکتا ہوا۔ یعنی ضیاء اور نور کے درمیان یہی فرق ہے وضع اور استعمال دونوں کے اعتبار سے چونکہ ضیاء نور کے مقابلے میں زیادہ قوی ہوتی ہے کہ اس کی روشنی ذاتی ہے اور اس میں تپش و تمازت کی بجائے خنکی اور ٹھنڈک ہوتی ہے۔ اسی لئے ضیاء کی نسبت سورج کی طرف فرمائی گئی اور نور کی چاند کی طرف (جامع البیان وغیرہ) تو جس ذات اقدس واعلیٰ نے تمہارے لئے حسی روشنی اور جسمانی ضروریات کی تکمیل کے لئے اس قدر انتظامات فرمائے ہیں کیا وہ تمہاری روحانی ضروریات اور آخروی نجات کا کوئی انتظام نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–6

اللہ کی قدرتیں اور نیک و بد کا انجام تشریح : سب سے پہلے کتاب، یعنی قرآن پاک کی تعریف کی گئی، پھر جس کے ذریعے بھیجی گئی رسول اللہ ﷺ کی تعریف کی گئی اور اب اس کتاب کے خالق الہ العلمین، قادر مطلق، عظیم الشان مالک کی تعریف، اس کی تخلیقات کی تعریف، ان کے فائدے، ان پر غور و فکر کرنے والے اچھے برے لوگوں کا اعتقاد، ایمان، اعمال اور بندگی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ جب کبھی ہم کسی اچھی چیز کو دیکھتے ہیں یا کوئی اچھی کتاب پڑھتے ہیں تو ہم ضرور اس کی تعریف کرتے ہیں اور فوراً سوچتے ہیں کس نے لکھی ہے۔ لکھنے والے کی ضرور تعریف کرتے ہیں کیونکہ کتاب کے مضمون طرز تحریر سے مصنف کی قابلیت کا پتہ ضرور چل جاتا ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10 اسرار و معارف الٓرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے کہ ان کا علم اللہ کو یا اس کے رسول ﷺ کو ہے یا پھر ان اللہ کے بندوں کو جو راسخین فی المعلم کے درجہ کو پالیتے ہیں کسی قدرعطا فرمایا جاتا ہے ۔ عامتہ المسلمین کے لئے تلاوت ہی کافی ہے اور معانی میں اندازے اور قیاس سے رائے قائم کرنا مناسب نہیں ۔ فرمایا ، یہ آیات ایسی عالیشان کتاب کی ہیں جو حکمت سے بھر اخزانہ ہے اور اس قدرعام فہم ہیں کسی ان پڑھ گڈریا اور چرواہاکو بھی بتانے پر انکے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی عقل سلامت ہو کہ بات عقلمندی کی ہومگرسننے والا عقل سے محروم ہو تو سمجھ نہیں پاتا ۔ یہی دیکھ لیں کہ لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 5–6

ف 8۔ یعنی ہر روز بتدریج گھٹا بڑھتا ہے۔ (وحیدی) ۔ 9۔ کیونکہ جن لوگوں کو سمجھ نہیں ان کو یہ بیان کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ (وحیدی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 5–6

(10:5) ضیائ۔ چمک ۔ روشنی ۔ چمکنا۔ روشن ہونا۔ اجوف وادی ہے۔ اور مہموز اللام۔ اصل میں ضواء تھا۔ چونکہ واؤ کا ماقبل مکسور ہے اس لئے اس کو یاء سے بدل دیا۔ ضیاء یا تو مصدر ہے۔ جیسے قام سے قیام اور صام سے صیام یا ضوء کی جمع ہے جیسے سوط سے سیاط اور حوض سے حیاض لیکن نورا (جو چاند کی صفت میں آیا ہے) سے اس کا مصدر ہونا ہی زیادہ مناسب ہے۔ مصدر کی صورت میں بمعنی اسم فاعل بھی ہوسکتا ہے روشن کنندہ۔ جعل الشمس ضیائ۔ ای ذات ضیائ۔ روشی والا۔ روشن۔ درخشاں۔ ضیاء اس روشنی کو کہتے ہیں جو بالذات ہو (لسان) ۔ نورا۔ ای ذانور (غور والا) منیرا۔ چمکدار۔ نور اس روشنی کو کہتے ہیں جو بالواسطہ ہو۔ (لسان العرب) ۔ قدر اللہ لہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 5–6

لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 6 ضیاء (روشنی، چمک، اجالا) نور (چمک دار، روشن) قدر (اس نے مقرر کردیا) السنین (سن) سال، کئی برس ، یفصل (وہ تفصیل بیان کرتا ہے، کھول کر بیان کرتا ہے) تشریح : آیت نمبر 5 تا 6 جو شخص بھی غور و فکر کی صلاحیتوں سے کام لے کر ذرا بھی تدبیر رکے گا اس کو اس کائنات میں ایک خاص نظم و ضبط نظر آئے گا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ اس پورے نظام کائنات کو کوئی ہستی ہے جو چلا رہی ہے۔ حکومتیں، افراد، موسم اور حالات بدلتے رہتے ہیں لنکا اللہ کے نظام میں کبھی تبدیلی نہیں آتی۔ سورج دھک رہا ہے، چاند چمک رہا ہے، ستارے اپنی روشنی بکھیر رہے ہیں رات اور دن آسمان و زمین اسی طرح اپنے کام…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–6

چاند سورج کی منزلیں، دن را اور مہینہ قدرت کاملہ کی نشانیاں اور جنت دوزخ کا ذکر اللہ پاک نے زمین وآسمان اور جو چیزیں دنیا میں ہیں، ان سب کو اپنے بندوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ آفتاب کو الگ چمک بخشی ہے جس کے سبب سے دن ہوا کرتا ہے، اور چاند کو الگ روشنی دی ہے اور وہ راتوں کو نکلا کرتا ہے۔ چاند کے لئے منزلیں مقرر کیں جس میں وہ برابر آتا رہتا ہے۔ کبھی گھٹ جاتا ہے کبھی بڑھ جاتا اور پورا ہو کر پھر گھٹنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ بلکل نہیں دکھائی دیتا۔ پھر ایک یا دو روز میں ہلال بن کر نکلتا ہے۔ اسی کے سبب سے لوگ مہینوں اور سال کا حساب کرتے ہیں۔ تو جو لوگ عقل و شعور رکھتے ہیں ان سب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[5] منزلوں سے مراد وہ مسافت ہے جو چاند اپنی روز کی رفتار میں طے کرتا ہے۔ [6] یعنی اگر یہ سب کچھ بغیر مصلحت کے نہیں ہے تو کیا یہ ممکن ہے کہ انسان کا وجود بغیر کسی غرض و مصلحت کے ہو اور صرف اس لئے ہو کہ وہ کھائے، پئے اور مر کر ہمیشہ کے لئے فنا ہوجائے ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–5

(ف 1) اس آیت میں حشر ونشر کا ثبوت دیا گیا ہے قرآن چونکہ مدلل کتاب ہے اس لئے کوئی دعوی تشنہ برہان نہیں رہنے دیا ، امکان حشر کے متعلق فرمایا (آیت) ” انہ یبدؤالخلق “۔ کہ وہ اس وقت کائنات کو وجود میں لاتا ہے ، جب کہ وہ کہیں موجود نہیں ہوتی ، بلکہ خود وجود اس کی قدرت کا کرشمہ ہے ، اس لئے جب کائنات کی کیفیت فنا ہوجائے گی ، تو اس وقت بھی اسے دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے ، جو بات ایک دفعہ ممکن ہے ، وہ دوسری بار کیوں محال ہو ، ضرورت حشر کے متعلق ارشاد فرمایا ، (آیت) ” لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت بالقسط “۔ یعنی تاکہ صلحاء اور پاکباز لوگوں کو اجر سے بہرہ ور کیا جائے ، اس دنیا میں مکافات عمل کا پورا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

5 وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے آفتاب کو چمکدار اور چاند کو روشن اور نورانی بنایا اور اس کے لئے منزلیں مقرر کیں تاکہ تم لوگ ان اجرام علویہ کے ذریعے برسوں کی گنتی اور اوقات کے حساب معلوم کرسکو اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں کمال حکمت اور اپنی قدرت کے اظہار کے لئے پیدا کی ہیں عبث اور بیکار نہیں پیدا کیں اللہ تعالیٰ اپنی توحید کے دلائل ان لوگوں کے لئے تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے جو لوگ صحیح سمجھ رکھتے ہیں۔ چاند کے لئے منزلیں مقرر ہیں ہر روز ایک منزل طے کرتا ہے چاند اور سورج کی اس گردش سے جہاں اور بیشمار فوائد ہیں منجملہ ان کے برسوں کا شمار اور حساب کے اوقات وغیرہ معلوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کمال حکمت کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 4–5

ف 2۔ مزل سے مراد وہ مسافت ہے جس کو کوئی کو کب شب وروز میں قطع کرلے خواہ وہ مسافت خلا ہو یا ملا ہو اور اس معنی کر آفتاب بھی ذی منازل ہے لیکن چونکہ قمر کی چال بہ نسبت سورج کے سریع ہے اور اس کا منازل کو طے کرنا محسوس ہے اس لیے اس کے سیر منازل کی تخصیص مناسب ہوئی اور اس اعتبار سے قمر کی انتیس یا تیس منزلیں ہوئیں مگر چونکہ اٹھائیس رات سے زیادہ نظر نہیں آتا اس لیے اٹھائیس منزلیں اس کی مشہور ہیں اور ہرچند کہ شمس وقمر دونوں عدد سنین اور حساب کے آلات میں سے ہیں لین آفتاب کا دورہ ایک سال میں پورا ہونے کی وجہ سے زیادہ مناسب یہ ہے کہ عددالسنین کو شمس کے متعلق کہا جائے اور اس سے چھوٹے حساب کو قمر کے متعلق…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہی اللہ ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا دکھائی دینے والا بنایا 11۔ تمام نظام خلقت اس کی شہادت دے رہا ہے کہ یہاں کوئی بات بغیر حکمت و مصلحت کے نہیں ۔ سورج کو دیکھو جس کی درخشندگی سے تمام ستارے روشنی حاصل کرتے ہیں ۔ آگے بڑھنے سے پہلے اس بات پر ذرا غور کرو کہ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات کمال کے اثبات کمال جو طرز استدلال اختیار کیا ہے وہ دنیا بھر کے فلسفیوں اور اہل علم کے طرز استدلال سے بالکل جدا ہے۔ قوت و تاثیر میں بھی اور وضاحت وبیان میں بھی کہیں پیچیدہ اور فنی اصطلاحات کا نام و نشان بھی نہیں ملتا ، دل میں اتر جانے والی صاف صاف باتیں ہوتی ہیں جن سے ہر طرح کے آدمی خواہ وہ عالم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary These two verses mention some signs openly visible in the universe of our experience. They are evidences of the perfect power and eloquent wisdom of the most exalted Allah. They prove that the Lord Almighty is fully capable of bringing about the end of this universe, reducing it to particles, then reassembling the particles and bringing everything back to life, all anew, making everyone account for one's deeds and get punishment or reward as enforced. And when He does that, it will be nothing but reasonable and wise. Thus, these two verses are an extension of what was said briefly…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

8. The Prophet's teachings comprise two fundamental doctrines: (i) that God alone is man's Lord and hence man should worship Him, and (ii) that man is bound to return to his Lord in the Next Life wherein he will be made to render an account to his Lord. This particular verse focuses on the second of these two doctrines. 9. This Qur'anic statement combines the enunciation of a basic doctrine with its supporting argument. The doctrine that is being enunciated here is that God will resurrect man. This is supported by the argument that it is God Who brought about the creation in the first place.…

Read the full tafseer →