Explained with ayahs 126–127
عذاب سے دوچار ہونے کے بعد بھی منافق باز نہیں آتا
یہ منافق اتنا بھی نہیں سوچتے کہ ہر سال دو ایک دفعہ ضروری وہ کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انہیں اپنے گذشتہ گناہوں سے توبہ نصیب ہوتی ہے نہ آئندہ کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ کبھی قحط سالی ہے کبھی جنگ ہے، کبھی جھوٹی گپیں ہیں جن سے لوگ بےچین ہو رہے ہیں۔ فرمان رسول ﷺ ہے کاموں میں سختی بڑھ رہی ہے۔ بخیلی عام ہو رہی ہے۔ ہر سال اپنے سے پہلے کے سال سے بد آرہا ہے۔ جب کوئی سورت اترتی ہے ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ؟ پھر حق سے پلٹ جاتے ہیں نہ حق کو سمجھیں نے مانیں وعظ سے منہ پھیرلیں اور ایسے بھاگیں جیسے گدھا شیر سے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
سورة التَّوْبَة 126
قاعدہ یہ تھا کہ جب کوئی سورة نازل ہوتی تھی تو نبی ﷺ مسلمانوں کے اجتماع کا اعلان کراتے اور پھر مجمع عام میں اس سورة کو خطبے کے طور پر سناتے تھے۔ اس محفل میں اہل ایمان کا حال تو یہ ہوتا تھا کہ ہمہ تن گوش ہو کر اس خطبے کو سنتے اور اس میں مستغرق ہوجاتے تھے، لیکن منافقین کا رنگ ڈھنگ کچھ اور تھا۔ وہ آ تو اس لیے جاتے تھے کہ حاضری کا حکم تھا اور اجتماع میں شریک نہ ہونے کے معنی اپنی منافقت کا راز خود فاش کردینے کے تھے۔ مگر اس خطبے سے ان کو کوئی دلچسپی نہ ہوتی تھی۔ نہایت بددلی کے ساتھ اکتائے ہوئے بیٹھے رہتے تھے اور اپنے آپ کو حاضرین میں شمار کرا لینے کے بعد انہیں بس یہ فکر لگی رہتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
(آیت) يُفْتَنُوْنَ فِيْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَيْنِ ، اس میں منافقین کو اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اپنے نفاق اور عہد شکنی وغیرہ معاصی کی وجہ سے ہر سال مختلف قسم کی مصیبتوں میں کبھی ایک بار کبھی دو بار مبتلا ہوتے رہتے ہیں، کبھی ان کے دوست کفار مکہ مغلوب ہوگئے، کبھی ان کے نفاق کی باتیں کھل گئیں، اس سے پریشانی میں مبتلا رہے، یہاں ایک دو کا عدد خاص مراد نہیں، بلکہ یہ بتلانا ہے کہ اس کا سلسلہ چلتا رہتا ہے، کیا ان چیزوں کو دیکھ کر بھی انہیں عبرت نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
124 تا 127: کٹر منافقین کا طرز عمل : وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْھُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ اَيُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖٓ اِيْمَانًا ۚ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْھُمْ اِيْمَانًا وَّھُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ۔ یہ ان منافقین کی طرف اشارہ ہے جو اس سورة کی تمام تنبیہات و تحذیرات کے بعد بھی بدستور نہ صرف اپنے نفاق میں مبتلا رہے بلکہ درجہ بدرجہ ان کا نفاق سخت سے سخت تر ہی ہوتا چلا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی تنبیہ بھی ان کو توبہ کے لیے بیدار نہ کرسکی یہاں تک کہ اسی حالت میں ان کو موت آئی۔ وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْھُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ اَيُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖٓ اِيْمَانًا، سورة…
Read the full tafseer →127۔ 1 یعنی ان کی موجودگی میں سورت نازل ہوتی جس میں منافقین کی شرارتوں اور سازشوں کی طرف اشارہ ہوتا تو پھر یہ دیکھ کر کہ مسلمان انہیں دیکھ تو نہیں رہے، خاموشی سے کھسک جاتے۔
127۔ 2 یعنی آیات الٰہی میں غور و تدبر نہ کرنے کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں کو خیر اور ہدایت سے پھیر دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
105: اصل بات یہ تھی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے کلام سے چڑ تھی۔ ان کی خواہش اور کوشش یہ رہتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سننے کی نوبت نہ آئے۔ لہذا جب آنحضرت ﷺ اپنی مجلس میں کوئی نئی سورت تلاوت فرماتے تو یہ بھاگنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن اگر سب کے سامنے اٹھ کر جائیں تو ان کا راز فاش ہوجائے۔ اس لیے یہ ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے کہ کوئی ایسا موقع تلاش کرو کہ کوئی مسلمان تمہیں دیکھ نہ رہا ہو، اور اس وقت چپکے سے اٹھ کر چلے جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–129
واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔
ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔
ثم انصرفوا پھر (یعنی…
Read the full tafseer →3 جس وقت وحی نازل ہوتی اور منافقین مجلس میں موجود ہوتے تو کلام الٰہی کا سننا ان پر بہت شاق گزرتا تھا خصوصاً وہ آیات جن میں ان کے عیوب کھولے جاتے تھے۔ اس وقت ایک دوسرے کی طرف کن انکھیوں سے اشارہ کرتے اور ادھر ادھر دیکھتے کہ مجلس میں کسی مسلمان نے ہم کو پرکھا نہ ہو۔ پھر نظر بچا کر شتاب مجلس سے کھسک جاتے تھے۔
4 یعنی مجلس نبوی سے کیا پھرے۔ خدا نے ان کے دلوں کو پھیر دیا کہ وہ اپنی جہل و حماقت سے ایمان و عرفان کی باتوں کو سمجھنا اور قبول کرنا نہیں چاہتے۔
Read the full tafseer →آیت 127 وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ نَّظَرَ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ ط
جب قتال کے بارے میں احکام نازل ہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کی محفل میں موجود منافقین کنکھیوں سے ایک دوسرے کو اشارے کرتے ہیں۔
ہَلْ یَرٰٹکُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا ط صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لاَّ یَفْقَہُوْنَ
اس سورت کی آخری دو آیات قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں سے ہیں۔
Read the full tafseer →146 وحی نازل ہونے کے بعد آپ کا صحابہ کو مسجد میں بلاکر وحی سنانا :۔ جب کوئی سورت نازل ہوتی تو بسا اوقات رسول اللہ مسلمانوں کو مسجد نبوی میں بلا کر بطور خطبہ انہیں یہ سورت سنا دیا کرتے۔ اب منافقوں کی مجبوری یہ تھی کہ انہیں ایسے اعلان پر مسجد میں جانا پڑتا تھا اور اپنے آپ سے نفاق کا شبہ دور کرنے کے لیے انہیں ایسی حاضری لگوانا ہی پڑتی تھی مگر اس بیگار کو زیادہ دیر تک برداشت بھی نہ کرسکتے تھے اور چاہتے یہ تھے کہ حاضری لگوانے کے بعد فوراً مسلمانوں سے نظریں بچا کر نکل جائیں اور ان میں سے اکثر یہی کچھ کرتے تھے۔ تو جب ان لوگوں نے رشد و ہدایت کی مجلس سے یوں بھاگنا شروع کیا تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو…
Read the full tafseer →238۔ (مجلس نبوی سے) منظر ایسے وقت کا ہے کہ منافقین بھی مجلس نبوی میں حاضر ہیں اور کسی سورت کا نزول رسول اللہ ﷺ پر ہوا۔ (آیت) ” ھل یرکم من احد “۔ یعنی اٹھتے ہوئے یہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں کہ کوئی مومن تو ہمیں اٹھتا ہوا نہیں دیکھ رہا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے جا لگائے، اوپر ذکر منافقین کے تمسخر کا تھا جو وہ اپنی مجلسوں میں کرتے رہتے تھے، اب ذکر ان کے اس تنفر کا ہے جو انہیں مجلس نبوی سے تھا۔
239۔ یعنی ایسے لوگ جو خود اپنے نفع سے بھاگتے ہیں اور جتنی سمجھ انہیں عطا ہوئی ہے، اس سے کام نہیں لیتے۔ (آیت) ” صرف اللہ قلوبھم “۔ یعنی یہ لوگ مجلس نبوی سے کیا پھرے، ان کا دل ہی اللہ نے ایمان سے بلکہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–129
آیت نمبر 123 تا 129
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے آس پاس والے منکرین (کفار) سے قتال کرو یعنی ان سے الاقرب فالاقرب کے قاعدہ کے مطابق بالترتیب، اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں یعنی تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو، اور یقین رکھو اللہ مدد اور نصرت کے ذریعہ متقیوں کے ساتھ ہے، اور جب (نئی) سورت قرآن کی نازل ہوتی ہے تو ان منافقین میں سے کچھ لوگ آپ ﷺ کے اصحاب سے استہزاء کرتے ہیں (بتائو) اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں تصدیق کا اضافہ کیا سو (سنو) جو لوگ اہل ایمان ہیں (اس سورت نے) ان کے ایمان میں ان کے اس کی تصدیق کرنے کی وجہ سے اضافہ کردیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں یعنی اس سورت کے نزول سے خوش…
Read the full tafseer →واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔
ھل یرا کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔
ثم انصرفوا پھر (یعنی…
Read the full tafseer →(127) اور جس وقت بذریعہ جبریل امین ؑ کوئی نئی سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں ان منافقین کی غلط حرکات کا ذکر ہوتا ہے اور رسول اکرم ﷺ وہ سورت ان کے سامنے پڑھ کر سناتے ہیں تو منافقین ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں (اور اشارہ سے باتیں کرتے ہیں) کہ کہیں تمہیں صحابہ کرام ؓ میں سے تو کوئی نہیں دیکھ رہا اور پھر نماز اور خطبہ حق وہدایت سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا دل حق و ہدایت سے پھیر دیا ہے یا یہ کہ حق وہدایت سے انہوں نے روگردانی کی ہے تو اس روگردانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو حق وہدایت سے پھیر دیا اس بنا پر کہ وہ نہ احکام خداوندی کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس وقت کا نقشہ کھینچا ہے جب منافقین رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں موجود ہوتے اور ان کے راز کھولنے والی یا جہاد کے حکم پر مبنی کوئی سورت یا آیات اترتیں، پھر وہ کمینگی اور شرارت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور موقع پا کر کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا، مجلس سے کھسک جاتے۔ ان کی سمجھ میں صاف آ رہا ہوتا کہ ان آیات کا مصداق وہی ہیں، کیونکہ جہاد کے لیے نکلنا ان کے لیے موت تھی اور اس مجلس میں بیٹھنا ان کے لیے سراسر تذلیل کا باعث ہوتا، چناچہ وہ تائب ہونے کے بجائے نکل جانے کو ترجیح دیتے۔ فرمایا : (قَدْ يَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِيْنَ يَتَسَلَّـلُوْنَ مِنْكُمْ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 127۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واذا انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض “۔ اس میں ماصلہ ہے اور مراد منافقین ہیں، یعنی جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوں، اس حال میں کہ آپ قرآن کریم پڑھ رہے ہوں جس میں ان کی فضیحت ورسوائی یا ان میں سے کسی ایک کی فضیحت ورسوائی نازل کی گئی ہو تو وہ ایک دوسرے کی طرف علی جہۃ التقریر خوف کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں، وہ کہتا ہے : کیا کوئی تمہیں دیکھتا ہے جب تم اس بارے گفتگو کرتے ہو کہ وہ اسے حضرت محمد ﷺ کے پاس پہنچا دیتا ہے۔ اور یہ آپ ﷺ کی نبوت کے بارے ان کی جہالت ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے غیب میں سے جس پر چاہتا ہے آپ کو مطلع کردیتا ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے : بیشک…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے فرمایا کہ (آیت) ” واذا ما انزلت سورة نظر بعضہم الی بعض “ یعنی وہ منافق مراد ہیں (کہ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں)
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا ما انزلت سورة نظر بعضہم الی بعض، ھل یرکم من احد “ (کیا کوئی تم کو دیکھ تو نہیں رہا) اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ وہ ہم کو اس کے ذریعہ پکڑے۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واذا ما انزلت سورة نظر بعضہم الی بعض، ھل یرکم من احد “ یعنی کیا کوئی ایسا انسان تم کو دیکھ تو نہیں رہا جس نے تمہاری خبرسن رکھی ہو۔ اگر کسی نے تم کو…
Read the full tafseer →وَاِذَا مَآ [ اور جب کبھی بھی ] اُنْزِلَتْ [ اتاری جاتی ہے ] سُوْرَةٌ [ کوئی سورة ] نَّظَرَ [تو دیکھتے ہیں ] بَعْضُھُمْ [ ان کے بعض ] اِلٰى بَعْضٍ ۭ [ بعض کی طرف ] هَلْ يَرٰىكُمْ [ (پھر وہ کہتے ہیں ] کیا دیکھتا ہے تم لوگوں کو ] مِّنْ اَحَدٍ [ کوئی ایک بھی ] ثُمَّ [ پھر ] انْصَرَفُوْا ۭ [ وہ پلٹ جاتے ہیں ] صَرَفَ [ پھیرا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] قُلُوْبَھُمْ [ ان کے دلوں کو ] بِاَنَّھُمْ [ بسبب اس کے کہ وہ لوگ ] قَوْمٌ [ ایک ایسی قوم ہیں جو ] لَّا يَفْقَهُوْنَ [ سوجھ بوجھ نہیں رکھتے ]
(آیت ۔ 127) ھل یراکم سے پہلے فیقول محذوف ہے۔
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ ) کہ ان لوگوں کی یہ حرکتیں اور ان حرکتوں کا انجام بد اس وجہ سے سامنے آیا کہ وہ سمجھتے نہیں ہیں۔ اگر حق اور حقیقت کو سمجھتے تو نہ منافقت اختیار کرتے نہ ان سے منافقانہ حرکتیں صادر ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
ترتیب جہاد وقتال
قال اللہ تعالیٰ ۔ یا ایہا الذین امنوا قاتلوا الذین یلومونکم من الکفار۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ مع المتقین۔
(ربط): نصف پارۂ دہم سے یہاں تک غزوۂ تبوک سے متخلفین کے شنائع اور قبائح کا بیان تھا کہ ان لوگوں نے جہاد سے تخلف کیا پھر گزشتہ آیات میں احکام جہاد کی طرف رجوع فرمایا اور جہاد و قتال کے فضائل بیان کیے اب اس آیت میں جہاد و قتال کی ترتیب بیان کرتے ہیں کہ جہاد و قتال کس طرح ہونا چاہئے وہ ترتیب یہ ہے کہ اول ان کفار سے ہونا چاہئے جو مسلمانوں سے قریب تر ہوں اور پھر جو ان قریب رہنے والوں کے قریب ہوں اس طرح حلقۂ جہاد کو وسیع کرنا چاہئے نبی اکرم ﷺ نے اول مشرکین عرب سے قتال کیا اور پھر بنی…
Read the full tafseer →120:“ وَ اِذَا مَا اُنْزِلَتْ الخ ”۔ تبلیغِ وحی کے وقت منافقین کے حال کا بیان ہے۔ جب ان کو قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ ایک دوسرے کی طرف معنی خیز نگاہوں سے دیکھتے ہیں جن سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ موقع پا کر یہاں سے بھاگ نکلیں چناچہ موقع ملتے ہی چل دیتے ہیں یعنی ان کا مقصد ہر نازل ہونے والی آیت کی ہنسی اور اس کا مذاق اڑانا ہے اس لیے وہ اس مجلس سے جلد ازجلد بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
ربط آیات :
سورۃ توبہ میں زیادہ تر جہاد اور قتال کے متعلقات کا ذکر ہے منافقین کا ذکر بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ لوگ جہاد میں عدم شرکت کے لیے حیلے بہانے بناتے تھے ، لہٰذا للہ تعالیٰ نے ان کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ اسی سورة میں ضمنا بعض دوسرے مسائل بھی آگے ہیں۔ اب آخر میں بھی منافقین ہی کی قباحتوں کا ذکر ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اہل ایمان ان کی سازشوں سے خبردار رہیں کیونکہ یہ خطرناک گروہ ہے اور ان کی سرگرمیاں مسلمانوں کے حق میں سخت مضر ہیں۔
دین کے چار دشمن :ـ
شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ دین اسلام کے چار دشمن ہیں جن میں سے دو ظاہری اور دو باطنی ہیں۔ باطنی دشمنوں میں نفس اور شیطان…
Read the full tafseer →وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ نَّظَرَ بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ 0 ۭ ہَلْ يَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا 0 ۭ صَرَفَ اللہُ قُلُوْبَھُمْ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَہُوْنَ 127
سُّورَةُ
المنزلة الرفیعة، وسُورُ المدینة : حائطها المشتمل عليها، وسُورَةُ القرآن تشبيها بها لکونه محاطا بها إحاطة السّور بالمدینة، أو لکونها منزلة کمنازل القمر، ومن قال : سؤرة فمن أسأرت، أي : أبقیت منها بقيّة، كأنها قطعة مفردة من جملة القرآن وقوله : سُورَةٌ أَنْزَلْناها
[ النور/ 1] ،
السورۃ
کے معنی بلند مرتبہ کے ہیں ۔ اور سورة المدینۃ کے معنی شہر پناہ کے ہیں اور سورة القرآن ( قرآن کی سورت ) یا تو سور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–129
2 ؎ نفاق کا مرض۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاِذَا مَآاُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ نَّظَرَبَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ ط ھَلْ یَرٰکُمْ مِّنْ اَحَدٍثُمَّ انْصَرَفُوْا ط صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّایَفْقَھُوْنَ (التوبہ : 127)
(اور جب کوئی سورة نازل کی جاتی ہے۔ تو ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ہے پھر کھسک جاتے ہیں، اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا ہے۔ اس سبب سے کہ یہ سمجھ سے کام لینے والے لوگ نہیں ہیں۔ )
پیغمبر کی شخصیت اور اللہ کا کلام اپنی معجز بیانی اور اثر آفرینی میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ جس کے دل میں معمولی سی بھی سلامتی ہے اور جس کی ذات میں تھوڑی سی بھی انسانیت ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ وہ نبی کی مجلس اور قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کا دنیا میں انجام۔
منافق دوغلے کردار کا انسان ہوتا ہے۔ ظاہر ہے دوغلاپن کبھی نہ کبھی ظاہر ہوجاتا ہے۔ جب آدمی کا دوغلا پن ظاہر ہوتا ہے تو سوائے رسوائی اور شرمندگی کے اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہی حالت منافقین مدینہ کی تھی۔ ہر سال ایک یا دو مرتبہ انہیں اپنے کیے کا خمیازہ بھگتنا پڑتا تھا۔ جب یہ قسمیں اٹھا اٹھا کر اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کرتے تو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کو آگاہ فرما دیتے کہ یہ لوگ جھوٹی قسمیں اٹھا رہے ہیں۔ تبوک سے واپسی پر بھی ان کے جھوٹ کی قلعی کھول دی گئی۔ سورة التوبۃ : 95۔ 96۔ ان کی حرکتوں کی وجہ سے جب مسلمان ان کے ایمان پر شبہ…
Read the full tafseer →منافقین کی نظر بازیاں :
آیت 127: وَاِذَا مَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ نَّظَرَ بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ (اور جب کوئی سورت اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں) وحی کا انکار کرتے ہوئے ایک دوسرے کو آنکھوں سے طعنے دیتے ہیں اور اسلام کا مذاق اڑانے کیلئے اور زبان سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ھَلْ یَرٰکُمْ مِّنْ اَحَدٍ (تم کو کوئی دیکھ نہیں رہا) مسلمانوں میں سے تاکہ ہم واپس لوٹ چلیں۔ ہم اس کو سن کر صبر نہیں کرسکتے اور نہ رک سکتے ہیں۔ ہمیں تو اتنی شد ید ہنسی آرہی ہے جس کی وجہ سے ان کے درمیان ہمیں ٹھہرنے کی صورت میں رسوائی کا خدشہ ہے۔
نمبر 2۔ جب کوئی سورت منافقین کے عیوب ظاہر کرنے کیلئے اترتی ہے تو…
Read the full tafseer →آیت نمبر 127: ” واذا مآ انزلت سورة “ اس میں منافقین کے عیوب اور ان کو ڈانت ہے۔” نظر بعضھم الی بعض “ بھاگنے کا ارادہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو اشارہ سے کہتے ہیں کہ ” ھل یرکم من احد “ مئومنین میں سے کوئی ایک۔ اگر وہ کھڑے ہوں اور کوئی مئومن نہ دیکھ رہا ہو تو مسجد سے نکل جاتے ہیں اور اگر پتہ لگے کہ کوئی ایک ان کو دیکھ رہا ہے تو وہ مجلس میں بیٹھے رہتے ہیں۔” ثم انصرفوا ‘ ذ ان پر ایمان لانے سے اور بعض نے کہا ان جگہوں سے پھرجاتے ہیں جہاں وہ سنتے ہیں۔” صرف اللہ قلوبھم “ ایمان سے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے اس فعل کے بدلے اللہ نے ان کو گمراہ دیا۔” بانھم قوم لا یفقھون “ اپنے دین کو۔ ابن عباس ؓ فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
126۔ 127۔ اللہ پاک تعجب کے ساتھ منافقوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ہر سال ایک دو دفعہ ان کی آزمائش ہوتی ہے قحط بھی پڑتا ہے بیماریوں کی مصیبت جھیلتے ہیں مگر یہ اپنے نفاق میں ایسے ڈھیٹھ ہیں کہ نہ توبہ کرتے ہیں نہ آیندہ خوف کرتے ہیں اور جب کوئی سورت اترتی ہے تو اس میں اپنے عیب کو سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگتا ہے کہ کسی نے ہماری طرف دیکھا نہیں اور وہاں سے دب کر سرک جاتے ہیں اور مذمت کی آیت یا سورت کو پورے طور پر نہیں سنتے۔ ابن ماجہ میں ابن عمر ؓ سے روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کم تولنے کے وبال سے اکثر قحط پڑا کرتا ہے 1 ؎ اس حدیث کی سند میں اگرچہ ایک راوی خالد بن یزید بن عبدالرحمن ضعیف ہے…
Read the full tafseer →آیت : (127)
یعنی وہ منافقین جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے بارے میں کوئی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کے دلوں کا بھید کھول دے (و اذا ما انزلت سورة ) ” جب ان پر کوئی سورت نازل کی جاتی ہے “ تاکہ وہ اس پر ایمان لائیں اور اس کے مضامین پر عمل کریں (نظر بعضھم الی بعض) ” تو وہ ایک دوسرے کی طرف دکھنے لگتے ہیں۔ “ تاکہ اہل ایمان کی نظروں سے چھپے رہیں اور کہتے ہیں (ھل یرلکم من احد ثم انصر فوا) ” کیا دکھتا ہے تم کو کوئی مسلمان ‘ پھر کھسک جاتے ہیں “ یعنی کھسک کر نکل جاتے ہیں اور نہ موڑ کر لوٹ جاتے ہیں۔ تب اللہ ان کے عمل کی جنس ہی سے انہیں جزا دیتا ہے۔ پس جیسے انہوں نے عمل سے منہ پھیرلیا (صرف اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–129
دینی علم حاصل کرنا ضروری ہے
قول باری ہے وما کان المومنون لینفروا گا فۃ فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آئے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت نے قول باری انفروا اثبات او انفروا جمعیا ً پھر الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلویا اکٹھے ہو کر کو منسوخ کردیا ہے نیز قول باری انفروا اخفا فاً و ثقا لا ً نکل پڑو ہلکے اور بوجھل بھی اس آیت کی بنا پر منسوخ ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں فرمادیا کہ اہل ایمان کے لیے ضروری…
Read the full tafseer →224 منافقین دستور خداوندی کی زد میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ پھرگئے تو اللہ نے پھیردیا ان کے دلوں کو۔ ان کے اپنے خبث باطن، سوء اختیار اور بدنیتی کی وجہ سے۔ جس کی بناء پر یہ حق سے محروم ہوجاتے ہیں کہ جیسی نیت ویسی مراد۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا (فلمازاغوا ازاغ اللہ قلوبہم) معلوم ہوا کہ حق اور اہل حق کی مجالس سے منہ موڑنابڑی محرومی اور بدبختی ہے اور اس سے انسان نورحق و ہدایت سے محروم ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہ اثرونتیجہ ہے ان لوگوں کی محرومی کا یہ بدنصیب لوگ موقع پاکرمجلس نبوی سے اس طرح کھسک جاتے ہیں۔ آپس میں کنکھیوں سے اشارے کرتے ہوئے وہاں سے نکل بھاگتے ہیں اور اس کو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
وحی کے نزول پر منافقوں کے تبصرے
تشریح : ان آیات میں منافقین کی سوچ کے بارے میں بتایا گیا ہے یہ موجودہ سوسائٹی میں بھی واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ عہد رسالت میں جب وحی نازل ہوتی تو منافق لوگ بجائے اس کو سمجھنے اور سبق حاصل کرنے کے الٹا مذاق اڑاتے کیونکہ ان کی عقل سمجھ اتنی نہ تھی کہ وہ وحی الٰہی اور اس کے بہترین اثرات کو سمجھ سکتے جو مومنین کے دلوں پر ہوتے۔ مومنین جیسے جیسے کلام الٰہی سنتے ہیں۔ ان کے دل نور ایمان سے اور بھی روشن ہوجاتے ہیں اور ان کا رابطہ اللہ کے ساتھ اور بھی مضبوط ہوجاتا ہے اور اپنے ایمان و یقین کے انعامات ان پر اور بھی واضح ہوجاتے ہیں اور وہ زیادہ سکون اور یقین کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–129
آیات 123 تا 127
اسرار و معارف
کسی عمل کے نیک ہونے کی شرط
اور جہاں تک کفار سے معاملات کا تعلق ہے تو ان سے جہاد کرو کہ مومنین کو جس قدر محبت و خلوص سے اہل اللہ کی صحبت اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس قدرشدت اور سختی سے جہاد بھی کریں کہ کسی عمل کے درست یا نیک ہونے کی شرط اس کی صورت نہیں بلکہ اس کا اللہ کے حکم کے تابع ہونا ہے ایک طرف محبت و خلوص نیکی ہے تو دوسری جانب شدت و سختی نیکی ہے لہٰذاکفار سے محبت جائز نہیں ۔ شدت اور جہاد میں پوری قوت سے ٹکرانا ضروری ہے اور جہاد اپنے قریب والوں سے شروع ہوگا بلحاظ مقام اور فاصلہ کے بھی اور رشتہ اور نسب کے اعتبار سے بھی ۔ ظاہر ا یہ جنگ کی صحیح صورت نہیں کہ کفار کو…
Read the full tafseer →ف 3۔ بھاگ نکلنے کی نیت سے یا انکار اور ٹھٹھے کی نیت سے (کبیر) ۔
4۔ یا اللہ ان کے دلوں کو پھیر دے۔ یہ ان کے حق میں بدعا ہے۔
5۔ تب ہی وہ وپنی فلاح سے غافل اور بھلائی سے بےفکر ہیں۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : کلام اللہ میں جہاں منافقوں کے عیب آتے وہ آپس میں دیکھتے کہ ہم کو کسی نے پرکھا نہ ہو پھر جلدی سے اتھ جاتے۔ (موضح) ۔
Read the full tafseer →(9:127) انصرفوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ چل دیتے۔ وہ پلٹ جاتے (حضور ﷺ کی مجلس سے) انصراف (انفعال) سے صرف مادہ۔ الصرف کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے بدل دینا۔ محاورہ ہے کہ صوفتہ فانصرف میں سے اسے پھیر دیا وہ پھر گیا۔ صرف اللہ قلوبہم۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دئیے (ایمان سے یا فہم قرآن سے) یہ جملہ منافقین کے لئے بددعائیہ بھی ہوسکتا ہے۔ خدا انکے دلوں کو پھیر دے۔
بانھم۔ میں باء سببیہ ہے۔ بدیں وجہ۔ اس سبب سے۔ کہ انھم قوم لایفقھون یہ لوگ سوء فہم اور عدم تدبر کا شکار ہیں۔ سوجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ کچھ سمجھتے ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 124–127
لغات القرآن آیت نمبر 124 تا 127
ایکم (تم میں سے کس کا) زادتہ (اس نے اضافہ کیا) یستبشرون (وہ خوشیاں مناتے ہیں) رجس (گندگی) یفتون (آزمائے جاتے ہیں ) کل عام (ہر سال) لایتوبون (وہ توبہ نہیں کرتے ہیں) لا ھم یذکرون (اور نہ دھیان دیتے ہیں) نظر (دیکھا) ھل یرکم (کیا کوئی تمہیں دیکھ رہا ہے) انصرفوا (وہ چل دیتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 124 تا 127
جب بھی کچھ آیات نازت ہوتیں تو عام طور پر نبی کریم ﷺ صحابہ کرام کو بلا کر آیات سناتے۔ وہ لوگ جو نفاق کے مرض میں مبتلا تھے وہ صرف اس لئے آجاتے تھے کہ کہیں ان کی منافقت کا پردہ چاک نہ ہوجائے۔ جو اہل ایمان تھے وہ تو ان آیات کو بہت ذوق شوق سے سنتے تھے لنک منافقین جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–127
منافقین کا ذکر : اللہ پاک تعجب کے ساتھ منافقوں کا حال بیان فرماتا ہے کہ ہر سال ایک دو دفعہ ان کی آزمائش ہوتی ہے۔ قحط بھی پڑتا ہے، بیماریوں کی مصیبت جھیلتے ہیں مگر یہ اپنے نفاق میں ایسے ڈھیٹ ہیں کہ نہ توبہ کرتے ہیں، نہ آئندہ خوف کرتے ہیں اور جب کوئی سورة اترتی ہے تو اس میں اپنے عیب کو سن کر ایک دوسرے کو دیکھنے لگتا ہے کہ کسی نے ہماری طرف دیکھا تو نہیں اور وہاں سے دب کر سرک جاتے ہیں اور مذمت کی آیت یا سورة کو پورے طور پر نہیں سنتے۔ اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایمان کی طرف سے پھیر دیا ہے اور اس کا ظاہری سبب یہ ہے کہ یہ بےسبب ظاہری ہر جگہ یہی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 126–129
[73] اوپر ذکر منافقین کے تمسخر کا تھا جو وہ اپنی مجلسوں میں کرتے تھے۔ یہاں ذکر ان کی اس نفرت و بیزاری سے ہے جو انہیں مجلس نبوی سے تھا۔ جب کوئی نئی سورت نبی ﷺ مسلمانوں کو سناتے تو جو منافقین مجلس نبوی میں موجود ہوتے تھے نہایت بددلی کے ساتھ سنتے اور اس فکر میں رہتے کہ کسی طرح جلد وہاں سے بھاگ چلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
(ف 2) اس آیت میں اصول جہاد کی تشریح کی گئی ہے کہ سب سے پہلے جو قریب کے دشمن ہیں ، ان سے جنگ کی جائے پھر ان لوگوں سے جو پہلوں سے نسبۃ قریب ہوں ، یعنی اقرب فالاقرب کا اصول مد نظر رکھا جائے ، اس طریق سے طاقت وقوت میں باقاعدہ ترقی ہوتی رہتی ہے حضور ﷺ نے اس طریق جہاد پر عمل فرمایا ، سب سے پہلے مکہ والوں سے معرکے رہے ، اس کے بعد تمام اہل عرب سے ، پھر اہل کتاب سے یعنی بنی قریظہ و بنی نضیر سے ، اس کے بعد خیبروفدک میں جنگ رہی ، صحابہ کرام ؓ اجمعین نے بھی اسی آئین کو ملحوظ رکھا ، روم ، شام عراق اور تمام بلاد میں اسی ترتیب وتسلسل کو جاری رکھا ، (آیت) ” ولیجدوا فیکم غلظۃ “۔ کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کو…
Read the full tafseer →127 اور جب سورت نازل کی جاتی ہے تو یہ اپنے مخصوص انداز میں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے تم کو کوئی دیکھ تو نہیں رہا اور آنکھ بچا کر نکل جاتے اور واپس چلے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس پھرجانے کی وجہ سے ان کے قلوب ہی کو پھیر دیا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ سے کام نہیں لیتے اور محض بےسمجھ واقع ہوئے ہیں۔
یعنی سورت نازل ہوئی اور انہوں نے اس نئی سورت کو سنا اور مجلس نبوی ﷺ سے اٹھ جانے کی ٹھہرائی اور چاہا کہ اس طرح واپس ہوں کہ کوئی مسلمان ہم کو نہ دیکھے کبھی پیغمبر سے لگائی بجھائی کردے اس کی سزا یہ ملی کہ دل ہی پھرگئے اور قرآن کریم کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 125–127
ف 5۔ یعنی جو ان میں مرچکے وہ کافر مرے اور جو اسی اصرار پر رہیں گے وہ کافر مریں گے حاصل یہ کہ قرآن میں ایمان کو ترقی دینے کی بیشک خاصیت ہے لیکن محل میں قابلیت بھی تو ہو اگر پہلے سے خباثت مستحکمہ ہے تو اور بھی اس کا استحکام ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 127 ، 128:
انسانیت کے ساتھ محسن انسانیت کی شفقت و محبت ، رحمت و مودت کا بیان :
164: فرمایا : ” تمہارے پاس ایک رسول آگیا جو تم ہی میں سے ہے۔ “ مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کسی غیر قوم یا غیر وطن کے انسان نہیں جن پر پورا اعتماد نہ کیا جاسکتا ہو بلکہ وہ تم ہی میں سے ایک انسان ہیں تم ان کے حسب و نسب ، کردار و اخلاق ، اندرونی اور بیرونی زندگی کے ہر ہر حال سے واقف ہو اور ان کی امانت و دیانت کے معترف ہو اور آپ ﷺ کی کوئی چیز تم پر پوشیدہ نہیں ، آپ ﷺ کا بچپن ، جوانی اور ادھیڑ عمر سب سے تم اچھی طرح واقف ہو۔
سوال یہ ہے کہ ” کم “ کی ضمیرجمع مخاطب دونوں جگہ کس کی جانب ہے ؟ یعنی رسول اللہ ﷺ کس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 127–128
Commentary
These are the last verses of Surah At-Taubah where it has been declared that the Holy Prophet ﷺ is very kind and merciful for the entire creation of Allah, particularly so for Muslims. Then, in the last verse, he has been told that he should observe patience and trust Allah even if there are people who do not come to believe despite all his efforts.
That this theme appears at the end of Surah At-Taubah happens to be very appropriate. It will be recalled that this Surah has been full of references to the declaration of withdrawal from the disbelievers, the ultimate severance of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →