مجاہدین کے لئے استثنائی انعامات
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن بندے جب راہ حق میں اپنے مال اور اپنی جانیں دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم سے انہیں جنت عطا فرمائے گا۔ بندہ اپنی چیز جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہی ہے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کی اطاعت گذاری سے مالک الملک خوش ہو کر اس پر اپنا اور فضل کرتا ہے سبحان اللہ کتنی زبردست اور گراں قیمت پروردگار کیسی حقیر چیز پر دیتا ہے۔ دراصل ہر مسلمان اللہ سے یہ سودا کرچکا ہے۔ اسے اختیار ہے کہ وہ اسے پورا کرے یا یونہی اپنی گردن میں لٹکائے ہوئے دنیا سے اٹھ جائے۔ اسی لئے مجاہدین جب جہاد کے لئے جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 106
یہاں ایمان کے اس معاملے کو جو خدا اور بندے کے درمیان طے ہوتا ہے، بیع سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایمان محض ایک مابعد الطبعیاتی عقیدہ نہیں ہے بلکہ فی الواقع وہ ایک معاہدہ ہے جس کی رو سے بندہ اپنا نفس اور اپنا مال خدا کے ہاتھ فروخت کردیتا ہے اور اس کے معاوضہ میں خدا کی طرف سے اس وعدے کو قبول کرلیتا ہے کہ مرنے کے بعد دوسری زندگی میں وہ اسے جنت عطا کرے گا۔ اس اہم مضمون کے تضمنات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اس بیع کی حقیقیت کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جائے۔
جہاں تک اصل حقیقت کا تعلق ہے، اس کے لحاظ سے تو انسان کی جان و مال کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے،…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی (اور خدا کے ہاتھ مال و جان بیچنے کا مطلب یہ ہے کہ) وہ لوگ اللہ کی راہ میں (یعنی جہاد میں) لڑتے ہیں جس میں (کبھی) قتل کرتے ہیں اور (کبھی) قتل کئے جاتے ہیں (یعنی وہ بیع جہاد کرنا ہے خواہ اس میں قاتل ہونے کی نوبت آئے یا مقتول ہونے کی) اس (قتال) پر (ان سے جنت کا) سچا وعدہ کیا گیا ہے توریت میں (بھی) اور انجیل میں (بھی) اور قرآن میں (بھی) اور (یہ مسلم ہے کہ) اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو کون پورا کرنے والا ہے (اور اس نے اس بیع پر وعدہ جنت کا کیا ہے) تو (اس حالت میں) تم لوگ…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّةَ ۭ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ ۣ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ وَمَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْـتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِهٖ ۭ وَذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۔
نبی کے ہاتھ پر بیعت کے مقتضیات : اب یہ حقیقت واضح کی جا رہی ہے اس بیعت کی جو نبی کے ہاتھ پر کی جاتی ہے اور جس میں ہر مسلمان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کر کے شامل ہوتا ہے۔ اس حقیقت کے اظہار سے یہاں مقصود اس بیعت…
Read the full tafseer →111۔ 1 یہ اللہ کے ایک خاص فضل و کرم کا بیان ہے کہ اس نے مومنوں کو، ان کی جان و مال کے عوض، جو انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیے، جنت عطا فرما دی، جب کہ یہ جان و مال بھی اسی کا عطیہ ہے۔ پھر قیمت اور معاوضہ بھی جو عطا کیا یعنی جنت وہ نہایت ہی بیش قیمت ہے۔
111۔ 2 یہ اسی سودے کی تاکید ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچا وعدہ پچھلی کتابوں میں بھی اور قرآن میں بھی کیا ہے۔ اور اللہ سے زیادہ عہد کو پورا کرنے والا کون ہوسکتا ہے۔
111۔ 3 یہ مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے لیکن یہ خوشی اسی وقت منائی جاسکتی ہے جب مسلمان کو بھی یہ سودا منظور ہو۔ یعنی اللہ کی راہ میں جان و مال کی قربانی سے انہیں دریغ نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
85: جو عمارت ان منافقین نے بنائی تھی، اس کے لیے آیت 107 میں تو یہ بتانا مقصود تھا کہ یہ عمارت انہوں نے مسجد کے نام پر بنائی تھی اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ مسجد ہے، اس لیے وہاں اس عمارت کے واسطے مسجد کا لفظ استعمال کیا گیا تھا، لیکن اس آیت میں اس کی حقیقت بتائی گئی ہے، اس لیے یہاں اللہ تعالیٰ نے اسے عمارت کہا ہے، مسجد نہیں کہا، کیونکہ حقیقت میں وہ مسجد تھی ہی نہیں۔ بنانے والے حقیقت میں کافر تھے۔ اور بنانے کا مقصد اسلام دشمنی تھی۔ اسی لیے اسے جلایا گیا۔ ورنہ اگر کوئی مسلمان مسجد بنائے تو اسے جلانا جائز نہیں ہے۔ اور اس آیت میں جو فرمایا گیا ہے کہ یہ عمارت ان منافقوں کے دل میں برابر شک پیدا…
Read the full tafseer →ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ بلاشبہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال (اس وعدہ پر) خرید لئے ہیں کہ ان کیلئے (اس کے عوض) جنت ہے۔ جان و مال خرچ کرنے کے عوض عطائے جنت کو اللہ نے خرید وفروخت قرار دیا۔ اہل سیر نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اللہ (ﷺ) کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ مارا ‘ وہ براء بن معرور یا ابوالہثیم یا اسعد تھے اور یہ شرط کی کہ جس (مصیبت) سے وہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے ‘ اس سے رسول اللہ (ﷺ) کی بھی حفاظت کریں گے اور ہر گورے کالے (یعنی تمام انسانوں) کے مقابل آپ کی حمایت کریں گے۔ سب سے پہلے قتال و جہاد کے بارے میں یہی آیت نازل ہوئی ‘ اس کے بعد…
Read the full tafseer →1 اس سے زیادہ سودمند تجارت اور عظیم الشان کامیابی کیا ہوگی کہ ہماری حقیر سی جانوں اور فانی اموال کا خداوند قدوس خریدار بنا۔ ہماری جان و مال جو فی الحقیقت اسی کی مملوک و مخلوق ہے محض ادنیٰ ملابست سے ہماری طرف نسبت کر کے " مبیع " قرار دیا جو " عقد بیع " میں مقصود بالذات ہوتی ہے۔ اور جنت جیسے اعلیٰ ترین مقام کو اس کا " ثمن " بتلایا جو مبیع تک پہنچنے کا وسیلہ ہے۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ " جنت " میں وہ نعمتیں ہوں گی جن کو نہ آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی بشر کے قلب پر ان کی کیفیات کا خطور ہوا اب خیال کرو کہ جان و مال جو برائے نام ہمارے کہلاتے ہیں، انہیں جنت کا ثمن نہیں بنایا…
Read the full tafseer →آیت 111 اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط
یہ دو طرفہ سودا ہے جو ایک صاحب ایمان بندے کا اپنے رب کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ بندہ اپنے جان و مال بیچتا ہے اور اللہ اس کے جان و مال کو جنت کے عوض خرید لیتا ہے۔
یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ قف
جیسے جنگ بدر میں مسلمانوں نے ستر کافروں کو جہنم رسید کیا ‘ اور میدان احد میں ستر اہل ایمان شہید ہوگئے۔
وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰٹۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ ط
یہاں بین السطور میں دراصل یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ سودا اگرچہ ادھار کا سودا ہے مگر…
Read the full tafseer →124 جان ومال فروخت کرنے کا مفہوم :۔ اس کا ایک مفہوم تو ترجمہ سے ہی واضح ہوجاتا ہے یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال سے جہاد کرتے ہیں پھر خواہ وہ شہید ہوجائیں یا بچ کر آجائیں بہرصورت ان کو جنت ضرور ملے گی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ حقیقت میں تو ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہی ہے اور مومنوں کی جانوں اور اموال کا بھی ہے لیکن اس نے یہ چیزیں بطور امانت دے رکھی ہیں اور ان میں تصرف کا اختیار بھی انسان کو دے رکھا ہے۔ اسی اختیار سے دستبردار ہوجانے اور اس اختیار کو اللہ کی رضا کے تابع بنا دینے کی قیمت یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت عطا کرے گا اور چونکہ یہ قیمت یعنی جنت نقد بہ نقد نہیں ملتی بلکہ ادھار…
Read the full tafseer →205۔ (اور وہ معاملہ بیع دونوں صورتوں میں قائم رہتا ہے) اصل معاملہ بیع صرف اس قدر ہے کہ مومنین اپنے جان ومال کو بلاشرط قید وحجت کے اللہ کے حضور میں نذر کررہے ہیں اور ادھر سے اس نذرانہ کے عوض میں جنت مل رہی ہے۔ یخبر تعالیٰ انہ عاوض من عبادہ المومنین عن انفسھم واموالھم اذ بذلوھا فی سبیلہ بالجنۃ (ابن کثیر) جہاد قتال اسی اصل کی ایک اہم فرع ہے۔ (آیت) ” اشتری “۔ لفظ اشتراء کا اس موقع پر استعمال غایت شفقت وکرم ہی سے ہے ورنہ کسی بندہ کی جان اور مال اس کی اپنی ملک ہے کب ؟ یہ ملک تو تماتر اللہ ہی کی ہے اور وہ جو چاہے بلا کسی معاوضہ یا انعام کا سوال درمیان لائے حکم دے دے، اپنی ہی ملک کو دوسرے سے ” خرید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–118
آیت نمبر 111 تا 118
ترجمہ : حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنین سے ان کی جانوں اور مالوں کا جنت کے بدلے سودا کرلیا ہے اس طریقہ پر کہ وہ ان کو اس کی اطاعت میں مثلاً جہاد میں خرچ کریں وہ اللہ کے راستہ میں قتال کرتے ہیں مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں (یُقاتلُ ) بیان شراء کے لئے جملہ مستانفہ ہے، اور ایک قراءت میں یُقْتَلُونَ (مجہول) مقدم ہے (اور یُقَاتلُ ) معروف مؤخر ہے، یعنی ان میں سے بعض قتل کئے جاتے ہیں اور باقی قتال کرتے ہیں، ان سے اللہ کی جانب سے (جنت) کا تورات اور انجیل اور قرآن میں پختہ وعدہ ہے (وعدًا اور حَقًّا) دونوں اپنے فعل محذوف کی وجہ سے مصدر منصوب ہیں، اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے وعدہ کو…
Read the full tafseer →ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ بلاشبہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال (اس وعدہ پر) خرید لئے ہیں کہ ان کیلئے (اس کے عوض) جنت ہے۔ جان و مال خرچ کرنے کے عوض عطائے جنت کو اللہ نے خریدو فروخت قرار دیا۔ اہل سیر نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ مارا ‘ وہ براء بن معرور یا ابوالہثیم یا اسعد تھے اور یہ شرط کی کہ جس (مصیبت) سے وہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے ‘ اس سے رسول اللہ ﷺ کی بھی حفاظت کریں گے اور ہر گورے کالے (یعنی تمام انسانوں) کے مقابل آپ کی حمایت کریں گے۔ سب سے پہلے قتال و جہاد کے بارے میں یہی آیت نازل ہوئی ‘ اس کے بعد…
Read the full tafseer →(111) اللہ تعالیٰ نے خالص مسلمانوں سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا یعنی وہ لوگ اطاعت خداوندی میں لڑتے ہیں جس میں کبھی دشمن کو قتل کرتے ہیں اور کبھی دشمن ان کو قتل کردیتا ہے، اس قتال اور جہاد پر ان سے ایسا سچا وعدہ کیا گیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ ضرور پورا کریں گے، اور یہ بات طے شدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنے وعدہ کو کون پورا کرنے والا ہے تو اب تم اپنی تجارت پر جس کا تم نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ ٹھہرایا ہے جنت کی خوشخبری مناؤ اور جنت کا ملنا تمہارے حق بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔
شان نزول : (آیت) ”ان اللہ اشتری“۔ (الخ)
ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے محمد بن کعب قرظی رحمۃ…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ : ”فَاسْـتَبْشِرُوْا“ ”اَلْاِسْتِبْشَارُ“ ایسی زبردست خوشی جس کے اثرات بشرے یعنی چہرے پر بھی ظاہر ہوں۔ سین اور تاء کے اضافے سے بشریٰ ، یعنی خوش خبری کے مفہوم میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔
بعض علماء نے فرمایا کہ جہاد کی اس سے بہتر اور اس سے بڑھ کر مؤثر ترغیب آپ کسی آیت میں نہیں پائیں گے، کیونکہ اسے ایک سودے اور معاہدے کی صورت میں پیش کیا گیا ہے جو سودا رب العزت کے ساتھ ہے۔ سودے کا سامان مومنوں کی جانیں اور مال ہیں اور قیمت اس کی اتنی قیمتی اور بےمثال ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی، نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک آیا۔ یہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 111۔
اس آیت میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم “۔ کہا گیا ہے یہ تمثیل ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی “۔ (البقرہ : 16) ( یہ) وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی ہدایت کے بدلے) اور یہ آیت بیعت ثانیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور وہ بیعت عقبہ کبری ہے اور یہ وہ ہے جس جس میں انصار کے مردوں کی تعداد ستر سے کچھ زائد تھی اور ان میں عمر کے اعتبار سے سب چھوٹے حضرت عقبہ بن عمرو ؓ تھے (1) (المحررالوجیز، زیر آیت ہذہ)
اور وہ اس لیے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عقبہ (گھاٹی) کے نزدیک جمع ہوئے، تو حضرت بن…
Read the full tafseer →ان آیت کا سبب نزول :
1:۔ ابن جریر (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) وغیرہ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا آپ جو چاہیں شرط رکھیں اپنے رب کے لئے اور اپنی جان کے لئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے لئے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ اور میں اپنے لئے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم میری حفاظت کرو ہراس چیز سے کہ جس سے تم حفاظت کرتے ہو اپنی جانوں کی اور اپنے مالوں کی انہوں نے کہا اگر ہم ایسا کرلیں تو ہمارے لئے کیا ہوگا فرمایا تمہارے لئے جنت ہوگی عبداللہ نے کہا یہ تو نفع مند تجارت ہے نہ ہم اسے فتح کریں گے اور ہم فتح کا مطالبہ کریں گے…
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰهَ [بیشک اللہ نے ] اشْتَرٰي [ خرید لیا ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ مومنوں سے ] اَنْفُسَھُمْ [ان کی جانوں کو ] وَاَمْوَالَھُمْ [ اور ان کے مالوں کو ] بِاَنَّ [ اس کے عوض کہ ] لَھُمُ [ ان کے لیے ] الْجَنَّةَ ۭ [ جنت ہے ] يُقَاتِلُوْنَ [ وہ لوگ جنگ کرتے ہیں ] فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ [ اللہ کی راہ میں ] فَيَقْتُلُوْنَ [ تو وہ قتل کیے جاتے ہیں ] وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا [ پکا وعدہ ہو اس پر (یعنی اللہ پر) ] فِي التَّوْرٰىةِ [ تورات میں ] وَالْاِنْجِيْلِ [ اور انجیل میں ] وَالْقُرْاٰنِ [اور قرآن میں ] وَمَنْ [اور کون ] اَوْفٰى [ زیادہ وفا کرنے والا ] بِعَهْدِهٖ [ اپنے وعدہ کو ] مِنَ اللّٰهِ […
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے جنت کے عوض ان کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے
معالم التنزیل (ص 329 ج 2) اور ابن کثیر (ص 391 ج 2) میں محمد بن کعب قرظی سے نقل کیا ہے کہ جب حضرات انصار لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے لگے (جو ستر افراد تھے) تو عبداللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ اپنے رب کے لیے اور اپنے لیے جو چاہیں مشروط فرما لیں آپ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے لیے اس بات کو مشروط کرتا ہوں کہ اس کی عبادت کرو گے اور کسی چیز کو اس کا شریک نہیں بناؤ گے اور اپنے لیے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم میری اسی طرح حفاظت کرو گے جیسی اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرتے ہو۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
فضائل مجاہدین وبشارت مومنین کاملین وترغیب بر تجارت آخر
قال اللہ تعالیٰ ۔ ان اللہ اشتری من ال مومنین انفسہم۔۔۔ الی۔۔۔ وبسر ال مومن ین۔
(ربط): اوپر کی آیتوں میں ان منافقین کے فضائح اور قبائح کا بیان تھا۔ جنہوں نے جہاد سے کنارہ کشی کی تھی۔ اب ان آیات میں مجاہدین کے فضائل اور ان کی صافت فاضلہ کو بیان کرتے ہیں۔ جنہوں نے راہ خداوندی میں اپنی جانبازی اور سرفروشی کے جوہر دکھائے جس سے مقصود جہاد کی ترغیب دینا ہے اور یہ بتلانا ہے کہ تم نے منافقین کا حال سن لیا۔ اور اس کے بعد مومنین مقصرین کا بھی حال معلوم کرلیا جن کی توبہ قبول ہوئی اب سنو کہ مومنین صادقین اور محبین مخلصین کیسے ہوتے ہیں ان کی صفات یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
107:“ اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰي الخ ” یہاں سے لے کر “ وَ بَشِّرِ الْمُوْمِنیْنَ ” تک اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرنیوالوں، اللہ کے احکام و حدود کی پابندی کرنے والوں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بجا لانیوالوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Read the full tafseer →ربط آیات :
غزوہ تبوک سے گریز کرنے والے منافقیین کی اللہ نے مذمت بیان فرمائی پھر درمیان میں ان لوگوں کا ذکر کیا جو اللہ کے راستے میں اس کے دین کی بقا کی خاطر ہر قسم کی قربانی پیش کرتے ہی۔ ان میں سے پہلی جماعت کا ذکر تیرھویں رکوع کی ابتدائی آیت (آیت) ” والسبقون الاولون من المھجرین والانصار “ ۔۔ الآیہ میں ہوچکا ہے یہ مہاجرین اور انصار پر مشتمل پہلی مرکزی جماعت تھی۔ اب اس آیت میں اس سلسلہ کی دوسری جماعت کے لوگوں کا تذکرہ ہو رہا ہے جو پہلی جماعت کے اتباع میں اللہ کے راستے میں نیکی کی خاطر دشمن کے ساتھ نبرد آزما ہوتے ہیں تو آج کی آیت کریمہ میں اللہ نے جانی اور مالی قربانی پیش کرنے کی حکمت بیان…
Read the full tafseer →اِنَّ اللہَ اشْتَرٰي مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ 0 ۭ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ 0 ۣ وَعْدًا عَلَيْہِ حَقًّا فِي التَّوْرٰىۃِ وَالْاِنْجِيْلِ وَالْقُرْاٰنِ 0 ۭ وَمَنْ اَوْفٰى بِعَہْدِہٖ مِنَ اللہِ فَاسْـتَبْشِرُوْا بِبَيْعِكُمُ الَّذِيْ بَايَعْتُمْ بِہٖ 0 ۭ وَذٰلِكَ ھُوَالْفَوْزُ الْعَظِيْمُ 111
شری
الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
4 ؎ یہ قباء میں ایک پہلی مسجد تھی جو حضور ﷺ کی تشریف آوری پر بنی تھی جس کو مسجد قوت الاسلام کہتے ہیں 12 منہ
Read the full tafseer →اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ قف وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فیِ التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ ط وَمَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْابِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖط وَذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ (التوبہ : 111)
(بےشک اللہ نے خرید لیے ہیں مو منوں سے ان کے جان و مال جنت کے بدلے میں وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں پس مارتے بھی ہیں اور مرتے بھی ہیں۔ یہ اللہ کے ذمہ ایک سچا وعدہ ہے۔ تورات، انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافق اور مخلص مسلمان کے کردار میں فرق۔ منافق کفرو نفاق چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جبکہ مخلص مسلمان اپنے رب کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان کو ہتھیلی پر لیے پھرتا ہے۔
یہاں نہایت ہی اچھوتے انداز میں منافق اور مسلمان کے کردار کا موازنہ پیش کیا جارہا ہے۔ منافق دنیا کے لیے اپنا ایمان اور غیرت داؤ پر لگا دیتا ہے اس کے مقابلے میں مومن اپنے خالق ومالک کی رضا کی خاطر مال، عزت و اقبال، اقتدار اور اختیار یہاں تک کہ اپنی جان بھی قربان کردیتا ہے۔ مومن کے اسی کردار کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے ان کی جانوں اور مالوں کے عوض جنت کا سودا کر رکھا ہے۔ مومن اس کے…
Read the full tafseer →نفع بخش تجارت جس میں اقالہ نہیں :
آیت 111: اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ (بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں کو اور ان کے مالوں کو اس بات کے عوض خرید لیا ہے۔ کہ ان کو جنت ملے گی) اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی ثابت قدمی اور اس کی راہ میں مال خرچ کرنے کو جنت کے بدلے خریدنے سے تشبیہ دی اور روایت میں آیا ہے کہ ان سے تجارت کا معاملہ کیا مگر ثمن کو بہت مہنگاکر دیا۔
حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں ہمارے نفوس کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور اموال عنایت کرنے والے بھی وہی ہیں۔ ایک اعرابی کا گزر رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایسی حالت میں ہوا…
Read the full tafseer →جان و مال کے بدلے میں جنت کا سودا
آیت نمبر 111:” ان اللہ اشتری من المئو منین انفسھم واموالھم “ محمد بن کعب قرظی (رح) فرماتے ہیں کہ جب انصار نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی مکہ میں عقبہ کی رات کو اور یہ ستر افراد تھے تو عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) آپ (علیہ السلام) اپنے رب اور اپنے لیے جو چاہے شرط طے کرلیں تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے لیے یہ شرط رکھتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو گے اور اپنے لیے یہ شرط رکھتا ہوں کہ تم مجھ سے ہر اس چیز کو روکو گے جس کو اپنے آپ اور اپنے مال سے روکتے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ تو ہمیں کیا ملے…
Read the full tafseer →111۔ منیٰ کی گھائی کی بیت کے وقت جب حضور ﷺ سے لوگ بیعت کر رہے تھے تو عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا کہ آپ اپنے اور خدا کی طرف سے کچھ شرط مقرر کرلیں آپ نے فرمایا خدا کی طرف سے شرط یہ ہے کہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میرے لئے یہ شرط ہے کہ جن چیزوں سے تم اپنی جان اور مال کو بچاتے ہو اس سے مجھے بھی بچاؤ۔ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے کہا پھر کیا ملے گا آپ نے فرمایا کہ جنت۔ اسی وقت یہ آیت اتری 1 ؎ اور یہ ارشاد ہوا کہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے خواہ قتل ہوجائیں یا کافروں کو قتل کریں ہر حالت میں ان کے لئے جنت ہے۔ بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جو شخص فقط جہاد کی خاطر اپنے گھر سے نکلا…
Read the full tafseer →آیت : (111)
اللہ تبارک و تعالیٰ سچی خبر دیتا ہے ‘ ایک عظیم بیع اور ایک بہت بڑے معاوضے کا سچا وعدہ کرتا ہے اور وہ بیع یہ ہے کہ (اشتری) ” اس نے خرید لیا۔ “ یعنی اللہ نے بنفس نفیس خرید لیا (من المومنین انفسھم واموالھم) ” مومنوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو “ یعنی ان کی جان اور ان کے مال کی قیمت لگا دی گئی ہے اور یہ فروخت شدہ مال تجارت ہے۔ (بان لھم الجنۃ) ” اس کے بدلے میں ان کے لئے (وہ) جنت ہے “ جس میں ہر وہ چیز ہوگی جس کی نفس خواہش کریں گے اور جس سے آنکھیں لذت حاصل کریں گی ‘ یعنی انواع و اقسام کی لذتیں، فرحتیں، مسرتیں، خوبصورت حوریں اور دلکش مکانات ہوں گے۔
اس عقد و بیع کا وصف یہ ہے کہ وہ…
Read the full tafseer →خدا کی خریداری کا مطلب
قول باری ہے ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں ۔ یہاں خریدنے کا ذکر بطور مجاز کیا گیا ہے اس لیے کہ حقیقت میں خریدار وہ ہوتا ہے جو ایسی چیز کی خریداری کرتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہوتی جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہماری جانوں اور اموال کا مالک ہے ۔ لیکن یہ طرز بیان اسی طرح ہے جس طرح یہ قول ہے من ذالذی یقرض اللہ قرضا ً حسنا ً کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے ؟ اللہ نے آیت زیر بحث میں اسے خرید کر نام سے موسوم کیا جس طرح یہاں صدقہ کو قرض کے نام سے موسوم کیا اس لیے کہ دونوں…
Read the full tafseer →204 اہل ایمان سے جنت کا پختہ وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ اللہ نے ایمان والوں سے ان کی جانوں اور ان کے مالوں کو خریدلیا اس عوض میں کہ ان کے لیے جنت ہے۔ جو لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں۔ پھر وہ مرتے بھی ہیں اور مارتے بھی ہیں۔ سو ان کے لیے اللہ کے ذمے یہ وعدہ ہے تورات و انجیل میں بھی اور قرآن میں بھی۔ یعنی ان سے یہ وعدہ ان تینوں آسمانی کتابوں میں موجود و مذکور تھا۔ تو پھر اس سے پکی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ قرآن حکیم میں تو یہ وعدہ اور حکم جہادآج تک پوری آب وتاب کے ساتھ جوں کا توں موجود و مذکور ہے اور قیامت تک رہے گا لیکن تورات و انجیل میں بھی طرح طرح کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–112
مؤمنوں کے اوصاف اور ان کو خوشخبری
تشریح : جب ہم ان آیات کو پڑھتے ہیں تو ہمارے سامنے ایک ایسے مسلمان کی تصویر آجاتی ہے جو ناقابل تسخیر ہے کیونکہ اس نے اپنا سب کچھ رب العالمین کے سپرد کر رکھا ہے۔ اس کی زندگی، موت، اٹھنا، بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا، چلنا پھرنا سب کچھ اللہ کی رضا کے لیے وقف ہوچکا ہے۔ اس لیے وہ قرآن کو اپنی زندگی بنا لیتا ہے۔ دنیا کی تمام آسائشیں اس کو ایک پل کے لیے بھی اللہ، رسول اور قرآن سے دور نہیں کرسکتیں وہ دنیا و دین دونوں کو ساتھ ساتھ لیکرچلتا ہے اسی لیے اس کو مرنے کے بعد جنت کی خوشخبری دی گئی ہے اور دنیا میں وہ ہر قسم کے غم و فکر اور الجھن سے دور رہتا ہے کیونکہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–118
آیات 111 تا 118
اسرار و معارف
رہے مومن تو ان کا اپنا کچھ ہے ہی نہیں وہ تو اپنی جان اپنا مال بیچ چکے اور اللہ نے خرید لیا ہے ان سے اور اس کی قیمت بھی طے ہوگئی ۔ اللہ کی جنت جو اس کی رضا کا مظہر ہے ۔
مفسرین کرام کے مطابق یہ آیہ کریمہ بعیت عقبہ والے صحابہ ؓ اور صحابیات ؓ کے حق میں نازل ہوئی بعیت عقبہ منٰی میں حج کے موقع پر مدینہ منورہ سے آکر ستر 70 کے قریب مردوکواتین نے اس شرط کی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں گے اور رسول اللہ ﷺ کی حفاظت اپنی جانوں اور مال واولاد سے بڑھ کر کریں گے یہ مفصل قصہ سیرت وتاریخ میں بھی تفاسیر میں بھی دسند کے ساتھ موجود ہے مگر معنی عام ہے اور ایمان کی کیفیت و…
Read the full tafseer →ف 2 منافقین کے بیان سے فارغ ہونے کے بعد اب اس آیت میں جہاد کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ مروی ہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب ستر آدمیوں سے آپ نے بیعت تو شرط کی کہ ایک اللہ کی عبادت کرنا اور اس کے ساتھ شرک نہ کرنا اور میری ذات کی اس طرح حفاظت کرنا جس طرح تم اپنے جان و مال کی حفاظت کرتے ہو۔ انصار نے کہا اگر ہم یہ کرلیں تو ہمارے لئے کیا ہوگا ؟ فرمایا ” الجنہ “ کہ تمہارے لئے اس کے بدلہ جنت ہوگی۔ انصار نے اس پر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور کہا ہمیں منظور ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ذکرہ الحافظ (کبیر۔ ابن کثیر)
Read the full tafseer →(9:111) اشتری۔ اس نے خرید لیا۔ اس نے خریدا۔ اشتری یشتری اشتراء (افتعال) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ اشتراء کے معنی خریدنے اور بیچنے دونوں کے آتے ہیں۔
وعدا۔ اسم ومصدر۔ وعدا علیہ حقا۔ حقا وعدا کی صفت ہے اور وعدا بوجہ فعل محذوف منصوب ہے گویا تقدیر کلام یوں ہے۔ وعدہم علیہ (علی ذلک الامر) وعدا حقا۔ اس بات پر اس نے ان کے ساتھ سچا وعدہ کر رکھا ہے۔ علیہ کے معنی لازم علیہ بھی ہوسکتے ہیں۔ اس صورت میں تقدیر کلام یوں ہوگی :۔ وعدہم وعدا حقا لازم علیہ۔ اس نے ان سے ایک سچا وعدہ کر رکھا ہے جس کا پورا کرنا اس نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے۔
فی التوراۃ والنجیل والقرآن یعنی اس وعدہ کا ذکر تورات، انجیل اور قرآن میں ہے ۔
او…
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 111
اشتری (خرید لیا) یقاتلون (وہ لڑتے ہیں، جہاد کرتے ہیں) یقتلون (وہ مارتے ہیں) یقتلون (وہ مارے جاتے ہیں) وعدا علیہ حفا (یہ اس کا سچا وعدہ ہے اس پر) اوفی (پورا کیا) بعھدہ (اپنا وعدہ) استبشروا (خوشیاں منائو) بیع (تجارت) بایعتم (جو تم نے بیچا، فروخت کیا)
تشریح : آیت نمبر 111
اس آیت کا ایک مفہوم تو عام ہے کہ جو لوگ صاحب ایمان ہیں اور انہوں نے ایثار و قربانی کا وہ جذبہ پیش کیا کہ اپنی جانوں اور مالوں سے زیادہ دین اسلام کی سربلندی اور رسول اللہ ﷺ کو اہمیت دے کر اپنا سب کچھ لٹا دیا تو گویا انہوں نے اپنی دنیا کے بدلے میں آخرت اور جنت کو خرید لیا ہے اللہ نے فرمایا کہ اس معاملہ پر…
Read the full tafseer →جہاد کرنے والوں کے لئے جنت کا وعدہ
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ منیٰ کی کھائی کی بیعت کے وقت جب آنحضرت ﷺ سے لوگ بیعت کر رہے تھے تو عبد اللہ بن رواحہ نے کہا : ” آپ اپنے اور خدا کی طرف سے کچھ شرط مقرر کرلیں “۔ آپ نے فرمایا : ” خدا کی طرف سے شرط یہ ہے کہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور میرے لئے یہ شرط ہے کہ جن چیزوں سے تم اپنی جان ومال کو بچاتے ہو اس سے مجھے بھی بچاؤ “۔ عبد اللہ بن رواحہ نے کہا : ” پھر ہمیں کیا ملے گا “ آپ نے فرمایا : ” جنت “۔ اسی وقت یہ آیت نازل ہوئی اور یہ ارشاد ہوا کہ خدا کی راہ میں جہاد کرنے والے خواہ قتل ہوجائیں یا کافروں کو قتل کریں، ہر حالت میں ان کے لئے جنت…
Read the full tafseer →[63] یہاں ایمان کے معاملے کو اللہ اور بندے کے درمیان خریدو فروخت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جب بندہ اللہ پر ایمان لاتا ہے تو گویا اس نے سب کچھ اللہ کے ہاتھ بیچ ڈالا اور اللہ نے اس کے معاوضے میں اس سے جنت کا وعدہ فرمایا۔ اللہ کی یہ کمال عزت افزائی اور شان کریمی ہے کہ وہ ہمارا خریدار بنے اور ہم سے وہ چیزیں خریدے جو نہ ہماری بنائی ہوئی ہیں نہ ہماری پیدا کی ہوئی۔ جان ہے تو اسی کی پیدا کی ہوئی، مال ہے تو اس کا عطا کیا ہوا۔
Read the full tafseer →شاندار سودا :
(ف 1) غرض یہ ہے کہ مسلمان کی جان عزیز اور متاع نفس خدا کی راہ میں وقف ہے ، اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے ان کی جان اور مال خرید چکا ہے ، یہ طے ہے کہ درم دینار سے لے کر رگ حیات تک سب کچھ محبوب پر قربان ہے ، نہ دولت پر اختیار ہے ، اور نہ زندگی کے قیمتی لمحات پر سودا خدا کی جانب سے ہوچکا ، بات پختہ ہوگئی ، دو حرفی نصب العین ہے ، کہ جنت لو اور دنیا کی تمام آسائشیں دین پر نثار کر دو ، یہ کس قدر بلند نصب العین ہے جس سے نفس میں پاکیزگی اور رفعت پیدا ہوجاتی ہے ۔
اب ہمیں ترمیم وتنسیخ کی ضرورت نہیں اور ضرورت بھی کیا ہے یہ سودا گھاٹے کا سودا نہیں جب یہ سب کچھ اسی کا ہے جان اس کی ہے مال اس کا ہے…
Read the full tafseer →1 1 1 بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی جانیں اور ان کے اموال اس قیمت پر اور اس بات کے عوض میں خرید لیا ہے کہ ان کو جنت ملے گی اور جنت میں ان مسلمانوں کے لئے مخصوص ہے۔ وہ مسلمان اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کیا کرتے ہیں جس می کبھی دشمن کو قتل کرتے ہیں اور کبھی خود شہید کردیئے جاتے ہیں اس امر پر توریت اور انجیل میں اور قرآن کریم میں سچا وعدہ کیا جاچکا ہے اور اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا اور اپنے وعدے کا سچا کون ہوسکتا ہے۔ سو اے مسلمانو ! تم اس بیع مذکور پر جس کا تم نے اللہ سے معاملہ کیا ہے مسرت کا اظہار کرو اور خوشی منائو یہ جنت ملنے کا معاملہ بڑی کامیابی ہے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی وہ بیع جہاد کرنا ہے خواہ اس میں قاتل ہونے کی نوبت آئے یا مقتول ہونے کی۔
5۔ کیونکہ اس بیع پر تم کو حسب وعدہ مذکور جنت ملے گی۔
Read the full tafseer →بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے ان کی جانیں خرید لیں ہیں :
144: زیر نظر آیت میں جب ایمانی کی حقیقت واضح کی گئی ہے۔ فرمایا جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور وہ اس دعویٰ میں سچے ہیں تو ایمان کا معاملہ اس طرح سمجھو کہ انہوں نے اپنا سب کچھ اللہ کے ساتھ بیچ ڈالا ہے۔ جان بھی اور مال و متاع بھی۔ اب ان کی کوئی چیز ان کی نہیں رہی بلکہ اللہ اور اس کی سچائی کی ہوگئی۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے :
بندگان تو کہ در عشق خداوند انند ٭ دو جہاں را بہ تمنائے تو بفر و ختہ اند
اور پھر اللہ کی طرف سے اس کے معاوضہ میں کیا دیا گیا جب کہ اصطلاح خرید لینے کی استعمال کی گئی ؟ فرمایا اللہ کی طرف سے جو دیا گیا وہ یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Commentary
Sequence
Previous verses carried a condemnation of those staying behind without a valid excuse and missing the Jihad. The present verses take up the merit of mujahidin.
The background of revelation
As explained by the majority of commentators, these verses were revealed about the participants of Bai'atul-'Aqabah (the pledge of allegiance to the Holy Prophet ﷺ at al-'Aqabah) which was taken from the Ansar of Madinah before Hijrah in 'Makkah al-Mukarramah. Therefore, despite that the entire Surah is Madani, these verses have been termed as Makki.
'Al-'Aqabah' is part of a mountain.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →