مجاہدین کے اعمال کا بہترین بدلہ قربت الٰہی ہے
یہ مجاہد جو کچھ تھوڑا بہت خرچ کریں اور راہ اللہ میں جس زمین پر چلیں پھریں، وہ سب ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ نکتہ یاد رہے کہ اوپر کا کام ذکر کرکے اجر کے بیان میں لفظ " بہ " لائے تھے اور یہاں نہیں لائے اس لیے کہ وہ غیر اختیاری افعال تھے اور یہ خود ان سے صادر ہوتے ہیں۔ پس یہاں فرماتا ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ دے گا۔ اس آیت کا بہت بڑا حصہ اور اس کا کامل اجر حضرت عثمان ؓ نے سمیٹا ہے۔ غزوہ تبوک میں آپ نے دل کھول کر مال خرچ کیا۔ چناچہ مسند احمد میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبے میں اس سختی کے لشکر کے امداد کا ذکر فرما کر اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
سورة التَّوْبَة 118
نبی ﷺ جب تبوک سے مدینہ واپس تشریف لائے تو وہ لوگ معذرت کرنے کے لیے حاضر ہوئے جو پیچھے رہ گئے تھے۔ ان میں 80 سے کچھ زیادہ منافق تھے اور تین سچے مومن بھی تھے۔ منافقین جھوٹے عذرات پیش کرتے گئے اور حضور ان کی معذرت قبول کرتے چلے گئے۔ پھر ان تینوں مومنوں کی باری آئی اور انہوں نے صاف صاف اپنے قصور کا اعتراف کرلیا۔ نبی ﷺ نے ان تینوں کے معاملہ میں فیصلہ کو ملتوی کردیا اور عام مسلمانوں کو حکم دے دیا کہ جب تک خدا کا حکم نہ آئے، ان سے کسی قسم کا معاشرتی تعلق نہ رکھا جائے۔ اسی معاملہ کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ (یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ ان تین اصحاب کا معاملہ ان سات اصحاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
خلاصہ تفسیر
مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش میں (رہتے) ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ (زیبا تھا) کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمج ہیں (کہ آپ تو تکلیفیں سہیں اور یہ آرام سے بیٹھے رہیں، بلکہ آپ کے ہمراہ جانا ضروری تھا اور) یہ (ساتھ جانے کا ضروری ہونا) اس سبب سے ہے کہ (علاوہ ادائے حق محبت رسول اللہ کے ان مجاہدین کو بات بات پر ثواب حاصل ہوا ہے اگر خلاص کے ساتھ جاتے ان کو بھی یہ ملتا چنانچہ) ان کو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں جو پیاس لگی اور جو ماندگی پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو چلنا چلے جو کفار کے لئے موجب غیظ ہوا اور دشمنوں کی جو کچھ خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
تفسیر آیت 120۔ 121: اوپر کے مضمون کی مزید تاکید : مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ لَا يُصِيْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۔ وَلَا يُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً وَّلَا يَـقْطَعُوْنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ…
Read the full tafseer →121۔ 1 پہاڑوں کے میدان اور پانی کی گزرگاہ کو وادی کہتے ہیں۔ مراد یہاں مطلق وادیاں اور علاقے ہیں۔ یعنی اللہ کی راہ میں تھوڑا یا زیادہ جتنا بھی خرچ کرو گے اسی طرح جتنے بھی میدان طے کرو گے، (یعنی جہاد میں تھوڑا یا زیادہ سفر کرو گے) یہ سب نیکیاں تمہارے نامہ اعمال میں درج ہونگی جن پر اللہ تعالیٰ اچھا سے اچھا بدلہ عطا فرمائے گا۔
Read the full tafseer →97: یعنی اگرچہ ان اعمال میں سے بعض چھوٹے نظر آتے ہوں، لیکن ان کا ثواب ان مجاہدین کے بہترین اعمال کے برابر دیا جائے گا۔ (یہاں یہ واضح رہے کہ قرآن کریم میں احسن (بہترین) کو اعمال کی صفت قرار دیا گیا ہے، اور اسے جزاء کی صفت قرار دینے پر علامہ ابو حیان نے البحر المحیط میں نحوی اعتبار سے جو اشکال پیش کیا ہے، اس کا کوئی اطمینان بخش جواب نہیں دیا جاسکا، چنانچہ علامہ آلوسی نے بھی اس اعتراض کو نقل کر کے اس کی تائید ہی کی ہے۔ لہذا یہاں ترجمہ اس تفسیر کے مطابق کیا گیا ہے جو مدارک التنزیل میں مذکور ہے۔
Read the full tafseer →ولا ینفقون نفقۃ صغیرۃ ولا کبیرۃ اور نیز جو کچھ چھوٹا بڑا (راہ خدا میں) انہوں نے صرف کیا۔ جیسے حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جیش عسرت کی تیاری کے موقع پر مال صرف کیا۔
ولا یقطعون وادیاً الا کتب لھم اور جتنے میدان ان کو طے کرنا پڑے ‘ یہ سب بھی ان کے نام نیکیوں میں لکھے گئے۔ یعنی آتے جاتے جس وادی کو بھی وہ قطع کرتے ہیں ‘ اس کو لکھ لیا جاتا ہے۔ وادی نالہ جس میں سیلاب کا پانی (پہاڑ سے آ کر) بہتا ہے۔ وادی اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ وَدِی (ماضی) جاری ہوگیا ‘ بہہ گیا۔ مجازاً اس سے زمین مراد ہوتی ہے ‘ اس معنی میں استعمال عام ہے۔
لیجزیھم اللہ احسن ما کانوا یعملون تاکہ اللہ ان کو ان کے نیک…
Read the full tafseer →3 خرچ کرنا یا میدان طے کرنا، خود عمل صالح اور اختیاری افعال ہیں۔ اسی لیے یہاں " اِلاَّ کُتِبَ لَہُمْ " فرمایا۔ گذشتہ آیت کی طرح الاَّ کُتِبَ لَہُمْ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ" نہیں ارشاد ہوا۔ نبہ علیہ ابن کثیر۔
4 یعنی بہترین عمل کی بہترین جزاء دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
آیت 120 مَا کَانَ لِاَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَمَنْ حَوْلَہُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ وَلاَ یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِہِمْ عَنْ نَّفْسِہٖ ط
غزوۂ تبوک کے لیے نکلتے ہوئے مدینہ کے ماحول میں تپتی راہیں مجھ کو پکاریں ‘ دامن پکڑے چھاؤں گھنیری والا معاملہ تھا۔ لہٰذا جب اللہ کے رسول ﷺ ان تپتی راہوں کی طرف کوچ فرما رہے تھے تو کسی ایمان کے دعویدار کو یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے رہ جائے ‘ آپ ﷺ کی جان سے بڑھ کر اپنی جان کی عافیت کی فکر کرے اور آپ ﷺ کے سفر کی صعوبتوں پر اپنی آسائشوں کو ترجیح دے۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ لاَ یُصِیْبُہُمْ ظَمَاٌ وَّلاَ…
Read the full tafseer →138 پہلی آیت میں ہر اختیاری و غیر اختیاری فعل کے بدلے اعمال صالحہ لکھنے کا ذکر کیا۔ اس آیت میں بالخصوص ان اعمال کا ذکر کیا جو اختیاری ہی ہوسکتے ہیں اور جہاد فی سبیل اللہ کی بنیاد ہیں۔ یعنی زاد سفر، سواری اور اسلحہ پر جو بھی میسر آسکے خرچ کرتے ہیں۔ پھر سفر جہاد پر نکل بھی کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ انہیں ان کاموں کا بہتر صلہ ضرور عطا فرمائے گا یعنی یہ اعمال بلند تر درجہ کے صالح اعمال ہوئے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کاموں کا جو بہتر سے بہتر بدلہ ہوسکتا ہے وہی اللہ انہیں عطا فرمائے گا۔
Read the full tafseer →228۔ یعنی ان میں ہی سے ہر عمل پر ان کے نام نیکی لکھ لی گئی، اللہ کی راہ میں ہر قدم اٹھانے کے لئے بےحساب اجروانعام کا اگر استحضار رہے تو اس کے بعد پھر جہاد و قتال کی سخت سے سخت کلفتوں کے پتھر بھی پانی ہوجاتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
آیت نمبر 119 تا 122
ترجمہ : اے ایمان والو ترک معصیت کر کے اللہ سے ڈرو اور ایمان اور معاہدوں میں سچوں کے ساتھ رہو بایں صورت کہ سچ کو لازم پکڑے رہو، مدینہ والوں کے لئے اور اس کے اطراف کے دیہاتی باشندوں کے لئے ہرگز یہ مناسب نہیں تھا کہ غزوہ کے وقت رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ زیبا کہ اپنی جانوں کو آپ ﷺ کی جان سے عزیز سمجھیں بایں صورت کہ اپنی جانوں کو ان شدائد سے بچائیں کہ جن کو آپ ﷺ نے اپنے لئے پسند فرمایا ہے، (لا یرغبون) بصورت نہی خبر ہے، یہ یعنی تخلف سے ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ان کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو جسمانی مشقت اٹھانی پڑی اور جو بھوک اللہ کی راہ میں ان کو لگی اور جو کسی…
Read the full tafseer →ولا ینفقون نفقۃ صغیرۃ ولا کبیرۃ اور نیز جو کچھ چھوٹا بڑا (راہ خدا میں) انہوں نے صرف کیا۔ جیسے حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جیش عسرت کی تیاری کے موقع پر مال صرف کیا۔
ولا یقطعون وادیاً الا کتب لھم اور جتنے میدان ان کو طے کرنا پڑے ‘ یہ سب بھی ان کے نام نیکیوں میں لکھے گئے۔ یعنی آتے جاتے جس وادی کو بھی وہ قطع کرتے ہیں ‘ اس کو لکھ لیا جاتا ہے۔ وادی نالہ جس میں سیلاب کا پانی (پہاڑ سے آ کر) بہتا ہے۔ وادی اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ وَدِی (ماضی) جاری ہوگیا ‘ بہہ گیا۔ مجازاً اس سے زمین مراد ہوتی ہے ‘ اس معنی میں استعمال عام ہے۔
لیجزیھم اللہ احسن ما کانوا یعملون تاکہ اللہ ان کو ان کے نیک…
Read the full tafseer →(121) نیز جو کچھ آنے جانے میں کم یا زیادہ جو کچھ انہوں نے خرچ کیا اور دشمن کی تلاش میں جتنے میدان ان کو طے کرنے پڑے یہ سب بھی ان کے نام نیکیوں کے ثواب میں لکھا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے جہاد میں سب کاموں کا نیک بدلہ دے۔
Read the full tafseer →وَلَا يُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِيْرَةً : پچھلی آیت میں جہاد میں کیے جانے والے وہ اعمال بھی ہیں جو انسان کے اختیار میں ہیں اور وہ بھی جو بےاختیار پیش آتے ہیں، مثلاً مشکلات و مصائب، اس آیت میں صرف ان اعمال کا ذکر ہے جو آدمی کے اختیار میں ہیں، مگر جہاد فی سبیل اللہ کی بنیاد ہیں، یعنی زاد سفر، سواری اور اسلحہ پر جو میسر ہو خرچ کرنا، پھر سفر جہاد پر نکل کھڑے ہونا اور جنگل اور وادیاں طے کرتے چلے جانا، سب کچھ لکھا جاتا ہے۔
اس جنگ میں عثمان ؓ نے لشکر کی تیاری میں سب سے بڑھ کر حصہ لیا، یعنی ”نفقہ کبیرہ“ (بڑا خرچ) اور انھوں نے اس وقت صحابہ کو مخاطب کرکے اس کا ذکر بھی فرمایا تھا جب باغیوں نے ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
آیت نمبر : 120 تا 121۔
اس آیت میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ “۔ یہ کلام ظاہر کے اعتبار سے خبر ہے لیکن اس کا معنی ہے، جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے : (آیت) ” وما کان لکم ان تؤذوا رسول اللہ “۔ (الاحزاب : 53) (اور تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اذیت پہنچاؤ اللہ کے رسول کو) اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
(آیت) ” ان یتخلفوا “۔ یہ محل رفع میں کان کا اسم ہے، اور یہ عتاب اور جھڑک ہے ان مومنین کے لیے جو اہل یثرب میں سے تھے اور اس کے پڑوس میں رہنے والے عرب قبائل سے تھے، جیسا کہ مزینہ، جہینہ، اشجع، غفار اور اسلم جو غزوئہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عمرو بن مالک کے راستے سے عمرو بن مالک (رح) رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ جب (یہ آیت) ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولہم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ “ نازل ہوئی تو رسول اللہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر لوگوں میں ضعیف لوگ نہ ہوتے تو کوئی لشکر ایسا نہ ہوتا مگر میں اس میں شامل ہوتا۔
2:۔ ابن جریر ابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولہم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اس وقت تھا جب اسلام والے تھوڑے تھے۔ جب اسلام والے بہت ہوگئے اور اسلام پھیل…
Read the full tafseer →وَلَا يُنْفِقُوْنَ [ اور وہ خرچ نہیں کرتے ] نَفَقَةً صَغِيْرَةً [ کوئی چھوٹا خرچہ ] وَّلَا كَبِيْرَةً [ اور نہ ہی کوئی بڑا (خرچہ )] وَّلَا يَـقْطَعُوْنَ [ اور وہ نہیں کاٹتے (یعنی طے کرتے ) ] وَادِيًا [ کسی وادی کو ] اِلَّا [ مگر ( یہ کہ ) ] كُتِبَ [ لکھا گیا ] لَھُمْ [ ان کے لیے ] لِيَجْزِيَھُمُ [ تاکہ جزادے ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَحْسَنَ [ اس کی بہترین جو ] مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ [ وہ عمل کرتے تھے ]
نوٹ ۔ 1: گذشتہ آیات میں مسلسل غزوہ تبوک کا ذکر چلا آ رہا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے نفیر عام کا اعلان کیا تھا کہ ہر شخص اس میں شریک ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں شرکت نہ کرنے والوں سے باز پرس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
فی سبیل اللہ سفر اور خرچ کرنے پر اجر وثواب کا وعدہ
رسول اللہ ﷺ اللہ کے پیارے ہیں۔ اللہ کے رسول ہیں۔ غزوات میں خود تشریف لے جاتے تھے تمام تکلیفوں میں بنفس نفیس شریک ہوتے تھے۔ آپ نے اپنے لیے کوئی آرام کی صورت نکالی ہو اور اپنے صحابہ کو تکلیف میں چھوڑ دیا ہو ایسا ہرگز کبھی نہیں ہوا آپ ہر تکلیف میں شریک تھے بلکہ اپنے ساتھیوں سے زیادہ محنت کرتے تھے، تکلیف اٹھاتے تھے۔ ان حالات میں کوئی شخص خواہ اہل مدینہ میں سے ہو خواہ آس پاس کے رہنے والے دیہاتیوں میں سے ہو کسی کے لیے یہ کہاں روا ہوسکتا تھا کہ آپ غزوہ میں چلے جائیں اور خود اپنی جان کو عیش و آرام اور حفاظت کے ساتھ اپنے گھر میں لیے ہوئے بیٹھا رہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
ملامت متخلفین بضمن فضیلت مجاہدین
قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا۔۔۔ الی۔۔۔ احسن ماکانوا یعملون
(ربط): ان آیات میں متخلفین پر عتاب عام فرمایا ہے کہ جن اہل مدینہ اور اعراب نے اس غزوہ میں آرام طلبی کی بناء پر رسول کا ساتھ نہیں دیا اور ان خیرات وبرکات سے محروم رہے کہ جو آپ کے رفقاء سفر کو نصیب ہوئیں اور آئندہ کے لیے نصیحت کی کہ مسلمانوں کو یہ سزا وار نہیں کہ جب کوئی موقعہ جاں نثاری کا آئے تو رسول اللہ ﷺ سے علیحدہ ہوجائیں اور اپنی راحت اور حفاظت کو رسول اللہ ﷺ کی حفاظت پر مقدم سمجھیں چناچہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ہمراہ جہاد میں جانے سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
114:“ مَا کَانَ لِاَھْلِ الْمَدِیْنَةِ الخ ” یہ زجر و تنبیہ ہے یعنی مسلمانوں کو یہ روا نہیں کہ وہ جہاد میں حضرت پیغمبر ﷺ سے پیچھے رہ جائیں اور اپنے مال وجان اور اولاد کو آپ پر مقدم سمجھیں۔ کیونکہ توحید کی دولت انہیں حضور ﷺ ہی کی بدولت حاصل ہوئی ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ وہ خود تو آرام و راحت میں رہیں اور پیغمبر (علیہ السلام) تکلیف و مشقت میں ہوں۔ “ اي لا یرضوا لانفسھم بالخفض والدعة و رسول اللہ ﷺ فی المشقة ” (قرطبی ج 8 ص 290)
115:“ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ الخ ” تا “ اَحْسَنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”۔ یہ ماقبل کی علت ہے اور اس میں نہایت بلیغ انداز میں جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب ہے۔ “ ظَمَاٌ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
ربط آیات :
سابقہ سورة انفال اور یہ سورة توبہ دونوں جہاد کے احکام پر مشتمل ہیں 9 ھ میں جو غزوہ تبوک یش آیا تھا ، اس کی بھی کافی تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ اس ضمن میں اللہ کے نبی اور ایمانداروں کی محنت ، لگن اور جانفشانی کا ذکر ہوا ہے اور دوسری طرف منافقین کی بزدلی ، چال بازی اور سازشوں کی نشاندہی بھی ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ تیسری اہم چیز ان مخلص مسلمانوں کو تنبیہ ہے۔ جو غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ اللہ نے ان کے دو گروہوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلا گروہ سات آدمیوں کا تھا ، جنہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے سزا کے طور پر اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں کے ساتھ باندھ لیا۔ اللہ نے ان کی توبہ قبول…
Read the full tafseer →وَلَا يُنْفِقُوْنَ نَفَقَۃً صَغِيْرَۃً وَّلَا كَبِيْرَۃً وَّلَا يَـقْطَعُوْنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ لِيَجْزِيَھُمُ اللہُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 121
نفق
نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
1 ؎ یعنی پیچھے رہ جانا اس لئے نامناسب ہے کہ جہاد میں یہ کچھ فضائل ہیں کہ بھوک پیاس ‘ سفر کی ماندگی اور دشمن پر فتح یابی ہر حال میں ان کے لئے اجر اور یہ کام نیک ہے سعادت کے دفتر میں لکھا جاتا ہے پھر ایسے کام سے تخلف نازیبا نہیں تو اور کیا ہے۔
ترکیب : ان یتخلفوا اسم کان لاھل المدینۃ خبر ذلک مبتداء بانہم ظماء فاعل لایصیب ولا نصب اس پر معطوف ولا یطؤن لایصیبھم پر معطوف الا استثناء من کل واحد ای کل منھا کتب لھم عمل صالح فلولا ہلا طائفۃ فاعل نفر۔
تفسیر : ان لوگوں کی توبہ قبول کرکے جو ان کو صدق یعنی سچائی کی وجہ سے نصیب ہوئی تھی آیندہ کے لئے اللہ سے ڈرنے اور صدق اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ فقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
وَمَاکَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ط فَلوْلاَ نَفَرَمِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنھُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فیِ الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْ ٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ ۔ ع (التوبہ : 122)
(ضروری نہ تھا کہ صاحب ایمان سارے کے سارے نکل کھڑے ہوتے پس کیوں نہ نکلے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ تاکہ وہ دین میں سمجھ پیدا کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو خبر دار کرتے جب ان کی طرف لوٹ کر جاتے تاکہ وہ بھی بچتے رہیں۔ غیر مسلمانہ روش سے۔ )
ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ سورة توبہ نو ہجری کے اختتام پر نازل ہوئی ہے۔ ممکن ہے اس کے کچھ احکام دس ہجری کے آغاز میں نازل ہوئے ہوں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
فہم القرآن
ربط کلام : غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے والوں کی توبہ قبول کرتے ہوئے آئندہ کے لیے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ اب کے بعد ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ رسول معظم ﷺ جہاد کا حکم دیں، یا بنفس نفیس نکلیں تو اے مسلمانو ! تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم آپ سے پیچھے بیٹھے رہو۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جب خلیفہ وقت جہاد کا اعلان عام کردے تو پھر جہاد فرض عین ہوتا جاتا ہے۔ اس سے پیچھے رہنا سنگین ترین جرم ہوگا۔ جس کی خلیفۂ وقت کوئی بھی سزا تجویز کرسکتا ہے۔ جس طرح نبی معظم ﷺ نے تبوک سے پیچھے رہنے والوں کی تادیب کی تھی۔ اس لیے حکم صادر ہوا کہ جب نبی معظم جہاد کے لیے نکلیں تو کسی شہری اور دیہاتی کو پیچھے…
Read the full tafseer →اخلاص والے ہر چھوٹے بڑے عمل کا بدلہ ہے :
آیت 121: وَلَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَۃً ( اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا) اللہ تعالیٰ کی راہ میں صَغِیْرَۃً (چھوٹا) خواہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو وَّلَا کَبِیْرَۃً (بڑا) جیسا کہ عثمان غنی ؓ نے جیش عسرہ میں دیا۔ وَّلَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا ( جتنے میدان ان کو طے کرنے پڑے) آنے جانے میں جس زمین سے ان کا گزر ہوا۔ وادی ؔ پہاڑوں کے درمیان کھلی جگہ۔ اور ٹیلوں کے مابین وسیع جگہ۔ جس میں ٹیلوں سے اترنے والا پانی بہتا ہو۔ یہ اصل میں فاعل ہے اصل ودیؔ جبکہ بہنے لگے اسی سے الوادی ہے اور الودی بھی اسی سے ہے اب وادی مطلق زمین کیلئے بولاجانے لگا۔ اِلَّا کُتِبَ لَھُمْ (یہ سب…
Read the full tafseer →تفسیر آیت نمبر 121: ” ولا ینفقون نفقۃ “ اللہ کے راستے میں ” صغیرۃ ولا کبیرۃ ولا یقطعون وادیا وہ اپنے سفر میں کسی وادی سے تجاوز نہیں کرتے آتے اور جاتے الا کتب لھم یعنی ان کے آثار اور قدموں کے نشانات لیجزیھم اللہ احسن ماکانوا یعملون “ خزیم بن فاتک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے میں کچھ مال خرچ کیا تو اس کے لیے سات سوگنا تک اجر لکھا جائے گا۔ ابو مسعود انصاری ؓ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس ایک شخص نکیل ڈالی ہوئی اونٹنی لے کر آیا اور کہا یہ اللہ کے راستے میں ہے تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ‘ تیرے لیے اس کے بدلے قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ہوں گی سب کو نکیل ڈالی ہوئی ہوں…
Read the full tafseer →121۔ اوپر کی آیت کی تاکید میں یہ پھر فرمایا کہ غازیوں کے ہر ایک چھوٹے بڑے خرچ جو صرف اللہ ہی کے واسطے کئے جائیں اعمال میں لکھے جاتے ہیں اور اچھے سے اچھا اس کا بدلہ ان کو دیا جائیگا۔ مسند امام احمد میں عبداللہ بن امام احمد اس آیت کے متعلق عبدالرحمن بن خباب ؓ سلمی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ﷺ نے لشکر تبوک کے لئے خطبہ پڑھ کر لوگوں سے لشکر کی تنگ حال اشخاص کی مدد کرنے کو جب فرمایا تو حضرت امیر المومنین عثمان بن عفان ؓ نے کہا میں نے سو اونٹ مع ساز و سامان کے دئے پھر آپ نے ترغیب دلائی پھر حضرت عثمان ؓ نے سو اونٹ دینے کو فرمایا پھر آپ نے کہا پھر سو اونٹ حضرت عثمان غنی ؓ نے دئے اور ایک ہزار اشرفیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
آیت : (120-121)
اللہ تبارک و تعالیٰ مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین و انصار اور مدینہ منورہ کے ارد گرد رہنے والے اعراب کو ‘ جو اسلام لائے اور انہوں نے اپنے اسلام کو صحیح کرلیا ‘ ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے : (ما کان لاھلالمدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ) ” اور نہیں چاہیے مدینے والوں کو اور ان کے ارد گرد رہنے والے گنواروں کو کہ وہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ کے ساتھ سے “ یعنی یہ بات ان کو زیبا نہیں اور نہ ان کے احوال کے لائق ہے (ولایرغبوا بانفسھم) ” اور نہ یہ کہ وہ اپنی جانوں کو چاہیں “ اپنے نفس کی بقاء اور اپنی راحت و سکون کی خاطر (عن نفسہ) ” رسول کی جان سے زیادہ “ یعنی اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
جنگ میں کمانڈ ر کا ساتھ دینا ضروری ہے
قول باری ہے ما کان لا ھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفواعن رسول اللہ ولا یرغبوا فانفسھم عن نفسہ ۔ مدینے کے باشندوں اور گردو نواح کے بدویوں کو ہرگز یہ زیب نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بےپرواہ ہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے اس آیت میں یہ بیان کردیا گیا ہے کہ اہل مدینہ پر حضور ﷺ کے کے ساتھ غزوات میں جانا واجب تھا البتہ معذور ین نیز وہ لوگ اس حکم سے مستثنیٰ تھے جنہیں حضور ﷺ نے رہ جانے کی اجازت دے دی تھی ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سابقہ آیات میں منافقین کی اس بنا پر مذمت کی کہ وہ حضور ﷺ کے پاس آ کر رہ جانے کی…
Read the full tafseer →217 نیک اعمال کا بدلہ بہترین شکل میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ اللہ تعالیٰ بہترین بدلہ دے ان لوگوں کو ان کے ان کاموں کا جو یہ کرتے ہیں یعنی نیک اعمال کا بدلہ صرف برابر، ناپ تول کر نہیں، بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر اور بہتر شکل میں دیا جائے گا۔ چناچہ انسان کو اپنے اعمال صالحہ کے نتیجے میں جنت کی وہ دائمی اور ابدی نعمتیں بخشی جائیں گی جو بےمثال محدود و غیرمحدود ہیں۔ اور جن کا یہاں پر تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں۔ سو یہ بھی اس رب رحیم و کریم کے بےمثال اور لامتناہی کرم کا ایک نمونہ اور ثبوت ہے پس جنت اور اس کی نعمتیں عدل کی بناء پر نہیں بلکہ اس کے فضل وکرم کے طور پر بخشی جائیں گی۔ فسبحانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
سچائی کی قدر اور اس کا اجر
تشریح : ان آیات میں مومنین کو خواہ وہ عرب کے شہری ہوں یا دیہاتی ہوں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ملکر کفر و شرک کو مٹانا چاہیے یہ خود ان کے لیے اجر وثواب کا باعث ہوگا۔ کیونکہ اللہ کی راہ میں اٹھا ہوا ہر قدم، ہر سانس اور ہر عمل چاہے وہ معمولی ہو یا بڑا ہو نیکی میں شمار ہوتا ہے اور اس کا بدلہ ہر صورت ضرور ہی دیا جاتا ہے یہی اللہ کا دستور ہے اور یہی اس کا وعدہ ہے۔ اور اس کا وعدہ سچا ہے اور پکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
آیات 119 تا 122
اسرار و معارف
صحبت کا اثر
یہ لغزش بھی جو مخلصیں سے صادرہوئی اور اللہ کریم نے معاف بھی فرمادی ، مزید انعاواکرام سے بھی نوازا کہ اسقامت بھی بخشی اور اپنی رضامندی کی سند بھی ۔ مگر اس کی وجہ بھی جاننا ضروری ہے لہٰذامومنین کو چاہیئے کہ وہ صحبت صادقین اختیار کریں منافقین سے اگرچہ ولی دوستی نہ تھی ، مگر رسمی ملاقات تو تھی جس کے باعث انھیں ایسی باتیں کرنے کا موقع ہاتھ آیا جس نے مومنیں کے قلوب میں بھی ایک گونہ اضطراب پیدا کردیا ۔ اب یہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کباررضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت کی برکات تھیں کہ ان کے قلوب میں خلوص جاگزیں تھا جو رحمت باری کے نزول کا سبب بنا اور یوں بات…
Read the full tafseer →ف 4۔ اس آیت کی رو سے حضرت امیر المومنین بن عفان کو بھرپور اجر نصیب ہوا جیسا کہ حضرت عبد الرحمن بن حباب سلمی سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی ﷺ نے خطبہ دیا جس میں مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ چندہ دینے کی ترغیب دی۔ حضرت عثمان ؓ نے عرض کیا ” میں ایک سو اونٹ پالان سمیت چندہ دیتا ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے منبر سے ایک سیڑھی نیچے اتر کر پھر اپیل کی تو حضرت عثمان ؓ نے عرض کیا ” میں مزید ایک سو اونٹ پالان سمیت دیتا ہوں۔ اس پر نبی ﷺ نے تعجب اور خوشی سے اپنا ہاتھ ہلایا۔ گویا کہ آپ ﷺ فرما رہے تھے اس کے بعد عثمان ؓ کو کسی گناہ کا خطرہ نہیں۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(9:121) ولا یقطعون وادیا۔ نہیں طے کرتے وہ کسی وادی کو۔ کتب لہم۔ ان کے لئے لکھ لیا جاتا ہے۔ ان کے حساب میں لکھ لیا جاتا ہے۔ احسن۔ افعل التفضیل کا صیغہ۔ بہت اچھا۔ بہترین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
لغات القرآن آیت نمبر 119 تا 121
کونوا (ہو جائو) الصدقین (سچ بولنے والے) ان یتخلفوا (یہ کہ وہ مخالفت کرلیں) لایرغبوا (رغبت نہ کریں) لا یصیب (نہیں پہنچے گا) ظما (پیاس) نصب (محنت، مشقت) مخمصۃ (بھوک) لایطنون (وہ نہیں روندے) موطنی (چلنے کی جگہ ) یغیط (غصہ میں آئیں) لاینالون (وہ حاصل نہیں کرتے) کتب (لکھا گیا، فرض کیا گیا) لایضیع (وہ ضائع نہیں کرتا) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے ہیں) نفقۃ صغیرۃ (معمولی خرچ) لایقطعون (وہ نہیں کاٹتے ہیں، وہ نہیں طے کرتے ہیں) وادیا (وادی، گھاٹی، میدان) احسن (زیادہ بہتر)
تشریح :- آیت نمبر 119 تا 121
گزشتہ آیات میں منافقین اور مخلص اہل ایمان کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →جہاد کی فضیلت، مسائل دینیہ کے سیکھنے اور سکھانے کا حکم
اوپر کی آیت کی تاکید میں یہ بھی فرمایا کہ نمازیوں کے ہر ایک چھوٹے بڑے خرچ جو صرف اللہ ہی کے واسطے کئے جائیں۔ یہاں تک کہ ایک کھجور بھی خلوص کے ساتھ خدا کی راہ میں کھلانا، چلنا پھرنا جنگل اور بیابانوں کو طے کرنا، سب ان کے نامہ اعمال مین لکھے جاتے ہیں اور اچھے سے اچھا اس کا بدلہ ان کو دیا جائے گا اس آیت سے جہاد کی فضیلت اور اس کا حسن الاعمال ہونا ثا بےہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
[70] ان کا حال حاشیہ 57 میں گزر چکا ہے نیز تشریح آیت نمبر 118 حواشی کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔
یہ تینوں صاحب جیسا کہ سورت کے حاشیہ 57 میں بیان کیا جا چکا ہے کعب بن مالک، ہلال بن امیّہ اور مرارہ بن ربیع تھے۔ یہ حضرات سچے مومن تھے اور اس سے پہلے اپنے اخلاص کا بارہا ثبوت دے چکے تھے۔ آخر الذکر دو اصحاب تو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے، جن کی صداقت ایمانی ہر شبہ سے بالا تر تھی۔ اول الذکر اگرچہ بدری نہ تھے لیکن بدر کے سوا ہر غزوے میں نبی ﷺ کے ساتھ رہے۔ ان خدمات کے باوجود جو سستی اس نازک موقع پر جب کہ تمام قابل جنگ اہل ایمان کو جنگ کے لئے نکل آنے کا حکم دیا گیا تھا، ان حضرات نے دکھائی اس پر سخت گرفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
نمازیوں کے درجے :
(ف 1) رسول ﷺ مرکز محبت میں مسلمان کے لئے رسول کا وجود باجود باعث صد ہزار برکت ہے ، یہ ہو سکتا ہے کہ اپنی جان کے متعلق تغافل ہوجائے ، مگر رسول ﷺ سے تغافل گناہ ہے ، کفر ہے اور معصیت ہے مسلمان کبھی حضور ﷺ کے منشاء و ارادہ کی مخالفت نہیں کرسکتا ، اس لئے کہ وہ تو سب کچھ حرمت رسول کے لئے قربان کرچکا ہے ۔
وہ لوگ جو حرمت رسول کے لئے جہاد کرتے ہیں ان کی ہر تکلیف نازش اولیاء ہے ، انکی پیاس اور بھوک میں اجر ہے ، ان کا قدم برکت لزوم ہے ، ان کی تکلیف اللہ کو عزیز ہے ۔
اور یہی وہ لوگ ہیں جو صیح معنوں میں اللہ اور اس کے رسول کے محب ہیں ، جو محسن اور نیک ہیں ، محبت رسول اور عشق رسول عافیت…
Read the full tafseer →121 اور نیز یہ کہ ان مجاہدین نے جو کچھ خرچ کیا اور یہ مجاہدین جو کچھ خرچ کرتے ہیں خواہ وہ تھوڑا ہو یا بہت اور سفر میں جو میدان قطع کرتے ہیں ان سب کا ثواب بھی ان کے لئے لکھوا دیا جاتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے اعمال کا اچھے سے اچھا بدلہ عنایت فرمائے۔ یعنی یہ بھی نیکیوں میں لکھا جاتا ہے غرض جہاد کی ہر بات موجب اجر ہے۔
Read the full tafseer →ف 1۔ اوپر جو متخلفین کے باب میں ملامت کے مضامین نازل ہوئے اس سے آئندہ کے لیے شبہ ہوسکتا تھا کہ ہمیشہ کے لیے سب کے ذمہ جہاد میں جانا ضروری ہے اس لیے آگے ہر شخص کے جانے کا فرض نہ ہونا بیان فرماتے ہیں۔
Read the full tafseer →ان کا ہر خرچ کرنا اور جہاد کے لئے گھر سے نکلنا اللہ کے لئے لکھا جاتا ہے :
156: گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت فرمائی جا رہی ہے تاکہ کمزور مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ فرمایا وہ اللہ کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کرتے ہیں تھوڑا یا زیادہ اور وہ اس راہ میں جو چوٹ بھی کھاتے ہیں اور ان کا جو چر کا بھی دشمن کو لگتا ہے ہر ایک کے بدلے میں ان کا عمل صالح لکھ لیا جاتا ہے اور جزاء کے دن ہر ایک اپنے عمل کا بدلہ بہتر سے بہتر پائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں دکھ اٹھانے والوں کے ساتھت اچھا سلوک کیا جائے گا اور اسی طرح ان کو بدلہ دیا جائے گا کہ اس وقت ان کو وہ دکھ بھول جائے گا اور یہ حقیقت ہے کہ تنگی کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
Commentary
It will be realized that the expedition of Tabuk has continued appearing as an important subject in Surah At-Taubah. For this battle, a general call of Jihad was given asking all Muslims to participate in it. It was not permissible to contravene the order without a valid excuse. Those who did that were mostly hypocrites who have been mentioned in several verses appearing earlier. Then, some sincere Muslims had also remained behind due to their incidental laziness. Their repentance was accepted by Allah Ta` ala. Obviously, from all these events it can be gathered that the going…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →