Explained with ayahs 113–114
مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم ﷺ کو ممانعت
مسند احمد میں ہے کہ ابو طالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا لا الہ الا للہ کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عز وجل کے ہاں میں تیری سفارش تو کرسکوں۔ یہ سن کر ان دونوں نے کہا کہ اے ابو طالب کیا تو عبدالمطلب کے دین سے پھرجائے گا ؟ اس پر اس نے کہا میں تو عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خیر میں جب تک منع نہ کردیا جاؤں تیرے لیے بخشش مانگتا رہونگا۔ لیکن (اوپر والی آیت) اتری۔ یعنی نبی کو اور مومنوں کو لائق نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 111
”کسی شخص کے لیے معافی کی درخواست لازما یہ معنی رکھتی ہے کہ اول تو ہم اس کے ساتھ ہمدردی و محبت رکھتے ہیں، دوسرے یہ کہ ہم اس کے قصور کو قابل معافی سمجھتے ہیں۔ یہ دونوں باتیں اس شخص کے معاملہ میں تو درست ہیں جو وفاداروں کے زمرے میں شامل ہو اور صرف گناہگار ہو۔ لیکن جو شخص کھلا ہوا باغی ہو اس کے ساتھ ہمدردی و محبت رکھنا اور اس کے جرم کو قابل معافی سمجھنا نہ صرف یہ کہ اصولا غلط ہے بلکہ اس سے خود ہماری اپنی وفاداری مشتبہ ہوجاتی ہے۔ اور اگر ہم محض اس بنا پر کہ وہ ہمارا رشتہ دار ہے، یہ چاہیں کہ اسے معاف کردیا جائے، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے نزدیک رشتہ داری کا تعلق خدا کی…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
پیغمبر ﷺ کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی (کیوں نہ) ہوں اس امر کے ظاہر ہوجانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں (اس وجہ سے کہ کافر ہو کر مرے ہیں) اور (اگر حضرت ابراہیم ؑ کے قصہ سے شبہ ہو کہ انہوں نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کی تھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ) ابراہیم ؑ کا اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت مانگنا (وہ اس کے قبل تھا کہ اس کا دوزخی ہونا ظاہر ہوجاوے اور) وہ (بھی) صرف وعدہ کے سبب سے تھا جو انہوں نے اس سے وعدہ کرلیا تھا (اس قول میں سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ، غرض جواز تو اس لئے تھا کہ اس کا دوزخی ہونا ظاہر نہ ہوا تھا، اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
آیات 113 تا 129 کا مضمون :
خاتمہ سورة : آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ خطاب براہ راست مسلمانوں سے ہے۔ تمام عناصر فاسدہ سے ان کو پاک کردینے کے بعد آخر میں یہ بعض ہدایات اور بشارتیں دی جا رہی ہیں۔ پہلی یہ ہدایت فرمائی کہ پیغمبر یا اہل ایمان کے لیے یہ روا نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے خدا سے استغفار کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی سلسلہ میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے لیے جو استغفار کیا، اس کا صحیح پہلو واضح فرما دیا تاکہ یہ واقعہ کسی کے لیے غلط فہمی کا سبب نہ بنے۔ اس ہدایت سے مقصود مسلمانوں کو باطل کے ہر لوث اور ہر شائبہ سے بالکل پاک کر کے صرف حق کے لیے جینے اور مرنے کے نصب العین پر…
Read the full tafseer →113۔ 1 اس کی تفسیر صحیح بخاری میں اس طرح ہے کہ جب نبی ﷺ کے عم بزرگوار ابو طالب کا آخری وقت آیا تو آپ ان کے پاس گئے جبکہ ان کے پاس ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بھی بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا چچا جان لَا اِلٰہ اِلَّا اللہ پڑھ لیں، تاکہ میں اللہ کے ہاں آپ کے لئے تکرار پیش کرسکوں، ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہا ' اے ابو طالب کیا عبدالمطلب کے مذہب سے انحراف کرو گے ؟ (یعنی مرتے وقت یہ کیا کرنے لگے ہو ؟ حتٰی کہ اسی حال میں ان کا انتقال ہوگیا) نبی نے فرمایا، جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے روک نہیں دیا جائے گا میں آپ کے لئے استغفار کرتا رہوں گا، جس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں مشرکین کے…
Read the full tafseer →88: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں اس آیت کا شان نزول یہ بیان ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے چچا ابو طالب نے اگرچہ آپ کی بڑی مدد کی تھی، لیکن انہوں نے آخر وقت تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو آنحضرت ﷺ نے انہیں ترغیب دی کہ وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوجائیں، مگر اس وقت ابو جہل وغیرہ نے مخالفت کی۔ اور وہ مسلمان نہیں ہوئے۔ آنحضرت ﷺ نے اس وقت یہ فرمایا تھا کہ میں آپ کے لیے اس وقت تک استغفار کرتا رہوں گا جب تک مجھے اس سے منع نہ کردیا جائے۔ چنانچہ اس آیت نے آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع فرمادیا۔ اس کے علاوہ تفسیر ابن جریر وغیرہ میں روایت ہے کہ بعض مسلمانوں نے اپنے مشرک باپ دادوں کے لیے…
Read the full tafseer →ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ماتبین لھم انھم اصحب الجحیم پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکوں کیلئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں ‘ اس امر کے ظاہر ہونے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ زندہ مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت جائز ہے کیونکہ ایسی دعاء کا معنی ہے مشرکوں کو توفیق ایمان ملنے کی درخواست (اور اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ مستحسن ہے) مسلم نے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے چچا سے فرمایا تھا : لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجئے ‘ میں قیامت کے دن آپ کیلئے اس کی شہادت دوں گا۔ چچا نے…
Read the full tafseer →5 مومنین جب جان و مال سے خدا کے ہاتھوں بیع ہوچکے تو ضروری ہے کہ تنہا اسی کے ہو کر رہیں۔ اعداء ُ اللہ سے جن کا دشمن خدا اور جہنمی ہونا معلوم ہوچکا ہو۔ محبت و مہربانی کا واسطہ نہ رکھیں۔ خواہ دشمنان خدا ان کے ماں باپ، چچا، تایا اور خاص بھائی بند ہی کیوں نہ ہوں۔ جو خدا کا باغی اور دشمن ہے وہ ان کا دوست کیسے ہوسکتا ہے۔ پس جس شخص کی بابت پتہ چل جائے کہ وہ بالیقین دوزخی ہے۔ خواہ وحی الٰہی کے ذریعہ سے یا اس طرح کے اعلانیہ کفر و شرک پر اس کو موت آچکی ہو، اس کے حق میں استغفار کرنا اور بخشش مانگنا ممنوع ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت آنحضرت ﷺ کی والدہ حضرت آمنہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ بعض احادیث میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
آیت 112 اَلتَّآءِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآءِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ
’ سَاءِحُوْنَ ‘ کا معنی ہے سیاحت کرنے والے۔ لیکن اس سے مرادمحض سیر و سیاحت نہیں بلکہ عبادت و ریاضت کے لیے گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہونا ہے۔ پچھلی امتوں میں روحانی ترقی کے لیے لوگ لذات دنیوی کو ترک کر کے اور انسانی آبادیوں سے لا تعلق ہو کر جنگلوں میں چلے جاتے تھے اور رہبانیت اختیار کرلیتے تھے ‘ مگر ہمارے دین میں ایسی سیاحت اور رہبانیت کی اجازت نہیں۔ چناچہ حضور ﷺ نے فرمایا : لاَ رَہْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ وَلَا سِیَاحَۃَ 1 اسلام میں نہ رہبانیت ہے نہ سیاحت۔ سابقہ ادیان کے برعکس اسلام نے سیاحت اور…
Read the full tafseer →129 رسول اللہ یتیم پیدا ہوئے تھے۔ آٹھ سال کی عمر تک آپ اپنے دادا عبدالمطلب کے زیر تربیت رہے۔ پھر عبدالمطلب بھی فوت ہوگئے تو وہ آپ کو آپ کے چچا ابو طالب کے سپرد کر گئے۔ ابو طالب نے آپ کی بہت پیار و محبت سے تربیت کی جب چالیس سال کی عمر میں آپ نے نبوت کا اعلان کیا تو آپ کی قوم آپ کی دشمن بن گئی لیکن ابو طالب نے آپ کی بھرپور حمایت کی اور اسلام نہ لانے کے باوجود ہر مشکل وقت میں ابو طالب نے آپ کا ساتھ دیا اور آپ کے لیے ڈھال کا کام دیتے رہے۔ شعب ابی طالب میں تین سال آپ کے ساتھ رہے۔ آپ کو بھی ابو طالب سے بہت محبت تھی۔ نبوت کے آٹھویں سال ابو طالب کی وفات ہوگئی جس کا آپ کو شدید صدمہ ہوا۔ آپ نے ابو طالب…
Read the full tafseer →209۔ (اور اس کے ظہور کی صورت یہی ہے کہ وہ لوگ حالت کفر میں مرے ہوں یعنی وقت نزع تک اقرار انہوں نے نہ کیا ہو) حکم اسی ظاہر پر لگایا جائے گا باقی اصل حال تو عالم الغیب ہی کو معلوم ہوتا ہے، ظاھر حال المرء عند الموت یحکم علیہ بھا فان مات علی الایمان حکم لہ بہ وان مات علی الکفر حکم لہ بہ وربک اعلم بباطن حالہ (قرطبی) (آیت) ” ان یستغفروا للمشرکین “۔ مرنے کے بعد اس کے دعائے مغفرت کرنا ایک بڑا حق ہے جو میت کا زندوں پر رہ جاتا ہے سورة بھر میں برابر کافروں سے ترک تعلقات کے احکام ہیں۔ اب حکم یہ مل رہا ہے کہ جہاں تک کافروں کا تعلق ہے۔ اس بڑے حق سے بھی دست بردار ہوجائیں۔ جرم شرک وکفران کے حق کو بالکل مٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–118
آیت نمبر 111 تا 118
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کا جنت کے بدلے سودا کرلیا ہے اس طریقہ پر کہ وہ ان کو اس کی اطاعت میں مثلاً جہاد میں خرچ کریں وہ اللہ کے راستہ میں قتال کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں (یُقاتلُ ) بیان شراء کے لئے جملہ مستانفہ ہے، اور ایک قراءت میں یُقْتَلُونَ (مجہول) مقدم ہے (اور یُقَاتلُ ) معروف مؤخر ہے، یعنی ان میں سے بعض قتل کئے جاتے ہیں اور باقی قتال کرتے ہیں، ان سے اللہ کی جانب سے (جنت) کا تورات اور انجیل اور قرآن میں پختہ وعدہ ہے (وعدًا اور حَقًّا) دونوں اپنے فعل محذوف کی وجہ سے مصدر منصوب ہیں، اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدہ کو…
Read the full tafseer →ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ماتبین لھم انھم اصحب الجحیم پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکوں کیلئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں ‘ اس امر کے ظاہر ہونے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ زندہ مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت جائز ہے کیونکہ ایسی دعاء کا معنی ہے مشرکوں کو توفیق ایمان ملنے کی درخواست (اور اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ مستحسن ہے) مسلم نے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا سے فرمایا تھا : لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجئے ‘ میں قیامت کے دن آپ کیلئے اس کی شہادت دوں گا۔ چچا نے کہا…
Read the full tafseer →(113) حضور اکرم ﷺ اور ان حضرات کے لیے جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے والے ہیں یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں خواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ یہ لوگ جہنمی ہیں، اس وجہ سے کہ یہ لوگ حالت کفر میں مرے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ماکان للنبی“۔ (الخ)
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ومسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بواسطہ ان کے والد سے نقل کیا ہے کہ جب ابوطالب کی موت کا وقت قریب آیا تو رسول اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے، ابوطالب کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بیٹھا تھا، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، اے…
Read the full tafseer →مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا : ابتدا سورت سے لے کر یہاں تک مشرکین اور منافقین سے کلی طور پر تعلق ختم کرنے کے اعلان و اظہار کا حکم دیا ہے۔ اب یہاں بتایا کہ جس طرح ان کے زندوں سے لاتعلقی کا اظہار ضروری ہے اسی طرح ان کے مردوں سے براءت کا اظہار بھی لازم ہے اور ان کے لیے بخشش کی دعا کرنا جائز نہیں۔ مسیب بن حزن ؓ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت آیا، رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے تو اس کے پاس ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن امیہ بن مغیرہ کو پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے ابوطالب سے کہا : ”اے چچا ! تو ”لا الہ الا اللہ“ کہہ دے، میں اللہ کے پاس اس کلمے کی شہادت دوں گا۔“ تو ابوجہل اور عبداللہ بن…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 113۔
اس آیت میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) امام مسلم (رح) نے حضرت سعید بن مسیب ؓ سے اور انہوں نے اپنے باب روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا : جب ابو طالب قریب المرگ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے (2) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 90۔ 89 دارالکتب العلمیہ)
اور آپ نے ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ ابن مغیرہ کو ان کے پاس پایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے چچا ! کہو ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بارے تیری شہادت پیش کروں گا “۔ تو ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا : اے ابو طالب ! کیا تو عبدالمطلب کے دین سے اعراض کرے گا ؟ رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کی ممانعت :
1:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری ومسلم والنسائی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں سعید بن مسیب (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابو طالب کی موت قریب ہوئی تو نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے میرے چچا لا الہ الا اللہ کہہ لو اور میں شہادت دوں گا تیرے لئے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے پاس۔ ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا اے ابو طالب کیا عبدالمطلب کے دین سے اعراض کرو گے نبی کریم ﷺ اس پر (کلمہ کو) پیش کرتے رہے اور…
Read the full tafseer →مَا كَانَ [ نہیں ہے ] لِلنَّبِيِّ [ ان کے نبی کے لیے ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کے لیے جو ] اٰمَنُوْٓا [ ایمان لائے ] اَنْ [کہ ] يَّسْتَغْفِرُوْا [ وہ استغفار کریں ] لِلْمُشْرِكِيْنَ [ مشرکوں کے لیے ] وَلَوْ [اور اگر چہ ] كَانُوْٓا [ وہ تھے ] اُولِيْ قُرْبٰى [ قربت والے ] مِنْۢ بَعْدِ مَا [ اس کے بعد کہ جو ] تَبَيَّنَ [ واضح ہوا ] لَھُمْ [ ان پر ] اَنَّھُمْ [ کہ وہ لوگ ] اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ [ دوزخ والے ہیں ]
Read the full tafseer →مشرکین کے لیے استغفار کرنے کی ممانعت
صحیح البخاری (ص 181 ج 2) میں لکھا ہے کہ جب (آنحضرت سرور عالم ﷺ کے چچا) ابو طالب کی موت کا وقت آیا تو آپ ان کے پاس تشریف لے گئے وہاں ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ تھے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ اے چچا ! لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُکہہ لو میں اس کو (تمہاری سفارش کے لیے) اللہ کے حضور میں پیش کر دونگا۔ آپ برابر یہ بات فرماتے رہے لیکن وہ دونوں شخص جو موجود تھے یعنی ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ ابو طالب سے کہتے رہے، کیا تم عبدالمطلب کے دین سے ہٹ رہے ہوں ؟ بالآخر ابو طالب نے یہ کہہ دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں اور لا الہ الا اللہ کہنے سے انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
مشرکین اور کفار کے لیے دعاء مغفرت کی ممانعت
قال اللہ تعالی۔ ما کان للنبی۔ ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغروا للمشرکین۔۔۔ الی۔۔۔ من ولی ولا نصیر۔
(ربط ): شروع سورت میں کفار اور مشرکین سے براءت اور بیزاری کا ذکر تھا۔ بعد ازاں منافقین کے ذمائم اور مجاہدین کے فضائل بیان کیے اب اسی تبری اور بیزاری کی تاکید کے لیے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جس طرح زندگی میں کفار اور مشرکین سے براءت اور بیزار ایمان کے لواز میں سے ہے اسی طرح ان کے مرنے کے بعد ان سے تبری اور بیزاری ایمان کے لوازم میں سے ہے کہ مرنے کے بعد نہ کافر کا جنازہ پڑھنا جائز ہے اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہونا جائز ہے اور نہ اس کے لیے دعاء مغفرت جائز…
Read the full tafseer →108:“ مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ الخ ” یعنی اگر پیغمبر خدا ﷺ اور مومنوں کے بعض رشتہ دار بھی بحالت شرک مرچکے ہوں یا زندہ ہوں لیکن ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہو تو ان کے لیے دعا و استغفار کرنا بھی ممنوع ہے اور مہر جباریت لگ جانے سے پہلے ان کے لیے ہدایت کی دعا کرنے کی اجازت ہے۔ مہر جباریت کا علم انبیاء (علیہم السلام) کو وحی کے ذریعہ ہوجاتا تھا لیکن انقطاعِ وحی کے بعد یہ حکم ہے کہ مشرک جب تک زندہ رہے اس لیے ہدایت کی دعا کرنا چاہئے۔ اور اگر بحالت شرک مرجائے تو اس کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
ربط آیات :
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ نے مجاہدین کا ذکر فرمایا تھا کہ وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں پھر یا تو دشمن کو قتل کرتے ہیں یا خود شہید ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ ہے کہ انہیں بہشت میں مراتب عالیہ نصیب ہوں گے۔ پھر اللہ نے اہل ایمان مجاہدین کے اوصاف بھی بیان فرمائے کہ وہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے توبہ کرتے رہتے ہیں اور ہر وقت خدا تعالیٰ کی عبادت میں منہمک رہتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں اور علم و عبادت کے لیے سیاحت کرتے ہیں ، بےتعلق رہتے ہیں یا روزہ رکھتے ہیں۔ فرمایا وہ رکوع اور سجود کرتے رہتے ہیں یعنی انہیں نماز سے خاص شخف ہے وہ اہل…
Read the full tafseer →مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ 113
نبی
النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–114
ترکیب : بان الباء ھنا للمقابلۃ وعدا مصدر ای وعدھم بذلک وعدًا حقًا اس کی صفت فی التورتہ الخ ثابت کے متعلق ہو کر صفت ثالث التائبون خبر ہے مبتداء محذوف کی اے وھم التائبون ویجوز ان یکون مبتداء والخبر الآمرون ومابعدہ وھو ضفیف۔
تفسیر : جبکہ جہاد سے کنارہ کشی کرنے کی وجہ سے منافقین کے قبائح اور فضائح اور ان کی اقسام اور ہر قسم کی لائق سزا دنیا و آخرت میں واقع ہونے والی بیان فرما چکا تو فضائلِ جہاد اور اس کی حقیقت کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ پس فرماتا ہے ان اللّٰہ اشتری الخ محمد بن کعب قرطبی کہتے ہیں کہ مکہ میں لیلتہ العقبۃ میں ستر انصار نے آنحضرت ﷺ سے بیعت کی۔ تب عبداللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا کہ اپنے…
Read the full tafseer →مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْکَانُوْ ٓا اُولْیِ قُرْبٰی مِنْ م بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمُ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (التوبہ : 113)
(مناسب نہیں ہے نبی کے لیے اور نہ ایمان والوں کے لیے کہ مغفرت طلب کریں مشرکین کے لیے اگرچہ وہ مشرک ان کے قریبی رشتے دار ہوں جبکہ کھل چکا ان پر کہ وہ دوزخی ہیں۔ )
آیت کی تمہید
سورة توبہ اس زمانے میں نازل ہوئی ہے۔ جب اسلامی انقلاب اپنے تکمیلی مراحل کی طرف بڑھ رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو عطا کیا جانے والا ضابطہء حیات تعلیم و تربیت کی ضروریات کے لحاظ سے آخری ہدایات عطا کر رہا تھا۔ اِسلامی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مومنوں کی صفات بیان کرنے سے پہلے جہاد و قتال کے ذکر کے دوران فرمایا تھا کہ مومنوں سے ان کی جان و مال کے بدلے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ جب مسلمانوں کو کفار اور مشرکین کے خلاف جہاد کرنے کا حکم ہے تو پھر مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کرنے کا کیا معنی ؟
اسی سورة کی آیت 80 میں منافقین کے حق میں استغفار سے منع کیا گیا ہے اور اب مشرکین کے حق میں استغفار کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اکثر مفسرین نے اس کا شان نزول بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نبوت کے آٹھویں سال جناب ابو طالب شدید بیمار ہوئے اور ان کے جانبر ہونے کی کوئی امید باقی نہ رہی۔ نزع کے وقت رسول کریم ﷺ اپنے چچا ابو طالب کی…
Read the full tafseer →مشرکین کے لئے استغفار کی ممانعت :
آیت 113: آپ ﷺ نے ارادہ فرمایا کہ ابو طالب کیلئے استغفار کریں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی : مَاکَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوا اُولِیْ قُرْبٰی (پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ وہ مشرکین کیلئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں) اللہ تعالیٰ کے قانون اور حکمت کے مطابق استغفار اس کے لئے حلال نہیں مِنْم بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ (اس بات کے ظاہرہو جانے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں) اس بات کے ظاہر ہوچکنے کے بعد کہ ان کی موت شرک پر واقع ہوئی۔ پھر…
Read the full tafseer →مشرکین کے لیے استغفار کی ممانعت
آیت نمبر 113: ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “ اس آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے۔ ایک جماعت نے کہا ہے کہ اس کا سبب نزول وہ ہے جو سعید بن مسیب نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو طالب کی وفات کا وقت آیاتو آپ (علیہ السلام) ان کے پاس آئے تو ان کے پاس ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو بیٹھے دیکھا تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ‘ اے چچا !” لا الہ الا اللہ “ کا کلمہ کہہ دے میں تیرے لیے اللہ کے ہاں اس کلمہ کے ذریعے زور دار سفارش کروں گا تو ابو جہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کہنے لگے کیا تو عبد المطلب کے دین سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
113۔ 114۔ حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں یہ فیصلہ سورة قصص کی تفسیر میں کردیا ہے کہ چند سببوں کا مجموعہ مرکب مل کر اس آیت کی شان نزول صحیح 1 ؎ ہے۔ اول سبب ابوطالب کی وفات ہے جو روایت صحیحین میں ہے کہ ابو طالب کی وفات کے وقت آنحضرت ﷺ ابو طالب کے پاس گئے اور ابو طالب سے کہا کہ اے چچا اس وقت بھی تم کلمہ منہ سے کہہ لوگے تو مجھ کو اللہ کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کا موقع ملے گا لیکن اس وقت ابوجہل ابن امیہ بھی وہاں موجود تھے انہوں نے ابوطالت کو بہکایا اور کہا گیا آخری وقت اے ابوطالب تم عبدالمطلب کے طریقہ سے پھرتے ہو اس لئے آخر وقت پر ابوطالت نے یہی کہا کہ میں عبدالمطلب کے طریقہ پر دنیا کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
آیت (113-114)
یعنی نبی ﷺ اور اہل ایمان کئے لائق ہے نہ ان کے لئے زیبا ہے۔ (ان یستغفرواللمشرکین) ” کہ وہ ان لوگوں کے لئے استغفار کریں جنہوں نے (کفر یا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو) شریک کیا۔ “ (ولو کانو اولی قربی من بعد ما تبین لھم انھم اصحاب الجحیم) ” اگرچہ وہ رشتے دار ہوں ‘ اس بات کے واضح ہوجانے کے بعد کہ وہ جہنمی ہیں “ کیونکہ اس حال میں ان کے لئے بخشش کی دعا کرنا غلط اور ان کے لئے غیر مفید ہے ‘ اس لئے یہ استغفار نبی اکرم ﷺ اور اہل ایمان کی شان کے لائق ہیں ‘ کیونکہ جب وہ شرک کی حالت میں مرگئے یا یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ شرک کی حالت میں مریں گے تو ان پر عذاب اور جہنم میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–116
قول باری ہے والحافظون لحدود اللہ اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے اللہ کی اطاعت کرنے ، اس کے اوامر پر ڈٹے رہنے اور اس کے نواہی سے رکے رہنے کے وصف کو مبالغہ کے طور پر بیان کرنے کا یہ سب سے بلیغ اور بھر پور انداز ہے ، وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوامر ، اپنے نواہی ، اپنی ترغیبات کو مستحبات یا اباحات کے حدود مقرر کردیے ہیں ۔ اسی طرح بندوں کو بعض احکامات کے اندر دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلینے نیز غیر اولیٰ کو چھوڑ کر اولیٰ پر عمل کرنے کی گنجائش ملی ہیں تا کہ اس کے ذریعہ اللہ کے حکم کی موافقت کی حتیٰ الامکان جستجو ہوجائے۔ یہ تمام باتیں حدود اللہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
208 مشرکوں کے لیے بخشش کی دعاء مانگنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پیغمبر اور دوسرے اہل ایمان کو روا نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعاء کریں کہ مشرک اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ ان کے بخشش کی دعا کی جائے کہ شرک کا جرم دراصل بغاوت کا جرم ہے جو کہ ناقابل معافی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ صحیح بخاری ومسلم کی روایت کے مطابق جب آنحضرت ﷺ کے چچا ابوطالب کے انتقال کا وقت آن پہنچا تو آپ اپنی عظیم الشان رحمت اور شفقت کی بناء ان کے پاس تشریف لے گئے اور اس کو کلمہ توحید پڑھنے اور دین حق کے قبول کرنے کی دعوت دی تاکہ وہ دوزخ کی آگ سے بچ سکے۔ تو اس موقع پر مشرکین مکہ کے سرداروں میں سے ابوجہل اور ابن ابی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
مشرکوں کے لیے دعا کی ممانعت
تشریح : جیسا کہ اس سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا گیا تھا اسی طرح یہاں مسلمانوں کو اور نبی اکرم ﷺ کو کفار و مشرکین اور منافقین کے لیے بخشش کی دعا کرنے سے منع کردیا گیا ہے اس آیت کا شان نزول صحیح بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ آپ ﷺ کے چچا ابوطالب آپ ﷺ کے مشفق، مہربان اور انتہائی عزیز چچا تھے مگر اسلام قبول نہ کیا جب وہ مرنے کے قریب ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے انکو کلمہ پڑھنے کے لیے بہت کہا تاکہ بخشش ہوجائے مگر ابوجہل وغیرہ نے بڑی مخالفت کی، لہٰذا وہ کلمہ پڑھے بغیر ہی فوت ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا بہت دکھ ہوا تو انہوں نے کہا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–118
آیات 111 تا 118
اسرار و معارف
رہے مومن تو ان کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں وہ تو اپنی جان اپنا مال بیچ چکے اور اللہ نے خرید لیا ہے ان سے اور اس کی قیمت بھی طے ہوگئی ۔ اللہ کی جنت جو اس کی رضا کا مظہر ہے ۔
مفسرین کرام کے مطابق یہ آیہ کریمہ بعیت عقبہ والے صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ کے حق میں نازل ہوئی بعیت عقبہ منٰی میں حج کے موقع پر مدینہ منورہ سے آکر ستر 70 کے قریب مردوکواتین نے اس شرط کی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اپنی جانوں اور مال واولاد سے بڑھ کر کریں گے یہ مفصل قصہ سیرت وتاریخ میں بھی تفاسیر میں بھی دسند کے ساتھ موجود ہے مگر معنی عام ہے اور ایمان کی کیفیت و…
Read the full tafseer →ف 5 ابتدا سورت سے لے کر یہاں تک مشرکین اور منافقین سے کلی طور پر اظہار برأت کا اظہار بھی لازم ہے اور ان کے لئے استغفار جائز نہیں۔ (کبیر) اس آیت کی شان نزول کے بارے میں متعدد روایات ہیں۔ صحیحین میں حضرت سعید بن مسیب اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ابو طالب کی وفات کے وقت آنحضرت اس کے پاس تشریف لے آئے اور آپ نے فرمایا :” چچا ! لا الہ الہ اللہ کہہ دیجیے تاکہ میں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں تیرے بارے میں کچھ عرض کرسکوں ابوجہل اور ابن امیہ بھی پاس بیٹھے تھے وہ کہنے لگے ابو طالب کیا تو عبدالمطلب کے دین سے منہ موڑ رہا ہے آنحضرت تلقین کرتے رہے اور کافر اپنی بات دہراتے رہے۔ آخر کار مرتے وقت ابو طالب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
(9:113) ما کان للنبی والذین امنوا۔ زیبا نہیں نبی کے لئے اور نہ ایمان والوں کے لئے ۔
یستغفروا۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ وہ مغفرت طلب کریں ۔ وہ معانی مانگیں۔
اولی قربی۔ ای اذی قرابۃ لہم قرابت دار۔ رشتہ داری رکھنے والے رشتہ دار۔ قربی اسم مصدر۔ رشتہ داری قرابت۔
موعدۃ۔ اسم مصدر۔ وعدہ۔ ایاہ۔ اس کو۔ اسی سے ۔ واحد مذکر غائب کی ضمیر منصوب منفصل۔ اس کا مرجع حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا باپ ہے۔ تبرا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ بیزار ہوا۔ اس نے بیزاری ظاہر کی ۔ تبرء سے جس کے معنی بیزار ہونے کے ہیں۔ جیسے براء ۃ من اللہ ورسولہ (9:1) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان ہے۔
اذاۃ۔ نرم دل۔ بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 114
ان یستغفروا (یہ کہ وہ دعائے مغفرت کریں) اولی قربی (رشتہ دار) اصحاب الجحیم (جہنم والے) موعدۃ (وعدہ) تبین (واضح ہوگیا) تبرا (وہ بیزار ہوگیا) اواہ (رحم دل) حلیم (برداشت کرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 113 تا 114
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ وہ لوگ جن کا شرک ظاہر ہے ان کے لئے کسی کو بھی دعا مغفرت نہیں کرنی چاہئے خاص طور پر نبی جس کا مقام بلند تر ہوتا ہے اس کی شان کے خلاف ہے کہ وہ اپنے مشرک والدین یا عزیزوں کے لئے دعائے مغفرت کرے۔
فرمایا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے جو اپنے والد کے لئے دعائے مغفرت کی تھی وہ ایک وعدہ کی بنیاد پر تھی جو انہوں نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–114
مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کی ممانعت کا حکم
شان نزول : حاصل مطلب یہ ہے کہ کئی سببوں کا مجموعہ مل کر اس آیت کی شان نزول ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اول سبب ابو طالب کی وفات ہے کہ آنحضرت ﷺ ابو طالب کے پاس گئے اور کہا کہ : ” اے چچا ! اس وقت بھی تم کلمہ منہ سے کہو گے تو مجھ کو اللہ کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کا موقع ملے گا “۔ لیکن اس وقت ابو جہل ابن امیہ بھی وہاں موجود تھا۔ اس نے ابو طالب کو بہکایا اور کہا : ” کیا آخری وقت اے ابو طالب ! تم عبدالمطلب کے طریقہ سے پھرتے ہو “۔ اس لئے آخر وقت پر ابو طالب نے یہی کیا کہ : ” میں عبد المطلب کے طریقہ پر دنیا کو چھوڑتا ہوں “۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” خیر جب تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
[64] جیسے مجاہد، حاجی، طالب العلم وغیرہ۔
[65] یعنی حدود شرعی سے تجاوز نہ کرنے والے۔ قرآن تمام واجبات و حقوق کو خواہ افراد کی زندگی سے تعلق رکھتے ہوں خواہ جماعت سے حدود اللہ سے تعبیر کرتا ہے۔ ان حدود کے ٹوٹنے سے انسانی امن وسعادت کا ٹوٹ جانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 112–113
(ف 1) اس آیت میں مسلمان کی سات صفتیں گنائی ہیں جن کی وجہ سے وہ بشارت و خوشخبری کا مستحق قرار پاتا ہے ،
اس کو خدا سے عشق ہوتا ہے اور وہ ہر وقت اس کے گیت گاتا ہے ، سعی جہاد میں کے گوشہ گوشہ تک پہنچتا ہے ، عابد اور زاہد ہوتا ہے ، گناہوں اور لغزشوں پر نادم ہوتا ہے ، نیکی سے محبت کرتا ہے ، اور برائی سے نفرت ، خدا کی حدود ہر آن نگاہ رکھتا ہے ۔
آج کل کے رسمی مسلمان ، اپنی مذہبی زندگی کا جائزہ لیں کیا ان میں توبہ و عبادت کا جذبہ موجود ہے ، کیا وہ حمد و ستائش کے عادی ہیں ، ان کے ہونٹ کبھی خدا کی تعریف میں ہلتے ہیں ، یا ان کے پاؤں جہاد و ہجرت کے لئے کبھی حرکت میں آئے ہیں ، کیا برائیوں سے (نہیں نفرت ہے…
Read the full tafseer →113 پیغمبر ﷺ ! کے لئے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے یہبات جائز نہیں کہ جب ان کو مشرکین کا دوزخی ہونا ظاہر ہوچکا اس کے بعد بھی وہ ان کے لئے مغفرت کی دعا کریں خواہ وہ مشرک ان کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں۔ یعنی جب یہ بات ظاہر ہوچکی کہ مشرک اہل دوزخ ہیں تو اس کے بعد نہ نبی کو یہ بات جائز ہے نہ دوسرے مسلمانوں کو یہ جائز ہے کہ وہ کفر پر مرنے والوں کے لئے دعائے مغفرت کریں خواہ وہ کفر پر مرنے والے ان کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں۔
مفسرین نے اس آیت کے مختلف شان نزول بیان کئے ہیں۔ خواہ ابو طالب کی موت ہو خواہ کوئی دوسرا واقعہ ہو یہ بات کھل چکی کہ کفر پر مرنے والوں کی بخشش نہیں۔ لہٰذا ! اب ان لوگوں کیلئے جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–116
ف 7۔ وجہ اس نہی کی یہ ہوئی کہ ابوطالب کی وفات کے بعد آپ نے فرمایا کہ جب تک مجھ کو ممانعت نہ ہوگی ان کے لیے استغفار کروں گا اس پر اور مسلمانوں نے بھی اپنے مشترک اموات کے لیے استغفار شروع کیا تو اس آیت میں اس کی ممانعت آئی بعض کو شبہہ ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی تو اپنے باپ کے لیے استغفار فرمایا تھا اس پر اگلی آیت میں جواب نازل ہوا۔
Read the full tafseer →پیغمبر اسلام ﷺ اور مسلمانوں کو منافقین کے لئے دعائے مغفرت کی آخر کیا ضرورت ہے ؟
148: احادیث و آثار سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس عہد کے مسلمانوں کے کلمہ حق کے رشتے پر دنیا کے سارے رشتے قربان کردیئے تھے انہیں ان عزیزوں اور رشتہ داروں سے لڑنے میں ایک لمحہ کے لئے بھی تامل نہیں ہوا جنہوں نے اسلام کے خلاف تلوار اٹھائی تھی اور اس وقت حالت ہی ایسی ہوگئی تھی کہ کلمہ حق کا ساتھ دنیا کے تمام رشتوں ، علاقوں کو خیر باد کہہ دیا تھا لیکن اسلام کے جو دشمن لرٹے ہوئے قتل ہوگئے یا اپنی موت مرگئے ان کی حالت زندوں سے مختلف ہوگئی تھی کیونکہ اب وہ زندہ نہ تھے کہ مسلمانوں پر ظلم و ستن کرتے یا ان کے خلاف…
Read the full tafseer →Commentary
The entire Surah At-Taubah consists of injunctions of absolution and withdrawal from kafirs (disbelievers) and mushriks (those who associate partners with Allah). The Surah opens with the words: بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّـهِ (Here is a withdrawal [ proclaimed ] by Allah) and that is why this Surah is also known as Surah al-Bara'ah. The injunctions appearing earlier relate to withdrawal and severance of relationships with kafirs and mushriks in this worldly life. The same injunction of withdrawal and severance of relationships appears in the present verses, but it relates to the life…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →