At-Tawba 9:112

At-Tawba · from ayah 112

9:112

اَلتَّآىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآىِٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ ؕ— وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۟اَلتَّاۤئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السّاۤئِحُوۡنَ الرّٰكِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَالنَّاهُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ وَالۡحٰــفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰه ِ‌ؕ وَبَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ

توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا امر کرنے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (یہی مومن لوگ ہیں) اور اے پیغمبر مومنوں کو (بہشت کی) خوش خبری سنادو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Such believers are] the repentant, the worshippers, the praisers [of Allah], the travelers [for His cause], those who bow and prostrate [in prayer], those who enjoin what is right and forbid what is wrong, and those who observe the limits [set by] Allah. And give good tidings to the believers.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 14 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:112

اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والے، اُس کے بندگی بجا لانے والے، اُس کی تعریف کے گن گانے والے، اُس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے، اُس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، بدی سے روکنے والے، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے، (اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے خرید و فروخت کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) اور اے نبیؐ ان مومنوں کو خوش خبری دے دو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا امر کرنے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے، خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (یہی مومن لوگ ہیں) اور اے پیغمبر مومنوں کو (بہشت کی) خوش خبری سنادو

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزه رکھنے والے، (یا راه حق میں سفر کرنے والے) رکوع اور سجده کرنے والے، نیک باتوں کی تعلیم کرنے والے اور بری باتوں سے باز رکھنے والے اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں اور ایسے مومنین کو آپ خوشخبری سنا دیجئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(جنہوں نے یہ کامیاب سودا کیا ہے وہ کون ہیں ؟) توبہ کرنے والے ! اللہ کی بندگی کرنے والے ! اس کی حمد کرنے والے ! روزے رکھنے والے ! رکوع میں جھکنے والے ! سجدے گزرنے والے ! نیکی کی تلقین کرنے والے، اور برائی سے روکنے والے، اور اللہ کی قائم کی ہوئی حدوں کی حفاظت کرنے والے، (اے پیغمبر) ایسے مومنوں کو خوشخبری دے دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

توبہ والے عبادت والے سراہنے والے روزے والے رکوع والے سجدہ والے بھلائی کے بتانے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدیں نگاہ رکھنے والے اور خوشی سناؤ مسلمانوں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ مومنین جنہوں نے اللہ سے اُخروی سودا کر لیا ہے) توبہ کرنے والے، عبادت گذار، (اللہ کی) حمد و ثنا کرنے والے، دنیوی لذتوں سے کنارہ کش روزہ دار، (خشوع و خضوع سے) رکوع کرنے والے، (قربِ الٰہی کی خاطر) سجود کرنے والے، نیکی کاحکم کرنے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں، اور ان اہلِ ایمان کو خوشخبری سنا دیجئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

(وہ مومن) توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے منع کرنے والے اور اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور ان مومنوں کو خوش خبری دے دے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(وہ مومن) توبہ کرنے والے ، عبادت گزار، حمد کرنے والے، روزہ دار رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کام کا حکم دینے والے برے کام سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہوتے ہیں (جو اللہ سے یہ سودا کرتے ہیں) اور ایسے مومنوں کو آپ خوشخبری دے دیجئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

توبہ کرتے رہنے والے، عبادت گزار، شکر گزار، ریاض کرنے والے، رکوع سجدہ کرتے رہنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی نگہداشت رکھنے والے اصلی مومن ہیں اور مومنوں کو خوش خبری سنا دو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

وہ توبہ کرتے رہنے والے، عبادت گزار، حمد کرنے (اور شکر بجا لانے) والے، روزہ رکھنے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والے، نیکی کی تلقین کرنے والے، اور برائی سے روکنے والے، اور حفاظت کرنے والے، اللہ کی (مقرر کردہ) حدود کی، اور خوشخبری سنا دو ایمان والوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

(وہ مجاہدین) توبہ کرتے رہنے والے ہیں عبادت کرتے رہنے والے ہیں حمد کرتے رہنے والے ہیں روز رکھنے والے ہیں رکوع کرتے رہنے والے ہیں سجدہ کرتے رہنے والے ہیں نیک باتوں کا حکم کرتے رہنے والے ہیں اور بری باتوں سے روکتے رہنے والے ہیں اور اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے ہیں اور مومنین کو خوشخبری سنا دیجیے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

توبہ کرنے والے (اللہ کی) بندگی کرنے والے (اللہ کی) حمد کرنے والے دُنیوی آسائشوں سے لاتعلق رہنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیکی کا حکم دینے والے بدی سے روکنے والے اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے۔ اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، حمد کرنے والے، روزہ رکھنے والے، رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک کاموں کا حکم دینے والے، بری باتوں سے منع کرنے والے اور اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے یہی مومن لوگ ہیں اور (اے پیغمبر ! ﷺ مؤمنوں کو بہشت کی خوشخبری سنا دو

— محترمہ رفعت اعجاز

Those who constantly turn to Allah in repentance, who constantly worship Him, who celebrate His praise, who go about the world to serve His cause, who bow down to Him, who prostrate themselves before Him, who enjoin what is good and forbid what is evil, and who keep the limits set by Allah. Announce glad tidings to such believers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(They are) those who repent, those who worship, those who praise (Allah), those who journey (in Allah‘s way), those who bow in Ruku_, those who prostrate in sajdah, those who bid the Fair and forbid the Unfair and those who preserve the limits prescribed by Allah. And give the good news to the believers.

— Muhammad Taqi Usmani

(They are) those who repent, those who worship, those who praise (Allah), those who journey (in Allah‘s way), those who bow in Ruku_, those who prostrate in sajdah, those who bid the Fair and forbid the Unfair and those who preserve the limits prescribed by Allah. And give the good news to the believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who repent, who worship (Him), who praise (Him), who fast, who bow down, who prostrate themselves, who enjoin good and forbid evil, and who observe the limits set by Allah. And give glad tidings to the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Triumphant) are those who turn repentant (to Allah), those who serve (Him), those who praise (Him), those who fast, those who bow down, those who fall prostrate (in worship), those who enjoin the right and who forbid the wrong and those who keep the limits (ordained) of Allah - And give glad tidings to believers!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Such believers are] the repentant, the worshippers, the praisers [of Allah], the travelers [for His cause], those who bow and prostrate [in prayer], those who enjoin what is right and forbid what is wrong, and those who observe the limits [set by] Allah. And give good tidings to the believers.

— Saheeh International

(The believers) who repent for their sins, worship God, praise Him, travel through the land (for pious purposes), kneel down and prostrate themselves in obedience to God, make others do good and prevent them from sins and abide by the laws of God, will receive a great reward. Let this be glad news for the believer.

— Muhammad Sarwar

They who turn (to Allah), who serve (Him), who praise (Him), who fast, who bow down, who prostrate themselves, who enjoin what is good and forbid what is evil, and who keep the limits of Allah; and give good news to the believers.

— Muhammad Habib Shakir

They are those who repent, who worship who praise, who fast constantly, woo bow down, who prostrate themselves, who command the reputable and restrain from the disreputable and who keep the ordinances of Allah; and bear thou glad tidings to the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

Those that turn (to Allah) in repentance; that serve Him, and praise Him; that wander in devotion to the cause of Allah,: that bow down and prostrate themselves in prayer; that enjoin good and forbid evil; and observe the limit set by Allah;- (These do rejoice). So proclaim the glad tidings to the Believers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:112

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مومنین کی صفات جن مومنوں کا اوپر ذکر ہوا ہے ان کی پاک اور بہترین صفتیں بیان ہو رہی ہیں کہ وہ تمام گناہوں سے توبہ کرتے رہتے ہیں، برائیوں کو چھوڑتے جاتے ہیں، اپنے رب کی عبادت پر جمے رہتے ہیں، ہر قسم کی عبادتوں میں خاص طور پر قابل ذکر چیز اللہ کی حمد و ثنا ہے اس لئے وہ اس کی حمد بکثرت ادا کرتے ہیں اور فعلی عبادتوں میں خصوصیت کے ساتھ افضل عبادت روزہ ہے اس لیے وہ اسے بھی اچھائی سے رکھتے ہیں۔ کھانے پینے کو، جماع کو ترک کردیتے ہیں۔ یہی مراد لفظ سائحون سے یہاں ہے۔ یہی وصف آنحضرت ﷺ کی بیویوں کا قرآن نے بیان فرمایا ہے اور یہی لفظ سائحات وہاں بھی ہے۔ رکوع سجود کرتے رہتے ہیں۔ یعنی نماز کے پابند ہیں۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 108 متن میں لفظ التّآ ئِبُون استعمال ہوا ہے جس کا لفظی ترجمہ ”توبہ کرنے والے“ ہے۔ لیکن جس انداز کلام میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ توبہ کرنا اہل ایمان کی مستقل صفات میں سے ہے، اس لیے اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ وہ ایک ہی مرتبہ توبہ نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ توبہ کرتے رہتے ہیں۔ اور توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے یا پلٹنے کے ہیں، لہذا اس لفظ کی حقیقی روح ظاہر کرنے کے لیے ہم نے اس کا تشریحی ترجمہ یوں کیا ہے کہ ”وہ اللہ کی طرف بار بار پلٹتے ہیں“۔ مومن اگرچہ اپنے پورے شعور و ارادہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے نفس و مال کی بیع کا معاملہ طے کرتا ہے، لیکن چونکہ ظاہر حال کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الایة، یہ صفات انہی مؤمنین کی ہیں جن کے بارے میں اوپر یہ فرمایا ہے کہ اللہ نے ان کی جان اور مال کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے۔ نزول اس کا ایک خاص جماعت شرکاء بیعت عقبہ کے لئے ہوا، مگر مفہوم آیت تمام مجاہدین فی سبیل اللہ کو شامل ہے، اور جو اوصاف ان کے التَّاۗىِٕبُوْنَ الخ سے بیان کئے گئے، یہ شرط کے طور پر نہیں، کیونکہ جنت کا وعدہ مطلقًا جہاد فی سبیل اللہ پر آیا ہے، ان اوصاف کے بیان سے مقصد یہ ہے کہ جو لوگ جنت کے اہل ہوئے ہیں ان کے ایسی اوصاف ہوا کرتے ہیں، خصوصاً بیعت عقبہ میں شریک ہونے والے صحابہ کا یہی حال تھا۔ السَّاۗىِٕحُوْنَ کے معنی جمہور مفسرین کے نزدیک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّاۗىِٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ۔ سچے اہل ایمان کی صفات : اوپر آیت 107 میں جس طرح خبر محذوف ہے اسی طرح اس آیت میں بھی محذوف ہے۔ زجاج کی رائے یہی ہے اور یہ رائے مجھے قوی معلوم ہوتی ہے۔ بعض مرتبہ زور کلام خبر کو خود ظاہر کردیتا ہے اگرچہ وہ لفظوں میں ظاہر نہیں ہوتی۔ یہاں موقع کلام یہ ظاہر کرتا ہے کہ جن کی صفات یہ یہ ہیں وہی لوگ سچے مومن ہیں، ان مومنین کو خوش خبری پہنچا دو۔ سیاحت کا مفہوم : اس آیت میں جو الفاظ آئے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

112۔ 1 یہ انہیں مومنین کی مذید صفات بیان کی جا رہی ہیں جن کی جانوں اور مالوں کا سودا اللہ نے کرلیا ہے، وہ توبہ کرنے والے، یعنی گناہوں اور فواحش سے بچتے اور اپنے رب کی عبادت کرنے والے، زبان سے اللہ کی حمد اور ثنا بیان کرنے والے اور دیگر ان صفات کے حامل ہیں جو آیت میں مذکور ہیں۔ سیاحت سے مراد اکثر مفسرین نے روزے لیے ہیں اور اسی کو ابن کثیر نے صحیح ترین اور مشہور ترین قول قرار دیا ہے۔ اور بعض نے اس سے جہاد مراد لیا ہے۔ تاہم سیاحت سے زمین کی سیاحت مراد نہیں ہے جس طرح کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے۔ اسی طرح اللہ کی عبادت کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں غاروں اور سنسان بیابانوں میں جاکر ڈیرے لگا لینا بھی اس سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

86: قرآن کریم نے یہاں جو لفظ استعمال کیا ہے وہ السائحون ہے اس لفظ کے اصل معنی تو سیاحت کرنے والے کے ہیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے اس کی تفسیر روزہ رکھنے سے فرمائی ہے اور یہی تفسیر متعدد صحابہ اور تابعین سے بھی منقول ہے (تفسیر ابن جریر) بظاہر روزے کو سیاحت اس لیے فرمایا گیا ہے کہ جس طرح سفر میں انسان کے کھانے پینے اور سونے جاگنے کے معمولات قائم نہیں رہتے، اسی طرح روزے میں بھی ان معمولات میں فرق آجاتا ہے۔ واللہ اعلم۔ 87: قرآن کریم نے بہت سے مواقع پر ”اللہ کی قائم کی ہوئی حدود“ اور ان کی حفاظت کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ بڑی معنی خیز اصطلاح ہے۔ اور اس کا پس منظر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنے احکام دئیے ہیں۔ وہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

التآئبون (شرک سے) توبہ کرنے والے یعنی وہ لوگ جنہوں نے شرک سے توبہ کرلی اور نفاق سے پاک ہوگئے۔ التائبون خبر ہے ‘ مبتداء محذوف ہے یعنی وہ توبہ کرنے والے ہیں۔ یعنی جن لوگوں نے رسول اللہ (ﷺ) سے بیعت کرلی اور تمام احکام کی تعمیل کا عہد کرلیا ‘ وہ ان تمام اوصاف کے حامل ہیں ‘ جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ التائبون مبتداء ہو اور بعد کو ذکر ہونے والے اصاف خبر ہوں یعنی حقیقت میں کفر کرنے والے اوصاف کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خبر محذوف ہو یعنی توبہ کرنے والے جنتی ہیں ‘ خواہ انہوں نے اس وقت جہاد میں شرکت نہ کی ہو مگر ان کے اندر عداوت وعناد کا جذبہ نہ ہو اور یہ ارادہ نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 بعض نے " سائحون " سے مراد روزہ دار لیے ہیں۔ کیونکہ روزہ دار کھانے پینے وغیرہ لذائذ و مرغوبات سے بےتعلق ہو کر روحانی مدارج اور ملکوتی مقامات کی سیر کرتا ہے۔ بعض کے نزدیک اس لفظ کا مصداق مہاجرین ہیں۔ جو گھر بار سے بےتعلق ہو کر " دارالسلام " میں سکونت پذیر ہوتے ہیں۔ بعض نے " مجاہدین " کا ارادہ کیا ہے کہ مجاہد اپنی جان تک سے بےتعلق ہو کر خدا کے راستہ میں قربان ہونے کے لیے نکلتا ہے۔ بعض کی رائے میں یہ لفظ طلبہ علوم کے لیے ہے جو وطن، کنبہ، راحت و آسائش وغیرہ سب کو خیر باد کہہ کر طلب علم کے لیے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ بہرحال مترجم محقق نے جو ترجمہ کیا، اس میں ان سب اقوال کی گنجائش ہے مگر اکثر سلف کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 112–113

آیت 112 اَلتَّآءِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآءِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ ’ سَاءِحُوْنَ ‘ کا معنی ہے سیاحت کرنے والے۔ لیکن اس سے مرادمحض سیر و سیاحت نہیں بلکہ عبادت و ریاضت کے لیے گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہونا ہے۔ پچھلی امتوں میں روحانی ترقی کے لیے لوگ لذات دنیوی کو ترک کر کے اور انسانی آبادیوں سے لا تعلق ہو کر جنگلوں میں چلے جاتے تھے اور رہبانیت اختیار کرلیتے تھے ‘ مگر ہمارے دین میں ایسی سیاحت اور رہبانیت کی اجازت نہیں۔ چناچہ حضور ﷺ نے فرمایا : لاَ رَہْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ وَلَا سِیَاحَۃَ 1 اسلام میں نہ رہبانیت ہے نہ سیاحت۔ سابقہ ادیان کے برعکس اسلام نے سیاحت اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

125 معاہدہ بیع میں پورا اترنے والوں کی صفات :۔ سابقہ آیات میں گزر چکا ہے کہ جو سچے مومن غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے کس طرح سچے دل سے توبہ کی۔ گویا بعض اوقات سچے مومن بھی بہ تقاضائے بشر یہ اس معاہدہ بیع کو بھول جاتے ہیں جس کی رو سے مومنوں نے اللہ سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ وہ اپنی جانوں اور اموال میں تصرف اسی کی مرضی کے تابع رہ کر کریں گے۔ اور جب بھی کوئی ایسا موقع آتا ہے تو ایسے مومنوں کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب بھی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اللہ سے ہر ایسے موقع پر توبہ و استغفار کرتے رہتے ہیں۔ 126 سائح کا لغوی مفہوم :۔ سائح کا ایک معنی روزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

208۔ (اسی جنت کی) (آیت) ” ال مومنین “۔ مراد وہی مسلمان ہیں جن میں جہاد کرنے کے ساتھ ساتھ صفات بالا بھی موجود ہوں جن پر جنت کا وعدہ ہے۔ (آیت) ” التآئبون۔۔۔ اللہ “۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مجاہدین ایسے ہیں جو علاوہ جہاد کے ان صفات کمال کے ساتھ بھی موصوف ہیں۔ یہ صفات اجر جہاد کی شرط نہیں، البتہ ان کے اجتماع پر ثواب وفضیلت میں کثرت وقوت پیدا ہوجاتی ہے۔ گویا مجاہدین کو ترغیب ہے کہ محض جہاد پر نہ بیٹھے رہیں بلکہ ان عبادات کو بھی ہمیشہ بجا لاتے رہیں۔ (آیت) ” السآئحون “۔ حدیث نبوی میں اس کی شرح الصائمون (روزہ داروں) سے آئی ہے اور صحابہ وتابعین سے بھی یہی منقول ہے۔ الصائمون عن ابن مسعود وابن عباس وغیرھما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 111–118

آیت نمبر 111 تا 118 ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کا جنت کے بدلے سودا کرلیا ہے اس طریقہ پر کہ وہ ان کو اس کی اطاعت میں مثلاً جہاد میں خرچ کریں وہ اللہ کے راستہ میں قتال کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں (یُقاتلُ ) بیان شراء کے لئے جملہ مستانفہ ہے، اور ایک قراءت میں یُقْتَلُونَ (مجہول) مقدم ہے (اور یُقَاتلُ ) معروف مؤخر ہے، یعنی ان میں سے بعض قتل کئے جاتے ہیں اور باقی قتال کرتے ہیں، ان سے اللہ کی جانب سے (جنت) کا تورات اور انجیل اور قرآن میں پختہ وعدہ ہے (وعدًا اور حَقًّا) دونوں اپنے فعل محذوف کی وجہ سے مصدر منصوب ہیں، اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

التآئبون (شرک سے) توبہ کرنے والے یعنی وہ لوگ جنہوں نے شرک سے توبہ کرلی اور نفاق سے پاک ہوگئے۔ التائبون خبر ہے ‘ مبتداء محذوف ہے یعنی وہ توبہ کرنے والے ہیں۔ یعنی جن لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرلی اور تمام احکام کی تعمیل کا عہد کرلیا ‘ وہ ان تمام اوصاف کے حامل ہیں ‘ جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ التائبون مبتداء ہو اور بعد کو ذکر ہونے والے اصاف خبر ہوں یعنی حقیقت میں کفر کرنے والے اوصاف کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خبر محذوف ہو یعنی توبہ کرنے والے جنتی ہیں ‘ خواہ انہوں نے اس وقت جہاد میں شرکت نہ کی ہو مگر ان کے اندر عداوت وعناد کا جذبہ نہ ہو اور یہ ارادہ نہ ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(112) اب اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کی صفات کو بیان فرماتے ہیں کہ وہ ان اوصاف کمال کے ساتھ بھی موصوف ہیں۔ کہ گناہوں سے توبہ کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے اور اس کی حمد وثناء بیان کرنے والے اور روزہ رکھنے والے اور پانچوں نمازوں میں رکوع و سجدہ کرنے والے اور توحید و احسان کا حکم کرنے والے اور کفر اور ان باتوں سے جن کا شریعت اور سنت میں کہیں ذکر نہیں باز رہنے والے اور فرائض خداوندی کو قائم کرنے والے ہیں آپ ایسے مسلمانوں کو جنت کی خوشخبری سنا دیجیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سچے مجاہد مومنوں کی نو صفات بیان فرمائی ہیں۔ پہلی چھ صفات میں صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے، ساتویں اور آٹھویں صفت کا تعلق مخلوق سے ہے اور آخری کا تعلق دونوں سے ہے۔ اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ : اپنے گناہوں پر نادم ہو کر ان کو چھوڑنے کا عزم کرکے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے والے، کیونکہ توبہ ان تینوں کے جمع ہونے سے مکمل ہوتی ہے۔ میدان قتال میں توبہ و استغفار سے زیادہ کوئی چیز مفید نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے نبیوں کے ہمراہ قتال کرنے والوں کی دعا ذکر فرمائی : (وَمَا كَانَ قَوْلَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِيْٓ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 112۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” التآئبون العبدون، التآئبون “۔ سے مراد وہ ہیں (2) (احکام القرآن، جلد 2، صفحہ 1020) جو اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی میں حالت مذموم سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری میں حالت محمودہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں اور التائب سے مراد رجوع کرنے والا (3) (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 408) اور لوٹنے والا ہے اور اطاعت کی طرف رجوع کرنے والا (فقط) معصیت سے رجوع کرنے والے سے فضل واعلیٰ ہے کیونکہ وہ دونوں امروں کو جمع کیے ہوتا ہے (یعنی معصیت سے پھر کر اطاعت کی طرف رجوع کرنا) (آیت) ” العبدون “ یعنی وہ اطاعت کرنے والے جنہوں نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

شہداء کرام کی خاص خصلتیں : 1:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص ان صفات پر مرا (یعنی ان نوکاموں کو کرتے ہوئے مرا تو وہ (گویا) اللہ کے راستے میں (مرا) ہے (یہ نوکام اس آیت میں ہیں) (آیت) ” التآئبون العبدون “ آیت کے آخرتک۔ 2:۔ ابن منذر ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شہید وہ ہے جس میں یہ نو خصلتیں ہو۔ (آیت) ” التآئبون العبدون “ سے لے کر ” وبشرالمومنین “ تک۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” التآئبون “ یعنی جنہوں نے توبہ کی شرک سے اور نفاق سے بری ہونے کا اظہار کیا اور وہ ” العبدون “ یعنی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ [ توبہ کرنے والے ] الْعٰبِدُوْنَ [ بندگی کرنے والے ] الْحٰمِدُوْنَ [حمد کرنے والے ] السَّاۗىِٕحُوْنَ [ روزہ رکھنے والے ] الرّٰكِعُوْنَ [ رکوع کرنے والے ] السّٰجِدُوْنَ [ سجدہ کرنے والے ] الْاٰمِرُوْنَ [ترغیب دینے والے ] بِالْمَعْرُوْفِ [ بھلائی کی ] وَالنَّاهُوْنَ [ اور منع کرنے والے ] عَنِ الْمُنْكَرِ [برائی سے ] وَالْحٰفِظُوْنَ [ اور حفاظت کرنے والے ] لِحُدُوْدِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی حدود کی ] وَبَشِّرِ [ اور آپ بشارت دیجیے ] الْمُؤْمِنِيْنَ [مومنون کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مومنین کی صفات : اس کے بعد مومنین کی صفات بتائیں اور یہ نو صفات ہیں۔ (اَلتَّآءِبُوْنَ ) (توبہ کرنے والے) (الْعٰبِدُوْنَ ) (عبادت کرنے والے) (الْحٰمِدُوْنَ ) (حمد بیان کرنے والے) (السَّآءِحُوْنَ ) (روزہ رکھنے والے) (الرّٰکِعُوْنَ ) (رکوع کرنے والے) (السّٰجِدُوْنَ ) (سجدہ کرنے والے) (الْاٰمِرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ ) (بھلائیوں کا حکم دینے والے) (وَ النَّاھُوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ) (اور برائیوں سے روکنے والے) (وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰہِ ) (اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے) ۔ آخر میں فرمایا (وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (اور ایمان والوں کو بشارت دے دو ) ۔ اَلتَّآءِبُوْنَ کی ترکیب نحوی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 111–112

فضائل مجاہدین وبشارت مومنین کاملین وترغیب بر تجارت آخر قال اللہ تعالیٰ ۔ ان اللہ اشتری من ال مومنین انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وبسر ال مومن ین۔ (ربط): اوپر کی آیتوں میں ان منافقین کے فضائح اور قبائح کا بیان تھا۔ جنہوں نے جہاد سے کنارہ کشی کی تھی۔ اب ان آیات میں مجاہدین کے فضائل اور ان کی صافت فاضلہ کو بیان کرتے ہیں۔ جنہوں نے راہ خداوندی میں اپنی جانبازی اور سرفروشی کے جوہر دکھائے جس سے مقصود جہاد کی ترغیب دینا ہے اور یہ بتلانا ہے کہ تم نے منافقین کا حال سن لیا۔ اور اس کے بعد مومنین مقصرین کا بھی حال معلوم کرلیا جن کی توبہ قبول ہوئی اب سنو کہ مومنین صادقین اور محبین مخلصین کیسے ہوتے ہیں ان کی صفات یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 111–112

107:“ اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي الخ ” یہاں سے لے کر “ وَ بَشِّرِ الْمُوْمِنیْنَ ” تک اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنیوالوں، اللہ کے احکام و حدود کی پابندی کرنے والوں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بجا لانیوالوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات : گذشتہ دوروس میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی حکمت بیان فرمائی اور مجاہدین کا ذکر فرمایا کہ اللہ نے ان کے مال اور جانیں جنت کے عوض میں خرید لی ہیں۔ یہ ایمان والے لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ، کبھی دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور کبھی خود شہید ہوجاتے ہیں۔ فرمایا اہل ایمان کو خوش ہونا چاہیے کہ اللہ نے ان کی حقیر جانوں اور مال کے بدلے میں انہیں ابدی اور لازوال نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ یہ بڑی کامیابی ہے جس کے مقدر میں ہوجائے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی سات صفات بیان فرمائی ہیں۔ (1) توبہ کرنے والے : مومن مجاہدین کی پہلی صفت یہ بنیان فرمائی ہے (آیت) ” التائبون “ کہ وہ توبہ کرنے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلتَّاۗىِٕبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّاۗىِٕحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاہُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللہِ۝ 0 ۭ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 112 توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 112–114

ترکیب : بان الباء ھنا للمقابلۃ وعدا مصدر ای وعدھم بذلک وعدًا حقًا اس کی صفت فی التورتہ الخ ثابت کے متعلق ہو کر صفت ثالث التائبون خبر ہے مبتداء محذوف کی اے وھم التائبون ویجوز ان یکون مبتداء والخبر الآمرون ومابعدہ وھو ضفیف۔ تفسیر : جبکہ جہاد سے کنارہ کشی کرنے کی وجہ سے منافقین کے قبائح اور فضائح اور ان کی اقسام اور ہر قسم کی لائق سزا دنیا و آخرت میں واقع ہونے والی بیان فرما چکا تو فضائلِ جہاد اور اس کی حقیقت کی طرف پھر رجوع کرتا ہے۔ پس فرماتا ہے ان اللّٰہ اشتری الخ محمد بن کعب قرطبی کہتے ہیں کہ مکہ میں لیلتہ العقبۃ میں ستر انصار نے آنحضرت ﷺ سے بیعت کی۔ تب عبداللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا کہ اپنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰکِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَالنَّاھُونَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَالْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِاللّٰہِ ط وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ (التوبہ : 112) (اللہ کی طرف باربار پلٹنے والے عبادت گزار، اس کی تعریف کے گن گانے والے، ریاض کرنے والے، رکوع اور سجدہ کرتے رہنے والے، نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ( اصلی مومن ہیں) اور ان مو منوں کو خوش خبری دے دو ۔ ) سچے اہل ایمان کی صفات سابقہ آیت کریمہ میں ایمان کی اصل حقیقت بیان کرتے ہوئے یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ انسان اپنے جسم و…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : مجاہد صرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں لڑنے مرنے والے ہی نہیں ہوتے بلکہ وہ ان اوصاف حمیدہ کے حامل بھی ہوتے ہیں۔ یہاں مجاہدوں اور مومنوں کی نو صفات کا ذکر کیا گیا ہے جن میں پہلی اور بنیادی صفت کفرو شرک اور گناہوں سے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنا ہے۔ 1۔ اَلتَّآءِبُوْنَ : توبہ کرنے والے کافر اور مشرک کے لیے پہلا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے کفرو شرک سے سچی توبہ کرے اور حلقہ اسلام میں داخل ہوجائے۔ اسلام میں توبہ کا مرتبہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص اللہ کے حضور سچی توبہ کرتا ہے تو اس کے سابقہ گناہوں کو بیک جنبش قلم معاف کردیا جاتا ہے وہ اپنے رب کے ہاں اس طرح ہوجاتا ہے جیسا کہ اس نے گناہ کیا ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

۔ پس ان کو صرف اسی کے بدلے میں فروخت کرو۔ آیت 112: اَلتَّآپبُوْنَ (وہ ایسے ہیں جو توبہ کرنے والے ہیں) نمبر 1۔ یہ مدح کی بناء پر مرفوع ہے ای ھم التائبون یعنی یہ مذکور مومنین ہی تائب ہیں یا۔ نمبر 2۔ یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر العابدون ہے۔ الْعٰبِدُوْنَ (عبادت کرنے والے) وہ لوگ جو فقط اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرنے والے ہیں اور عبادت اسی کے لئے خالص کرنے والے ہیں اس کا مابعد خبر کے بعد خبر ہے۔ یعنی التائبون من الکفر علی الحقیقۃ الجامعون لھٰذہ الخصال۔ کہ حقیقۃً کفر سے توبہ کرنے والے وہ ان خصال کے جامع ہیں۔ حضرت حسن (رح) سے مروی ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے شرک سے توبہ کی۔ اور نفاق سے براءت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

سودا کرنے والے مومنین کی صفات تفسیر 112:” التآئبون “ فراء فرماتے ہیں رفع کے ساتھ نئی کلام شروع کی گئی ہے پہلی آیت کے مکمل اور کلام کے ختم ہونے کی وجہ سے۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ” التائبنون “ مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اس کی خبر محذوف ہے۔ یعنی توبہ کرنے والے جنتی ہیں خواہ انہوں نے جہاد میں شرکت نہ کی ہو مگر ان کے اندر عداوت وعناد کا جذبہ نہ ہو اور یہ ارادہ نہ ہو کہ جب اللہ جہاد کی طاقت دے گا تب بھی جہاد نہیں کریں گے تو جس کی یہ صفت ہوگی تو اس کے لیے بھی جنت ہے اور یہ معنی اچھا ہے تو گویا کہ اللہ تعالیٰ نے تما م مئومنین کے لیے جنت کا وعدہ کیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے (وکلا و عداللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

112۔ یہ نو صفتیں بیان کی گئی ہیں جس میں یہ صفتیں ہوں گی اس کے واسطے خدا جنت مقرر کرچکا اور فرمایا کہ مومنو کو اس کی خوشی سنا دو کیونکہ مومن وہی ہے جس میں یہ سب خوبیاں ہوں سائحون اصل میں تو اس شخص کو کہتے ہیں جو دنیا سے بےتعلق ہو کر پہاڑوں اور جنگلوں میں خدا کی عبادت کرتا ہو مگر یہاں روزے دار مراد ہیں کیونکہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن مجید میں جہاد کہیں سیاحت کا لفظ آیا ہے اس سے روزہ رکھنا مراد ہے۔ حضرت عائشہ ؓ وحضرت ابوہریرہ ؓ اور اکثر صحابہ بھی یہی بیان کرتے ہیں 1 ؎ مگر بعضوں نے جہاد کے معنے بھی بیان کئے ہیں چناچہ ابوداؤد میں ابوامامہ ؓ سے روایت ہی کہ ایک شخص نے حضرت رسول خدا ﷺ سے سیاحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت : (112) گویا کہ سوال کیا گیا ہے کہ وہ مومن کون ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت میں داخلے اور اس کی طرف سے عزت و اکرام کی خوشخبری ہے ؟ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (التایبون) ” توبہ کرنے والے “ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو ہر وقت تمام گناہوں سے توبہ کا التزام کرنے والے ہیں (العبدون) ” عبادت کرنے والے “ جو اللہ تعالیٰ کے لئے عبودیت کی صفت سے متصف ہیں ‘ ہر وقت واجبات و مستحبات کی ادائیگی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی دائمی اطاعت کا التزام کرتے ہیں۔ جس کی بنا پر بندہ عبادت گزاروں میں شمار ہوتا ہے۔ (الحمدون) ” حمد کرنے والے “ جو رنج و راحت ‘ تنگ دستی اور خوشحالی میں اللہ تعالیٰ کی حمد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 112–116

قول باری ہے والحافظون لحدود اللہ اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے اللہ کی اطاعت کرنے ، اس کے اوامر پر ڈٹے رہنے اور اس کے نواہی سے رکے رہنے کے وصف کو مبالغہ کے طور پر بیان کرنے کا یہ سب سے بلیغ اور بھر پور انداز ہے ، وہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوامر ، اپنے نواہی ، اپنی ترغیبات کو مستحبات یا اباحات کے حدود مقرر کردیے ہیں ۔ اسی طرح بندوں کو بعض احکامات کے اندر دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کرلینے نیز غیر اولیٰ کو چھوڑ کر اولیٰ پر عمل کرنے کی گنجائش ملی ہیں تا کہ اس کے ذریعہ اللہ کے حکم کی موافقت کی حتیٰ الامکان جستجو ہوجائے۔ یہ تمام باتیں حدود اللہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

206 (سائحون) کا معنی اور اس سے مراد ؟ : یعنی اس سے مراد روزے دار ہیں اور یہ قول حضرت ابن عباس ؓ اور ابن مسعود ؓ وغیرہ کا ہے۔ اور اس کی بنیاد یہ ہے کہ روزہ دار بھی اسی طرح طعام و شراب وغیرہ سے رکتا اور مشقت اٹھاتا ہے جس طرح کہ سیاح اور مسافر۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ سے بھی ایک ارشاد میں وارد ہے کہ میری امت کی سیروسیاحت روزہ ہے " سیاحۃ امتی الصوم " جب کہ بعض حضرات نے اس سے مجاہد مراد لیے ہیں اور بعض نے طلبہ علم (الجامع، الکبیر، المحاسن، المراغی، وغیرہ) لیکن لفظ کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ لہذایہ سب ہی مرادلئے جاسکتے ہیں اور یہ سب ہی مقصود اور مہتمم بالشان ہیں اور ان سب میں قدرمشترک مشقت و ریاضت کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 111–112

مؤمنوں کے اوصاف اور ان کو خوشخبری تشریح : جب ہم ان آیات کو پڑھتے ہیں تو ہمارے سامنے ایک ایسے مسلمان کی تصویر آجاتی ہے جو ناقابل تسخیر ہے کیونکہ اس نے اپنا سب کچھ رب العالمین کے سپرد کر رکھا ہے۔ اس کی زندگی، موت، اٹھنا، بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، چلنا پھرنا سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے وقف ہوچکا ہے۔ اس لیے وہ قرآن کو اپنی زندگی بنا لیتا ہے۔ دنیا کی تمام آسائشیں اس کو ایک پل کے لیے بھی اللہ، رسول اور قرآن سے دور نہیں کرسکتیں وہ دنیا و دین دونوں کو ساتھ ساتھ لیکرچلتا ہے اسی لیے اس کو مرنے کے بعد جنت کی خوشخبری دی گئی ہے اور دنیا میں وہ ہر قسم کے غم و فکر اور الجھن سے دور رہتا ہے کیونکہ وہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 111–118

آیات 111 تا 118 اسرار و معارف رہے مومن تو ان کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں وہ تو اپنی جان اپنا مال بیچ چکے اور اللہ نے خرید لیا ہے ان سے اور اس کی قیمت بھی طے ہوگئی ۔ اللہ کی جنت جو اس کی رضا کا مظہر ہے ۔ مفسرین کرام کے مطابق یہ آیہ کریمہ بعیت عقبہ والے صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ کے حق میں نازل ہوئی بعیت عقبہ منٰی میں حج کے موقع پر مدینہ منورہ سے آکر ستر 70 کے قریب مردوکواتین نے اس شرط کی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اپنی جانوں اور مال واولاد سے بڑھ کر کریں گے یہ مفصل قصہ سیرت وتاریخ میں بھی تفاسیر میں بھی دسند کے ساتھ موجود ہے مگر معنی عام ہے اور ایمان کی کیفیت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 اس کے لفظی معنی گھومنے اور سیاحت کرنے والوں کے ہیں۔ اکثر صحابہ اور مفسرین نے اس سے ” روزہ رکھنے والے “ مراد لئے ہیں۔ بعض نے مجاہدین یا وہ طالب علم بھی مراد لئے ہیں جو دینی علم کی طلب میں شہر بشیر سفر کریں۔ (کبیر) شاہ صاحب فرماتے ہیں، بےتعلق رہنا روزہ ہے یا ہجرت یا دل نہ لگانا دنیا کے مرہون میں۔ (کذافی الموضح) 4 ” حکم شرعی کے بغیر کوئی کام نہ کریں۔ “ یعنی اس کی موکدہ شریعت کی ہرحال میں پابندی کرنے والے مطلب یہ ہے کہ صرف دوسروں ہی کو نصیحت نہیں کرتے بلکہ خود بھی عمل کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:112) التائبون۔ العابدون۔ الحامدون۔ السائحون۔ الراکعون۔ الساجدون۔ الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر۔ والحافظون لحدود اللہ۔ اب اسم صفت کے صیغے ہیں اور مؤمنین کی صفت ہیں۔ التائبون سے لے کر الناھون تک متعدد صفات کا ذکر آیا ہے لیکن ان میں حرف عطف استعمال نہیں ہوا۔ لیکن والناھون سے پہلے حرف عطف لایا گیا ہے۔ مفسرین نے اس کے متعدد جواب دیئے ہیں :۔ (1) ایسے مواقع پر حرف عطف کا ذکر کرنا اور نہ کرنا دونوں صحیح ہیں۔ اس لئے یہاں مزید کسی توجیہ کی ضرورت نہیں۔ (2) الناھون کا الامرون پر عطف ہے کیونکہ یہ دونوں مل کر ایک مکمل صفت بنتے ہیں۔ (3) علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ قریش کی لغت یہ ہے کہ سات کے عدد تک…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن آیت نمبر 112 التائبون (توبہ کرنے والے) العبدون (عبادت کرنے والے) الحمدون (حمد کرنے والے) السائحون (سیاحت کرنے اولے، مسافروں کی زندگی گذارنے والے الامرون (حکم دینے والے) الناھون (منع کرنے والے) الحفظون (حفاظت کرنے والے) لحدود اللہ (اللہ کی حدوں کے لئے ) بشر (خوش خبری دے دیجیے) تشریح :- آیت نمبر 112 اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی صفتیں بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ نے ان کی جان و مال کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا ہے۔ ان ہی اہل ایمان کی یہ بھی صفتیں بیان کی جا رہی ہیں کہ وہ توبہ کرتے رہتے ہیں عبادت میں لذت محسوس کرتے ہیں ان کی زبانوں پر ہر وقت اللہ کی حمد وثناء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں نو صفتیں بیان کی ہیں جس میں یہ صفتیں ہوں گی اس کے واسطے خدا جنت مقرر کرچکا اور فرمایا کہ مومنوں کو اس کی خوشخبری سنا دو کیونکہ مومن وہی ہے جس میں یہ سب خوبیاں ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 112–113

[64] جیسے مجاہد، حاجی، طالب العلم وغیرہ۔ [65] یعنی حدود شرعی سے تجاوز نہ کرنے والے۔ قرآن تمام واجبات و حقوق کو خواہ افراد کی زندگی سے تعلق رکھتے ہوں خواہ جماعت سے حدود اللہ سے تعبیر کرتا ہے۔ ان حدود کے ٹوٹنے سے انسانی امن وسعادت کا ٹوٹ جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 112–113

(ف 1) اس آیت میں مسلمان کی سات صفتیں گنائی ہیں جن کی وجہ سے وہ بشارت و خوشخبری کا مستحق قرار پاتا ہے ، اس کو خدا سے عشق ہوتا ہے اور وہ ہر وقت اس کے گیت گاتا ہے ، سعی جہاد میں کے گوشہ گوشہ تک پہنچتا ہے ، عابد اور زاہد ہوتا ہے ، گناہوں اور لغزشوں پر نادم ہوتا ہے ، نیکی سے محبت کرتا ہے ، اور برائی سے نفرت ، خدا کی حدود ہر آن نگاہ رکھتا ہے ۔ آج کل کے رسمی مسلمان ، اپنی مذہبی زندگی کا جائزہ لیں کیا ان میں توبہ و عبادت کا جذبہ موجود ہے ، کیا وہ حمد و ستائش کے عادی ہیں ، ان کے ہونٹ کبھی خدا کی تعریف میں ہلتے ہیں ، یا ان کے پاؤں جہاد و ہجرت کے لئے کبھی حرکت میں آئے ہیں ، کیا برائیوں سے (نہیں نفرت ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

112 ان مسلمانوں سے بھی جنت کا وعدہ ہے جو توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے شکر بجالانے والے روزے رکھنے والے اور اچھی باتوں کی تعلیم دینے والے اور برے کاموں سے منع کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کی مقررہ حدود کی نگہداشت کرنے والے ہیں اور آپ ایسے مسلمانوں کو خوش خبری سنا دیجئے۔ جس طرح مجاہدین کے لئے جنت کا معاملہ فرمایا اسی طرح وہ حضرات جو ان صفات سے متصف ہوں ان کیلئے بھی جنت کا وعدہ اور جنت کی بشارت ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ التائبوں سے لے کر آخر تک مجاہدین کی صفات ہوں اور مطلب یہ ہو کہ مجاہدین صرف جہاد ہی نہیں کرتے بلکہ ان میں یہ اوصاف بھی ہوتے ہیں۔ سائحون کا ترجمہ شاہ صاحب نے بےتعلق رہنے والے کیا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 6۔ ان صفات کی قید لگانے کا یہ مطلب نہیں کہ بدون ان صفات کے جہاد کا ثواب نہیں ملتا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان سب کے اجتماع پر ثواب اور فضیلت میں اور کثرت اور قوت ہوجاتی ہے۔ تاکہ نرے جہاد پر نہ بیٹھ جاویں بلکہ ان عبادات کو بھی ہمیشہ بجالائیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مومنوں کے مختلف اوصاف بیان فرما کر ان کی پہچان آسان کردی : 147: یہ صفات جو اس آیت میں بیان ہوئیں کن لوگوں کی ہیں ؟ اگرچہ یہاں خبر واضح نہیں کی گئی لیکن کیوں واضح نہیں ؟ محض اس لئے کہ زور کلام خود ظاہر کر رہا ہے کہ یہ ان ہی لوگوں کے اوصاف ہیں جو فی الحقیقت سچے مومن ہیں اور انہیں کو خوشخبری پہنچائی جا رہی ہے اور وہی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کی جانوں اور مالوں کا سودا چکایا ہے۔ اس جگہ ان کی سات صفات بیان کی گئی ہے اور ان کے مدارج کا بیان ہے جس کو اختصار کے ساتھ اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے : 1۔ ” اَلتَّآىِٕبُوْنَ “ یعنی وہ لوگ جو اپنی توبہ میں سچے اور پکے ہوتے ہیں۔ بار بار توبہ کرتے اور توڑتے ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The last verse (112) which begins with the words: التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ " (They are) those who repent, those who worship...) describes the attributes of the same believers about whom it was said earlier that Allah has bought their lives and their wealth from the believers, against which Paradise shall be for them. Though, the verse was revealed as relating to a particular group of participants in the Bai'atu al-'Aqabah, but the sense of the verse covers all mujahidin in the way of Allah. As for the list of their attributes which opens with: التَّائِبُونَ (those who repent), they are not…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–129

89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.

Read the full tafseer →