At-Tawba 9:114

At-Tawba · from ayah 114

9:114

وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ ۚ— فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ؕ— اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ ۟وَمَا كَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰهِيۡمَ لِاَبِيۡهِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِيَّاهُ‌ ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنۡهُ‌ ؕ اِنَّ اِبۡرٰهِيۡمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيۡمٌ

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the request of forgiveness of Abraham for his father was only because of a promise he had made to him. But when it became apparent to Abraham that his father was an enemy to Allah, he disassociated himself from him. Indeed was Abraham compassionate and patient.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 14 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:114

ابراہیمؑ نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اُس وعدے کی وجہ سے تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا، مگر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہو گیا، حق یہ ہے کہ ابراہیمؑ بڑا رقیق القلب و خداترس اور بردبار آدمی تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ابراہیم ؑ کا اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت مانگنا وه صرف وعده کے سبب سے تھا جو انہوں نے اس سے وعده کرلیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات ﻇاہر ہوگئی کہ وه اللہ کا دشمن ہے تو وه اس سے محض بے تعلق ہوگئے، واقعی ابراہیم ؑ بڑے نرم دل اور برد بار تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے جو مغفرت کی دعا مانگی تھی، اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں تھی کہ انہوں نے اس (باپ) سے ایک وعدہ کرلیا تھا۔ پھر جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے، تو وہ اس سے دستبردار ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑی آہیں بھرنے والے، بڑے بردبار تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ابراہیم کا اپنے باپ کی بخشش چاہنا وہ تو نہ تھا مگر ایک وعدے کے سبب جو اس سے کرچکا تھا پھر جب ابراہیم کو کھل گیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے اس سے تنکا توڑ دیا (لاتعلق ہوگیا) بیشک ابراہیم بہت آہیں کرنے والا متحمل ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ابراہیم ؑ کا اپنے باپ (یعنی چچا آزر، جس نے آپ کو پالا تھا) کے لئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وعدہ کی غرض سے تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے، پھر جب ان پر یہ ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے زار ہوگئے (اس سے لاتعلق ہوگئے اور پھر کبھی اس کے حق میں دعا نہ کی)۔ بیشک ابراہیم ؑ بڑے دردمند (گریہ و زاری کرنے والے اور) نہایت بردبار تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ سے جو اس نے اس سے کیا تھا، پھر جب اس کے لیے واضح ہوگیا کہ بیشک وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بےتعلق ہوگیا۔ بیشک ابراہیم یقینا بہت نرم دل، بڑا بردبار تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ابراہیم نے جو اپنے باپ کے لئے بخشش کی دعا کی تھی تو صرف اس لیے کہ انہوں نے اپنے باپ سے اس بات کا وعدہ کیا ہوا تھا۔ پھر جب ان پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگئے۔ بلاشبہ ابراہیم بڑے نرم دل اور بردبار (انسان) تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے مغفرت مانگنا صرف اس وعدے کے سبب سے تھا جو اس نے اس سے کرلیا تھا۔ پھر جب اس پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس نے اس سے اعلان براءت کردیا بیشک ابراہیم بڑا ہی رقیق القلب اور بردبار تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے معافی مانگنا تو محض ایک وعدے کی بناء پر تھا، جو کہ وہ اس سے کرچکے تھے مگر جب ان کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ نے اس سے تعلق توڑ دیا، حقیقت یہ ہے کہ ابراہیم بڑے ہی نرم دل، اور بردبار تھے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ابراہیم ؑ کا اپنے باپ کے حق میں دعائے مغفرت کرنا تو محض وعدہ کے سبب تھا جو انہوں نے اس سے کرلیا تھا۔ پھر جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بےتعلق ہوگئے۔ بیشک ابراہیم ؑ بڑے ہی نزم دل (اور) بردبار تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہیں تھا استغفار کرنا ابراہیم ؑ کا اپنے والد کے حق میں مگر ایک وعدے کی بنیاد پر جو انہوں نے اس سے کیا تھا اور جب آپ ؑ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپ ؑ نے اس سے اعلان بیزاری کردیا۔ یقیناً ابراہیم ؑ بہت درد دل رکھنے والے اور حلیم الطبع تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کی وجہ سے تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل مزاج تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And Abraham's prayer for the forgiveness of his father was only because of a promise which he had made to him. Then, when it became clear to him that he was an enemy of Allah, he dissociated himself from him. Surely Abraham was most tender-hearted, God-fearing, forbearing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for the prayer of Ibrahim for the forgiveness of his father, it was only due to a promise he had made to him. Later, when it became clear to him that he was an enemy of Allah, he withdrew himself from him. Indeed, Ibrahim was very tender-hearted, very forbearing.

— Muhammad Taqi Usmani

As for the prayer of Ibrahim for the forgiveness of his father, it was only due to a promise he had made to him. Later, when it became clear to him that he was an enemy of Allah, he withdrew himself from him. Indeed, Ibrahim was very tender-hearted, very forbearing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Ibrahim's invoking (of Allah) for his father's forgiveness was only because of a promise he [Ibrahim] had made to him (his father). But when it became clear to him [Ibrahim] that he (his father) is an enemy of Allah, he dissociated himself from him. Verily, Ibrahim was Awwah and forbearing.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The prayer of Abraham for the forgiveness of his father was only because of a promise he had promised him, but when it had become clear unto him that he (his father) was an enemy to Allah he (Abraham) disowned him. Lo! Abraham was soft of heart, long-suffering.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the request of forgiveness of Abraham for his father was only because of a promise he had made to him. But when it became apparent to Abraham that his father was an enemy to Allah, he disassociated himself from him. Indeed was Abraham compassionate and patient.

— Saheeh International

There was no other reason for Abraham to seek forgiveness from God for his father except the promise that he had made with him. When Abraham knew that his father was an enemy of God, he disowned his father. Abraham was very tender-hearted and forbearing.

— Muhammad Sarwar

And Ibrahim asking forgiveness for his sire was only owing to a promise which he had made to him; but when it became clear to him that he was an enemy of Allah, he declared himself to be clear of him; most surely Ibrahim was very tender-hearted forbearing.

— Muhammad Habib Shakir

And Ibrahim's asking for the forgiveness of his father was only in pursuance of a promise which he had made unto him. Then, when it became manifest unto him that he was an enemy of Allah, he declared himself quit of him. Verily Ibrahim was long-suffering, forbearing.

— Abdul Majid Daryabadi

And Abraham prayed for his father's forgiveness only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he dissociated himself from him: for Abraham was most tender-hearted, forbearing.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:114

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 113–114

مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کی نبی اکرم ﷺ کو ممانعت مسند احمد میں ہے کہ ابو طالب کی موت کے وقت اس کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے۔ وہاں اس وقت ابو جہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی تھا۔ آپ نے فرمایا چچا لا الہ الا للہ کہہ لے اس کلمے کی وجہ سے اللہ عز وجل کے ہاں میں تیری سفارش تو کرسکوں۔ یہ سن کر ان دونوں نے کہا کہ اے ابو طالب کیا تو عبدالمطلب کے دین سے پھرجائے گا ؟ اس پر اس نے کہا میں تو عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا خیر میں جب تک منع نہ کردیا جاؤں تیرے لیے بخشش مانگتا رہونگا۔ لیکن (اوپر والی آیت) اتری۔ یعنی نبی کو اور مومنوں کو لائق نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش مانگیں گو وہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 112 اشارہ ہے اس بات کی طرف جو اپنے مشرک باپ سے تعلقات منقطع کرتے ہوئے حضرت ابراہیم ؑ نے کہی تھی کہ سَلَامٌ عَلَیْکَ سَاَ سْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْ اِنَّہ کَانَ بِیْ حَفِیًّا۔ (مریم۔ آیت 47) ”آپ کو سلام ہے، میں آپ کے لیے اپنے رب سے دعا کروں گا کہ آپ کو معاف کر دے، وہ میرے اوپر نہایت مہربان ہے“۔ اور لَاَ سْتَغْفِرَ نَّ لَکَ وَمَا اَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللہِ مِنْ شَیْ ءٍ (الممتحنہ آیت 4) ”میں آپ کے لیے معافی ضرور چاہوں گا، اور میرے اختیار میں کچھ نہیں ہے کہ آپ کو اللہ کی پکڑ سے بچوا لوں“۔ چناچہ اسی وعدے کی بنا پر آنجناب ﷺ نے اپنے باپ کے لیے یہ دعا مانگی تھی کہ وَاغْفِرْ لِاَ بِیْ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس پر بعض مسلمانوں کو یہ شبہ ہوا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے بھی تو اپنے کافر باپ کے لئے دعا کی تھی، اس کے جواب میں دوسری آیت نازل ہوئی (آیت) مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ الایة، جس کا حاصل یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے جو اپنے والد کے لئے دعا کی تھی اس کا معاملہ یہ ہے کہ شروع میں جب تک ابراہیم ؑ کو یہ معلوم نہ تھا کہ آخر تک کفر ہی پر قائم رہے گا، اسی پر مرے گا، تو اس کا دوزخی ہونا یقینی نہیں تھا، اس وقت انہوں نے یہ وعدہ کرلیا تھا کہ میں آپ کے لئے دعا مغفرت کروں گا، سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ، پھر جب حضرت ابراہیم ؑ پر یہ بات واضح ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے یعنی کفر ہی پر اس کا خاتمہ ہوا ہے تو اس سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 113–114

آیات 113 تا 129 کا مضمون : خاتمہ سورة : آگے خاتمہ سورة کی آیات ہیں۔ خطاب براہ راست مسلمانوں سے ہے۔ تمام عناصر فاسدہ سے ان کو پاک کردینے کے بعد آخر میں یہ بعض ہدایات اور بشارتیں دی جا رہی ہیں۔ پہلی یہ ہدایت فرمائی کہ پیغمبر یا اہل ایمان کے لیے یہ روا نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے خدا سے استغفار کریں اگرچہ وہ قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی سلسلہ میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے لیے جو استغفار کیا، اس کا صحیح پہلو واضح فرما دیا تاکہ یہ واقعہ کسی کے لیے غلط فہمی کا سبب نہ بنے۔ اس ہدایت سے مقصود مسلمانوں کو باطل کے ہر لوث اور ہر شائبہ سے بالکل پاک کر کے صرف حق کے لیے جینے اور مرنے کے نصب العین پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

114۔ 1 یعنی ابراہیم ؑ پر بھی جب یہ بات واضح ہوگئی کہ میرا باپ اللہ کا دشمن ہے اور جہنمی ہے تو انہوں نے اس سے اظہار نجات کردیا اور اس کے بعد مغفرت کی دعا نہیں کی۔ 144۔ 2 اور ابتداء میں باپ کے لئے مغفرت کی دعا بھی اپنے اسی مزاج کی نرمی اور حلیمی کی وجہ سے کی تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

89: حضرت ابراہیم ؑ کا اپنے والد سے استغفار کا وعدہ کرنا سورة مریم (19:47) اور سورة ممتحنہ (60:4) میں اور اس وعدے کے مطابق استغفار کرنا سورة شعراء (26:86) میں مذکور ہے۔ 90: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ان پر یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کا انتقال کفر ہی کی حالت میں ہوگا، اور وہ آخر وقت تک اللہ تعالیٰ کے دشمن بنے رہیں گے تو انہوں نے استغفار کرنا بھی چھوڑ دیا۔ اس سے علمائے کرام نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کسی کافر کے لئے اس نیت سے مغفرت کی دعا کرنا جائز ہے کہ اسے ایمان لانے کی توفیق ہوجائے اور اس طرح اس کی مغفرت ہوجائے، لیکن جس شخص کے بارے میں یہ یقین ہو کہ اس کی موت کفر پر ہوئی ہے اس کے لئے مغفرت کی دعا جائز…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وما کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ اور حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے باپ سے اس کا وعدہ کرلیا تھا۔ حضرت ابراہیم کے بات سے مراد آزر ہے۔ آزر آپ کا چچا تھا ‘ باپ کا نام تارخ تھا۔ اس کی پوری تفصیل سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔ بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ وَعَدَ کی ضمیر بات کی طرف راجع ہے اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم ہیں ‘ یعنی باپ نے حضرت ابراہیم سے مسلمان ہونے کا وعدہ کرلیا تھا ‘ اس پر حضرت ابراہیم نے فرمایا : میں آپ کیلئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا ‘ جبکہ آپ مسلمان ہوجائیں گے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک وَعَدَ کا فاعل حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 سورة مریم میں ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نے قبول حق سے اعراض کیا اور ضد وعناد سے حضرت ابراہیم کو قتل کی دھمکیاں دینے لگا، تو آپ نے والدین کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے فرمایا۔ (سَلٰمٌ عَلَيْكَ ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ۭاِنَّهٗ كَانَ بِيْ حَفِيًّا) 19 ۔ مریم :47) یعنی میں خدا سے تیرے لیے استغفار کروں گا۔ اس وعدہ کے موافق آپ برابر استغفار کرتے رہے چناچہ دوسری جگہ " وَاغْفِرْ لاَ بِی " ' فرمانے کی تصریح ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) ایک مشرک کی حالت شرک پر قائم رہتے ہوئے مغفرت چاہتے تھے، نہیں غرض یہ تھی کہ اللہ اس کو توفیق دے کہ حالت شرک سے نکل کر آغوش…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 114 وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِیْمَ لِاَبِیْہِ الاَّ عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَہَآ اِیَّاہُ ج جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام کو گھر سے نکالا تھا تو جاتے ہوئے آپ علیہ السلام نے یہ وعدہ کیا تھا ‘ اس وعدے کا ذکر سورة مریم میں اس طرح کیا گیا ہے : سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْط اِنَّہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا میں اپنے رب سے آپ کے لیے بخشش کی درخواست کروں گا ‘ بیشک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْہُط اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ حضرت ابراہیم علیہ السلام وعدے کے مطابق اپنے والد کی زندگی میں اس کے لیے دعا کرتے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

130 سیدنا ابراہیم کے باپ آزر کا انجام :۔ یعنی جب سیدنا ابراہیم کے باپ آزر نے ان سے کہا تھا کہ یہاں سے نکل جاؤ اور میری آنکھوں سے دور ہوجاؤ ورنہ میں تمہیں سنگسار کر دوں گا (19 : 47) تو اس وقت آپ نے باپ سے کہا تھا : تم سلامت رہو میں جا رہا ہوں البتہ تمہارے لیے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا اور یہ بات میرے اختیار میں نہیں کہ میں تمہیں اللہ کی گرفت سے بچا سکوں (60 : 4) چناچہ اسی وعدہ کے مطابق آپ نے اس کے حق میں دعا فرمائی کہ اے اللہ ! میرے باپ کو معاف فرما دے کیونکہ وہ گمراہوں سے ہے اور اس دن مجھے رسوا نہ کرنا جب سب لوگ اٹھائے جائیں گے (26 : 86، 87) پھر جب سیدنا ابراہیم کو معلوم ہوگیا کہ وہ راہ راست…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

210۔ (اس کی حالت حیات میں، جبکہ آپ کو یہ علم ہی نہیں ہوسکتا تھا کہ اس کی موت کفر پر ہوگی اور اس لئے وہ مثال اب کسی کے لئے حجت وسند نہیں) اس وعدہ کا ذکر سورة مریم کی اس آیت میں ہے۔ ساستغفرلک ربی انہ کان بی حفیا (آیت) ” ماکان “۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال دو مختلف مفہوموں کے لئے ہوا ہے کہیں تو تکوینی حیثیت سے کسی واقعہ کی نفی مراد ہوتی ہے مثلا اس آیت میں ماکان لنفس ان تموت الا باذن اللہ “۔ اور کہیں تشریعی طور پر نہی یا ممانعت مثلا اسی آیت میں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ شیخ جس فعل سے مرید کو منع کرے اور خود اس کو کسی عارض سے کرنا پڑجائے تو چاہئے کہ مرید کے سامنے اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 111–118

آیت نمبر 111 تا 118 ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کا جنت کے بدلے سودا کرلیا ہے اس طریقہ پر کہ وہ ان کو اس کی اطاعت میں مثلاً جہاد میں خرچ کریں وہ اللہ کے راستہ میں قتال کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں (یُقاتلُ ) بیان شراء کے لئے جملہ مستانفہ ہے، اور ایک قراءت میں یُقْتَلُونَ (مجہول) مقدم ہے (اور یُقَاتلُ ) معروف مؤخر ہے، یعنی ان میں سے بعض قتل کئے جاتے ہیں اور باقی قتال کرتے ہیں، ان سے اللہ کی جانب سے (جنت) کا تورات اور انجیل اور قرآن میں پختہ وعدہ ہے (وعدًا اور حَقًّا) دونوں اپنے فعل محذوف کی وجہ سے مصدر منصوب ہیں، اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ اور حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے باپ سے اس کا وعدہ کرلیا تھا۔ حضرت ابراہیم کے بات سے مراد آزر ہے۔ آزر آپ کا چچا تھا ‘ باپ کا نام تارخ تھا۔ اس کی پوری تفصیل سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔ بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ وَعَدَ کی ضمیر بات کی طرف راجع ہے اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم ہیں ‘ یعنی باپ نے حضرت ابراہیم سے مسلمان ہونے کا وعدہ کرلیا تھا ‘ اس پر حضرت ابراہیم نے فرمایا : میں آپ کیلئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا ‘ جبکہ آپ مسلمان ہوجائیں گے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک وَعَدَ کا فاعل حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(114) اور باقی رہا حضرت ابراہیم ؑ کا دعا کرنا تو وہ اسلام لانے کے وعدہ کی وجہ سے تھا، پھر جب ان کے والد کافر ہو کر فوت ہوئے تو وہ اپنے والد اور ان کے دین سے محض بےتعلق ہوگئے، واقعی حضرت ابراہیم ؑ بہت دعا فرمانے والے حلیم الطبع تھے۔ یا یہ رحیم المزاج یا یہ کہ سردار یا یہ کہ آہ وزاری کرنے والے یا یہ کہ آگ میں داخل ہونے سے پہلے آگ سے پناہ چاہی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ : علی ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ اپنے ماں باپ کے لیے استغفار کر رہا تھا، جب کہ وہ مشرک تھے۔ میں نے کہا تم ان کے لیے بخشش کی دعا کر رہے ہو جب کہ وہ مشرک تھے، تو اس نے کہا، کیا ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے لیے استغفار نہیں کیا تھا ؟ چناچہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ سے یہ بات ذکر کی تو یہ آیت نازل ہوئی : (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ)”اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ ہے جو اس نے اس سے کیا تھا۔“ [ نسائی، الجنائز، باب النہی عن…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 114۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) نسائی نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : میں نے ایک آدمی کو اپنے والدین کے لیے استغفار کرتے ہوئے سنا حالانکہ وہ دونوں مشرک تھے، تو میں نے کہا : کیا تو ان دونوں کے لیے مغفرت طلب کر رہا ہے حالانکہ وہ دونوں مشکر ہیں ؟ تو اس نے کہا : کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے مغفرت کی دعا نہیں کی ؟ چناچہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور اس کا ذکر کیا تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ’ وما کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ (1) (سنن نسائی، کتاب الجنائز، جلد 1، صفحہ 286، جامع ترمذی،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 113–114

مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کی ممانعت : 1:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری ومسلم والنسائی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں سعید بن مسیب (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابو طالب کی موت قریب ہوئی تو نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے میرے چچا لا الہ الا اللہ کہہ لو اور میں شہادت دوں گا تیرے لئے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے پاس۔ ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا اے ابو طالب کیا عبدالمطلب کے دین سے اعراض کرو گے نبی کریم ﷺ اس پر (کلمہ کو) پیش کرتے رہے اور…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھا ] اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم کا استغفار ] لِاَبِيْهِ [ اپنے والد کے لیے ] اِلَّا [ مگر ] عَنْ مَّوْعِدَةٍ [ ایک وعدے کے وقت سے ] وَّعَدَھَآ [ انھوں نے وعدہ کیا جس کا ] اِيَّاهُ ۚ [اس سے ] فَلَمَّا [ پھر جب ] تَـبَيَّنَ [ واضح ہوا ] لَهٗٓ [ ان پر ] اَنَّهٗ [ کہ وہ ] عَدُوٌّ [ دشمن ہے ] لِّلّٰهِ [ اللہ کا ] تَبَرَّاَ [ تو انھوں نے بیزاری کا اظہار کیا ] مِنْهُ ۭ [ اس سے ] اِنَّ [ بیشک ] اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم ] لَاَوَّاهٌ [ یقینا بہت درد مند تھے ] حَلِيْمٌ [ بردبار تھے ] ء وھ : (ن) اوھا ، دوسروں کی تکلیف کا احساس کرنا ، درد مند ہونا ۔ آہ بھرنا ۔ اواھ ، فعال ،…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے والد کے لیے استغفار کرنا پھر اس سے بیزار ہونا : مشرکین کے لیے استغفار کرنے کی ممانعت بیان فرمانے کے بعد فرمایا (وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ ) (الآیۃ) (اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے استغفار کرنا صرف اس لیے تھا کہ انہوں نے اپنے باپ سے ایک وعدہ کرلیا تھا) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو ایمان کی دعوت دی، توحید کی طرف بلایا۔ بت پرستی چھوڑنے کے لیے کہا اس نے نہ مانا۔ بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تو اپنی بات سے باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ آپ نے فرمایا (سَاَسْتَغْفِرُلَکَ رَبِّیْ اِنَّہٗ کَانَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 113–116

مشرکین اور کفار کے لیے دعاء مغفرت کی ممانعت قال اللہ تعالی۔ ما کان للنبی۔ ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغروا للمشرکین۔۔۔ الی۔۔۔ من ولی ولا نصیر۔ (ربط ): شروع سورت میں کفار اور مشرکین سے براءت اور بیزاری کا ذکر تھا۔ بعد ازاں منافقین کے ذمائم اور مجاہدین کے فضائل بیان کیے اب اسی تبری اور بیزاری کی تاکید کے لیے یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جس طرح زندگی میں کفار اور مشرکین سے براءت اور بیزار ایمان کے لواز میں سے ہے اسی طرح ان کے مرنے کے بعد ان سے تبری اور بیزاری ایمان کے لوازم میں سے ہے کہ مرنے کے بعد نہ کافر کا جنازہ پڑھنا جائز ہے اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہونا جائز ہے اور نہ اس کے لیے دعاء مغفرت جائز…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

109:“ وَ مَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاھِیْمَ الخ ” یہ سوال مقدر کا جواب ہے جو ماقبل سے ناشی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب پیغمبر کے لیے اور مومنوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے حق میں استغفار کریں تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر کیلئے کیوں استغفار کیا تھا جیسا کہ قرآن میں ہے “ وَ اغْفِرْ لِاَبِیْ اِنَّهٗ کَانَ مِنَ الضَّالِّیْنَ ” (شعراء رکوع 5) ۔ تو اس کا جواب فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا استغفار اس وعدے کی بنا پر تھا جو انہوں نے بوقت رخصت باپ سے کیا تھا۔ جیسا کہ سورة مریم رکوع 3 میں ہے “ قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْکَ سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیْ اِنَّهٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا ” لیکن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 113–116

ربط آیات : گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ نے مجاہدین کا ذکر فرمایا تھا کہ وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں پھر یا تو دشمن کو قتل کرتے ہیں یا خود شہید ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ ہے کہ انہیں بہشت میں مراتب عالیہ نصیب ہوں گے۔ پھر اللہ نے اہل ایمان مجاہدین کے اوصاف بھی بیان فرمائے کہ وہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے توبہ کرتے رہتے ہیں اور ہر وقت خدا تعالیٰ کی عبادت میں منہمک رہتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں اور علم و عبادت کے لیے سیاحت کرتے ہیں ، بےتعلق رہتے ہیں یا روزہ رکھتے ہیں۔ فرمایا وہ رکوع اور سجود کرتے رہتے ہیں یعنی انہیں نماز سے خاص شخف ہے وہ اہل…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰہِيْمَ لِاَبِيْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاہُ۝ 0 ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلہِ تَبَرَّاَ مِنْہُ۝ 0 ۭ اِنَّ اِبْرٰہِيْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِيْمٌ۝ 114 استغفار الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] ( غر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 112–114

ترکیب : بان الباء ھنا للمقابلۃ وعدا مصدر ای وعدھم بذلک وعدًا حقًا اس کی صفت فی التورتہ الخ ثابت کے متعلق ہو کر صفت ثالث التائبون خبر ہے مبتداء محذوف کی اے وھم التائبون ویجوز ان یکون مبتداء والخبر الآمرون ومابعدہ وھو ضفیف۔ تفسیر : جبکہ جہاد سے کنارہ کشی کرنے کی وجہ سے منافقین کے قبائح اور فضائح اور ان کی اقسام اور ہر قسم کی لائق سزا دنیا و آخرت میں واقع ہونے والی بیان فرما چکا تو فضائلِ جہاد اور اس کی حقیقت کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ پس فرماتا ہے ان اللّٰہ اشتری الخ محمد بن کعب قرطبی کہتے ہیں کہ مکہ میں لیلتہ العقبۃ میں ستر انصار نے آنحضرت ﷺ سے بیعت کی۔ تب عبداللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا کہ اپنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَآ اِیَّاہُ ج فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗٓ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَمِنْہُ ط اِنَّ اِبْرٰھِیْمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیْمٌ (التوبہ : 114) ( اور نہ تھی ابراہیم کی استغفار اپنے باپ کے لیے مگر اس وعدے کی وجہ سے جو انھوں نے اپنے باپ سے کیا تھا۔ مگر جب ابراہیم پر یہ بات کھل گئی کہ وہ اللہ کا دشمن ہے۔ تو وہ اس سے بیزار ہوگئے۔ بیشک ابراہیم بڑے ہی نرم دل اور برد بار تھے۔ ) ایک اشتباہ کا ازالہ اس آیت کریمہ میں ایک اشتباہ کو دور کیا گیا ہے۔ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طرز عمل سے پیدا ہوسکتا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مشرک کے حق میں دعا نہ کرنے کی ٹھوس دلیل اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک بات کی وضاحت۔ یہودو نصارٰی اور عربوں میں یہ بات معروف تھی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد دین حنیف پر نہیں تھے اس کے باوجود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لیے استغفار کی دعا کی تھی۔ جس کی اس طرح وضاحت کی جارہی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے اس کے حق میں استغفار کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ کیونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نہایت ہی خیر خواہ، نرم خو اور مہربان طبیعت کے مالک اور بڑے حوصلہ مند، حلیم الطبع تھے۔ جس بنا پر انھوں نے اپنے باپ کی زیادتیوں کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

استغفار ابراہیم ( علیہ السلام) کا جواب : آیت 114: وَمَاکَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰھِیْمَ لِاَ بِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّ عَدَھَآ اِیَّاہُ (اور ابراہیم کا اپنے باپ کیلئے دعائے مغفرت مانگنا وہ صرف وعدہ کے سبب سے تھا جو انہوں نے اسی سے وعدہ کرلیا تھا) ۔ نمبر 1۔ ان کے والد نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ اسلام لے آئیگا۔ نمبر 2۔ ابراہیم ( علیہ السلام) نے والد سے وعدہ کیا کہ وہ اس کے لئے استغفار کرے گا۔ جیسا اس ارشاد میں ہے لاستغفرن لک ( الممتحنہ : 4) اس کی دلیل حسن (رح) کی قراءت ہے۔ وعدھا ایاہ ۔ استغفار کا معنی مغفرت کا سوال کرنا اسلام لانے کے بعد نمبر 2۔ اللہ تعالیٰ سے ان کے اسلام لانے کی دعا کرنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 114: تفسیر 114:” وماکان استغفار ابرھیم لا بیہ الا عن موعدۃ وعدھآ ایاہ “ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ” ایاہ “ کی ھاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف لوٹ رہی ہے اور وعدہ ان کے والد کی طرف تھا وہ یہ کہ ان کے والد نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسلام لے آئیں گے تو ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا عنقریب میں آپ کے لیے اپنے رب سے استغفار کروں گا یعنی جب آپ مسلمان ہوگئے۔ اور بعض مفسرین رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ” ایاہ “ کی ھاء اب کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کے لیے استغفار کریں گے کیونکہ ان کے اسلام کی امید تھی اور وہ باری تعالیٰ کا قول ( ساستغفر لک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 113–114

113۔ 114۔ حافظ ابن حجر (رح) نے فتح الباری میں یہ فیصلہ سورة قصص کی تفسیر میں کردیا ہے کہ چند سببوں کا مجموعہ مرکب مل کر اس آیت کی شان نزول صحیح 1 ؎ ہے۔ اول سبب ابوطالب کی وفات ہے جو روایت صحیحین میں ہے کہ ابو طالب کی وفات کے وقت آنحضرت ﷺ ابو طالب کے پاس گئے اور ابو طالب سے کہا کہ اے چچا اس وقت بھی تم کلمہ منہ سے کہہ لوگے تو مجھ کو اللہ کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کا موقع ملے گا لیکن اس وقت ابوجہل ابن امیہ بھی وہاں موجود تھے انہوں نے ابوطالت کو بہکایا اور کہا گیا آخری وقت اے ابوطالب تم عبدالمطلب کے طریقہ سے پھرتے ہو اس لئے آخر وقت پر ابوطالت نے یہی کہا کہ میں عبدالمطلب کے طریقہ پر دنیا کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 113–114

آیت (113-114) یعنی نبی ﷺ اور اہل ایمان کئے لائق ہے نہ ان کے لئے زیبا ہے۔ (ان یستغفرواللمشرکین) ” کہ وہ ان لوگوں کے لئے استغفار کریں جنہوں نے (کفر یا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں غیر اللہ کو) شریک کیا۔ “ (ولو کانو اولی قربی من بعد ما تبین لھم انھم اصحاب الجحیم) ” اگرچہ وہ رشتے دار ہوں ‘ اس بات کے واضح ہوجانے کے بعد کہ وہ جہنمی ہیں “ کیونکہ اس حال میں ان کے لئے بخشش کی دعا کرنا غلط اور ان کے لئے غیر مفید ہے ‘ اس لئے یہ استغفار نبی اکرم ﷺ اور اہل ایمان کی شان کے لائق ہیں ‘ کیونکہ جب وہ شرک کی حالت میں مرگئے یا یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ شرک کی حالت میں مریں گے تو ان پر عذاب اور جہنم میں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 112–116

قول باری ہے والحافظون لحدود اللہ اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے اللہ کی اطاعت کرنے ، اس کے اوامر پر ڈٹے رہنے اور اس کے نواہی سے رکے رہنے کے وصف کو مبالغہ کے طور پر بیان کرنے کا یہ سب سے بلیغ اور بھر پور انداز ہے ، وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوامر ، اپنے نواہی ، اپنی ترغیبات کو مستحبات یا اباحات کے حدود مقرر کردیے ہیں ۔ اسی طرح بندوں کو بعض احکامات کے اندر دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلینے نیز غیر اولیٰ کو چھوڑ کر اولیٰ پر عمل کرنے کی گنجائش ملی ہیں تا کہ اس کے ذریعہ اللہ کے حکم کی موافقت کی حتیٰ الامکان جستجو ہوجائے۔ یہ تمام باتیں حدود اللہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 113–114

208 مشرکوں کے لیے بخشش کی دعاء مانگنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پیغمبر اور دوسرے اہل ایمان کو روا نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعاء کریں کہ مشرک اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ ان کے بخشش کی دعا کی جائے کہ شرک کا جرم دراصل بغاوت کا جرم ہے جو کہ ناقابل معافی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ صحیح بخاری ومسلم کی روایت کے مطابق جب آنحضرت ﷺ کے چچا ابوطالب کے انتقال کا وقت آن پہنچا تو آپ اپنی عظیم الشان رحمت اور شفقت کی بناء ان کے پاس تشریف لے گئے اور اس کو کلمہ توحید پڑھنے اور دین حق کے قبول کرنے کی دعوت دی تاکہ وہ دوزخ کی آگ سے بچ سکے۔ تو اس موقع پر مشرکین مکہ کے سرداروں میں سے ابوجہل اور ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 113–114

مشرکوں کے لیے دعا کی ممانعت تشریح : جیسا کہ اس سے پہلے رسول اللہ ﷺ کو منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع کیا گیا تھا اسی طرح یہاں مسلمانوں کو اور نبی اکرم ﷺ کو کفار و مشرکین اور منافقین کے لیے بخشش کی دعا کرنے سے منع کردیا گیا ہے اس آیت کا شان نزول صحیح بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ آپ ﷺ کے چچا ابوطالب آپ ﷺ کے مشفق، مہربان اور انتہائی عزیز چچا تھے مگر اسلام قبول نہ کیا جب وہ مرنے کے قریب ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے انکو کلمہ پڑھنے کے لیے بہت کہا تاکہ بخشش ہوجائے مگر ابوجہل وغیرہ نے بڑی مخالفت کی، لہٰذا وہ کلمہ پڑھے بغیر ہی فوت ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ کو اس بات کا بہت دکھ ہوا تو انہوں نے کہا کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 111–118

آیات 111 تا 118 اسرار و معارف رہے مومن تو ان کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں وہ تو اپنی جان اپنا مال بیچ چکے اور اللہ نے خرید لیا ہے ان سے اور اس کی قیمت بھی طے ہوگئی ۔ اللہ کی جنت جو اس کی رضا کا مظہر ہے ۔ مفسرین کرام کے مطابق یہ آیہ کریمہ بعیت عقبہ والے صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ کے حق میں نازل ہوئی بعیت عقبہ منٰی میں حج کے موقع پر مدینہ منورہ سے آکر ستر 70 کے قریب مردوکواتین نے اس شرط کی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اپنی جانوں اور مال واولاد سے بڑھ کر کریں گے یہ مفصل قصہ سیرت وتاریخ میں بھی تفاسیر میں بھی دسند کے ساتھ موجود ہے مگر معنی عام ہے اور ایمان کی کیفیت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 حضرت ابراہیم نے اپنے مشرک باپ سے یہ وعدہ اس وقت کیا تھا جب وہ اس سے جدا ہو کر بغرض ہجرت اپنے وطن سے نکلے تھے (دیکھیے سورة مریم آیت 47) چناچہ حسب وعدہ حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کی بھی۔ (دیکھیے شعرا آیت 42) مگر یہ اس وقت تک کی کیفیت کا ذکر ہے جب تک انہیں امید تھی کہ ان کا باپ شرک سے توبہ کر کے مسلمان ہوجائیگا آخر مایوس ہونے کے بعد برأت کا اعلان فرما دیا۔ (کبیر) اگر کوئی کافر فرشتے دار فوت ہوجائے تو مسلمان اس کی تجہیز و تکفین میں شریک تو ہوسکتا ہے مگر اس کے لئے دعائے مغفرت نہیں کرسکتا۔ (از ابن کثیر)7 یا خدا کے حضور بہت آہیں بھرنے والے اور حلیم تھے کہ اگر کوئی سختی سے پیش…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 113–114

(9:113) ما کان للنبی والذین امنوا۔ زیبا نہیں نبی کے لئے اور نہ ایمان والوں کے لئے ۔ یستغفروا۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ وہ مغفرت طلب کریں ۔ وہ معانی مانگیں۔ اولی قربی۔ ای اذی قرابۃ لہم قرابت دار۔ رشتہ داری رکھنے والے رشتہ دار۔ قربی اسم مصدر۔ رشتہ داری قرابت۔ موعدۃ۔ اسم مصدر۔ وعدہ۔ ایاہ۔ اس کو۔ اسی سے ۔ واحد مذکر غائب کی ضمیر منصوب منفصل۔ اس کا مرجع حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کا باپ ہے۔ تبرا۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ بیزار ہوا۔ اس نے بیزاری ظاہر کی ۔ تبرء سے جس کے معنی بیزار ہونے کے ہیں۔ جیسے براء ۃ من اللہ ورسولہ (9:1) اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان ہے۔ اذاۃ۔ نرم دل۔ بہت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 113–114

لغات القرآن آیت نمبر 113 تا 114 ان یستغفروا (یہ کہ وہ دعائے مغفرت کریں) اولی قربی (رشتہ دار) اصحاب الجحیم (جہنم والے) موعدۃ (وعدہ) تبین (واضح ہوگیا) تبرا (وہ بیزار ہوگیا) اواہ (رحم دل) حلیم (برداشت کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 113 تا 114 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ وہ لوگ جن کا شرک ظاہر ہے ان کے لئے کسی کو بھی دعا مغفرت نہیں کرنی چاہئے خاص طور پر نبی جس کا مقام بلند تر ہوتا ہے اس کی شان کے خلاف ہے کہ وہ اپنے مشرک والدین یا عزیزوں کے لئے دعائے مغفرت کرے۔ فرمایا کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے جو اپنے والد کے لئے دعائے مغفرت کی تھی وہ ایک وعدہ کی بنیاد پر تھی جو انہوں نے اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 113–114

مشرکوں کے لئے دعائے مغفرت کی ممانعت کا حکم شان نزول : حاصل مطلب یہ ہے کہ کئی سببوں کا مجموعہ مل کر اس آیت کی شان نزول ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اول سبب ابو طالب کی وفات ہے کہ آنحضرت ﷺ ابو طالب کے پاس گئے اور کہا کہ : ” اے چچا ! اس وقت بھی تم کلمہ منہ سے کہو گے تو مجھ کو اللہ کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کا موقع ملے گا “۔ لیکن اس وقت ابو جہل ابن امیہ بھی وہاں موجود تھا۔ اس نے ابو طالب کو بہکایا اور کہا : ” کیا آخری وقت اے ابو طالب ! تم عبدالمطلب کے طریقہ سے پھرتے ہو “۔ اس لئے آخر وقت پر ابو طالب نے یہی کیا کہ : ” میں عبد المطلب کے طریقہ پر دنیا کو چھوڑتا ہوں “۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا : ” خیر جب تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[66] ملاحظہ ہو سورة مریم آیت 47 صفحہ 706 [67] بعض مسلمانوں کو خیال ہوا کہ جب اللہ کے رسول کی دعا مقبول ہے تو کیوں نہ ہم آپ سے اپنے عزیزوں کے لئے دعائے مغفرت کی التجا کریں جو مرچکے ہیں جب کہ خود قرآن میں ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے باپ کے لئے دعائے مغفرت کی تھی۔ یہاں اسی شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 114–116

کفار کیلئے مغفرت طلبی : (ف 2) سورة برات کے ابتداء میں یہ حقیقت واضح کردی گئی ہے کہ ایمان کی طرف سے کفر وشرک کو اعلان بیزاری سنایا جاتا ہے آیندہ مسلمانوں کی دوستی یہ لوگ حاصل نہیں کرسکیں گے اس سے پیشتر کی آیت میں حضور ﷺ کو دیا گیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کوئی نفع کی امید وابستہ نہ رکھیں یہ بخشش اور رحمت کا قطعا اس نہیں رکھتے ، اس آیت میں ایک شبہ کا جواب ہے ، وہ یہ کہ جب مسلمان ہوجانے کے بعد کفر سے بالکل بےتعلق خاطر باقی نہیں رہتا ، اور مسلمان دنیائے کفر سے بالکل بےتعلق ہوجاتا ہے ، تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے کیوں دعائے مغفرت کی ۔ جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

114 اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لے بخشش طلب کرنا تو وہ محض ایک وعدے کی بنا پر تھا جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا اور فرمایا تھا ساستغفرلک ربی انہ کان بی حفیا پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ ظاہر ہوگیا کہ اس کا باپ خدا تعالیٰ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بےزار اور بےتعلق ہوگیا بلاشبہ ابراہیم (علیہ السلام) بڑا نرم دل اور متحمل مزاج تھا یعنی ایک تو وعدہ ہوچکا تھا جیسا کہ سورة مریم میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ پھر یہ کہ اس کا دوزخی ہونا ظاہر نہیں ہوا تھا۔ جب اس کا دوزخی ہونا کھل گیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے بےتعلقی کا اظہار کردیا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 113–116

ف 7۔ وجہ اس نہی کی یہ ہوئی کہ ابوطالب کی وفات کے بعد آپ نے فرمایا کہ جب تک مجھ کو ممانعت نہ ہوگی ان کے لیے استغفار کروں گا اس پر اور مسلمانوں نے بھی اپنے مشترک اموات کے لیے استغفار شروع کیا تو اس آیت میں اس کی ممانعت آئی بعض کو شبہہ ہوا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی تو اپنے باپ کے لیے استغفار فرمایا تھا اس پر اگلی آیت میں جواب نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسی وقت تک ہی دعا کرتے رہے جب تک باپ زندہ تھا : 149: اس آیت 114 نے اس شبہ کا ازالہ کردیا جو بعض طبائع کو ہوا تھا۔ فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنے باپ کے لئے مغفرت کی دعائیں کی تھیں تو وہ اس وقت تک تھیں جب تک آپ کا باپ زندہ رہا اس لئے کہ اسی وقت تک جب تک وہ زندہ رہا امید باقی تھی کہ وہ اپنی شقاوت سے باز آجائے اور کسی موڑ پر بھی وہ باز آسکتا تھا اس لئے کہ تک ان کا باپ زندہ رہا وہ مایوس نہ ہوئے اور برابر دعائیں مانگتے رہے اور یہ بات انہوں نے وہاں سے نکلتے وقت ہی باپ سے کہہ دی تھی جب وہ اس سے الگ ہوئے تھے اور وہ اپنی بات کے پکے تھے لیکن جب وہ اپنے کفر و جحود پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

This put some Muslims into doubt. Was it not, they thought, that Sayyidna Ibrahim ؓ too had prayed for his disbelieving father? To answer it, the second verse (114) was revealed: مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ‌ إِبْرَ‌اهِيمَ. In gist, it means: As for the prayer made by Sayyidna Ibrahim ؓ for his father, it was conditioned by circumstances. In the beginning, Sayyidna Ibrahim ؓ did not know that he would keep on sticking to his disbelief right through the end and would die a disbeliever. In other words, his going to Hell was not certain. That was the time when he had made the promise that he would…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–129

89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.

Read the full tafseer →