غزوہ تبوک میں شامل نہ ہونے والوں کو تنبیہہ
ان لوگوں کو غزوہ تبوک میں حضور ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے اللہ تعالیٰ ڈانٹ رہا ہے کہ مدینے والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو مجاہدین کے برابر ثواب والا نہیں سمجھنا چاہیے وہ اس اجر وثواب سے محروم رہ گئے جو ان مجاہدین فی سبیل اللہ کو ملا۔ مجاہدین کو ان کی پیاس پر تکلیف پر بھوک پر، ٹھہرنے اور چلنے پر، ظفر اور غلبے پر، غرض ہر ہر حرکت و سکون پر اللہ کی طرف سے اجر عظیم ملتا رہتا ہے۔ رب کی ذات اس سے پاک ہے کہ کسی نیکی کرنے والے کی محنت برباد کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
سورة التَّوْبَة 118
نبی ﷺ جب تبوک سے مدینہ واپس تشریف لائے تو وہ لوگ معذرت کرنے کے لیے حاضر ہوئے جو پیچھے رہ گئے تھے۔ ان میں 80 سے کچھ زیادہ منافق تھے اور تین سچے مومن بھی تھے۔ منافقین جھوٹے عذرات پیش کرتے گئے اور حضور ان کی معذرت قبول کرتے چلے گئے۔ پھر ان تینوں مومنوں کی باری آئی اور انہوں نے صاف صاف اپنے قصور کا اعتراف کرلیا۔ نبی ﷺ نے ان تینوں کے معاملہ میں فیصلہ کو ملتوی کردیا اور عام مسلمانوں کو حکم دے دیا کہ جب تک خدا کا حکم نہ آئے، ان سے کسی قسم کا معاشرتی تعلق نہ رکھا جائے۔ اسی معاملہ کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ (یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ ان تین اصحاب کا معاملہ ان سات اصحاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
خلاصہ تفسیر
مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش میں (رہتے) ہیں ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ (زیبا تھا) کہ اپنی جان کو ان کی جان سے عزیز سمج ہیں (کہ آپ تو تکلیفیں سہیں اور یہ آرام سے بیٹھے رہیں، بلکہ آپ کے ہمراہ جانا ضروری تھا اور) یہ (ساتھ جانے کا ضروری ہونا) اس سبب سے ہے کہ (علاوہ ادائے حق محبت رسول اللہ کے ان مجاہدین کو بات بات پر ثواب حاصل ہوا ہے اگر خلاص کے ساتھ جاتے ان کو بھی یہ ملتا چنانچہ) ان کو اللہ کی راہ (یعنی جہاد) میں جو پیاس لگی اور جو ماندگی پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو چلنا چلے جو کفار کے لئے موجب غیظ ہوا اور دشمنوں کی جو کچھ خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
تفسیر آیت 120۔ 121: اوپر کے مضمون کی مزید تاکید : مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ لَا يُصِيْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَةٌ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَلَا يَـطَــــــُٔوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ۭاِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۔ وَلَا يُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً وَّلَا يَـقْطَعُوْنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ…
Read the full tafseer →120۔ 1 جنگ تبوک میں شرکت کے لئے چونکہ عام منادی کردی گئی تھی، اس لئے معزورین، بوڑھے اور دیگر شرعی عذر رکھنے والوں کے علاوہ۔ سب کے لئے اس میں شرکت ضروری تھی لیکن پھر بھی جو مدینہ یا اطراف مدینہ میں اس جہاد میں شریک نہیں ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ان کو لعنت ملامت کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ ان کو رسول اللہ سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے تھا۔
120۔ 2 یعنی یہ بھی ان کے لئے زیبا نہیں کہ خود اپنی جانوں کا تحفظ کرلیں اور رسول اللہ کی جان کے تحفظ کا انہیں خیال نہ ہو۔ بلکہ انہیں رسول کے ساتھ رہ کر اپنے سے زیادہ ان کی تحفظ کا اہتمام کرنا چاہئے۔
120۔ 3 ذٰ لِکَ سے پیچھے نہ رہنے کی علت بیان کی جا رہی ہے۔ یعنی انہیں اس لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
96: یہ ان تین حضرات کے واقعے سے ملنے والا سبق ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے منافقین کی طرح جھوٹے سچے بہانے نہیں بنائے، بلکہ جو حقیقت تھی، وہ سچ سچ بیان کردی کہ ان کے پاس کوئی عذر نہیں تھا۔ ان کی اس سچائی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نہ صرف توبہ قبول فرمائی، بلکہ سچے لوگوں کی حیثیت سے قیامت تک کے لیے ان کا تذکرہ قرآن کریم میں زندہ جاوید کردیا گیا۔ اس آیت میں یہ تعلیم بھی ہے کہ انسان کو اپنی صحبت سے سچے لوگوں کے ساتھ رکھنی چاہیے، جو زبان کے بھی سچے ہوں، اور عمل کے بھی سچے۔
Read the full tafseer →ما کان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش رہتے ہیں ‘ ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ (ﷺ) کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ زیبا تھا کہ اپنی جانوں کو ان کی جانوں سے زیادہ عزیز سمجھیں۔
بظاہر الفاظ یہ کلام خبری ہے لیکن حقیقت میں نہی اور ممانعت ہے ‘ جیسے دوسری آیت آئی ہے : وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْل اللّٰہِ اَلْاَعْرَاب یعنی قبائل مزینہ ‘ جہنیہ ‘ اشجع ‘ اسلم ‘ غفار جو صحراء میں رہتے تھے (مدینہ کے اندر نہیں رہتے تھے) ۔
عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ کا یہ مطلب ہے کہ جب خود رسول اللہ (ﷺ) بنفس نفیس…
Read the full tafseer →1 یعنی رسول اللہ ﷺ تو تکلیفیں اٹھائیں اور ہم آرام سے بیٹھے رہیں، ایسا نہیں چاہیے، حدیث میں ہے کہ ابو خیثمہ ؓ بھی غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے۔ حضور ﷺ کی روانگی کے بعد باغ میں گئے وہاں خوشگوار سایہ تھا، حسین و جمیل بیوی سامنے تھے اس نے پانی چھڑک کر زمین کو خوب ٹھنڈا کردیا، چٹائی کا فرش کیا۔ تازہ کھجور کے خوشے سامنے رکھے اور سرد و شیریں پانی حاضر کیا۔ یہ سامان عیش دیکھ کر دفعتاً ابو خیثمہ کے دل میں ایک بجلی سی دوڑ گئی۔ بولے تف ہے اس زندگی پر کہ میں تو خوشگوار سائے، ٹھنڈے پانی اور باغ و بہار کے مزے لوٹ رہا ہوں، اور خدا کا محبوب پیغمبر ایسی سخت لو اور گرمی و تشنگی کے عالم میں کوہ و بیاباں طے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
آیت 120 مَا کَانَ لِاَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ وَمَنْ حَوْلَہُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ وَلاَ یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِہِمْ عَنْ نَّفْسِہٖ ط
غزوۂ تبوک کے لیے نکلتے ہوئے مدینہ کے ماحول میں تپتی راہیں مجھ کو پکاریں ‘ دامن پکڑے چھاؤں گھنیری والا معاملہ تھا۔ لہٰذا جب اللہ کے رسول ﷺ ان تپتی راہوں کی طرف کوچ فرما رہے تھے تو کسی ایمان کے دعویدار کو یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے رہ جائے ‘ آپ ﷺ کی جان سے بڑھ کر اپنی جان کی عافیت کی فکر کرے اور آپ ﷺ کے سفر کی صعوبتوں پر اپنی آسائشوں کو ترجیح دے۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ لاَ یُصِیْبُہُمْ ظَمَاٌ وَّلاَ…
Read the full tafseer →136 رسول اللہ کو اپنی جان سے عزیز سمجھنے سے ایمان کی تکمیل ہوتی ہے :۔ یعنی رسول اللہ تو سفر تبوک کی صعوبتیں برداشت کریں اور مسلمان ان کے بعد اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے رہیں۔ اور اللہ کے رسول کی جان سے اپنی جانوں کو عزیز تر سمجھیں۔ ایک صحابی ابو خیثمہ بھی غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ اپنے باغ میں گئے وہاں ٹھنڈا سایہ تھا۔ آپ کی بیوی نے پانی چھڑک کر زمین کو خوب ٹھنڈا کیا۔ چٹائی کا فرش کیا۔ تازہ کھجور کے خوشے سامنے رکھے اور ٹھنڈا میٹھا پانی بھی حاضر کیا۔ یہ سامان عیش دیکھ کر دفعتاً ابو خیثمہ کے دل میں بجلی کی سی ایک لہر دوڑ گئی۔ بولے تف ہے اس زندگی پر کہ میں تو خوشگوار سائے، ٹھنڈے پانی اور…
Read the full tafseer →225۔ یعنی یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ لوگ خود تو آرام سے گھر بیٹھے رہیں اور مشقتیں اور صعوبتیں رسول اللہ ﷺ جھیلتے رہیں۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ معیت ونصرت صرف عرب تک محدود یا شان رسالت کے ساتھ مخصوص نہیں۔ بلکہ نصرت دین مقصود ہے۔ اس لئے ہر مسلم پر ہر زمانہ میں واجب ہے کہ امام وقت کی اطاعت و حفاظت میں مستعد رہے۔ آیت کا صیغہ ظاہری خبر کا ہے۔ حالانکہ مراد نہی یا امر امتناعی ہے۔ یعنی مقصود کسی خبر یا واقعہ کا ذکر نہیں بلکہ اس امر کا اظہار ہے کہ ایسا ہرگز نہ ہونا تھا۔
226۔ (سو یہ لوگ بھی اگر اخلاص کے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جاتے تو ان کے لئے بھی اسی طرح بات بات پر اجر اور قدم قدم پر ثواب تھا) یہ مقتضائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
آیت نمبر 119 تا 122
ترجمہ : اے ایمان والو ترک معصیت کر کے اللہ سے ڈرو اور ایمان اور معاہدوں میں سچوں کے ساتھ رہو بایں صورت کہ سچ کو لازم پکڑے رہو، مدینہ والوں کے لئے اور اس کے اطراف کے دیہاتی باشندوں کے لئے ہرگز یہ مناسب نہیں تھا کہ غزوہ کے وقت رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ زیبا کہ اپنی جانوں کو آپ ﷺ کی جان سے عزیز سمجھیں بایں صورت کہ اپنی جانوں کو ان شدائد سے بچائیں کہ جن کو آپ ﷺ نے اپنے لئے پسند فرمایا ہے، (لا یرغبون) بصورت نہی خبر ہے، یہ یعنی تخلف سے ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ان کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو جسمانی مشقت اٹھانی پڑی اور جو بھوک اللہ کی راہ میں ان کو لگی اور جو کسی…
Read the full tafseer →ما کان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش رہتے ہیں ‘ ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ زیبا تھا کہ اپنی جانوں کو ان کی جانوں سے زیادہ عزیز سمجھیں۔
بظاہر الفاظ یہ کلام خبری ہے لیکن حقیقت میں نہی اور ممانعت ہے ‘ جیسے دوسری آیت آئی ہے : وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْل اللّٰہِ اَلْاَعْرَاب یعنی قبائل مزینہ ‘ جہنیہ ‘ اشجع ‘ اسلم ‘ غفار جو صحراء میں رہتے تھے (مدینہ کے اندر نہیں رہتے تھے) ۔
عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ کا یہ مطلب ہے کہ جب خود رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس…
Read the full tafseer →(120) مدینہ کے رہنے والوں کو قبیلہ مزینہ، جہینہ اور اسلم والوں کو یہ مناسب نہیں تھا کہ جہاد میں رسول اکرم ﷺ کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ درست تھا کہ یہ اپنی جانوں کو رسول اکرم ﷺ کی جان سے زیادہ قیمتی سمجھیں۔
ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یا یہ کہ نہ یہ مناسب تھا کہ جہاد میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ چلنے اور آپ کا ساتھ دینے سے اپنی جانوں کی حفاظت کریں اور یہ ساتھ جانے کا ضروری ہونا اس بنا پر ہے کہ ان کو جہاد میں آنے جانے میں جو پیاس لگی اور جو ماندگی پہنچی اور جو بھوک لگی اور جس مقام پر چلے جو کفار کے لیے موجب غیظ ہوا ہو اور دشمنوں کو قتل کرکے اور ان کو شکست دے کر جو کچھ ان کی خبر لی تو جہاد میں سب پر ان کے…
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ : مدینہ میں رہنے والے لوگوں اور ان کے اردگرد رہنے والے بدویوں یعنی مزینہ، جہینہ، اشجع، اسلم اور غفار وغیرہ قبائل کے لوگوں کو حکم دیا گیا کہ تنگی اور تکلیف میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ رہیں اور مشکل مواقع پر پیش آنے والے تمام مصائب و آلام میں خوش دلی کے ساتھ آپ کے ہمراہ رہیں، جو سختیاں آپ ﷺ اٹھا رہے ہیں وہ بھی اٹھائیں، کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ عزیز اور مکرم آپ ﷺ ہی ہیں، تو جب آپ اتنی عزت و کرامت کے باوجود ان سختیوں اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں تو پھر سب کا حق ہے کہ جن چیزوں کا سامنا آپ کر رہے ہیں وہ بھی کریں اور آپ کی جان عزیز کی خاطر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
آیت نمبر : 120 تا 121۔
اس آیت میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ “۔ یہ کلام ظاہر کے اعتبار سے خبر ہے لیکن اس کا معنی ہے، جیسا کہ یہ ارشاد گرامی ہے : (آیت) ” وما کان لکم ان تؤذوا رسول اللہ “۔ (الاحزاب : 53) (اور تمہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ تم اذیت پہنچاؤ اللہ کے رسول کو) اور یہ پہلے گزر چکا ہے۔
(آیت) ” ان یتخلفوا “۔ یہ محل رفع میں کان کا اسم ہے، اور یہ عتاب اور جھڑک ہے ان مومنین کے لیے جو اہل یثرب میں سے تھے اور اس کے پڑوس میں رہنے والے عرب قبائل سے تھے، جیسا کہ مزینہ، جہینہ، اشجع، غفار اور اسلم جو غزوئہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عمرو بن مالک کے راستے سے عمرو بن مالک (رح) رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ جب (یہ آیت) ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولہم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ “ نازل ہوئی تو رسول اللہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر لوگوں میں ضعیف لوگ نہ ہوتے تو کوئی لشکر ایسا نہ ہوتا مگر میں اس میں شامل ہوتا۔
2:۔ ابن جریر ابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولہم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اس وقت تھا جب اسلام والے تھوڑے تھے۔ جب اسلام والے بہت ہوگئے اور اسلام پھیل…
Read the full tafseer →مَا كَانَ [ نہیں (مناسب ) تھا ] لِاَھْلِ الْمَدِيْنَةِ [ مدینہ والوں کے لیے ] وَمَنْ [ اور ان کے لیے جو ] حَوْلَھُمْ [ ان کے اردگرد ہیں ] مِّنَ الْاَعْرَابِ [ دیہاتیوں میں سے ] اَنْ [ کہ ] يَّتَخَلَّفُوْا [ وہ پیچھے رہیں ] عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ [ اللہ کے رسول سے ] وَلَا يَرْغَبُوْا [ اور یہ کہ نہ چاہیں ] بِاَنْفُسِهِمْ [ اپنی جانوں کو ] عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ [ ان کی جان سے (زیادہ ) ] ذٰلِكَ [ یہ ] بِاَنَّھُمْ [ اس سبب سے کہ ] لَا يُصِيْبُھُمْ [ نہیں پہنچتی ان کو [ یعنی مجاہدین کو )] ظَمَاٌ [ کوئی پیاس ] وَّلَا نَصَبٌ [ اور نہ کوئی مشقت ] وَّلَا مَخْمَصَةٌ [ اور نہ کوئی شدید بھوک کا وقت ] فِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
فی سبیل اللہ سفر اور خرچ کرنے پر اجر وثواب کا وعدہ
رسول اللہ ﷺ اللہ کے پیارے ہیں۔ اللہ کے رسول ہیں۔ غزوات میں خود تشریف لے جاتے تھے تمام تکلیفوں میں بنفس نفیس شریک ہوتے تھے۔ آپ نے اپنے لیے کوئی آرام کی صورت نکالی ہو اور اپنے صحابہ کو تکلیف میں چھوڑ دیا ہو ایسا ہرگز کبھی نہیں ہوا آپ ہر تکلیف میں شریک تھے بلکہ اپنے ساتھیوں سے زیادہ محنت کرتے تھے، تکلیف اٹھاتے تھے۔ ان حالات میں کوئی شخص خواہ اہل مدینہ میں سے ہو خواہ آس پاس کے رہنے والے دیہاتیوں میں سے ہو کسی کے لیے یہ کہاں روا ہوسکتا تھا کہ آپ غزوہ میں چلے جائیں اور خود اپنی جان کو عیش و آرام اور حفاظت کے ساتھ اپنے گھر میں لیے ہوئے بیٹھا رہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
ملامت متخلفین بضمن فضیلت مجاہدین
قال اللہ تعالیٰ ۔ ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا۔۔۔ الی۔۔۔ احسن ماکانوا یعملون
(ربط): ان آیات میں متخلفین پر عتاب عام فرمایا ہے کہ جن اہل مدینہ اور اعراب نے اس غزوہ میں آرام طلبی کی بناء پر رسول کا ساتھ نہیں دیا اور ان خیرات وبرکات سے محروم رہے کہ جو آپ کے رفقاء سفر کو نصیب ہوئیں اور آئندہ کے لیے نصیحت کی کہ مسلمانوں کو یہ سزا وار نہیں کہ جب کوئی موقعہ جاں نثاری کا آئے تو رسول اللہ ﷺ سے علیحدہ ہوجائیں اور اپنی راحت اور حفاظت کو رسول اللہ ﷺ کی حفاظت پر مقدم سمجھیں چناچہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ہمراہ جہاد میں جانے سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
114:“ مَا کَانَ لِاَھْلِ الْمَدِیْنَةِ الخ ” یہ زجر و تنبیہ ہے یعنی مسلمانوں کو یہ روا نہیں کہ وہ جہاد میں حضرت پیغمبر ﷺ سے پیچھے رہ جائیں اور اپنے مال وجان اور اولاد کو آپ پر مقدم سمجھیں۔ کیونکہ توحید کی دولت انہیں حضور ﷺ ہی کی بدولت حاصل ہوئی ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہئے کہ وہ خود تو آرام و راحت میں رہیں اور پیغمبر (علیہ السلام) تکلیف و مشقت میں ہوں۔ “ اي لا یرضوا لانفسھم بالخفض والدعة و رسول اللہ ﷺ فی المشقة ” (قرطبی ج 8 ص 290)
115:“ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ الخ ” تا “ اَحْسَنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”۔ یہ ماقبل کی علت ہے اور اس میں نہایت بلیغ انداز میں جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب ہے۔ “ ظَمَاٌ ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
ربط آیات :
سابقہ سورة انفال اور یہ سورة توبہ دونوں جہاد کے احکام پر مشتمل ہیں 9 ھ میں جو غزوہ تبوک یش آیا تھا ، اس کی بھی کافی تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ اس ضمن میں اللہ کے نبی اور ایمانداروں کی محنت ، لگن اور جانفشانی کا ذکر ہوا ہے اور دوسری طرف منافقین کی بزدلی ، چال بازی اور سازشوں کی نشاندہی بھی ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ تیسری اہم چیز ان مخلص مسلمانوں کو تنبیہ ہے۔ جو غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ اللہ نے ان کے دو گروہوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلا گروہ سات آدمیوں کا تھا ، جنہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے سزا کے طور پر اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں کے ساتھ باندھ لیا۔ اللہ نے ان کی توبہ قبول…
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِاَھْلِ الْمَدِيْنَۃِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ يَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللہِ وَلَا يَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِہِمْ عَنْ نَّفْسِہٖ 0 ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ لَا يُصِيْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخْمَصَۃٌ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَلَا يَطَــــُٔـــوْنَ مَوْطِئًا يَّغِيْظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا اِلَّا كُتِبَ لَھُمْ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ 0 ۭ اِنَّ اللہَ لَا يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِـنِيْنَ 120 ۙ
مدن
المَدينة فَعِيلَةٌ عند قوم، وجمعها مُدُن، وقد مَدَنْتُ مَدِينةً ، ون اس يجعلون المیم زائدة، قال تعالی: وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
1 ؎ یعنی پیچھے رہ جانا اس لئے نامناسب ہے کہ جہاد میں یہ کچھ فضائل ہیں کہ بھوک پیاس ‘ سفر کی ماندگی اور دشمن پر فتح یابی ہر حال میں ان کے لئے اجر اور یہ کام نیک ہے سعادت کے دفتر میں لکھا جاتا ہے پھر ایسے کام سے تخلف نازیبا نہیں تو اور کیا ہے۔
ترکیب : ان یتخلفوا اسم کان لاھل المدینۃ خبر ذلک مبتداء بانہم ظماء فاعل لایصیب ولا نصب اس پر معطوف ولا یطؤن لایصیبھم پر معطوف الا استثناء من کل واحد ای کل منھا کتب لھم عمل صالح فلولا ہلا طائفۃ فاعل نفر۔
تفسیر : ان لوگوں کی توبہ قبول کرکے جو ان کو صدق یعنی سچائی کی وجہ سے نصیب ہوئی تھی آیندہ کے لئے اللہ سے ڈرنے اور صدق اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ فقال…
Read the full tafseer →مَاکَانَ لِاَھْلِ الْمَدیْنَۃِ وَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ وَلاَ یَرْغَبُوْا بِاَنفُسِھِمْ عَنْ نَّفْسِہٖ ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ لاَ یُصِیْبُھُمْ ظَمَاٌ وَّلاَ نَصَبٌ وَّلاَ مَخْمَصَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلاَ یَطَئُوْنَ مَوْطِئًایَّغْیِظُ الْکُفَّارَ وَلاَ یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّنَّیْلاً الِاَّ کُتِبَ لَھُمْ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَ جْرَالْمُحْسِنِیْنَ لا وَلاَ یُنْفِقُوْنَ نَفقَۃً صَغِیَرۃً وَّلاَ کَبِیْرَۃً وَّ لاَ یَقْطَعُوْنَ وَادِیاً الِاَّ کُتِبَ لَھمْ لِیَجْزِیَھُمُ اللّٰہُ اَحْسَنَ مَاکَانُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
فہم القرآن
ربط کلام : غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے والوں کی توبہ قبول کرتے ہوئے آئندہ کے لیے مسلمانوں کو ہدایت فرمائی کہ اب کے بعد ہرگز ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ رسول معظم ﷺ جہاد کا حکم دیں، یا بنفس نفیس نکلیں تو اے مسلمانو ! تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم آپ سے پیچھے بیٹھے رہو۔
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ جب خلیفہ وقت جہاد کا اعلان عام کردے تو پھر جہاد فرض عین ہوتا جاتا ہے۔ اس سے پیچھے رہنا سنگین ترین جرم ہوگا۔ جس کی خلیفۂ وقت کوئی بھی سزا تجویز کرسکتا ہے۔ جس طرح نبی معظم ﷺ نے تبوک سے پیچھے رہنے والوں کی تادیب کی تھی۔ اس لیے حکم صادر ہوا کہ جب نبی معظم جہاد کے لیے نکلیں تو کسی شہری اور دیہاتی کو پیچھے…
Read the full tafseer →اپنی جان کو عزیز سمجھ کر جہاد سے پیچھے نہ رہنا چاہیے :
آیت 120: مَا کَانَ لِاَھْلِ الْمَدِیْنَۃِوَمَنْ حَوْلَھُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتْخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ (مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گردو پیش ہیں یہ مناسب نہیں تھا کہ وہ رسول اللہ کا ساتھ نہ دیں) یہاں نفی بمعنی نہی ہے ان لوگوں کو خصوصًا ذکر کیا اگرچہ تمام لوگ اس معاملے میں برابر ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ آنحضرت ﷺ کے بالکل قریب رہتے تھے۔ اور آپ کا نکلنا ان کے سامنے واضح تھا۔
وَلَا یَرْغَبُوْا (اور نہ اپنی جان کو عزیز سمجھیں) اور نہ یہ چاہیئے کہ وہ بخل کریں بِاَنْفُسِھِمْ عَنْ نَّفْسِہٖ ( ان کی جان کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 120:” ماکان لاھل المدینۃ “ اس کا ظاہر خبر ہے اور حقیقی معنی نہیں ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ” وماکان لکم ان تئو ذوا رسول اللہ “ ہے۔” ومن حولھم من الا عراب “ مزینہ ‘ جہینہ ‘ اشجع ‘ اسلم اور غفار کے دیہاتوں کے رہنے والے۔ “ ان یتخلفوا عن رسول اللہ “ جب وہ کسی غزوہ پر تشریف لے جائیں۔” ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ “ آپ ﷺ سفر کی مشقت اور تھکاوٹ میں ہوں۔
” ذلک بانھم لا یصیبھم “ ان کے سفر میں ” ظما “ پیاس ” ولا نصب “ تھکاوٹ ” ولا مخمصۃ “ بھوک ” فی سبیل اللہ ولا یطئون موطئا “ زمین ” یغیظ الکفار ان کا اس کو روندنا ولا ینا لون من عدو نیلا “ یعنی ان کوا ن کے دشمنوں سے قتل یا قید یا غنیمت یا…
Read the full tafseer →120۔ اس آیت کو بھی اگلی آیتوں سے تعلق ہے بعض لوگ جو خاص مدینہ میں رہتے تھے یا مدینہ کے باہر گاؤں میں بستے تھے ان میں سے جو لوگ تبوک کی لڑائی میں نہیں شریک ہوئے تھے ان کے حق میں خفگی کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان کو یہ بات لائق نہیں تھی کہ اپنی جان کو رسول کی جان سے زیادہ عزیز رکھتے ان کی تو بھوک پیاس ساری مشقتیں خدا کی راہ میں ایک ایک قدم اٹھانا دشمنون کو ڈرانا دھمکانا ان پر فتح پانی یہ سب نیکی میں شمار کئے جاتے گھر میں بیٹھ کر انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔ حاصل یہ ہے کہ اس آیت میں یہ بات تاکید کے ساتھ جتلائی گئی ہے کہ حضرت ﷺ جب لڑائی کو نکلیں تو تم لوگ بھی ان کا ساتھ دو اور گھروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
آیت : (120-121)
اللہ تبارک و تعالیٰ مدینہ منورہ میں رہنے والے مہاجرین و انصار اور مدینہ منورہ کے ارد گرد رہنے والے اعراب کو ‘ جو اسلام لائے اور انہوں نے اپنے اسلام کو صحیح کرلیا ‘ ترغیب دیتے ہوئے فرماتا ہے : (ما کان لاھلالمدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ) ” اور نہیں چاہیے مدینے والوں کو اور ان کے ارد گرد رہنے والے گنواروں کو کہ وہ پیچھے رہ جائیں رسول اللہ کے ساتھ سے “ یعنی یہ بات ان کو زیبا نہیں اور نہ ان کے احوال کے لائق ہے (ولایرغبوا بانفسھم) ” اور نہ یہ کہ وہ اپنی جانوں کو چاہیں “ اپنے نفس کی بقاء اور اپنی راحت و سکون کی خاطر (عن نفسہ) ” رسول کی جان سے زیادہ “ یعنی اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
جنگ میں کمانڈ ر کا ساتھ دینا ضروری ہے
قول باری ہے ما کان لا ھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفواعن رسول اللہ ولا یرغبوا فانفسھم عن نفسہ ۔ مدینے کے باشندوں اور گردو نواح کے بدویوں کو ہرگز یہ زیب نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بےپرواہ ہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے اس آیت میں یہ بیان کردیا گیا ہے کہ اہل مدینہ پر حضور ﷺ کے کے ساتھ غزوات میں جانا واجب تھا البتہ معذور ین نیز وہ لوگ اس حکم سے مستثنیٰ تھے جنہیں حضور ﷺ نے رہ جانے کی اجازت دے دی تھی ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سابقہ آیات میں منافقین کی اس بنا پر مذمت کی کہ وہ حضور ﷺ کے پاس آ کر رہ جانے کی…
Read the full tafseer →215 صحبت خیر سے محرومی باعث محرومی والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اچھوں کی صحبت معیت سے محرومی بڑے خسارے کا سودا ہے۔ والعیاذبا اللہ : اس لیے مدینے والوں اور ان کے آس پاس والوں کو رسول سے پیچھے نہیں رہنا چاہئے تھا کہ اول تو سچوں کے امام و پیشوا اس نبی معصوم کی معیت ورفاقت کا شرف بذات خود مامور ومطوب اور ایک عظیم الشان سعادت ہے اور دوسرے اس راہ حق میں پیش آنے والی ایک ایک تکلیف ومشقت اور ایک ایک حالت و کیفیت پر نیکی اور اجر وثواب لکھا جاتا ہے۔ تو پھر سعادت درسعادت پر مشتمل اس سفر مبارک سے تخلف کتنی بڑی محرومی اور کس قدربڑا خسارہ ہے تو پھر ایسا کرنا کس طرح روا ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
سچائی کی قدر اور اس کا اجر
تشریح : ان آیات میں مومنین کو خواہ وہ عرب کے شہری ہوں یا دیہاتی ہوں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ملکر کفر و شرک کو مٹانا چاہیے یہ خود ان کے لیے اجر وثواب کا باعث ہوگا۔ کیونکہ اللہ کی راہ میں اٹھا ہوا ہر قدم، ہر سانس اور ہر عمل چاہے وہ معمولی ہو یا بڑا ہو نیکی میں شمار ہوتا ہے اور اس کا بدلہ ہر صورت ضرور ہی دیا جاتا ہے یہی اللہ کا دستور ہے اور یہی اس کا وعدہ ہے۔ اور اس کا وعدہ سچا ہے اور پکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
آیات 119 تا 122
اسرار و معارف
صحبت کا اثر
یہ لغزش بھی جو مخلصیں سے صادرہوئی اور اللہ کریم نے معاف بھی فرمادی ، مزید انعاواکرام سے بھی نوازا کہ اسقامت بھی بخشی اور اپنی رضامندی کی سند بھی ۔ مگر اس کی وجہ بھی جاننا ضروری ہے لہٰذامومنین کو چاہیئے کہ وہ صحبت صادقین اختیار کریں منافقین سے اگرچہ ولی دوستی نہ تھی ، مگر رسمی ملاقات تو تھی جس کے باعث انھیں ایسی باتیں کرنے کا موقع ہاتھ آیا جس نے مومنیں کے قلوب میں بھی ایک گونہ اضطراب پیدا کردیا ۔ اب یہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کباررضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت کی برکات تھیں کہ ان کے قلوب میں خلوص جاگزیں تھا جو رحمت باری کے نزول کا سبب بنا اور یوں بات…
Read the full tafseer →ف 10۔ مزینہ، جہینہ، اشجع، اسلم اور غفار وغیرہ قبائل کے لوگ۔
1۔ یعنی بستیاں، زمینیں، مکانات اور کھیتیاں یا کوئی بھی ایسی جگہ جس میں آنے اور چلنے پھرنے سے ان کے دل میں غصہ اور جلن پیدا ہو اور خوف زدہ ہوں۔ (ابن کثیر۔ کبیر)
2۔ انہی قتل کریں، قیدکریں یا ان سے مال غنیمت حاصل کریں۔
3۔ جس کا ثواب انہیں ضرور ملے گا۔
Read the full tafseer →(9:120) ما کان لاہل المدینۃ۔ زیبا نہیں تھا درست نہیں تھا۔ مناسب نہ تھا اہل مدینہ کے لئے۔
ان یتخلفوا عن رسول اللہ۔ کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر پیچھے ٹھہرے رہتے۔
لایرغبوا۔ مضارع منفی جمع مذکر غائب (باب سمع) عزیز نہ سمجھیں۔ رغب فیہ۔ چاہنا ۔ خواہش کرنا۔ محبت کرنا۔ دلچسپی لینا۔ رغب عن۔ منہ پھر لینا ۔ چھوڑنا۔ اور اض کرنا۔ روگردانی کرنا۔ رغب بہ عن غیرہ کیس کو کسی پر فضیلت دینا ۔ برتری دینا۔ لایرغبوا بانفسھم عن نفسہ وہ اپنی جانوں کو اس کی جان پر فضیلت و برتری نہ دیں۔ اپنی جانوں کو اس کی جان سے عزیز نہ سمجھیں۔ نفسہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع رسول اللہ سے۔ ذلک۔ بمعنی یہ اس لئے۔
ظما پیاس۔ تشنگی۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–121
لغات القرآن آیت نمبر 119 تا 121
کونوا (ہو جائو) الصدقین (سچ بولنے والے) ان یتخلفوا (یہ کہ وہ مخالفت کرلیں) لایرغبوا (رغبت نہ کریں) لا یصیب (نہیں پہنچے گا) ظما (پیاس) نصب (محنت، مشقت) مخمصۃ (بھوک) لایطنون (وہ نہیں روندے) موطنی (چلنے کی جگہ ) یغیط (غصہ میں آئیں) لاینالون (وہ حاصل نہیں کرتے) کتب (لکھا گیا، فرض کیا گیا) لایضیع (وہ ضائع نہیں کرتا) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے ہیں) نفقۃ صغیرۃ (معمولی خرچ) لایقطعون (وہ نہیں کاٹتے ہیں، وہ نہیں طے کرتے ہیں) وادیا (وادی، گھاٹی، میدان) احسن (زیادہ بہتر)
تشریح :- آیت نمبر 119 تا 121
گزشتہ آیات میں منافقین اور مخلص اہل ایمان کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →جہاد کا حکم
اس آیت میں بھی اگلی آیتوں سے تعلق ہے بعض لوگ جو خاص مدینہ میں رہتے تھے، ان کے حق میں خفگی (ناراضگی) کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان کو یہ بات لائق نہیں تھی کہ اپنی جان کو رسول ﷺ کی جان سے عزیز رکھتے۔ ان کی تو بھوک پیاس ساری مشقتیں، خدا کی راہ میں ایک ایک قدم اٹھانا، دشمنوں کو ڈرانا دھمکانا، ان پر فتح پانی یہ سب نیکی میں شمار کئے جاتے۔ گھر میں کر انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا۔ حاصل یہ ہے کہ اس آیت میں یہ بات تاکید کے ساتھ جتلائی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ جب لڑائی کو نکلیں تو تم لوگ بھی ان کا ساتھ دو اور گھروں میں بیٹھ ہنا حرام کردیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
[70] ان کا حال حاشیہ 57 میں گزر چکا ہے نیز تشریح آیت نمبر 118 حواشی کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔
یہ تینوں صاحب جیسا کہ سورت کے حاشیہ 57 میں بیان کیا جا چکا ہے کعب بن مالک، ہلال بن امیّہ اور مرارہ بن ربیع تھے۔ یہ حضرات سچے مومن تھے اور اس سے پہلے اپنے اخلاص کا بارہا ثبوت دے چکے تھے۔ آخر الذکر دو اصحاب تو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے، جن کی صداقت ایمانی ہر شبہ سے بالا تر تھی۔ اول الذکر اگرچہ بدری نہ تھے لیکن بدر کے سوا ہر غزوے میں نبی ﷺ کے ساتھ رہے۔ ان خدمات کے باوجود جو سستی اس نازک موقع پر جب کہ تمام قابل جنگ اہل ایمان کو جنگ کے لئے نکل آنے کا حکم دیا گیا تھا، ان حضرات نے دکھائی اس پر سخت گرفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
نمازیوں کے درجے :
(ف 1) رسول ﷺ مرکز محبت میں مسلمان کے لئے رسول کا وجود باجود باعث صد ہزار برکت ہے ، یہ ہو سکتا ہے کہ اپنی جان کے متعلق تغافل ہوجائے ، مگر رسول ﷺ سے تغافل گناہ ہے ، کفر ہے اور معصیت ہے مسلمان کبھی حضور ﷺ کے منشاء و ارادہ کی مخالفت نہیں کرسکتا ، اس لئے کہ وہ تو سب کچھ حرمت رسول کے لئے قربان کرچکا ہے ۔
وہ لوگ جو حرمت رسول کے لئے جہاد کرتے ہیں ان کی ہر تکلیف نازش اولیاء ہے ، انکی پیاس اور بھوک میں اجر ہے ، ان کا قدم برکت لزوم ہے ، ان کی تکلیف اللہ کو عزیز ہے ۔
اور یہی وہ لوگ ہیں جو صیح معنوں میں اللہ اور اس کے رسول کے محب ہیں ، جو محسن اور نیک ہیں ، محبت رسول اور عشق رسول عافیت…
Read the full tafseer →120 اہل مدینہ اور ان کے ارد گرد اور آس پاس کے دیہاتیوں کو یہ زیبا نہ تھا اور یہ بات ان کے لائق نہ تھی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جہاد میں جانے سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ زیبا تھا کہ اپنی جانوں کو رسول اللہ ﷺ کی جان سے زیادہ چاہیں اور زیادہ عزیز رکھیں۔ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ جانے کا یہ سبب تھا اور اس لئے ضروری تھا کہ ان مجاہدین کو جو پیاس و مشقت و ماندگی اور بھوک اللہ کی راہ میں پہنچتی ہے اور جہاں کہیں وہ کسی ایسے مقام پر چلتے ہیں جہاں کا چلنا کفار کو غلیظ و غضب میں ڈالتا ہے اور دشمنوں کے مقابلہ میں جو کامیابی اور جو چیز بھی یہ حاصل کرلیتے ہیں ان سب امور کے بدلے ان مجاہدین کے لئے نیک عمل لکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
ف 4۔ کسی شخص کو بوجہ ارتکاب امر خلاف شرع کے یہ سزا دینا کہ اس سے ترک سلام و کلام کردیں جائز ہے اور حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے کہ تین روز سے زیادہ ترک کلام نہ کرے مراد اس سے وہ ہے جس کا سبب کوئی دنیوی رنج ہو۔
Read the full tafseer →سورة التوبہ کا مکمل خلاصہ اس آیت نے پیش کردیا :
155: ایمان والوں کے لئے یہ ہرگز زیبا نہیں کہ وہ تو آرام سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہیں اور اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا ، موسم کی ناسازیوں کا مقابلہ کرتا ، جہاد کی طرف پیش قدمی کرتا چلا جا رہا ہو۔ یہ حکم قیامت تک ہے مطلب یہ ہے کہ جب بھی خلہفک وقت جہاد عام کا حکم فرمادے تو سب مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے جہاد کے لئے نکلیں۔ اگرچہ اصل مخاطب اول اس وقت کے مسلمان ہی ہیں کیونکہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ : ” مدینہ کے باشندوں کو اور ان اعرابیوں کو جو مدینہ کے اطرات میں بستے ہیں لائق نہ تھا کہ اللہ کے رسول کا…
Read the full tafseer →Commentary
The two verses cited above admonish those who missed to join the expedition of Tabuk for no valid reason. They have also been told that they did what was not proper. Then the verses describe the merits of people who take part in Jihad and tell us about the great rewards they get for everything they do there. Included here is the causing of hurt or loss to the enemy and the using of a strategy that infuriates the adversary. All these are good deeds, and worthy of thawab (reward from Allah).
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →