تپتے صحرا، شدت کی پاس اور مجاہدین سرگرم سفر مجاہد وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت جنگ تبوک کے بارے میں اتری ہے اس جنگ میں جانے کے وقت سال بھی قحط کا تھا، گرمیوں کا موسم تھا، کھانے پینے کی کمی تھی، راستوں میں پانی نہ تھا۔ شام کے ملک تک کا دور دراز کا سفر تھا۔ سامان رسد کی اتنی کمی کہ دو دو آدمیوں میں ایک ایک کھجور بٹتی تھی۔ پھر تو یہ ہوگیا تھا کہ ایک کھجور ایک جماعت کو ملتی یہ چوس کر اسے دیتا وہ اور کو اور ایک ایک چوس کر پانی پی لیتا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت ان پر لازم کردی اور انہیں واپس لایا۔ حضرت عمر ؓ سے جب اس سختی کا سوال ہوا تو آپ نے فرمایا۔ سخت گرمیوں کے زمانے میں ہم نگلنے کو تھے، ایک…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 115
یعنی غزوہ تبوک کے سلسلہ میں جو چھوٹی چھوٹی لغزشیں نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ سے ہوئیں ان سب کو اللہ نے ان کی اعلیٰ خدمات کا لحاظ کرتے ہوئے معاف فرما دیا۔ نبی ﷺ سے جو لغزش ہوئی تھی اس کا ذکر آیت 43 میں گزر چکا ہے، یعنی یہ کہ جن لوگوں نے استطاعت رکھنے کے باوجود جنگ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت مانگی تھی ان کو آپ نے اجادت دے دی تھی۔
سورة التَّوْبَة 116
یعنی بعض مخلص صحابہ بھی اس سخت وقت میں جنگ پر جانے سے کسی نہ کسی حد تک جی چرانے لگے تھے، مگر چونکہ ان کے دلوں میں ایمان تھا اور وہ سچے دل سے دین حق کے ساتھ محبت رکھتے تھے اس لیے آخرکار وہ اپنی اس کمزوری پر غالب آگئے۔
سورة التَّوْبَة…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اللہ تعالیٰ نے پیغمبر ﷺ کے حال پر توجہ فرمائی (کہ آپ کو نبوت اور امامت جہاد اور تمام خوبیاں عطا فرمائیں) اور مہاجرین اور انصار کے حال پر بھی (توجہ فرمائی کہ ان کو ایسی مشقت کے جہاد میں مستقیم رکھا) جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں تزلزل ہو چلا تھا (اور جہاد میں جانے سے ہمت ہارنے کو تھے مگر) پھر اللہ نے ان (گروہ) کے حال پر توجہ فرمائی (کہ ان کو سنبھال لیا اور آخر ساتھ ہو ہی لئے پس) بلا شبہ اللہ تعالیٰ سب پر بہت ہی شفیق مہربان ہے (کہ اپنی مہربانی سے ہر ایک کے حال پر کس کس طرح توجہ فرمائی) اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی…
Read the full tafseer →تاب، یتوب، توبہ کے معنی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کے ہیں لیکن جب اس کی نسبت اللہ کی طرف ہو اور صلہ علی کے ساتھ آئے تو، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں، یہ رحمت کے مضمون پر بھی متضمن ہوتا ہے اس وجہ سے اس کا مفہوم کسی پر رحمت کی نظر کرنے کا ہوجاتا ہے جس کے لازم معنی بندے کی توبہ قبول کرنے کے بھی ہوئے۔
قبولیت توبہ کی عام بشارت : لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ ۭ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۔ اب یہ قبولیت توبہ…
Read the full tafseer →117۔ 1 جنگ تبوک کے سفر کو ' تنگی کا وقت ' قرار دیا۔ اس لئے کہ ایک تو موسم سخت گرمی کا تھا دوسرے، فصلیں تیار تھیں، تیسرے، سفر خاصا لمبا تھا اور چوتھے وسائل کی بھی کمی تھی۔ اس لئے اسے (تنگی کا قافلہ یا لشکر) کہا جاتا ہے۔ توبہ کے لئے ضروری نہیں ہے کہ پہلے گناہ یا غلطی کا ارتکاب ہو۔ اس کے بغیر بھی رفع درجات اور غیر شعوری طور پر ہونے والی کوتاہیوں کے لئے توبہ ہوتی ہے۔ یہاں مہاجرین و انصار کے اس سے پہلے گروہ کی توبہ اس مفہوم میں ہے جنہوں نے بلا تأمل نبی کے حکم جہاد پر لبیک کہا۔
117۔ 2 یہ اس دوسرے گروہ کا ذکر ہے جسے مزکورہ وجوہ سے ابتداءً تردد ہوا۔ لیکن پھر جلد ہی وہ اس کیفیت سے نکل آیا اور بخوشی…
Read the full tafseer →93: منافقین کی مذمت اور سستی سے رہ جانے والے مسلمانوں کی معافی کا ذکر کرنے کے بعد مسلمانوں کی اس اکثریت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شاباش دی جا رہی ہے جنہوں نے انتہائی کٹھن حالات میں خندہ پیشانی کے ساتھ تبوک کی مہم میں حصہ لیا۔ ان میں بھی اکثریت تو انہی کی تھی جن کے دل میں جہاد اور تعمیل حکم کا جذبہ اتنا مضبوط تھا کہ وہ ان مشکل حالات کو خاطر میں نہیں لائے۔ البتہ کچھ حضرات ایسے بھی تھے کہ شروع میں ان مشکلات کی وجہ سے ان کے دل میں وسوسے آئے۔ لیکن آخر کار انہوں نے دل و جان سے مہم میں حصہ لیا۔ اس دوسری قسم کا حوالہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں دیا ہے کہ : جبکہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک گروہ کے دل…
Read the full tafseer →لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر اور مہاجرین و انصار کے حال پر توجہ فرمائی۔ منافقوں کو تبوک کے جہاد میں شرکت نہ کرنے کی جو اجازت دے دی گئی تھی ‘ اس قصور کو اللہ نے معاف کردیا۔ یا یہ معنی ہے کہ کہ گناہگار قرار دینے سے اللہ نے ان کو بچا لیا ‘ جیسے (رسول اللہ (ﷺ) کے متعلق ) فرمایا ہے : لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذُنِبْکَم وَمَا تَأْخَّرَ ۔ بعض نے کہا : یہ توبہ کی ترغیب ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں جو توبہ کا محتاج نہ ہو ‘ یہاں تک کہ رسول اللہ (ﷺ) اور صحابہ بھی توبہ کے ضرورت مند ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : تم سب اللہ سے توبہ کرو۔ بات یہ ہے کہ ہر شخص…
Read the full tafseer →3 مشکل کی گھڑی سے مراد " غزوہ تبوک " کا زمانہ ہے جس میں کئی طرح کی مشکلات جمع تھیں۔ سخت گرمی، طویل مسافت، کھجور کا موسم، اس زمانہ کی عظیم الشان سلطنت کے مقابلہ پر فوج کشی، پھر ظاہری بےسروسامانی ایسے کہ ایک ایک کھجور روزانہ دو دو سپاہیوں پر تقسیم ہوتی تھی۔ اخیر میں یہ نوبت پہنچ گئی کہ بہت سے مجاہدین ایک ہی کھجور کو یکے بعد دیگرے چوس کر پانی پی لیتے تھے۔ پھر پانی کے فقدان سے اونٹوں کی آلائش نچوڑ کر پینے کی نوبت آگئی۔ سواری کا اتنا قحط تھا کہ دس دس آدمی ایک ایک اونٹ پر اترتے چڑھتے چلے جا رہے تھے۔ یہ ہی وہ جذبہ ایثار و فدا کاری تھا جس نے مٹھی بھر جماعت کو تمام دنیا کی قوموں پر غالب کردیا۔ فللہ…
Read the full tafseer →آیت 117 لَقَدْ تَّابَ اللہ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ
یہ تبوک کی مہم کی طرف اشارہ ہے۔ تاریخ میں یہ مہم جیش العسرۃ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب خشک سالی کے باعث مدینہ میں قحط کا سماں تھا۔ ان حالات میں اتنے بڑے لشکر کا اتنی لمبی مسافت پر وقت کی سپر پاور سے نبرد آزما ہونے کے لیے جانا واقعی بہت بڑی آزمائش تھی۔ جو لوگ اس آزمائش میں ثابت قدم رہے ‘ یہ ان کے لیے رحمت و شفقت کا ایک اعلان عام ہے۔
مِنْم بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ
بر بنائے طبع بشری کہیں نہ کہیں ‘ کبھی نہ کبھی انسان میں کچھ کمزوری…
Read the full tafseer →133 اس آیت میں تنگی کے وقت سے مراد غزوہ تبوک پر روانگی کا وقت ہے جبکہ شدید گرمی کا موسم تھا قحط سالی تھی، فصلیں پکنے والی تھیں بےسرو سامانی کی حالت تھی، سفر طویل اور پر مشقت تھا۔ چناچہ اس وقت بعض سچے مسلمان بھی جہاد پر روانہ ہونے سے گھبرانے لگے تھے۔ آخر ان کے ایمان کی پختگی ان کے نفس پر غالب آئی اور وہ پورے عزم کے ساتھ جہاد پر نکل کھڑے ہوئے اور یہاں اللہ کی مہربانی سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اس گھبراہٹ کے عالم میں انہیں روانگی کے لیے ہمت و جرأت عطا فرمائی اور نبی پر مہربانی سے مراد وہ آیت ہے جس کا آغاز ہی اس طرح ہوا تھا کہ اللہ آپ کو معاف فرمائے آپ نے ایسے ہٹے کٹے، تنومند اور کھاتے پیتے منافقوں…
Read the full tafseer →216۔ ذکر اب پھر غزوۂ تبوک کا چلا جو اوپر بھی دور تک آچکا ہے۔ (آیت) ” تاب اللہ علی النبی “۔ نبی پر توجہ بہ رحمت یہ کہ آپ ﷺ کو نبوت سے اور امامت جہاد سے اور تمام کمالات سے سرفراز فرمایا۔ (آیت) ” والمھجرین والانصار “۔ ان انصار ومہاجرین پر توجہ بہ رحمت یہ کہ انہیں ایسے کلفت ومشقت کے جہاد میں ثابت قدم رکھا۔ (آیت) ” فی ساعۃ العسرۃ “۔ اس غزوہ کے خصوصیات جن کی بنا پر یہاں ساعۃ العسرۃ لایا گیا ہے، حسب ذیل تھے :۔ (1) شدید گرمی کا موسم، (2) باغات کی فصل تیار ہونے کا زمانہ۔ (3) مسافت دوردراز کا سفر۔ (4) مقابلہ میں منتشر ومتفرق قبائل نہیں بلکہ اعلی درجہ کی تربیت یافتہ وقواعد دان رومی شہنشاہی فوج ہر طرح کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–118
آیت نمبر 111 تا 118
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کا جنت کے بدلے سودا کرلیا ہے اس طریقہ پر کہ وہ ان کو اس کی اطاعت میں مثلاً جہاد میں خرچ کریں وہ اللہ کے راستہ میں قتال کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں (یُقاتلُ ) بیان شراء کے لئے جملہ مستانفہ ہے، اور ایک قراءت میں یُقْتَلُونَ (مجہول) مقدم ہے (اور یُقَاتلُ ) معروف مؤخر ہے، یعنی ان میں سے بعض قتل کئے جاتے ہیں اور باقی قتال کرتے ہیں، ان سے اللہ کی جانب سے (جنت) کا تورات اور انجیل اور قرآن میں پختہ وعدہ ہے (وعدًا اور حَقًّا) دونوں اپنے فعل محذوف کی وجہ سے مصدر منصوب ہیں، اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدہ کو…
Read the full tafseer →لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر اور مہاجرین و انصار کے حال پر توجہ فرمائی۔ منافقوں کو تبوک کے جہاد میں شرکت نہ کرنے کی جو اجازت دے دی گئی تھی ‘ اس قصور کو اللہ نے معاف کردیا۔ یا یہ معنی ہے کہ کہ گناہگار قرار دینے سے اللہ نے ان کو بچا لیا ‘ جیسے (رسول اللہ ﷺ کے متعلق) فرمایا ہے : لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذُنِبْکَم وَمَا تَأْخَّرَ ۔ بعض نے کہا : یہ توبہ کی ترغیب ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں جو توبہ کا محتاج نہ ہو ‘ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اور صحابہ بھی توبہ کے ضرورت مند ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : تم سب اللہ سے توبہ کرو۔ بات یہ ہے کہ ہر شخص جس…
Read the full tafseer →(117) اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور ان مہاجرین وانصار کے حال پر بھی توجہ فرمائی جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی اور بدر میں حاضر رہے۔
اب اللہ تعالیٰ ان حضرات کے اوصاف بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے تنگی اور سختی کے وقت میں رسول اکرم ﷺ کا ساتھ دیا، جس وقت کے زاد راہ اور سواریوں کی کمی اور تنگی تھی گرمی کی اور دشمن کی سختی تھی اور راستہ کی درازی کی سختی تھی، اس کے بعد مومنین مخلصین میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کے بارے میں تذبذب آگیا تھا مگر پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس تذبذب کو دور ر کردیا اور ان کے دلوں کو پختگی عطا فرمائی، آخرت کار وہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ چلنے کے لیے آمادہ…
Read the full tafseer →لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ : ”تَّابَ“ کے معانی لوٹ آنا، مہربان ہوجانا، معافی مانگنا، معاف کردینا، آئندہ غلطی سے باز آنا اور توبہ قبول کرلینا سبھی آتے ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ پر اور مہاجرین و انصار پر مہربان ہونے اور معاف فرمانے کا مطلب ”فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ“ کے الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے۔ تنگی کی گھڑی سے مراد غزوۂ تبوک پر روانگی کا وقت ہے جب شدید گرمی کا موسم تھا، قحط سالی تھی، فصلیں پکنے والی تھیں اور بےسروسامانی کی حالت تھی، ادھر چھ سو کلو میٹر کا طویل اور پر مشقت سفر سامنے تھا۔ دس آدمیوں کے لیے صرف ایک اونٹ تھا، سواریوں، زاد راہ اور پانی تینوں کی سخت تنگی تھی۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 117۔
ترمذی نے روایت بیان کی ہے کہ عبد بن حمید نے ہمیں بیان کیا (اس نے کہا) ہمیں عبدالرزاق نے بیان کیا (اس نے کہا) ہمیں معمر نے زہری سے، انہوں نے عبدالرحمن بن کعب بن مالک سے اور انہوں نے اپنے باپ سے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے بیان کیا کہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے غزوہ تبوک تک جتنے غزوات لڑے ہیں میں سوائے بدر کے کسی غزوہ میں آپ ﷺ سے پیچھے نہیں رہا اور غزوہ بدر سے جو پیچھے رہا حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے ان میں سے کسی کو عتاب نہیں فرمایا : بیشک آپ ﷺ ایک قافلے کے ارادہ سے نکلے تھے اور قریش اپنے قافلے کی مدد کے لیے نکلے تھے، پس بغیر کسی معین پروگرام کے فریقین کا آمنا سامنا ہوگیا، جیسا کہ اللہ…
Read the full tafseer →تنگ کے وقت سے مراد غزوہ تبوک ہے :
1:۔ ابن جریر وابن خزیمہ وابن حبان والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ وابو نعیم اور بیہقی (رح) دونوں نے دلائل میں والضیاء (رح) نے المختار میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے عمر بن خطاب ؓ سے پوچھا کہ ہم کو تنگی کی گھڑی کے بارے میں بتائیں فرمایا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک کی طرف نکلے سخت گرمی میں ہم ایک منزل پر اترے اس میں ہم کو بہت پیاس لگی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ ہماری گردنیں عنقریب کٹ جائیں گی یہاں تک کہ ایک آدمی اپنے اونٹ کو ذبح کرتا تھا اور اس کے خون کو نچوڑ کر پی لیا تھا اور یہاں تک کہ باقی کو اس کی جگہ پر ڈال دیتا تھا ابوبکر صدیق نے…
Read the full tafseer →لَقَدْ تَّابَ [ بیشک متوجہ ہوا ہے ] اللّٰهُ [اللہ ] عَلَي النَّبِيِّ [ان نبی پر ] وَالْمُهٰجِرِيْنَ [ اور مہاجروں پر ] وَالْاَنْصَارِ [ اور انصار پر ] الَّذِيْنَ [جنہوں نے ] اتَّبَعُوْهُ [پیروی کی ان کی ] فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ [ مشکل گھڑی میں ] مِنْۢ بَعْدِ مَا [اس کے بعد کہ جو ] كَادَ يَزِيْغُ [قریب تھا کہ بہک جائیں ] قُلُوْبُ فَرِيْقٍ [ ایک فریق کے دل ] مِّنْھُمْ [ ان میں سے ] ثُمَّ [ پھر ] تَابَ [ اس نے توجہ فرمائی ] عَلَيْهِمْ ۭ [ ان پر ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] بِهِمْ [ ان پر ] رَءُوْفٌ [ بےانتہا شفقت کرنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ ] [رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے مہاجرین و انصار پر مہربانی فرمائی جب کہ انہوں نے مصیبت کی گھڑی میں نبی اکرم ﷺ کا ساتھ دیا
تاب یتوب کا اصل معنی رجوع کرنے کا ہے بندہ اللہ کی طرف گناہ کے بعد رجوع کرتا ہے اس لیے اسے تائب اور تواب کہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربانی کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ مہربانی فرماتا ہے اسی لیے لفظ تواب اللہ تعالیٰ کی صفات میں بھی آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل فرمانا، توبہ کی توفیق دینا۔ توبہ کو قبول فرمانا۔ معاملہ میں آسانی فرما دینا، تاب اللہ علیہ اس سب کو شامل ہے۔ قال صاحب القاموس تاب اللہ علیہ وفقہ للتوبۃ ورجع بہ من التشدید الی التخفیف اَو رجع علیہ بفضلہ و قبولہ و ھو توّاب علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
ذکر توجہات و عنایات خداوندی بر مجاہدین غزوۂ تبوک و ذکر قبولیت توبۂ آں سہ کس کہ فیصلہ اوشاں ملتوی داشتہ بود
قال اللہ تعالی۔ لقد تاب اللہ علی النبی والمہاجرین والانصار۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ ھو التواب الرحیم
(ربط) چونکہ مسلمانوں کو غزوۂ تبوک میں بڑی محنت اور مشقت اٹھانی پڑی کیونکہ گرمی کی شدت تھی اور سفر بہت دراز تھا اور سازوسمان بھی نہ تھا اور کچھ تھا بھی تو وہ برائے نام تھا اس لیے ایسی حالت میں اگر کسی وقت بمقتضائے بشریت وبنا بر ضعف طبیعت کچھخیالات اور وسوسے آئیں تو وہ اگرچہ گناہ اور قابل مؤاخذہ نہیں مگر مقربین اور محبین مخلصین کے شایان شان نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اپنے محبین مخلصین…
Read the full tafseer →111:“ لَقَدْ تَابَ اللّٰه الخ ” توبہ سے یہاں اللہ کی خصوصی مہربانی اور اس کی خاص عنایت و توفیق مراد ہے جس کی بدولت حضرت نبی اکرم ﷺ سفر جہاد کی صعوبتیں اور مشقتیں اٹھا کر کامل درجہ طاعت سے اکمل درجہ پر پہنچ گئے۔ “ وَ قَدْ یَکون (التوبة من اللہ علی عبده) رجوعاً من حالة طاعة الی اکمل منھا وھذه توبته فی ھذه الایة علی النبی صلی اللہ علیه وسلم لانه رجع به من حالة قبل تحصیل الغزوة و تحمل مشاقھا الی حالة بعد ذلک اکمل منھا الخ ” (بحر ج 5 ص 108) اور مہاجرین و انصار پر اللہ کی توبہ سے یہ مراد ہے کہ شدت گرما اور مشاق سفر کے پیش نظر بعض مسلمانوں کے دلوں میں غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کا وسوسہ آنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
ربط آیات :
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے دوگروہوں کا ذکر فرمایا تھا۔ پہلا گروہ مہاجرین اور انصار کی مرکزی جماعت ہے جو سب سے پہلے ایمان لائے اور دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے پہلے گروہ کی اتباع کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کے مال اور جانیں جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ کبھی دشمن کو قتل کرتے ہیں اور کبھی خود جام شہادت نوش کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کی صفات بھی بیان فرمائیں۔ ا ن میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیام حدود ہی کے سلسلے میں مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے منع فرما دیا چاہے…
Read the full tafseer →لَقَدْ تَّابَ اللہُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُہٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْہُ فِيْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيْغُ قُلُوْبُ فَرِيْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْہِمْ 0 ۭ اِنَّہٗ بِہِمْ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ 117 ۙ
( قَدْ )
: حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90]
وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة .
نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
ترکیب : ماکاد کا فاعل ضمیر شان والجملۃ بعدہ فی موضع نصب وعلی الثلثۃ معطوف ہے النبی پر ای تاب علی النبی وعلی الثلثۃ الذین الخ بما رحبت ای مع رحبھا من اللّٰہ خبر ہے لا کی ملجاء اسم تھا الا الیہ استثناء ہے مثل لا الہ الا اللہ کے۔
تفسیر : اس سے پہلی آیت میں جو مشرکین کے لئے استغفار کی ممانعت تھی اور یہ کہا تھا کہ نبی اور مسلمانوں کی یہ شان نہیں حالانکہ اس سے پہلے بہت لوگ اپنے اقارب مشرکین کے لئے جو مرگئے تھے استغفار کیا کرتے تھے اور بہت سے لوگ جو استغفار کرتے تھے اس ممانعت سے پیشتر مرچکے تھے اور جو زندہ تھے ان کو اپنے فعل پر سخت ندامت اور خوف تھا کہ ہم گمراہ ہوگئے اس کے جواب میں تسلی کے لیے…
Read the full tafseer →لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُھٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرۃِ مِنْ م بَعْدِمَاکَادَیَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْھُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْھِمْ ط اِنَّہٗ بِہِمْ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ لا
(التوبہ : 117)
(اللہ نے رحمت کی نظر کی نبی پر اور ان مہاجرین اور انصار پر جنھوں نے نبی کی پیروی کی مشکل کی گھڑی میں اس کے بعد کہ قریب تھا کہ دل ٹیڑھے ہوجائیں ان میں سے ایک گروہ کے۔ پھر اللہ نے ان پر رحمت کی نگاہ کی۔ بیشک وہ ان پر نہایت مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ )
تاَب کا معنی، ساعۃ العرۃ کا مفہوم
” تابَ یتوبُ “ توبہ کا معنی ہوتا ہے اللہ کی طرف رجوع کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
فہم القرآن
ربط کلام : غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے مخلص مسلمانوں کو معاف کرتے ہوئے اسی سورة کی آیت 106 میں تین مخلص مسلمانوں کے معاملے کو مؤخر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اب ان کے بارے میں فیصلہ صادر ہوتا ہے۔
غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین قسم کے لوگ تھے۔
1۔ جسمانی طور پر معذور اور اسباب آمدورفت کے میسر نہ ہونے کی وجہ سے مجبور۔
2۔ منافقین۔
3۔ بلاعذر پیچھے رہ جانے والے دس صحابہ کرام ؓ تھے۔ دس میں سے سات ایسے صحابہ تھے جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی تبوک سے واپسی پر اپنی سزا خود تجویز کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ جکڑ لیا تھا۔ جن کی توبہ کے بارے میں آیت 105 کی تفسیر میں تفصیل سے عرض…
Read the full tafseer →آیت 117: لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ (اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ پر منافقین کو پیچھے رہنے کی اجازت دینے پر رجوع فرمایا۔ جیسا دوسرے ارشاد میں ہے۔ عفا اللّٰہ عنک لم اذنت لھم (التوبہ : 43) وَالْمُھٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ (اور مہاجرین وانصار کے حال پر بھی) اس میں مسلمانوں کو توبہ پر آمادہ کیا گیا۔ ہر مومن توبہ و استغفار کا محتاج ہے یہاں تک کہ نبی ﷺ اور مہاجرین وانصار بھی۔
الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ (جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا) غزوئہ تبوک کے موقع پر۔ اس کا معنی وقت العسرۃ ہے۔ الساعۃؔ کا لفظ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 117: ” لقد تاب اللہ علی النبی “ یعنی اللہ تعالیٰ نے در گزر کردیا اور نبی کریم ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی توبہ کرنے کا معنی یہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے منافقین کو جنگ سے پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی اور بعض نے کہا کہ کلام کو نبی کریم ﷺ کے ساتھ شروع کیا اس لیے کہ آپ (علیہ السلام) ان کی توبہ کا سبب تھے۔ جیسے فرمایا ” فان للہ خمسہ وللرسول “ اور اسی کی مثل کئی جگہوں پر ” والمھجرین والا نصار الذین اتبعو ہ فی ساعۃ العسرہ “ یعنی تنگی کے وقت میں یہاں کوئی متعین گھڑی مراد نہیں ہے اور غزوہ تبوک کا نام غزوۃ العسر ۃ رکھا گیا ہے اور لشکر کا نام جیش العسرۃ رکھا گیا ہے اور عسرۃ بمعنی سختی…
Read the full tafseer →117۔ یہ آیت تبوک کی لڑائی میں اتری ہے قتادہ کا قول ہے کہ تبوک کی لڑائی میں جب ملک شام کی طرف لوگ چلے تو سخت گرمی پڑ رہی تھی لو کی وہ لپٹ آتی تھی کہ الامان۔ رسد کی کمی تھی پانی نہ ملتا تھا لوگوں کے حال تباہ ہو رہے تھے ایک کھجور دو آدمی کھا کر گزارا کرتے تھے لشکر والا باری سے ایک کھجور کو چوستے اور دو دو گھونٹ پانی پیتے اور پھر چوستے اور پھر پانی 1 ؎ پیتے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے غزوہ تبوک کی سختی کا حال دریافت کیا وہ کہنے لگے ہم رسول ﷺ کے ساتھ تبوک کی لڑائی کو چلے گرمی کا زمانہ تھا راستے میں پیاس لگی پانی کا کہیں کوسوں نشان نہ تھا لوگ اونٹوں کی مینگنیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
آیت : (117-119)
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و احسان ہے کہ (تاب اللہ علی النبی) ” مہربان ہو وہ اپنے پیغمبر پر “ (والمھجرین والانصار) ” اور مہاجرین اور انصار پر “ پس ان کی تمام لغزشیں معاف کردیں ‘ انہیں بیشمار نیکیاں عطا کیں اور انہیں بلند ترین مراتب پر فائز فرمایا اور اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے نہایت مشکل اور مشقت سے لبریز عمل کئے ‘ اسی لئے فرمایا : (الذین اتبعوہ فی سعۃ العسرۃ) ” جو ساتھ رہے اس پیغمبر کے مشکل کی گھڑی میں “ یعنی وہ غزوہ تبوک میں دشمن کے ساتھ جنگ کے لئے آپ کے ساتھ نکلے ‘ سخت گرمی کا موسم تھا ‘ سامان سفر اور سواریوں وغیرہ کی قلت اور دشمن کی افرادی…
Read the full tafseer →قول باری ہے لقد تاب اللہ علی لنبی والمھاجرین والانصار والذین اتبعوا فی ساعۃ العسرۃ اللہ نے معاف کردیا نبی کو اور ان مہاجرین کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا ۔ عسرت کی معاملے کی تنگی ، اس کی شدت اور اس کی سختی کو کہتے ہیں ۔ یہ صورت حال غزوہ تبوک کے موقع پر پیش آئی تھی ۔ اس لیے کہ حضور ﷺ اس غزوہ پر اس وقت نکلے تھے جب انتہائی گرمی تھی، نیز پانی اور رسد کی بھی انتہائی قلت تھی اور سواری کے جانوروں کی تعدا د بھی توڑی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے توبہ کے ذکر کے ساتھ ان لوگوں کو مخصوص کردیا جنہوں نے تنگی اس گھڑی میں حضور ﷺ کا ساتھ دیا تھا ۔ اس لیے کسی صورت حال میں ساتھ دینے اور پیروی کرنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
211 صدق و اخلاص رحمت خداوندی کو متوجہ کرنے کا اہم ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے ان پر رحمت فرمادی ان کے اس صبروتحمل اور صدق و اخلاص کی بناء پر جس کا مظا ہرہ انہوں نے سختی اور تنگی کے اس نازک موقع پر بھی کیا، اور اخلاص وللہیت سے اور محض اللہ کی رضا کے لیے کیا کہ اللہ پاک کے یہاں اصل میں قدروقیمت بھی اسی چیز کی ہے۔ یعنی صدق و اخلاص اور ثبات واستقامت۔ اللہم ارزقنا التوفیق لذالک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ سو صدق و اخلاص اور صبر و استقامت اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرنے کا اہم ذریعہ ہیں وباللہ التوفیق۔ بہرکیف اس سے توبہ کی قبولیت اور اس عام بشارت کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–119
سیدنا کعب بن مالک اور ان کے ساتھیوں کا واقعہ
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھ غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے صحابہ کرام پر رجوع کا تذکرہ ہے اور اس کے بعد ان صحابہ کا جو غزوہ تبوک میں شامل نہ ہوئے تھے جو کہ سچے مسلمان تھے جنہوں نے صاف صاف بتا دیا نبی کریم ﷺ کو جب وہ ﷺ جنگ سے واپس آئے جبکہ منافقین نے طرح طرح کے بہانے پیش کیے، سوائے ان تین حضرات کے ان کے نام یہ ہیں۔
1 کعب بن مالک ؓ
2 ہلال بن امیہ ؓ
3 مرارہ بن ربیع ؓ
ان کو آپ ﷺ نے کہا کہ تمہاری معافی بعد میں ہوگی۔ اور اعلان کردیا کہ ان تینوں سے سب لوگ سوشل بائیکاٹ کردیں۔ یہ بائیکاٹ 50 دن جاری رہا اس میں وہ تینوں سخت پریشان ہوئے مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–118
آیات 111 تا 118
اسرار و معارف
رہے مومن تو ان کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں وہ تو اپنی جان اپنا مال بیچ چکے اور اللہ نے خرید لیا ہے ان سے اور اس کی قیمت بھی طے ہوگئی ۔ اللہ کی جنت جو اس کی رضا کا مظہر ہے ۔
مفسرین کرام کے مطابق یہ آیہ کریمہ بعیت عقبہ والے صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ کے حق میں نازل ہوئی بعیت عقبہ منٰی میں حج کے موقع پر مدینہ منورہ سے آکر ستر 70 کے قریب مردوکواتین نے اس شرط کی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اپنی جانوں اور مال واولاد سے بڑھ کر کریں گے یہ مفصل قصہ سیرت وتاریخ میں بھی تفاسیر میں بھی دسند کے ساتھ موجود ہے مگر معنی عام ہے اور ایمان کی کیفیت و…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی بعض مخلص صحابہ تک اس سخت وقت میں جنگ پر جانے سے کسی نہ کسی حد تک جی چرانے لگے تھے مگر چونکہ ان کے دلوں میں ایمان واخلاص تھا اس لئے آخر کار وہ اپنی اس کمزوری پر قابو پاگئے۔ (کبیر) ۔
5۔ یعنی مہاجرین و انصار کے دل کے خطرات بھی معاف کردیے۔ (از موضح) ۔
Read the full tafseer →(9:117) تاب۔ تاب یتوب (باب نصر) ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے توبہ کی وہ پھر آیا۔ وہ گناہ سے باز آیا۔ وہ متوجہ ہوا۔ اس نے معاف کیا۔ یہاں (رحمت سے) متوجہ ہونے اور معاف کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ یعنی اللہ نے رحمت سے توجہ فرمائی۔ اللہ نے معاف فرما دیا۔ توب اور توبۃ سے۔ جب اس کا تعدیہ الیٰ کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کا مطلب اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور انابت کے (بار بار واپس آنا) کے ہوتے ہیں۔ اور جب علیٰ کے ساتھ ہوتا ہے تو توبہ قبول کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ مثلاً قرآن میں آتا ہے۔ توبو الی اللہ جمیعا (24:31) سب خدا کے آگے توبہ کرو۔ اور فتاب علیکم وعفا عنکم (2:187) سو اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–118
لغات القرآن آیت نمبر 117 تا 118
تاب (وہ متوجہ ہوا) ساعۃ العسرۃ (تنگی کی گھڑی، پریشانی کا وقت) کا د (قریب ہے) یزیغ قلوب (دل پھرجائیں) الثلثۃ (تین) الذین خلقوا (جو پیچھے رہ گئے تھے) ضافت (تنگ ہوگئی) ظنوا (وہ سمجھ گے) لاملجا (ٹھکانا نہیں ہے)
تشریح : آیت نمبر 117 تا 118
جیسا کہ گزشتہ آیات میں آپ نے ملاحظہ کرل یا ہے کہ غزوہ تبوک ایک ایسا موقع تھا جس نے اہل ایمان کو اور منافقین کو کھول کر رکھ دیا تھا۔ اس موقع پر جب کہ فصلیں تیار تھیں شدید گرمی کا موسم تھا اور نامعلوم منزل کی طرف جہاد کے لئے جانا تھا دو ہی راستے تھے کہ عذر کر کے گھر میں بیٹھا جائے یا سر دھڑ کی بازی لگا کر دین کی سربلندی کے لئے اللہ…
Read the full tafseer →یہ آیت تبوک کی لڑائی میں اتری ہے۔ جبکہ یہ حال تھا کہ دس دس آدمیوں میں سواری کے لئے ایک ایک اونٹ تھا باری باری اسی پر سوار ہو لیتے تھے۔ اور کھانے کی قلت کا یہ حال تھا کہ ایک ایک کھجور پر کئی کئی آدمی بسر کرتے تھے۔ اس طرح کہ ہر ایک نے تھوڑی تھوڑی چوس کر ایک گھونٹ پانی پی لیا۔ پانی کی قلت تھی، گرمی کی شدت تھی، پیاس کا غلبہ اور پانی ناپید۔ اس حال میں صحابہ اپنے صدق ویقین اور ایمان واخلاص کے ساتھ حضور ﷺ کی جاں نثاری میں ثابت قدم رہے۔ حضرت ابوبکر صدی ؓ نے عرض کیا : ” یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے “ ، فرمایا : ” کیا تمہیں خواہش ہے “ عرض کیا ” جی ہاں “ تو حضور ﷺ نے دست مبارک اٹھا کر دعا…
Read the full tafseer →[69] یعنی غزوہ تبوک میں۔ اس غزوہ کو ساعت عسرت اس لئے فرمایا کہ گرمی شدید تھی، سفر دراز تھا، سواری اور
سامان رسد کی شدید قلت تھی اور مقابلہ ایک باضابطہ شاہی لشکر سے تھا۔
Read the full tafseer →(ف 1) غزوہ تبوک گرمی کے دنوں میں واقع ہوا ، اس لئے عام صحابہ کرام ؓ اجمعین میں اضطراب تھا کہ گرمی کی اس شدت میں کیونکر سفر طے ہوگا ، کیونکر ہم اس قابل ہو سکیں گے کہ دشمن سے لڑیں ، پانی بہت کم تھا ، اثنائے سفر میں یہ خطرہ لاحق ہوگیا ، کہیں ہلاک ہی نہ ہوجائیں ، دور دراز سفر ، گرمی کے دن اور دشمنوں سے جہاد بہت لوگوں نے ہمت ہار دی اللہ تعالیٰ نے ارادوں میں استقلال پیدا کیا ، دلوں کو صبر کی توفیق مرحمت فرمائی تو صحابہ میں ایک زندگی پیدا ہوگئی مخلصین کی ایک جماعت حضور ﷺ کے ساتھ نکل کھڑی ہوئی اس آیت میں اسی توفیق کا ذکر ہے ۔
ّ (آیت) ” لقد تاب اللہ علی النبی “۔ سے غرض یہ نہیں کہ نبی کے پائے استقلال…
Read the full tafseer →117 بلاشبہ ! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر مہربانی فرمائی اور ان مہاجرین و انصار پر بھی مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی جنہوں نے ایسی سخت گھڑی اور ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا جب کہ ان میں سے قریب تھا کہ بعض لوگوں کے قلوب کچھ متزلزل ہوجائی پر اللہ تعالیٰ نے ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی اور اپنی خاص مہربانی سے ان کو سنبھال لیا یقیناً اللہ تعالیٰ ان سب پر بڑی شفقت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ نبی پر مہربانی یہ کہ ان کو تمام خوبیوں سے سرفراز فرمایا انصار و مہاجرین پر توجہ اور مہربانی یہ کہ ان کو سخت گرمی اور لو اور پانی کی قلت کے باوجود سنبھالے رکھا۔ حالانکہ بعض لوگ قریب تھا کہ ہمت…
Read the full tafseer →ف 1۔ کہ آپ کی نبوت اور امامت جہاد اور تمام خوبیاں عطا فرمائیں۔
2۔ کہ ان کو ایسی مشقت کے جہاد میں مستقیم رکھا۔
3۔ اس غزوہ کے زمانہ کو ساعة عسرة اس واسطے فرمایا کہ گرمی شدید کا وقت تھا سفر دراز تھا مقابلہ قواعدوں لشکر سے تھا سواری کی بہت کمی تھی۔ کھانے پینے کے سامان رسد کی کمی اس درجہ تھی کہ ایک ایک خرما دو دو شخصوں میں تقسیم ہوتا تھا بعض دفعہ ایک چھوہارے کو آگے پیچھے کئی کئی آدمی چوستے تھے سواری کے اونٹ ذبح کرنے پڑے ان کی آلائش کو نچوڑ کر پینا پڑا۔
Read the full tafseer →تبوک میں شرکت نہ کرنے کے باعث جو لوگ پیچھے چھوڑے گئے تھے ان کا ذکر :
152: پیچھے آپ آیت 102 میں پڑھ چکے ہیں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو محض سستی و کاہلی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شرکت نہ کرسکے تھے اس لے انہوں نے کوئی عذر بھی پیش نہیں کیا تھا بلکہ صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہمیں کوئی عذر نہ تھا الایہ کہ ہم سے سستی ہوئی اور شامل نہ ہوسکے اس لئے ان کا فیصلہ پیغمبر اسلام ﷺ نے اللہ پر چھوڑ دیا تھا اور اب اللہ تعالیٰ ان کے فیصلہ کا اعلان فرما رہا ہے چونکہ آیت 102 میں فرمایا تھا کہ انہیں رحمت الٰہی کا امیدوار رہنا چاہئے چونکہ قبولیت کا مقتضی یہ تھا کہ ان کے دلوں کے زخم دھوئے جائیں اور عزت و اکرام کی مرہموں ساے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 115–117
Commentary
In the comments on verse 102: وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا (And there are those who admitted...), it was said that following the general call of Jihad at Tabuk which required all Muslims to join in, the people of Madinah had split into five groups. Two of them were of those who elected to stay behind without any valid excuse, a detailed description of which has appeared in previous verses. Here, in the present verses, three kinds of sincere believers have been mentioned. First were those who responded to the call of Jihad instantly. They have been identified in the initial sentence:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →