Explained with ayahs 128–129
رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہیں
مسلمانوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنا احسان عظیم یاد دلا رہا ہے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے خود انہیں میں سے ان کی ہی زبان میں اپنا رسول بھیجا۔ حضرت خلیل اللہ نے یہی دعا کی تھی۔ اسی کا بیان (آیت لقد من اللّٰہ الخ) میں ہے۔ یہی حضرت جعفر بن ابو طالب نے دربار نجاشی میں اور یہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے دربار کسریٰ میں بیان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں ہمیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ جس کا نسب ہمیں معلوم، جس میں سے کوئی برائی اللہ نے آپ کی ذات میں پیدا نہیں ہونے دی۔ نسب نامہ بالکل کھرا تھا۔ خود آپ کا فرمان ہے کہ حضرت آدم سے لے کر مجھ تک بفضلہ کوئی برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
سورة التَّوْبَة 126
قاعدہ یہ تھا کہ جب کوئی سورة نازل ہوتی تھی تو نبی ﷺ مسلمانوں کے اجتماع کا اعلان کراتے اور پھر مجمع عام میں اس سورة کو خطبے کے طور پر سناتے تھے۔ اس محفل میں اہل ایمان کا حال تو یہ ہوتا تھا کہ ہمہ تن گوش ہو کر اس خطبے کو سنتے اور اس میں مستغرق ہوجاتے تھے، لیکن منافقین کا رنگ ڈھنگ کچھ اور تھا۔ وہ آ تو اس لیے جاتے تھے کہ حاضری کا حکم تھا اور اجتماع میں شریک نہ ہونے کے معنی اپنی منافقت کا راز خود فاش کردینے کے تھے۔ مگر اس خطبے سے ان کو کوئی دلچسپی نہ ہوتی تھی۔ نہایت بددلی کے ساتھ اکتائے ہوئے بیٹھے رہتے تھے اور اپنے آپ کو حاضرین میں شمار کرا لینے کے بعد انہیں بس یہ فکر لگی رہتی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(اے لوگو) تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس (بشر) سے ہیں (کہ تم کو نفع حاصل کرنا آسان ہو) جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گذرتی ہے (چاہتے ہیں کہ تم کو کوئی ضرر نہ پہنچنے) جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں (یہ حالت تو سب کے ساتھ ہے پھر بالخصوص) ایمانداروں کے ساتھ (تو) بڑے ہی شفیق (اور) مہربان ہیں (ایسے رسول سے مستفید نہ ہونا بڑی محرومی ہے) پھر اگر (اس پر بھی آپ کو رسول ماننے سے اور آپ کے اتباع کرنے سے) روگردانی کریں تو آپ کہہ دیجئے (میرا کیا نقصان ہے) میرے لئے (تو) اللہ تعالیٰ (حافظ و ناصر) کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود ہونے کے لائق نہیں (پس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
128۔ 129: لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ ڶ لَآ اِلٰهَ اِلَّا ھُوَ ۭعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيْمِ۔
یہ دونوں آیتیں آخری تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی ہیں۔ پہلے اس عظیم احسان کی طرف توجہ دلائی ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کی بعثت کے ذریعہ سے تمام خلق پر عموماً اور اہل عرب پر خصوصاً فرمایا ہے۔ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن سیاق کلام دلیل ہے کہ روئے سخن انہیں لوگوں کی طرف ہے جو اس عظیم نعمت کی قدر کرنے کے بجائے اس کو اپنے لیے ایک مصیبت سمجھ…
Read the full tafseer →128۔ 1 سورت کے آخر میں مسلمانوں پر نبی کی صورت میں جو احسان عظیم فرمایا گیا، اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ آپ کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ تمہاری جنس سے یعنی جنس بشریت سے ہیں (وہ نور یا اور کچھ نہیں) جیسا کہ فساد عقیدہ کے شکار لوگ عوام کو اس قسم کے گورکھ دھندے میں پھنساتے ہیں۔
128۔ 2 عَنْت ایسی چیزیں جن سے انسان کو تکلیف ہو، اس میں دنیاوی مشقتیں اور آخروی عذاب دونوں آجاتے ہیں، اس پیغمبر پر، تمہاری ہر قسم کی تکلیف و مشقت گراں گزرتی ہے۔ اسی لئے آپ نے فرمایا اِنَّ ھٰذَا الدِّینَ یُسر بیشک یہ دین آسان ہے اور میں آسان دین حنیفی دے کر بھیجا گیا ہوں۔
128۔ 3 تمہاری ہدایت اور تمہاری دینوی آخروی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
105: اصل بات یہ تھی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے کلام سے چڑ تھی۔ ان کی خواہش اور کوشش یہ رہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کی نوبت نہ آئے۔ لہذا جب آنحضرت ﷺ اپنی مجلس میں کوئی نئی سورت تلاوت فرماتے تو یہ بھاگنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن اگر سب کے سامنے اٹھ کر جائیں تو ان کا راز فاش ہوجائے۔ اس لیے یہ ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے کہ کوئی ایسا موقع تلاش کرو کہ کوئی مسلمان تمہیں دیکھ نہ رہا ہو، اور اس وقت چپکے سے اٹھ کر چلے جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔
ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔
ثم انصرفوا پھر (یعنی…
Read the full tafseer →5 جس کے حسب و نسب، اخلاق واطوار اور دیانت و امانت سے تم خوب واقف ہو۔
6 جس چیز سے تم کو تکلیف یا سختی پہنچے وہ ان پر بہت بھاری ہے۔ ہر ممکن طریقہ سے آپ یہ ہی چاہتے ہیں کہ امت پر آسانی ہو اور دنیاوی و اخروی عذاب سے محفوظ رہے۔ اس لیے جو دین آپ لائے وہ بھی سہل اور نرم ہے۔ اور عمال کو آپ یہ ہی نصیحت فرماتے تھے۔ یَسِّرُوْا وَلَاتُعَسِّرُوْا " (آسانی کرو سختی مت کرو)
7 یعنی تمہاری خیر خواہی اور نفع رسانی کی خاص تڑپ ان کے دل میں ہے۔ لوگ دوزخ کی طرف بھاگتے ہیں، آپ ان کی کمریں پکڑ پکڑ کر ادھر سے ہٹاتے ہیں۔ آپ کی بڑی کوشش اور آرزو یہ ہے کہ خدا کے بندے اصلی بھلائی اور حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوں۔ جہاد…
Read the full tafseer →آیت 128 لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ
حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ شے جو تمہیں مصیبت اور ہلاکت سے دوچار کرنے والی ہو وہ ان کے دل پر نہایت شاق ہے۔ آپ ﷺ تمہیں دنیا اور آخرت دونوں کی ہلاکتوں اور مصیبتوں سے محفوظ اور دونوں کی سعادتوں سے بہرہ مند دیکھنا چاہتے ہیں۔
حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ
آپ ﷺ کی شدید خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام خیر ‘ ساری خوبیاں اور ساری بھلائیاں تم لوگوں کو عطا فرما دے۔
Read the full tafseer →148 یعنی وہ رسول تمہارے ہی قبیلہ سے ہے تم اس کی زندگی بھر کے حالات اور عادات و خصائل سے خوب واقف ہو اور اس کی دیانت، امانت اور صداقت کے شاہد ہو۔ اور وہ تمہاری ہی زبان میں گفتگو کرتا ہے جو تمہارے لیے باعث فخر اور رحمت ہے۔
149 آپ کو مومنوں کی تکلیف کا شدید احساس تھا :۔ یعنی جب تمہیں کوئی سختی یا دکھ پہنچے تو اس کی جان پر بن جاتی ہے اور اسے اس کے دفعیہ کی فکر دامن گیر ہوجاتی ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آپ ہر ممکن طریقہ سے یہ چاہتے ہیں کہ امت پر آسانی ہو۔ آپ جو دین لائے وہ بھی سہل اور نرم ہے اور آپ اپنے عمال کو بھیجتے وقت بھی ہدایت فرمایا کرتے تھے کہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، سختی نہ…
Read the full tafseer →240۔ (یعنی تمہارے دکھ سے یہ خود دکھ محسوس کرتے ہیں اور تمہارے ہر نفع کے بڑے آرزو مندرہتے ہیں ! یہ تھی شفقت رسول خدا کی خلق خدا کے ساتھ ! (لقد جآء کم رسول من انفسکم “۔ سوال پیدا ہوا ہے کہ ” کم “ کی ضمیر جمع مخاطب دونوں جگہ کس کی جانب ہے ؟ یعنی رسول اللہ کس کے درمیان آئے ہیں ؟ بعض نے کہا ہے کہ مخاطب عرب میں کہ آپ ﷺ اہل عرب کے درمیان بھیجے گئے تھے۔ لیکن قول محقق یہ ہے کہ خطاب ساری نوع انسان سے ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت تنہا عرب کی جانب نہیں، سارے عالم کی جانب تھی، قال الزجاجھی مخاطبۃ لجمیع العالم والمعنی لقد اجاء کم رسول من البشر (قرطبی) یرید انہ بشرمثلکم (کبیر) قیل الخطاب للبشر علی الاطلاق (روح) یحتمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–129
آیت نمبر 123 تا 129
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے آس پاس والے منکرین (کفار) سے قتال کرو یعنی ان سے الاقرب فالاقرب کے قاعدہ کے مطابق بالترتیب، اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں یعنی تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو، اور یقین رکھو اللہ مدد اور نصرت کے ذریعہ متقیوں کے ساتھ ہے، اور جب (نئی) سورت قرآن کی نازل ہوتی ہے تو ان منافقین میں سے کچھ لوگ آپ ﷺ کے اصحاب سے استہزاء کرتے ہیں (بتائو) اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں تصدیق کا اضافہ کیا سو (سنو) جو لوگ اہل ایمان ہیں (اس سورت نے) ان کے ایمان میں ان کے اس کی تصدیق کرنے کی وجہ سے اضافہ کردیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں یعنی اس سورت کے نزول سے خوش…
Read the full tafseer →لقد جاء کم رسول من انفسکم (اے لوگو ! ) تمہارے پاس ایک عظیم الشان رسول آیا ہے جو تمہاری جنس (بشر) سے ہے۔
مِّنْ اَنْفُسِکُمْکا مطلب یہ ہے کہ تمہاری ہی جنس سے ہیں ‘ اسمٰعیلی نسل سے ہیں ‘ تم ان کے حسب نسب کو جانتے ہو۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : عرب کے ہر قبیلہ سے رسول اللہ ﷺ کا نسبی تعلق تھا۔ امام جعفر صادق نے فرمایا : حضرت آدم سے لے کر آخری دور تک رسول اللہ ﷺ (کے سارے آباؤ اجداد) جاہلیت کے نکاح کے طریقوں سے پاک رہے۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں جاہلیت کے طریق زناء سے نہیں پیدا ہوا ‘ بلکہ اسی نکاح کے ذریعے سے پیدا ہوا جیسا اسلامی نکاح ہوتا ہے۔ (1) […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
(128۔ 129) اے لوگو ! اور خصوصیت سے مکہ والو ! تمہارے پاس عربی پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، تمہاری منفعت اور ایمان کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں پھر خاص کر تمام اہل ایمان کے ساتھ تو بہت ہی شفیق اور مہربانی فرمانے والے ہیں۔
پھر اس کے بعد بھی اگر یہ لوگ ایمان لانے، توبہ کرنے اور آپ کی پیروی کرنے سے اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے میرا کوئی نقصان نہیں میرے لیے تو اللہ تعالیٰ حافظ وناصر کافی ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کرلیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے۔
Read the full tafseer →لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ : اس میں آپ ﷺ کی بعض صفات عالیہ کا اور لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے احسانات کا ذکر ہے۔ ایک صفت ”لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ“ میں لفظ ”رَسُوْلٌ“ ہے کہ آپ ﷺ رسول ہیں، یعنی خود نہیں آئے بلکہ اللہ کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے ہیں۔ ایک احسان ”جَاۗءَكُمْ“ ہے، یعنی تمام لوگوں کی طرف قیامت تک کے لیے آنے والا رسول تم عربوں میں آیا ہے، عربی رسول بھیج کر اللہ تعالیٰ نے دنیا کی امامت کے لیے تمہیں منتخب فرمایا ہے۔ ”كُمْ“ کے مخاطب تمام دنیا کے لوگ ہیں، مگر اول مخاطب عرب ہیں، آپ کی تیسری صفت اور اللہ کا احسان ”مِّنْ اَنْفُسِكُمْ“ ہے کہ آپ ﷺ تمہاری جنس سے، یعنی انسانوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
آیت نمبر : 128 تا 129۔
حضرت ابی ؓ کے قول کے مطابق یہ دونوں آیتیں از روئے عہد کے آسمان سے زیادہ قریب ہیں۔ اور حضرت سعید بن جبیر ؓ کے قول کے مطابق یہ دونوں آیتیں از روئے عہد کے آسمان سے زیادہ قریب ہیں۔ اور حضرت سعید بن جبیر کے قول میں ہے : قرآن کریم میں سے جو آیت آخر میں نازل ہوئی وہ (آیت) ” واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ “ (البقرہ : 281) ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے، پس حضرت ابی ؓ کے قول میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ اس ارشاد : (آیت) ” واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ “ کے بعد یہ دونوں آیتیں عہد کے اعتبار سے آسمان سے زیادہ قریب ہیں۔ واللہ اعلم۔
جمہور کے نزدیک یہ خطاب عربوں کو ہے اور یہ ان پر…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کی شفقت و مہربانی :
1:۔ عبدبن حمید والحارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں وابن منذر ابن مردویہ وابو نعیم نے دلائل النبوۃ میں وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) لقد جآء کم رسول من انفسکم “ کے بارے میں فرمایا عرب میں کوئی قبیلہ نہیں ہے مگر یہ کہ اس نے نبی کریم ﷺ کو جنم دیا ہے چاہے وہ مضر (قبیلہ) ہو اور ربیعہ ہو اور یمانی ہو۔
2:۔ عبدالرزاق (رح) نے مصنف میں ابن جریر وابن ابی حاتم و بیہقی نے اپنی سنن میں وابو الشیخ رحمہم اللہ نے جعفر بن محمد سے روایت کیا کہ اپنے والد سے (اس آیت) لقد جآء کم رسول من انفسکم “ کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ آپ کو کوئی چیز…
Read the full tafseer →لَقَدْ جَاۗءَكُمْ [ بیشک آگیا ہے تم لوگوں کے پاس ] رَسُوْلٌ [ ایک ایسا رسول ] مِّنْ اَنْفُسِكُمْ [تمھارے اپنوں میں سے ] عَزِيْزٌ [گراں ہے ] عَلَيْهِ [ جس پر ] مَا [ وہ جس سے ] عَنِتُّمْ [ تم لوگ مشکل میں پڑو ] حَرِيْصٌ [ شدید خواہشمند ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر (اس کا جو تمہیں خوش کرے ) ] بِالْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں پر ] رَءُوْفٌ [ نہایت شفیق ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہمیشہ مہربان ہے ]
(آیت ۔ 128) اس آیت میں تین جملہ اسمیہ آئے ہیں ، پہلے جملہ میں عزیز خبر مقدم ہے ، علیہ متعلق خبر اور ما عنتم مبتدا مؤخر ہے ۔ دوسرا جملہ میں حریص خبر مقدم ہے، علیکم متعلق خبر اور اس کا مبتدا محذوف ہے جو ما فرحتم…
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کی صفات عالیہ اور اخلاق حسنہ کا بیان
یہ دو آیتیں ہیں جن پر سورة توبہ ختم ہو رہی ہے۔ پہلی آیت میں سیدنا خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ کی بعض صفات بیان فرمائیں۔ اوّل تو یہ فرمایا کہ تمہارے پاس ایک رسول آیا جو بڑے مرتبہ والا رسول ہے (اس پر رَسُوْلٌ کی تنکیر دلالت کرتی ہے) اور یہ رسول تم ہی میں سے ہے اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ بشر ہے تمہاری جنس میں سے ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اہل عرب سے ہے، جو مخاطبین اوّلین ہیں ان کا ہم زبان ہے وہ اس کی باتوں کو سمجھتے ہیں اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ وہ نسب کے اعتبار سے اور مل جل کر رہنے کے اعتبار سے تم ہی میں سے ہے اس کے نسب کو، اس کی ذات کو اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
ذکر کمال شفقت ورافت نبی اکرمؤ برحال امت واتمام حجت بر اہل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ۔ لقد جاء کم رسول من انفسکم۔۔۔ الی۔۔۔ وھو رب العرش العظیم۔
(ربط ): اس سورت کی آخری آیت ہے جس میں حق تعالینے نبی اکرم ﷺ کی کمال شفقت ورافت کو بیان کیا۔ اور بتلا دیا کہ ایسے عظیم الشان اور شفیق ومہربان رسول کی آمد سے تم پر اللہ کی حجت پوری ہوگئی اور جہاد جیسے حکم سے جو نفس پر شاق اور گراں ہوتا ہے اس سے گھبرانا نہیں چاہئے اس لیے کہ جس طرح طبیب حاذق اور مشفق ومہربان کسی وقت مریض کو تلخ دوا کے استعمال کا حکم دیتا ہے اور مہربان باپ اولاد کو بغرض تادیب وتربیت بعض ناگوار خاطر چیزوں کا حکم دیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کار…
Read the full tafseer →121:“ لَقَدْ جَاءَکُمْ الخ ”۔ یہ اتباع رسول ﷺ کی ترغیب ہے۔ “ مَا عَنِتُّمْ ” میں “ ما ” مصدریہ ہے یعنی تمہارا مشقت میں پڑنا پیغمبر ﷺ کو ناگوار گذرتا ہے۔ “ بِالْمُؤْمِنِیْنَ ”، “ رَؤُوْفٌ رَّحِیْمٌ ” مؤخر سے متعلق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
ربط آیات :
سورۃ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے کفر اور شرک کرنے والوں سے بیزاری کا اظہار فرمایا اور پھر جہاد کا حکم دے کر اس سے متعلقہ قوانین بھی نازل فرمائے اللہ نے اس بات کو وضاحت فرما دی کہ فریضہ جہاد سے کوئی ذاتی اغراض مقصود نہیں بلکہ یہ سارا سلسلہ اقامت دین کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ اور اگر یہ لوگ کفر اور شرک کو چھوڑ کر دین کو اختیار کرلیں تو مقصد پورا ہوجاتا ہے چناچہ سورة ہذا کے دوسرے رکوع میں گزر چکا ہے (آیت) ” فان تابوا واقامو الصلوۃ واتوا ا لزکوۃ فاخوانکم فی الدین “ یعنی اگر وہ تائب ہوجائیں ، نماز قائم کرنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ، اب ان سے کوئی…
Read the full tafseer →لَقَدْ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِيْزٌ عَلَيْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيْصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 128
لام
اللَّامُ التي هي للأداة علی أوجه :
الأول :
الجارّة، وذلک أضرب : ضرب لتعدية الفعل ولا يجوز حذفه . نحو : وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ [ الصافات/ 103] . وضرب للتّعدية لکن قدیحذف . کقوله : يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ [ النساء/ 26] ، فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلامِ وَمَنْ يُرِدْ أَنْ يُضِلَّهُ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً [ الأنعام/ 125] فأثبت في موضع وحذف في موضع .
الثاني : للملک والاستحقاق،
ولیس نعني بالملک ملک العین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
2 ؎ نفاق کا مرض۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
لَقَدْجَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیْضٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّ حِیْمٌ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ ق زصلے لَآ اِلٰـہَ اِلَّاھُوَ ط عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ (التوبہ : 129)
(آچکا ہے تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول جس پر تمہارا ہلاکت میں پڑنا بہت شاق ہے وہ تمہارے ایمان کا حریص اور ایمان والوں کے لیے نہایت شفیق مہربان ہے۔ پس اگر وہ رو گردانی کریں۔ تو ان سے کہہ دو کہ مجھ کو اللہ کافی ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی مالک ہے عرش عظیم کا۔ )
ربطِ آیات
سورة…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کا بار بار بد عہدی کرنا، ہر موقع پر سازشیں کرنا اور نبی اکرم ﷺ کی مجالس میں آنکھوں آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کرنا۔ ایک سے ایک بڑھ کر بدتمیزی اور برا عمل تھا۔ اس کے باوجود نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ بردباری و درگزر کا مظاہرہ فرماتے رہے جس کی یہاں شاندار الفاظ میں تعریف کی گئی اور آپ کو خراج تحسین سے نوازا گیا ہے۔
جہاں تک مخلص مسلمانوں کا معاملہ ہے رسول کریم ﷺ ان کے ساتھ اس قدر کرم فرما اور خیر خواہ تھے کہ آپ اپنے ساتھیوں کی تکلیف کو ان سے بڑھ کر اپنی تکلیف سمجھتے اور صبح و شام اس فکر میں رہتے کہ لوگوں کو کس طرح اصلاح اور فلاح کے راستے پر گامزن کیا جائے۔ آپ ﷺ کے حلم…
Read the full tafseer →عظیم الشان رسول کی رفیع الشان صفات :
آیت 128: لَقَدْ جَآ ئَ کُمْ رَسُوْلٌ (تمہارے پاس آئے ایک عظیم الشان رسول) محمد ﷺ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ (جو تمہاری جنس سے ہیں) تمہاری جنس، تمہارے نسب سے، عربی، قرشی تمہاری طرح عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَاعَنِتُّمْ (جن کو تمہاری مشقت والی بات نہایت ہی گراں گزرتی ہے) ان پر گراں گزرتی ہے کیونکہ وہ تمہیں میں سے ایک ہیں۔ عنتکم تمہاری تکلیف اور تمہیں ناپسند بات کا پہنچنا پس وہ تمہارے عذاب میں پڑنے اور مبتلا ہونے سے ہر وقت ڈرتے ہیں۔
حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ (تمہارے فائدے کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں) تمہارے ایمان کے متعلق بِالْمُؤْمِنِیْنَ (اور ایمان والوں کے ساتھ) جو تم میں سے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 128: ” لقد جآء کم رسول من انفسکم “ تم اس کا حسب و نسب جانتے ہو۔ سدی (رح) فرماتے ہیں عرب سے بنی اسماعیل سے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عرب کے ہر قبیلہ میں آپ (علیہ السلام) کا نسب جاملتا ہے۔ جعفر بن محمد صادق (رح) فرماتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے نبی کریم ﷺ کے نسب میں جاہلیت کی کوئی پیدائش نہیں ہوئی۔ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں جاہلیت کے طریق زنا سے نہیں پیدا ہوا بلکہ اسی نکاح کے ذریعے سے پیدا ہوا۔ جیسا اسلامی نکا ح ہوتا ہے۔ نہیں جنا مجھے مگر اسلام کے نکاح کی طرح نکاح نے۔ ابن عباس ؓ ‘ زہری اور ابن محیصن رحمہم اللہ نے ” من انفسکم “ فاء کی زبر سے…
Read the full tafseer →128۔ یہ اللہ پاک اپنے بندوں پر اپنا احسان جتلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر ایسا رسول بھیجا جو تمہاری طرح وہ بھی آدمی ہے تمہاری زبان بولتا ہے سمجھتا ہے تمہاری تکلیف اور محنت گوارا نہیں کرتا وہ دل سے چاہتا ہے کہ تم سب کے سب سچے دل سے مسلمان ہوجاؤ۔ اس آیت کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ عرب کے کل قبیلوں سے حضرت کا رشتہ ملتا ہے اسی لئے اللہ جل شانہ نے فرمایا ایسا رسول آیا جو تم میں سے ہے بلکہ عرب کے سارے قبیلوں سے آپ حسب نسب میں اچھے ہیں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت اسمعیل (علیہ السلام) زیادہ عزت والے تھے ان کی اولاد میں بنی کنانہ کو مرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
آیت : (128-129)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں پر انے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے ان کے اندر نبی امی ﷺ کو مبعوث فرمایا جو خود ان میں سے ہیں وہ آپ کا حال جانتے ہیں ‘ وہ آپ سے اخذ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں اور آپ کی اطاعت کرنے کو ناپسند نہیں کرتے اور خود رسول اللہ ﷺ ان کے بےانتہا خیر خواہ اور ان کے مصالح کے لئے کوشش کرنے والے ہیں۔ (عیز علیہ ماعنھم) ” تمہاری تکلیف ان پر گراں گزرتی ہے۔ “ یعنی آپ ﷺ پر ہر وہ معاملہ بہت شاق گزرتا ہے جو تم پر شاق گزرتا ہے اور تمہیں تکلیف میں مبتلا کرتا ہے۔ (حریض علیکم) ” حریض ہیں تمہاری بھلائی پر “ پس آپ ﷺ تمہارے لئے بھلائی پسند کرتے ہیں اور تمہیں بھلائی تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–129
دینی علم حاصل کرنا ضروری ہے
قول باری ہے وما کان المومنون لینفروا گا فۃ فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آئے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت نے قول باری انفروا اثبات او انفروا جمعیا ً پھر الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلویا اکٹھے ہو کر کو منسوخ کردیا ہے نیز قول باری انفروا اخفا فاً و ثقا لا ً نکل پڑو ہلکے اور بوجھل بھی اس آیت کی بنا پر منسوخ ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں فرمادیا کہ اہل ایمان کے لیے ضروری…
Read the full tafseer →226 بعثت نبوی کے احسان عظیم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک آچکے تمہارے پاس اے لوگو ایک عظیم الشان رسول خود تم ہی میں سے۔ یعنی تمہاری ہی جنس میں سے تاکہ تم زندگی کے ہر معاملے میں اور ہر موڑپران کی پیروی کرسکو۔ چناچہ وہ انسان وبشر ہیں اور تمہاری ہی طرح عربی، قریشی اور ہاشمی ہیں۔ مگر جنس ونوع کے اس اشتراک کے ساتھ ساتھ مرتبہ ومقام کے لحاظ سے وہ اتنے اونچے اور ان کی شان اس قدربلند ہے کہ خدائے پاک کی ساری خدائی اور تمام مخلوق میں ان کی دوسری کوئی نظیرومثال نہ کبھی ہوئی ہے نہ آئندہ کبھی ہونی ممکن ہے۔ قرآن پاک میں بشریت پیغمبر سے متعلق اس حقیقت صادقہ اور امر واقعہ کو جگہ جگہ اور طرح طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
رسول اللہ ﷺ کے اوصاف اور اللہ کے کافی ہونے کی دلیل
تشریح : سورة توبہ میں جہاد کے احکامات، مشرکین اور اہل کتاب کے متعلق بیشمار احکامات دیے گئے ہیں مگر آخر میں شان رسول ﷺ بیان کی گئی ہے۔ سب سے پہلے تو منافقین کا شک دور کیا گیا ہے جو وہ اکثر اعتراض کے طور پر کہتے کہ یہ تو ہماری طرح انسان ہیں یہ پیغمبر کیسے ہوسکتے ہیں ؟ اگر یہ ہمارے درمیان سے نہ چنے جاتے تو یہ انسانوں کو تربیت کیسے دے سکتے تھے مگر وہ اخلاق کردار کی صورت میں عام انسانوں سے بہت بلند تھے ان کی چار صفات کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔
(i) اللہ نے آپ ﷺ کو بہترین انسان بنایا تاکہ لوگوں کے لیے نمونہ اور مثال بن سکیں۔
(ii) انسانی ہمدردی ان میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–129
آیات 123 تا 127
اسرار و معارف
کسی عمل کے نیک ہونے کی شرط
اور جہاں تک کفار سے معاملات کا تعلق ہے تو ان سے جہاد کرو کہ مومنین کو جس قدر محبت و خلوص سے اہل اللہ کی صحبت اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس قدرشدت اور سختی سے جہاد بھی کریں کہ کسی عمل کے درست یا نیک ہونے کی شرط اس کی صورت نہیں بلکہ اس کا اللہ کے حکم کے تابع ہونا ہے ایک طرف محبت و خلوص نیکی ہے تو دوسری جانب شدت و سختی نیکی ہے لہٰذاکفار سے محبت جائز نہیں ۔ شدت اور جہاد میں پوری قوت سے ٹکرانا ضروری ہے اور جہاد اپنے قریب والوں سے شروع ہوگا بلحاظ مقام اور فاصلہ کے بھی اور رشتہ اور نسب کے اعتبار سے بھی ۔ ظاہر ا یہ جنگ کی صحیح صورت نہیں کہ کفار کو…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی دنیا میں جہنم کی زندگی بسر کرلو۔ ذلیل و خوار رہو اور آخرت میں جہنم کی آگ کا ایندھن بنو۔ یہ چیز اس کو بہت ناگوار گزرتی ہے۔ یوں بھی آنحضرت نہایت آسان شریعت لے کر مبعوث ہوئے ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے۔ بعثت بالحنفیۃ السحۃ کہ مجھے آسان حنیف شریعت دے کر بھیجا گیا ہے۔
7۔ رات دن اس کی یہی کوشش ہے اور وہ اسی فکر میں لگا رہتا ہے کہ جس طرح بھی ہوسکے تم دوزخ سے بچ جائو اور دنیا و آخرت کی فلاح حاصل کرلو۔ (۔۔۔ ) ۔ شاہ صاحب (رح) نے حریض علیکم کا ترجمہ کیا ہے۔ ” تلاش رکھتا ہے تمہاری “ اس کی وضاحت میں فرمایا : چاہتا ہے میری امت زیادہ ہوتی رہے۔ (از موضح) ۔
Read the full tafseer →(9:128) عزیز علیہ۔ شاق گزرتی ہے اس پر ۔ گراں گزرتی ہے اس پر۔ بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے جب اس کا صلہ علیٰ ہو تو شاق اور دشوار کے معنی دیتا ہے۔ اور جب اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو جو ہمیشہ غالب رہے کا معنی دیتا ہے اس کا باب نصر ہے ۔ اور جب ضرب ہو تو اس کا معنی گراں ہونے کا ہوتا ہے۔
ما عنتم۔ میں ما موصولہ ہے۔ عنتم۔ ماضی جمع مذکر عنت سے۔ عنت یعنت (سمع) دشواری میں پڑنا۔ مصیبت میں ہلاک ہونا۔ یعنی تمہارا دشواری میں پڑنا یا کسی مشقت یا تکلیف میں مبتلا ہونا اس پر شاق گزرتا ہے۔
حریص علیکم۔ ای حریص علی ایمانکم وایصال الخیر الیکم۔ یعنی تمہارے لئے ایمان۔ بھلائی اور ہدایت کا نہایت ہی خواہشمند ہے۔ حریص بروزن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
لغات القرآن آیت نمبر 128 تا 129
من انفسکم (تمہارے اندر سے، تم میں سے) عزیز (بھاری ہے) عنتم (جو تمہیں نقصان پہنچے) حریص (زیادہ خواہشمند) رء وف (مہربان) رحیم (بہت رحم کرنے والا) حسبی اللہ (مجھے اللہ کافی ہے) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا) ھو (وہ) رب العرش العظیم (عرش عظیم کا پروردگار)
تشریح : آیت نمبر 128 تا 129
سورئہ توبہ کو حق تعالیٰ شانہ نے ان دو آیات پر ختم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارے پاس اللہ کے وہ رسول ﷺ آ چکے ہیں جو تمہارے انتہائی مخلص و مہربان ہیں جو ہر وقت اہل ایمان کی بھلائی کے خواہشمند رہتے ہیں شفقت و محبت اور کرم کرنا جن کا مزاج ہے۔
ان تمام سچائیوں کے باوجود اگر وہ کفار و…
Read the full tafseer →میلاد کا ثبوت
یہ اللہ پاک اپنے بندوں پر اپنا احسان جتلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر ایسا رسول بھیجا جو تمہاری طرح ہے۔ تمہاری زبان بولتا ہے سمجھتا ہے، تمہاری تکلیف اور محنت گوارا نہیں کرتا۔ وہ دل سے چاہتا ہے کہ تم سب کے سب سچے دل سے مسلمان ہوجاؤ۔ اس آیت کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ نے جو کچھ فرمایا ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ عرب کے قبیلوں سے حضرت کا رشتہ ملتا ہے۔ اسی لئے اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ ایسا رسول آیا جو تم میں سے ہے، بلکہ عرب کے سارے قبیلوں سے آپ حسب نسب میں اچھے ہیں اور صدق وامانت، زہدو تقویٰ طہارت و تقدس اور اخلاق حمیدہ میں بھی سب سے بہتر ہیں اور تم میں سب سے نفیس تر اور اشرف و افضل ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–129
[73] اوپر ذکر منافقین کے تمسخر کا تھا جو وہ اپنی مجلسوں میں کرتے تھے۔ یہاں ذکر ان کی اس نفرت و بیزاری سے ہے جو انہیں مجلس نبوی سے تھا۔ جب کوئی نئی سورت نبی ﷺ مسلمانوں کو سناتے تو جو منافقین مجلس نبوی میں موجود ہوتے تھے نہایت بددلی کے ساتھ سنتے اور اس فکر میں رہتے کہ کسی طرح جلد وہاں سے بھاگ چلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
مقام محمدی :
(ف 1) رسول کی تنکیر تعظیم شان کے لئے ہے یعنی تمہارے پاس اللہ نے ذی وقار پیغمبر بھیجا ہے ، جو تم میں سے ہے ، لوازم بشری کا حامل ہے ، انسان ہے ، انسانوں کی سی ضرورتیں ، اور حاجتیں رکھتا ہے ، بالکل تمہاری طرح اللہ کا ایک بندہ ہے مگر رتبہ ومقام کا یہ عالم ہے کہ تم میں سے بڑے سے بڑا انسان اس کی خاک پاکی برابری نہیں کرسکتا ، وہ انسان ہے ، مگر انسانیت کو اس بےنظیر ہستی پر فخر ہے ۔
حضرت ابن عباس ؓ اسی آیت کو یوں پڑھا کرتے تھے ” من انفسکم “۔ سین کے زبر کے ساتھ یعنی تم سے بہترین ، اعلی وارفع انسان کو بھیجا ہے ، عین تقاضائے رسالت ہے کہ جو پیغمبر ہو کر آئے ، وہ تمام انسانوں سے دل و دماغ ،…
Read the full tafseer →128 لوگو ! بلاشبہ تمہارے پاس ایک ایسے رسول تشریف لائے ہیں جو تم ہی میں سے ہیں اور تمہاری ہی جنس میں سے ہیں تم کو کسی قسم کی تکلیف پہنچنا اور تمہارے ضرر کی ہر بات ان پر بہت شاق اور بیحد گراں ہوتی ہے وہ تمہاری بھلائی اور تمہارے نفع کے بےانتہا خواہش مند ہیں بالخصوص مسلمانوں پر بڑے شفیق اور نہایت مہربان ہیں یعنی وہ بشر ہیں جن یا ملائکہ نہیں ان کی خوبو سے تم واقف ہو تمہاری تکلیف اور ضرر رساں باتیں ان پر شاق ہیں بنی نوع انسان کی بھلائی اور نفع پر حریص ہیں چاہتے ہیں کہ تم دنیا اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہو تمہارا عذاب ان کے لئے بیحد گراں ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں تلاش رکھتا ہے تمہاری یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 128–129
ف 6۔ یعنی چاہتے ہیں کہ تم کو کوئی ضرور نہ پہنچے۔
7۔ اس تمام تر سورت کا حاصل چندمضامین ہیں اول اثبات توحید ثانی اثبات رسالت ثالث قرآن۔ رابع اثبات معاد۔ خامس تہدید بذریعہ بعض قصص۔ اور اول کے ضمن میں ابطال شرک اور ثانی کے ضمن میں اس کے متعلق بعض شہادت کا جواب اور آپ کی تسلی اور یہ سب مضامین محاجہ میں کفار کے ساتھ اور پہلی سورت میں بھی ان سے محاجہ تھا گو وہاں باسنان تھا اور یہاں باللسان اور وہاں کفار کے مختلف فرقوں سے تھا اور یہاں صرف مشرکین سے چناچہ آیات میں غور کرنے سے یہ سب امور ظاہر ہوسکتے ہیں اس تقریر سے دونوں سورتوں میں بھی اور اس سورت کے اجزاء میں باہمد گر بھی تناسب وارتباط ظاہر ہوگیا۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ﷺ ! آپ کی بعثت ہی خیر عظیم ہے :
168 : اے پیغمبر اسلام ﷺ اللہ نے آپ کو مجسمہ ” خیر عظیم “ بنا کر بھیجا ہے اس لئے کہ جو کچھ آپ پر نازل ہوا وہ بھی ” خیر کثیر “ ہے۔ آپ ﷺ کی بنوت کا سورج روشن ہے جس کی خاصیت یہ ہے کہ بلاشب وہ دل کے اندھوں کو نظر تو نہیں آتا لیکن اس کا نظر نہ آنا بھی ان کے لئے فائدہ سے خالی نہیں اگر ناقدرے اور ناشکتے لوگ اس کی قدر نہیں کرتے اتو اس میں انہی کی تباہی ہے۔ آپ ﷺ تو ان کے ایمان وہدایت کے حریص ہیں اور ان کی دنیوی اور اخروی فوز و فلاح کے لئے بےچین حالانکہ اس میں آپ ﷺ کا نہیں بلکہ ان کا اپنا نفع ہے اگر یہ لوگ آپ ﷺ کی قدر کرتے تو اپنی ہی دنیا و آخرت سنوارتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
Commentary
These are the last verses of Surah At-Taubah where it has been declared that the Holy Prophet ﷺ is very kind and merciful for the entire creation of Allah, particularly so for Muslims. Then, in the last verse, he has been told that he should observe patience and trust Allah even if there are people who do not come to believe despite all his efforts.
That this theme appears at the end of Surah At-Taubah happens to be very appropriate. It will be recalled that this Surah has been full of references to the declaration of withdrawal from the disbelievers, the ultimate severance of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →