At-Tawba 9:119

At-Tawba · from ayah 119

9:119

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ ۟يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِيۡنَ

اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O you who have believed, fear Allah and be with those who are true.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 15 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:119

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے اہل ایمان! خدا سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو، اور سچے لوگوں کے ساتھ رہا کرو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرتے رہو اور اہلِ صدق (کی معیت) میں شامل رہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہوجاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور راست باز لوگوں کا ساتھ دو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے ایمان والو، اللہ سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کی معیت اختیار کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایمان والو ! ڈرو تم اللہ سے اور ساتھ دو سچوں کا، (مدینہ والوں کا)

— مولانا اسحاق مدنی

اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور راستبازوں کے ساتھ رہا کرو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے اہل ایمان ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچے لوگوں کی معیت اختیار کرو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے اہل ایمان ! اللہ سے ڈرتے رہو اور راست بازوں کے ساتھ رہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Believers! Have fear of Allah and stand with those that are truthful.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O you who believe, fear Allah, and be in the company of the truthful.

— Muhammad Taqi Usmani

O you who believe, fear Allah, and be in the company of the truthful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O you who believe! Have Taqwa of Allah, and be with those who are true (in words and deeds).

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O ye who believe! Be careful of your duty to Allah, and be with the truthful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O you who have believed, fear Allah and be with those who are true.

— Saheeh International

Believers, have fear of God and always be friends with the truthful ones.

— Muhammad Sarwar

O you who believe! be careful of (your duty to) Allah and be with the true ones.

— Muhammad Habib Shakir

O Ye who believe! fear Allah, and be with the truthful.

— Abdul Majid Daryabadi

O ye who believe! Fear Allah and be with those who are true (in word and deed).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:119

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 118–119

جنگ تبوک میں عدم شمولیت سے پشیمان حضرت کعب بن مالک ؓ کے صاحبزادے حضرت عبید اللہ جو آپ کے نابینا ہوجانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کرلے جایا لے آیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر نہیں، اس میں جو لوگ شامل نہیں ہوئے تھے ان پر کوئی سرزنش نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ تو قافلے کے ارادے سے چلے تھے لیکن وہاں اللہ کی مرضی سے قریش کے جنگی مرکز سے لڑائی ٹھیر گئی۔ تو چونکہ یہ لڑائی بیخبر ی میں ہوئی اس لیے میں اس میں حاضر نہ ہوسکا اس کے بجائے الحمد اللہ میں لیلۃ العقبہ میں رسول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 118–121

سورة التَّوْبَة 118 نبی ﷺ جب تبوک سے مدینہ واپس تشریف لائے تو وہ لوگ معذرت کرنے کے لیے حاضر ہوئے جو پیچھے رہ گئے تھے۔ ان میں 80 سے کچھ زیادہ منافق تھے اور تین سچے مومن بھی تھے۔ منافقین جھوٹے عذرات پیش کرتے گئے اور حضور ان کی معذرت قبول کرتے چلے گئے۔ پھر ان تینوں مومنوں کی باری آئی اور انہوں نے صاف صاف اپنے قصور کا اعتراف کرلیا۔ نبی ﷺ نے ان تینوں کے معاملہ میں فیصلہ کو ملتوی کردیا اور عام مسلمانوں کو حکم دے دیا کہ جب تک خدا کا حکم نہ آئے، ان سے کسی قسم کا معاشرتی تعلق نہ رکھا جائے۔ اسی معاملہ کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ (یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ ان تین اصحاب کا معاملہ ان سات اصحاب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ ، سابقہ آیات میں جو واقعہ تخلف عن الجہاد کا بعض مخلصین سے پیش آیا پھر ان کی توبہ قبول ہوئی یہ سب نتیجہ ان کے تقوٰی اور خوف خدا کا تھا، اس لئے اس آیت میں عام مسلمانوں کو تقوٰی کیلئے ہدایت فرمائی گئی، اور كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا کہ صفت تقوٰی حاصل ہونے کا طریقہ صالحین و صادقین کی صحبت اور عمل میں ان کی موافقت ہے اس میں شاید یہ اشارہ بھی ہو کہ جن حضرات سے یہ لغزش ہوئی اس میں منافقین کی صحبت مجالست اور ان کے مشورہ کو بھی دخل تھا، اللہ کے نافرمانوں کی صحبت سے بچنا چاہئے اور صادقین…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

راست بازوں کی صحبت اختیار کرنے کی ہدایت : يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ : تطہیر و تزکیہ کا غسل دینے کے بعد اب یہ مسلمانوں کو بعض ہدایات دی جا رہی ہیں جن پر عمل کر کے وہ آیندہ اپنے آپ کو کفر و نفاق کی آلودگیوں سے پاک صاف رکھ سکتے ہیں۔ پہلی ہدایت یہ ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور راستبازوں کی صحبت اور معیت اور راسخ الایمان اور کامل الحیاء لوگوں کی رفاقت اختیار کرو۔ صحبت و معیت کو آدمی کے بناؤ اور بگاڑ میں بڑا دخل ہے۔ اگر آدمی کا رہنا سہنا، اٹھنا بیٹھنا، کافروں، منافقوں اور جاہلوں کے ساتھ ہو تو کمزور تو درکنار بسا اوقات مضبوط آدمی بھی کچھ نہ کچھ ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

119۔ 1 سچائی ہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان تینوں صحابہ کی غلطی نہ صرف معاف فرما دی بلکہ ان کی توبہ کو قرآن بنا کر نازل فرما دیا۔ ؓ و رضوا عنہ۔ اس لئے مومنین کو حکم دیا گیا کہ اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ اس کا مطلب یہ ہی کہ جس کے اندر تقوٰی (یعنی اللہ کا خوف) ہوگا، وہ سچا بھی ہوگا اور جو جھوٹا ہوگا، سمجھ لو کہ اس کا دل تقویٰ سے خالی ہے۔ اسی لئے حدیث میں آتا ہے کہ مومن سے کچھ اور کوتاہیوں کا صدور تو ہوسکتا ہے لیکن وہ جھوٹا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 119–120

96: یہ ان تین حضرات کے واقعے سے ملنے والا سبق ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے۔ انہوں نے اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے منافقین کی طرح جھوٹے سچے بہانے نہیں بنائے، بلکہ جو حقیقت تھی، وہ سچ سچ بیان کردی کہ ان کے پاس کوئی عذر نہیں تھا۔ ان کی اس سچائی کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کی نہ صرف توبہ قبول فرمائی، بلکہ سچے لوگوں کی حیثیت سے قیامت تک کے لیے ان کا تذکرہ قرآن کریم میں زندہ جاوید کردیا گیا۔ اس آیت میں یہ تعلیم بھی ہے کہ انسان کو اپنی صحبت سے سچے لوگوں کے ساتھ رکھنی چاہیے، جو زبان کے بھی سچے ہوں، اور عمل کے بھی سچے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین۔ اے ایمان والو ! اللہ (کی نافرمانی اور عذاب) سے ڈرو اور رہو سچوں کے ساتھ۔ یعنی جو لوگ ایمان اور وعدوں میں سچے ہیں۔ یا وہ لوگ جو اسلام میں سچے ہیں ‘ نیت کے خلوص ‘ قول کی صداقت اور عمل کے اعتبار سے (گویا پہلے قول پر صدق سے مراد ہے ایمان اور وعدہ کی سچائی اور دوسرے قول پر مراد ہے نیت کا خلوص اور قول و عمل کی سچائی) مطلب یہ ہے کہ ہر چیز میں سچائی کو اختیار کرو اور سچائی کی پابندی کرو۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر نے فرمایا : یعنی محمد (ﷺ) اور آپ کے صحابہ کے ساتھ رہو جن کی نیتیں خالص ہیں ‘ دل بےلوث ہیں اور اعمال میں اخلاص ہے۔ اخلاص اور سچے ارادہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی سچوں کی صحبت رکھو اور انہی جیسے کام کرو۔ دیکھ لو یہ تین شخص سچ کی بدولت بخشے گئے اور مقبول ٹھہرے منافقین نے جھوٹ بولا اور خدا کا ڈر دل سے نکال دیا تو " درک اسفل " کے مستحق بنے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 119 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ یہ گویا جماعتی زندگی اختیار کرنے کا حکم ہے۔ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور جماعتی زندگی سے منسلک رہنے کے بہت سے فوائد اور بہت سی برکتیں ہیں ‘ جیسا کہ اس سے پہلے ہم سورة الانعام کی آیت 71 میں پڑھ آئے ہیں : لَہٗٓ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَہٗٓ اِلَی الْہُدَی اءْتِنَا ط۔ جماعتی زندگی دراصل ایک قافلے کی مانند ہے۔ قافلے میں دوران سفر اگر کسی ساتھی کی ہمت جواب دے رہی ہو یا کوئی معذوری آڑے آرہی ہو تو دوسرے ساتھی اسے سہارا دینے ‘ ہاتھ پکڑنے اور ہمت بندھانے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

135 سچ بولنے کی فضیلت اور فائدہ :۔ کعب بن مالک غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والوں کا قصہ بیان کرنے کے بعد کہا کرتے : اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ اللہ نے کسی شخص کو سچ کہنے کی توفیق دے کر اس پر اتنا احسان کیا ہو جیسا کہ مجھ پر کیا۔ میں نے اسی وقت سے لے کر آج تک قصداً کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اللہ تعالیٰ نے اسی باب میں یہ آیات اتاریں (لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 117؀ۙ ) 9 ۔ التوبہ :117)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

224۔ یعنی صادقوں کی راہ پر چلو، انہی کی طرح صدق اختیار کرو، فقہاء نے لکھا ہے کہ اجماع امت کے حجت شرعی ہونے پر یہ آیت ایک مستقل دلیل ہے۔ دل علی قیام الحجۃ علینا باجماعھم (جصاص) والایۃ تدل علی ان الاجماع حجۃ لانہ امر بالکون مع الصادقین فلزم قبول قولھم (مدارک) یدل علی ان اجماع الامۃ حجۃ (کبیر) عارفین نے شیوخ کا مل وائمہ مجتہدین کی اقتداء وصحبت کا اشارہ بھی اس سے سمجھا ہے۔ (آیت) ” الصدقین “۔ یعنی وہ لوگ جو دین میں نیت اور قول اور عمل کے لحاظ سے صادق ہیں۔ الذین صدقوا فی الدین نیۃ وقولا وعملا (مدارک) (آیت) ” مع الصدقین “۔ بعض نے معیت کی تفسیر قرب وقرین رہنے سے کی ہے، اس صورت میں صالحین کی ترغیب آیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 119–122

آیت نمبر 119 تا 122 ترجمہ : اے ایمان والو ترک معصیت کر کے اللہ سے ڈرو اور ایمان اور معاہدوں میں سچوں کے ساتھ رہو بایں صورت کہ سچ کو لازم پکڑے رہو، مدینہ والوں کے لئے اور اس کے اطراف کے دیہاتی باشندوں کے لئے ہرگز یہ مناسب نہیں تھا کہ غزوہ کے وقت رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہتے اور نہ یہ زیبا کہ اپنی جانوں کو آپ ﷺ کی جان سے عزیز سمجھیں بایں صورت کہ اپنی جانوں کو ان شدائد سے بچائیں کہ جن کو آپ ﷺ نے اپنے لئے پسند فرمایا ہے، (لا یرغبون) بصورت نہی خبر ہے، یہ یعنی تخلف سے ممانعت اس وجہ سے ہے کہ ان کو اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو جسمانی مشقت اٹھانی پڑی اور جو بھوک اللہ کی راہ میں ان کو لگی اور جو کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین۔ اے ایمان والو ! اللہ (کی نافرمانی اور عذاب) سے ڈرو اور رہو سچوں کے ساتھ۔ یعنی جو لوگ ایمان اور وعدوں میں سچے ہیں۔ یا وہ لوگ جو اسلام میں سچے ہیں ‘ نیت کے خلوص ‘ قول کی صداقت اور عمل کے اعتبار سے (گویا پہلے قول پر صدق سے مراد ہے ایمان اور وعدہ کی سچائی اور دوسرے قول پر مراد ہے نیت کا خلوص اور قول و عمل کی سچائی) مطلب یہ ہے کہ ہر چیز میں سچائی کو اختیار کرو اور سچائی کی پابندی کرو۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر نے فرمایا : یعنی محمد ﷺ اور آپ کے صحابہ کے ساتھ رہو جن کی نیتیں خالص ہیں ‘ دل بےلوث ہیں اور اعمال میں اخلاص ہے۔ اخلاص اور سچے ارادہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(119) یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں اور دیگر مومنوں کو جن باتوں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان باتوں میں اس کی اطاعت کرو اور اٹھنے بیٹھنے اور اس کے راستہ میں جانے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ اور ان کے ساتھیوں کا ساتھ دو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ : یہ صادقین رسول اللہ ﷺ اور آپ کے مخلص صحابہ کرام ؓ ہیں۔ صدق نیت، قول اور فعل تینوں میں ہو تو صدق ہے، ورنہ فعل قول کی تکذیب کرے تو یہ بھی صدق نہیں، اس لیے جو لوگ اپنے اخلاص نیت اور قول کے مطابق عملاً تبوک کی طرف نکلے بھی وہی صادقین ٹھہرے اور ان کا ساتھ دینے کا حکم دیا گیا۔ ان تینوں نے بھی سچ کہا، اپنی خطا مانی اس لیے بخشے گئے، نہیں تو منافقین میں ملتے۔ (موضح) اللہ تعالیٰ نے سچے مومن قرار ہی ان لوگوں کو دیا ہے جو ایمان لانے کے بعد شک میں مبتلا نہیں ہوئے اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا، فرمایا کہ صادق صرف یہی لوگ ہیں۔ دیکھیے سورة حجرات…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 119۔ اس آیت میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وکونوا مع الصدقین “۔ یہ اہل صدق کے ساتھ ہونے کے بارے امر ہے اور تین کے قصے کے بعد بہت اچھا ہے جنہیں سچ نے نفع پہنچایا اور انہیں منافقوں کے مراتب سے دور ہٹا دیا گیا، مطرف نے کہا ہے : میں نے حضرت مالک بن انس ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے : جب کبھی کوئی آدمی سچ بولتا ہے اور وہ جھوٹ نہیں بولتا تو اس کی عقل سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور یہ بڑھاپے سے فساد عقل میں سے اس حد تک نہیں پہنچتا جہاں تک کوئی دوسرا پہنچ جاتا ہے (یعنی بڑھاپے اور فساد کے سبب اس کی عقل مختل اور ماؤف نہیں ہوتی) یہاں مومنین اور صادقین سے جو مراد ہیں ان کے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن منذر وابن جریر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے نافع ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ کے بارے میں فرمایا کہ (یہ آیت) ان تین آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی جو پیچھے رہ گئے تھے ان سے کہا گیا کہ تم محمد ﷺ اور ان کے اصحاب کے ساتھ ہوجاؤ۔ 2:۔ ابن منذر (رح) نے کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ہمارے بارے میں (یہ آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ بھی نازل ہوئی۔ 3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ کہ محمد ﷺ اور اس کے اصحاب کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوا [ایمان لائے ] اتَّقُوا [ تقوی کرو ] اللّٰهَ [ اللہ سے ] وَكُوْنُوْا [ اور ہوجاؤ] مَعَ الصّٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والوں کے ساتھ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور سچوں کے ساتھ ہوجانے کا حکم اوپر کی دو آیتوں میں حضرت کعب بن مالک اور ان کے دونوں ساتھیوں کی توبہ قبول ہونے کا ذکر ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ یہ آیت بھی انہی آیات کے ساتھ نازل ہوئی۔ حضرت کعب اور ان کے ساتھیوں نے سچ بولا اور سچ ہی کی وجہ سے نجات ہوئی (جس کا حدیث شریف میں ذکر ہے) اس آیت میں سچائی کی اہمیت اور ضرورت بتانے کے لیے عامۃ المسلمین کو حکم فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ اللہ سے ڈرنے کا حکم قرآن مجید میں جگہ جگہ وارد ہوا ہے۔ اس آیت میں تقویٰ حاصل ہونے کا ایک طریقہ بتادیا اور وہ یہ ہے کہ صادقین کے ساتھ ہوجاؤ۔ عربی میں صادق سچے کو کہتے ہیں اور سچائی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

صادقین کی معیت اور صحبت کا حکم قال اللہ تعالی۔ یا ایہالذین امنوا اتقوا للہ وکونو مع الصدقین (ربط) چونکہ کعب بن مالک وغیرہ کی معافی محض پرہیزگاری اور سچ بولنے کی وجہ سے ہوئی اس لیے عام مسلمانوں کو تقوی اور پرہیزگاری اور صادقین کی معیت اور صحبت کا حکم دیا جاتا ہے کہ صادقین کی معیت اور صحبت اختیار کرو اور منافقین کی صحبت سے پرہیز کرو اس لیے کہ نبوت کے بعد درجہ صدق کا ہے۔ فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین والصدیقین الی آخرہ۔ چناچہ فرماتے ہیں اے ایمان والو ایمان کا مقتضی یہ ہے کہ اللہ کے غصہ سے ڈرو اور اس کی معیت اور نافرمانی سے بچو اور توقی کی حفاظت کے لیے سچوں کے ساتھ رہو راستبازوں کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 118–119

113:“ وَ عَلَی الثَّلٰثَةِ الخ ”، اس سے وہی تینوں صحابی مراد ہیں جن کا “ وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ الخ ” رکوع 13 میں پہلے ذکر ہوچکا ہے انہوں نے فوری طور پر معذرت نہیں کی تھی اس لیے قبول توبہ میں تاخیر ہوئی۔ تاخیر توبہ کی وجہ سے وہ اس قدر بےچین اور مضطرب رہے کہ زمین بایں وسعت و پہنائی ان پر تنگ ہوگئی لیکن ان کا ایمان تھا کہ اللہ کے سوا ان کا کوئی چارہ ساز اور پناہ دہندہ نہیں اس لیے اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 117–119

ربط آیات : گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے دوگروہوں کا ذکر فرمایا تھا۔ پہلا گروہ مہاجرین اور انصار کی مرکزی جماعت ہے جو سب سے پہلے ایمان لائے اور دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے پہلے گروہ کی اتباع کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کے مال اور جانیں جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ کبھی دشمن کو قتل کرتے ہیں اور کبھی خود جام شہادت نوش کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کی صفات بھی بیان فرمائیں۔ ا ن میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیام حدود ہی کے سلسلے میں مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے منع فرما دیا چاہے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَكُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ۝ 119 تقوي والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 118–119

اس جنگ میں تین شخص سچے مسلمان محض آرام طلبی کی وجہ سے شریک نہ ہوئے تھے جن کی نسبت پہلے آیا تھا وآخرون مرجون لا مر اللّٰہ۔ اب یہاں اس فیض رحمت کے طفیل میں ان پر بھی رحمت کرتا اور ان کی توبہ قبول فرماتا ہے فقال وعلی الثلاثۃ الذین۔ اب ہم ان تینوں صاحبوں کا قصہ صحیح بخاری سے بیان کرتے ہیں کہ جس سے ان پر زمین فراخ کا تنگ ہونا اور جان کا تنگ آجانا اور خدا کے سوا کوئی ٹھکانا نظر نہ آنا معلوم ہوجاوے۔ یہ تو آپ کو پیشتر ہی معلوم ہوچکا ہے کہ یہ تین صحابی کعب بن مالک شاعر۔ مرارۃ بن الربیع۔ ہلال بن امیہ انصاری تھے۔ بخاری کعب سے نقل کرتے ہیں کہ میں بجز موقع بدر کے آنحضرت ﷺ کے ساتھ سے کبھی پیچھے نہیں رہا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰـٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (التوبہ : 119) (اے ایمان والوں اللہ سے ڈرتے رہو اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو۔ ) اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو دو ایسی قیمتی نصیحتیں فرمائی گئی ہیں۔ جن پر عمل کرنے سے ایک مومن اس حادثے سے دوچار نہیں ہوتا جس حادثے سے وہ بزرگ دو چار ہوئے جن کا ذکر گزشتہ آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ سب سے پہلی نصیحت یہ فرمائی کہ تقوی اختیار کرو۔ تقویٰ دل کی ایسی کیفیت کا نام ہے۔ جس میں اللہ کے خواور اس کی محبت کے سوا کسی اور کا خوف اور محبت نہ ہو اور اس خوف کی وجہ سے دل کا میلان ہمیشہ نیکی کی طرف ہو اور برائی سے نفرت محسوس ہو۔ یہ وہ کیفیت ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 117–119

فہم القرآن ربط کلام : غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے مخلص مسلمانوں کو معاف کرتے ہوئے اسی سورة کی آیت 106 میں تین مخلص مسلمانوں کے معاملے کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اب ان کے بارے میں فیصلہ صادر ہوتا ہے۔ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین قسم کے لوگ تھے۔ 1۔ جسمانی طور پر معذور اور اسباب آمدورفت کے میسر نہ ہونے کی وجہ سے مجبور۔ 2۔ منافقین۔ 3۔ بلاعذر پیچھے رہ جانے والے دس صحابہ کرام ؓ تھے۔ دس میں سے سات ایسے صحابہ تھے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی تبوک سے واپسی پر اپنی سزا خود تجویز کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ جکڑ لیا تھا۔ جن کی توبہ کے بارے میں آیت 105 کی تفسیر میں تفصیل سے عرض…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سچوں کا ساتھ دو : آیت 119: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو) نمبر 1۔ ایمان والوں کے ساتھ نہ کہ منافقین کے ساتھ۔ نمبر 2۔ ان ایمان والوں کے ساتھ جو پیچھے نہیں رہے۔ نمبر 3۔ ان لوگوں کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کے دین میں اور قول و نیت و عمل میں سچ اختیار کرنے والے ہیں۔ مسئلہ : یہ آیت اجماع کی حجیت پر دلیل ہے کیونکہ صادقین کا ساتھ دینے کا حکم دیا گیا پس ان کا قول قبول کرنا ضروری ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 119: یآ یھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین “ نافع (رح) فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے صحابہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے ساتھ ہو جائو اور سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر ؓ کے ساتھ ہو جائو اور ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ مہاجرین مراد ہیں اللہ تعالیٰ کے قول ” للفقراء المھاجرین “ سے ” اولئک ھم الصادقون “ تک کی وجہ سے۔ اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کے ساتھ ہو جائو جن کی نیتیں سچی ہیں اور دل اور عمل سیدھے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک کی طرف اخلاص نیت کے ساتھ نکلے اور بعض نے کہا ا ن لوگوں کے ساتھ ہو جائو جنہوں نے گناہ کا اعتراف کرنے میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 118–119

118۔ 119۔ یہ وہی تین شخص ہیں مرارہ بن ربیع کعب بن مالک ہلال بن امیہ جن کو توبہ قبول کرنے میں پچاس روز کی مہلت دی گئی تھی جن کا بیان اوپر گذر چکا 1 ؎ ہے جب وہ مدت پوری ہوگئی اور اب کے دل بہت ہی پریشان ہوئے زندگی سے تنگ آگئے دنیا ان کی آنکھوں میں اندھیری ہوگئی اور یہ بھی سمجھ لیا کہ پناہ بھی خدا ہی دے گا تو ان کے سچ بولنے پر خدا نے یہ آیت اتاری اور معاف فرمایا اس کا تفصیلی ذکر صحیح بخاری ومسلم میں خود کعب بن مالک ؓ کی روایت سے ہے وہ کہتے ہیں کہ میں سوائے تبوک اور بدری لڑائی کے ہر ایک لڑائی میں شریک ہوا ہوں اور غزوہ تبوک میں میں نہیں شامل ہوا حالانکہ اس وقت میں بہت آسودہ حال تھا حضرت ﷺ کا قاعدہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت : (119) (یایھا الذین امنو اتقو اللہ) ” اے اہل ایمان ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ اور ان امور پر ایمان رکھنے والو ! جن پر ایمان رکھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی منہیات سے اجتناب اور ان سے دور رہ کر تقویٰ کا التزام۔ (وکونوامع الصدقین) ” اور سچوں کے ساتھ رہو “۔ یعنی ان لوگوں کے ساتھ رہو جو اپنے اقوال ‘ افعال اور احوال میں سچے ہیں۔ جن کے اقوال سچے ہیں ‘ جن کے اعمال و احوال صدق پر مبنی ہیں ‘ جو کسل مندی اور فتور سے خالی اور برے مقاصد سے محفوظ ہیں ‘ جو اخلاص اور نیک نیتی پر مشتمل ہیں۔ صدق نیکی کی طرف راہ نمائی کرتا ہے اور نیکی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصارقین ۔ اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو ۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے ان کی یہ تفسیر مروی ہے کہ سچائی کو لازم پکڑو اور اس سے ہرگز روگردانی نہ کرو اس لیے کہ جھوٹ کی کسی حالت میں بھی گنجائش نہیں ہے ؟ نافع اور ضحاک کا قول ہے کہ دنیا میں عمل صالح کے ذریعے انبیاء اور صدیقین کی معیت حاصل کرو۔ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ میں ارشاد فرمایا لیس البر ان تولوا وجو ھکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من امن باللہ والیوم الاخر نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق اور مغرب کی طرف کرلو لیکن نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور ریوم آخر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

214 عظیم الشان دونکاتی انقلاب آفرین پروگرام : سبحان اللہ۔ کیسا عظیم الشان اور انقلاب آفرین دونکاتی پروگرام تعلیم فرمایا گیا ہے کہ ایک تو تم خودمتقی اور پرہیزگار بن جاؤ۔ یعنی ہراس چیز سے بچوجو تمہارے خالق ومالک کی ناراضگی کا باعث ہو۔ اس طرح تم خود پاکیزہ اور قیمتی انسان بن جاؤگے۔ اور اس کے بعد دوسراکام یہ کرو کہ تم دوسرے سچے متقی اور پرہیزگار لوگوں کا ساتھ دو تاکہ اس طرح تم حق اور اہل حق اور سچ اور سچوں کی قوت کا ذریعہ بنو۔ اور اس طرح پورا معاشرہ پاکیزہ اور نمونے کا معاشرہ بن جائے اور اس طرح ایسے سب لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکیں۔ وباللہ التوفیق وھوالمیسر لکل عسیر۔ بہرکیف سچوں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 117–119

سیدنا کعب بن مالک اور ان کے ساتھیوں کا واقعہ تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے صحابہ کرام پر رجوع کا تذکرہ ہے اور اس کے بعد ان صحابہ کا جو غزوہ تبوک میں شامل نہ ہوئے تھے جو کہ سچے مسلمان تھے جنہوں نے صاف صاف بتا دیا نبی کریم ﷺ کو جب وہ ﷺ جنگ سے واپس آئے جبکہ منافقین نے طرح طرح کے بہانے پیش کیے، سوائے ان تین حضرات کے ان کے نام یہ ہیں۔ 1 کعب بن مالک ؓ 2 ہلال بن امیہ ؓ 3 مرارہ بن ربیع ؓ ان کو آپ ﷺ نے کہا کہ تمہاری معافی بعد میں ہوگی۔ اور اعلان کردیا کہ ان تینوں سے سب لوگ سوشل بائیکاٹ کردیں۔ یہ بائیکاٹ 50 دن جاری رہا اس میں وہ تینوں سخت پریشان ہوئے مگر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 119–122

آیات 119 تا 122 اسرار و معارف صحبت کا اثر یہ لغزش بھی جو مخلصیں سے صادرہوئی اور اللہ کریم نے معاف بھی فرمادی ، مزید انعاواکرام سے بھی نوازا کہ اسقامت بھی بخشی اور اپنی رضامندی کی سند بھی ۔ مگر اس کی وجہ بھی جاننا ضروری ہے لہٰذامومنین کو چاہیئے کہ وہ صحبت صادقین اختیار کریں منافقین سے اگرچہ ولی دوستی نہ تھی ، مگر رسمی ملاقات تو تھی جس کے باعث انھیں ایسی باتیں کرنے کا موقع ہاتھ آیا جس نے مومنیں کے قلوب میں بھی ایک گونہ اضطراب پیدا کردیا ۔ اب یہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کباررضوان اللہ علیہم اجمعین کی صحبت کی برکات تھیں کہ ان کے قلوب میں خلوص جاگزیں تھا جو رحمت باری کے نزول کا سبب بنا اور یوں بات…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9۔ اور وہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ میں۔ (ابن کثیر) یہ تین سچ کہنے سے بخشے گئے نہیں تو منافقین میں ملتے (موضح) ۔ حضرت کعب ؓ بن مالک کا بیان ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام مجھ پر یہ ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کے سامنے سچ بولا ورنہ میں بھی جھوٹ بول کر ہلاک ہوجاتا جیسے دوسرے ہلاک ہوگئے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : تم راستبازی پر مضبوطی سے قائم رہو اس لئے کہ راست بازی نیکی کی اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے۔ آدمی سچ بولتا اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے۔ (بخاری مسلم) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 118–119

(9:118) وعلی الثلثۃ کا عطف النبی پر ہے ای وتاب علی الثلثۃ اور اس نے ان تینوں کو بھی معاف کردیا۔ ان تینوں پر بھی نظر رحمت فرما دی۔ الذین خلفوا۔ جن کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ یعنی کعب بن مالک۔ بلال بن امیہ۔ مرارۃ بن الربیع۔ بما رحبت۔ میں ما مصدریہ ہے۔ وضاقت علیہم الارض بما رحبت۔ باوجود فراخ ہونے کے ان پر زمین تنگ ہوگئی۔ ضاقت۔ ضیق سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ تنگ ہوگئی۔ رحبت۔ رحب سے (باب کرم) ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ کشادی ہوئی۔ وہ فراخ ہوئی۔ ملجا۔ اسم ظرف مکان۔ پناہ کی جگہ۔ لجا مصدر۔ پناہ پکڑنا۔ (باب فتح۔ سمع) ملجا بھی مصدر ہے۔ ثم تاب علیہم لیتوبوا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 119–121

لغات القرآن آیت نمبر 119 تا 121 کونوا (ہو جائو) الصدقین (سچ بولنے والے) ان یتخلفوا (یہ کہ وہ مخالفت کرلیں) لایرغبوا (رغبت نہ کریں) لا یصیب (نہیں پہنچے گا) ظما (پیاس) نصب (محنت، مشقت) مخمصۃ (بھوک) لایطنون (وہ نہیں روندے) موطنی (چلنے کی جگہ ) یغیط (غصہ میں آئیں) لاینالون (وہ حاصل نہیں کرتے) کتب (لکھا گیا، فرض کیا گیا) لایضیع (وہ ضائع نہیں کرتا) لاینفقون (وہ خرچ نہیں کرتے ہیں) نفقۃ صغیرۃ (معمولی خرچ) لایقطعون (وہ نہیں کاٹتے ہیں، وہ نہیں طے کرتے ہیں) وادیا (وادی، گھاٹی، میدان) احسن (زیادہ بہتر) تشریح :- آیت نمبر 119 تا 121 گزشتہ آیات میں منافقین اور مخلص اہل ایمان کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 118–119

شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ وہی تین شخص ہیں۔ (1) مرارہ بن ریع (2) کعب بن مالک (3) ہلال بن امیہ، جن کی توبہ قبول کرے میں پچاس روز کی مہلت دی گئی تھی جن کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔ جب وہ مدت پوری ہوگئی اور ان کے دل بہت ہی پریشان ہوئے۔ زندگی سے تنگ آگئے، دنیا ان کی آنکھوں میں اندھیر ہوگئی اور یہ بھی سمجھ لیا کہ پناہ بھی خدا ہی دے گا۔ تو ان کے سچ بولنے پر خدا نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کو معاف فرمایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 118–121

[70] ان کا حال حاشیہ 57 میں گزر چکا ہے نیز تشریح آیت نمبر 118 حواشی کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔ یہ تینوں صاحب جیسا کہ سورت کے حاشیہ 57 میں بیان کیا جا چکا ہے کعب بن مالک، ہلال بن امیّہ اور مرارہ بن ربیع تھے۔ یہ حضرات سچے مومن تھے اور اس سے پہلے اپنے اخلاص کا بارہا ثبوت دے چکے تھے۔ آخر الذکر دو اصحاب تو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے، جن کی صداقت ایمانی ہر شبہ سے بالا تر تھی۔ اول الذکر اگرچہ بدری نہ تھے لیکن بدر کے سوا ہر غزوے میں نبی ﷺ کے ساتھ رہے۔ ان خدمات کے باوجود جو سستی اس نازک موقع پر جب کہ تمام قابل جنگ اہل ایمان کو جنگ کے لئے نکل آنے کا حکم دیا گیا تھا، ان حضرات نے دکھائی اس پر سخت گرفت…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 118–119

(ف 1) ان تینوں کا ذکر گزشتہ اوراق میں گزر چکا ہے یہ تین کعب بن مالک مرارہ بن ربیع ، اور ہلال بن امیہ واقفی تھے عزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے ، حضور ناراض ہوگئے ، آپ کی نگاہ کرم کا پھرنا تھا کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین نے بھی چشم التفات پھیرلی اب نہ مسجد میں ان سے علیک سلیک ہے نہ بازار میں کوئی پوچھتا ہے ، گھر میں مستورات نے خدمت سے انکار کردیا ، آخر اللہ نے معذرت قبول کرلی ، اور یہ آیات نازل ہوئیں ؟ ” اللھم اغفر لکاتیبہ ولمن سعے فیہ ولوالد یھم اجمعین ، امین “۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

119 اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور سچوں کے ساتھ رہو۔ یعنی عمل میں ان لوگوں کے ساتھ جو قول اور فعل دونوں میں سچے ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ تین شخص سچ کہنے سے بخشے گئے نہیں تو منافقوں میں ملتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 118–120

ف 4۔ کسی شخص کو بوجہ ارتکاب امر خلاف شرع کے یہ سزا دینا کہ اس سے ترک سلام و کلام کردیں جائز ہے اور حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے کہ تین روز سے زیادہ ترک کلام نہ کرے مراد اس سے وہ ہے جس کا سبب کوئی دنیوی رنج ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کو سچائی کا ساتھ دینے کی تلقین الٰہی : 154: غور کرو کہ پیچھے ان تین پاک بازوں کا ذکر کیا گیا تھا جنہوں نے سچ کے ساتھ جھوٹ ملانے سے پرہیز کیا اگرچہ وہ ان کے لئے ایک آزمائش کا باعث ہوا تاہم منافقت کے داغ سے وہ بالکل صاف و پاک نکلے اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے جھوٹ بولنے کی گستاخی سے وہ بچ گئے اور اللہ نے ان کے اس عمل کو کتنی قبولیت بخشی اور اس کا ابر رحمت کس طرح ان پر برسا اور ان کے کشف ایمان کو شاداب کرگیا۔ اب زیر نظر آیت میں عام مسلمانوں کو انہی کے نقش قدم پر چلنے کی ہدایت کی جارہی ہے کیونکہ حقیقی کامیابی یہی ہے کہ انسان سے خطا ہوجائے تو اعتراف جرم اور اظہار ندامت کے بعد عفو و درگزر کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Advice to Muslims: Observe Taqwa and be with those true in word and deed This brings us to the last verse: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ ﴿119﴾ ( O those who believe, fear Allah, and be in the company of the truthful - 119). The event of having remained behind as related to some other-wise sincere people, and the ultimate acceptance of their repentance, was all a result of their Taqwa, the fear of Allah and the sense of being responsible before him. Therefore, in this verse, the large masses of Muslims have been instructed to observe Taqwa (as a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–129

89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.

Read the full tafseer →