Explained with ayahs 118–119
جنگ تبوک میں عدم شمولیت سے پشیمان حضرت کعب بن مالک ؓ کے صاحبزادے حضرت عبید اللہ جو آپ کے نابینا ہوجانے کے بعد آپ کا ہاتھ تھام کرلے جایا لے آیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جنگ تبوک کے موقع پر میرے والد کے رہ جانے کا واقعہ خود کی زبانی یہ ہے کہ فرماتے ہیں میں اس کے سوا کسی اور غزوے میں پچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر کا ذکر نہیں، اس میں جو لوگ شامل نہیں ہوئے تھے ان پر کوئی سرزنش نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ تو قافلے کے ارادے سے چلے تھے لیکن وہاں اللہ کی مرضی سے قریش کے جنگی مرکز سے لڑائی ٹھیر گئی۔ تو چونکہ یہ لڑائی بیخبر ی میں ہوئی اس لیے میں اس میں حاضر نہ ہوسکا اس کے بجائے الحمد اللہ میں لیلۃ العقبہ میں رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
سورة التَّوْبَة 118
نبی ﷺ جب تبوک سے مدینہ واپس تشریف لائے تو وہ لوگ معذرت کرنے کے لیے حاضر ہوئے جو پیچھے رہ گئے تھے۔ ان میں 80 سے کچھ زیادہ منافق تھے اور تین سچے مومن بھی تھے۔ منافقین جھوٹے عذرات پیش کرتے گئے اور حضور ان کی معذرت قبول کرتے چلے گئے۔ پھر ان تینوں مومنوں کی باری آئی اور انہوں نے صاف صاف اپنے قصور کا اعتراف کرلیا۔ نبی ﷺ نے ان تینوں کے معاملہ میں فیصلہ کو ملتوی کردیا اور عام مسلمانوں کو حکم دے دیا کہ جب تک خدا کا حکم نہ آئے، ان سے کسی قسم کا معاشرتی تعلق نہ رکھا جائے۔ اسی معاملہ کا فیصلہ کرنے کے لیے یہ آیت نازل ہوئی۔ (یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ ان تین اصحاب کا معاملہ ان سات اصحاب…
Read the full tafseer →(آیت) وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا، اس میں خلفوا کے لفظی معنی یہ ہیں کہ جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے مراد یہ ہے کہ جن کی توبہ کا معاملہ مؤ خر کیا گیا، یہ تین حضرات، حضرت کعب بن مالک شاعر، اور مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ہیں، تینوں انصاری بزرگ تھے، جو اس سے پہلے بیعت عقبہ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دوسرے غزوات میں شریک رہ چکے تھے، مگر اس وقت اتفاقی طور سے اس لغزش میں مبتلا ہوگئے، اور منافقین جو اس جہاد میں اپنے نفاق کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے تھے انہوں نے بھی ان کو ایسے ہی مشورے دیئے جس سے ان کی ہمت ٹوٹ گئی، مگر جب رسول اللہ ﷺ اس جہاد سے واپس آئے تو ان سب منافقین نے حاضر ہو کر جھوٹے…
Read the full tafseer →ان تین معتوبین کو بشارت جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا : وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا ۭ حَتّٰى اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّآ اِلَيْهِ ۭ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوْبُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔
قبولیت توبہ کی عام بشارت کے بعد، جو اوپر مذکور ہوئی، یہ ان تین آدمیوں کی قبولیت توبہ کی بشارت ہے جن کا معاملہ آیت 106 میں آیندہ کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔ حَتّٰى اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ ، یعی جب توبہ کے لیے ان کے اندر وہ خستگی اور بےقراری پیدا ہوگئی…
Read the full tafseer →118۔ 1 خلفو کا وہی مطلب ہے جو مرجون کا ہے یعنی جن کا معاملہ مؤخر اور ملتوی کردیا گیا تھا اور پچاس دن کے بعد ان کی توبہ قبول ہوئی۔ یہ تین صحابہ تھے۔ کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ؓ یہ تینوں نہایت مخلص مسلمان تھے۔ اس سے قبل ہر غزوے میں شریک ہوتے رہے۔ اس غزوہ تبوک میں صرف بوجہ غفلت شریک نہیں ہوئے بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا، تو سوچا کہ ایک غلطی (پیچھے رہنے کی) تو ہو ہی گئی ہے۔ لیکن اب منافقین کی طرح رسول اللہ کی خدمت میں جھوٹا عذر پیش کرنے کی غلطی نہیں کریں گے۔ چناچہ حاضر خدمت ہو کر اپنی غلطی کا صاف اعتراف کرلیا اور اس کی سزا کے لئے اپنے آپ کو پیش کردیا۔ نبی نے انکے معاملے…
Read the full tafseer →94: یہ ان تین صحابہ کی طرف اشارہ ہے جن کے بارے میں آیت نمبر 106 میں یہ فرمایا گیا تھا کہ ان کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا ہے۔
95: جیسا کہ آیت 106 کی تشریح میں عرض کیا گیا، ان تین حضرات کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے یہ حکم دیا تھا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے بارے میں کوئی واضح حکم آئے، اس وقت تک تمام مسلمان ان کا معاشرتی بائیکاٹ کریں۔ چنانچہ پچاس دن ان حضرات پر ایسے گذرے ہیں جن میں کوئی مسلمان ان سے نہ بات کرتا تھا، نہ کوئی اور معاملہ۔ ان تین حضرات میں سے حضرت کعب بن مالک ؓ نے اس زمانے کے حالات صحیح بخاری کی ایک لمبی روایت میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں اور بڑے اثر انگیز پیرائے میں یہ بتایا…
Read the full tafseer →وعلی الثلثۃ الذین خلفوا اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔
عَلَی الثَّلٰثَۃِکا عطف عَلَیْھِمْ پر ہے۔ خُلِفُوْا کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود غزوۂ تبوک سے رہ گئے (رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ نہیں گئے) یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابو لبابہ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ قبول ہونے سے پیچھے جن کا معاملہ چھوڑ دیا گیا ‘ ملتوی رکھا گیا۔ یہ تینوں حضرات کعب بن مالک ‘ شاعر مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ یہ حضرات انصاری تھے۔
شیخین نے صحیحین میں اور امام احمد و ابن ابی شیبہ ‘ ابن اسحاق اور عبدالرزاق نے حضرت کعب بن مالک کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت کعب نے فرمایا : جس…
Read the full tafseer →5 یہ تین شخص کعب بن مالک، ہلال بن امیّہ اور مرارہ بن الربیع ہیں۔ جو باوجود مومن مخلص ہونے کے محض تن آسانی اور سہل انگاری کی بناء پر بدون عذر شرعی کے تبوک کی شرکت سے محروم رہے۔ جب حضور ﷺ واپس تشریف لائے تو نہ انہوں نے منافقین کی طرح جھوٹے عذر پیش کئے اور نہ بعض صحابہ کی طرح اپنے آپ کو ستونوں سے باندھا۔ جو واقعہ تھا صاف صاف عرض کردیا، اور اپنی کوتاہی اور تقصیر کا اعلانیہ اعتراف کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ منافقین کی طرف سے بظاہر اغماض کر کے ان کے بواطن کو خدا کے سپرد کیا گیا۔ " اصحاب سواری " کی (یعنی جو مسجد کے ستونوں سے بندھے ہوئے تھے) توبہ قبول کرلی گئی۔ اور ان تینوں کا فیصلہ تادیباً کچھ مدت کے لیے…
Read the full tafseer →آیت 118 وَّعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا ط
یہ تین صحابہ کعب رض بن مالک ‘ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رض کے لیے اعلان معافی ہے۔ ان تین اصحاب رض کا ذکر آیت 106 میں ہوا تھا اور وہاں ان کے معاملے کو مؤخر کردیا گیا تھا۔ پچاس دن کے معاشرتی مقاطعہ کی سزا کے بعد ان کی معافی کا بھی اعلان کردیا گیا اور انہیں اس حکم کی صورت میں قبولیت توبہ کی سند عطا ہوئی۔
حَتّٰیٓ اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْہِمْ اَنْفُسُہُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لاَّ مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ الآَّ اِلَیْہِ ط
یہ ایسی کیفیت ہے کہ کوئی بچہ ماں سے پٹتا ہے مگر اس کے بعد اسی سے لپٹتا ہے۔ اللہ کے…
Read the full tafseer →134 سیدنا کعب بن مالک اور ان کے دوسرے ساتھیوں کا قصہ :۔ یہ وہ تین آدمی ہیں جن کا اجمالی ذکر اس سورة کی آیت نمبر 106 میں آچکا ہے اور وہ سیدنا کعب بن مالکص، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن الربیع ص تھے اور تینوں پہلے بارہا اپنے اخلاص کا ثبوت دے چکے تھے اور کعب بن مالک تو ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے لیلۃ العقبہ میں آپ سے بیعت کی تھی۔ آپ اگرچہ غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تاہم آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ مجھے لیلۃ العقبہ کی بیعت میں شمولیت غزوہ بدر میں شمولیت سے زیادہ عزیز ہے۔ بہت سی صحیح احادیث میں ان کا قصہ خود انہی سے مروی ہے۔ ان میں سے دو احادیث ہم یہاں درج کرتے ہیں :
1۔ کعب بن مالک خود بیان کرتے ہیں…
Read the full tafseer →220۔ (اور جن کا ذکر آیت نمبر 106 میں گزر چکا ہے) احادیث میں ان تین صحابیوں کے نام حسب ذیل ملتے ہیں۔ کعب بن مالک، مرارہ بن ربیعۃ الانصاری، ہلال بن امیہ الواقفی ؓ “۔ (آیت) ” خلفوا “۔ یعنی ان کا معاملہ چھوڑ رکھا گیا تھا، وحی الہی پر موقوف رکھا گیا تھا۔ اے خلفوا امرھم (بیضاوی) خود صاحب معاملہ حضرت کعب بن مالک ؓ سے یہی تفسیر مروی ہے۔ لیس الذی ذکر اللہ مما خلفنا تخلفنا عن الغزو وانماھو تخلیفہ ایانا وارجاء ہ امرنا عمن حلف لہ واعتذر الیہ فقبل منہ (قرطبی)
221۔ قرآن مجید مبالغہ بیانی سے آشنا نہیں جو سختیاں ان تین صاحبوں کو پیش آرہی تھیں وہ حقیقۃ ناقابل برداشت ہوچلی تھیں، ساری اسلامی سوسائٹی نے ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–118
آیت نمبر 111 تا 118
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کا جنت کے بدلے سودا کرلیا ہے اس طریقہ پر کہ وہ ان کو اس کی اطاعت میں مثلاً جہاد میں خرچ کریں وہ اللہ کے راستہ میں قتال کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں (یُقاتلُ ) بیان شراء کے لئے جملہ مستانفہ ہے، اور ایک قراءت میں یُقْتَلُونَ (مجہول) مقدم ہے (اور یُقَاتلُ ) معروف مؤخر ہے، یعنی ان میں سے بعض قتل کئے جاتے ہیں اور باقی قتال کرتے ہیں، ان سے اللہ کی جانب سے (جنت) کا تورات اور انجیل اور قرآن میں پختہ وعدہ ہے (وعدًا اور حَقًّا) دونوں اپنے فعل محذوف کی وجہ سے مصدر منصوب ہیں، اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدہ کو…
Read the full tafseer →وعلی الثلثۃ الذین خلفوا اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔
عَلَی الثَّلٰثَۃِکا عطف عَلَیْھِمْ پر ہے۔ خُلِفُوْا کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود غزوۂ تبوک سے رہ گئے (رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں گئے) یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابو لبابہ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ قبول ہونے سے پیچھے جن کا معاملہ چھوڑ دیا گیا ‘ ملتوی رکھا گیا۔ یہ تینوں حضرات کعب بن مالک ‘ شاعر مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ یہ حضرات انصاری تھے۔
شیخین نے صحیحین میں اور امام احمد و ابن ابی شیبہ ‘ ابن اسحاق اور عبدالرزاق نے حضرت کعب بن مالک کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت کعب نے فرمایا : جس…
Read the full tafseer →(118) اور ان تین حضرات یعنی حضرت کعب بن مالک ؓ اور ان کے ساتھیوں کی حالت پر بھی توجہ فرمائی جن کا توبہ کا معاملہ زیر التوا تھا، اس توبہ کی تاخیر سے زمین باوجود اتنی فراخی کے ان پر تنگی کرنے لگی اور وہ خود اپنی جانوں سے عاجز آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا اور اس بات کا کامل یقین کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی نجات صرف اسی میں تھی کہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے پر سچی توبہ کرلی جائے، پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی اور ان کو معاف فرمایا تاکہ آئندہ بھی جن سے اس قسم کی غلطی صادر ہوجائے وہ اسی کی طرف رجوع کیا کریں، بیشک اللہ تعالیٰ بہت توجہ فرمانے والے اور جو توبہ کرے اس کے حال پر…
Read the full tafseer →وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا : ”خُلِّفُوْا“ کا لفظی معنی اگرچہ پیچھے چھوڑے گئے ہے، مگر یہاں مراد یہ ہے کہ جن کا فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔ اسی بات کا تذکرہ اس سے پہلے آیت (107) (ۚوَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ) میں گزرا ہے۔ ”ۙوَّعَلَي الثَّلٰثَةِ“ کا عطف ”عَلَي النَّبِيِّ“ پر ہے (یعنی انصار و مہاجرین پر مہربان ہونے اور انھیں معاف کرنے میں) وہ تین شخص بھی داخل ہوئے جن پر پچاس دن میں ایسی حالت گزری کہ موت سے بھی بدتر۔ (موضح) یہ تین صحابہ تھے کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ؓ ، اس سے قبل تقریباً ہر غزوے میں یہ شریک ہوتے رہے، اس غزوۂ تبوک میں صرف سستی کی وجہ سے شریک…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 118۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “۔ کہا گیا ہے : اور ان تینوں پر بھی نظر رحمت فرمائی جنہیں توبہ سے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ یہ حضرت مجاہد (رح) اور ابو مالک (رح) سے مروی ہے، اور حضرت قتادہ ؓ نے کہا ہے : جو غزوہ تبوک سے پیچھے چھوڑ دیئے گئے، اور محمد بن زید سے بیان کیا گیا ہے کہ خلفوا کا معنی ترکوا (چھوڑ دیئے گئے) ہے، کیونکہ خلفت فلانا کا معنی ہے ترکتہ (میں نے اسے چھوڑ دیا) وفا رقتہ قاعدا عما نھضت فیہ (اور میں نے اسے بیٹھے ہوئے چھوڑا اس وقت جب میں اس سے اٹھا) اور عکرمہ بن خالد نے ” خلفوا “ پڑھا ہے، یعنی وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے مقیم رہے۔ اور جعفر بن محمد سے روایت ہے کہ…
Read the full tafseer →کاتبین صحابہ سے بائیکاٹ کا واقعہ :
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابو الشیخ وابن منذر وابن مردویہ وابن عساکر رحمہما اللہ نے جابر بن عبداللہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے مراد کعب بن مالک ہلال بن امیہ مرارہ بن ربیع اور یہ سب انصار میں سے تھے۔
2:۔ ابن مردویہ رحمہم اللہ نے مجمع بن جاریہ سے روایت کیا کہ وہ تین آدمی جو پیچھے رہ گئے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی (ان کے نام یہ تھے) کعب بن مالک ہلال بن امیہ مرارہ بن ربیع۔
3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ وہ تین آدمی تھے جو پیچھے رہ گئے تھے وہ کعب بن مالک جو بنو سلمہ میں سے ہلال بن امیہ تھے بنو واقف میں…
Read the full tafseer →وَّعَلَي الثَّلٰثَةِ الَّذِيْنَ [ اور ان تین پر (بھی ) جن کو ] خُلِّفُوْا ۭ ا [ پیچھے کیا گیا (فیصلے کے لیے ) ] حَتّٰى [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب ] ضَاقَتْ [ تنگ ہوئی ] عَلَيْهِمُ [ ان پر ] الْاَرْضُ [ زمین ] بِمَا [ ساتھ اس کے جو ] رَحُبَتْ [ وہ کشادہ تھی ] وَضَاقَتْ [ اور تنگ ہوئیں ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] اَنْفُسُھُمْ [ ان کی جانیں ] وَظَنُّوْٓا [ اور انھوں نے خیال کیا ] اَنْ [ کہ ] لَّا مَلْجَاَ [ کوئی بھی پناہ گاہ نہیں ہے ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ سے (بچنے کی ) ] اِلَّآ [مگر ] اِلَيْهِ ۭ [ اس کی طرف ہی ] ثُمَّ تَابَ [ پھر اس نے توجہ فرمائی ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] لِيَتُوْبُوْا ۭ [تاکہ وہ توبہ…
Read the full tafseer →تین حضرات کا مفصل واقعہ جو غزوہ تبوک میں جانے سے رہ گئے تھے
اس کے بعد ان تین حضرات کی توبہ قبول فرمانے کا خصوصی تذکرہ فرمایا جو مخلص بھی تھے۔ اور غزوہ تبوک میں ساتھ نہ گئے تھے انہوں نے بالکل سچ بولا اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت عالی میں صاف صاف عرض کردیا کہ ہم بغیر عذر کے رہ گئے تھے یہ حضرات کعب بن مالک ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع تھے۔ آیت کریمہ (وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِ ) میں اجمالی طور پر ان کا ذکر ہوچکا ہے یہاں دو بارہ ان کا تذکرہ فرمایا ہے کہ اللہ نے ان تین شخصوں پر بھی اپنی مہربانی سے توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ ان تینوں حضرات کو زمین تنگ معلوم ہونے لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
ذکر توجہات و عنایات خداوندی بر مجاہدین غزوۂ تبوک و ذکر قبولیت توبۂ آں سہ کس کہ فیصلہ اوشاں ملتوی داشتہ بود
قال اللہ تعالی۔ لقد تاب اللہ علی النبی والمہاجرین والانصار۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ ھو التواب الرحیم
(ربط) چونکہ مسلمانوں کو غزوۂ تبوک میں بڑی محنت اور مشقت اٹھانی پڑی کیونکہ گرمی کی شدت تھی اور سفر بہت دراز تھا اور سازوسمان بھی نہ تھا اور کچھ تھا بھی تو وہ برائے نام تھا اس لیے ایسی حالت میں اگر کسی وقت بمقتضائے بشریت وبنا بر ضعف طبیعت کچھخیالات اور وسوسے آئیں تو وہ اگرچہ گناہ اور قابل مؤاخذہ نہیں مگر مقربین اور محبین مخلصین کے شایان شان نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اپنے محبین مخلصین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
113:“ وَ عَلَی الثَّلٰثَةِ الخ ”، اس سے وہی تینوں صحابی مراد ہیں جن کا “ وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ الخ ” رکوع 13 میں پہلے ذکر ہوچکا ہے انہوں نے فوری طور پر معذرت نہیں کی تھی اس لیے قبول توبہ میں تاخیر ہوئی۔ تاخیر توبہ کی وجہ سے وہ اس قدر بےچین اور مضطرب رہے کہ زمین بایں وسعت و پہنائی ان پر تنگ ہوگئی لیکن ان کا ایمان تھا کہ اللہ کے سوا ان کا کوئی چارہ ساز اور پناہ دہندہ نہیں اس لیے اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے دوگروہوں کا ذکر فرمایا تھا۔ پہلا گروہ مہاجرین اور انصار کی مرکزی جماعت ہے جو سب سے پہلے ایمان لائے اور دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے پہلے گروہ کی اتباع کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کے مال اور جانیں جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ کبھی دشمن کو قتل کرتے ہیں اور کبھی خود جام شہادت نوش کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کی صفات بھی بیان فرمائیں۔ ا ن میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیام حدود ہی کے سلسلے میں مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے منع فرما دیا چاہے…
Read the full tafseer →وَّعَلَي الثَّلٰثَۃِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا 0 ۭ حَتّٰٓي اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْہِمْ اَنْفُسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللہِ اِلَّآ اِلَيْہِ 0 ۭ ثُمَّ تَابَ عَلَيْہِمْ لِيَتُوْبُوْا 0 ۭ اِنَّ اللہَ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِيْمُ 118 ۧ
خلف پیچھے رہنا
وخَلَّفْتُهُ : تركته خلفي، قال فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلافَ رَسُولِ اللَّهِ
[ التوبة/ 81] ، أي : مخالفین، وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا
[ التوبة/ 118] ، قُلْ لِلْمُخَلَّفِينَ [ الفتح/ 16] ، والخالِفُ :
المتأخّر لنقصان أو قصور کالمتخلف، قال :
فَاقْعُدُوا مَعَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
اس جنگ میں تین شخص سچے مسلمان محض آرام طلبی کی وجہ سے شریک نہ ہوئے تھے جن کی نسبت پہلے آیا تھا وآخرون مرجون لا مر اللّٰہ۔ اب یہاں اس فیض رحمت کے طفیل میں ان پر بھی رحمت کرتا اور ان کی توبہ قبول فرماتا ہے فقال وعلی الثلاثۃ الذین۔
اب ہم ان تینوں صاحبوں کا قصہ صحیح بخاری سے بیان کرتے ہیں کہ جس سے ان پر زمین فراخ کا تنگ ہونا اور جان کا تنگ آجانا اور خدا کے سوا کوئی ٹھکانا نظر نہ آنا معلوم ہوجاوے۔ یہ تو آپ کو پیشتر ہی معلوم ہوچکا ہے کہ یہ تین صحابی کعب بن مالک شاعر۔ مرارۃ بن الربیع۔ ہلال بن امیہ انصاری تھے۔ بخاری کعب سے نقل کرتے ہیں کہ میں بجز موقع بدر کے آنحضرت ﷺ کے ساتھ سے کبھی پیچھے نہیں رہا…
Read the full tafseer →وَّعَلَی الثَّلٰـثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا ط حَتّٰیٓ اذَاضَاقَتْ عَلَیْھمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْھِمْ اَنْفسُھُمْ وَظَنُّوْٓا اَنْ لاَّ مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلاَّ ٓ اِلَیْہِ ط ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ لِیَتُوْبُوْا ط اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ع (التوبہ : 118)
(اور ان تینوں پر بھی (نظرِ رحمت فرمائی) جن کا معاملہ اٹھا رکھا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب ان پر زمین تنگ ہوگئی باوجود کشادہ ہونے کے اور تنگ ہوگئیں ان پر ان کی جانیں اور وہ سمجھ گئے کہ کہیں پناہ نہیں اللہ سے مگر اسی کی طرف۔ پھر اللہ نے ان پر عنایت کی نظر کی تاکہ وہ توبہ کریں۔ بیشک اللہ تعالیٰ ہی ہے بہت توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
فہم القرآن
ربط کلام : غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے مخلص مسلمانوں کو معاف کرتے ہوئے اسی سورة کی آیت 106 میں تین مخلص مسلمانوں کے معاملے کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اب ان کے بارے میں فیصلہ صادر ہوتا ہے۔
غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین قسم کے لوگ تھے۔
1۔ جسمانی طور پر معذور اور اسباب آمدورفت کے میسر نہ ہونے کی وجہ سے مجبور۔
2۔ منافقین۔
3۔ بلاعذر پیچھے رہ جانے والے دس صحابہ کرام ؓ تھے۔ دس میں سے سات ایسے صحابہ تھے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی تبوک سے واپسی پر اپنی سزا خود تجویز کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ جکڑ لیا تھا۔ جن کی توبہ کے بارے میں آیت 105 کی تفسیر میں تفصیل سے عرض…
Read the full tafseer →تین صحابہ ؓ پر بھی توجہ رحمت کا چھینٹا پڑا :
آیت 118: وَّعَلَی الثَّلٰثَۃِ (اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی) ای وتاب علی الثلاثۃ۔ اس کا عطف النبی پر ہے۔ اور تینوں پر رجوع فرمایا۔ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا (جن کا معاملہ ملتوی کردیا گیا تھا) غزوہ سے پیچھے رہ گئے۔ حَتّٰی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْھِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ (یہاں تک کہ جب زمین باوجود اپنی فراخی کے ان پر تنگی کرنے لگی) مارحبت ؔ میں ماؔ مصدر یہ ہے برحبھا۔ وسعت کے باوجود۔ دراصل یہ حیرانی کو تمثیل سے ذکر فرمایا۔ گویا وہ زمین میں کوئی جگہ ہی نہیں پا رہے تھے کہ جہاں قلق اضطراب اور گھبراہٹ سے بھاگ کر چلے جائیں۔ وَضَاقَتْ عَلَیْھِمْ اَنْفُسُھُمْ…
Read the full tafseer →غزوہ تبوک میں پیچھے رہنے والے صحابہ اور کعب بن مالک کا واقعہ
تفسیر 118:” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ یعنی غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے اور بعض نے کہا ہے کہ ” خلفوا “ یعنی ان کا معاملہ مئو خر کیا گیا ابو لبا بہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ سے اور یہ تین حضرات کعب بن مالک ؓ کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت کعب نے فرمایا جس غزوہ پر بھی رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے میں کسی غزوہ میں حضور ﷺ کے ساتھ سے سوائے غزوہ تبوک کے ‘ پیچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوہ بدر میں ساتھ نہیں گیا تھا ( اور بدر میں میرا شریک نہ ہونا قابل مواخذہ نہ تھا کیونکہ) جو لوگ بدر کو نہ جاسکے ان میں سے کسی پر اللہ نے عتاب نہیں کیا۔ وجہ یہ تھی کہ رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
118۔ 119۔ یہ وہی تین شخص ہیں مرارہ بن ربیع کعب بن مالک ہلال بن امیہ جن کو توبہ قبول کرنے میں پچاس روز کی مہلت دی گئی تھی جن کا بیان اوپر گذر چکا 1 ؎ ہے جب وہ مدت پوری ہوگئی اور اب کے دل بہت ہی پریشان ہوئے زندگی سے تنگ آگئے دنیا ان کی آنکھوں میں اندھیری ہوگئی اور یہ بھی سمجھ لیا کہ پناہ بھی خدا ہی دے گا تو ان کے سچ بولنے پر خدا نے یہ آیت اتاری اور معاف فرمایا اس کا تفصیلی ذکر صحیح بخاری ومسلم میں خود کعب بن مالک ؓ کی روایت سے ہے وہ کہتے ہیں کہ میں سوائے تبوک اور بدری لڑائی کے ہر ایک لڑائی میں شریک ہوا ہوں اور غزوہ تبوک میں میں نہیں شامل ہوا حالانکہ اس وقت میں بہت آسودہ حال تھا حضرت ﷺ کا قاعدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
آیت : (117-119)
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے کہ (تاب اللہ علی النبی) ” مہربان ہو وہ اپنے پیغمبر پر “ (والمھجرین والانصار) ” اور مہاجرین اور انصار پر “ پس ان کی تمام لغزشیں معاف کردیں ‘ انہیں بیشمار نیکیاں عطا کیں اور انہیں بلند ترین مراتب پر فائز فرمایا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے نہایت مشکل اور مشقت سے لبریز عمل کئے ‘ اسی لئے فرمایا : (الذین اتبعوہ فی سعۃ العسرۃ) ” جو ساتھ رہے اس پیغمبر کے مشکل کی گھڑی میں “ یعنی وہ غزوہ تبوک میں دشمن کے ساتھ جنگ کے لئے آپ کے ساتھ نکلے ‘ سخت گرمی کا موسم تھا ‘ سامان سفر اور سواریوں وغیرہ کی قلت اور دشمن کی افرادی…
Read the full tafseer →قول باری ہے وعلی الثلاثۃ الذین خلفوا اور ان تینوں کو بھی اس نے معاف کردیا جن کے معاملے کو ملتوی کردیا گیا تھا ۔ حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت جابر ؓ ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ یہ تین افراد حضرت کعب بن مالک ؓ ، حضرت بلال بن امیہ ؓ اور حضرت مرارہ بن الربیع تھے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ ان حضرات کی توبہ کا معاملہ موخر کردیا گیا تھا جبکہ قتادہ کے قول کے مطابق یہ حضرات غزوہ ٔ تبوک میں لشکر اسلام کے ساتھ جانے کی بجائے پیچھے رہ گئے تھے ۔ یہ تینوں حضرات دوسرے لوگوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے حالانکہ ان کا اسلام پکا اور انکا ایمان پختہ تھا۔ جب حضور ﷺ غزوۂ تبوک سے واپس تشریف لے آئے تو منافقین نے آپ کے پاس آ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
211 صدق و اخلاص رحمت خداوندی کو متوجہ کرنے کا اہم ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے ان پر رحمت فرمادی ان کے اس صبروتحمل اور صدق و اخلاص کی بناء پر جس کا مظا ہرہ انہوں نے سختی اور تنگی کے اس نازک موقع پر بھی کیا، اور اخلاص وللہیت سے اور محض اللہ کی رضا کے لیے کیا کہ اللہ پاک کے یہاں اصل میں قدروقیمت بھی اسی چیز کی ہے۔ یعنی صدق و اخلاص اور ثبات واستقامت۔ اللہم ارزقنا التوفیق لذالک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ سو صدق و اخلاص اور صبر و استقامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرنے کا اہم ذریعہ ہیں وباللہ التوفیق۔ بہرکیف اس سے توبہ کی قبولیت اور اس عام بشارت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
سیدنا کعب بن مالک اور ان کے ساتھیوں کا واقعہ
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے صحابہ کرام پر رجوع کا تذکرہ ہے اور اس کے بعد ان صحابہ کا جو غزوہ تبوک میں شامل نہ ہوئے تھے جو کہ سچے مسلمان تھے جنہوں نے صاف صاف بتا دیا نبی کریم ﷺ کو جب وہ ﷺ جنگ سے واپس آئے جبکہ منافقین نے طرح طرح کے بہانے پیش کیے، سوائے ان تین حضرات کے ان کے نام یہ ہیں۔
1 کعب بن مالک ؓ
2 ہلال بن امیہ ؓ
3 مرارہ بن ربیع ؓ
ان کو آپ ﷺ نے کہا کہ تمہاری معافی بعد میں ہوگی۔ اور اعلان کردیا کہ ان تینوں سے سب لوگ سوشل بائیکاٹ کردیں۔ یہ بائیکاٹ 50 دن جاری رہا اس میں وہ تینوں سخت پریشان ہوئے مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–118
آیات 111 تا 118
اسرار و معارف
رہے مومن تو ان کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں وہ تو اپنی جان اپنا مال بیچ چکے اور اللہ نے خرید لیا ہے ان سے اور اس کی قیمت بھی طے ہوگئی ۔ اللہ کی جنت جو اس کی رضا کا مظہر ہے ۔
مفسرین کرام کے مطابق یہ آیہ کریمہ بعیت عقبہ والے صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ کے حق میں نازل ہوئی بعیت عقبہ منٰی میں حج کے موقع پر مدینہ منورہ سے آکر ستر 70 کے قریب مردوکواتین نے اس شرط کی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اپنی جانوں اور مال واولاد سے بڑھ کر کریں گے یہ مفصل قصہ سیرت وتاریخ میں بھی تفاسیر میں بھی دسند کے ساتھ موجود ہے مگر معنی عام ہے اور ایمان کی کیفیت و…
Read the full tafseer →ف 6۔ یہ بی لقد تاب اللہ کے تحت ہے اور ان سے مراد ہیں حضرت کعب بن مالک مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ۔ دیکھئے آیت 601۔ (ابن کثیر) ۔
7۔ کوئی ان سے بات تک نہ کرتا اور نہ اپنے پاس بیٹھنے کی اجازت دیتا یہاں تک کہ ان کی بیویوں کو بھی بات چیت کی اجازت نہ تھی۔ آنحضرت ﷺ نے ان سے مکمل بائیکاٹ کا حکم دے دیا تھا۔ حضرت کعب ؓ نے ایک لمبی حدیث میں اس بائیکاٹ اور پھر توبہ قبول ہونے کی پوری تفصیل بیان کی ہے۔ (ابن کثیر) ۔
8۔ معلوم ہوا کہ توبہ کا قبول کرنا محض اللہ کا فضل و کرم ہے ورنہ اس پر کسی کا زور نہیں ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : ساتھ مہاجرین ؓ و انصار ؓ کے (توبہ کے قبول ہونے میں) وہ تین شخص بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
(9:118) وعلی الثلثۃ کا عطف النبی پر ہے ای وتاب علی الثلثۃ اور اس نے ان تینوں کو بھی معاف کردیا۔ ان تینوں پر بھی نظر رحمت فرما دی۔ الذین خلفوا۔ جن کا فیصلہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ یعنی کعب بن مالک۔ بلال بن امیہ۔ مرارۃ بن الربیع۔
بما رحبت۔ میں ما مصدریہ ہے۔ وضاقت علیہم الارض بما رحبت۔ باوجود فراخ ہونے کے ان پر زمین تنگ ہوگئی۔
ضاقت۔ ضیق سے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ تنگ ہوگئی۔ رحبت۔ رحب سے (باب کرم) ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ وہ کشادی ہوئی۔ وہ فراخ ہوئی۔ ملجا۔ اسم ظرف مکان۔ پناہ کی جگہ۔ لجا مصدر۔ پناہ پکڑنا۔ (باب فتح۔ سمع) ملجا بھی مصدر ہے۔
ثم تاب علیہم لیتوبوا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
لغات القرآن آیت نمبر 117 تا 118
تاب (وہ متوجہ ہوا) ساعۃ العسرۃ (تنگی کی گھڑی، پریشانی کا وقت) کا د (قریب ہے) یزیغ قلوب (دل پھرجائیں) الثلثۃ (تین) الذین خلقوا (جو پیچھے رہ گئے تھے) ضافت (تنگ ہوگئی) ظنوا (وہ سمجھ گے) لاملجا (ٹھکانا نہیں ہے)
تشریح : آیت نمبر 117 تا 118
جیسا کہ گزشتہ آیات میں آپ نے ملاحظہ کرل یا ہے کہ غزوہ تبوک ایک ایسا موقع تھا جس نے اہل ایمان کو اور منافقین کو کھول کر رکھ دیا تھا۔ اس موقع پر جب کہ فصلیں تیار تھیں شدید گرمی کا موسم تھا اور نامعلوم منزل کی طرف جہاد کے لئے جانا تھا دو ہی راستے تھے کہ عذر کر کے گھر میں بیٹھا جائے یا سر دھڑ کی بازی لگا کر دین کی سربلندی کے لئے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ وہی تین شخص ہیں۔ (1) مرارہ بن ریع (2) کعب بن مالک (3) ہلال بن امیہ، جن کی توبہ قبول کرے میں پچاس روز کی مہلت دی گئی تھی جن کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔ جب وہ مدت پوری ہوگئی اور ان کے دل بہت ہی پریشان ہوئے۔ زندگی سے تنگ آگئے، دنیا ان کی آنکھوں میں اندھیر ہوگئی اور یہ بھی سمجھ لیا کہ پناہ بھی خدا ہی دے گا۔ تو ان کے سچ بولنے پر خدا نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کو معاف فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
[70] ان کا حال حاشیہ 57 میں گزر چکا ہے نیز تشریح آیت نمبر 118 حواشی کے آخر میں ملاحظہ فرمائیں۔
یہ تینوں صاحب جیسا کہ سورت کے حاشیہ 57 میں بیان کیا جا چکا ہے کعب بن مالک، ہلال بن امیّہ اور مرارہ بن ربیع تھے۔ یہ حضرات سچے مومن تھے اور اس سے پہلے اپنے اخلاص کا بارہا ثبوت دے چکے تھے۔ آخر الذکر دو اصحاب تو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے، جن کی صداقت ایمانی ہر شبہ سے بالا تر تھی۔ اول الذکر اگرچہ بدری نہ تھے لیکن بدر کے سوا ہر غزوے میں نبی ﷺ کے ساتھ رہے۔ ان خدمات کے باوجود جو سستی اس نازک موقع پر جب کہ تمام قابل جنگ اہل ایمان کو جنگ کے لئے نکل آنے کا حکم دیا گیا تھا، ان حضرات نے دکھائی اس پر سخت گرفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–119
(ف 1) ان تینوں کا ذکر گزشتہ اوراق میں گزر چکا ہے یہ تین کعب بن مالک مرارہ بن ربیع ، اور ہلال بن امیہ واقفی تھے عزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے ، حضور ناراض ہوگئے ، آپ کی نگاہ کرم کا پھرنا تھا کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین نے بھی چشم التفات پھیرلی اب نہ مسجد میں ان سے علیک سلیک ہے نہ بازار میں کوئی پوچھتا ہے ، گھر میں مستورات نے خدمت سے انکار کردیا ، آخر اللہ نے معذرت قبول کرلی ، اور یہ آیات نازل ہوئیں ؟
” اللھم اغفر لکاتیبہ ولمن سعے فیہ ولوالد یھم اجمعین ، امین “۔
Read the full tafseer →118 اور ان تین شخصوں پر بھی اور ان کے حال پر بھی اللہ تعالیٰ نے توجہ فرمائی اور ان کی توبہ قبول فرمالی جن کا معاملہ ملتوی اور مؤخر رکھا گیا تھا یہاں تک کہ ان تینوں شخصوں کعب، ہلال، مرارہ پر زمین باوجود اپنی فراخی اور کشادہ ہونے کے ان پر تنگ ہوگئی اور خود ان کی زندگی ان پر شاق اور تنگ ہوگئی اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ کی گرفت کے مقابلے میں بجز اس کے اور سوائے اس کی ذات کے کوئی اور پناہ گاہ نہیں اور اس کی گرفت سے خود ہی بچا سکتا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی تاکہ وہ لوٹ آئیں اور خدا کی طرف رجوع کریں بیشک اللہ تعالیٰ بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربانی کرنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
ف 4۔ کسی شخص کو بوجہ ارتکاب امر خلاف شرع کے یہ سزا دینا کہ اس سے ترک سلام و کلام کردیں جائز ہے اور حدیثوں میں جو ممانعت آئی ہے کہ تین روز سے زیادہ ترک کلام نہ کرے مراد اس سے وہ ہے جس کا سبب کوئی دنیوی رنج ہو۔
Read the full tafseer →اللہ ان تین پیچھے چھوڑے گئے لوگوں پر بھی لوٹ آیا کہ وہی لوٹ آنے والا ہے :
153: جیسا کہ پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے کہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے والوں میں تین لوگ وہ تھے جن کے معاملہ کو موخر کردیا گیا تھا جن کے نام گرامی اس طرح تھے۔ 1 : کعب بن مالک ؓ ، 2 : مرارہ بن ربیع ؓ اور بلال بن امیہ ؓ ۔ بخاری اور مسلم میں ان کے واقعہ کی پوری تفصیل درج ہے۔ جس کے راوی خود حضرت کعب ؓ ہیں اور ان کا مختصر واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :
ان تینوں سے بھی غزوہ تبوک میں کوتاہی ہوئی اور شریک نہ ہوئے لیکن جب نبی کریم ﷺ واپس مدینہ تشریف لائے اور ساتتھ نہ دینے والے اپنے عذر پیش کر کے معافی مانگنے لگے تو انہوں نے کوئی…
Read the full tafseer →Verse 118 begins with the words: وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا (And [ He relented ] towards the three whose matter was deferred). Here, the word: خُلِّفُوا (khullifu) literally means ` those left behind.' It carries the sense of ` those the matter of whose repentance was deferred' - as opted for in the translation of the text. These three gentlemen: Sayyidna Ka'b ibn Malik, Murarah ibn Rabi' and Hilal ibn Umayyah ؓ were from the Ansar of Madinah and had a distinguished record in the service of Islam. Earlier, they had participated in the Bai'atu al-'Aqabah and in many battles with…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →