نبی اکرم ﷺ کو تنہا نہ چھوڑو
اس آیت میں اس بیان کی تفصیل ہے جو غزوہ تبوک میں حضور ﷺ کے ساتھ چلنے کے متعلق تھا۔ سلف کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ جب خود رسول اللہ ﷺ جہاد میں نکلیں تو آپ کا ساتھ دینا ہر ملسمان پر واجب ہے جیسے فرمایا (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا وَّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 41) 9۔ التوبہ :41) اور فرمایا ہے (آیت ماکان لا ھل المدینہ) یعنی ہلکے بھاری نکل کھڑے ہوجاؤ۔ مدینے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو لائق نہیں کہ وہ رسول اللہ کے پیچھے رہ جائیں۔ پس یہ حکم اس آیت سے منسوخ ہوگیا۔ اور یہ بھی…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 120
اس آیت کا منشا سمجھنے کے لیے اسی سورة کی آیت 97 پیش نظر رکھنی چاہیے جس میں فرمایا گیا کہ
”بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کی حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے“۔
وہاں صرف اتنی بات بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا تھا کہ دارالاسلام کی دیہاتی آبادی کا بیشتر حصہ مرض نفاق میں اس وجہ سے مبتلا ہے کہ یہ سارے کے سارے لوگ جہالت میں پڑے ہوئے ہیں، علم کے مرکز سے وابستہ نہ ہونے اور اہل علم کی صحبت میسر نہ آنے کی وجہ سے اللہ کے دین کی حدود ان کو معلوم نہیں ہیں۔ اب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ دیہاتی آبادیوں کو اس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (ہمیشہ کیلئے) مسلمانوں کو یہ (بھی) نہ چاہئے کہ (جہاد کے واسطے) سب کے سب (ہی) نکل کھڑے ہوں (کہ اس میں دوسری اسلامی ضروریات معطل ہوتی ہیں) سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر ہر بڑی جماعت میں سے ایک ایک چھوٹی جماعت (جہاد میں) جایا کرے (اور کچھ اپنے وطن میں رہ جایا کریں) تاکہ باقی ماندہ لوگ (رسول اللہ ﷺ کے وقت میں آپ سے اور آپ کے بعد علماء شہر سے) دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اپنی قوم کو (جو کہ جہاد میں گئے ہوئے ہیں) جبکہ وہ ان کے پاس آویں (دین کی باتیں سنا کر خدا کی نافرمانی سے) ڈراویں تاکہ وہ (ان سے دین کی باتیں سن کر برے کاموں سے) احتیاط رکھیں۔
معارف و…
Read the full tafseer →نفاق کی بیماری کا علاج : وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً ۭ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْهِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ۔
یہ بات بھی صادقین کی معیت اور رفاقت ہی کے پہلو سے ارشاد ہوئی ہے۔ اوپر آیت 97 میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ اعراب نے نبی اور صالحین کی صحبت بہت کم اٹھائی ہے۔ وہ حلال و حرام کی حدود سے بیخبر ہیں، اس وجہ سے کفر و نفاق کی بیماری کا حملہ ان پر آسانی سے ہوجاتا ہے۔ اب یہ ان کو اس کمزوری کے علاج کی طرف توجہ دلائی کہ ان لوگوں کو زیادہ سے زیادہ پیغمبر اور…
Read the full tafseer →122۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک اس کا تعلق بھی حکم جہاد سے ہے۔ اور مطلب یہ کہ پچھلی آیت میں جب پیچھے رہنے والوں کے لئے سخت وعید اور لعنت ملامت بیان کی گئی تو صحابہ کرام بڑے محتاط ہوگئے اور جب بھی جہاد کا مرحلہ آتا تو سب کے سب اس میں شریک ہونے کی کوشش کرتے۔ آیت میں انہیں حکم دیا گیا ہر جہاد اس نوعیت کا نہیں ہوتا کہ جس میں ہر شخص کی شرکت ضروری ہو (جیسا کہ تبوک میں ضروری تھا) بلکہ گروہ کی ہی شرکت کافی ہے۔ یعنی ایک گروہ جہاد پر چلا جائے اور ایک گروہ پیچھے رہے، جو دین کا علم حاصل کرے۔ اور جب مجاہدین واپس آئیں تو انہیں بھی احکام دین سے آگاہ کر کے انہیں ڈرائیں۔ دوسری تفسیر اس کی یہ ہے کہ اس آیت کا تعلق…
Read the full tafseer →98: سورة توبہ کے ایک بڑے حصے میں ان لوگوں کو ملامت کی گئی ہے جو تبوک کے جہاد میں شریک نہیں ہوئے تھے، روایات میں آتا ہے کہ ان آیات کریمہ کو سن کر صحابہ نے یہ ارادہ کرلیا کہ آئندہ جو بھی جہاد ہوگا اس میں وہ سب جایا کریں گے، اس آیت نے واضح فرمادیا کہ ہمیشہ کے لئے یہ سوچنا صحیح نہیں ہے، غزوہ تبوک میں تو ایک خاص ضرورت پیش آئی تھی، جس کی وجہ سے تمام مسلمانوں کو نکل کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن عام حالات میں مسلمانوں کو تقسیم کار پر عمل کرنا چاہیے، جب تک امیر کی طرف سے نفیر عام (یعنی ہر شخص کو جہاد میں شریک ہونے) کا حکم نہ ہو، جہاد فرض کفایہ ہے، اگر ہر بڑی جماعت میں سے کچھ لوگ جہاد کے لئے چلے…
Read the full tafseer →وما کان المؤمنون لینفروا کآفۃ اور (ہمیشہ کیلئے) مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہئے کہ جہاد کیلئے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں۔ یہ نفی بمعنی نہی ہے ‘ یعنی طلب علم کیلئے تمام مسلمان اپنے وطنوں سے نہ نکل پڑیں ‘ اس سے معاشرہ کا بگاڑ اور معاش کا فساد پیدا ہوجائے گا۔
فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طآئفۃ لیتفقھوا فی الدین سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ یہ (باقی ماندہ) لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں۔ یعنی ہر بڑی جماعت مثلاً ایک قبیلہ یا ایک شہر یا ایک بستی میں سے چھوٹا گروہ کیوں طلب علم کیلئے نہیں نکلا کہ تکلیفیں اور مشقتیں اٹھا کر دینی سمجھ حاصل کرتا اور دین…
Read the full tafseer →5 گذشتہ رکوعات میں " جہاد " میں نکلنے کی فضیلت اور نہ نکلنے پر ملامت تھی۔ ممکن تھا کوئی یہ سمجھ بیٹھے کہ ہمیشہ ہر جہاد میں تمام مسلمانوں پر نکلنا فرض عین ہے، اس آیت میں فرمایا کہ نہ ہمیشہ یہ ضروری ہے، نہ مصلحت ہے کہ سب مسلمان ایک دم جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوں۔ مناسب یہ ہے کہ ہر قبیلہ اور قوم میں سے ایک جماعت نکلے، باقی لوگ دوسری ضروریات میں مشغول ہوں۔ اب اگر نبی کریم ﷺ بنفس نفیس جہاد کے لیے تشریف لے جا رہے ہوں تو ہر قوم میں سے جو جماعت آپ کے ہمراہ نکلے گی وہ حضور ﷺ کی صحبت میں رہ کر اور سینکڑوں حوادث و واقعات میں سے گزر کر دین اور احکام دینیہ کی سمجھ حاصل کرے گی اور واپس آکر اپنی باقی ماندہ قوم…
Read the full tafseer →آیت 122 وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ط
مدینہ کے مضافات میں بسنے والے بدو قبائل کا تذکرہ پچھلی آیات میں ہوچکا ہے : اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ کُفْرًا وَّنِفَاقًا۔۔ یہ بدو لوگ کفر اور نفاق میں بہت زیادہ سخت تھے اور اس کا سبب علم دین سے ان کی نا واقفیت تھی۔ اس لیے کہ انہیں حضور ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ اب اس کے لیے یہ تو ممکن نہیں تھا کہ سارے بادیہ نشین لوگ اپنی اپنی آبادیاں چھوڑتے اور مدینہ میں آکر آباد ہوجاتے۔ چناچہ یہاں اس مسئلہ کا حل بتایا جا رہا ہے۔
فَلَوْلاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوْا فِی الدِّیْنِ
یہاں اس…
Read the full tafseer →139 دین کا علم سیکھنا فرض کفایہ ہے :۔ اس آیت کے دو مفہوم بیان کیے جاتے ہیں۔ اور وہ دونوں ہی درست ہیں۔ ایک یہ کہ یہ آیت جہاد سے متعلق ہے۔ اور اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہاد فرض عین نہیں البتہ جب اسلامی حکومت کی طرف سے جہاد کا اعلان عام ہوجائے تو اس وقت صاحب استطاعت لوگوں پر جہاد فرض عین ہوجاتا ہے جیسا کہ غزوہ تبوک میں ہوا تھا اور اس صورت میں جہاد سے پیچھے رہ جانے والے گنہگار ہوتے ہیں اور سب لوگوں کے لیے یہ ممکن اس لیے نہیں ہوتا بلکہ بسا اوقات مسلمانوں کا ایک حصہ پیچھے رہنا ضروری ہوتا ہے تاکہ دارالخلافہ یا دوسرے اہم مقامات کی دشمن سے حفاظت کرسکیں۔ عند الضرورت فوج کو رسد اور کمک بھیج…
Read the full tafseer →229۔ غزوۂ تبوک کی صورت خاص تھی اس کے بعد آیندہ کے لئے مستقل ہدایت ہوگئی کہ سارے مسلمان شہر خالی کرکے ہرگز اکبارگی نہ نکل کھڑے ہوں، بجز اس حال کے کہ امام ہی نفیر عام کا حکم دے دے، اور جہاد ہر فرد پر فرض عین ہوجائے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دینی مہم کا انتظام ایسا کرنا چاہیے کہ دوسری ضروریات جن میں امر معاش بھی داخل ہے مختل نہ ہونے پائیں۔
230۔ (تعلیم و تعلم کے ذریعہ سے) (آیت) ” من کل فرقۃ “۔ یعنی شہر کی کل آبادی سے فرقۃ کا استعمال یہاں گروہ کثیر کے لئے ہوا ہے۔ کا ھل بلدۃ اوقبیلۃ عظیمۃ (روح) فرقۃ اے جماعۃ کثیرۃ (کشاف۔ مدارک) (آیت) ” منھم طآئفۃ۔۔ طآئفۃ “۔ کا لفظ یہاں چھوٹی جماعت کے لئے آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
آیت نمبر 119 تا 122
ترجمہ : اے ایمان والو ترک معصیت کر کے اللہ سے ڈرو اور ایمان اور معاہدوں میں سچوں کے ساتھ رہو بایں صورت کہ سچ کو لازم پکڑے رہو، مدینہ والوں کے لئے اور اس کے اطراف کے دیہاتی باشندوں کے لئے ہرگز یہ مناسب نہیں تھا کہ غزوہ کے وقت رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ زیبا کہ اپنی جانوں کو آپ ﷺ کی جان سے عزیز سمجھیں بایں صورت کہ اپنی جانوں کو ان شدائد سے بچائیں کہ جن کو آپ ﷺ نے اپنے لئے پسند فرمایا ہے، (لا یرغبون) بصورت نہی خبر ہے، یہ یعنی تخلف سے ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ان کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو جسمانی مشقت اٹھانی پڑی اور جو بھوک اللہ کی راہ میں ان کو لگی اور جو کسی…
Read the full tafseer →وما کان المؤمنون لینفروا کآفۃ اور (ہمیشہ کیلئے) مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہئے کہ جہاد کیلئے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں۔ یہ نفی بمعنی نہی ہے ‘ یعنی طلب علم کیلئے تمام مسلمان اپنے وطنوں سے نہ نکل پڑیں ‘ اس سے معاشرہ کا بگاڑ اور معاش کا فساد پیدا ہوجائے گا۔
فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طآئفۃ لیتفقھوا فی الدین سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ یہ (باقی ماندہ) لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں۔ یعنی ہر بڑی جماعت مثلاً ایک قبیلہ یا ایک شہر یا ایک بستی میں سے چھوٹا گروہ کیوں طلب علم کیلئے نہیں نکلا کہ تکلیفیں اور مشقتیں اٹھا کر دینی سمجھ حاصل کرتا اور دین…
Read the full tafseer →(122) اور ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہیے کہ جہاد کے لیے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں اور (آپ کے زمانہ میں) نبی اکرم ﷺ کو تنہا مدینہ منورہ میں چھوڑ دیں۔
ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر ہر بڑی جماعت میں سے ایک ایک چھوٹی جماعت (یعنی کچھ لوگ) جہاد میں جایا کریں اور کچھ جماعت مدینہ منورہ میں رہ جایا کرے تاکہ یہ باقی ماندہ لوگ رسول اکرم ﷺ سے آپ کے وقت میں (اور آپ کے بعد علماء شہر سے) دینی معلومات حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اس قوم کو جو جہاد میں گئی ہے، جب کہ وہ جہاد سے ان کے پاس آئیں ان کو دین کی باتیں سنا کر اللہ کی نافرمانی سے ڈرادیں تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ کن کن باتوں کا حکم دیا…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّةً : ”نَفَرَ یَنْفِرُ“ عام طور پر لڑائی کے لیے نکلنے کے معنی میں آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ) [ التوبۃ : 38 ] اور فرمایا : (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا) [ التوبۃ : 41 ] اور فرمایا : (اِلَّا تَنْفِرُوْا يُعَذِّبْكُمْ) [ التوبۃ : 39 ] اور فرمایا : (وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ) [ التوبۃ : 81 ] اور یہ سورت شروع سے آخر تک جہاد ہی کے تذکرے سے بھری پڑی ہے، اس لیے ”لِيَنْفِرُوْا“ کا معنی ”لڑائی کے لیے نکلیں“ ہی سیاق سے مناسبت رکھتا ہے۔ جنگ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 122۔
اس آیت میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وما کان المؤمنون “۔ بات یہ ہے کہ جہاد فرض عین نہیں ہے بلکہ فرض کفایہ ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے (لہذا یہ نہیں ہو سکتا کہ سارے کے سارے مومن نکل کھڑے ہوں) کیونکہ اگر تمام نکل پڑیں تو ان کے پیچھے اہل و عیال ضائع ہوجائیں، ہلاک ہوجائیں، پس چاہیے کہ ان میں سے ایک فریق جہاد کے لیے نکلے اور ایک فریق مقیم رہے تاکہ وہ دین میں تفقہ حاصل کریں اور وہ حرام کی ہوئی اشیاء کو خوب یاد کریں، یہاں تک کہ جب جہاد پر جانے والے لوٹ کو آئیں تو مقیم رہنے والے انہیں وہ بتائیں جو احکام شرع میں سے انہوں نے سیکھیں ہیں اور وہ جن کا نزول حضور…
Read the full tafseer →علم دین حاصل کرنا ضروری ہے :
1:۔ ابوداود نے اپنی ناسخ میں وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیات (آیت) ” انفروا خفافا وثقالا “ (اور) ” الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما “ اور اس آیت ” وما کان المومنون لینفروا کآفۃ “ سے منسوخ کردی گئی اور فرماتے ہیں کہ ایک جماعت کو چاہئے کہ وہ چلی جائے (جہاد میں) اور ایک جماعت کو چاہئے کہ وہ ٹھہری رہے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ٹھہرنے والے لوگ وہ ہوں جو دین میں سمجھ رکھتے ہیں اور اپنے ان بھائیوں کو ڈراسکتے ہیں جب وہ ان کی طرف جنگ سے واپس لوٹ کر آملیں شاید کہ وہ بچیں (ان احکام کی خلاف ورزی سے) جو ان کے بعد اللہ…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ [ اور نہیں ہیں مومن لوگ ] لِيَنْفِرُوْا [ کہ وہ نکلیں ] كَاۗفَّةً ۭ [ سب کے سب ] فَلَوْلَا نَفَرَ [ تو کیوں نہیں نکلا ] مِنْ كُلِّ فِرْقَــةٍ [ ہر ایک فرقۃ سے ] مِّنْھُمْ [ ان میں سے ] طَاۗىِٕفَةٌ [ ایک گروہ ] لِّيَتَفَقَّهُوْا [ تاکہ وہ سوجھ بوجھ حاصل کریں ] فِي الدِّيْنِ [ دین میں ] وَلِيُنْذِرُوْا [ اور تاکہ وہ خبردار کریں ] قَوْمَھُمْ [ اپنی قوم کو ] اِذَا [ جب ] رَجَعُوْٓا [ وہ لوٹیں ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] لَعَلَّھُمْ [ شایدوہ لوگ ] يَحْذَرُوْنَ [ بچتے رہیں ]
نوٹ ۔ 2 : مذکورہ آیت نمبر ۔ 122 سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ دین کا علم حاصل کرنا فرض کفایہ ہے ۔…
Read the full tafseer →جہاد اور تفقہ فی الدین میں مشغول رہنے کی اہمیت اور ضرورت
دین اسلام کامل ہے، مکمل ہے، جامع ہے۔ انسانی زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی ہے اس میں اعتقادیات بھی ہیں اور عبادات بھی، اخلاق بھی ہیں اور آداب بھی، معاشرت کے طریقے بھی ہیں اور معاملات کے احکام بھی، بیاہ شادی بھی ہے اور اولاد کی پرورش بھی، مال کمانے کے جتنے طریقے ہیں ان کے احکام بھی بتائے ہیں۔ کفر کو مٹانے اور اہل کفر کو نیچا دکھانے کا اور اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے جہاد اور قتال بھی مشروع ہے اور یہ بھی دین کا ایک ضروری اور بہت اہم کام ہے۔ جسے حدیث شریف میں چوٹی کا عمل بتلایا ہے (ذروۃ سنامہ الجھاد) لیکن اگر سارے ہی افراد جہاد میں لگ جائیں…
Read the full tafseer →فرض کفایہ بودن جہاد وفرض کفایہ بودن تحصیل علم دین
قال اللہ تعالیٰ ۔ وما کان ال مومن ون لینفروا کافۃ۔۔۔ الی۔۔۔ لعلھم یحذرون
(ربط): گزشتہ رکوعات میں میں جہاد سے تخلف پر جو ملامت کی گئی اس سے بعض مسلمانوں کو یہ شبہ ہوا کہ ہر جہاد میں مسلمانوں پر نفیر یعنی خروج فرض عین ہے اس لیے اس آیت میں یہ بتلاتے ہیں کہ ہر جہاد میں جانا فرض عین نہیں بلکہ فرض علی الکفایہ ہے اور یہ بتلاتے ہیں کہ جس طرح جہاد فرض علی الکفایہ ہے اسی طرح تفقہ دی الدین یعنی تحصیل علم دین بھی فرض کفایہ ہے جب کوئی لشکر جہاد کے لیے روانہ ہو اور آں حضرت ﷺ شہر میں مقیم ہوں تو ایک جماعت کا آنحضرت ﷺ کے پاس موجود رہنا ضروری ہے تاکہ وہ آں…
Read the full tafseer →116:“ وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ الخ ” جملہ معترضہ ہے اور اس سے مسئلہ توحید اور مسئلہ جہاد کی تعلیم کی ترغیب دینا مقصود ہے یعنی مسلمانوں میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جوحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ توحید و مسئلہ جہاد کی تعلیم حاصل کرے اور پھر اپنی قوم میں واپس جا کر ان کو ان مسائل کی تعلیم دے اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس حد تک علم دین حاصل کرنا کہ قوم کا معلم اور پیشوا بن سکے ہر مسلمان پر فرضِ عین نہیں بلکہ فرضِ کفایہ ہے۔ البتہ جن احکام کا بجالانا ہر فرد پر فرض ہے ان کا علم سیکھنا بھی ہر فرد پر فرضِ عین ہے۔
Read the full tafseer →ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کی مذمت بیان فرمائی تھی کہ مدینہ اور اطراف میں رہنے والوں کے لیے یہ کسی طرح مناسب نہیں تھا کہ وہ جہاد سے گریز کرتے۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ جہاد کے سفر میں رسول خدا کے ساتھ رفاقت اختیار کرتے اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اہل ایمان کو چاہیے تھا کہ وہ نبی کی جان کو اپنی جانوں پر ترجیح دیتے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ کے راستے میں جو بھی تکلیف ، پریشانی یا مشقت برداشت کرنی پڑیگی ، اللہ تعالیٰ ہر ایسی بات کے بدلے میں نیکی لکھے گا۔ اور ا س کا بہتر سے بہتر اجر عطا فرمائے گا۔
تقسیم کار :
جب اللہ تعالیٰ نے جہاد سے پیچھے رہنے والوں کی بار…
Read the full tafseer →وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا كَاۗفَّۃً 0 ۭ فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَــۃٍ مِّنْھُمْ طَاۗىِٕفَۃٌ لِّيَتَفَقَّہُوْا فِي الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَيْہِمْ لَعَلَّھُمْ يَحْذَرُوْنَ 122 ۧ
نفر
النَّفْرُ : الانْزِعَاجُ عن الشیءِ وإلى الشیء، کالفَزَعِ إلى الشیء وعن الشیء . يقال : نَفَرَ عن الشیء نُفُوراً. قال تعالی: ما زادَهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ فاطر/ 42] ، وَما يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُوراً [ الإسراء/ 41] ونَفَرَ إلى الحربِ يَنْفُرُ ويَنْفِرُ نَفْراً ، ومنه : يَوْمُ النَّفْرِ. قال تعالی: انْفِرُوا خِفافاً وَثِقالًا
[ التوبة/ 41] ، إِلَّا…
Read the full tafseer →2 ؎ برے کاموں سے 12 منہ
3 ؎ یعنی اگر سب کے جانے کی مقابلہ کے لیے ضرورت ہو تو سب ورنہ بعض کا جانا کافی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
وَمَاکَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ط فَلوْلاَ نَفَرَمِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنھُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فیِ الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْ ٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ ۔ ع (التوبہ : 122)
(ضروری نہ تھا کہ صاحب ایمان سارے کے سارے نکل کھڑے ہوتے پس کیوں نہ نکلے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ تاکہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو خبر دار کرتے جب ان کی طرف لوٹ کر جاتے تاکہ وہ بھی بچتے رہیں۔ غیر مسلمانہ روش سے۔ )
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سورة توبہ نو ہجری کے اختتام پر نازل ہوئی ہے۔ ممکن ہے اس کے کچھ احکام دس ہجری کے آغاز میں نازل ہوئے ہوں۔ اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہاد میں بھی فہم دین اور علم کی طرف توجہ مبذول رکھنے کا حکم۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ ہوتا ہی وہ ہے جس کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہو یعنی اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے ہر محاذ پر کوشش کرنا۔ مگر جب کوئی قوم یا مجاہد مسلسل جہاد میں مصروف رہے گا تو دین کے بنیادی علم کی طرف اس قدر توجہ نہیں دے پائے گا۔ جس کا حصول ایک مسلمان کے لیے لازم ہے۔ اس لیے عین حالت جنگ میں حکم ہوا ہے کہ تم میں ایسی جماعت ضرور ہونی چاہیے جو جہاد میں مصروف کار ہونے کی بجائے صرف اور صرف دین سیکھنے سکھانے پر توجہ مبذول رکھے۔ تاکہ میدان کارزار سے واپس آنے والے مجاہد اپنے ایمان کی بیٹری چارج…
Read the full tafseer →کچھ جہاد میں جائیں تو دوسرے دین کا فہم حاصل کریں :
آیت 122: وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآ فَّۃً ( مؤمنوں کو یہ نہ چاہیے کہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں) لام تاکید نفی کیلئے ہے تمام مسلمانوں کا طلب علم کیلئے اپنے وطنوں سے کوچ کرنا صحیح نہیں کیونکہ اس سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ فَلَوْلَا نَفَرَ (کیوں نہ نکلی چھوٹی جماعت) جب تمام کا کوچ نہیں تو پھر ایک گروہ کیونکر ایسا نہیں مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآپفَۃٌ ( ہر ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت) ہر بڑی جماعت میں سے چھوٹی جماعت تاکہ ان کا کوچ کر ناکفایت کر جائے۔ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ (تاکہ باقی ماندہ لوگ دین کی سمجھ بوجھ…
Read the full tafseer →تفسیر 122:” وماکان المئومنون لینفروا کآفۃ “ کلبی (رح) کی روایت میں ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے منافقین کے عیب بیان کیے غزوہ تبوک میں تو نبی کریم ﷺ جو لشکر بھیجتے تو تمام مسلمان غزوہ کی طرف نکل کھڑے ہوتے اور نبی کریم ﷺ کو تنہا چھوڑ دیتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور یہ نفی نہی کے معنی میں ہے۔” فلو لا نفر من کل فرقۃ منھم طآ ئفۃ “ یعنی کیوں نہیں نکلتی جنگ کی طرف ایک جماعت ہر قبیلہ کی اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جماعت باقی رہ جائے۔” لیتفقھوا فی الدین “ یعنی پیچھے رہ جانے والے قرآن اور سنن اور فرائض و احکام سیکھیں۔ پھر جب لشکر واپس آجائیں تو ان کو خبر دیں کہ ان کے بعد…
Read the full tafseer →122۔ یہاں مفسروں کا اختلاف ہے اکثر یہ کہتے ہیں کہ جب جہاد کے لئے خدا نے تاکید فرمائی اور گھروں میں بیٹھ رہنا منع فرمایا تو کل مسلمانوں نے یہ صلاح کرلی کہ اب جب کبھی کوئی لڑائی ہوگی تو سب کے سب شریک ہوا کریں گے چناچہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آئے اور ایک لڑائی پر لشکر بھیجنا چاہا تو سارے مسلمان جانے پر تیار ہوگئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور فرمایا کہ سب نہ جاؤ کچھ لوگ دین کی باتیں سیکھنے کو رہ جاؤ اور جو نیا حکم قرآن کا اتارا جائے یا شریعت میں کوئی نئی بات بتلائی جائے اس کو سمجھو اور جب تمہارے دوسرے بھائی جہاد سے واپس آویں تو انہیں بتلاؤ بعضے کہتے ہیں کہ یہ آیت ہی الگ ہے جہاد کی…
Read the full tafseer →آیت (122)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو ان چیزوں سے آگاہ کرتے ہوئے ‘ جو ان کے لائق ہیں ‘ فرماتا ہے : (وما کانا لمومنون لینفرواکافۃ) ” اور ایسے تو نہیں مومن کہ کوچ کریں سارے “ یعنی یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تمام کے تمام مومن دشمن کے خلاف جنگ کے لئے نکل پڑیں ‘ کیونکہ اس طرح وہ مشقت میں پڑجائیں گے اور بہت سے دیگر مصالح فوت ہوجائیں گے۔ (فلو لا نفر من کان فرقۃ منھم) ” پس کیوں نہ نکلا ہر گروہ میں سے “ یعنی شہروں ‘ قبیلوں اور خاندانوں میں سے (طائفۃ) ” انکا ایک حصہ “ جس سے ان کا مقصد اور کفایت حاصل ہوجاتی تو یہ بہتر تھا۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو آگاہ فرمایا کہ جو لوگ جہاد کے لئے نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–129
دینی علم حاصل کرنا ضروری ہے
قول باری ہے وما کان المومنون لینفروا گا فۃ فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آئے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت نے قول باری انفروا اثبات او انفروا جمعیا ً پھر الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلویا اکٹھے ہو کر کو منسوخ کردیا ہے نیز قول باری انفروا اخفا فاً و ثقا لا ً نکل پڑو ہلکے اور بوجھل بھی اس آیت کی بنا پر منسوخ ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں فرمادیا کہ اہل ایمان کے لیے ضروری…
Read the full tafseer →218 اہل ایمان کو حسن انتظام سے متعلق ایک حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مؤمنوں کو یہ نہیں چاہئے کہ وہ سب نکل پڑیں۔ یعنی جہادفی سبیل اللہ کے لیے اور اپنے پیچھے کسی کو بھی نہ چھوڑیں۔ سو ایسا کرنا درست نہیں کہ یہ حسن انتظام کے خلاف ہے روایات میں ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ جانے والے منافقین کے بارے میں جو سخت آیات اور تنبیہات نازل ہوئیں تو اس کی بناء پر اس کے بعد کے غزوات وسرایا میں سب ہی لوگ نکل پڑے۔ تو اس سے روکنے کے لیے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (جامع البیان وغیرہ) سو اس میں تنبیہ فرمائی گئی کہ مؤمنوں کو یہ نہیں چاہئے کہ سب ہی نکل پڑیں بلکہ حسب ضرورت معقول تعداد میں نکلیں بھی اور…
Read the full tafseer →دینی علم سیکھنے کا حکم
تشریح : اس آیت میں یقینا علم کی برکات کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اسی سورت کی آیت میں دیہاتی لوگوں کی کم علمی کا ذکر کیا گیا تھا جس کی وجہ سے وہ روح اسلام سے ناواقف تھے بس ظاہری مضبوطی اور پھیلائو جو انہوں نے اسلام کا دیکھا تو نام کے مسلمان ہوگئے اس تعلیمی کمی کو پورا کرنا بہت ضروری تھا۔ اسی لیے اللہ رب العزت نے فرمایا کہ دیہاتوں کے مختلف قبیلوں کے کچھ لوگ شہر میں آئیں علم و ادب سیکھیں اور پھر واپس جاکر اپنے لوگوں کو علم و ادب سکھائیں بجائے اس کے کہ سب لوگ ہی شہر میں آجائیں۔ جیسا کہ قرآن پاک کا سب سے پہلا مقصد اور طریقہ یہ ہے کہ وہ زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
آیات 119 تا 122
اسرار و معارف
صحبت کا اثر
یہ لغزش بھی جو مخلصیں سے صادرہوئی اور اللہ کریم نے معاف بھی فرمادی ، مزید انعاواکرام سے بھی نوازا کہ اسقامت بھی بخشی اور اپنی رضامندی کی سند بھی ۔ مگر اس کی وجہ بھی جاننا ضروری ہے لہٰذامومنین کو چاہیئے کہ وہ صحبت صادقین اختیار کریں منافقین سے اگرچہ ولی دوستی نہ تھی ، مگر رسمی ملاقات تو تھی جس کے باعث انھیں ایسی باتیں کرنے کا موقع ہاتھ آیا جس نے مومنیں کے قلوب میں بھی ایک گونہ اضطراب پیدا کردیا ۔ اب یہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کباررضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت کی برکات تھیں کہ ان کے قلوب میں خلوص جاگزیں تھا جو رحمت باری کے نزول کا سبب بنا اور یوں بات…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی ان کاموں سے بچے رہیں جن سے اس کے بعد منع کیا گیا۔ مفسرین کے ایک گروہ کا خیال ہے کہ جب ان لوگوں کو سخت لعنت ملامت کی گئی جو جہاد کے لئے نکلنے کی بجائے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے تھے تو مسلمانوں نے خیال کیا کہ اب کسی کیلئے جہاد کے موقع پر مدینہ میں ٹھہرے رہنا جائز نہیں ہے۔ چناچہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ جب بھی کفار سے جہاد کے لئے فوج بھیجنے کا ارادہ کرتے سب کے سب مسلمان جہاد پر جانے کیلئے تیار ہوجاتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ مطلب یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کے لئے جہاد کو نکلنا اس وقت فرض ہے جب آنحضرت ﷺ خود روانہ ہورہے ہوں ورنہ تو انہی لوگوں پر جہاد کے لئے ضروری ہے جن کو حکم دیا…
Read the full tafseer →(9:122) لینفروا۔ کہ نکل جائیں۔ نکل کھڑے ہوں۔ (جہاد کے لئے) یا علم دین کے حصول کے لئے۔ یا تبلیغ کے لئے۔
کافۃ۔ اسم فاعل ۔ مفرد۔ مؤنث۔ منصوب ۔ اس صورت میں تاء مبالغہ کے لئے ہوگی۔ استعمال میں کافۃ ہمیشہ حال منصوب اور نکرہ ہوتا ہے ۔ جس کے معنی ہیں سب کے سب۔ پورے کے پورے۔
لولا۔ کیوں نہ۔ تفصیل کے لئے 6:43 ملاحظہ ہو۔
نفر۔ ماضی مذکر غائب۔ نفر نفور نفار مصدر۔ (باب سمع وضرب) کیوں نہ نکلے۔ کیوں نہ نکل کر جائے۔
لیتفقہوا۔ مضارع منصوب۔ جمع مذکر غائب۔ تفقہ مصدر۔ تاکہ سمجھ حاصل کرتے رہیں دین کے مسائل سیکھتے رہیں۔
لعلہم یحذرون۔ تاکہ وہ (نافرمانیوں سے بچیں ) ۔ ڈریں۔ الحذر (سمع) خوف زدہ کرنے والی چیز سے دور…
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 122
لینفروا (تاکہ نکل پڑیں) کا قۃ (سب کے سب) لیتفقھوا (تاکہ وہ سمجھ پیدا کریں) لینذروا (تاکہ وہ ڈرائیں رجعوا (وہلوٹے) یحذرون (وہ بچتے ہیں)
تشریح : آیت نمبر 122
غزوہ تبوک کا موقع وہ تھا جہاں بنی کریم ﷺ نے تمام تر وسائل کے ساتھ تمام ان مسلمانوں کو جنہیں کوئی واقعی عذر نہ ہو اس جہاد میں شرکت کا حکم فرما دیا تھا کیونکہ مقابلہ روم کی سلطنت سے تھا جو اس وقت دنیا کی سپر پاور تھی اگر بروقت اقدام نہ کیا جاتا تو رومی سلطنت مسلم مملکت کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتی لیکن اتنی بڑی فوج کی پیش قدمی نے رومی سلطنت کے حصولے پسند کردیئے بلکہ اچانک اتنی بڑی فوج کو دیکھ کر ان کو مقبالہ پر آنے کی…
Read the full tafseer →شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ جب جہاد کے لئے خدا نے تاکید فرمائی اور گھروں میں بیٹھ رہنا منع فرمایا تو کل مسلمانوں نے یہ صلاح کر لئ کہ اب جب کبھی لڑائی ہوگی تو سب کے سب شریک ہوا کریں گے۔ چناچہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک سے واپس آئے اور ایک لڑائی پر لشکر بھیجنا چاہا تو سارے مسلمان جانے پر تیار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ سب نہ جاؤ۔ کچھ لوگ دین کی باتیں سیکھنے کو رہ جاؤ اور کوئی نیا حکم قرآن کا اتارا جائے، یا شریعت مین کوئی نئی بات بتلائی جائے اس کو سمجھو اور جب تمہارے دوسرے بھائی جہاد سے واپس آویں تو انہیں بتلاؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بقدر ضرورت علم دین دیکھنا فرض عین…
Read the full tafseer →[71] اس سے پہلے آیت 97 میں فرمایا تھا کہ دارالاسلام کی دیہاتی آبادی کا بیشتر حصہ نفاق میں اس وجہ سے مبتلا ہے کہ یہ لوگ علم دین سے بےبہرہ ہیں۔ اب یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کی جہالت دور کرنے کے لئے تعلیم کا ایک عام نظم قائم کرنا چاہئے۔ اس غرض کے لئے ہر بستی اور ہر دیہاتی علاقے سے کچھ لوگ تعلیم و تربیت کے مرکز مدینہ میں رہ کر دین میں بصیرت پیدا کریں اور پھر اپنی آبادیوں میں جا کر دوسروں کو تعلیم دیں۔
Read the full tafseer →عسکری ترتیب :
(ف 1) آیت کا نزول سیاق جہاد میں ہوا ہے ، اس لئے تفقہ فی الدین سے غرض عسکری ترتیب اور ٹریننگ ہے ، یعنی جہاد کا اذن عام ہوجائے ، تو سب لوگ نہ نکل کھڑے ہوں بعض ایسے بھی رہیں جو غازیوں کی تربیت کریں اور انہیں جنگ کے رموزواسرار سے آگاہ کریں ، بات یہ تھی کہ جب حضور ﷺ جہاد کے لئے اعلان فرماتے تو تمام صحابہ کرام ؓ اجمعین شوق شہادت میں غزوہ کے لئے تیار ہوجاتے ، اور مدینہ طیبہ بالکل خالی ہوجاتا اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ بعض لوگوں کو تعلیم وتربیت کے لئے پیچھے رہنا چاہئے جہاد کے لئے لوگوں کو تیار کرنا یہ بھی تو جہاد ہے ۔
بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیت طلب علم کے لئے مستقل وبالذات ہے ، اسے سیاق…
Read the full tafseer →122 اور مسلمانوں کو یہ بھی نہیں چاہئے کہ جہاد کیلئے سب کے سب گھروں سے نکل کھڑے ہو سو ایسا کیوں نہیں کرتے کہ ہر بڑی جماعت میں سے ایک حصہ نکلے تاکہ باقی ماندہ لوگ دین کی سمجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ جب یہ مجاہدین ان کی طرف جہاد سے واپس آئیں تو یہ دین کی سمجھ حاصل کرنے والے ان کو خدا کے احکام سناکر ڈرائیں تاکہ وہ گناہوں سے بچتے رہیں۔
ایک تو یہ مطلب کہ جہاد میں کچھ لوگ نکلیں اور کچھ پیغمبر کی خدمت میں حاضر رہیں اور دین حاصل کرتے رہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ طلب علم کے لئے یہ آیت ہو اور معنیٰ یہ ہوں کہ طلب علم کے لئے ہر قبیلہ اور ہر بستی میں سے ایک جماعت دینی کام حاصل کرنے کے لئے نکلے تاکہ جب تحصیل…
Read the full tafseer →ف 2۔ باقی ماندہ لوگوں کے رہ جانے میں جو مصلحت ہیں ان میں سے ایک بڑی مصلحت کہ دینی مصلحت ہے ذکر فرمادیا اس کے علاوہ دنیا کی بھی مصلحتیں ہیں جو ظہور کی وجہ سے محتاج ذکر نہیں مثلا سب کے چلے جانے میں خود دالاسلام کا قبضہ سے نکل جانا غیر بعید نہیں۔
Read the full tafseer →آئندہ کے لئے مسلمانوں کو ہدایت کہ وہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں :
157: غزوہ تبوک کی ضرورت خاص تھی اس کے بعد آئندہ کے لئے مسلمانوں کو مستقل ہدایت دی جارہی ہے کہ سارے مسلمان شہر خالی کر کے ہرگز یکبارگی نہ نکل کھڑے ہوا کریں بلکہ ہر ایک گروہ اور خاندان میں سے کچھ لوگ نکلیں اور کچھ لوگ شہر میں رہ جائیں جو پچھلے انتظامات کو چلاتے رہیں اور ایک آدمی اپنی ذنہ داری کا احساس کرے مطلب یہ ہے کہ ایک حصہ جہاد میں مصروف ہو اور دوسرا حصہ عام ملکی اور شہری ضروریات کو پورا کرنے کے لئے شہر اور ملک ہی میں رہے اس طرح گویا ہدایت دی گئی کہ آئندہ ملٹری ڈیپارٹمنٹ اور سول ڈیپارٹمنٹ کو علیحدہ علیحدہ کردیا جائے اور انہی لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
Commentary
It will be realized that the expedition of Tabuk has continued appearing as an important subject in Surah At-Taubah. For this battle, a general call of Jihad was given asking all Muslims to participate in it. It was not permissible to contravene the order without a valid excuse. Those who did that were mostly hypocrites who have been mentioned in several verses appearing earlier. Then, some sincere Muslims had also remained behind due to their incidental laziness. Their repentance was accepted by Allah Ta` ala. Obviously, from all these events it can be gathered that the going…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →