Ayahs 10:1–2لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 2
الحکیم (وہ پکی چیز جس کے اندر ایسی پختگی ہو جس میں کبھی بدل جانے کا خوف نہ ہو یعنی علم، عقل اور سمجھ ۔ عجب (تعجب، حیرت) ۔ اوحینا (ہم نے وحی کی، وحی کے معنی اشارے کے بھی آتے ہیں) ۔ انذر (ڈرادے۔ کسی برے انجام سے ڈرانا) بشر (خوش خبری دے دیجیے) قدم صدق۔ صدق یعنی ٹھوس سچائی، قدم صدق، مرتبہ، کامیابی اور ترقی سحر (جادو کرنے والا، جادوگر) مبین (کھلی ہوئی واضح بات)
تشریح : آیت نمبر 1 تا 2
سورئہ یونس قرآن کریم کی دسویں سورت ہے۔ مکہ مکرمہ میں اس زمانہ میں نازل ہوئی جب نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی دعوت و تبلیغ کی مخالفتا ور دشمنی میں کفار و مشرکین شرافت اور انسانیت کی حدود سے بہت دور نکل چکے تھے۔ یہ بہت نازک وقت تھا جس میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام کے زعم و ہمت کو سہارے کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اپنے نبی ﷺ اور صحابہ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ جو بھی حالات پیش آ رہے ہیں کوئی ایسے نئے حالات نہیں ہیں بلکہ تمام انبیاء کرم (علیہ السلام) کے ساتھ یہی سب کچھ ہوتا رہا ہے اور قیامت تک جب بھی دین کی سچائیوں کی طرف بلایا جائے گا تو یہی مشکلات پیش آئیں گی۔ ان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ باطل کے خلاف ڈٹ کر عظیم جرأت و ہمت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی راستے سے دین و دنیا کی تمام بھلائیاں نصیب ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا مختصر، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذرا تفصیل سے اور حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کر کے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہر نبی کے ساتھ دو باتیں ضرور پیش آئی ہیں۔
(1) اللہ کا دین پہنچانے میں مشکلات، صہبتیں اور پریشانیاں اور
(2) دوسری بات یہ کہ کفار و مشرکین کی بربادی اور اہل ایمان کی کامیابی و کامران۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو انبیاء کرام علیہم الاسلام کے راستے پر چل کردیں و دنیا کی کامیابی عطا فرمائے۔ (آمین)
سورئہ یونس کی ابتدائی دو آیتوں میں چار باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔
1) سورة بقرہ اور سورة آل عمران کی طرح سورة یونس کی ابتدا بھی حروف مقطعات سے کی گئی ہے جس کی وضاحت سورة بقرہ و آل عمران کی سورتوں کے آغاز میں کردی گئی ہے تاہم اس جگہ صرف اتنی بات کو سمجھ لنیا کافی ہے کہق رآن کریم کی انتیس سورتوں کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ ان تمام حروف کے معنی نہیں کئے جاتے۔ کوٓنکہ ان حروف سے متعلق نہ تو صحابہ کرام نے سوال کیا ہے نہ مخالفین نے ان حروف پر کسی حیرت اور تعجب کا اظہار کیا ہے اور سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بھی ان کے متعلق کچھ ارشاد نہیں فرمایا اسی لئے مفسرین عام طور پر یہ فرماتے ہیں کہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان حروف سے کیا مراد ہے … کوئی خاص روایت تو نہیں ہے ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی ﷺ کو ان کے معنی بتا دیئے ہوں۔ بعض اکابر نے سورتوں کے مفہوم کو سامنے رکھ کر ان حروف کے معنی متعین کرنے کی مخلصانہ کوشش کی ہے لیکن آخر میں ان کے نوک قلم پر یہی بات آگئی کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان حروف سے کیا مراد ہے ؟ ان حروف کے کیا معنی ہیں ؟ ہمیں ان پر غور کرنے کے بجائے اس بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ جب نبی کریم ﷺ نے ہی ان حروف کے معنی و مراد کی وضاحت نہیں فرمائی اور صحابہ کرام نے بھی نہیں پوچھا تو یہ حروف اللہ ہی کو طرف سے ہیں اور وہی ان کے معنی اور مراد سے واقف ہے۔
2) دوسری بات یہ ہے کہ اس سورت کی ابتدا ” تلک ایت الکتاب الحکیم “ سے کی گئی ہے۔ یعنی یہ آیتیں کتاب حکیم کی آیتیں ہیں … جس طرح قرآن کے لئے بہت سے الفاظ آئے ہیں اسی طرح یہ بھی قرآن کریم کا ایک نام ہے۔ ” کتاب حکیم “ یعنی وہ کتاب جس میں تمام انسانوں کی رہنمائی کیلئے وہ پر حمکت اصول بیان فرمائے گئے ہیں جو انتہائی مضبوط، مستحکم اور حکمت و دانش سے بھرپور ہیں۔ یہ کتاب کوئی معمولی کتاب نہیں ہے بلکہ وہ عظیم کتاب ہے جس میں قیامت تک آنے والے انسانوں کے لئے دین و دنیا کی تمام عظمتیں، نعمتیں اور سربلندیاں پوشیدہ ہیں۔ تہذیب و تمدن، معاشرت اور معیشت، عقائد، عبادات ، معاملات اور سیاسیات عالم کے رہبر و رہنما اصول ارشاد فرما دیئے گئے ہیں۔
3) تیسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ کفار و مشرکین انبیاء کرام کی بشریت کا یہ کہہ کر انکار کرتے رہے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا آدمی جو ان ہی کی طرح گوشت پوست کا انسان ہے، نو مہینے ماں کے پیٹ میں رہ کر اس دنیا میں آیا ہے۔ جو ان ہی میں پلا بڑھا ہے جو کھاتا پیتا ہے، بازاروں میں چلتا پھرتا ہے، روتا بھی ہے اور ہنستا بھی ہے۔ جو بیوی بچے بھی رکھتا ہے … اللہ کا نبی اور رسول کیسے ہو سکتا ہے ؟ اگر اللہ کو نبی اور رسول بنا کر بھیجنا ہی تھا تو کسے فرشتے کو بھیج دیا ہوتا یا آسمان سے اچانک کوئی شخصیت نمودار ہوتی اور ہم اس پر ایمان لاتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے پیغمبروں کی بشریت کا انکار کفر کا مزاج ہوا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعدد مقامات پر اس کا بہت سادہ اور پر حکمت ایک ہی جواب دیا ہے کہ اس میں تعجب اور حیرت کی کو سنی بات ہے کہ ہم نے اپنا کلام ایک انسان کے ذریعہ پہنچایا ہے جو تمہیں برے اعمال کے خراب نتائج سے ڈراتا ہے اور نیک اعمال کے نتیجے اور جنت اور اس کی راحتوں کی خوش خبری سناتا ہے۔ جس طرح پہلی امتوں نے نبیوں کی بشریت کا انکار کیا اسی طرح نبی ﷺ پر بھی یہی اعتراض کیا گیا۔ اللہ نے متعدد مقامات پر خود نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے یہ کہلوا دیا کہ اے نبی ﷺ آپ ان سے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیجیے کہ میں بھی تم جیسا ایک بشر ہوں۔ میری خصوصیت یہ ہے کہ میری طرف اللہ کی وحی آتی ہو جس کی میں خود بھی اتابع و پیروی کرتا ہوں اور دوسروں کو بھی اسی وحی کی طرف بلاتا ہوں اور اس کی پیروی پر آمادہ کرتا ہوں۔
4) ان آیات میں چوتھی بات یہ فرمائی گی ہے کہ کفار و مشرکین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ جب بھی اللہ کے پیغمبروں نے اللہ کا کلام پیش کیا تو اس کو جادو کا نام دیا اور اس کو پہنچانے والوں کو جادوگر کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف صاف ارشاد فرمادیا ہے کہ جادو کرنا، جادو ساکھنر اور سکھانا سب کفر کی باتیں ہیں … جادو کیا ہے ؟ محض وقتی طور پر نظر بندی، نظروں کا فریب … اسکے برخلاف اللہ کا کلام ایک سچائی ہے، روشنی ہے۔ جادو کا اثر محض تھوڑی دیر تک رہتا ہے۔ جب جادو ختم ہوجاتا ہے تو وہی چیزیں جو سانپ اور اژدھے نظر آتے ہیں معمولی رسیاں اور لکڑیاں رہ جاتی ہیں ۔ اس کے برخلاف اللہ کا کلام وہ ہے کہ جب ایک دفعہ دلوں میں آجاتا ہے اور اس کا رنگ دلوں پر چڑھ جاتا ہے تو پھر وہ رنگ کبھی نہیں اترتا۔ فرعون کے دربار میں جب جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک کر ان کو نظر بندی کے ذریعہ سانپ اور اژدھوں کی شکل میں دکھایا … تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنا عصا کو پھینکا اور وہ اصلی پھنکارتا ہوا اژدھا نظر آنے لگا تو سارے جادو گر ڈر گئے اور سمجھ گئے کہ یہ محض نظروں کا دھوکہ نہیں ہے بلکہ معجزہ ہے۔ وہی جادوگر جو انعام و اکرام کے لالچ میں اپنے ادو کا کمال دکھا رہے تھے اللہ کے سامنے سجدہ میں گر گئے اور رب موسیٰ اور رب ہارون پر ایمان لے آئے … جب ان جادوگروں کے دلوں میں ایمان موجزن ہوگیا تو فرعون کی ہر دھمکی کے سامنے وہ ڈٹ کر کھڑے ہوگئے۔ … یہی اللہ کا رنگ ہے جب یہ دلوں پر چڑھ جاتا ہے تو پھر اس کا رنگ نکھرتا تو ہے مٹتا نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے کفار و مشرکین کو صاف صاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ جادو ایک بےحقیقت چیز ہے۔ وقتی دھوکہ، فریب اور نظر بندی ہے اس کا مقابلہ اللہ کے کالم سے کرنا اور اس کلام سے کرنا جو کلام سراسر سچائی ہے، حقیقت ہے، نور ہے … اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ جو لوگ اس کلام رباین پر ایمان لائیں گے ان کو دنیا و آخرت میں عزت کا مقام نصیب ہوگا۔
Ayahs 10:3–4لغات القرآن آیت نمبر 3 تا 4
خلق (اس نے پیدا کیا) ستہ ایام (چھ دن، اس سے چھ دن مراد ہیں، ممکن ہے چھ زمانے اور پیریڈ مراد ہوں) استوی (وہ برابر ہوا، یعنی اس نے نظام کائنات کا آغاز کردیا) یدبر (وہ تدبیر کرتا ہے، فیصلے کرتا ہے) شفیع (سفارش کرنے والا) افلاتذکرون (کیا پھر بھی وہ اس حقیقت پر غور و فکر نہیں کرتے) حق سچ بالکل درست اور صحیح) یبدا (وہ شکر کرتا ہے) یعید (وہ لوٹاتا ہے، واپس لاتا ہے) لیجزی (تاکہ وہ بدلہ اور جزا دے) القسط (انصاف، عدل و انصاف) شراب (ہر پینے کی چیز کو شراب کہتے ہیں) حمیم (گرم ، کھولتا ہوا پانی)
تشریح :- آیت نمبر 3 تا 4
سورئہ یونس کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کے ان غلط اور باطل عقیدوں کی پرزور تردید فرمائی ہے جن میں وہ ایک اللہ کے قائل ہونے کے باوجود بتوں کی عبادت کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ بت اللہ کی بارگاہ میں ان کی سفارش نہیں کریں گے تو ان کی بات قبول نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ انسان کا اپنا من گھڑت خیال ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں سے دور نہیں ہے بلکہ ان کی رگ جان سے بھی قریب ہے۔ اس اللہ کو اس کائنات میں ہر طرح کی قدرتیں حاصل ہیں اسی نے اس کائنات کے ذرے ذرے کو پیدا کیا اور وہی ہر چیز کو عدم سے وجود میں لاتا ہے اور وہی سب کا معبود ہے۔ اس نے اپنی قدرت سے آسمانوں اور زمین کو چھ دن کی مقدار میں پیدا کیا ہے۔ عرش سے لے کر فرش تک پورے نظام کو وہ اپنی تدبیر و حکمت سے چلا رہا ہے۔ اس کے اختیار اور قدرت میں کوئی شریک نہیں ہے وہ اس کائنات کے رہ معاملے کا کسی کی شرکت اور مداخلت کے بغیر تدبیر و انتظام کر رہا ہے۔ اس کے انتظام میں شرکت تو بڑی بات ہے اس کی بارگاہ میں اس کی اجازت کے بغیر لب ہلانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ لہٰذا وہی ایک ذات ہے جو عبادت و بندگی کی مستحق ہے۔ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر وہ اپنے عدل و انصاف سے نیک چلن اور اعمال صالح کے پیکر ایمان والوں کو اجر عظیم عطا فرمائے گا اور جنہوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کر رکھی ہوگی وہ ان کو نہ صرف ایک درد ناک عذاب دے گا بلکہ میدان حشر میں اور جہنم میں شدید پیاس کو بجھانے کے لئے کھولتا ہوا پانی دے گا جو ان کے لئے مزید اذیت ناک سزا ہوگی۔ زمین و آسمان کو اچانک بنا کر کھڑا نہیں کردیا گیا۔ حالانکہ اس کی بارگاہ میں ” کن “ کہنے کی دیر ہوتی ہے اور ہر چیز وجود اختیار کرلیتی ہے لیکن زمین و آسمان کو چھ دن میں بنایا اس کا مقصد یہ ہے کہ اس نے اس کائنات کو بتدریج بنایا ہے کیونکہ اس کا قانون ہی یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو بتدریج پیدا کرتا ہے۔ ایک گٹھلی کو درخت بننے میں ایک وقت لگتا ہے اگر وہ چاہتا تو یہی کام ایک لمحہ میں بھی ہو سکتا تھا مگر اس کے قانون کے خل اف ہے۔ یہی قانون پوری کائنات میں رائج فرما دیا ہے کہ ہر چیز اپنے وقت پر آہستہ آہستہ تکمیل تک پہنچ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد چھ دن کو لیا ہے۔ لیکن بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس دنیا کے ماہ و سال اور دن اللہ کے ماہ وسال اور دنوں سے مختلف ہیں مثلاً سورة حج کے چھٹے رکوع میں فرمایا گیا ہے :
” وان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون “
ترجمہ :- اور بیشک آپ کے رب کے نزدیک ایک دن ایسا ہے جیسا کہ تمہاری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال۔
اگر اس آیت کو سامنے رکھا جائے تو چھ دن سے مراد چھ ہزار سال بھی ہو سکتے ہیں۔ اس لئے بعض مفسرین نے چھ دن سے مراد چھ ہزار سال یا چھ مدتیں قرار دی ہیں۔ بہرحال اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے کیا مراد ہے چھ دن چھ ہزار سال یا چھ مدتیں۔ بہرکیف اللہ نے اس کائنات کو ایک تدریج اور حسن انتظام سے پیدا فرمایا ہے۔ چھ دن سے ممکن ہے اس غلط عقیدہ کی طرف اشارہ ہو جو یہودیوں نے گھڑ رکھا تھا۔ یہودی یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے چھ دن میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور پھر وہ اللہ اس قدر تھک چکا تھا کہ اس نے ساتویں دن آرام کیا۔ (نعوذ باللہ) اللہ نے فرمایا کہ اس نے بیشک کائنات کو چھ دن میں پیدا کیا لیکن ساتویں دن آرام نہیں کیا کیونکہ نیند، اونگھ اور آرام سے وہ اللہ بےنیاز ہے بلکہ چھ دن یا چھ مدتوں میں کائنات کو پیدا کر کے اس نے پوری کائنات میں اپنی قدرت کے حسن انتظام کو جاری فرما دیا۔
Ayahs 10:5–6لغات القرآن آیت نمبر 5 تا 6
ضیاء (روشنی، چمک، اجالا) نور (چمک دار، روشن) قدر (اس نے مقرر کردیا) السنین (سن) سال، کئی برس ، یفصل (وہ تفصیل بیان کرتا ہے، کھول کر بیان کرتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 5 تا 6
جو شخص بھی غور و فکر کی صلاحیتوں سے کام لے کر ذرا بھی تدبیر رکے گا اس کو اس کائنات میں ایک خاص نظم و ضبط نظر آئے گا اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ اس پورے نظام کائنات کو کوئی ہستی ہے جو چلا رہی ہے۔ حکومتیں، افراد، موسم اور حالات بدلتے رہتے ہیں لنکا اللہ کے نظام میں کبھی تبدیلی نہیں آتی۔ سورج دھک رہا ہے، چاند چمک رہا ہے، ستارے اپنی روشنی بکھیر رہے ہیں رات اور دن آسمان و زمین اسی طرح اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں جس طرح آج سے ہزاروں سال پہلے کام کر رہے تھے۔ ماہ و سال کا ایک کیلنڈر اپنے سامنے رکھ لیجیے پھر دیکھیے کہ سورج چاند کے نظم و انتظام میں ایک منٹ اور ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں ہوگا۔ اس سے زیادہ اور کیا نظم اور انتظام ہوگا کہ اگر آپ کے پاس ایسے آلات موجود ہوں جن سے موسم کی تبدیلیوں کا مطالعہ کرسکیں تو آپ ایک مہینہ پہلے بھی اس کا اندازہ کرسکتے ہیں کہ کب اور کہاں بارش ہوگی اور کہاں سورج نکلے گا وغیرہ وغیرہ۔
چنانچہ جن لوگوں کے پاس یہ ذرائع موجود ہیں وہ لوگ بتاتے رہتے ہیں کہ فلاح وقت بادل چھائے رہیں گے فلاں وقت بارش ہوگی یا نہیں ہوگی۔ اس میں انسان کا صرف اتنا ہی کمال ہے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہا ہے اس کو بیان کر دے ورنہ چاند سورج اور ستاروں اور ان کی رفتار میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اللہ وہ ہے جو ” حی وقیوم “ ہے اور وہ تنہا اس نظام کائنات کو چلا رہا ہے۔ اہل علم وتقویٰ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ اللہ کے ہر کام میں ایک مصلحت ہے۔ نظم و انتظام اور مقصدیت ہے۔ اس نے ایک ذرے کو بھی بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ اس کی کائنات ہے وہ جب تک چاہے گا اس انتظام کو چلائے گا اور جب چاہے گا زمین و آسمان اور کائنات کی تمام صلاحیتوں کو لپیٹ کر رکھ دے گا اور درہم برہم کر دے گا۔
Ayahs 10:7–10لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 10
لایرجون (وہ امید نہیں رکھتے) لقاء (ملاقات) اطمانوا (وہ مطمئن ہوگئے) ماوی (ٹھکانا) یکسبون (وہ کماتے ہیں، حاصل کرتے ہیں) یھدی (وہ ہدایت دیتا ہے، راستہ دکھاتا ہے) النعیم (راحتوں سے بھرپور) سبحان (بےعیب ذات، جس میں کوئی خرابی نہ ہو) تحیہ (دعا) دعویٰ پکار، دعا، فریاد
تشریح : آیت نمبر 7 تا 10
جب اللہ تعالیٰ ، اس کے آخری رسول اور نبی ﷺ اور آخرت کی ابدی زندگی پر پختہ یقین و ایمان اور اس کا شعور انسانی سیرت و کردار کی روح نہ بن جائے اس وقت تک ایسے بہترین اور صالح اعمال جو اس کو دنیا و آخرت میں فائدہ دے سکتے ہیں سر زد ہو ہی نہیں سکتے۔ ایسا ممکن ہے کہ ایک شخص جو ایمان نہیں رکھتا۔ نہ تو اس کا آخرت پر یقین ہے اور نہ وہ اللہ و رسول کو مانتا ہے مگر اس کے اخلاق، معاملات اور کردار بہت بلند ہوں وہ لوگوں کی نگاہ میں ایک اچھا انسان سمجھا جاتا ہو۔ شریعت کی نگاہ میں ایسے آدمی کے اچھے اعمال کی قدر ہے اور اس کو اس کا بدلہ بھی دیا جائے گا۔ مگر اس دنیا کی حد تک اس کو آخرت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔ دنیا میں اس کا بدلہ یہ ہے کہ لوگ اس کی تعریفیں کریں گے اس کو ایک اچھا انسان سمجھیں گے ۔ قدر کین گاہوں سے دیکھیں گے۔ لیکن موت کی گود میں سوتے ہی اس کے تمام معاملات ختم ہوجائیں گے۔ ایسا آدمی آخرت میں خالی ہاتھ ہوگا۔ دین اسلام ہمیں یہ بتاتا ہے کہ اگر یہ شخص یہ تمام اعمال صالح ایمان کے ساتھ کرتا۔ اللہ اور اس کے آخری رسول ﷺ پر ایمان لا کر حسن عمل کا مظاہرہ کرتا تو اس کو دنیا کی زندگی کے بعد آخرت میں بھی یہ اعمال کام آتے۔ دین اسلام کی تعلیمات سے یہ سچائی بھی سامنے رہنی چاہئے کہ دنیاوی زندگی بہت تھوڑی سی ہے جو کسی نہ کسی حد تک پہنچ کر ختم ہوجائے گی۔ لیکن آخرت کی زندگی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہے جس کی حد اور انتہا کوئی نہیں ہے۔ وہ ایسی ابدی زندگی ہوگی جہاں موت کو بھی موت آجائے گی۔ جس کے جیسے اعمال ہیں اس کو ایسا ہی بدلہ دیدیدا جائے گا۔ جو ایمان و یقین کے پیکر ہوں گے ان کے لئے جنت اور اس کی ابدی راحتیں مقدر کردی جائیں گی اور جو کفر و شرک اور نفاق میں مبتلا رہے ہیں ان کو جہنم کی ابدی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔
ان آیات میں ان ہی دو جماعتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے :
ایک وہ لوگ ہیں جنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ بس اس دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے آخرت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ فرمایا کہ وہ اپنے اس خیال پر اس قدر مطمئن اور خوش ہیں کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے مہربان رب کی ملاقات کی بھی امید نہیں کھتے۔ انہیں اللہ کے سامنے حاضر ہو کر پوری زندگی کا حساب کتاب پیش کرنے کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ ہے کہ اس ہمیشہ کی زندگی میں وہ ہمیشہ جہنم کی آگ کا ایندھن بنے رہیں گے۔
اس کے برخلاف وہل وگ جو ایمان اور عمل صالح کا پیکر ہوں گے جو ہر نیک اور بھلے کام کو صرف اس لئے کرتے تھے کہ کوئی دیکھے نہ دیکھ کوئی تعریف کرے یا نہ کرے وہ محض اپنے پیدا کرنے والے پروردگار کی رضا و خوشنودی کو سب کچھ سمجھتے تھے۔ جنہیں قدم قدم پر یہ فکر رہتی تھی کہ انہیں ایک نہ ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہو کر اپنی زندی کے ایک ایک لمحے کا حساب دینا ہے۔ جو اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت و محبت میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کو سعادت سمجھتے تھے فرمایا کہ ایسے لوگوں کا انجام آخرت کی ابدی راحتیں، سکون و اطمینان ہوگا۔ وہ ایسی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے جہاں ہر شخص ایک دوسرے پر سلامتی بھیجتا ہوگا جاں فضول باتوں کے بجائے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کرنا سب سے بڑی سعادت ہوگی۔
Ayahs 10:11–12لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 12
یعجل (وہ جلدی بھیجتا ہے) استفجال (وہ جلدی مانگتے ہیں) نذر (ہم چھوڑ دیتے ہیں) طغیان (سرکشی، نافرمانی) یعمھون (وہ بھٹکتے ہیں، گھومتے ہیں) کشفنا (ہم نے کھول دیا (تہس نہس کیا) مسرفین (حد سے بڑھ جانے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 12
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی مقامتا پر ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو بہت سی عظمت عطا فرمائی ہیں روحانی بھی اور جسمانی بھی۔ روحانی تو ایسی کہ اس کو فرشتوں کا مسجود بنا دیا تمام فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ انسان کی عظمت کے سامنے سب کے سب سجدہ کریں۔ جب شیطان نے انسان کی عظمت کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا تو اس کو قیامت تک اپنی بارگاہ سے نکال دیا گیا۔ اسی طرح جسمانی اعتبار سے بھی اس کو ” احسن تقویم “ یعنی بہترین سانچوں میں ڈھال کر بنایا ہے خشکی کے دشوار گذار راستوں کو طے کرنے سمندر کی گہرائیوں میں اترنے، پہاڑوں کے سینے چیرنے اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا بڑا حوصلہ اور ہمت ہے لیکن دوسری طرف اس کی کچھ فطری کمزوریاں بھی ہیں مثلاً جلدی بازی کرنا اور جلد از جلد کسی نتیجے کو حاصل کرنے کی خواہش کرنا اس کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ ذرا کوئی خوشی مل گئی تو چہرہ کھل اٹھا۔ دل اسی خوشی میں مگن ہوگیا اور اگر اس پر کوئی مصیبت آن پڑی تو اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے اور کروٹیں بدل بدل کر ہر پہلو پر اللہ کو یاد کرنا شروع کردیا۔ جب وہ حالات کے بھنور سے نکل جاتا ہے تو پھر سے اپنی شرارتوں میں بدمست ہوجاتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے خالق ومالک کو بھول کر کفر و شرک تک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اور مکہ کے کفار کو بت پرستی اور من گھڑت مذہبی رسموں، جہالت کی تاریکیوں اور آپس کی خوں ریزیوں سے روکنے اور دین اسلام پر عمل کرنے کی دعوت دی گئی اپنے ہی غیر بن گئے۔ نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثاروں پر مصائب کے پہاڑ توڑ دیئے گئے۔ طرح طرح سے اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی گئیں یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثاروں کو مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ آپ کو مدینہ منورہ ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گذارا تھا کہ مکہ میں شدید قحط پڑگیا۔ مکہ کے لوگوں کو شدید اذیت ناک حالات سے گذرنا پڑا یہاں تک کہ جب کھانے کو کچھ نہ ملا تو مردار جانور تک کھانے پر مجبور ہوگئے۔
جب حالات شدید تر ہوگئے اور قحط نے چاروں طرف سے گھیر لیا تو کفار مکہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ ہم پر یہ ساری آفتیں صرف اس لئے آرہی ہیں کہ ہم نے حضرت محمد ﷺ کو ہر طرف ستایا اور اس نعمت کی قدر نہ کی۔ چناچہ ابوسفیان جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے ان کی قیادت میں ایک وفد مدینہ بھیجا گیا۔ ابوسفیان اور ان کے ساتھیوں نے مدینہ پہنچ کر مکہ کے لوگوں کی شدید تکالیف اور قحط کا تذکرہ کیا۔ نبی رحمت ﷺ نے اس موقع پر ان کے ظلم و ستم کو نظر انداز کرتے ہوئے صحابہ کرام سے فرمایا کہ مکہ والوں کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام نے فقر و فاقہ اور تنگ دستی کے باوجود ہر ممکن مدد کی اور امدادی سامان جمع کر کے مکہ والوں کے لئے بھیجا۔ نبی مکرم ﷺ کفار مکہ کی تکلیفوں پر بےچین ہوگئے۔ یقینا آپ نے اللہ سے دعا بھی کی ہوگی۔ بہرحال جب مکہ والوں پر تکالیف اور قحط کی شدت ختم ہوگئی تو انہوں نے اپنے کفر و شرک میں اور شدت اختیار کرلی۔ دلوں کی نرمی کے بجائے ان کے دل اور بھی سخت ہوگئے۔ تو یہ ایک انسانی فطرت ہے کہ جب وہ کسی بلا اور مصیبت میں گرفتار ہوتا ہے تو اللہ کو پکارتا ہے۔ روتا ہے اور چلاتا ہے اسے کسی کروٹ چین نہیں آتا۔ لیکن جیسے ہی حالات درست ہوجاتے ہیں تو وہ پھر سے اپنی سرکشی اور نافرمانی میں لگ جاتا ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ اللہ تو اپنے بندوں پر بہت ہی رحیم و کریم ہے اور حلیم بھی ہے کہ اپنے بندوں کے ہر گناہ پر فوراً ہی گرفت نہیں کرتا بلکہ ان کو مہلت اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ سنبھل جائیں۔
حالانکہ اللہ کی قدرت سے یہ باہر نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں کو پکڑنے پر آئے تو کوئی اس سے چھڑا نہیں سکتا مگر وہ حکیم، رحیما ور حلیم لوگوں کو سنبھلنے اور راستہ تلاش کرنے کا پورا پوا موقع عطا فرماتا ہے۔
اس موقع پر غور کرنے کی بات ہے کہ یہ تو کفار کا اندازہ زندگی ہے کہ جب ان پر کوئی آفت اور مصیبت آتی ہے تو وہ روتے اور چلاتے ہیں اپنے بتوں کو چھوڑ کر اللہ ہی کو پکارنے لگ جاتا ہے لیکن ہمارا حال بھی تو اس سے مختلف نہیں ہے۔ جب ہم زندگی کے پرپیچ راستوں میں پھنس جاتے ہیں تو دن رات اللہ کو پکارتے ہیں روتے چلاتے اور لوگوں سے دعاؤں کی درخواست کرتے ہیں لیکن جب ہم ان مصائب اور مشکلات سے باہر آجاتے ہیں تو ہم بھی اللہ کی رحمت اور اس کے کرم کو بھول کر مختلف اسباب کی تعریفیں کرنے لگتے ہیں۔
ایک بیمار کو جب صحت مل جاتی ہے تو وہ ڈاکٹروں کی تعریف کرنے لگتا ہے کہ فلاں ڈاکٹر یا حکیم صاحب نے ایسی دوا دی کہ مجھے دوبارہ زندگی مل گئی اور میں صحت مند ہوگیا۔ اگر کسی مقدمہ میں پھنس گئے تو اس کی تعریف کرنے لگتے ہیں کہف لاں وکیل صاحب نے ایسا مقدمہ لڑا کہ فریق مخالف کے چھکے چھوٹ گئے اور میں مقدمہ جیت گیا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ایک مومن جس کا اللہ پر کامل یقین ہے جو اپنے معاملات کے لئے خود بھی دعائیں کر رہا تھا اور دوسروں سے بھی کرا رہا تھا کامیایب اور صحت کے بعد جب وہ غیر اللہ کی تعریف کرتا ہے تو وہ اللہ کو بھول جاتا ہے جس نے صحت اور کامیابی عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو کفر کے اس مزاج سے دور ہی رکھے اور ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
ان آیات میں یہی بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ اپنے رحم و کرم میں جتنی جلدی کرتا ہے اگر ہر ایک کو سزا دینے میں بھی جلدی کرنے لگے تو پھر انسان کا ٹھکانا کہاں ہوگا۔ انسان نافرمانیوں اور زیادتیوں میں حد سے بڑھ جاتا ہے لیکن اس سب کے باوجود وہ رحیم و کریم ہر ایک پر اپنے انعام و کرم کی بارشیں برساتا رہتا ہے۔
Ayahs 10:13–14لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 14
اھلکنا (ہم نے ہلاک کیا) القرون (قومیں، نسلیں) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں) خلتف (قائم مقام، نئاب، خلیفہ) لننطر (تاکہ ہم دیکھیں)
تشریح :- آیت نمبر 13 تا 14
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اس بات کو پوری وضاحت سے ارشاد فرمیا ہے کہ نافرمانیوں، گناہوں اور ظلم و بغاوت پر جری ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ لوگوں کی فوراً ہی گرفت نہیں کرتا بلکہ وہ حلیم و کریم ہے وہ اپنے بندوں کو ایک خاص مدت تک مہلت عمل اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر اپنے لئے بہتر اور مناسب راستہ کا انتخاب کرسکیں ۔ لیکن اگر پھر بھی وہ اپنی روش زندگیک و تبدیل نہیں کرتے تب ان پر اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے اور ساری قوتوں اور طاقتوں کے باوجود تباہ و برباد کر رہ جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی یہ شان کریمی ہے کہ وہ غفلت اور گناہوں میں ڈوبے ہوئے لوگوں کی اصلاح کے لئے ایسے پاکیزہ نفس انسانوں یعنی اپنے رسولوں اور نبیوں کو بھیجتا رہا ہے جنہوں نے ان کو گناہوں کی دلدل سے نکالنے اور برے انجام سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کیں۔ تمام پیغمبروں کے بعد اللہ تعالیٰ نے فخر کائنات نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری رسول اور آخری نبی بنا کر بھیجا جنہوں نے بہت تھوڑی مدت میں ایسے لاکھوں جاں نثاروں کی پاکیزہ جماعت تیار فرمائی جو قیامت تک زندگی کے اندھیروں میں بھٹکنے والوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ اب چونکہ نبوت و رسالت کا دروازہ قیامت تک کے لئے بند ہوچکا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایسے انتظامات فرما دیئے ہیں کہ قرآن و سنت اور اس کی تعلیمات قیامت تک محفوظ رہیں گی اب حاملین قرآن و سنت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی طرح ساری دنیا میں ان سچائیوں کو پھیلان کے ذمہ دار بنا دیئے گئے ہیں۔
چونکہ قرآن کریم کے مخاطب اول مکہ مکرمہ کے لوگ ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ مکہ والوں سے ارشاد فرما رہے ہیں کہ اے مکہ کے لوگو ! تم اس بات کو اچھی طرح جانتے ہو کہ تم سے پہلے بہت سی وہ قومیں گذر چکی ہیں جن کی بستیوں پر سے تم گذرتے ہو۔ ان کے کھنڈرات اس بات کے گواہ ہیں کہ ہر طرح کی قوت و طاقت رکھنے کے باوجود جب انہوں نے نافرمانیوں اور بدکاریوں کے طریقے اختیار کئے اور اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں کی نافرمانی کی تو پھر ان پر وہ عذاب مسلط کئے گئے جن سے انہیں بچانے والا کوئی نہ تھا۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے مکہ والو ! اگر تم نے خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ کے دامن اطاعت سے وابستگی اختیار کرلی تو تمہاری نجات کا سامان ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ان کی نافرمانی کی گئی تو قیامت تک تم اللہ کی رحمت سے محروم رہ جائو گے۔ ان آیات میں جہاں مکہ والوں سے خطاب ہے وہیں قیامت تک آنے والے اہل ایمان کو بھی بتا دیا گیا ہے کہ تاریخ کے اس آئینہ میں تم اچھی طرح دیکھ لو کہ جن قوموں نے ظلم ، بغاوت اور نافرمانیوں کے راستے کا انتخبا کیا وہ دنیا سے حرف غلط کی طرح مٹا دی گئیں۔ اب تم گزشتہ قوموں کے بعد ان کی جگہ پر موجود ہو دیکھا یہ جائے گا کہ تم اللہ کے سامنے اپنے حسن عمل یا فرماں برداری کا انداز اختیار کر کے اپنا نامہ اعمال کس طرح مرتب کرتے ہو ؟
اگر تم نے بھی وہی روش اختیار کی جس کی وجہ سے پچھلی قومیں تباہ و برباد کردی گئیں تو پھر اللہ کی سنت یعنی اس کا متعین اور اٹل قانون یہ ہے کہ جہاں وہ حسن عمل کرنے والوں کی چھوٹی چھوٹی نیکیوں پر بےانتہا اجر وثواب عطا فرماتا ہے وہیں جب وہ نافرمانیوں پر گرفت کرتا ہے تو اس سے بچانے والا کوئی نہیں ہوتا۔
Ayahs 10:15–17لغات القرآن آیت نمبر 15 تا 17
تتلی (تلاوت کی گئی، پڑھی گئی) ات (لے آ) غیر ھذا (اس کے سوا) بدل (بدل دے، تبدیل کر دے) تلقائی نفسی (اپنی طرف سے، اپنی خواہش سے) یوحی (وحی کی گئی ہے) عصیت (میں نے نافرمانی کی) تلوث (میں نے پڑھا (تلاوۃ) ، پڑھنا (ماضی کا صیغہ ہے) ادری (جتایا، ماضی کا صیغہ اذراء سے، درایۃ کے معنی سمجھ لیتا) لبثت (میں نے گزاری ہے، میں رہا ہوں) عمر (عمر تک) افتری (جس نے گھڑا) لایفلع (وہ فلاح نہیں پاتا، وہ کامیاب نہیں ہوتا)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 17
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہدایت ہے جو اس نے اپنے محبوب بندے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی جس کی اتباع اس کو پڑھ کر سنانے اس کو سکھانے اور اس کے علم و حکمت کے ذریعہ دلوں کو نور ایمانی سے سنوارنے اور نکھارنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چناچہ مکہ مکرمہ کے جن لوگوں نے ایمان قبول کیا آپ نے قرآن کریم کے نور سے ان کے دلوں کو منور و روشن کردیا۔
قرآن کریم میں ایکط رف تو علم و حکمت کے اصولوں کی وضاحت فرمائی گئی ہے دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے کفار کی بری رسموں اور بتوں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ ابتداء میں کفار مکہ یہ سمجھتے رہے کہ یہ کوئی وقتی نعرہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجائے گا لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ قرآن کریم اور حضور اکرم ﷺ کی سیرت پاک سے ہر شخص کا ذہن بڑی تیزی سے متاثر ہو رہا ہے تب ان کو فکر لاحق ہوگئی اور انہوں نے ان تمام لوگوں کو جن کے دل نور ایمانی سے منور ہوچکے تھے ان کو طرح طرح کی اذیتیں دینا شروع کردیں اور پھر ان کا ظلم و ستم بڑھتا ہی چلا گیا۔ لیکن جب کفار مکہ نے یہ دیکھا کہ ان ظلم و ستم کے طریقوں سے کوئی فائدہ نہیں ہے تو انہوں نے پر فریب مصالحت کے طریقے نکالنے کی کوششیں شروع کردیں۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اے محمد ﷺ آپ صرف ہمارے بتوں میں سے بعض کو ہاتھ لگا دیں تو ہم آپ کی تصدیق کرنے لگیں گے۔ اس پر جبرئیل امین سورة کافرون لے کر نازل ہوئے جس میں کفار کے اعمال سے برأت اور خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے (حضرت عبداللہ ابن عباس روایت صالح)
درحقیقت کفار مکہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ جب کہ ہماری نسل، قوم ، قبیلہ، زبان اور علاقہ ایک ہے تو پھر ہم آپس میں لڑ کر کمزور کیوں ہوں لہٰذا باہمی اتحاد کا راستہ نکال لیا جائے کہ ” ایک سال آپ ہمارے بتوں کی عبادت کیا کریں اور ایک سال ہم آپ کے معبودوں کی عبادت و بندگی کرلیا کریں گے۔ (قرطبی)
یہ اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کا وہی پرفریب نعرہ ہے جو آج کل بھی لگایا جاتا ہے۔ شدید انتشار اور اختلاف پیدا کرنے والے ہی لوگوں کو دھوکہ دینے کیلئے ” اتحاد “ کی باتیں کرتے ہیں اس میں شک نہیں کہ دین اسلام سب سے زیادہ اتحاد و اتفاق، باہمی محبت، حسن سلوک اور رواداری کا قائل ہے بلکہ اس دین کا تو بنیادی مقصد ہی انسانوں کو ایک لڑی میں پرونا ہے لیکن انسانی حقوق کی حد تک یہ بات محدود ہے۔ اللہ کے قانون اور اصول دین میں کسی قوم سے مصالحت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایک مرتبہ سردار ان مکہ حضور اکرم ﷺ کے چچا کے پاس آ کر کہنے لگے کہ اگر محمد ﷺ ہمارے بتوں اور ہماری رسموں کو برا کہنا چھوڑ دیں تو وہ ان کو اپنا سردار بنانے کے لئے تیار ہیں۔ دولت سے مالا مال بھی کیا جاسکتا ہے اور اگر وہ عرب کسی کسی بھی حسین لڑکی سے نکاح کے خواہش مند ہوں تو ہم ان کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ مگر آپ کا ہر موقع پر ایک ہی جواب ہوتا تھا کہ اگر تم چاند اور سورج بھی میری ہتھیلی پر لا کر رکھ دو تب بھی میں اس دین کی سچائی کو پھیلانے سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹوں گا۔ ان ہی کوششوں میں سے ایک کوشش یہ بھی تھی جو زیر تشریح آیات میں ارشاد فرمائی گئی ہے۔
ان کا قیاس یہ تھا کہ (نعوذ باللہ) قرآن کریم آپ کی تصنیف ہے جس کو خود آپ نے بنا کر پیش کردیا ہے جس کو زور آور بنانے کے لئے اللہ کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس لئے انہوں نے یہ فرمائش کی کہ اے محمد ﷺ یا تو اس قرآن کو تم بدل دو یا کم از کم اتنی ترمیم تو کردو کہ جس میں ہمارے بتوں کو برا نہ کہا گیا ہو۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اس حقیقت کو واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہلوا دیا کہ اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ یہ میری مجال نہیں کہ اللہ کے اس کلام کو میں اپنی مضری سے بدل دوں یا اس میں ترمیم کر دوں بلکہ میں تو خود اس وحی کی اتباع کرتا ہوں۔ اگر میں نے بھی اللہ کے حکم کے خلاف کوئی کام کیا تو (جو کہ ممکن ہی نہیں ہے) میں بھی ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یہ کلام تو اللہ نے نازل فرمایا ہے اگر اللہ نہ چاہتا تو نہ میں اس قرآن کو تمہارے سامنے پڑھ سکتا اور نہ وہ میرے ذریعہ تمہیں اس سے باخبر کرتا۔ میں نے تمہارے اندر زندگی کا ایک بڑا حصہ گذارا ہے کیا تم اتنی بات سمجھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔
ان آیات میں یہ ارشاد ہے ” کہ میں نے تمہارے درمیان زندگی کا ایک حصہ گذارا ہے “ یہ خود قرآن کی سچائی کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ مکہ کا ہر شخص اس بات سے واقف تھا کہ آپ نے چالیس سال کی عمر میں جس سچائی کا اعلان کیا ہے وہ جن آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔ اس سے پہلے کسی نے بھی ان کی زبان مبارک سے نہ سنی تھیں نہ آپ نے کسی سے ایک حرف بھی کسی ھا تھا وہ لکھے ہوئے ورق کو پڑھ بھی نہیں سکتے تھے یہ کیسے ممکن ہے کہ اچانک آپ کی زبان مبارک سے ان ایٓات کی تلاوت شروع ہوجائے جو ایک کھلا وہا معجزہ ہے اور جس کے لئے یہ کھلا چلنجن موجود تھا کہ تمام انسان اور جنات اور ان کے حمایتی قرآن کریم کی ایک سورت بھی بنا کر نہیں لاسکتے۔ یہ علم و حکمت کا سمندر جو بہنا شروع ہوا ہے یقینا یہ اسی اللہ کا کلام ہو سکتا ہے جو کائنات کے تمام علوم کا جاننے والا ہے۔ اس سے اس بات کو بھی ثابت کرنا ہے کہ مکہ مکرمہ کا ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ آپ صادق و امین ہیں۔ آپ نے کبھی دنیا کے کسی معاملے میں جھوٹ نہیں بولا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ آخرت کے معاملہ میں جھوٹ بولیں گے جس میں آپ کا کوئی فائدہ نہیں ہے سوائے تکلیفوں، فاقوں اور مشکلات کے کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا اہل مکہ کا یہ کہنا کہ یہ آپ کی تصنیف ہے یا آپ نے خود ہی اس قرآن کو گھڑ لیا ہے یہ نہ صرف کائنات کا سب سے بڑا جھوٹ ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایک ایسی تہمت اور الزام ہے جس کو ظلم عظیم ہی کہا جاسکتا ہے۔
قرآن کے نور ہدایت کی سچائی یہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے وہی اس کا محافظ ہے اور یہی وہ کتاب ہدایت ہے جس میں سارے انسانوں کی بھلائی پوشیدہ ہے اور قرآن کریم کا انکار کرنا بدترین زیادتی ہے جس کی سزا آخرت کا عذاب ہے۔
Ayah 10:18لغات القرآن آیت نمبر 18
یعبدون (وہ عبادت و بندگی کرتے ہیں) لایضر (وہ نقصان نہیں پہنچاتا ہے) لاینفع (وہ نفع نہیں دیتا ہے) شفعآء (شفیع) سفارش کرنے والے اتنبئون (کیا تم خبر دیتے ہو ؟ ) تعالیٰ (بلندو برتر)
تشریح :- آیت نمبر 18
کفار مکہ نبی کریم ﷺ سے یہ کہا کرتے تھے کہ یا تو اس قرآن کو بدل دو یا اس میں ایسی ترمیم کر دو جس سے ہمارے بتوں کی عبادت و بندگی کی گنجئاش نکل آئے اور ہمارے درمیان کے اختلافات دور ہوجائیں۔ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا بھرپور انداز میں جواب ارشاد فرمایا تھا اس آیت میں اللہ نے ان ناسمجھ پتھروں کے پجاریوں سے یہ فرمایا ہے کہ بےعقلی کی انتہا یہ ہے کہ وہ بت جو اپنے وجود کے لئے بھی انسانی ہاتھوں کے محتاج ہیں کہ اگر وہ ان پتھروں کو تراشنا چھوڑ دیں تو دنیا میں ان کے معبودوں کا وجود تک ختم ہو کر رہ جائے۔ ایسے بےبس اور لاچار پتھروں کے یہ بت انسان کو نا تو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ان سے کسی طرح کا نفع پہنچانے کی امید کی جاسکتی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم اس کائنات کے خلاق اور مالک پر ایمان رکھتے ہیں وہی سب کھچ کرتا ہے لیکن یہ بات جب تک ہماری سفارش نہ کردیں وہ خالق ومالک بھی ہماری دعاؤں کو نہیں سنتا۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے لطیف انداز میں اس کا یہ جواب عنایت فرمایا کہ اللہ جو کائنات کی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے جو ہر شخص کی پکار کو براہ راست سنتا ہے اور ان کی فریادوں کو پہنچتا ہے اس کی بار گاہ میں بات پہنچانے کے لئے وہ دنیاوی وسیلوں کا محتاج نہیں ہے وہ تو انسانوں سے اتنا قریب ہے کہ رگ جاں بھی انسان سے اتنی فریب نہیں ہے۔ پھر وہ کون سے سفارشی تلاش کر کے لا رہے ہیں جنس کی وہ اصلاع اس علیم وخبیر ذات کو دے رہے ہیں جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔
اس آیت میں ان بت پرستوں پر ایک گہرا طنز بھی ہے کہ اللہ کو اس کائنات کی ہر چیز کا علم ہے جن بتوں کو تم اللہ کی بارگاہ میں سفارشی سمجھتے ہو انہیں تو اللہ جانتا تک نہیں ہے یعنی اللہ کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے پھر تم ان سے امیدیں لگائے کیسے بیٹھے ہو درحقیقت امید تو اس اللہ سے باندھنی چاہئے جو طرح کی قدرت و طاقت رکھتا ہے اور کسی کی سفارش کا محتاج نہیں ہے۔
Ayahs 10:19–20لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 20
امۃ (جماعت، گروہ) سبقت (گزر گئی، طے کردی گئی) قضی (فیصلہ کردیا گیا ہے) آیۃ (نشانی، معجزہ) الغیب (بن دیکھی حقیقتیں ) انتظروا (تم انتظار کرو)
تشریح : آیت نمبر 19 تا 20
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں :-
1) ابتداء میں سارے انسان ایک ہی امت تھے۔ یعنی ان میں نہ تو فرمانی اور شرک و کفر کے جذبات تھے اور نہ وہ زبان رنگ و نسل، قوم اور قبیلہ میں تقسیم تھے بلکہ ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے تھے۔ بعد میں شیاطن کے بہکانے سے ان میں عقیدہ اور فکر و ذہن کے اختلاف پیدا ہوگئے اور وہ مختلف قومیتوں میں تقسیم ہوگئے۔ اس طرح ایک امت کا وہ تصور دھندلاتا چلا گیا جس کے لئے انبیاء کرام تشریف لاتے رہے۔ ان کو ان کی نافرمانیوں سے روکنے کی کوشش کرتے رہے۔ سعادت مند لوگوں نے ان کی لائی ہوئی سچائی کو اپنایا لیکن بہت سوں نے نافرمانی کا طریقہ اختیار کیا۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کو ان کی نافرمانیوں کی پوری پوری سزا اسی وقت دے سکتا تھا مگر اس حلیم و غفور نے یہ فیصلہ فرما رکھا ہے کہ نافرمانوں کو پوری سزا اس دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں دی جائے گی۔
امت انسانی جماعت کو کہتے ہیں جو اعتقادات میں یکساں ذہن و فکر رکھتی ہو جو رنگ و نسل ، زبان اور علاقہ پرستی سے آزاد ایک دین کی سچائی کو ماننے والی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ماننے والوں کو ایکا مت فرمایا ہے بلکہ امت وسط اور خیر امت کے القاب عطا فرمائے ہیں۔ امت وسط یعنی ایسی جماعت جس کے مزاج میں اعتدال اور تو ازن ہے۔ ” خیرامت “ یعنی دنیا کی تمام جماعتوں میں بہترین امت جو کسی خاص علاقے ملک یا نسل والوں کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے خیر اور بھلائی کی حامل بنائی گئی ہے۔ اس امت کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ ساری انساینت کی بھلائی کے لئے ہر گناہ کی بات کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑنے اور نیکی کو قائم کرنے کی جدوجہد کرتی ہے تاکہ تمام لوگ اللہ پر ایمان لانے والے بن جائیں۔
2) ان آیتوں میں دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ ” وہ کفار اس بات کا مطالبہ کرتے تھے کہ جس طرح اور انبیاء کرام پر معجزات نازل کئے گئے ہیں نبی مکرم ﷺ پر کیوں نازل نہیں ہوئے تاکہ ہم ان کو دیکھ کر ایمان لے آتے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب متعدد موقعوں پر ارشاد فرمایا ہے کہ اگر معجزات دکھانے پر ہی ایمان لانے کا دار و مدار ہے تو اس سے پہلے انبیاء کرام پر جب معجزات کو نازل کیا گیا تو ان کی قوموں نے ان کے معجزات کو دیکھ کر کیا ایمان قبول کرلیا تھا ؟ درحقیقت یہ ایک ایسا عذر ہے ” اگر ہم معجزہ دیکھ لیں تو ایمان لے آئیں گے ” کہ جس کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں ہے۔ جس کو ایمان لانا ہوتا ہے اس کو معجزات کے مطالبہ کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ دل کی گہرائیوں سے ایمان قبول کرتا ہے اور وہی پائدلار ہے۔
نبی کریم ﷺ سے بھی معجزات کا مطالبہ کیا گیا اور بلاشک و شبہ آپ سے بہت سے معجزات صادر ہوئے جن سے احادیث کی کتابیں بھری پڑی ہیں لیکن حضور اکرم ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ تو یہ قرآن کریم ہے جس کے سامنے عرب کے وہ بڑے سے بڑے شاعر بھی عاجز ہو کر رہ گئے تھے جو زبان پر قدرت رکھنے کی وجہ سے اپنے علاوہ ساری دنیا کو ” عجم “ کو گونگا کہتے تھے لیکن یہ قرآن کریم کا کتنا بڑا معجزہ ہے کہ دنیا کو گونگا کہنے والے قرآن کریم کے چیلنج کے باوجود قرآن کریم کے سامنے گونگے ہو کر رہ گئے تھے۔
3) تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک سے کہلوا دیا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجیے کہ غیب کا سارا علمت واللہ ہی کو ہے تمہارے مطالبہ میں انتظار تو کرسکتا ہوں اور کروں گا تم بھی منتظر ہو کر تمہارے مطالبہ کا جواب کیا آتا ہے لیکن پھر وہ غیب سے کیا آنے والا ہے اسکا مجھے علم نہیں ہے ۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ” عالم الغیب ‘ صرف اللہ کی ذات ہوتی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے انبیاء کرام میں سے جس کو چاہتا ہے غیب کی خبریں دیتا ہے۔ ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ غیب کی خبریں جتنی نبی کریم ﷺ کو عطا فرمائی گی ہیں اتنی کسی کو عطا نہیں کی گئیں۔ مگر اس سے نبی کریم ﷺ کو ” عالم الغیب “ کہنا قرآن کی آیات کا صریح انکار ہے۔
Ayahs 10:21–22لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 23
اذقنا (ہم نے چکھا دیا) ضرآء (ضرر، نقصان، تکلیفیں، مصیبتیں) مست (پہنچی) مکر (شرارت، مکر و فریب) اسرع (بہت جلد) یکتبون (وہ لکھتے ہیں) تمکرون (تم مکر و فریب کرتے ہو، تم شرارتیں کرتے ہو) یسیر (وہ چلاتا ہے) البر (خشکی، زمین) البحر (تری، سمندر) جرین (وہ چلتی ہیں) ریح طیب (پاک ہوا یعنی موافق ہوا) فرحوا (انہوں نے فرحت اور خوشی محسوس کی) عاصف (طوفانی ہوا ، طوفان) احیط (گھیر لیا گیا) مخلصین (خالص کرنے والے) الدین (انصاف، اعتقاد) انجیتنا (تو نے ہمیں نجات دے دی) یبغون (وہ بغاوت و نافرمانی کرتے ہیں) بغیر الحق (ناحق، جس کا ان کو حق حاصل نہ تھا متاع (سامان ، زندگی کا لطف و کرم ) نئبئکم (ہم تمہیں مطلع کریں گے۔ )
تشریح :- آیت نمبر 21 تا 23
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ ہر کام میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ایسے لوگ اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہیں وہ جتنا شکر ادا کرتے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی نعمتوں میں اور اجر آخرت میں اتنا ہی اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ ایک جگہ فرمایا گیا کہ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ اگر اس کے بندے اس کا شکر ادا کرتے رہیں اور ایمان پر قائم رہے ہیں کہ وہ ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا۔
انسان کے ناشکرے پن کی عادت سب سے بری عادت ہے اور اللہ کو سخت ناپسندید ہے۔ جب کوئی شخص مشکلات میں گھر جاتا ہے۔ کسی طوفان یا بھنور میں پھنس جاتا ہے اور نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ اگر کوئی شخص کسی سخت بیماری میں مبتلا ہوتا ہے اور اس کو صحت کے آثار نظر نہیں آتے تو وہ اللہ کو پکارتا ہے، فریاد کرتا ہے۔ دوسروں سے دعائیں کراتا ہے اور جیسے ہی وہ مشکلات پریشانیوں بیماریوں سے طوفان کی بلاخیز یوں سے نکل آتا ہے تو اللہ کو بھول کر وہ ان اسباب کا ذکر کرنے لگتا ہے جن سے اس کو مصیبتوں سے نجات ملی۔ اللہ تعالیٰ نے اس بری عادت کو نہ صرف ناپسند فرمایا ہے بلکہ شرک تک فرما دیا اور اس کو کفران نعمت قرار دیا ہے۔
ان آیات کے پس منظر میں مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ مکہ مکرمہ میں اور آس پاس کے علاقوں میں زبردست قحط پڑگیا تھا اور کئی سال سے بارش بھی نہیں ہوئی تھی۔ جب حالات اس درجہ تک پہنچ گئے کہ وہ مردار تک کھانے پر مجبور ہوگئے تب انہوں نے اپنے جھوٹے معبودوں اور بتوں کو چھوڑ کر اللہ سے فریاد کرنی شروع کردی۔ ایک وفد کو مدینہ منورہ بھیجا گیا جس نے نبی کریم ﷺ سے مدد کی درخواست کی اور یہ بھی کہا کہ بارش کے لئے دعا کیجیے۔ نبی مکرم ﷺ اور صحابہ کرام نے نہ صرف ان کی ہر طرح کی مدد کی بلکہ آپ ﷺ نے بارش کی دعا بھی فرمائی۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دعا کو قبول کرلیا۔ بارش ہوگئی اور قحط کے اثرات جاتے رہے تو پھر انہوں نے اپنے بتوں پر چڑھا دے چڑھانے شروع کردیئے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنا شروع کردیا۔
ان آیات کو اس پس منظر میں دیکھا جائے یا آیت کے مفہوم کو عام رکھا گیا ہے یہ بات اپنی جگہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ انسان پر جب مشکلات آتی ہیں تو اس کے دل سے ایک ہی آواز نکلتی ہے کہ اے اللہ میری اس مشکل کو آسان فرما دے۔ اور اللہ اس کی مشکلات / آسان بھی فرما دیتا ہے لیکن پھر وہ بھول جاتا ہے کہ ان کی ان مشکلات کو حل کرنے والی کونسی ذات تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں شکر ادا کرتے رہنے ، ذکر و فکر کرنے پر مہارت و بندگی تو فیق عطا فرمائے۔ (آمین)