Explained with ayahs 9–10
خوش انجام خوش نصیب لوگ
نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو مانا، فرمانبرداری کی نیکیوں پر چلتے رہے، انہیں ان کے ایمان کی وجہ سے راہ مل جائے گی۔ پل صراط سے پار ہوجائیں گے۔ جنت میں پہنچ جائیں گے، نور مل جائے گا۔ جس کی روشنی میں چلیں پھریں گے۔ پس ممکن ہے کہ (آیت بایمانھم) میں با سببیت کی ہو۔ اور ممکن ہے کہ استعانت کی ہو۔ ان کے اعمال اچھی بھلی صورت اور عطر و خوشبو بن کر ان کے پاس ان کی قبر میں آئیں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو ؟ وہ جواب دیں گے تمہارے نیک اعمال۔ پس یہ اپنے ان نورانی عمل کی روشنی میں جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافروں کا عمل نہایت…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 13
اس جملے پر سے سرسری طور پر نہ گزر جائیے۔ اس کے مضمون کی ترتیب گہری توجہ کی مستحق ہے
ان لوگوں کو آخرت کی زندگی میں جنت کیوں ملے گی ؟۔۔ اس لیے کہ وہ دنیا کی زندگی میں سیدھی راہ چلے۔ ہر کام میں، ہر شعبہ زندگی میں، ہر انفرادی و اجتماعی معاملے میں انہوں نے برحق طریقہ اختیار کیا اور باطل طریقوں کو چھوڑ دیا۔
یہ ہر ہر قدم پر زندگی کے ہر موڑ اور ہر دو را ہے پر، ان کو صحیح اور غلط، حق اور باطل، راست اور ناراست کی تمیز کیسے حاصل ہوئی ؟ اور پھر اس تمیز کے مطابق راست روی پر ثبات اور کج روی سے پرہیز کی طاقت انہیں کہاں سے ملی ؟۔۔ ان کے رب کی طرف سے، کیونکہ وہی علمی رہنمائی اور عملی توفیق کا…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں ان خوش نصیب انسانوں کا ذکر ہے جنہوں نے اللہ جل شانہ کی آیات قدرت میں غور کیا اور اس کو پہچانا، اس پر ایمان لائے اور ایمان کے مقتضی پر عمل کرکے اعمال صالحہ کے پابند ہوگئے۔
قرآن کریم نے ان حضرات کے لئے دنیا و آخرت میں جو اچھا صلہ اور جزاء مقرر فرمائی ہے اس کا ذکر اس طرح فرمایا ہے(آیت) اُولٰۗىِٕكَ يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ ، یعنی ان کا رب ان کو ایمان کی وجہ سے منزل مقصود یعنی جنت دکھلائے گا، جس میں چین و آرام کے باغوں میں نہریں بہتی ہوں گی۔
اس میں لفظ ہدایت آیا ہے جس کے مشہور معنٰی راستہ بتلانے اور دکھلانے کے ہیں، اور کبھی منزل مقصود تک پہنچا دینے کے معنٰی میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
تفسیر آیات 5 تا 10: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللَّهُ ذَلِكَ إِلا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (5)إِنَّ فِي اخْتِلافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمَا خَلَقَ اللَّهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَّقُونَ (6)إِنَّ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا وَرَضُوا بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاطْمَأَنُّوا بِهَا وَالَّذِينَ هُمْ عَنْ آيَاتِنَا غَافِلُونَ (7) أُولَئِكَ مَأْوَاهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (8)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا…
Read the full tafseer →9۔ 1 اس کے ایک دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ دنیا میں ایمان کے سبب قیامت والے دن اللہ تعالیٰ ان کے لئے پل صراط سے گزرنا آسان فرما دے گا، بعض کے نزدیک یہ مدد مانگنے کے لئے ہے اور معنی یہ ہونگے کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ان کے لئے ایک نور مہیا فرمائے گا جس کی روشنی میں وہ چلیں گے، جیسا کہ سورة حدید میں اس کا ذکر آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
4: اس کائنات کے جن حقائق کی طرف قرآن کریم اشارہ فرماتا ہے اس سے دو باتیں ثابت کرنی مقصود ہوتی ہیں، ایک یہ کہ کائنات کا یہ محیر العقول نظام جس میں چاند سورج ایسے نپے تلے حساب کے پابند ہو کر اپنا کام کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کی نشانی ہے، اس بات کو مشرکین عرب بھی تسلیم کرتے تھے کہ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں، قرآن کریم فرماتا ہے کہ جو ذات اتنے عظیم الشان کاموں پر قادر ہو اسے اپنی خدائی میں آخر کسی اور شریک کی کیا ضرورت ہوسکتی ہے، لہذا یہ پوری کائنات اللہ تعالیٰ کی توحید کی گواہی دیتی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ ساری کائنات بےمقصد پیدا نہیں کی گئی، اگر…
Read the full tafseer →ان الذین امنوا وعملوا الصلحٰت یدیھم ربھم بایمانھم ناقابل شک ہے یہ بات کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ‘ ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کو (جنت میں پہنچانے والے راستہ کی) ہدایت کرے گا۔
مجاہد نے کہا : پل صراط پر ان کو جنت تک پہنچانے والا راستہ بتا دے گا۔ ان کیلئے نور کر دے گا جس کی راہنمائی میں وہ (جنت تک) جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہدایت سے مراد یہ ہے کہ ایمان کی وجہ سے اللہ ان کو حقائق دین سمجھنے کا راستہ بتا دے گا۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس نے جانی چیز پر عمل کیا ‘ اللہ اس کو انجانی چیز کا علم عطا فرما دے گا۔ رواہ ابونعیم فی الحیلۃ۔ بعض نے کہا : یھدیھم…
Read the full tafseer →9 یعنی ایمان کی بدولت اور اس کی روشنی میں حق تعالیٰ مومنین کو مقصد اصلی (جنت) تک پہنچائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 8 اُولٰٓءِکَ مَاْوٰٹہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ”یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ آگ ہے ‘ اپنی اس کمائی کے سبب جو وہ کر رہے ہیں۔“
جس شخص نے اپنی پوری دنیوی زندگی میں نہ اللہ کی طرف رجوع کیا اور نہ آخرت ہی کی کچھ فکر کی ‘ ساری عمر ’ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست ‘ جیسے نعرے کو اپنا ماٹو بنائے رکھا ‘ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی قیود سے بےنیاز ہو کر جھوٹی مسرتیں اور عارضی خوشیاں جہاں سے ملیں ‘ جس قیمت پر ملیں حاصل کرلیں ‘ تو ایسے شخص کا آخری ٹھکانہ آگ کے سوا بھلا اور کہاں ہوسکتا ہے !
Read the full tafseer →13 البتہ جن لوگوں نے اپنی خداداد عقل کو ٹھیک طرح استعمال کیا اس کی آیات میں غورو فکر کرکے اس کی معرفت حاصل کی۔ خالق کائنات اس کے بےپناہ اقتدار اور روز آخرت کا یقین کیا اور آخرت میں جوابدہی سے ڈرتے اور اللہ کے احکام کے مطابق نیک اعمال کرتے رہے انہیں ان کے اعمال کا بدلہ جنت کی صورت میں ملے گا جس کی نعمتیں لاتعداد، بےحساب اور لازوال ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
17۔ جنت تک اصلی رہنمائی کرنے والی شے ایمان ہے، نقطہ آغاز یہی ہے۔ اعمال صالحہ اس میں صرف معین ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے (آیت) ” یھدیھم “۔ کے ساتھ ذکر صرف ایمان کا کیا گیا (آیت) ” یھدیھم “۔ انہیں پہنچا دے گا ان کی منزل تک اور خود منزل سے مراد جنت ہے۔ یھدیھم بسبب ایمانھم الی ما واھم ومقصدھم وھی الجنۃ (روح) قال ابو وق یھدیھم ربھم بایمانھم الی الجنۃ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 10
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ محکم کتاب (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں (آیت الکتاب) میں اضافت بمعنی من ہے کیا ان لوگوں کو یعنی اہل مکہ کو اس بات سے تعجب ہوا، استفہام انکاری ہے اور مجرور اس کے قول عَجَبًا نصب کے ساتھ کان کی خبر ہے اور رفع کے ساتھ کان کا اسم ہے اور خبر أن اَوْحَیْنَا الخ ہے اور اَوَحَیْنَا اسم ہے پہلی (یعنی نصب کی) صورت میں أن اَوْحینا، اِیحَاؤنا مصدر کے معنی میں ہے، کہ ہم نے ان میں کے ایک شخص محمد ﷺ کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں یعنی کافروں کو عذاب سے…
Read the full tafseer →ان الذین امنوا وعملوا الصلحٰت یدیھم ربھم بایمانھم ناقابل شک ہے یہ بات کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ‘ ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کو (جنت میں پہنچانے والے راستہ کی) ہدایت کرے گا۔
مجاہد نے کہا : پل صراط پر ان کو جنت تک پہنچانے والا راستہ بتادے گا۔ ان کیلئے نور کر دے گا جس کی راہنمائی میں وہ (جنت تک) جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہدایت سے مراد یہ ہے کہ ایمان کی وجہ سے اللہ ان کو حقائق دین سمجھنے کا راستہ بتادے گا۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے جانی چیز پر عمل کیا ‘ اللہ اس کو انجانی چیز کا علم عطا فرما دے گا۔ رواہ ابونعیم فی الحیلۃ۔ بعض نے کہا : یھدیھم کا…
Read the full tafseer →(9) اور یقیناً جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انھوں نے اطاعت خداوندی کی تو بوجہ ان کے مومن ہونے کے ان کا پروردگار ان کو جنت میں بھیجے گا جس کے محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ، شہد، پانی اور شراب کی نہریں بہتی ہوں گی ،
Read the full tafseer →يَهْدِيْهِمْ رَبُّھُمْ بِاِيْمَانِهِمْ : یعنی ایمان اور عمل صالح والوں کو ان کے ایمان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ دنیا میں صراط مستقیم کی ہدایت، یعنی سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرماتا ہے، یا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ایمان لانے کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رہنمائی ہوگی، حتیٰ کہ وہ (پل) صراط سے گزر کر سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ ان دونوں معنوں میں باء سببیت کے لیے ہے، یہ باء استعانت کے لیے بھی ہوسکتی ہے، جیسا کہ سورة حدید (12، 13) میں فرمایا کہ ایمان والے مردوں اور عورتوں کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہا ہوگا، جب کہ منافق مرد اور عورتیں ان سے درخواست کریں گے کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 9۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان الذین امنوا ‘۔ یقینا وہ لوگ جنہوں نے تصدیق کی۔ (آیت) ” وعملوا الصلحت یھدیھم ربھم بایمانھم “ اور نیک عمل کیے ان کے لیے ان کا رب ہدایت میں اضافہ فرما دے گا، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” والذین اھتدوا زادھم ھدی “۔ (محمد 17) (اور جو لوگ راہ ہدایت پر چلے اللہ تعالیٰ بڑھا دیتا ہے ان کے نور ہدایت کو)
اور یہ بھی کہا گیا ہے : (آیت) ” یھدیھم ربھم بایمانھم “۔ ان کے ایمان کے باعث ان کا رب ان کی رہنمائی ایسے مکان کی طرف کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اور ابو روق نے کہا ہے : ان کے ایمان کے باعث ان کا رب ان کی رہنمائی جنت کی طرف کر دے گا، اور عطیہ نے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” یھدیہم ربہم بایمانیہم “ یعنی ان کے لئے نور ہوگا جس کے ساتھ وہ چلیں گے۔
مومن کا عمل حسین صورت میں ہوگا :
2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یھدیہم ربہم بایمانیہم “ کے بارے میں فرمایا کہا کہ حسن (رح) نے ہم کو بیان فرمایا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مومن جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل حسین صورت میں اور پاکیزہ خوشبو کے ساتھ اس کے سامنے ہوگا۔ وہ اس سے کہے گا تو کون ہے اللہ کی قسم ! بلا شبہ میں تجھ کو دیکھ رہا ہوں سچے آدمی کا عین (یعنی حقیقت) وہ اس…
Read the full tafseer →اِنَّ [بیشک ] الَّذِيْنَ [ جو لوگ ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [ اور انھوں نے عمل کیے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیک ] يَهْدِيْهِمْ [ ہدایت دے گا ان کو ] رَبُّھُمْ [ ان کا رب ] بِاِيْمَانِهِمْ ۚ [ ان کے ایمان کی وجہ سے ] تَجْرِيْ [ بہیں گی ] مِنْ تَحْتِهِمُ [ ان کے نیچے سے ] الْاَنْهٰرُ [ نہریں ] فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ [ نعمتوں کے باغات میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
اہل کفر کی سزا اور اہل ایمان کی جزا
ان آیات میں اول تو ان لوگوں کے لئے وعید ذکر فرمائی جنہیں قیامت کا اور وہاں کی پیشی کا کوئی کھٹکا نہیں وہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور پوری طرح دنیا میں جی لگا رکھا ہے۔ اور اس دنیا والی زندگی سے خوش ہیں ایسے لوگ اور وہ لوگ دوزخ میں داخل ہوں گے ‘ دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے انہوں نے اعمال ہی ایسے کئے جو انہیں دوزخ میں لے جائیں۔ پھر اہل ایمان کو بشارت دی اور فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی وجہ سے انہیں جنت کی راہ بتائے گا ‘ یعنی جس طرح انہیں دنیا میں ہدایت دی ایمان کی دولت سے مالا مال فرمایا اسی طرح آخرت میں ان کو جنت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
بیان حال ومآل منکرین معاد وبیان نعیم اہل ارشاد
قال اللہ تعالی۔ ان الذین لا یرجون۔۔ الی۔۔۔ ان الحمد للہ رب العلمین
(ربط): اوپر کی آیتوں میں مبداء اور معاد کا ذکر تھا اب ان آیات میں معاد کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کا حال ومآل بیان ہوتا ہے جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کی تہدید ہے اور ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے اخروی نتائج کا بیان ہے اور یہ بتلاتے ہیں کہ جو لوگ آخرت کے منکر ہیں اور حیات فانیہ پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں اور اس کو اپنا مقصود اور مطمح نظر سمجھ بیٹھے اور اس قدر غافل ہیں کہ دلائل قدرت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے وہ شقی اور بدبخت ہیں اور جو لوگ آخرت کو مانتے…
Read the full tafseer →17: اس پر بظاہر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جب وہ ایمان بھی لے آئے اور نیک کام بھی کرنے لگے تو ہدایت یافتہ تو وہ ہوئے پھر “ یَھْدِیْھِمْ ” کا کیا مطلب ؟ اس لیے “ یَھْدِیْھِمْ ” سے ایمان و عمل صالح پر ثابت قدم رکھنا اور استقامت عطا کرنا مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے مخلصانہ ایمان کی بدولت ان کو صراط مستقیم اور ایمان پر ثابت قدم رکھیگا۔ “ اي یسددھم بسبب ایماھم للاستقامة علی سلوک الطریق السدید المؤدي الی الثواب ” (مدارک ج 2 ص 118) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان کی بدولت آخرت میں ان کو جنت کی راہ دکھائے گا اور وہ سیدھے جنت میں داخل ہوں گے۔ “ قال مجاھد یھدیھم علی الصراط الی الجنة یجعل لھم نورًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–10
ربط آیات :
اس سورة کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت کو واضح کیا پھر نبوت پر اعتراض کرنے والوں کا رد فرمایا اور توحید کے دلائل بیان فرمائے زمین وآسمان کی پیدائش ، اللہ کی صفات ربوبیت ، خالقیت ، تدبیر اور اختیار اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دی۔ پھر قیامت کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہے۔ پھر ایمان والوں کے انعامات اور کفار کے برے حشر کا تذکرہ کیا اور بتلایا کہ ارض وسما کی پیدائش دارصل توحید کی دلیل ہے کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ وحدہ لا شریک ہے۔
سورج اور چاند۔
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ يَہْدِيْہِمْ رَبُّھُمْ بِـاِيْمَانِہِمْ 0 ۚ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہِمُ الْاَنْہٰرُ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ 9
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل…
Read the full tafseer →تفسیر : اس سورة میں چونکہ یونس (علیہ السلام) کا عبرت انگیز ایک نیا قصہ ہے اس لئے اسی نام سے یہ سورة صحابہ میں نامزد ہوگئی۔ یہاں تک وہ سورتیں تھیں جو مدینہ میں نازل ہوئی تھیں جن میں نکاح ‘ طلاق ‘ میراث ‘ قصاص ‘ جہاد و سیاست کے احکام اور حلال و حرام کا بیان تھا۔ اب یہاں سے وہ سورتیں شروع ہوتی ہیں جو ہجرت سے پہلے آنحضرت (علیہ السلام) پر مکہ میں نازل ہوئیں جبکہ مکہ اور اس کے اطراف بلکہ بیشتر عرب بلکہ تمام دنیا پر گمراہی اور الحاد اور بدکاری اور بت پرستی اور اوہام باطلہ کے دریا موجزن تھے۔ خاص عرب میں چند گروہ تھے : (1) وہ کہ جو سرے سے خدا تعالیٰ کے وجود ہی کے قائل نہ تھے صرف دہر اور طبائع اجسام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَھْدِیْمِ رَبُّھُمْ بِاِیْمَانِہِمْ ج تَجْرِیْ مِنْ تَحِتِھِمُ الْاَنْھٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ۔ دَعْوٰھُمْ فِیْھَا سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ وَتَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ ج وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ ع (یونس : 9۔ 10)
(یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اعمال کرتے رہے، انھیں ہدایت کرے گا ان کا رب، ان کے ایمان کی وجہ سے، بہتی ہیں ان کے نیچے سے نہریں وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ پاک ہے تو اے خدا اور ان کی دعا اس میں (یہ ہوگی) سلامتی ہو، اور اس کی دعا کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ ساری تعریف اللہ رب العالمین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں کی چیخ و پکار اور ان کا انجام بیان کرنے کے بعد جنتیوں کا صلہ اور جنت میں ان کے اخلاق اور کلام کا ذکر ہوتا ہے۔
جنتی جنت میں اپنے تصوّرات سے کروڑ ہا گنا بیش بہا نعمتیں پا کر پکار اٹھیں گے کہ اے اللہ تو پاک ہے۔ ہم تو اس قابل نہ تھے کہ یہ مقام اور انعام پاتے۔ ہماری حقیر سی محنت کے بدلے جو کچھ آپ نے ہمیں عطا فرمایا ہے اس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ بعض اہل علم نے یہ بھی لکھا ہے کہ جنتی کسی چیز کی خواہش کریں گے تو مانگنے کی بجائے لفظ سبحان استعمال کریں گے اور ان کی خواہش کے مطابق وہ چیز ان کی خدمت میں پیش کردی جائے گی۔ (واللہ اعلم) جنتی جب آپس میں ملاقات کریں گے تو…
Read the full tafseer →جنت ایمان سے ملی :
9: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَھْدِیْھِمْ رَبُّھُمْ بِاِیْمَانِھِمْ (بےشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے انکا رب ان کو ان کے ایمان کی وجہ سے ان کے مقصد تک پہنچائے گا) ان کے ایمان کے سبب ان کا رب ان کو ثواب تک پہنچانے والا ہے کیونکہ انہوں نے سیدھے راستہ پر استقامت اختیار کی۔ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہِمُ الْاَ نْھٰرُ (اس کے نیچے نہریں جاری ہونگی) اس کا بیان اور تفسیر ہے۔ کیونکہ سعادت کے سبب کو مضبوطی سے تھام لینا یہ سعادت تک پہنچنے کی طرح ہی ہے۔ نمبر 2۔ آخرت میں جنت کے راستہ کی طرف ان کے نور ایمان کے سبب ان کی راہنمائی کرے گا۔ اور اس حدیث…
Read the full tafseer →(9)” ان الذین امنوا وعملوا الصالحات یھدیھم ربم بایمانھم “ اس میں عبارت مقدر ہے، یعنی ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کی جنت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ” تجری من تحتھم الانھار “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ان کو صراط پر جنت کی طرف ہدایت دے گا ان کے لیے نور بنائے گا جس کے ذریعے وہ چلیں گے اور بعض نے کہا ہے کہ ” یھدیھم “ کا معنی یہ ہے کہ ان کا ثواب اور بدلہ دے گا اور بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کو اپنے دین کی ہدایت دے گا ۔ یعنی ان کے اپنی ہدایت کی تصدیق کرنے کی وجہ سے ۔ ” تجری من تحتھم الانھار ‘ ‘ یعنی ان کے سامنے ، اللہ تعالیٰ کے قول ” قد جعل ربک تحتک سریا “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
8۔ 10۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ خواہشات دنیا سے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو اور تکلیفات شرعیہ سے جنت کو ڈھانک رکھا ہے۔ 1 ؎ جس کے حاصل معنے یہ ہیں کہ جس طرح پردہ کے اندر کوئی چیز ڈھکی اور چھپی ہوتی ہے اسی طرح جنت تکلیفات شرعیہ کے پردہ کے اندر اور دوزخ خواہشات دنیا کے پردہ کے اندر چھپی ہوئی ہیں اس لئے جس کسی کی تمام ہمت اور کوشش اور عمر خواہشات دنیا کے پورا کرنے اور آخرت سے غافل رہنے میں گزری اس نے گویا دوزخ کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور دوزخ میں جانے کا قصد کیا اور جس کسی کی عمر تابمقدور تکلیفات شرعیہ کی برداشت میں بسر ہوئی اس نے جنت کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور جنت میں جانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–10
آیت : (9-10)
(ان الذین امنوا وعملوا الصلحت) ” اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ “ یعنی انہوں نے ایمان اور ایمان کے تقاضے کو جمع کیا یعنی ایمان لانے کے بعد اخلاص اور اتباع کے ساتھ اعمال صالحہ بجا لائے جو اعمال قلوب اور اعمال جو ارح پر مشتمل ہیں۔ (یھدیھم ربھم بایمانھم) ” ہدایت کرے گا انکو انکا رب ان کے ایمان کی وجہ سے “ یعنی اللہ تعالیٰ انکے سرمایہ ایمان کے سبب سے انہیں سب سے بڑا ثواب یعنی ہدایت عطا کرتا ہے۔ انہیں وہ علم عطا کرتا ہے جو ان کے لئے نفع مند ہے ‘ وہ انہیں ان اعمال سے نوازتا ہے جو ہدایت سے جنم لیتے ہیں۔ وہ اپنی آیات میں غور و فکر کرنے کے لئے ان کی راہ نمائی کرتا ہے ‘ اس دنیا میں…
Read the full tafseer →16 ۔ دولت ایمان و یقین سرفرازی دارین کا ذریعہ و وسیلہ : سو نور ایمان و یقین سے سرفرازی اصل حقیقی اور سب سے بڑی سرفرازی ہے کہ ایمان و یقین والوں کو ان کا رب ہدایت کے نور سے نوازتا ہے جس سے ان کو راہ حق وصواب کو سمجھنا اور پہچاننا بھی سہل اور آسان ہوجاتا ہے اور اس پرچلنا بھی اور ان کیلئے ان کی منزل حیات بھی واضح ہوجاتی ہے اور اس کے لئے صحیح راستہ اور طریق کار بھی۔ نیز ایسوں کو اس کے لئے ان کو محنت اور عمل کی توفیق بھی مل جاتی ہے۔ سبحانہ اللہ۔ کیسی عظیم الشان، پاکیزہ، ورح پرور اور انقلاب آفرین قوت ہے یہ ایمان و یقین کی قوت جو انسان کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہوں کو آسان کردیتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
اللہ کی آیات سے غافل اور ایمان والوں کا انجام
تشریح : پچھلی آیات میں قدرت الٰہی کو بڑے واضح انداز میں پوری طرح کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے۔ اب یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے جن میں ایمان کی روح پیدا نہیں ہوتی۔ کہنے کو تو مسلمان ہوتے ہیں مگر حقیقت میں روح اسلام سے دور ہوتے ہیں۔ دنیاوی زندگی کے عیش و آرام میں ایسے محو ہوجاتے ہیں کہ آخرت اور مرنے کو، اللہ کے سامنے جواب دینے کو بالکل بھول جاتے ہیں اور دنیا کی مصروفیات کو اپنے اوپر یوں طاری کرلیتے ہیں کہ دنیاوی مفاد یا مال کو نقصان سے بچانے کے لیے اگر کہیں جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا، چوری کرنا، کسی کا حق مارنا، بددیانتی کرنا یا جھگڑا، فساد، قتل و غارت گری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
آیات 1 تا 10
اسرار و معارف
الٓرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں جن کے متعلق پہلے لکھا جاچکا ہے کہ ان کا علم اللہ کو یا اس کے رسول ﷺ کو ہے یا پھر ان اللہ کے بندوں کو جو راسخین فی المعلم کے درجہ کو پالیتے ہیں کسی قدرعطا فرمایا جاتا ہے ۔ عامتہ المسلمین کے لئے تلاوت ہی کافی ہے اور معانی میں اندازے اور قیاس سے رائے قائم کرنا مناسب نہیں ۔
فرمایا ، یہ آیات ایسی عالیشان کتاب کی ہیں جو حکمت سے بھر اخزانہ ہے اور اس قدرعام فہم ہیں کسی ان پڑھ گڈریا اور چرواہاکو بھی بتانے پر انکے مفہوم کو سمجھ سکتا ہے بشرطیکہ اس کی عقل سلامت ہو کہ بات عقلمندی کی ہومگرسننے والا عقل سے محروم ہو تو سمجھ نہیں پاتا ۔ یہی دیکھ لیں کہ لوگوں…
Read the full tafseer →ف 2۔ بدبخت اور شقی لوگوں کہ حالت بیان کرنے کے بعد اب نیک بخت اور سعید لوگوں کی حالت بیان فرمائی (کبیر) مطلب یہ ہے دنیا میں ایمان لانے کی وجہ سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی رہنمائی ہوگی حتیٰ کہ وہ پل صراط سے گزر کر سیدھے جنت میں پہنچ جائینگے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ بایمانھم میں ” با “ استعانت کے لئے ہو جیسا کہ حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ قیامت کے دن ان کے سامنے نور ہوگا کی مدد سے وہ چلیں گے۔ قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : مومن جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل ایک نہایت حسین اور خوشبودار صورت میں اس کے سامنے آئے گا۔ وہ اسے دیکھ کر کہے گا ” تم کیا چیز…
Read the full tafseer →(10:9) جنت النعیم۔ موصوف وصفت۔ نعمت و راحت۔ عیش و آرام کے باغات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10
لایرجون (وہ امید نہیں رکھتے) لقاء (ملاقات) اطمانوا (وہ مطمئن ہوگئے) ماوی (ٹھکانا) یکسبون (وہ کماتے ہیں، حاصل کرتے ہیں) یھدی (وہ ہدایت دیتا ہے، راستہ دکھاتا ہے) النعیم (راحتوں سے بھرپور) سبحان (بےعیب ذات، جس میں کوئی خرابی نہ ہو) تحیہ (دعا) دعویٰ پکار، دعا، فریاد
تشریح : آیت نمبر 7 تا 10
جب اللہ تعالیٰ ، اس کے آخری رسول اور نبی ﷺ اور آخرت کی ابدی زندگی پر پختہ یقین و ایمان اور اس کا شعور انسانی سیرت و کردار کی روح نہ بن جائے اس وقت تک ایسے بہترین اور صالح اعمال جو اس کو دنیا و آخرت میں فائدہ دے سکتے ہیں سر زد ہو ہی نہیں سکتے۔ ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص جو ایمان نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
صحیح بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ خواہشات دنیا سے اللہ تعالیٰ نے دوزخ کو اور تکلیفات شرعیہ سے جنت کو ڈھانپ رکھا ہے۔ جس طرح پردہ کے اندر کوئی چیز ڈھکی اور چھپی ہوتی ہے۔ اسی طرح جنت تکلیفات شرعیہ کے پردہ کے اندر اور دوزخ خواہشات دنیا کے پردہ کے اندر چھپی ہوئی ہے۔ اس لئے جس کسی کی تمام ہمت اور کوشش اور عمر خواہشات دنیا کے پورا کرنے اور آخرت سے غافل رہنے میں گزری اس نے گویا دوزخ کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور دوزخ میں جانے کا قصد کیا۔ اور جس کسی کی عمر تابمقدور تکلیفات شرعیہ کی برداشت مین بسر ہوئی اس نے جنت کے دروازہ کا پردہ اٹھایا اور جنت میں جانے کا قصد کیا۔ یہ حدیث گویا اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
[7] متقی کی تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة بقرہ حاشیہ 2 صفحہ 92۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
الایات :
(ف 2) قرآن حکیم کا یہ عجب طرزاستدلال ہے کہ وہ زیر بحث مطالب کی کائنات کے مظاہر پیش کرکے آسانی سے ثابت کردیتا ہے ۔ ” لایات “ کہہ دینے سے تمام دعاوی کی جانب ذہن خود بخود منتقل ہوجاتا ہے ،
توحید وجود باری ، بعثت ، رسالت اور دیگر قسم کے تمام دعاوی اس مظاہرہ قدرت سے عیاں ہیں ، غور فرمائیے ، دن اور رات کا تعین اور کائنات کی دوسری خوبیاں جو ہر ذرہ میں جاری وساری ہیں ، کیا بغیر خدا کے ممکن ہیں ، کائنات کا نظم وفسق اور ایک مخصوص وحدت کے جلوے کیا توحید کی جانب ذہن انسان کو متوجہ نہیں کرتے کیا یہ سب کچھ بےغرض وغایت ہے آسمان کی بلندیاں اور زمین کی بستیاں بےمطلب ہیں ؟ کیا یہ بعثت وحشر کی طرف صاف…
Read the full tafseer →9 بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور وہ نیک عمل بھی کرتے رہے ان کا پروردگار ان کو ان کے مومن ہونے کی وجہ سے ان کے مقصد تک پہنچا دے گا ان کے مکانات کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے یعنی ایمان کی برکت اور مومن ہونے کی وجہ سے مقصد میں کامیابی ہوگی یعنی جنت مل جائے گی جو بہت بڑا مقصد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 2۔ جو شرونقصان واقع ہوتا ہے اس میں باعتبار شخص خاص یا باعتبار عامہ مصالح کے کوئی چیز مضمر ہوتی ہے اور جس خیر میں توقف ہوتا ہے اسی طرح اس میں کوئی شر مضمر ہوتا ہے پس اس شر کا وقوع واقع میں خیر وقوع ہے اور اس خیر کا عدم وقوع واقع میں شرکا عدم وقوع ہے۔
Read the full tafseer →بلا شبہ نیک اعمال کرنے والوں کیلئے ہمیشہ رہنے کیلئے باغات ہوں گے
18 ؎ ” بلاشہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے تو ان کے ایمان کی وجہ سے سعادت کی راہ کا پروردگار ان پرکھول دے گا۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی جب کہ وہ نعمت الٰہی کے باغوں میں ہوں گے ‘ ‘ ۔ معلوم ہوا کہ جنت تک اصل رہنمائی کرنے والی شے ایمان ہے ، نطہ آغاز یہی ہے ۔ اعمال صالحہ اس میں صرف معین ہوجاتے ہیں اس لئے یھد یھم کے ساتھ ذکر صرف ایمان کا کیا گیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب ایمان نہ ہو تو عمل صالحہ کی بھی کوئی قیمت عند اللہ نہیں جس کا صلہ آخرت میں ملنے والا ہے۔ اگرچہ ہر نیک عمل ہی ہے خواہ کوئی کرے لیکن ہر ایک کیلئے نیک عمل…
Read the full tafseer →Mentioned in the third verse (9) are those fortunate people who pondered over the signs of the most exalted Allah. Thereby, they recognized Him, believed in Him and, by acting in accordance with the dictates of their faith, became duty-bound to say and do what was good and right (al-a` mal as-salihah: good deeds).
The good return and reward made due by the Holy Qur'an for these wonderful people has been mentioned in a particular manner. It was said: يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَانِهِمْ (their Lord will guide them by virtue of their belief), that is, ` take them to their destination, the…
Read the full tafseer →13. This Qur'anic statement calls for serious reflection. The sequence of ideas presented here is also quite significant because answers have been systematically provided to a number of highly relevant basic questions. Let us look at these answers in their sequence. Why will the righteous enter Paradise? The answer is: because they have followed the straight way in their worldly life. That is, in all matters and in every walk of life, in all affairs relating to the personal or collective life they have been righteous and have abstained from false ways.
This gives rise to another question: how…
Read the full tafseer →