Yunus 10:7

Yunus · from ayah 7

10:7

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَرَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَاطْمَاَنُّوْا بِهَا وَالَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ ۟ۙاِنَّ الَّذِيۡنَ لَا يَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا وَرَضُوۡا بِالۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَاطۡمَاَنُّوۡا بِهَا وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنۡ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوۡنَۙ

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطئمن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who do not expect the meeting with Us and are satisfied with the life of this world and feel secure therein and those who are heedless of Our signs

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:7

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں اور دنیا کی زندگی سے خوش اور اسی پر مطئمن ہو بیٹھے اور ہماری نشانیوں سے غافل ہو رہے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا یقین نہیں ہے اور وه دنیوی زندگی پر راضی ہوگئے ہیں اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں اور جو لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگ ہم سے (آخرت میں) آملنے کی کوئی توقع ہی نہیں رکھتے، اور دنیوی زندگی میں مگن اور اسی پر مطمئن ہوگئے ہیں، اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غفلت کرتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جو لوگ ہم سے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیوی زندگی سے خوش ہیں اور اسی سے مطمئن ہوگئے ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے اور اس پر مطمئن ہوگئے اور وہ لوگ جو ہماری آیات سے غافل ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر ہی راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں اور وہ لوگ جو ہماری قدرت کے نشانوں سے غافل ہیں،

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک لوگ ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں اور اسی دنیا کی زندگی پر قانع اور مطمئن ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک جو لوگ امید نہیں رکھتے ہمارے یہاں پیشی (وحاضری) کی، اور وہ راضی ہوگئے دنیاوی زندگی سے، اور مطمئن ہوگئے اس (کی عارضی لذتوں) سے، اور جو غافل (و بیخبر) ہیں ہماری آیتوں سے

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک جن لوگوں کو ہماری ملاقات کا کھٹکا ہی نہیں۔ اور وہ دنیوی زندگی پر راضی۔ ہوگئے اور اسی سے جی لگا بیٹھے ہیں۔ اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے (بالکل) بےپروا رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بیشک وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں اور وہ دنیا کی زندگی پر ہی راضی اور اسی پر مطمئن ہیں اور جو ہماری آیات سے غافل ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی توقع نہیں، دنیا کی زندگی سے خوش اور مطمئن ہو بیٹھے ہماری نشانیوں سے غافل ہو بیٹھے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely those who do not expect to meet Us, who are gratified with the life of the world and content with it, and are heedless of Our signs,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who do not believe in meeting Us and are quite happy with the life of this world and are content with it, and those who are heedless to Our signs,

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who do not believe in meeting Us and are quite happy with the life of this world and are content with it, and those who are heedless to Our signs,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who hope not for their meeting with Us, but are pleased and satisfied with the life of the present world, and those who are heedless of Our Ayat,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! those who expect not the meeting with Us but desire the life of the world and feel secure therein, and those who are neglectful of Our revelations,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who do not expect the meeting with Us and are satisfied with the life of this world and feel secure therein and those who are heedless of Our signs

— Saheeh International

Those who do not have hope of receiving Our mercy in the life hereafter who are pleased and satisfied with the worldly life and who pay no attention to Our revelations

— Muhammad Sarwar

Surely those who do not hope in Our meeting and are pleased with this world's life and are content with it, and those who are heedless of Our communications:

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who hope not for meeting with us, and, well- pleased with the life of the world, and are satisfied therewith, and those who are neglectful of our signs.

— Abdul Majid Daryabadi

Those who rest not their hope on their meeting with Us, but are pleased and satisfied with the life of the present, and those who heed not Our Signs,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–8

نادان و محروم لوگ جو لوگ قیامت کے منکر ہیں، جو اللہ کی ملاقات کے امیدوار نہیں۔ جو اس دنیا پر خوش ہوگئے ہیں، اسی پر دل لگا لیا ہے، نہ اس زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ اس زندگی کو سود مند بناتے ہیں اور اس پر مطمئن ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ نشانیوں سے غافل ہیں۔ اللہ کی نازل کردہ آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے، ان کی آخری جگہ جہنم ہے۔ جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے جو ان کے کفر و شرک کی جزا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 6–7

سورة یُوْنُس 11 یہ عقیدہ آخرت کی تیسری دلیل ہے۔ کائنات میں اللہ تعالیٰ کے جو کام ہر طرف نظر آرہے ہیں، جن کے بڑے بڑے نشانات سورج اور چاند، اور لیل و نہار کی گردش کی صورت میں ہر شخص کے سامنے موجود ہیں، ان سے اس بات کا نہایت واضح ثبوت ملتا ہے کہ اس عظیم الشان کار گاہ ہستی کا خالق کوئی بچہ نہیں ہے جس نے محض کھیلنے کے لیے یہ سب کچھ بنایا ہو اور پھر دل بھر لینے کے بعد یونہی اس گھروندے کو توڑ پھوڑ ڈالے۔ صریح طور پر نظر آرہا ہے کہ اس کے ہر کام میں نظم ہے، حکمت ہے، مصلحتیں ہیں، اور ذرے ذرے کی پیدائش میں ایک گہری مقصدیت پائی جاتی ہے۔ پس جب وہ حکیم ہے اور اس کی حکمت کے آثار و علائم تمہارے سامنے علانیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

خلاصہ تفسیر جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور وہ دنیوی زندگی پر راضی ہوگئے ہیں (آخرت کی طلب اصلاً نہیں کرتے) اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں (آئندہ کی کچھ خبر نہیں) اور جو لوگ ہماری آیتوں سے (جو کہ بعثت پر دلالت کرتی ہیں) بالکل غافل ہیں، ایسے لوگوں کا ٹھکانہ ان کے (ان) اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے (اور) یقینا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کا رب ان کو بوجہ ان کے مومن ہونے کے ان کے مقصد (یعنی جنت تک پہنچا دے گا، ان کے (مسکن کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی جن کے باغوں میں (اور جس وقت وہ جنت میں جاویں گے اور عجائبات کا دفعةً معائنہ کریں گے تو اس وقت) ان کے منہ سے یہ بات نکلے گی کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 5–10

تفسیر آیات 5 تا 10: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (5)إِنَّ فِي اخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ (6)إِنَّ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ (7) أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (8)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–8

5۔ 1 ضیاء ضوء کے ہم معنی ہے۔ مضاف یہاں محذوف ہے ذات ضیاء والقمر ذانور، سورج کو چمکنے والا اور چاند کو نور والا بنایا۔ یا پھر انہیں مبالغے پر محمول کیا جائے گویا کہ یہ بذات خود ضیا اور نور ہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق اور ان کی تدبیر کے ذکر کے بعد بطور مثال کچھ اور چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کا تعلق تدبیر کائنات سے ہے جس میں سورج اور چاند کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سورج کی حرارت اور تپش اور اس کی روشنی، کس قدر ناگزیر ہے اس سے ہر با شعور آدمی واقف ہے۔ اسی طرح چاند کی نورانیت کا جو لطف اور اس کے فوائد ہیں، وہ بھی محتاج بیان نہیں۔ حکما کا خیال ہے کہ سورج کی روشنی بالذات ہے اور چاند کی نورانیت ہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–10

4: اس کائنات کے جن حقائق کی طرف قرآن کریم اشارہ فرماتا ہے اس سے دو باتیں ثابت کرنی مقصود ہوتی ہیں، ایک یہ کہ کائنات کا یہ محیر العقول نظام جس میں چاند سورج ایسے نپے تلے حساب کے پابند ہو کر اپنا کام کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی نشانی ہے، اس بات کو مشرکین عرب بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں، قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو ذات اتنے عظیم الشان کاموں پر قادر ہو اسے اپنی خدائی میں آخر کسی اور شریک کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے، لہذا یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دیتی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ ساری کائنات بےمقصد پیدا نہیں کی گئی، اگر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان الذین لا یرجون لقآء نا بیشک جو لوگ ہم سے ملنے کے امیدوار نہیں۔ ملنے سے مراد ہے ثواب کیونکہ اللہ کی ملاقات اور اس کا دیدار سب سے بڑا ثواب ہے۔ ورضوا بالحیوۃ الدنیا اور دنیوی زندگی پر مگن ہیں ‘ یعنی آخرت کی زندگی پر دنیوی زندگی کو انہوں نے ترجیح دے رکھی ہے۔ واطمانوا بھا اور اسی زندگی پر مطمئن ہو بیٹھے ہیں۔ یعنی اسی زندگی پر وہ ٹھہر گئے ہیں ‘ اسی کی لذتیں اور آرائشیں ان کا منتہائے قصد ہیں اور آخرت میں کام آنے والے اعمال ترک کرچکے ہیں۔ والذین ھم عن ایٰتنا غٰفلون۔ اور وہ لوگ جو ہماری (قدرت و صنعت کی) نشانیوں سے غافل ہیں۔ ترجمۂ مذکورۂ بالا کی صورت میں اوّل الذکر الذین سے مراد ہوں گے یہود و نصاریٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی دنیا میں ایسا دل لگایا کہ آخرت کی اور خدا کے پاس جانے کی کچھ خبر ہی نہ رہی۔ اسی چند روزہ حیات کو مقصود و معبود بنا لیا۔ اور قدرت کی جو نشانیاں اوپر بیان ہوئیں، ان میں کبھی غور و تامل نہ کیا کہ ایسا مضبوط اور حکیمانہ نظام یوں ہی بیکار نہیں بنایا گیا۔ ضرور اس سارے کارخانہ کا کوئی خاص مقصد ہوگا۔ پھر جس نے پہلی مرتبہ ایسی عجیب و غریب مخلوقات پیدا کردی، اس کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 اِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا ”بیشک وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں“ یہاں پر یہ نکتہ نوٹ کریں کہ یہ الفاظ اس سورت میں باربار دہرائے جائیں گے۔ اصل میں یہ ایسی انسانی سوچ اور نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جس کے مطابق انسانی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ یہ انسانی زندگی جو ہم اس دنیا میں گزار رہے ہیں اس کی اصل حقیقت کیا ہے ! اسے محاورۃً ”چار دن کی زندگی“ قرار دیا جاتا ہے۔ بہادر شاہ ظفر ؔ نے بھی کہا ہے ؂ عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو میں کٹ گئے ‘ دو انتظار میں ! اگر انسان اس دنیا میں طویل طبعی عمر بھی پائے تو اس کا ایک حصہ بچپن کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

12 روز آخرت پر ایمان نہ ہونے سے اخلاقی اقدار بدل جاتی ہیں :۔ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ آیات میں غور و فکر کی زحمت ہی گوارہ نہ کریں اور نہ اس کی ضرورت محسوس کریں بس دنیا کی زندگی پر ہی مست رہیں اور اپنی ساری زندگی اسی دنیا کے کاروبار میں منہمک ہو کر گزار دیں تو ایسے لوگوں کو بھلا اخروی زندگی کا یقین کیسے آئے اور چونکہ اللہ نے انسان کو قوت تمیز، عقل اور ارادہ و تصرف کا اختیار عطا کیا ہے لہذا جو لوگ عقل کو کام میں نہ لاتے ہوئے بس دنیا میں مگن اور دنیوی مفادات کے لیے ہی سب کچھ کرتے ہیں انہیں اس غفلت کا بدلہ جہنم کی صورت میں مل کر رہے گا۔ اس آیت سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ نیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ یا ” جن لوگوں کو ہماری ملاقات کی امید ہی نہیں “۔ رجاء لغات اضداد میں سے ہے، اس کے معنی ” اندیشہ “ اور ” امید “ دونوں کے ہیں۔ اور مطلق توقع کے بھی۔ الرجاء یطلق علی توقع الخیر وعلی الخوف و توقع الشر وعلی مطلق التوقع (روح) بہرحال آخرت سے غفلت ہر صورت میں مشترک ہے، اور انسان کی گمراہی کا پہلا زینہ عموما یہی آخرت سے غفلت ہی ہوتی ہے۔ 14۔ (اور اس لیے آخرت کی طلب ہی نہیں رکھتے، اسی دنیوی زندگی میں مگن ہیں) گمراہی کی یہ دوسری منزل ہوئی۔ 15۔ (اور مادی زندگی پر شادوشادمان ہو کر آخرت کی طرف سے بالکل ہی بےپرواہوبیٹھے ہیں) گمراہی کی یہ تیسری منزل ہوئی، پہلے تو یہ ہوتا ہے کہ نعمت آخرت کی تمنا وطلب دل سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ محکم کتاب (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں (آیت الکتاب) میں اضافت بمعنی من ہے کیا ان لوگوں کو یعنی اہل مکہ کو اس بات سے تعجب ہوا، استفہام انکاری ہے اور مجرور اس کے قول عَجَبًا نصب کے ساتھ کان کی خبر ہے اور رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اور خبر أن اَوْحَیْنَا الخ ہے اور اَوَحَیْنَا اسم ہے پہلی (یعنی نصب کی) صورت میں أن اَوْحینا، اِیحَاؤنا مصدر کے معنی میں ہے، کہ ہم نے ان میں کے ایک شخص محمد ﷺ کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں یعنی کافروں کو عذاب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان الذین لا یرجون لقآء نا بیشک جو لوگ ہم سے ملنے کے امیدوار نہیں۔ ملنے سے مراد ہے ثواب کیونکہ اللہ کی ملاقات اور اس کا دیدار سب سے بڑا ثواب ہے۔ ورضوا بالحیوۃ الدنیا اور دنیوی زندگی پر مگن ہیں ‘ یعنی آخرت کی زندگی پر دنیوی زندگی کو انہوں نے ترجیح دے رکھی ہے۔ واطمانوا بھا اور اسی زندگی پر مطمئن ہو بیٹھے ہیں۔ یعنی اسی زندگی پر وہ ٹھہر گئے ہیں ‘ اسی کی لذتیں اور آرائشیں ان کا منتہائے قصد ہیں اور آخرت میں کام آنے والے اعمال ترک کرچکے ہیں۔ والذین ھم عن ایٰتنا غٰفلون۔ اور وہ لوگ جو ہماری (قدرت و صنعت کی) نشانیوں سے غافل ہیں۔ ترجمۂ مذکورۂ بالا کی صورت میں اوّل الذکر الذین سے مراد ہوں گے یہود و نصاریٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) جن لوگوں کو مرنے کے بعد کا ڈر نہیں اور مرنے کے بعد کا وہ اقرار نہیں کرتے اور آخرت کے مقابلہ میں دنیاوی زندگی کو انہوں نے اختیار کررکھا ہے اور اس پر وہ خوش ہوگئے اور جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر ہیں اور اس سے روگردانی کر رہے ہیں، ان لوگوں کا ٹھکانا انکے اقوال اور اعمال شرکیہ کی وجہ سے جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 7–8

اِنَّ فِي اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ۔۔ : آخرت کے ذکر کے بعد دو آیتوں میں اس کے منکرین اور پھر اس پر ایمان والوں کا ذکر فرمایا، آخرت کے منکروں کی چار صفات بیان فرمائی ہیں، پہلی صفت ”لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا“ ”رَجَاءٌ“ کا لفظ طمع اور خوف دونوں معنوں میں آتا ہے، اس لیے ”لَا يَرْجُوْنَ“ کا مطلب ہے کہ وہ اللہ سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے، یا اس سے نہیں ڈرتے، نہ ہی آخرت میں ہونے والے حشر و نشر پر ان کا ایمان ہے۔ دوسری یہ کہ وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے اور اس پر وہی خوش ہوتا ہے جو پورے کا پورا جسمانی لذات و خواہشات کا اسیر ہوجائے۔ تیسری یہ کہ وہ اس پر مطمئن ہوگئے، مطمئن وہی ہوتا ہے جو اسے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

آیت نمبر 7 تا 8۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین لا یرجعون لقآء نا “ اس میں یرجعون “۔ معنی یخافون ہے یعنی بیشک وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اسی معنی میں شاعر کا قول بھی ہے : اذا لسعتہ النحل لم یرج لسعھا وخالفھا فی بیت نوب عواسل : (1) (تفسیر ماوردی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 423) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” یرجعون “۔ بمعنی یطمعون ہے بیشک وہ لوگ جو حرص اور طمع نہیں رکھتے اور اس معنی میں ایک دوسرے شاعر کا قول ہے : ایرجو بنو مردان سمعی وطاعتی وقومی تمیم والغلاۃ ورائیا (2) (تفسیر ماوردی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 423) پس رجاء خوف اور طمع کے معنی میں ہوتا ہے، یعنی نہ وہ سزا سے درتے ہیں اور نہ ثواب کی حرص رکھتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–8

1:۔ ابن مردویہ وابو الشیخ رحمہما اللہ ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ان الذین لا یرجون لقآءنا ورضوا بالحیوۃ الدنیا “ سے مراد کفر کرنے والے ہیں۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” ورضوا بالحیوۃ الدنیا واطمانوا بھا “ مثل اس قول کے ہے۔ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیہم اعمالہم فیھا وھم فیھا “ (ھود آیت 15) 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے یوسف بن اسباط (رح) سے روایت کیا کہ دنیا ظالموں کے لئے نعمت والا گھر ہے اور علی بن ابی طالب نے فرمایا دنیا بدبودار لاش ہے جس شخص نے اس کا ارادہ کیا تو اس کو چاہئے کہ وہ کتوں کی مخالطت پر صبر کرے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ [ بیشک ] الَّذِيْنَ [ جو لوگ ] لَا يَرْجُوْنَ [ امید نہیں رکھتے ] لِقَاۗءَنَا [ ہماری ملاقات کی ] وَ [ اس حال میں کہ ] رَضُوْا [ وہ راضی ہوئے ] بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی سے ] وَاطْمَاَنُّوْا [ اور مطمئن ہوئے ] بِهَا [ اس پر ] وَالَّذِيْنَ [ اور جو لوگ ] ھُمْ [ وہ ہیں جو ] عَنْ اٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں سے ] غٰفِلُوْنَ [ غفلت برتنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

اہل کفر کی سزا اور اہل ایمان کی جزا ان آیات میں اول تو ان لوگوں کے لئے وعید ذکر فرمائی جنہیں قیامت کا اور وہاں کی پیشی کا کوئی کھٹکا نہیں وہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور پوری طرح دنیا میں جی لگا رکھا ہے۔ اور اس دنیا والی زندگی سے خوش ہیں ایسے لوگ اور وہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے ‘ دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے انہوں نے اعمال ہی ایسے کئے جو انہیں دوزخ میں لے جائیں۔ پھر اہل ایمان کو بشارت دی اور فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں جنت کی راہ بتائے گا ‘ یعنی جس طرح انہیں دنیا میں ہدایت دی ایمان کی دولت سے مالا مال فرمایا اسی طرح آخرت میں ان کو جنت میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–10

بیان حال ومآل منکرین معاد وبیان نعیم اہل ارشاد قال اللہ تعالی۔ ان الذین لا یرجون۔۔ الی۔۔۔ ان الحمد للہ رب العلمین (ربط): اوپر کی آیتوں میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اب ان آیات میں معاد کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کا حال ومآل بیان ہوتا ہے جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کی تہدید ہے اور ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے اخروی نتائج کا بیان ہے اور یہ بتلاتے ہیں کہ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں اور حیات فانیہ پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں اور اس کو اپنا مقصود اور مطمح نظر سمجھ بیٹھے اور اس قدر غافل ہیں کہ دلائل قدرت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے وہ شقی اور بدبخت ہیں اور جو لوگ آخرت کو مانتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

16: تخویف اخروی برائے منکرین قیامت و مسئلہ توحید، مسئلہ توحید اور قیامت کو دلائل واضحہ سے ثابت کرنے کے بعد نہ ماننے والوں کو عذاب آخرت کی تخویف فرمائی۔ “ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ ” بشارتِ اخروی برائے مومنین۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–10

ربط آیات : اس سورة کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت کو واضح کیا پھر نبوت پر اعتراض کرنے والوں کا رد فرمایا اور توحید کے دلائل بیان فرمائے زمین وآسمان کی پیدائش ، اللہ کی صفات ربوبیت ، خالقیت ، تدبیر اور اختیار اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دی۔ پھر قیامت کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہے۔ پھر ایمان والوں کے انعامات اور کفار کے برے حشر کا تذکرہ کیا اور بتلایا کہ ارض وسما کی پیدائش دارصل توحید کی دلیل ہے کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ سورج اور چاند۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا وَرَضُوْا بِالْحَيٰوۃِ الدُّنْيَا وَاطْمَاَنُّوْا بِہَا وَالَّذِيْنَ ھُمْ عَنْ اٰيٰتِنَا غٰفِلُوْنَ۝ 7 ۙ رَّجَاءُ ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد :إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عواملووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ، اور رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ اور آیت کریمہ ؛۔ ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] تو تمہیں کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–8

1 ؎ چاند کی منزلیں یہ ہیں کہ وہ نمودار ہونے کے بعد ہر روز تھوڑا تھوڑا چلتا آتا ہے یہاں تک تیس یا انتیس دن میں پھر وہی آنمودار ہوتا ہے۔ اس بات کی اہل تقویم و اہل نجوم نے یہ تشریح بیان کی ہے کہ آسمان کے بارہ حصہ ہیں یعنی فرضی ٹکڑے جیسے خرپزہ کی پھانکیں جن کو برج کہتے ہیں۔ اپنی ذاتی رفتار سے چاند ایک رات دن میں ایک برج کے نصف حصہ سے کم کو طے کرتا ہے۔ جس طرح کہ آفتاب اپنی رفتار سے برس بھر میں ان بارہ برجوں کو طے کرتا ہے۔ یہ مہینے بھر میں۔ اس سے موسم اور رات دن بدلتے ہیں جن سے دنیا بھر کے اسباب زندگی غلہ اور پھول وغیرہ پیدا ہوتے ہیں اور اسی سے شمسی اور قمری مہینوں کا حساب قائم ہوا ہے۔ حقانی

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

اِنَّ الَّذِیْنَ لاَیَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا وَرَضُوْا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَاطْمَأَنُّوْا بِھَا وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ ۔ لا اُولٰٓئِکَ مَاْ وٰھُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (یونس 7۔ 8) (حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور وہ دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانانارِ جہنم ہے۔ ان برائیوں کی پاداش میں جن کا وہ اکتساب کرتے تھے۔ ) انسان کا اصل روگ اور اس کا صحیح علاج پیشِ نظر آیات کریمہ میں پروردگار آخرت کے ثبوت اور حقیقتِ نفس الامری کے لیے ایک تجرباتی دلیل پیش فرما رہے ہیں جس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : اتنے کھلے اور بھاری دلائل موجود ہونے کے باوجود کچھ لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں تو اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ کر اس پر راضی ہوچکے ہیں۔ آخرت کے انکار کا پہلا اور بنیادی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان دنیا کا بندہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کی ساری محنت دنیا کی خاطر ہوتی ہے۔ انسان دنیا کی ہوس میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ اس کے سامنے اخلاقی قدروں اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ضابطوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، وہ معمولی مفاد کی خاطر ایمان اور اپنی عزت کو بیچ دیتا ہے۔ بسا اوقات دنیا کے لالچ میں اس قدر اندھا ہوجاتا ہے کہ اسے اپنے جگر گوشوں سے بھی زیادہ دولت،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

دنیا پر خوش اور آخرت سے غافل آگ میں : 7: اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآ ئَ نَا (جن لوگوں کو ہمارے سامنے پیش ہونے کا ڈر کھٹکا نہیں ہے) نمبر 1۔ بالکل اسکی توقع ہی نہیں رکھتے۔ اور نہ ہی اس کا خیال اپنے دلوں میں لاتے ہیں کیونکہ حقائق کو سمجھنے سے وہ غفلت کا شکار ہیں۔ یا نمبر 2۔ ہماری بہتر ملاقات کی امید نہیں کرتے جیسا کہ سعادت مند لوگ امید کرتے ہیں۔ یا نمبر 3۔ ہمارے سامنے بری حاضری سے نہیں ڈرتے۔ وہ بری ملاقات جس سے ڈرنا ضروری ہے۔ وَرَضُوْا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (اور وہ دنیا کی زندگی سے خوش ہیں) آخرت کے مقابلہ میں اور انہوں نے قلیل فانی کو کثیر باقی پر ترجیح دی ہے۔ وَاطْمَاَنُّوْا بِھَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(7) ” ان الذین لا یرجون لقاء نا “ یعنی نہ ہمارے عذاب سے ڈرتے ہیں اور نہ ہمارے ثواب کی امید کرتے ہیں ۔ رجاء خوف اور طمع کے معنی میں ہوتا ہے۔ ” ورضوا بالحیوۃ الدنیا “ پس اس کو اختیار کیا اور اسی کے لیے عمل کیا ” وطمانوا بھا والذین ھم عن ایتنا غفلون “ یعنی ہمارے دلائل سے غافل ہیں ان سے عبرت نہیں لیتے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عن ایاتنا یعنی محمد ﷺ اور قرآن سے غافل ہیں یعنی اعراض کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 5–7

5۔ 6۔ اللہ پاک نے زمین و آسمان اور جو جو چیزیں دنیا میں ہیں ان سب کو اپنے بندے کے فائدے کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے فرمایا کہ آفتاب کو الگ چمک بخشی ہے جس کے سبب سے دن ہے اور چاند کو الگ روشنی دی ہے اور وہ راتوں کو نکلا کرتا ہے چاند کے لئے منزلیں مقرر کیں جس میں وہ برابر آتا جاتا رہتا ہے کبھی گھٹ جاتا ہے کبھی بڑھ جاتا ہے اور پورا ہو کر پھر گھٹنے لگتا ہے یہاں تک کہ بالکل نہیں دکھائی دیتا پھر ایک یا دو روز میں ہلال بن کر نکلتا ہے اسی کے سبب سے لوگ مہینوں اور سال کا حساب کرتے ہیں تو جو لوگ عقل و شعور رکھتے ہیں ان سب باتوں پر غور کر کے خدا پر ایمان لاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ وحدہ لا شریک ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

آیت : (7-8) (ان الذین لا یرجونلقاء نا) ” جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے۔ “ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خواہش نہیں رکھتے ہیں جو سب سے بڑی خواہش ور سب سے بڑی آرزو ہے ‘ بلکہ وہ اس سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں اور بسا اوقات اس کی تکذیب کرتے ہیں (ورضوا بالحیوۃ الدنیا) ” اور وہ دنیا کی زندگی سے خوش ہیں۔ “ یعنی وہ آخرت کی بجائے دنیا پر راضی ہو گے۔ (واطما لوابھا) ” اور اسی پر مطمئن ہوگئے “ یعنی دنیا کی طرف مائل ہوگئے اور اسی کو اپنی منزل اور اسی کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا۔ دنیا کے حصول کے لئے کوشاں رہے اس کی لذات و شہوات پو ٹوٹ پڑے۔ دنیا انہیں جس طریقے سے بھی حاصل ہوئی ‘ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14 ۔ دنیاوی زندگی ہی کو مقصد بنالینا باعث ہلاکت و محرومی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دنیاوی زندگی کو اصل مقصد بنالینا بڑا ہی ہولناک خسارہ اور ہلاکت و تباہی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ سوابنائے دنیا اسی دنیا پر راضی اور مطمئن ہوگئے اور آخرت کے مقابلے میں وہ اسی دنیا کی چمک دمک پر فریفتہ ہوکررہ گئے اور وہ بھول گئے اپنے مآل وانجام کو اپنے خالقومالک کے حقوق کو۔ والعیاذ باللہ۔ اور اسی دنیاوی زندگی اور اس متاع فانی اور حطام زائل کے حصول کو انہوں نے اپنا مقصد اور نصب العین بنالیا۔ اور وہ اسی کے لیے جینے اور مرنے لگے۔ والعیاذ باللہ۔ تو وہ بڑے ہی ہولناک خسارے میں پڑگئے کہ ان سب کا آخری اور دائمی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–10

اللہ کی آیات سے غافل اور ایمان والوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں قدرت الٰہی کو بڑے واضح انداز میں پوری طرح کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔ اب یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن میں ایمان کی روح پیدا نہیں ہوتی۔ کہنے کو تو مسلمان ہوتے ہیں مگر حقیقت میں روح اسلام سے دور ہوتے ہیں۔ دنیاوی زندگی کے عیش و آرام میں ایسے محو ہوجاتے ہیں کہ آخرت اور مرنے کو، اللہ کے سامنے جواب دینے کو بالکل بھول جاتے ہیں اور دنیا کی مصروفیات کو اپنے اوپر یوں طاری کرلیتے ہیں کہ دنیاوی مفاد یا مال کو نقصان سے بچانے کے لیے اگر کہیں جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، چوری کرنا، کسی کا حق مارنا، بددیانتی کرنا یا جھگڑا، فساد، قتل و غارت گری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10 اسرار و معارف الٓرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے کہ ان کا علم اللہ کو یا اس کے رسول ﷺ کو ہے یا پھر ان اللہ کے بندوں کو جو راسخین فی المعلم کے درجہ کو پالیتے ہیں کسی قدرعطا فرمایا جاتا ہے ۔ عامتہ المسلمین کے لئے تلاوت ہی کافی ہے اور معانی میں اندازے اور قیاس سے رائے قائم کرنا مناسب نہیں ۔ فرمایا ، یہ آیات ایسی عالیشان کتاب کی ہیں جو حکمت سے بھر اخزانہ ہے اور اس قدرعام فہم ہیں کسی ان پڑھ گڈریا اور چرواہاکو بھی بتانے پر انکے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی عقل سلامت ہو کہ بات عقلمندی کی ہومگرسننے والا عقل سے محروم ہو تو سمجھ نہیں پاتا ۔ یہی دیکھ لیں کہ لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

ف 10۔ یا نہیں ڈرتے یا اس کے ثواب کی کچھ طمع نہیں رکھتے بلکہ دنیا کی طرف مائل ہیں۔ (کبیر) یعنی آخرت اور اس میں ہونے والے حشر و نشر پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے اس کو کوئی ڈر ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ (ابن کثیر) 1۔ یعنی ان سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے اور نہ ان پر کچھ غور فکر کرتے ہیں۔ اگر ان آیات سے آیات قرآن مراد ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ ہمارے احکام سے غفلت برتتے ہیں اور ان کی بجا آوری نہیں کرتے۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:7) لایرجون۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب رجائ۔ مصدر۔ وہ امید نہیں رکھتے۔ یقین نہیں رکھتے۔ رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا مکان ہو۔ بعض مفسرین نے اس کا معنی لایخافون وہ نہیں ڈرتے ۔ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خوف اور رجاء باہم لازم ملزوم ہیں۔ جب کسی محبوب چیز کے ملنے کی توقع ہو تو ساتھ ہی اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ بھی دامن گیر رہتا ہے اور ایسے ہی اس کا برعکس صورت میں اندیشہ کے ساتھ امید پائی جاتی ہے۔ لقاء نا۔ مضاف مضاف الیہ۔ ہماری ملاقات۔ ہمارے سامنے (ان کی) پیشی ۔ ہم سے (ان کی) ملاقات۔ ہمارا دیدار۔ لقی یلقی (سمع) لقائ۔ ملنا۔ دیکھنا۔ ملاقات کرنا۔ لاقی یلاقی ملاقاۃ (باب مفاعلہ)…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–10

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 لایرجون (وہ امید نہیں رکھتے) لقاء (ملاقات) اطمانوا (وہ مطمئن ہوگئے) ماوی (ٹھکانا) یکسبون (وہ کماتے ہیں، حاصل کرتے ہیں) یھدی (وہ ہدایت دیتا ہے، راستہ دکھاتا ہے) النعیم (راحتوں سے بھرپور) سبحان (بےعیب ذات، جس میں کوئی خرابی نہ ہو) تحیہ (دعا) دعویٰ پکار، دعا، فریاد تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 جب اللہ تعالیٰ ، اس کے آخری رسول اور نبی ﷺ اور آخرت کی ابدی زندگی پر پختہ یقین و ایمان اور اس کا شعور انسانی سیرت و کردار کی روح نہ بن جائے اس وقت تک ایسے بہترین اور صالح اعمال جو اس کو دنیا و آخرت میں فائدہ دے سکتے ہیں سر زد ہو ہی نہیں سکتے۔ ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص جو ایمان نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–10

صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ خواہشات دنیا سے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو اور تکلیفات شرعیہ سے جنت کو ڈھانپ رکھا ہے۔ جس طرح پردہ کے اندر کوئی چیز ڈھکی اور چھپی ہوتی ہے۔ اسی طرح جنت تکلیفات شرعیہ کے پردہ کے اندر اور دوزخ خواہشات دنیا کے پردہ کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ اس لئے جس کسی کی تمام ہمت اور کوشش اور عمر خواہشات دنیا کے پورا کرنے اور آخرت سے غافل رہنے میں گزری اس نے گویا دوزخ کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور دوزخ میں جانے کا قصد کیا۔ اور جس کسی کی عمر تابمقدور تکلیفات شرعیہ کی برداشت مین بسر ہوئی اس نے جنت کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور جنت میں جانے کا قصد کیا۔ یہ حدیث گویا اس کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–9

الایات : (ف 2) قرآن حکیم کا یہ عجب طرزاستدلال ہے کہ وہ زیر بحث مطالب کی کائنات کے مظاہر پیش کرکے آسانی سے ثابت کردیتا ہے ۔ ” لایات “ کہہ دینے سے تمام دعاوی کی جانب ذہن خود بخود منتقل ہوجاتا ہے ، توحید وجود باری ، بعثت ، رسالت اور دیگر قسم کے تمام دعاوی اس مظاہرہ قدرت سے عیاں ہیں ، غور فرمائیے ، دن اور رات کا تعین اور کائنات کی دوسری خوبیاں جو ہر ذرہ میں جاری وساری ہیں ، کیا بغیر خدا کے ممکن ہیں ، کائنات کا نظم وفسق اور ایک مخصوص وحدت کے جلوے کیا توحید کی جانب ذہن انسان کو متوجہ نہیں کرتے کیا یہ سب کچھ بےغرض وغایت ہے آسمان کی بلندیاں اور زمین کی بستیاں بےمطلب ہیں ؟ کیا یہ بعثت وحشر کی طرف صاف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

7 جن لوگوں کو ہمارے رو برو پیش ہونے کا ڈر نہیں ہے اور وہ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور وہ دنیوی زندگی سے خوش ہیں اور اسی زندگی پر مطمئن ہوئے بیٹھے ہیں اور جو لوگ ہمارے دلائل اور ہماری آیتوں سے غفلت برتتے ہیں یعنی آخرت سے بالکل ہی غافل ہیں صرف دنیا اور یہاں کی زندگی کو ہی جانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–8

ف 1۔ یہاں اولٰئک ماوھم النار میں کفار کا آخرت میں معذب ہونا بیان فرمایا ہے ایسے مضامین پر کفار تکذیب کی غرض سے کہا کرتے کہ ہم تو عذاب کو حق جب سمجھیں گے کہ ہم پر یہاں دنیا ہی میں نازل ہوجائے اور اس کے بعد عذاب نازل نہ ہونے سے تنبیہ عدم عذاب فی المعاد کا ہوسکتا تھا آگے اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نشانات الٰہی غافل کون ہیں ؟ وہی جو دنیا کی زندگی میں مگن ہیں 16 ؎ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔ اس آیت کے چند گنے ہوئے لفظوں میں حقیقت حال کی کیسی کامل تصویر کھینچ کر رکھی دی جس سے کوئی گوشہ بھی انسانی زندگی کا باہر نہیں رہا اور پھر ساتھ ہی وجود آخرت کے تمام دلائل بھی خود بخود نمایاں ہوگئے ۔ پھر غور کرو گے تو پا لو گے کہ منکرین آخرت کی ذہنیت کی چار حالتیں ہیں ۔ 1۔ ان کے اندر اللہ سے ملنے کی کوئی توقع نہیں ۔ 2۔ صرف دنیوی ہی میں خوشنود ہو رہے ہیں ۔ 3۔ اس حالت کے خلاف اس کے اندر کوئی خلش پیدا نہیں ہوتی اور اس پر مطمئن ہوگئے ۔ 4۔ ان کا ذہن و ادراک اس درجہ معطل ہوگیا ہے کہ قدرت کی تمام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

Commentary In the previous verses, by mentioning the heavens and the earth and the Moon and the Sun, prominent manifestations of Allah's perfect power and wisdom, the belief in the Oneness of Allah and the Hereafter was proved eloquently. The first three of the present verses tell us that, despite such open signs and evidences spread out in this universe, human beings split up in two groups. One of the two groups was of those who paid just no heed to these Divine signs, failed to recognize their creator and master and failed to recognize even themselves. It never occurred to them that they…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 6–7

11. This provides yet another argument in support of the doctrine of the Hereafter. The argument is derived from the orderly nature of the universe. This vast universe - the handiwork of God - is spread out before our eyes. It is full of signs of God's power and wisdom such as those which underlie the sun and the moon and the alternation of night and day. Even a superficial glance at the universe is enough to convince one that the Creator of this enormous universe is not at all like a child who creates something to play with and after enjoying it for a while whimsically destroys it. For it is…

Read the full tafseer →