Yunus 10:8

Yunus · from ayah 8

10:8

اُولٰٓىِٕكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ ۟اُولٰٓئِكَ مَاۡوٰٮهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ

ان کا ٹھکانہ ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

For those their refuge will be the Fire because of what they used to earn.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:8

اُن کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو گا اُن برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ (اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے) کرتے رہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان کا ٹھکانہ ان (اعمال) کے سبب جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایسے لوگوں کا ٹھکانا ان کے اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان کا ٹھکانا اپنے کرتوت کی وجہ سے دوزخ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے بدلہ ان کی کمائی کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہی لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے ان اعمال کے بدلہ میں جو وہ کماتے رہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے، اس کے بدلے جو وہ کمایا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان سب کا ٹھکانا جہنم ہے۔ یہ ان کاموں کا بدلہ ہے جو وہ کرتے رہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہی لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کے اعمال کی پاداش میں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کی اپنی اس کمائی کے بدلے میں جو یہ لوگ کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے بہ سبب اس کے جسے وہ کرتے دھرتے رہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ آگ ہے اپنی اس کمائی کے سبب جو وہ کر رہے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کا ٹھکانا ان اعمال کی وجہ سے جو وہ کرتے ہیں دوزخ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

their abode shall be the Fire in return for their misdeeds,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

they are the ones whose abode is the Fire, because of what they used to earn for themselves.

— Muhammad Taqi Usmani

they are the ones whose abode is the Fire, because of what they used to earn for themselves.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those, their abode will be the Fire, because of what they used to earn.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Their home will be the Fire because of what they used to earn.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For those their refuge will be the Fire because of what they used to earn.

— Saheeh International

will all have the Fire as their dwelling for that which they had done.

— Muhammad Sarwar

(As for) those, their abode is the fire because of what they earned.

— Muhammad Habib Shakir

These! their abode shall be the Fire, for that which they have been earning.

— Abdul Majid Daryabadi

Their abode is the Fire, because of the (evil) they earned.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–8

نادان و محروم لوگ جو لوگ قیامت کے منکر ہیں، جو اللہ کی ملاقات کے امیدوار نہیں۔ جو اس دنیا پر خوش ہوگئے ہیں، اسی پر دل لگا لیا ہے، نہ اس زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ اس زندگی کو سود مند بناتے ہیں اور اس پر مطمئن ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ نشانیوں سے غافل ہیں۔ اللہ کی نازل کردہ آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے، ان کی آخری جگہ جہنم ہے۔ جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے جو ان کے کفر و شرک کی جزا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 12 یہاں سے پھر دعوے کے ساتھ ساتھ اس کی دلیل بھی اشارۃ بیان کردی گئی ہے۔ دعوی یہ ہے کہ عقیدہ آخرت کے انکار کا لازمی اور قطعی نتیجہ جہنم ہے، اور دلیل ہے کہ اس عقیدے سے منکر یا خالی الذہن ہو کر انسان ان برائیوں کا اکتساب کرتا ہے جن کی سزا جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اور ہزارہا سال کے انسانی رویے کا تجربہ اس پر شاہد ہے۔ جو لوگ خدا کے سامنے اپنے آپ کو ذمہ دار اور جواب دہ نہیں سمجھتے، جو اس بات کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے کہ انہیں آخرکار خدا کو اپنے پورے کارنامہ حیات کا حساب دینا ہے، جو اس مفروضے پر کام کرتے ہیں کہ زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے، جن کے نزدیک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–8

خلاصہ تفسیر جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے اور وہ دنیوی زندگی پر راضی ہوگئے ہیں (آخرت کی طلب اصلاً نہیں کرتے) اور اس میں جی لگا بیٹھے ہیں (آئندہ کی کچھ خبر نہیں) اور جو لوگ ہماری آیتوں سے (جو کہ بعثت پر دلالت کرتی ہیں) بالکل غافل ہیں، ایسے لوگوں کا ٹھکانہ ان کے (ان) اعمال کی وجہ سے دوزخ ہے (اور) یقینا جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کا رب ان کو بوجہ ان کے مومن ہونے کے ان کے مقصد (یعنی جنت تک پہنچا دے گا، ان کے (مسکن کے) نیچے نہریں جاری ہوں گی جن کے باغوں میں (اور جس وقت وہ جنت میں جاویں گے اور عجائبات کا دفعةً معائنہ کریں گے تو اس وقت) ان کے منہ سے یہ بات نکلے گی کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 5–10

تفسیر آیات 5 تا 10: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (5)إِنَّ فِي اخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ (6)إِنَّ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ (7) أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (8)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 5–8

5۔ 1 ضیاء ضوء کے ہم معنی ہے۔ مضاف یہاں محذوف ہے ذات ضیاء والقمر ذانور، سورج کو چمکنے والا اور چاند کو نور والا بنایا۔ یا پھر انہیں مبالغے پر محمول کیا جائے گویا کہ یہ بذات خود ضیا اور نور ہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق اور ان کی تدبیر کے ذکر کے بعد بطور مثال کچھ اور چیزوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کا تعلق تدبیر کائنات سے ہے جس میں سورج اور چاند کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سورج کی حرارت اور تپش اور اس کی روشنی، کس قدر ناگزیر ہے اس سے ہر با شعور آدمی واقف ہے۔ اسی طرح چاند کی نورانیت کا جو لطف اور اس کے فوائد ہیں، وہ بھی محتاج بیان نہیں۔ حکما کا خیال ہے کہ سورج کی روشنی بالذات ہے اور چاند کی نورانیت ہے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 5–10

4: اس کائنات کے جن حقائق کی طرف قرآن کریم اشارہ فرماتا ہے اس سے دو باتیں ثابت کرنی مقصود ہوتی ہیں، ایک یہ کہ کائنات کا یہ محیر العقول نظام جس میں چاند سورج ایسے نپے تلے حساب کے پابند ہو کر اپنا کام کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی نشانی ہے، اس بات کو مشرکین عرب بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں، قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو ذات اتنے عظیم الشان کاموں پر قادر ہو اسے اپنی خدائی میں آخر کسی اور شریک کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے، لہذا یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دیتی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ ساری کائنات بےمقصد پیدا نہیں کی گئی، اگر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اولئک ماوٰھم النار ۔ یہی ہیں کہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ‘ ان کے برے کرتوت کی وجہ سے۔ یعنی کفر پر قائم اور معاصی پر جمے رہنے کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی دل و دماغ سے، زبان سے، ہاتھ پاؤں سے، جو کچھ انہوں نے کمائی کی اس کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

آیت 8 اُولٰٓءِکَ مَاْوٰٹہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ”یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ آگ ہے ‘ اپنی اس کمائی کے سبب جو وہ کر رہے ہیں۔“ جس شخص نے اپنی پوری دنیوی زندگی میں نہ اللہ کی طرف رجوع کیا اور نہ آخرت ہی کی کچھ فکر کی ‘ ساری عمر ’ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ‘ جیسے نعرے کو اپنا ماٹو بنائے رکھا ‘ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی قیود سے بےنیاز ہو کر جھوٹی مسرتیں اور عارضی خوشیاں جہاں سے ملیں ‘ جس قیمت پر ملیں حاصل کرلیں ‘ تو ایسے شخص کا آخری ٹھکانہ آگ کے سوا بھلا اور کہاں ہوسکتا ہے !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

12 روز آخرت پر ایمان نہ ہونے سے اخلاقی اقدار بدل جاتی ہیں :۔ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی مذکورہ آیات میں غور و فکر کی زحمت ہی گوارہ نہ کریں اور نہ اس کی ضرورت محسوس کریں بس دنیا کی زندگی پر ہی مست رہیں اور اپنی ساری زندگی اسی دنیا کے کاروبار میں منہمک ہو کر گزار دیں تو ایسے لوگوں کو بھلا اخروی زندگی کا یقین کیسے آئے اور چونکہ اللہ نے انسان کو قوت تمیز، عقل اور ارادہ و تصرف کا اختیار عطا کیا ہے لہذا جو لوگ عقل کو کام میں نہ لاتے ہوئے بس دنیا میں مگن اور دنیوی مفادات کے لیے ہی سب کچھ کرتے ہیں انہیں اس غفلت کا بدلہ جہنم کی صورت میں مل کر رہے گا۔ اس آیت سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ نیک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

17۔ جنت تک اصلی رہنمائی کرنے والی شے ایمان ہے، نقطہ آغاز یہی ہے۔ اعمال صالحہ اس میں صرف معین ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے (آیت) ” یھدیھم “۔ کے ساتھ ذکر صرف ایمان کا کیا گیا (آیت) ” یھدیھم “۔ انہیں پہنچا دے گا ان کی منزل تک اور خود منزل سے مراد جنت ہے۔ یھدیھم بسبب ایمانھم الی ما واھم ومقصدھم وھی الجنۃ (روح) قال ابو وق یھدیھم ربھم بایمانھم الی الجنۃ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–10

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ محکم کتاب (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں (آیت الکتاب) میں اضافت بمعنی من ہے کیا ان لوگوں کو یعنی اہل مکہ کو اس بات سے تعجب ہوا، استفہام انکاری ہے اور مجرور اس کے قول عَجَبًا نصب کے ساتھ کان کی خبر ہے اور رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اور خبر أن اَوْحَیْنَا الخ ہے اور اَوَحَیْنَا اسم ہے پہلی (یعنی نصب کی) صورت میں أن اَوْحینا، اِیحَاؤنا مصدر کے معنی میں ہے، کہ ہم نے ان میں کے ایک شخص محمد ﷺ کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں یعنی کافروں کو عذاب سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولئک ماوٰھم النار بما کانوا یکسبون۔ یہی ہیں کہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ‘ ان کے برے کرتوت کی وجہ سے۔ یعنی کفر پر قائم اور معاصی پر جمے رہنے کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 7–8

(7۔ 8) جن لوگوں کو مرنے کے بعد کا ڈر نہیں اور مرنے کے بعد کا وہ اقرار نہیں کرتے اور آخرت کے مقابلہ میں دنیاوی زندگی کو انہوں نے اختیار کررکھا ہے اور اس پر وہ خوش ہوگئے اور جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر ہیں اور اس سے روگردانی کر رہے ہیں، ان لوگوں کا ٹھکانا انکے اقوال اور اعمال شرکیہ کی وجہ سے جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 7–8

اِنَّ فِي اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ۔۔ : آخرت کے ذکر کے بعد دو آیتوں میں اس کے منکرین اور پھر اس پر ایمان والوں کا ذکر فرمایا، آخرت کے منکروں کی چار صفات بیان فرمائی ہیں، پہلی صفت ”لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا“ ”رَجَاءٌ“ کا لفظ طمع اور خوف دونوں معنوں میں آتا ہے، اس لیے ”لَا يَرْجُوْنَ“ کا مطلب ہے کہ وہ اللہ سے ملاقات کی امید نہیں رکھتے، یا اس سے نہیں ڈرتے، نہ ہی آخرت میں ہونے والے حشر و نشر پر ان کا ایمان ہے۔ دوسری یہ کہ وہ دنیا کی زندگی پر خوش ہوگئے اور اس پر وہی خوش ہوتا ہے جو پورے کا پورا جسمانی لذات و خواہشات کا اسیر ہوجائے۔ تیسری یہ کہ وہ اس پر مطمئن ہوگئے، مطمئن وہی ہوتا ہے جو اسے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 7–8

آیت نمبر 7 تا 8۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین لا یرجعون لقآء نا “ اس میں یرجعون “۔ معنی یخافون ہے یعنی بیشک وہ لوگ جو ڈرتے ہیں اسی معنی میں شاعر کا قول بھی ہے : اذا لسعتہ النحل لم یرج لسعھا وخالفھا فی بیت نوب عواسل : (1) (تفسیر ماوردی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 423) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ (آیت) ” یرجعون “۔ بمعنی یطمعون ہے بیشک وہ لوگ جو حرص اور طمع نہیں رکھتے اور اس معنی میں ایک دوسرے شاعر کا قول ہے : ایرجو بنو مردان سمعی وطاعتی وقومی تمیم والغلاۃ ورائیا (2) (تفسیر ماوردی، سورة یونس، جلد 2، صفحہ 423) پس رجاء خوف اور طمع کے معنی میں ہوتا ہے، یعنی نہ وہ سزا سے درتے ہیں اور نہ ثواب کی حرص رکھتے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–8

1:۔ ابن مردویہ وابو الشیخ رحمہما اللہ ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ان الذین لا یرجون لقآءنا ورضوا بالحیوۃ الدنیا “ سے مراد کفر کرنے والے ہیں۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” ورضوا بالحیوۃ الدنیا واطمانوا بھا “ مثل اس قول کے ہے۔ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیہم اعمالہم فیھا وھم فیھا “ (ھود آیت 15) 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے یوسف بن اسباط (رح) سے روایت کیا کہ دنیا ظالموں کے لئے نعمت والا گھر ہے اور علی بن ابی طالب نے فرمایا دنیا بدبودار لاش ہے جس شخص نے اس کا ارادہ کیا تو اس کو چاہئے کہ وہ کتوں کی مخالطت پر صبر کرے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اُولٰۗىِٕكَ [ یہ وہی لوگ ہیں ] مَاْوٰىھُمُ [ جن کا ٹھکانہ ] النَّارُ [ آگ ہے ] بِمَا [بسبب اس کے جو ] كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ [ وہ کماتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

اہل کفر کی سزا اور اہل ایمان کی جزا ان آیات میں اول تو ان لوگوں کے لئے وعید ذکر فرمائی جنہیں قیامت کا اور وہاں کی پیشی کا کوئی کھٹکا نہیں وہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور پوری طرح دنیا میں جی لگا رکھا ہے۔ اور اس دنیا والی زندگی سے خوش ہیں ایسے لوگ اور وہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے ‘ دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے انہوں نے اعمال ہی ایسے کئے جو انہیں دوزخ میں لے جائیں۔ پھر اہل ایمان کو بشارت دی اور فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں جنت کی راہ بتائے گا ‘ یعنی جس طرح انہیں دنیا میں ہدایت دی ایمان کی دولت سے مالا مال فرمایا اسی طرح آخرت میں ان کو جنت میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–10

بیان حال ومآل منکرین معاد وبیان نعیم اہل ارشاد قال اللہ تعالی۔ ان الذین لا یرجون۔۔ الی۔۔۔ ان الحمد للہ رب العلمین (ربط): اوپر کی آیتوں میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اب ان آیات میں معاد کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کا حال ومآل بیان ہوتا ہے جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کی تہدید ہے اور ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے اخروی نتائج کا بیان ہے اور یہ بتلاتے ہیں کہ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں اور حیات فانیہ پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں اور اس کو اپنا مقصود اور مطمح نظر سمجھ بیٹھے اور اس قدر غافل ہیں کہ دلائل قدرت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے وہ شقی اور بدبخت ہیں اور جو لوگ آخرت کو مانتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

16: تخویف اخروی برائے منکرین قیامت و مسئلہ توحید، مسئلہ توحید اور قیامت کو دلائل واضحہ سے ثابت کرنے کے بعد نہ ماننے والوں کو عذاب آخرت کی تخویف فرمائی۔ “ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ ” بشارتِ اخروی برائے مومنین۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 5–10

ربط آیات : اس سورة کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت کو واضح کیا پھر نبوت پر اعتراض کرنے والوں کا رد فرمایا اور توحید کے دلائل بیان فرمائے زمین وآسمان کی پیدائش ، اللہ کی صفات ربوبیت ، خالقیت ، تدبیر اور اختیار اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دی۔ پھر قیامت کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہے۔ پھر ایمان والوں کے انعامات اور کفار کے برے حشر کا تذکرہ کیا اور بتلایا کہ ارض وسما کی پیدائش دارصل توحید کی دلیل ہے کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ سورج اور چاند۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ مَاْوٰىھُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۝ 8 أوى المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43] ( ا و ی ) الماویٰ ۔ ( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ کذا ۔ کے معنی ہیں کسی کے ساتھ مل جانا اور منضم ہوجانا اور آواہ ( افعال ) ایواء کے معنی ہیں کسی کو جگہ دینا قرآن میں ہے { إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ } (…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–8

1 ؎ چاند کی منزلیں یہ ہیں کہ وہ نمودار ہونے کے بعد ہر روز تھوڑا تھوڑا چلتا آتا ہے یہاں تک تیس یا انتیس دن میں پھر وہی آنمودار ہوتا ہے۔ اس بات کی اہل تقویم و اہل نجوم نے یہ تشریح بیان کی ہے کہ آسمان کے بارہ حصہ ہیں یعنی فرضی ٹکڑے جیسے خرپزہ کی پھانکیں جن کو برج کہتے ہیں۔ اپنی ذاتی رفتار سے چاند ایک رات دن میں ایک برج کے نصف حصہ سے کم کو طے کرتا ہے۔ جس طرح کہ آفتاب اپنی رفتار سے برس بھر میں ان بارہ برجوں کو طے کرتا ہے۔ یہ مہینے بھر میں۔ اس سے موسم اور رات دن بدلتے ہیں جن سے دنیا بھر کے اسباب زندگی غلہ اور پھول وغیرہ پیدا ہوتے ہیں اور اسی سے شمسی اور قمری مہینوں کا حساب قائم ہوا ہے۔ حقانی

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 7–8

اِنَّ الَّذِیْنَ لاَیَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا وَرَضُوْا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَاطْمَأَنُّوْا بِھَا وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ ۔ لا اُولٰٓئِکَ مَاْ وٰھُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (یونس 7۔ 8) (حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور وہ دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانانارِ جہنم ہے۔ ان برائیوں کی پاداش میں جن کا وہ اکتساب کرتے تھے۔ ) انسان کا اصل روگ اور اس کا صحیح علاج پیشِ نظر آیات کریمہ میں پروردگار آخرت کے ثبوت اور حقیقتِ نفس الامری کے لیے ایک تجرباتی دلیل پیش فرما رہے ہیں جس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–8

فہم القرآن ربط کلام : اتنے کھلے اور بھاری دلائل موجود ہونے کے باوجود کچھ لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں تو اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ کر اس پر راضی ہوچکے ہیں۔ آخرت کے انکار کا پہلا اور بنیادی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان دنیا کا بندہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس کی ساری محنت دنیا کی خاطر ہوتی ہے۔ انسان دنیا کی ہوس میں اس قدر آگے بڑھ جاتا ہے کہ اس کے سامنے اخلاقی قدروں اور اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ضابطوں کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی، وہ معمولی مفاد کی خاطر ایمان اور اپنی عزت کو بیچ دیتا ہے۔ بسا اوقات دنیا کے لالچ میں اس قدر اندھا ہوجاتا ہے کہ اسے اپنے جگر گوشوں سے بھی زیادہ دولت،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

8: اُولٰٓئِکَ مَاْوٰھُمُ النَّارُ (ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ کی آگ ہے) نحو : اُولٰٓئِکَ مبتداء اول، ماوھم مبتدا ثانی النار اسکی خبر اور دونوں مل کراولٰٓئِکَکی خبر اور یہ ان کی خبر ہے۔ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ (اس کمائی کے بدلے میں جو وہ کماتے تھے) بما کی باؔ کا متعلق جو زوا ؔ محذوف کلام اس پر دلالت کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر :(8)” اولئلک ماواھم النار بما کانوا یکسبون “ کفر اور تکذیب اور معاصی پر جمے رہنے کی وجہ سے ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–10

8۔ 10۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ خواہشات دنیا سے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو اور تکلیفات شرعیہ سے جنت کو ڈھانک رکھا ہے۔ 1 ؎ جس کے حاصل معنے یہ ہیں کہ جس طرح پردہ کے اندر کوئی چیز ڈھکی اور چھپی ہوتی ہے اسی طرح جنت تکلیفات شرعیہ کے پردہ کے اندر اور دوزخ خواہشات دنیا کے پردہ کے اندر چھپی ہوئی ہیں اس لئے جس کسی کی تمام ہمت اور کوشش اور عمر خواہشات دنیا کے پورا کرنے اور آخرت سے غافل رہنے میں گزری اس نے گویا دوزخ کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور دوزخ میں جانے کا قصد کیا اور جس کسی کی عمر تابمقدور تکلیفات شرعیہ کی برداشت میں بسر ہوئی اس نے جنت کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور جنت میں جانے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 7–8

آیت : (7-8) (ان الذین لا یرجونلقاء نا) ” جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے۔ “ یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خواہش نہیں رکھتے ہیں جو سب سے بڑی خواہش ور سب سے بڑی آرزو ہے ‘ بلکہ وہ اس سے اعراض اور روگردانی کرتے ہیں اور بسا اوقات اس کی تکذیب کرتے ہیں (ورضوا بالحیوۃ الدنیا) ” اور وہ دنیا کی زندگی سے خوش ہیں۔ “ یعنی وہ آخرت کی بجائے دنیا پر راضی ہو گے۔ (واطما لوابھا) ” اور اسی پر مطمئن ہوگئے “ یعنی دنیا کی طرف مائل ہوگئے اور اسی کو اپنی منزل اور اسی کو اپنا مقصد زندگی بنا لیا۔ دنیا کے حصول کے لئے کوشاں رہے اس کی لذات و شہوات پو ٹوٹ پڑے۔ دنیا انہیں جس طریقے سے بھی حاصل ہوئی ‘ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

15 ۔ دوزخ اپنی کمائی کا صلہ وبدلہ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے دنیاوی زندگی ہی کو اپنا مقصد بنالیا اور وہ اللہ کی آیتوں سے غافل وبے خبر ہیں ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ ان کی اپنی اس کمائی کی بنا پر جو یہ لوگ کرتے رہے تھے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ اپنے کئے کرائے کا بدلہ ہے جبکہ جنت اس واہب مطلق جل وعلا کی بخشش وعطا اور اس کا فضل واحسان ہے اور اسی بناء پر حضرات علمائے کرام فرماتے ہیں کہ کفار کے چھوٹے بچے دوزخ میں نہیں جائیں گے۔ کیونکہ انہوں نے ایسے اعمال کے ارتکاب کی عمر ہی نہیں پائی جو کہ انسان کو دوزخ میں لے جاتے ہیں۔ سو رب رحمان۔ جل وعلاشانہ اپنی کرم واحسان سے اور اپنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–10

اللہ کی آیات سے غافل اور ایمان والوں کا انجام تشریح : پچھلی آیات میں قدرت الٰہی کو بڑے واضح انداز میں پوری طرح کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔ اب یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن میں ایمان کی روح پیدا نہیں ہوتی۔ کہنے کو تو مسلمان ہوتے ہیں مگر حقیقت میں روح اسلام سے دور ہوتے ہیں۔ دنیاوی زندگی کے عیش و آرام میں ایسے محو ہوجاتے ہیں کہ آخرت اور مرنے کو، اللہ کے سامنے جواب دینے کو بالکل بھول جاتے ہیں اور دنیا کی مصروفیات کو اپنے اوپر یوں طاری کرلیتے ہیں کہ دنیاوی مفاد یا مال کو نقصان سے بچانے کے لیے اگر کہیں جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، چوری کرنا، کسی کا حق مارنا، بددیانتی کرنا یا جھگڑا، فساد، قتل و غارت گری…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–10

آیات 1 تا 10 اسرار و معارف الٓرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے کہ ان کا علم اللہ کو یا اس کے رسول ﷺ کو ہے یا پھر ان اللہ کے بندوں کو جو راسخین فی المعلم کے درجہ کو پالیتے ہیں کسی قدرعطا فرمایا جاتا ہے ۔ عامتہ المسلمین کے لئے تلاوت ہی کافی ہے اور معانی میں اندازے اور قیاس سے رائے قائم کرنا مناسب نہیں ۔ فرمایا ، یہ آیات ایسی عالیشان کتاب کی ہیں جو حکمت سے بھر اخزانہ ہے اور اس قدرعام فہم ہیں کسی ان پڑھ گڈریا اور چرواہاکو بھی بتانے پر انکے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی عقل سلامت ہو کہ بات عقلمندی کی ہومگرسننے والا عقل سے محروم ہو تو سمجھ نہیں پاتا ۔ یہی دیکھ لیں کہ لوگوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–8

ف 10۔ یا نہیں ڈرتے یا اس کے ثواب کی کچھ طمع نہیں رکھتے بلکہ دنیا کی طرف مائل ہیں۔ (کبیر) یعنی آخرت اور اس میں ہونے والے حشر و نشر پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے اس کو کوئی ڈر ان کے دلوں میں نہیں ہے۔ (ابن کثیر) 1۔ یعنی ان سے کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے اور نہ ان پر کچھ غور فکر کرتے ہیں۔ اگر ان آیات سے آیات قرآن مراد ہوں تو معنی یہ ہوں گے کہ ہمارے احکام سے غفلت برتتے ہیں اور ان کی بجا آوری نہیں کرتے۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:8) اولئک۔ اسم اشارہ بعید۔ جمع مذکر۔ وہ لوگ ۔ یہاں مشار الیہ دو ٹولے مذکور ہوئے ہیں۔ الذین لایرجون لقاء نا اور الذین ہم عن ایتنا غفلون۔ ماوہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا ٹھکانا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–10

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10 لایرجون (وہ امید نہیں رکھتے) لقاء (ملاقات) اطمانوا (وہ مطمئن ہوگئے) ماوی (ٹھکانا) یکسبون (وہ کماتے ہیں، حاصل کرتے ہیں) یھدی (وہ ہدایت دیتا ہے، راستہ دکھاتا ہے) النعیم (راحتوں سے بھرپور) سبحان (بےعیب ذات، جس میں کوئی خرابی نہ ہو) تحیہ (دعا) دعویٰ پکار، دعا، فریاد تشریح : آیت نمبر 7 تا 10 جب اللہ تعالیٰ ، اس کے آخری رسول اور نبی ﷺ اور آخرت کی ابدی زندگی پر پختہ یقین و ایمان اور اس کا شعور انسانی سیرت و کردار کی روح نہ بن جائے اس وقت تک ایسے بہترین اور صالح اعمال جو اس کو دنیا و آخرت میں فائدہ دے سکتے ہیں سر زد ہو ہی نہیں سکتے۔ ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص جو ایمان نہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–10

صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ خواہشات دنیا سے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو اور تکلیفات شرعیہ سے جنت کو ڈھانپ رکھا ہے۔ جس طرح پردہ کے اندر کوئی چیز ڈھکی اور چھپی ہوتی ہے۔ اسی طرح جنت تکلیفات شرعیہ کے پردہ کے اندر اور دوزخ خواہشات دنیا کے پردہ کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ اس لئے جس کسی کی تمام ہمت اور کوشش اور عمر خواہشات دنیا کے پورا کرنے اور آخرت سے غافل رہنے میں گزری اس نے گویا دوزخ کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور دوزخ میں جانے کا قصد کیا۔ اور جس کسی کی عمر تابمقدور تکلیفات شرعیہ کی برداشت مین بسر ہوئی اس نے جنت کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور جنت میں جانے کا قصد کیا۔ یہ حدیث گویا اس کی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 6–9

الایات : (ف 2) قرآن حکیم کا یہ عجب طرزاستدلال ہے کہ وہ زیر بحث مطالب کی کائنات کے مظاہر پیش کرکے آسانی سے ثابت کردیتا ہے ۔ ” لایات “ کہہ دینے سے تمام دعاوی کی جانب ذہن خود بخود منتقل ہوجاتا ہے ، توحید وجود باری ، بعثت ، رسالت اور دیگر قسم کے تمام دعاوی اس مظاہرہ قدرت سے عیاں ہیں ، غور فرمائیے ، دن اور رات کا تعین اور کائنات کی دوسری خوبیاں جو ہر ذرہ میں جاری وساری ہیں ، کیا بغیر خدا کے ممکن ہیں ، کائنات کا نظم وفسق اور ایک مخصوص وحدت کے جلوے کیا توحید کی جانب ذہن انسان کو متوجہ نہیں کرتے کیا یہ سب کچھ بےغرض وغایت ہے آسمان کی بلندیاں اور زمین کی بستیاں بےمطلب ہیں ؟ کیا یہ بعثت وحشر کی طرف صاف…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

8 ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ کی آگ ہے یہ آگ اس کمائی کی جزا ہے جو وہ کمائی کیا کرتے تھے جب اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش ہونے پر اعتقاد نہ ہوگا اور حضرت حق کی ملاقات کا خطرہ نہ ہوگا اور اس کی سرکار میں جواب دہی کا خوف نہ ہوگا تو ظاہر ہے کہ جو کمائی اور جو عمل کریں گے وہ عمل اور کسب شریعت کے موافقن نہ ہوگا کیونکہ اعتقاد کا فساد اعمال کی خرابی اور فساد کو مستلزم ہے۔ اس لئے فرمایا اولٰئک ماوٰھم النار بما کانوا یکسبون۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 6–8

ف 1۔ یہاں اولٰئک ماوھم النار میں کفار کا آخرت میں معذب ہونا بیان فرمایا ہے ایسے مضامین پر کفار تکذیب کی غرض سے کہا کرتے کہ ہم تو عذاب کو حق جب سمجھیں گے کہ ہم پر یہاں دنیا ہی میں نازل ہوجائے اور اس کے بعد عذاب نازل نہ ہونے سے تنبیہ عدم عذاب فی المعاد کا ہوسکتا تھا آگے اس کا جواب ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایسے ہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ یقینا جہنم ہوگا جو بدلہ ہے ان کے اعمال کا 17 ؎ وہ کون لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہوگا ؟ فرمایا : یہ وہ پست ہمت اور کوتاہ نظر لوگ ہیں جن کے دلوں میں محبت الٰہی اور شوق وصل کی کوئی چنگاری موجود نہیں رہی اور انکی تڑپ صادق کا نور بالکل بجھ چکا ہے اور وہ کوتاہ نظر جو دنیوی زندگی اور اس کی زیب وزینت پر مفقون اور اس کے آرام و آسائش پر شاداں وفرحاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی دلیلوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے ان کا ٹھکانہ آتش جہنم کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ؟ وہ جہنم رسید ہوں گے تو کیوں ؟ اس لئے کہ انکے اعمال کا نتیجہ ہی ایسا ہوگا کیونکہ قانون الٰہی اس طرح واقع ہوا ہے کہ جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

Commentary In the previous verses, by mentioning the heavens and the earth and the Moon and the Sun, prominent manifestations of Allah's perfect power and wisdom, the belief in the Oneness of Allah and the Hereafter was proved eloquently. The first three of the present verses tell us that, despite such open signs and evidences spread out in this universe, human beings split up in two groups. One of the two groups was of those who paid just no heed to these Divine signs, failed to recognize their creator and master and failed to recognize even themselves. It never occurred to them that they…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12. Here again a doctrine has been put forth along with its supporting argument. (For another such instance seen. 9 above-Ed.)The statement that is being made here is that rejection of the doctrine of the Hereafter necessarily entails the punishment of Hell, and the argument that is being proffered in support of it is that those who are oblivious to the Hereafter commit, because of their disbelief in it, evil deeds which can only lead to them suffering the torments of Hell. This argument is corroborated by the entire record of man's past. It is quite clear that the lives of those who do not…

Read the full tafseer →