اسلامی مرکز کا استحکام اولین اصول ہے
اسلامی مرکز کے متصل جو کفار ہیں، پہلے تو مسلمانوں کو ان سے نمٹنا چاہیے اسی حکم کے بموجب رسول اللہ ﷺ نے پہلے جزیرۃ العرب کو صاف کیا، یہاں غلبہ پاکر مکہ، مدینہ، طائف، یمن، یمامہ، ہجر، خیبر، حضرموت وغیرہ کل علاقہ فتح کر کے یہاں کے لوگوں کو اسلامی جھنڈے تلے کھڑا کر کے غزوہ روم کی تیاری کی۔ جو اول تو جزیرہ العرب سے ملحق تھا دوسرے وہاں کے رہنے والے اہل کتاب تھے۔ تبوک تک پہنچ کر حالات کی ناساز گاری کی وجہ سے آگے کا عزم ترک کیا۔ یہ واقعہ009ھ کا ہے۔ دسویں سال حجۃ الوداع میں مشغول رہے۔ اور حج کے صرف اکاسی دن بعد آپ ﷺ اللہ کو پیارے ہوئے۔ آپ کے بعد آپ کے نائب، دوست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
سورة التَّوْبَة 121
آیت کے ظاہر الفاظ سے جو مطلب نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ دارالاسلام کے جس حصے سے دشمنان اسلام کا جو علاقہ متصل ہو، اس کے خلاف جنگ کرنے کی اولین ذمہ داری اسی حصے کے مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن اگر آگے کے سلسلہ کلام کے ساتھ ملا کر اس آیت کو پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کفار سے مراد وہ منافق لوگ ہیں جن کا انکار حق پوری طرح نمایاں ہوچکا تھا، اور جن کے اسلامی سوسائٹی میں خلط ملط رہنے سے سخت نقصانات پہنچ رہے تھے۔ رکوع 10 کی ابتداء میں بھی جہاں سے اس سلسلہ تقریر کا آغاز ہوا تھا، پہلی بات یہی کہی گئی تھی کہ اب ان آستین کے سانپوں کا استیصال کرنے کے لیے باقاعدہ جہاد شروع کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس (رہتے) ہیں اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہئے (یعنی جہاد کے وقت بھی مضبوط رہنا چاہئے اور ویسے بھی غیر زمانہ صلح میں ان سے ڈھیلا پن نہ برتنا چاہیے اور یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ (کی امداد) متقی لوگوں کے ساتھ ہے (پس ان سے ڈرو دبو مت) اور جب کوئی سورت (جدید) نازل کی جاتی ہے تو بعض منافقین (غربا مسلمین سے بطور تمسخر) کہتے ہیں کہ (کہو) اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں ترقی دی (آگے حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ تم جواب چاہتے ہو) سو (سنو) جو لوگ ایماندار ہیں اس سورت نے ان کے (تو) ایمان میں ترقی دی ہے اور وہ (اس ترقی کے ادراک سے) خوش…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَةً ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ۔ یہ آیت پوری سورة کے اصل مضمون کا خلاصہ ہے۔ اس سورة میں، جیسا کہ آپ نے دیکھا، کفار و مشرکین پر اتمام حجت ہوچکنے کے بعد ان سے اعلانِ براءت اور ان کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ آیات 23۔ 24 کے تحت یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ منافقین اپنے پاس پڑوس کے کفار و مشرکین سے عزیزانہ و دوستانہ روابط اور دوسرے کاروباری مفادات وابستہ رکھنے کے سبب سے، اس بات کے لیے تیار نہیں تھے کہ ان سے جنگ کریں یا اپنے تعلقات ان سے یک قلم ختم کرلیں۔ ان کی اس منافقت کی…
Read the full tafseer →123۔ 1 اس میں کافروں سے لڑنے کا ایک اہم اصول بیان کیا گیا ہے۔ کافروں سے جہاد کرنا ہے جیسا کہ رسول اللہ نے پہلے جزیرہ، عرب میں آباد مشرکین سے قتال کیا، جب ان سے فارغ ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے مکہ، طائف، یمن، یمامہ، ہجر، خیبر، حضرموت وغیرہ ممالک پر مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما دیا اور عرب کے سارے قبائل فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے، تو پھر اہل کتاب سے قتال کا آغاز فرمایا اور 9 ہجری میں رومیوں سے قتال کے لئے تبوک تشریف لے گئے جو جزیرہ، عرب سے قریب ہے اسی کے مطابق آپ ﷺ کی وفات کے بعد خلفائے راشدین نے روم کے عیسائیوں سے قتال فرمایا، اور ایران کے مجوسیوں سے جنگ کی۔
123۔ 2 یعنی کافروں کے لئے، مسلمانوں…
Read the full tafseer →100: اس آیت میں پھر اس مضمون کا خلاصہ بیان فرمایا گیا ہے جس سے اس سورت کی ابتدا ہوئی تھی، مشرکین سے براءت کا جو اعلان کیا گیا تھا اس میں ہر مسلمان کا یہ فرض تھا کہ وہ ان مشرکین سے جنگ کے لئے تیار رہے، جو اس اعلان براءت پر عمل نہ کریں، جیسا کے شروع میں عرض کیا گیا، وہ نومسلم جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے ان کے دل میں اپنے مشرک رشتہ داروں کے لئے نرم گوشہ ہوسکتا تھا، لہذا آخر سورت میں انہیں دوبارہ متوجہ کیا جارہا ہے کہ جس طرح اسلام کی تبلیغ میں ترتیب یہ ہونی چاہیے کہ انسان اپنے قریبی لوگوں سے ان کا آغاز کرے، اسی طرح جب جنگ کی نوبت آجائے تو اس میں بھی یہی ترتیب ہونی چاہیے کہ پہلے ان لوگوں سے…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار اے ایمان والو ! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس رہتے ہیں۔
اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ کافروں سے جہاد کرنے کا آغاز الاقرب فالاقرب کے طریقے پر کیا جائے۔ سکونت اور نسبی قرابت کے اعتبار سے جو کافر قریب ترین ہوں ‘ ان سے جہا دشروع کیا جائے۔ قریب ترین کافروں کو اصلاح طلبی اور شفقت کا سب سے زیادہ حق ہے ‘ اسی لئے رسول اللہ (ﷺ) کو سب سے پہلے اپنے قریب ترین خاندان والوں کو تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا اور ہجرت کے بعد بنی قریظہ ‘ بنی نضیر اور خیبر کے یہودیوں سے جہاد کرنے کا حکم سب سے پہلے دیا گیا۔ جب عرب سے جہاد ختم ہوگیا اور ضرورت نہ رہی تو رومیوں سے جہاد…
Read the full tafseer →6 جہاد فرض کفایہ ہے جو ترتیب طبعی کے موافق اول ان کفار سے ہونا چاہیے جو مسلمانوں سے قریب تر ہوں بعدہ، ان کے قریب رہنے والوں سے۔ اسی طرح درجہ بدرجہ حلقہ جہاد کو وسیع کرنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے جہاد اسی ترتیب سے ہوئے " دفاعی جہاد " میں بھی فقہاء نے یہ ہی ترتیب رکھی ہے کہ جس اسلامی ملک پر کفار حملہ آور ہوں، وہاں کے مسلمانوں پر دفاع واجب ہے اگر وہ کافی نہ ہوں یا سستی کریں تو ان کے متصل رہنے والوں پر وہ کافی نہ ہوں تو پھر جو ان سے متصل ہیں۔ اسی طرح اگر ضرورت پڑے تو درجہ بدرجہ مشرق سے مغرب تک جہاد فرض ہوتا چلا جائے گا۔
7 مومن کی شان یہ ہے کہ اپنے بھائی کے حق میں نرم اور دشمنان خدا…
Read the full tafseer →آیت 123 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ وَلْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَۃً ط
اس حکم میں اشارہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے بین الاقوامی اور آفاقی دور کا آغاز ہوچکا ہے ‘ اب اس دعوت کو چہار سو پھیلنا ہے اور دارالاسلام کی سرحدوں کو وسیع ہونا ہے۔ چناچہ حکم دیا جا رہا ہے کہ اسلامی حکومت کی سرحدوں پر جو کفار بستے ہیں ان سے قتال کرو ‘ اور جیسے جیسے یہ سرحدیں آگے بڑھتی جائیں تمہارے قتال کا سلسلہ بھی ان کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا چلا جائے ‘ حتیٰ کہ اللہ کا دین پوری دنیا پر غالب آجائے۔ جیسے سورة الانفال میں جزیرہ نمائے عرب کی حد تک قتال جاری رکھنے کا حکم…
Read the full tafseer →140 پہلے متصل علاقہ کے کافروں سے جہاد پھر آگے بالترتیب :۔ یعنی اگر یہ جنگ اسلام کے راستہ کی رکاوٹوں کو دور کرنے یا بالفاظ دیگر فتنہ کو دور کرنے کی خاطر ہو تو سب سے پہلے اپنی ریاست سے متصل علاقے کے کافروں سے جنگ کی جائے پھر اس کے بعد ان سے جو اس کے ساتھ ملتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ اگر متصل علاقے کو چھوڑ کر اگلے علاقہ سے جنگ شروع کی جائے تو درمیانی علاقہ والے کافر مسلمانوں کو آگے اور پیچھے دونوں اطراف سے حملہ کر کے خطرات سے دو چار کرسکتے ہیں۔ اور اگر جنگ دفاعی قسم کی ہو جیسے مثلا روس نے افغانستان پر حملہ کردیا تھا۔ تو سب سے پہلے جہاد میں حصہ لینا افغانستان پر فرض ہوگا پھر ان علاقوں یا ملکوں پر جو…
Read the full tafseer →232۔ یعنی تم ہمیشہ اپنی جگہ پر مضبوط، آمادۂ جہاد، مستعد اور کیل کانٹے سے درست رہو کہ دشمن کی ہمت ہی تمہاری طرف نظر بد ڈالنے کی نہ پڑے۔ گویا موجودہ جنگی اصطلاح میں ملت کو ایک مستقل لام بندی (Perpetual Mobilisation) کی حالت میں رہنا چاہیے۔ (آیت) ” غلظلۃ “۔ یہاں خشونت کے معنی اس قدر نہیں جس قدر شدت، مضبوطی اور پختگی کے معنی میں ہے۔ جس سے ان کا رعب ہم پر نہ پڑنے پائے بلکہ الٹا ہمارا رعب ان کے دلوں میں بیٹھ جائے، غلظۃ اے شدۃ وقوۃ وحمیۃ (قرطبی) اذا کان ذلک یوقع المھابۃ لنا فی صدورھم والرعب فی قلوبھم (جصاص) شدۃ وحمیۃ (معالم) (آیت) ” قاتلوا الذین یلونکم من الکفار “۔ یہ حکم جہاد میں خاص ترتیب کامل رہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–129
آیت نمبر 123 تا 129
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اپنے آس پاس والے منکرین (کفار) سے قتال کرو یعنی ان سے الاقرب فالاقرب کے قاعدہ کے مطابق بالترتیب، اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں یعنی تم ان کے ساتھ سخت رویہ رکھو، اور یقین رکھو اللہ مدد اور نصرت کے ذریعہ متقیوں کے ساتھ ہے، اور جب (نئی) سورت قرآن کی نازل ہوتی ہے تو ان منافقین میں سے کچھ لوگ آپ ﷺ کے اصحاب سے استہزاء کرتے ہیں (بتائو) اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں تصدیق کا اضافہ کیا سو (سنو) جو لوگ اہل ایمان ہیں (اس سورت نے) ان کے ایمان میں ان کے اس کی تصدیق کرنے کی وجہ سے اضافہ کردیا ہے اور وہ خوش ہو رہے ہیں یعنی اس سورت کے نزول سے خوش…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار اے ایمان والو ! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس رہتے ہیں۔
اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ کافروں سے جہاد کرنے کا آغاز الاقرب فالاقرب کے طریقے پر کیا جائے۔ سکونت اور نسبی قرابت کے اعتبار سے جو کافر قریب ترین ہوں ‘ ان سے جہا دشروع کیا جائے۔ قریب ترین کافروں کو اصلاح طلبی اور شفقت کا سب سے زیادہ حق ہے ‘ اسی لئے رسول اللہ ﷺ کو سب سے پہلے اپنے قریب ترین خاندان والوں کو تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا اور ہجرت کے بعد بنی قریظہ ‘ بنی نضیر اور خیبر کے یہودیوں سے جہاد کرنے کا حکم سب سے پہلے دیا گیا۔ جب عرب سے جہاد ختم ہوگیا اور ضرورت نہ رہی تو رومیوں سے جہاد کرنے…
Read the full tafseer →(123) رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو بنی قریظہ، نضیر، فدک اور خیبر سے لڑو اور ان کو تماہرے اندر سختی پانا چاہیے اور اے مومنین کی جامعت یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کا انکے دشمنوں کے مقابلہ کے وقت مددگار ہے۔
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ : یعنی کفار میں سے جو لوگ تم سے جتنے زیادہ قریب ہیں اتنا ہی ان سے پہلے جہاد کرو، پہلے انھیں اسلامی قلمرو میں شامل کرنے کے بعد ان سے جہاد کرو جو ان کی بہ نسبت دور ہیں، کیونکہ ہر کام میں آسان سے آسان اور بہتر سے بہتر ہونے کا خیال سب سے پہلے رکھا جاتا ہے۔ اپنی سرحد سے ملنے والوں کے ساتھ لڑائی میں نہ زیادہ سواریوں کی ضرورت ہے نہ زیادہ اخراجات کی، نہ دور کے سفر کی مشقت ہے، نہ ان کے احوال سے باخبر رہنے کے لیے زیادہ محنت اور وسائل کی، کیونکہ آپ ان کے محل وقوع، ان کے مراکز قوت اور ان کی کمزوریوں سے خوب واقف ہیں۔ پھر…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 123۔
اس آیت میں ایک مسئلہ ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) وہ یہ کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے انہیں جہاد کی کیفیت سے آگاہ فرمایا اور یہ کہ ابتداء قریبی دشمن سے ہو پھر جو اس کے بعد قریبی ہو، اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے آغاز عرب سے کیا اور جب ان سے فارغ ہوئے تو روم کا قصد کیا اور وہ شام میں تھے، اور حسن نے کہا ہے : یہ آیت حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کو مشرکین کے قتل کا حکم دیئے جانے سے پہلے نازل ہوئی پس یہ اس تدریج میں سے ہے جو قبل از اسلام تھی۔
اور ابن زید نے کہا ہے : اس آیت سے اس کے نازل ہونے کے وقت مراد عرب تھے، پس جب آپ ان سے فارغ ہوئے تو پھر روم وغیرہم کے بارے میں (آیت) ” قاتلوا الذین لایؤمنون باللہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قاتلوا الذین یلونکم من الکفار “ یعن (وہ کفار) جو زیادہ قریب ہیں اور پھر جو ان کے بعد قریب ہیں (ان سے جنگ کرو)
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو الشیخ نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا کہ ابن زید (رح) اس آیت کے بارے میں فرمایا عرب کے کافر جو آپ کے آس پاس تھے۔ آپ ان سے لڑے یہاں تک کہ آپ ان سے فارغ ہوجاؤ۔
3:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے جعفر بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ ان سے دیلم کے قتال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا ان سے لڑو بلاشبہ یہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” قاتلوا الذین یلونکم من الکفار…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ [اے لوگو ! جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] قَاتِلُوا [تم لوگ جنگ کرو ] الَّذِيْنَ [ ان سے جو ] يَلُوْنَكُمْ [ قریب ہیں تمہارے ] مِّنَ الْكُفَّارِ [کافروں میں سے ] وَلْيَجِدُوْا [ اور چاہیے کہ وہ پائیں ] فِيْكُمْ [ تم لوگوں میں ] غِلْظَةً ۭ [سختی ] وَاعْلَمُوْٓا [ اور جان لو ] اَنَّ [کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] مَعَ الْمُتَّقِيْنَ [ تقوی کرنے والوں کے ساتھ ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
ان کافروں سے قتال کرو جو تمہارے آس پاس ہیں
ان آیات میں اولاً اہل ایمان کو یہ حکم دیا کہ جو کفار تمہارے آس پاس رہتے ہیں ان سے قتال کرو۔ اور اس انداز سے اپنی اجتماعی اور انفرادی زندگی گزارو (جن میں جنگ کی تیاری کرتے رہنے اور جنگ کا سامان فراہم کرنا بھی داخل ہے) کہ وہ لوگ تمہارے اندر سختی محسوس کریں۔ یہ تمہیں اپنی طرف سے غافل نہ سمجھیں۔ صاحب معالم التنزیل حضرت ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ (یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ ) (جو لوگ تم سے قریب ہیں) سے بنو قریظہ، بنو نضیر اور خیبر میں بسنے والے یہودی مراد ہیں اور جو لوگ ان کے آس پاس تھے، اور بعض جن حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے روم کے لوگ مراد ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
ترتیب جہاد وقتال
قال اللہ تعالیٰ ۔ یا ایہا الذین امنوا قاتلوا الذین یلومونکم من الکفار۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ مع المتقین۔
(ربط): نصف پارۂ دہم سے یہاں تک غزوۂ تبوک سے متخلفین کے شنائع اور قبائح کا بیان تھا کہ ان لوگوں نے جہاد سے تخلف کیا پھر گزشتہ آیات میں احکام جہاد کی طرف رجوع فرمایا اور جہاد و قتال کے فضائل بیان کیے اب اس آیت میں جہاد و قتال کی ترتیب بیان کرتے ہیں کہ جہاد و قتال کس طرح ہونا چاہئے وہ ترتیب یہ ہے کہ اول ان کفار سے ہونا چاہئے جو مسلمانوں سے قریب تر ہوں اور پھر جو ان قریب رہنے والوں کے قریب ہوں اس طرح حلقۂ جہاد کو وسیع کرنا چاہئے نبی اکرم ﷺ نے اول مشرکین عرب سے قتال کیا اور پھر بنی…
Read the full tafseer →117:“ یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ ” یہ دعائے سورت یعنی حکم قتال کا اعادہ ہے۔ “ اَلَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ ” جو تمہارے قرب و جوار میں رہتے ہیں۔ “ غِلْظَةً ” شدت و درشتی۔ یعنی مشرکین کے ساتھ جرات و شجاعت اور صبر و استقلال کا ایسا مظاہرہ کرو کہ تمہارا رعب و جلال ان کے دلوں پر چھا جائے مقصد یہ ہے کہ مسلمان یہ اوصاف اپنے اندر پیدا کریں۔
Read the full tafseer →ربط آیات :
اس سورة میں زیادہ تر قتال فی سبیل اللہ کا ذکر ہے ، اور اس سلسلے میں منافقین کی بہت سی مذمت بیان کی گئی ہے کیونکہ و ہ جہاد سے پیچھے رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان اہل ایمان کو تنبیہ کی گئی ہے جو محض سستی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہوسکے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے جہاد اور حصول علم کی فرضیت کا زکر بھی کیا۔ عام حالات میں یہ دونوں چیزیں فرض کفایہ ہوتی ہیں۔ اگر مسلمانوں میں مجاہدین کی ایک ایسی جماعت موجود ہو جو جہاد کے لیے ہر وقت مستعد ہو تو باقی مسلمانوں کی طرف سے بھی یہ فریضہ اد اہو جائے گا ، اور اگر کوئی بھی مسلمان جہاد کے لیے تیار نہ ہو تو پھر سارے کے سارے مسلمان گنہگار ہوں گے۔…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِيْنَ يَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوْا فِيْكُمْ غِلْظَۃً 0 ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ 123
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار…
Read the full tafseer →ترکیب : من الکفار الذین کا بیان غلظہ بکسر الغین وضمھا مفعول بعدوا فمنہم خبر من مبتداء جملہ جواب اذا ما ایمانا تمیز ہے زادت سے۔ ہل یَرٰکم ای یقولون ھل یری من انفسکم۔ رسول کی صفت اول عزیز ‘ علیہ ما عنتم صفت ثانی حریص علیکم صفت ثالث بالمؤمنین رؤف رحیم صفت رابع۔
تفسیر : ان قوانینِ آسمانی کا ذکر فرما کر اور مسلمانوں کو آیندہ تخلف سے منع کرکے عام جہاد کا حکم دیتا ہے اور قریب والوں سے شروع کرتا ہے کہ پہلے پاس والوں سے پھر اوروں سے رفتہ رفتہ سب سے لڑو قاتلوا الذین یلونکم اور چونکہ اس کام کے لیے سختی اور بہادری بھی شرط ہے۔ اس لئے فرماتا ہے ولیجدوا فیکم غلظۃ کہ ذرا کر ارا پن بھی دکھائو۔ آنحضرت ﷺ کی…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ وَلْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَۃً ط وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ اْلمُتَّقِیْنَ (التوبہ : 123)
(اے ایمان والو جنگ کرو ان کافروں سے جو تم سے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تم میں سختی پائیں اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے۔ )
پیشِ نظر آیت کریمہ سورة التوبہ کے آخری رکوع کی پہلی آیت ہے۔ اس میں جو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ وہ سورة التوبہ کے تمام مضامین کا حاصل ہیں اور مزید بر آں یہ کہ رکوع نمبر 10 سے جو مضمون شروع ہوا تھا یہ آیت اس مضمون کا اختتام ہے۔
سورة التوبہ 9 ہجری میں اس وقت نازل ہوئی ہے جب…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہاد کے مسائل کے دوران اہم امور کی طرف توجہ دلانے کے بعد اب پھر جہاد اور منافقوں کا ذکر ہوتا ہے۔
مملکت کے استحکام کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ملک اندرونی سازشوں سے محفوظ ہو۔ اس کے لیے ملک و ملت کے غداروں سے آگاہی ضروری ہوتی ہے۔ جو ملک اور قوم کے لیے مار آستین ہوتے ہیں۔ اس لیے مسلسل کئی آیات میں منافقوں کے عقائد اور کردار کے بارے میں تفصیلبتا کر ان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب اسلامی سرحدات کے ارد گرد کے دشمنوں کی سرکوبی کے لیے ہدایات دی جارہی ہیں کہ مسلمانو ! اپنے ملک کی سرحدوں کو دشمن سے محفوظ رکھو۔ جس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ قریب کے دشمن پر نظر رکھو اگر وہ شرارتوں اور…
Read the full tafseer →کفار کے ساتھ اقرب فالاقرب کے لحاظ سے قتال کیا جائے :
آیت 123: یٰٓاَیَّھُاَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ (اے ایمان والو ان سے لڑو جو تمہارے آس پاس ہیں) تم سے جو قریب ہیں مِّنَ الْکُفَّارِ ( کفار سے) قتال تمام کفار کے خلاف خواہ وہ قریب ہوں یا بعید واجب ہے لیکن وجوب اقرب فالاقرب کے لحاظ سے ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی قوم سے لڑائی کی پھر حجاز کے دیگر کفار سے۔ پھر شام۔ کیونکہ شام عراق کی نسبت مدینہ سے زیادہ قریب ہے اسی طرح ہر طرف میں لازم یہ ہے کہ قریب تر سے لڑیں۔ وَلْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غِلْظَۃً (اور ان کو تمہارے اندر سختی پانی چاہیے) تم میں قتال سے قبل ان کے ساتھ بات میں سختی…
Read the full tafseer →تفسیر 123: یآ یھا الذین امنوا قاتلو ا الذین یلونکم من الکفار “ آیت میں گھر اور نسب کے اعتبار سے قریبی لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں جیسے بنو قریظہ ‘ بنو نضیر اور خیبر وغیرہ اور بعض نے کہا اس سے روم مراد ہیں اس لیے کہ وہ شام کے ہائشی ہیں اور ملک شام عراق کی بنسبت مدینہ سے زیادہ قریب ہے۔” ولیجدو ا فیکم غلظۃ ‘ سختی اور غیرت۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ ان کا جہاد پر صبر۔ ” واعلموا ان اللہ مع المتقین “ سرد اور تصرف کیساتھ۔
Read the full tafseer →123۔ اس آیت میں خدا کا یہ حکم ہوا ہے کہ پہلے ان کافروں سے جہاد شروع کرو جو تمہارے آس پاس کے رہنے والے ہیں پھر ان سے لڑو جو ان سے قریب ہوں اسی لئے حضرت پہلے اپنے ہی قبیلہ کے مشرک اور کافروں سے لڑے پھر عرب کے اور کافر اور مشرکوں سے پھر اس کے بعد اور ملکوں میں جاکر جہاد کیا اور یہ بھی فرمایا کہ جوانمردی کے ساتھ لڑو۔ اوپر گزر چکا ہے کہ اب ضعف اسلام کے زمانہ میں جہاد کی ایک قسم زبانی وعظ و نصیحت کی باقی رہ گئی ہے اس لئے علمائے اسلام کو چاہئے کہ پہلے اپنی سکونت کی بستی میں وعظ نصیحت کر کے لوگوں کو راستہ پر لاویں پھر باہر کا قصد کریں تاکہ اس آیت کی ہدایت کا عمل ہاتھ سے نہ جاوے آخر آیت میں فرمایا کہ…
Read the full tafseer →آیت : (123)
جنگی معاملات کی تدبیر میں اہل ایمان کی راہ نمائی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف راہنمائی فرمائی ہے کہ ان کفار سے ابتدا کی جائے جو سب سے قریب ہیں ان کے ساتھ رویہ سخت رکھا جائے اور جنگ میں ان کا نہایت سختی ‘ بہادری اور ثابت قدمی کے ساتھ مقابلہ کیا جائے (واعلموا ان اللہ مع المتقین) ” اور جان رکھو کہ اللہ پرہیز گاروں کے ساتھ ہے۔ “ یعنی تمہیں یہ علم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد تقویٰ کے مطابق نازل ہوتی ہے ‘ اس لئے تقویٰ کا التزام کرو ‘ اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے دشمن کے خلاف تمہیں نصرت سے نوازے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد : (قاتلو الذین یلونکم من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–129
دینی علم حاصل کرنا ضروری ہے
قول باری ہے وما کان المومنون لینفروا گا فۃ فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طائفۃ لیتفقھوا فی الدین اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل کر آئے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت نے قول باری انفروا اثبات او انفروا جمعیا ً پھر الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلویا اکٹھے ہو کر کو منسوخ کردیا ہے نیز قول باری انفروا اخفا فاً و ثقا لا ً نکل پڑو ہلکے اور بوجھل بھی اس آیت کی بنا پر منسوخ ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں فرمادیا کہ اہل ایمان کے لیے ضروری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
220 کفار سے جہاد کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " ایمان والو ! تم لڑوان کافروں سے جو تمہارے آس پاس ہیں کہ اقرب فالاقرب کے طبعی اور فطری اصول و ضابطہ کا تقاضا یہی ہے چناچہ اسی حکم وارشاد کے مطابق نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں سب سے پہلے مدینہ میں رہنے والے یہودی قبائل بنوقینقاع، بنوقریظہ، اور بنونظیر سے جہاد فرمایا اس کے بعد یہودخبیر سے۔ اور اس طرح آس پاس کے جہاد سے فراغت کے بعد آپ نے سب سے آخر میں رومیوں سے جہاد کرنے کے لیے غزوہ تبوک کا سفر فرمایا اور پھر اس کے بعد حضرات صحابہ کرام علیہم الرحمۃ والرضوان جزیرہ نمائے عرب سے نکل کر مشرق ومغرب میں پھیل گئے اور انہوں نے ہر طرف اسلام کا پھریرا…
Read the full tafseer →کفار سے لڑنے کے لیے جنگی اصول
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیت میں درس و تدریس کے قاعدے قانون سمجھائے گئے ہیں تو اب اس آیت میں حرب و ضرب (جنگ) کا بہترین اصول مؤمنوں کو بتایا جا رہا ہے۔ اپنی آزادی، اسلام کی سربلندی، اہل و عیال، شہر اور ملک کی حفاظت ہر مومن کا فرض ہے۔ یہاں اس جنگ کا اصول بتایا جا رہا ہے کہ اپنی قوت اپنے اردگرد کے ماحول کو زیر کرکے آہستہ آہستہ بڑھائو۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے مدینہ کے اردگرد کے قبائل بنو قریظہ، بنو نضیر وغیرہ کا بندوبست کیا جب ریاست کچھ مضبوط ہوئی تو پھر مکہ، طائف، یمن، یمامہ، ہجر، خیبر، حضرموت وغیرہ کو مغلوب کرلیا۔ پھر عرب کے تمام قبائل جوق در جوق اسلام میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–129
آیات 123 تا 127
اسرار و معارف
کسی عمل کے نیک ہونے کی شرط
اور جہاں تک کفار سے معاملات کا تعلق ہے تو ان سے جہاد کرو کہ مومنین کو جس قدر محبت و خلوص سے اہل اللہ کی صحبت اختیار کرنے کی ضرورت ہے اس قدرشدت اور سختی سے جہاد بھی کریں کہ کسی عمل کے درست یا نیک ہونے کی شرط اس کی صورت نہیں بلکہ اس کا اللہ کے حکم کے تابع ہونا ہے ایک طرف محبت و خلوص نیکی ہے تو دوسری جانب شدت و سختی نیکی ہے لہٰذاکفار سے محبت جائز نہیں ۔ شدت اور جہاد میں پوری قوت سے ٹکرانا ضروری ہے اور جہاد اپنے قریب والوں سے شروع ہوگا بلحاظ مقام اور فاصلہ کے بھی اور رشتہ اور نسب کے اعتبار سے بھی ۔ ظاہر ا یہ جنگ کی صحیح صورت نہیں کہ کفار کو…
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی کفار میں سے جو لوگ تم سے جتنا زیادہ قریب ہیں اتنا ہی ان سے پہلے جہاد کرو۔ پھر ان سے جہاد کرو جو اُ ن کی بہ نسبت دور ہیں۔ چناچہ اسی ترتیب کے ساتھ نبی ﷺ نے پہلے اپنے خاص قبیلہ قریش سے جنگ کی پھر جزیرہ عرب کے دوسرے قبائل سے اور پھی بنی قریظہ بنی نضیر سے اور پھر خیبر اور فدک کے اہل کتاب سے جو مدینہ کے اردگرد تھے۔ جب ان سب سے فارغ ہوئے تو غزوہ تبوک کی مہم پر ملک شام کے عیسائیوں سے جہاد کے لئے روانہ ہوئے۔ یہی ترتیب آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ ، شہید محراب ؓ اور دوسرے خلفائے ملحوظ رکھی۔ چناچہ ان کے زمانے میں پہلے ملک شام فتح کیا گیا اور اس کے بعد ایران اور مصر پر حملہ…
Read the full tafseer →(9:123) یلونکم۔ مضارع جمع مذکر حاضر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ولی مصدر (باب نصر) جو قوم تمہارے نزدیک بستی ہے۔ جو تمہارے نزدیک ہیں۔ الولاء والتوالی کے اصل معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کا اس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ خواہ وہ قرب بلحاظ مکان ہو یا نسب یا بلحاظ دین و اعتقاد یا بلحاظ دوستی و نصرت ہو۔
ولیجدوا۔ اور وہ پائیں۔ ان کو پانا چاہیے۔ امر کا صیغہ جمع مذکر غائب۔
غلظۃ۔ اسم مصدر۔ سختی۔ دل کی سختی۔ قوت۔ سخت مزاجی۔ الغلظۃ کے معنی موٹاپا یا گاڑھا پن کے ہیں۔ ولیجدوا فیکم غلظۃ۔ چاہے کہ وہ…
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 123
یلون (وہ جو ملے ہوئے ہیں، قریب ہیں) ولیجدوا (اور چاہئے کہ وہ محسوس کریں) غلظۃ (سختی)
تشریح :- آیت نمبر 123
اس آیت میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ
(1) اے مومنو ! جب تم کفار سے جہاد کرو تو سب سے پہلے ان لوگوں سے جاد کرو جو تم سے قریب تر ہوں خواہ فاصلے کے لحاظ سے یا قربات داری اور رشتہ داری کے لحاظ سے۔
(2) فرمایا کہ جب تم کفار سے جاد کرو تو دشمن تمہارے اندر ایسی جرأت و ہمت اور مردانہ صلاحیتوں کا اندازہ کرلے جس سے اس کو دوبارہ آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ ہو۔
(3) تیسری بات یہ فرمائی گئی کہ اللہ لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں۔
ان…
Read the full tafseer →اس آیت میں خدا کا یہ حکم ہوا ہے کہ پہلے ان کافروں سے جہاد شروع کرو جو تمہارے آس پاس کے رہنے والے ہیں۔ پھر ان سے لڑو جو ان کے قریب ہوں۔ اسی لئے حضرت اپنے ہی قبیلہ کے مشرک اور کافروں سے لڑتے، پھر عرب کے اور کافر اور مشرکوں سے، پھر اس کے بعد اور ملکوں مین جا کر جہاد کیا، اور یہ بھی فرمایا کہ جوں مردی کے ساتھ لڑو۔ اوپر گزر چکا ہے کہ اب ضعیف اسلام کے زمانے میں جہاد کی ایک قسم زبانی وعظ ونصیحت کی باقی رہ گئی ہے۔ اس لئے علمائے اسلام کو چاہئے کہ پہلے اپنی سکونت کی بستی میں وعظ ونصیحت کر کے لوگوں کو رستہ پر لاویں، پھر باہر کا قصد کریں۔ تاکہ اس آیت کی ہدایت کا عمل ہاتھ سے نہ جاوے۔ آخر آیت میں فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
[72] یہاں لفظ '' متقین '' لا کر جہاد و قتال میں اخلاص کامل کی تعلیم دے دی اور طمع مال اور حصول شہرت وغیرہ کے راستے بند کر دئیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–127
(ف 2) اس آیت میں اصول جہاد کی تشریح کی گئی ہے کہ سب سے پہلے جو قریب کے دشمن ہیں ، ان سے جنگ کی جائے پھر ان لوگوں سے جو پہلوں سے نسبۃ قریب ہوں ، یعنی اقرب فالاقرب کا اصول مد نظر رکھا جائے ، اس طریق سے طاقت وقوت میں باقاعدہ ترقی ہوتی رہتی ہے حضور ﷺ نے اس طریق جہاد پر عمل فرمایا ، سب سے پہلے مکہ والوں سے معرکے رہے ، اس کے بعد تمام اہل عرب سے ، پھر اہل کتاب سے یعنی بنی قریظہ و بنی نضیر سے ، اس کے بعد خیبروفدک میں جنگ رہی ، صحابہ کرام ؓ اجمعین نے بھی اسی آئین کو ملحوظ رکھا ، روم ، شام عراق اور تمام بلاد میں اسی ترتیب وتسلسل کو جاری رکھا ، (آیت) ” ولیجدوا فیکم غلظۃ “۔ کے معنی یہ ہیں کہ مسلمان کو…
Read the full tafseer →123 اے ایمان لانے والو ! تم پہلے ان کافروں سے جنگ کرو جو تم سے قریب اور تم سے نزدیک ہیں اور کافروں کو تمہارے برتائو میں سختی محسوس ہونی چاہئے اور یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے اور اس کی معیت اہل تقویٰ کو حاصل ہے۔ اصلاح اور ہدایت کے وہ لوگ مستحق ہیں جو اقرب ہوں۔ خواہ اپنے اہل ہوں یا اولاد ہو یا پاس پڑوسی ہوں۔ پھر جوان سے قریب ہوں اسی طرح الاقرب وفالا قرب کے اصول سے بڑھاتے جاناچاہئے۔ سختی کا مطلب یہ ہے کہ جنگ کے میدان میں مضبوطی دکھانی چاہئے یا عام برتائو میں ڈھیلا پن نہ ہونا چاہئے۔ 12
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں سختی معلوم کریں یعنی قوت جنگ یا سختی یعنی معاملات میں بےرخی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
ف 3۔ یعنی جہاد کے وقت بھی مضبوط رہنا چاہیے اور ویسے بھی غیر زمانہ صلح میں ان سے ڈھیلا پن نہ برتنا چاہیے۔
4۔ اوپر چند آیتوں میں جہاد کی ترغیب تھی اب اس کی ترتیب مع اس کے بعض متعلقات کے مذکور ہے حاصل ترتیب کا ظاہر ہے کہ اول پاس والوں سے نبٹنا چاہیے پھر بقایا میں جو سب سے پاس ہوں وعلی وہذا القیاس۔ اور اس ترتیب کے عکس میں جو مفاسد ہیں ظاہر ہیں چناچہ حضور ﷺ نے جو باختیار خود غزوات فرمائے اور صحابہ نے بھی سب میں یہی ترتیب ملحوظ رہی۔
Read the full tafseer →مسلمانوں کو ہر وقت جہاد کے لئے تیار رہنے اور سامان جنگ سے غافل نہ رہنے کا حکم :
158: مسلمانوں کو خاص ہدایت دی جارہی ہے کہ تم اپنے ارگرد کے کفار سے جنگ کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہو اور ان کی طرف سے کبھی غافل نہ ہو اس لئے کہ بھی ان کا یصہ ٹھنڈا نہیں ہوا اور وہ کسی وقت بھی قسمت آزمائی کرسکتے ہیں اس لئے تم بھی اپنی جگہ پر مضبوط ، آمادہ جہاد ، مستعد اور کیل کانٹے سے پوری طرح لیس رہو۔ اس لئے دشمنوں کی ہمت ہی نہ پڑے کہ وہ تمہاری طرف نظر بد سے دیکھیں گویا موجودہ جنگی اصطلاح میں ملت اسلامیہ کو ایک مستقل لام بندی کی حالت میں رہنا چاہئے۔ غِلْظَةً 1ؕ کے معنی اس جگہ شدت اور مضبوطی کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Commentary
Previous verses carried inducement to Jihad. The first verse from the present ones (123) which opens with the words: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا ( O those who believe, fight those disbelievers who are near you) gives details, for disbelievers are spread out all over the world and any confrontation with them has to have some sort of functional sequence. The verse says that Jihad should first be waged against those of the disbelievers who were near. ` Being near' could be taken in terms of the place, that is, the disbelievers who live closer to home base should be fought…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →