Explained with ayahs 5–6
اللہ عزوجل کی عظمت وقدرت کے ثبوت مظاہر کائنات
اس کی کمال قدرت، اس کی عظیم سلطنت کی نشانی یہ چمکیلا آفتاب ہے اور یہ روشن ماہتاب ہے۔ یہ اور ہی فن ہے اور وہ اور ہی کمال ہے۔ اس میں بڑا ہی فرق ہے۔ اس کی شعاعیں جگمگا دیں اور اس کی شعاعیں خود منور رہیں۔ دن کو آفتاب کی سلطنت رہتی ہے، رات کو ماہتاب کی جگمگاہٹ رہتی ہے، ان کی منزلیں اس نے مقرر کر رکھی ہیں۔ چاند شروع میں چھوٹا ہوتا ہے۔ چمک کم ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ بڑھتا ہے اور روشن بھی ہوتا ہے پھر اپنے کمال کو پہنچ کر گھٹنا شروع ہوتا ہے واپسی اگلی حالت پر آجاتا ہے۔ ہر مہینے میں اس کا یہ ایک دور ختم ہوتا ہے نہ سورج چاند کو پکڑلے، نہ چاند سورج کی راہ روکے، نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة یُوْنُس 11
یہ عقیدہ آخرت کی تیسری دلیل ہے۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے جو کام ہر طرف نظر آرہے ہیں، جن کے بڑے بڑے نشانات سورج اور چاند، اور لیل و نہار کی گردش کی صورت میں ہر شخص کے سامنے موجود ہیں، ان سے اس بات کا نہایت واضح ثبوت ملتا ہے کہ اس عظیم الشان کار گاہ ہستی کا خالق کوئی بچہ نہیں ہے جس نے محض کھیلنے کے لیے یہ سب کچھ بنایا ہو اور پھر دل بھر لینے کے بعد یونہی اس گھروندے کو توڑ پھوڑ ڈالے۔ صریح طور پر نظر آرہا ہے کہ اس کے ہر کام میں نظم ہے، حکمت ہے، مصلحتیں ہیں، اور ذرے ذرے کی پیدائش میں ایک گہری مقصدیت پائی جاتی ہے۔ پس جب وہ حکیم ہے اور اس کی حکمت کے آثار و علائم تمہارے سامنے علانیہ…
Read the full tafseer →اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کے واسطے (توحید و آخرت کے) دلائل ہیں جو خدا تعالیٰ کا ڈر مانتے ہیں۔
توحید کے دلائل تو قدرت و صنعت کی یکتائی اور بغیر کسی امداد کے ان تمام چیزوں کو پیدا کرنا اور ایسے نظام کے ساتھ چلانا ہے جو نہ کبھی ٹوٹتا ہے نہ بدلتا ہے۔
اور آخرت کے دلائل اس لئے ہیں کہ جس ذات حکیم نے ان تمام چیزوں کو انسانوں کے فائدہ کے لئے بنایا اور ایک محکم نظام کا پابند کیا، اس سے یہ ممکن نہیں کہ اس مخدوم کائنات کو اس نے بےفائدہ محض کھانے پینے کے لئے پیدا کیا ہو، اس کے ذمہ کچھ فرائض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
تفسیر آیات 5 تا 10: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (5)إِنَّ فِي اخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ (6)إِنَّ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ (7) أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (8)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
5۔ 1 ضیاء ضوء کے ہم معنی ہے۔ مضاف یہاں محذوف ہے ذات ضیاء والقمر ذانور، سورج کو چمکنے والا اور چاند کو نور والا بنایا۔ یا پھر انہیں مبالغے پر محمول کیا جائے گویا کہ یہ بذات خود ضیا اور نور ہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق اور ان کی تدبیر کے ذکر کے بعد بطور مثال کچھ اور چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کا تعلق تدبیر کائنات سے ہے جس میں سورج اور چاند کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سورج کی حرارت اور تپش اور اس کی روشنی، کس قدر ناگزیر ہے اس سے ہر با شعور آدمی واقف ہے۔ اسی طرح چاند کی نورانیت کا جو لطف اور اس کے فوائد ہیں، وہ بھی محتاج بیان نہیں۔ حکما کا خیال ہے کہ سورج کی روشنی بالذات ہے اور چاند کی نورانیت ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
4: اس کائنات کے جن حقائق کی طرف قرآن کریم اشارہ فرماتا ہے اس سے دو باتیں ثابت کرنی مقصود ہوتی ہیں، ایک یہ کہ کائنات کا یہ محیر العقول نظام جس میں چاند سورج ایسے نپے تلے حساب کے پابند ہو کر اپنا کام کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی نشانی ہے، اس بات کو مشرکین عرب بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں، قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو ذات اتنے عظیم الشان کاموں پر قادر ہو اسے اپنی خدائی میں آخر کسی اور شریک کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے، لہذا یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دیتی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ ساری کائنات بےمقصد پیدا نہیں کی گئی، اگر…
Read the full tafseer →ان فی اختلاف الیل والنھار بیشک رات دن کے اختلاف میں۔ اختلاف سے مراد ہے ایک کا دوسرے کے پیچھے آنا جانا یا رنگوں کا اختلاف مراد ہے ‘ روشن اور تاریک
وما خلق اللہ فی السموت والارض اور جو کائنات آسمانوں میں اور زمین اللہ نے بنائی ہے ‘ اس میں۔
لایٰت بلاشبہ نشانیاں ہیں۔ صانع کے وجود کی ‘ اس کی توحید کی ‘ اس کے کمال علم وقدرت کی اور تمام عیوب و نقائص سے اس کے پاک ہونے کی۔
لقوم یتقون۔ ان لوگوں کیلئے جو (برے انجام سے) ڈرتے ہیں کیونکہ یہ ساری کائنات اہل اتقاء کو غور و فکر کی دعوت دے رہی ہے۔
Read the full tafseer →6 بلاشبہ دنیا کی ہر چھوٹی بڑی چیز میں خدا کی ہستی اور وحدانیت کے دلائل موجود ہیں۔وَفِی کُلِّ شَیْ ءٍ لَہُ اٰیَۃٌ تَدُلُّ عَلَی اَنَّہُ وَاحِدٌ سورة بقرہ میں پارہ سیقول کے ربع کے قریب ایک آیت گزر چکی جس میں زیادہ بسط و تفصیل سے ان نشانہائے قدرت کا بیان ہوا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 6 اِنَّ فِی اخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ان نشانیوں سے وہی لوگ سبق حاصل کرکے مستفیض ہوسکتے ہیں جن کے اندر خوف خدا ہے اور ان کی اخلاقی حس بیدار ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →11 چاند اور سورج کی گردش کے صرف وہی فوائد نہیں جو اوپر مذکور ہوئے بلکہ انہی کی گردش سے دن رات پیدا ہوتے ہیں اور انہی سے ہمیں دن اور رات کو روشنی حاصل ہوتی ہے انہی سے موسم بنتے ہیں فصلیں پکتی ہیں۔ چاند جن دنوں میں زائد النور ہوتا ہے، پھلوں میں رس تیزی سے بڑھتا ہے اور جب ناقص النور ہوتا ہے تو یہ رفتار سست پڑجاتی ہے وغیرہ وغیرہ، ان سب امور میں اللہ تعالیٰ کی معرفت کی بیشمار نشانیاں ہیں اور جو لوگ ان میں غور و فکر کرتے ہیں ان پر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ لہذا وہ اللہ کی نافرمانی سے خوف کھانے لگتے ہیں۔
Read the full tafseer →12۔ (اور برائیوں سے بچتے رہتے ہیں) (آیت) ” لایت “۔ اور سب سے بڑا نشان ہے مخلوقات کے عاجز، فانی اور محکوم ہونے پر اور اللہ کی صنعت، قدرت، تصرف و حکومت پر استدلال۔ (آیت) ” لقوم یتقون “۔ یہ دلائل ہیں تو ساری ہی خلقت کے لئے۔ لیکن ان سے نفع یاب وہی ہوں گے جو اہل تقوی ہیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ آیت اگر آیت ماقبل کے ساتھ ملا کر پڑھی جائے تو اس سے ہئیت، حساب اور دیگر علوم طبعیات کے سیکھنے کا جواز ثابت ہوگا۔ لیکن قید اتقاء نے ان تمام علوم کو اصلاح معاد ومعاش تک بہ شرط اتباع شریعت محدود کردیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ محکم کتاب (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں (آیت الکتاب) میں اضافت بمعنی من ہے کیا ان لوگوں کو یعنی اہل مکہ کو اس بات سے تعجب ہوا، استفہام انکاری ہے اور مجرور اس کے قول عَجَبًا نصب کے ساتھ کان کی خبر ہے اور رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اور خبر أن اَوْحَیْنَا الخ ہے اور اَوَحَیْنَا اسم ہے پہلی (یعنی نصب کی) صورت میں أن اَوْحینا، اِیحَاؤنا مصدر کے معنی میں ہے، کہ ہم نے ان میں کے ایک شخص محمد ﷺ کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں یعنی کافروں کو عذاب سے…
Read the full tafseer →ان فی اختلاف الیل والنھار بیشک رات دن کے اختلاف میں۔ اختلاف سے مراد ہے ایک کا دوسرے کے پیچھے آنا جانا یا رنگوں کا اختلاف مراد ہے ‘ روشن اور تاریک
وما خلق اللہ فی السموت والارض اور جو کائنات آسمانوں میں اور زمین اللہ نے بنائی ہے ‘ اس میں۔
لایٰت بلاشبہ نشانیاں ہیں۔ صانع کے وجود کی ‘ اس کی توحید کی ‘ اس کے کمال علم وقدرت کی اور تمام عیوب و نقائص سے اس کے پاک ہونے کی۔
لقوم یتقون۔ ان لوگوں کیلئے جو (برے انجام سے) ڈرتے ہیں کیونکہ یہ ساری کائنات اہل اتقاء کو غور و فکر کی دعوت دے رہی ہے۔
Read the full tafseer →(6) بلاشبہ دن اور رات کی تبدیلی اور ان کی کمی بیشی اور ان کے آنے جانے میں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں چاند سورج اور ستارے وغیرہ اور جو کچھ زمین میں درخت، جانور، پہاڑ اور دریا پیدا کیے ان سب میں وحدانیت خداوندی کے دلائل ہیں ان لوگوں کے واسطے جو اللہ کی اطاعت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →اِنَّ فِي اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ۔۔ : سورج روزانہ نئی جگہ سے طلوع اور نئی جگہ غروب ہوتا ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ کی ایک صفت رب المشارق (بہت سے مشرقوں کا رب) ہے۔ اسی سے دن رات کا چھوٹا بڑا ہونا، موسموں کا بدلنا، ٹھیک وقت پر شمسی سال کے لحاظ سے سال کے بعد وہی موسم دوبارہ آجانا اور زمین و آسمان میں موجود اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ بیشمار چیزوں میں یقیناً اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی توحید کی بیشمار نشانیاں ہیں، مگر ان کے لیے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے اور برے انجام سے بچتے ہیں۔ ان نشانیوں کی تفصیل چاہو تو ہر قدم پر اور ہر لمحہ تمہارے سامنے ہیں، مگر جو منہ ہی موڑ لے اس کا کیا علاج ؟…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 6۔
سورۃ البقرہ میں اس کا معنی ومفہوم گزر چکا ہے تحقیق کہا گیا ہے : بیشک اس کا سبب نزول یہ ہے کہ اہل مکہ نے علامت ونشانی کے بارے سوال کیا تو انہیں جواب یہ دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مصنوعات میں تامل اور نظر وفکر کریں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا ہے (آیت) ” لقوم یتقون “۔ یعنی اس قوم کے لیے جو شرک سے بچتے ہیں، پس جس نے شرک کا ارتکاب کیا اور راہنمائی حاصل نہ کی تو پھر یہ نشانی (آیت) اس کے لیے نشانی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →1:۔ ابوالشیخ (رح) نے حذیفہ عبدی (رح) سے روایت کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی عبادت اسے دیکھے بغیر نہ کی جائے تو کسی نے بھی اس کی عبادت نہ کی لیکن ایمان والے لوگوں نے غور وفکر کیا اس رات کے آنے میں کہ اس نے ہر چیز کو بھر دیا اور ہر چیز کو ڈھانک دیا ہے۔ اور دن کے آنے میں غور وفکر کیا کہ جب وہ آیا کہ رات کے غلبہ کو مٹا دیا اور ان بادلوں میں غور وفکر کیا جن کو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر کردیا اور ستاروں میں اور گرمی اور سردی میں غور وفکر کیا اللہ کی قسم برابر مومن لوگ اس میں فکر کرتے رہتے ہیں کہ جن کو ان کے رب تبارک وتعالیٰ نے پیدا فرمایا یہاں تک کہ ان کے دلوں نے یقین کرلیا اپنے رب عزوجل کے بارے…
Read the full tafseer →اِنَّ [ یقینا ] فِي اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ [ دن اور رات کے اختلاف میں ] وَمَا [ اور اس میں جو ] خَلَقَ [پیدا کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] فِي السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں میں ] وَالْاَرْضِ [ اور زمین میں ] لَاٰيٰتٍ [ ضرور نشانیاں ہیں ] لِّقَوْمٍ [ایسے لوگوں کے لیے جو ] يَّتَّقُوْنَ [ تقوی کرتے ہیں ]
( آیت ۔ 6) ان کا اسم ہونے کی وجہ سے لایت حالت نصب میں ہے، اس کی خبر موجود محذوف ہے ۔ اور فی اختلاف سے لے کر والارض تک قائم مقام خبر ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو روشن بنایا ‘ منزلیں مقرر فرمائیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب جان لو
ان آیات میں مزید مظاہر قدرت بیان فرمائے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول آفتاب کی روشنی کا اور پھر چاند کی روشنی کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو سراپا روشنی بنایا۔ ان کی روشنی کا تذکرہ فرماتے ہوئے آفتاب کے لئے لفظ ضَیَاءً اور چاند کے لئے لفظ نُوْرًا استعمال فرمایا۔ علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ ضیاء بڑی اور قوی روشنی کو کہتے ہیں اور نور قوی اور ضعیف ہر روشنی کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا آفتاب کے لئے لفظ ضیاء استعمال میں لایا گیا۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے آفتاب کو زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ذکر دلائل قدرت مقرون بتذکیر نعمت
قال اللہ تعالی۔ ھو الذی جعل الشمس ضیاء۔۔۔ الی۔۔۔ لایت لقوم یتقون۔
(ربط): اوپر توحید کا ذکر تھا اب مزید دلائل قدرت کو بیان کرتے ہیں کہ جو شخص ان عجائب قدرت میں ذرا غور کرے گا تو سمجھ جائے گا کہ اس کارخانہ عالم کا کوئی صانع اور کاریگر ضرور ہے جس کی قدرت و حکمت کا اندازہ حیطۂ عقل سے باہر ہے اور یہ آیت درحقیقت گزشتہ آیت کی تفصیل ہے جس میں تخلیق سموات والارض کا ذکر فرمای تھا۔ مزید اتمام حجت کے لیے ان دلائل کو بیان فرمایا اور یہ امور علاوہ دلائل قدرت کے اس کی بےمثال نعمتیں بھی ہیں۔ جن میں غور کرنے سے صانع کی معرفت بھی حاصل ہوتی ہے اور اس کی محبت بھی حاصل ہوتی ہے اور…
Read the full tafseer →15: یہ دلیل ثانی کا تتمہ ہے یعنی رات دن کی آمد و رفت اور زمین و آسمان کی ساری مخلوقات میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر بہت بڑی دلیل ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو بنظر انصاف ان میں سوچ بچار کریں، ان کے دلوں میں انابت و اطاعت کا جذبہ ہو اور ضد وعناد سے دور ہوں “ (لَاٰیٰت) لعلا مات لوحدانیة الرب (لِقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ) یطیعون ” (ابن عباس ص 131) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ربط آیات :
اس سورة کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت کو واضح کیا پھر نبوت پر اعتراض کرنے والوں کا رد فرمایا اور توحید کے دلائل بیان فرمائے زمین وآسمان کی پیدائش ، اللہ کی صفات ربوبیت ، خالقیت ، تدبیر اور اختیار اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دی۔ پھر قیامت کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہے۔ پھر ایمان والوں کے انعامات اور کفار کے برے حشر کا تذکرہ کیا اور بتلایا کہ ارض وسما کی پیدائش دارصل توحید کی دلیل ہے کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ وحدہ لا شریک ہے۔
سورج اور چاند۔
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے…
Read the full tafseer →اِنَّ فِي اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَمَا خَلَقَ اللہُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَّقُوْنَ 6
الاختلافُ والمخالفة
والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37]
( خ ل) الاختلاف والمخالفۃ
الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–8
1 ؎ چاند کی منزلیں یہ ہیں کہ وہ نمودار ہونے کے بعد ہر روز تھوڑا تھوڑا چلتا آتا ہے یہاں تک تیس یا انتیس دن میں پھر وہی آنمودار ہوتا ہے۔ اس بات کی اہل تقویم و اہل نجوم نے یہ تشریح بیان کی ہے کہ آسمان کے بارہ حصہ ہیں یعنی فرضی ٹکڑے جیسے خرپزہ کی پھانکیں جن کو برج کہتے ہیں۔ اپنی ذاتی رفتار سے چاند ایک رات دن میں ایک برج کے نصف حصہ سے کم کو طے کرتا ہے۔ جس طرح کہ آفتاب اپنی رفتار سے برس بھر میں ان بارہ برجوں کو طے کرتا ہے۔ یہ مہینے بھر میں۔ اس سے موسم اور رات دن بدلتے ہیں جن سے دنیا بھر کے اسباب زندگی غلہ اور پھول وغیرہ پیدا ہوتے ہیں اور اسی سے شمسی اور قمری مہینوں کا حساب قائم ہوا ہے۔ حقانی
Read the full tafseer →اِنَّ فِی اخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَ النَّھَارِ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ ۔ (یونس 6)
(بےشک گردش لیل و نہار میں اور جو کچھ پیدا فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو متقی ہے۔ )
دلائل آفاق نہایت سہل انداز میں
قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ دلائل میں فلسفیانہ انداز اختیار نہیں کرتا اور ایسی بات کو دلیل میں پیش نہیں کرتا جس کا سمجھنا عام انسانی عقل کے لیے دشوار ہو۔ وہ بالکل سامنے کی بات کرتا ہے اور براہ راست انسان کی فطرت اور اس کے دل پر دستک دیتا ہے۔ وہ ایسے بدیہیات سے حقائق کو استنباط کرتا ہے جو انسان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
فہم القرآن
ربط کلام : پچھلی آیت میں مرنے کے بعد جی اٹھنے کی یہ دلیل دی تھی کہ وہ ذات تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھائے گی جس نے ابتدا میں تمہیں پیدا کیا اب شمس و قمر کے حوالے سے موت کے بعد اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اختیار کی دلیل سنو۔
وہی ایک ذات ہے جس نے زمین و آسمان اور انسان کو پیدا کیا۔ وہی ذات ہے جس نے سورج کو روشنی دی اور چاند کو چاندنی عطا فرمائی۔ سورج کی روشنی ہلکی سرخ اور تیز گرم ہوتی ہے۔ چاند کی روشنی سفید ٹھنڈی اور پر کشش ہوتی ہے۔ جس وجہ سے کچھ فصلیں سورج کی تیز روشنی میں اور کچھ فصلیں چاند کی پر کشش روشنی میں تیار ہوتی ہیں۔ دنیا کو دونوں قسم کی روشنی کی ضرورت تھی۔ جس کا…
Read the full tafseer →نمونہ نمبر 3:
6: اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ (بیشک رات دن کے آگے پیچھے آنے میں) نمبر 1۔ ان میں سے ہر ایک کے دوسرے کے پیچھے آنے میں۔ نمبر 2۔ ان کے باہمی رنگوں کے مختلف ہونے میں۔ وَمَا خَلَقَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور ان چیزوں میں جو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کی ہیں) یعنی تمام مخلوقات میں لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ (بڑے دلائل ہیں ان لوگوں کیلئے جو ڈرتے ہیں) ڈرنے والوں کا خاص طور پر تذکرہ فرمایا کیونکہ آخرت کا کھٹکا اور ڈر انہی لوگوں کو ہے پھر یہ ڈران کو غور وفکر کی طرف متوجہ کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →(6)” ان فی اختلاف الیل والنھار وما فی خلق اللہ فی السموات والارض لایت لقوم یتقون “ ایمان لاتے نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
5۔ 6۔ اللہ پاک نے زمین و آسمان اور جو جو چیزیں دنیا میں ہیں ان سب کو اپنے بندے کے فائدے کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے فرمایا کہ آفتاب کو الگ چمک بخشی ہے جس کے سبب سے دن ہے اور چاند کو الگ روشنی دی ہے اور وہ راتوں کو نکلا کرتا ہے چاند کے لئے منزلیں مقرر کیں جس میں وہ برابر آتا جاتا رہتا ہے کبھی گھٹ جاتا ہے کبھی بڑھ جاتا ہے اور پورا ہو کر پھر گھٹنے لگتا ہے یہاں تک کہ بالکل نہیں دکھائی دیتا پھر ایک یا دو روز میں ہلال بن کر نکلتا ہے اسی کے سبب سے لوگ مہینوں اور سال کا حساب کرتے ہیں تو جو لوگ عقل و شعور رکھتے ہیں ان سب باتوں پر غور کر کے خدا پر ایمان لاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ وحدہ لا شریک ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
آیت : (5-6)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی ربوبیت اور الوہیتکومتحقق کرنے کے بعد اپنے اسماء وصفات کے کمال پر عقلی اور آفاقی دلائل بیان کرتا ہے جو تمام آفاق ‘ یعنی سورج ‘ چاند ‘ زمین و آسمان اور کائنات میں پھیلی ہوئی تمام مخلوقات پر محیط ہیں اور آگاہ فرماتا ہے کہ یہ نشانیاں ان لوگوں کے لئے ہیں (لقوم یعلمون) ” جو علم رکھتے ہیں “ اور ان کے لئے ہیں جو تقویٰ کا التزام کرتے ہیں ‘ کیونکہ علم دلالت کی معرفت اور انتہائی مناسب طریقے سے دلائل کے استنباط کی کیفیت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ تقویٰقلب میں بھلائی کی طرف رغبت اور برائی سے خوف کو جنم دیتا ہے۔ یہ دونوں دلائل وبراہین اور علم و یقین سے پیدا ہوتے ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →12 ۔ دن رات کے ادل بدل میں دلائل قدرت وحکمت : سو دن رات کا ادلنا بدلنا قدرت کا ایک اور عظیم الشان مظہر اور نشان ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ دن رات کے ادلنے بدلنے میں بھی قدرت کی عظیم الشان نشانیاں ہیں کہ کبھی دن چھوٹے اور کبھی راتیں۔ اور کبھی اس کے برعکس اور کبھی سردی کبھی گرمی وغیرہ۔ سو کیسی عظیم الشان قدرت اور کس قدرکامل حکمت والی ہے وہ ذات اقدس واعلیٰ جو اس قدرمحکم نظام اور حیرت انگیز طریقے سے اس سلسلے کو چلا رہی ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور جب اس کی ان صفات اور عنایات میں کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور جب دن رات کے ادلنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–6
اللہ کی قدرتیں اور نیک و بد کا انجام
تشریح : سب سے پہلے کتاب، یعنی قرآن پاک کی تعریف کی گئی، پھر جس کے ذریعے بھیجی گئی رسول اللہ ﷺ کی تعریف کی گئی اور اب اس کتاب کے خالق الہ العلمین، قادر مطلق، عظیم الشان مالک کی تعریف، اس کی تخلیقات کی تعریف، ان کے فائدے، ان پر غور و فکر کرنے والے اچھے برے لوگوں کا اعتقاد، ایمان، اعمال اور بندگی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
جب کبھی ہم کسی اچھی چیز کو دیکھتے ہیں یا کوئی اچھی کتاب پڑھتے ہیں تو ہم ضرور اس کی تعریف کرتے ہیں اور فوراً سوچتے ہیں کس نے لکھی ہے۔ لکھنے والے کی ضرور تعریف کرتے ہیں کیونکہ کتاب کے مضمون طرز تحریر سے مصنف کی قابلیت کا پتہ ضرور چل جاتا ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
الٓرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے کہ ان کا علم اللہ کو یا اس کے رسول ﷺ کو ہے یا پھر ان اللہ کے بندوں کو جو راسخین فی المعلم کے درجہ کو پالیتے ہیں کسی قدرعطا فرمایا جاتا ہے ۔ عامتہ المسلمین کے لئے تلاوت ہی کافی ہے اور معانی میں اندازے اور قیاس سے رائے قائم کرنا مناسب نہیں ۔
فرمایا ، یہ آیات ایسی عالیشان کتاب کی ہیں جو حکمت سے بھر اخزانہ ہے اور اس قدرعام فہم ہیں کسی ان پڑھ گڈریا اور چرواہاکو بھی بتانے پر انکے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی عقل سلامت ہو کہ بات عقلمندی کی ہومگرسننے والا عقل سے محروم ہو تو سمجھ نہیں پاتا ۔ یہی دیکھ لیں کہ لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ف 8۔ یعنی ہر روز بتدریج گھٹا بڑھتا ہے۔ (وحیدی) ۔
9۔ کیونکہ جن لوگوں کو سمجھ نہیں ان کو یہ بیان کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ (وحیدی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
(10:5) ضیائ۔ چمک ۔ روشنی ۔ چمکنا۔ روشن ہونا۔ اجوف وادی ہے۔ اور مہموز اللام۔ اصل میں ضواء تھا۔ چونکہ واؤ کا ماقبل مکسور ہے اس لئے اس کو یاء سے بدل دیا۔ ضیاء یا تو مصدر ہے۔ جیسے قام سے قیام اور صام سے صیام یا ضوء کی جمع ہے جیسے سوط سے سیاط اور حوض سے حیاض لیکن نورا (جو چاند کی صفت میں آیا ہے) سے اس کا مصدر ہونا ہی زیادہ مناسب ہے۔ مصدر کی صورت میں بمعنی اسم فاعل بھی ہوسکتا ہے روشن کنندہ۔ جعل الشمس ضیائ۔ ای ذات ضیائ۔ روشی والا۔ روشن۔ درخشاں۔ ضیاء اس روشنی کو کہتے ہیں جو بالذات ہو (لسان) ۔
نورا۔ ای ذانور (غور والا) منیرا۔ چمکدار۔ نور اس روشنی کو کہتے ہیں جو بالواسطہ ہو۔ (لسان العرب) ۔
قدر اللہ لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 6
ضیاء (روشنی، چمک، اجالا) نور (چمک دار، روشن) قدر (اس نے مقرر کردیا) السنین (سن) سال، کئی برس ، یفصل (وہ تفصیل بیان کرتا ہے، کھول کر بیان کرتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 5 تا 6
جو شخص بھی غور و فکر کی صلاحیتوں سے کام لے کر ذرا بھی تدبیر رکے گا اس کو اس کائنات میں ایک خاص نظم و ضبط نظر آئے گا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ اس پورے نظام کائنات کو کوئی ہستی ہے جو چلا رہی ہے۔ حکومتیں، افراد، موسم اور حالات بدلتے رہتے ہیں لنکا اللہ کے نظام میں کبھی تبدیلی نہیں آتی۔ سورج دھک رہا ہے، چاند چمک رہا ہے، ستارے اپنی روشنی بکھیر رہے ہیں رات اور دن آسمان و زمین اسی طرح اپنے کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
چاند سورج کی منزلیں، دن را اور مہینہ قدرت کاملہ کی نشانیاں اور جنت دوزخ کا ذکر
اللہ پاک نے زمین وآسمان اور جو چیزیں دنیا میں ہیں، ان سب کو اپنے بندوں کے فائدہ کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ آفتاب کو الگ چمک بخشی ہے جس کے سبب سے دن ہوا کرتا ہے، اور چاند کو الگ روشنی دی ہے اور وہ راتوں کو نکلا کرتا ہے۔ چاند کے لئے منزلیں مقرر کیں جس میں وہ برابر آتا رہتا ہے۔ کبھی گھٹ جاتا ہے کبھی بڑھ جاتا اور پورا ہو کر پھر گھٹنے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ بلکل نہیں دکھائی دیتا۔ پھر ایک یا دو روز میں ہلال بن کر نکلتا ہے۔ اسی کے سبب سے لوگ مہینوں اور سال کا حساب کرتے ہیں۔ تو جو لوگ عقل و شعور رکھتے ہیں ان سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
[7] متقی کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 2 صفحہ 92۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
الایات :
(ف 2) قرآن حکیم کا یہ عجب طرزاستدلال ہے کہ وہ زیر بحث مطالب کی کائنات کے مظاہر پیش کرکے آسانی سے ثابت کردیتا ہے ۔ ” لایات “ کہہ دینے سے تمام دعاوی کی جانب ذہن خود بخود منتقل ہوجاتا ہے ،
توحید وجود باری ، بعثت ، رسالت اور دیگر قسم کے تمام دعاوی اس مظاہرہ قدرت سے عیاں ہیں ، غور فرمائیے ، دن اور رات کا تعین اور کائنات کی دوسری خوبیاں جو ہر ذرہ میں جاری وساری ہیں ، کیا بغیر خدا کے ممکن ہیں ، کائنات کا نظم وفسق اور ایک مخصوص وحدت کے جلوے کیا توحید کی جانب ذہن انسان کو متوجہ نہیں کرتے کیا یہ سب کچھ بےغرض وغایت ہے آسمان کی بلندیاں اور زمین کی بستیاں بےمطلب ہیں ؟ کیا یہ بعثت وحشر کی طرف صاف…
Read the full tafseer →6 بلاشبہ رات دن کے آگے پیچھے آنے میں اور ان چیزوں میں جو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں اور زمین میں پیدا کی ہیں۔ ان لوگوں کے بڑے دلائل ہیں جو خدا سے ڈرتے اور اس کا ڈر مانتے ہیں۔ یہ رات دن کا اختلاف اور یکے بعد دیگرے آنا اور آسمان و زمین کی تمام مخلوق میں توحید الٰہی کے ہزاروں دلائل مضمر ہیں لیکن ان دلائل سے وہی لوگ فائدہ اٹھاسکتے ہیں جو خدا سے ڈرتے اور اس کی جستجو رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
ف 1۔ یہاں اولٰئک ماوھم النار میں کفار کا آخرت میں معذب ہونا بیان فرمایا ہے ایسے مضامین پر کفار تکذیب کی غرض سے کہا کرتے کہ ہم تو عذاب کو حق جب سمجھیں گے کہ ہم پر یہاں دنیا ہی میں نازل ہوجائے اور اس کے بعد عذاب نازل نہ ہونے سے تنبیہ عدم عذاب فی المعاد کا ہوسکتا تھا آگے اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →رات دن کے آگے پیچھے آنے جانے میں بھی ان گنت نشانات توحید موجود ہیں
15 ؎ آیت زیر نظر میں ارشاد فرمایا کہ رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان سب میں ان لوگوں کیلئے توحید الٰہی اور آخرت کی زندگی کے دلائل موجود ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ۔ توحید کے دلائل تو اس طرح ہیں کہ جس ذاب حکیم نے ان تمام چیزوں کو انسانوں کے فائدہ کیلئے بنایا ہے اور محکم نظام کا پابند کردیا ہے اس سے یہ ممکن نہیں کہ یہ اس مخدوم کائنات کو اس نے بےفائدہ محض کھانے پینے اور نسل چھوڑنے کیلئے پیدا کیا ہو اور اس کے ذمہ کچھ فرائض نہ لگائے ہوں اور پھر جب یہ لازم ہوا اس مخدوم…
Read the full tafseer →Similarly, it was said in the second verse (6) that there are signs in the coming of the night after the day and the day after the night, and in everything Allah has created in the heavens and the earth. These are open proofs (of the Oneness of Allah and the inevitability of the Hereafter) for those who fear Allah.
That they are proofs of the Oneness of Allah (Tauhid) is not difficult to see. He has the power to make things happen. He makes things as no one can. He creates everything without the help of materials, personnel and prototype, and has the mastery to operate them under a system…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
11. This provides yet another argument in support of the doctrine of the Hereafter. The argument is derived from the orderly nature of the universe. This vast universe - the handiwork of God - is spread out before our eyes. It is full of signs of God's power and wisdom such as those which underlie the sun and the moon and the alternation of night and day. Even a superficial glance at the universe is enough to convince one that the Creator of this enormous universe is not at all like a child who creates something to play with and after enjoying it for a while whimsically destroys it. For it is…
Read the full tafseer →