Explained with ayahs 109–110
وہ کہ جس نے اللہ کے ڈر اور اللہ کی رضا کی طلب کے لئے بنیاد رکھی اور جس نے مسلمانوں کو ضرر پہنچانے اور کفر کرنے اور پھوٹ ڈلوانے اور مخالفین اللہ و رسول کو پناہ دینے کے لئے بنیاد رکھی یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ یہ دوسرے قسم کے لوگ تو اپنی بنیاد اس خندق کے کنارے پر رکھتے ہیں۔ جس میں آگ بھری ہوئی ہو اور ہو بھی وہ بنیاد ایسی کمزور کہ آگ میں جھک رہی ہو ظاہر ہے کہ ایک دن وہ آگ میں گرپڑے گی۔ ظالموں اور فسادیوں کا کام بھی نیک نتیجہ نہیں ہوتے۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد ضرار سے دھواں نکلتے دیکھا۔ امام ابن جریر ؒ کا قول ہے کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جن…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 105
یعنی ان لوگوں کو منافقانہ مکر و دغا کے اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کر کے اپنے دلوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایمان کی صلاحیت سے محروم کرلیا ہے اور بےایمانی کا روگ اس طرح ان کے دلوں کے ریشے ریشے میں پیوست ہوگیا ہے کہ جب تک ان کے دل باقی ہیں یہ روگ بھی ان میں موجود رہے گا۔ خدا سے کفر کرنے لیے جو شخص علانیہ بت خانہ بنائے، یا اس کے دین سے لڑنے کے لیے کھلم کھلا مورچے اور دمدمے تیار کرے، اس کی ہدایت تو کسی نہ کسی وقت ممکن ہے، کیونکہ اس کے اندر راستبازی، اخلاص اور اخلاقی جرأت کا وہ جوہر تو بنیادی طور پر محفوظ رہتا ہے جو حق پرستی کے لیے بھی اسی طرح کام آسکتا ہے جس طرح باطل پرستی کے کام…
Read the full tafseer →آگے فرمایا کہ ان کی یہ تعمیر ہمیشہ ان کے شک اور نفاق کو بڑھاتی ہی رہے گی، جب تک کہ انکے قلوب قطع نہ ہوجائیں یعنی جب تک انکی زندگی ختم نہ ہوجائے ان کا شک و نفاق اور حسد و غیظ بڑہتا ہی رہے گا۔
Read the full tafseer →لَا يَزَالُ بُنْيَانُھُمُ الَّذِيْ بَنَوْا رِيْبَةً فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ یعنی یہ نام نہاد مسجد بنا کر ان منافقین نے اپنے اندر نفاق کی جڑ اتنی مستحکم کردی ہے کہ اب یہ ان کے دلوں کے ساتھ ہے۔ ان کا نفاق اس طرح ایک ایک رگ میں جڑ جما چکا ہے کہ اب اس کو اکھاڑن دلوں کے پاش پاش ہوئے بغیر ممکن نہیں۔ جس طرح ہم اپنے محاورے میں کہتے ہیں یہ داغ تو اب کپڑے کے ساتھ ہی جائے گا۔ اسی طرح اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ تعلیق بالمحال کا ایک خوب صورت پیرایہ بیان ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عمل عمل کے اثرات و نتائج میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ یوں تو نفاق کا ہر…
Read the full tafseer →110۔ 1 دل پاش پاش ہوجائیں، کا مطلب موت سے ہمکنار ہونا ہے۔ یعنی موت تک یہ عمارت ان کے دلوں میں مذید شک و نفاق پیدا کرنے کا ذریعہ بنی رہے گی، جس طرح کہ بچھڑے کے پجاریوں میں بچھڑے کی محبت رچ بس گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–111
85: جو عمارت ان منافقین نے بنائی تھی، اس کے لیے آیت 107 میں تو یہ بتانا مقصود تھا کہ یہ عمارت انہوں نے مسجد کے نام پر بنائی تھی اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ یہ مسجد ہے، اس لیے وہاں اس عمارت کے واسطے مسجد کا لفظ استعمال کیا گیا تھا، لیکن اس آیت میں اس کی حقیقت بتائی گئی ہے، اس لیے یہاں اللہ تعالیٰ نے اسے عمارت کہا ہے، مسجد نہیں کہا، کیونکہ حقیقت میں وہ مسجد تھی ہی نہیں۔ بنانے والے حقیقت میں کافر تھے۔ اور بنانے کا مقصد اسلام دشمنی تھی۔ اسی لیے اسے جلایا گیا۔ ورنہ اگر کوئی مسلمان مسجد بنائے تو اسے جلانا جائز نہیں ہے۔ اور اس آیت میں جو فرمایا گیا ہے کہ یہ عمارت ان منافقوں کے دل میں برابر شک پیدا…
Read the full tafseer →لا یزال بینانھم الذی بنوا ریبۃ فی قلوبھم وہ عمارت جو انہوں نے بنائی ‘ ہمیشہ ان کے دلوں میں (کانٹا بن کر) کھٹکتی رہے گی۔ ریبۃً سے مراد ہے : شک و نفاق ‘ یعنی یہ عمارت ان کے دلوں میں شک و نفاق کے ترقی کرنے کا سبب بنی رہے گی اور وہ برابر یہی خیال کرتے رہیں گے کہ ہم نے یہ بھلائی کا کام کیا ‘ جیسے حضرت موسیٰ کی قوم کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ گئی تھی (اسی طرح اس مسجد ضرار کی محبت ان منافقوں کے دلوں میں جم گئی ہے) حضرت ابن عباس نے یہی تفسیر فرمائی ہے۔ کلبی نے ریبۃً کا ترجمہ کیا : حسرت و پشیمانی ‘ کیونکہ ان لوگوں کو اس مسجد کی تعمیر پر پشیمانی ہوگئی تھی۔ سدی نے ریبۃً کا معنی کیا : غیظاً ‘ یعنی اس…
Read the full tafseer →5 " ریبہ " کا ترجمہ کیا ہے " شبہ " جس سے مراد نفاق ہے۔ یعنی اس عمل بد کا اثر یہ ہوا کہ ہمیشہ ان کے دلوں میں (جب تک موت انہیں پارہ پارہ نہ کر ڈالے) نفاق قائم رہے گا۔ جیسے اسی سورة میں پہلے گزر چکا۔ (فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ ) 9 ۔ التوبہ :77) بعض مترجمین نے " ریبہ " کے معنی کیے ہیں " کھٹکنا " یعنی جو عمارت انہوں نے ناپاک مقاصد کے لیے بنائی تھی۔ مگر حق تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو مطلع کر کے ان کے تمام پلید مقاصد کا خاتمہ کردیا، اس کا خیال ہمیشہ ان کے دلوں میں کانٹا سا کھٹکتا رہے گا۔…
Read the full tafseer →آیت 110 لاَ یَزَالُ بُنْیَانُہُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَۃً فِیْ قُلُوْبِہِمْ الآَّ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُہُمْط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔
ان منافقین کے دلوں کے اندر منافقت کی جڑیں اتنی گہری جا چکی ہیں کہ اس کے اثرات کا زائل ہونا اب ممکن نہیں رہا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ اگر کسی کے پورے جسم میں کینسر پھیل چکا ہو تو معمولی آپریشن کرنے سے وہ ٹھیک نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ کینسر کے اثرات تو جسم کے ایک ایک ریشے میں سرایت کرچکے ہیں۔ اب اگر سارے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تب شاید اس کی جڑوں کو نکالنا ممکن ہو۔ لہٰذا ان منافقین کے دل ہمیشہ شکوک و شبہات کے اندھیروں میں ہی ڈوبے رہیں گے ‘ انہیں ایمان و…
Read the full tafseer →123 گو یہ عمارت گرائی جا چکی ہے مگر ان منافقوں کے دلوں میں نفاق کا روگ اس قدر جڑ پکڑ چکا ہے جو کبھی ختم ہی نہیں ہو سکے گا۔ الا یہ کہ ان کے دلوں کے اندر اتنے چھید ہوجائیں کہ جڑ پکڑنے کی گنجائش ہی نہ رہے۔ دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے مراد ان کا مرجانا ہے یعنی مرتے دم تک نفاق ان کے دلوں سے نکل نہیں سکتا۔
Read the full tafseer →203۔ (توالبتہ ان دلوں کے فنا ہونے ساتھ ہی وہ دل کی حسرتیں بھی ختم ہوجائیں۔ (آیت) ” لایزال بنیانھم الذی بنوا ریبۃ فی قلوبھم “۔ یعنی ہمیشہ موجب حسرت و حرمان ہی رہے گی کہ جن اغراض سے بنائی تھی، وہ کوئی بھی پوری نہ ہوئیں، اور رسوائی جو ہوئی وہ الگ۔ (آیت) ” الا ان تقطع قولبھم “۔ کنایہ ہے دوام حسرت سے، یہ مراد نہیں کہ موت وفنا کے بعد انہیں راحت نصیب ہوجائے گی۔ ھذا کنایۃ عن تمکن الریبۃ فی قولبھم التیھی محل الادراک واضمار الشرک بحیث لایزول منھا ماداموا احیاء (روح) والمقصود ان ھذہ الریبۃ فی قلوبھم ابدا ویموتون علی ھذا النفاق (کبیر)
204۔ وہ سب کی ایک ایک حالت سے واقف ہے۔ اور ایک ایک سے اسی کے حال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیت نمبر 100 تا 110
ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے…
Read the full tafseer →لا یزال بینانھم الذی بنوا ریبۃ فی قلوبھم وہ عمارت جو انہوں نے بنائی ‘ ہمیشہ ان کے دلوں میں (کانٹا بن کر) کھٹکتی رہے گی۔ ریبۃً سے مراد ہے : شک و نفاق ‘ یعنی یہ عمارت ان کے دلوں میں شک و نفاق کے ترقی کرنے کا سبب بنی رہے گی اور وہ برابر یہی خیال کرتے رہیں گے کہ ہم نے یہ بھلائی کا کام کیا ‘ جیسے حضرت موسیٰ کی قوم کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ گئی تھی (اسی طرح اس مسجد ضرار کی محبت ان منافقوں کے دلوں میں جم گئی ہے) حضرت ابن عباس نے یہی تفسیر فرمائی ہے۔ کلبی نے ریبۃً کا ترجمہ کیا : حسرت و پشیمانی ‘ کیونکہ ان لوگوں کو اس مسجد کی تعمیر پر پشیمانی ہوگئی تھی۔ سدی نے ریبۃً کا معنی کیا : غیظاً ‘ یعنی اس…
Read the full tafseer →(110) ان کی یہ عمارت گرنے کے بعد اس کی حسرت وندامت ان کے دلوں میں ہمیشہ کھٹکتی رہے گی ہاں ان کی دل ہی فنا ہوجائیں تو خیر ! اور اللہ تعالیٰ ان کی مسجد ضرار بنانے اور ان کی نیتوں سے اچھی طرح واقف ہیں اور اس مسجد کو ختم کروانے اور اس کے جلادینے کا فیصلہ فرمانے میں بڑی حکمت والے ہیں۔
غزوہ تبوک سے جب حضور ﷺ تشریف لائے تو آپ نے عامر بن قیس ؓ اور مولی مطعم بن عدی ؓ کو روانہ کیا، انہوں نے اس مسجد ضرار کو گرا کر اسے جلا دیا۔
Read the full tafseer →لَا يَزَالُ بُنْيَانُھُمُ الَّذِيْ بَنَوْا رِيْبَةً : ”رِيْبَةً“ بےچینی، جیسا کہ حسن بن علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلصِّدْقُ طُمَانِیْنَۃٌ وَالْکِذْبُ رِیْبَۃٌ) [ أحمد : 1؍200، ح : 1728۔ ترمذی : 2518، و صححہ الألبانی ] ”سچ اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ بےچینی کا باعث ہے۔“ یعنی یہ مسجد ضرار گرائے جانے کے بعد اس کے بنانے والوں کے دلوں کو بےچین رکھے گی کہ ہمارا نفاق و کفر ظاہر ہوگیا، اب کوئی مسلمان ہمیں دل سے اپنا سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوگا، ان کی یہ حالت موت تک ایسے ہی رہے گی۔ (اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ) کا یہی معنی ہے، نہ ان کا دل نفاق سے پاک ہوگا نہ انھیں اطمینان…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 110۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لا یزال بنیانھم الذی بنوا “۔ اس میں عمارت سے مراد مسجد ضرار ہے۔ (آیت) ” ریبۃ “ یعنی ان کے دلوں میں شک اور نفاق رہے گا۔ (2) (تفسیر طبری، جلد 11، صفحہ 41)
یہ حضرت ابن عباس ؓ حضرت قتادہ (رح) اور حضرت ضحاک رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا ہے۔ اور نابغہ نے کہا ہے :
حلفت فلم اترک لنفسک ریبۃ ولیس وراء اللہ للمرء مذھب :
میں قسم کھاتا ہوں کہ میں نے تیری ذات کے لیے کوئی شک نہیں چھوڑا اور اللہ تعالیٰ کے سوا آدمی کے لیے کوئی اور مذہب نہیں۔
اور کلبی (رح) نے کہا ہے : اس سے مراد حسرت اور ندامت ہے، کیونکہ وہ اسے بنانے پر نادم ہوئے۔ اور سدی (رح) نے کہا ہے اور اسی طرح…
Read the full tafseer →1:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم والبیقہی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لایزال بنیانہم الذی بنواریبۃ فی قلوبہم “ یعنی شک (اور فرمایا) (آیت) ” الا ان تقطع قلوبہم “ سے مراد موت ہے۔
ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ میں ابراہیم (رح) سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لایزال بنیانہم الذی بنواریبۃ فی قلوبہم “ کے بارے میں مجھے بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے شک میں نے کہا نہیں تو انہیں نے فرمایا تم اس بارے میں کیا کہتے ہو۔ میں نے کہا وہ قوم جنہوں نے مسجد ضرار بنائی اور وہ کافر تھے جب انہوں نے مسجد ضرار بنائی جب وہ اسلام میں داخل ہوئی تو وہ برابر اس کو یاد کرنے…
Read the full tafseer →لَا يَزَالُ [ ہمیشہ رہے گا ] بُنْيَانُھُمُ الَّذِيْ [ ان کی عمارت سے جو ] بَنَوْا [ انہوں نے بنائی ] رِيْبَةً [ ایک شک ] فِيْ قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں میں ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] تَقَطَّعَ [ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں ] قُلُوْبُھُمْ ۭ [ ان کے دل ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
(آیت ۔ 110) لا یزال فعل ناقص ہے، بنیانہم اس کا اسم ہے اور ریبۃ اس کی ضمیر ہے۔
Read the full tafseer →پھر فرمایا (لَا یَزَالُ بُنْیَانُھُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ ) کہ انہوں نے جو یہ عمارت بنائی ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی کیونکہ جس غرض سے مسجد بنائی تھی پوری نہ ہوئی پھر وہ منہدم کردی گئی، اور جلا دی گئی اور بنانے والوں کی رسوائی بھی ہوئی۔ یہ ان کے دلوں کا کانٹا ہے جو ہمیشہ چبھتا رہے گا۔ (اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ ) مگر یہ کہ ان کے دلوں میں ٹکڑے ہوجائیں یعنی وہ مرجائیں گے تو یہ دلوں کی کھٹک ختم ہوگی، نہ خود رہیں گے نہ کھٹک رہے گی۔ (البتہ آخرت میں جو عذاب ہوگا وہ اپنی جگہ مستقل ہے) (وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) اور اللہ علم والا ہے اور حکمت والا ہے۔
فائدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
ذکر مسجد ضرار ومسجد تقوی
قال اللہ تعالیٰ ۔ والذین اتخذوا مسجدا ضرار۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم۔
(ربط): اوپر سے مسلسل منافقین کا ذکر چلا آرا ہے اب ان آیات میں منافقین کی ایک خاص خباثت کا ذکر ہے وہ یہ کہ انہوں نے مسجد قباء کے مقابلہ میں اور ضد میں ایک مسجد بنائی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسجد کے نام سے منافقین کا ایک دفتر اور ایک اڈہ قائم ہوجاے۔ جس میں جمع ہو کر آں حضرت ﷺ کے خلاف مشورے کیا کریں نام اس کا مسجد ہو اور حقیق اس کی منافقین کی ایک انجمن ہو جس کا قصہ یہ ہوا کہ آں حضرت ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے آئے تو اول مدینہ سے باہر قباء میں فروکش ہوئے چند روز وہاں قیام کر کے مدینہ میں تشریف لے گئے اور…
Read the full tafseer →106:“ لَا یَزَالُ بُنْیَانَھُمُ الخ ”۔ “ رَيْبَةً ” سے شک و نفاق مراد ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے (روح، قرطبی) مسج ضرار بنا کر منافقین بہت خوش ہوئے لیکن جبحضور ﷺ نے اسے گرادینے کا حکم صادر فرمایا تو اس سے ان کا کفر ونفاق اور زیادہ ہوگیا اس طرح مسجد ضرار دینی فائدے کا باعث ہونے کے بجائے ان کے دلوں میں زیادتی نفاق کا سبب بنی اور اب ان کے دلوں کو نفاق کی بیماری سے کبھی نجات نہیں مل سکے گی الا یہ کہ ان کے دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بےحس اور بےشعور کردیا جائے۔ “ لَا یَزَالُ ھدمه سبب شک و نفاق زائدا علی شکھم و نفاقھم لما غاظھم من ذلک و عظم علیھم ” (مدارک ج 2 ص 112) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مومنوں کا حال ذکر کیا تھا جو کوتاہی اور سستی کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو سکے۔ ان میں سے ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ انہوں نے اعتراف گناہ کرکے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرما کی ان کی معافی کا اعلان کردیا۔ تین آدمیوں کے دوسرے گروہ پر کڑی آزمائش تھی لہٰذا ان کا معاملہ اللہ نے موخر کردیا ، یہاں پر بھی ان کا بیان بعد میں آئیگا۔ آب آج کی آیات میں بھی پکے مناقفین ہی کا ذکر ہو رہا ہے ، جن کے دل میں ایمان نہیں تھا ، اور وہ طرح طرح کی سازشیں کر کے اہل ایمان کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ ایسے ہی منافقوں…
Read the full tafseer →لَا يَزَالُ بُنْيَانُھُمُ الَّذِيْ بَنَوْا رِيْبَۃً فِيْ قُلُوْبِہِمْ اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 110 ۧ
زال ( لایزال)
مَا زَالَ ولا يزال خصّا بالعبارة، وأجریا مجری کان في رفع الاسم ونصب الخبر، وأصله من الیاء، لقولهم : زَيَّلْتُ ، ومعناه معنی ما برحت، وعلی ذلك : وَلا يَزالُونَ مُخْتَلِفِينَ [هود/ 118] ، وقوله : لا يَزالُ بُنْيانُهُمُ [ التوبة/ 110] ، وَلا يَزالُ الَّذِينَ كَفَرُوا [ الرعد/ 31] ، فَما زِلْتُمْ فِي شَكٍّ [ غافر/ 34] ، ولا يصحّ أن يقال : ما زال زيد إلّا منطلقا، كما يقال : ما کان زيد إلّا منطلقا، وذلک أنّ زَالَ يقتضي معنی النّفي، إذ هو ضدّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
4 ؎ یہ قباء میں ایک پہلی مسجد تھی جو حضور ﷺ کی تشریف آوری پر بنی تھی جس کو مسجد قوت الاسلام کہتے ہیں 12 منہ
Read the full tafseer →لاَ یَزَالُ بُنْیَا نُھُمُ الَّذِیْ بَنَوْارِیْبَۃً فِیْ قُلُوْ بِہِمْ اِلآَّ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْ بُہُمْ ط وَاللّٰہُ عَلْیِمٌ حَکِیْمٌ
(التوبہ : 110)
( اور یہ عمارت جو انھوں نے بنائی ان کے دلوں میں شک کی بنیاد بن کر جمی رہے گی۔ مگر یہ کہ ان کے دل ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور اللہ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ )
قرآن پاک کا اسلوب یہ ہے کہ وہ بڑے سے بڑے کافر اور منافق کو بھی آخر حد تک نصیحت کرتا اور ایمان کی دعوت دیتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ مخاطب کے بارے میں مایوسی کا اظہار کرے۔ ہاں البتہ کبھی کبھی آنحضرت ﷺ کی تسلی کے لیے بعض دلوں پر مہر لگائے جانے کی طرف اشارہ کردیتا ہے۔ لیکن یہاں صاف صاف…
Read the full tafseer →بیشک ان کے دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو بھی ان کے دلوں سے کفر نکلنے والا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ یہ اسی حالت میں مریں گے۔ لہٰذا ان کو اپنی حکمت کے مطابق مہلت دیے جارہا ہے۔” شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ “ کے الفاظ استعمال فرما کر اس مسجد کے گرانے کا واضح اشارہ دیا گیا جس بناء پر رسول معظم ﷺ نے اسے گرانے اور جلانے کا حکم صادر فرمایا۔
مسائل
1۔ ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرنا چاہیے۔ 2۔ ایمان اور نفاق کبھی برابر نہیں ہوسکتے۔
3۔ ایمان ایک عمارت کی طرح ہے جس کی بنیاد پختہ ہے۔ 4۔ اللہ تعالیٰ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
5۔ جس عمل کی بنیاد نفاق پر ہو خواہ کتنا ہی اچھا لگے وہ جہنم کا سبب…
Read the full tafseer →منافقین کے خبیث مقاصد کی نشاندہی :
آیت 110: لَایَزَالُ بُنْیَانُھُمُ الَّذِیْ بَنَوْارِیْبَۃً فِیْ قُلُوْبِھِمْ (یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے۔ ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی) اس کا گرانا ان کے نفاق و شک میں اضافہ کا باعث بنا رہے گا کیونکہ اس سے ان کو مزید غصہ آئے گا اور وہ ان پر گراں گزرے گی۔ اِلَّآ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُھُمْ (مگر یہ کہ ان کے دل ہی فنا ہوجائیں) شامی، و حمزہ اور حفص نے تَقطَّع پڑھا جو اصل میں تَتقَطَّعَ ہے۔ دیگر قراء نے تُقَطَّع۔ پڑھا ہے جس کا معنی ان تُقطَّع قلُوبہم قطعا و تفرق اجزائً انکے دلوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر اجزاء الگ کردیئے جائیں اس وقت ان کو تسلی…
Read the full tafseer →تفسیر آیت نمبر 110:” لا یزال بنیا نھم الذی بنواریبۃ شک اور نفاق کے طور پر فی قلوبھم “ وہ خیال کرتے تھے کہ وہ اس مسجد کو بنا کر نیک کام کررہے ہیں جیسے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو بچھڑے کی بڑ ی محبت تھی۔ یہ تفسیر ابن عباس ؓ نے بیان کی ہے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ حسرت اور ندامت ہے کیونکہ وہ اس کی تعمیر پر نادم تھے اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ان کی تعمیر کا گرنا شک اور غصہ کا سبب ہے ان کے دلوں میں۔” الآ ان تقطع قلوبھم “ یعنی ان کے دل پھٹ جائیں اور وہ مرجائیں۔ اور ابن عامر ‘ ابو جعفر ‘ حفص اور حمزہ رحمہما اللہ نے ” تقطع “ تاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ” تقطع “ تو دو تاء میں سے ایک کو حذف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
107۔ 110۔ معتبر سند سے تفسیر ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردو یہ میں امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ خزرج میں ایک شخص ابو عامر تھا جو زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا اور تورات اور انجیل اس نے خوب پڑھی تھی اور قبیلہ کے لوگ اس کی عزت کرتے تھے جب آنحضرت مدینہ میں تشریف لائے اور قبیلہ خزرج کے لوگ بہت مسلمان ہوئے تو یہ ابو عامر اسلام نہ لایا اور آنحضرت سے ایک طرح کی عداوت رکھنے لگا اور مکہ کو چلا گیا احد کی لڑائی کے زمانہ میں اہل مکہ کو بہکا کر مسلمانوں پر چڑھا کر لایا اور چند گڑھے اس نے لڑائی کی صفوں کے بیچ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
آیت 107-110
اہل قبا میں سے کچھ منافقین نے مسجد قبا کے پہلو میں ایک مسجد بنائی اس مسجد کی تعمیر سے ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور ان کے درمیان اختلاف اور افتراق پیدا کرنا تھا ‘ نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف تخریب کاری کرنے والوں کے لئے بوقت ضرورت محفوظ پناہ گاہ تیار کرنا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو بیان کرتے ہوئے ان کا بھید ظاہر کردیا ‘ چناچہ فرمایا : (والذین اتخذوا مسجدالضرار) ” اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لئے “ یعنی اہل ایمان اور ان کی اس مسجد کو نقصان پہنچانے کی خاطر جس میں اہل ایمان جمع ہو کر نماز پڑھتے تھے (وکفرا) ” اور کفر کے لئے “ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
قول باری ہے فید رجال یحبون ان یتطھروا واللہ یحب المتطھرین اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند میں اس میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ اہل مسجد کی فضلیت اس مسجد کی اور اس میں نماز پڑھنے کی فضلیت ہوتی ہے۔ قول باری یحبون ان یتطھروا کی تفسیر میں حسن سے مروی ہے کہ وہ لوگ گناہوں سے پاکیزگی اختیار کرنا پسند کرتے تھے ۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد پانی کے ذریعے طہارت حاصل کرنا ہے۔
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ، انہیں ابو دائود نے ، انہیں محمد بن العلاء نے ، انہیں معاویہ بن ہشام نے یونس بن الحارث سے ، انہوں نے ابراہیم بن ابی میمونہ سے ، انہوں نے…
Read the full tafseer →203 برائی کی سزا کی ایک قسط اسی دنیا میں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی اپنی بنائی ہوئی عمارت ایک کانٹا بن کر ان لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ چھبتی رہے گی کہ ان کی غرض مقصود بھی اس سے حاصل نہ ہوئی اور ذلت و رسوائی بھی الگ اٹھانا پڑی اور ان کے اس اڈے کو ان کی نظروں کے سامنے ان کے منافقانہ عزائم و مقاصد اور ارمانوں سمیت جلا کر ڈھیر کردیا گیا سو اس طرح ان کو اپنے کیے کرائے کی سزا کی ایک قسط بطور نقد اسی دنیا میں مل گئی۔ سو اعمال کا بدلہ انسان کو آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتا ہے۔ نیکی کا نیک اور اور بدی کا بد۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ساتھ ہی اس سے اس حقیقت کو بھی آشکارا فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
منافقین کا منصوبہ اور ان کی سزا
تشریح : آیت 106 کا سلسلہ پچھلی آیات سے چل رہا ہے۔ غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین طرح کے لوگ تھے۔ ایک منافقین جن کی تعداد اسی (80) سے کچھ زائد تھی۔ دوسرے ابو لبابہ اور آپ کے چھ ساتھی، جنہوں نے آپ ﷺ سے سوال و جواب سے پہلے ہی اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا تھا۔ تیسرے کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھی۔
جیسا کہ پچھلی آیات سے منافقین کا ذکر چلا آرہا ہے تو یہاں بھی انہی کی سازش کا ذکر ہو رہا ہے اس کا تعلق ابوعامر نصرانی سے ہے اس نے مسجد قباء کے قریب ہی ایک مسجد بنائی اس مقصد کے لیے کہ وہاں بیٹھ کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنائے جائیں۔ مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیات 100 تا 110
اسرار و معارف
سابقون الا ولون
بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔
اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی انہوں نے یہ عمارت بنا کر اللہ و رسول کی دشمنی کا کام کیا ہے جس کا یہ اثر ہوا کہ ان کے دلوں میں ہمیشہ کے لئے جب تک موت انہیں ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دے، نفاق جم گیا۔ پس ” ریب “ سے مرد نفاق ہے۔ کذا فی الکبیر
Read the full tafseer →(9:110) لایزال۔ مضارع منفی۔ واحد مذکر غائب۔ زوال مصدر۔ فعل ناقص ہے۔ دوام اور تسلسل کا معنی دیتا ہے۔ ہمیشہ رہیگا۔
بنیانھم۔ ان کی عمارت۔ بنوا۔ انہوں نے بنائی۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ بناء مصدر۔ بنی مادہ۔
ریبۃ۔ ریب سے اسم ہے۔ راب یریب (باب ضرب) شبہ و گمان میں ڈالنا۔ کسی سے کوئی ناپسند چیز دیکھنا۔ ریبۃ شک و شبہ۔ تہمت۔ بےچینی۔ بےیقینی۔ ریب جمع۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا معنی شک و نفاق کیا ہے۔ کلبی کے نزدیک حسرت و ندامت ہے السدی اور المبرد نے اس کا مطلب غم و غصہ لیا ہے ۔ یعنی یہ کیفیات ان کے منصوبہ کے ناکام ہوجانے اور جس عمارت پر انہوں نے اتنی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اس کے منہدم ہوجانے کی وجہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
لغات القرآن آیت نمبر 107 تا 110
مسجد ضرار (نقصان پہنچانے والی مسجد) تفریق (اختلاف پیدا کرنے کو) ارصاد (شکار کے لئے، گھات لگانے کے لئے) حارب (جس نے جنگ کی) الحسنی (نیکی) یشھد (وہ گواہی دیتا ہے) اسس (بنیاد رکھ دی گئی) اول یوم (پہلے دن) ان تقوم (یہ کہ آپ کھڑے ہوں) رجال (مرد ہیں، کچھ لوگ ہیں ) یحبون (جو پسند کرتے ہیں) ان یتطھروا (یہ کہ وہ پاک صاف رہیں) بنیان (عمارت) شفا (کنارہ) جرف (کمزور گڑھا، کھوکھلا گڑھا) ھار (گرنے کو) انھار (وہ گر پڑا) لایزال (ہمیشہ) ریبۃ (شک کا کانٹا) تقطع (ٹکڑے ہوجائیں)
تشریح : آیت نمبر 107 تا 110
منافقین کی سازشوں کا ذکر پچھلی آیات میں آچکا ہے۔ اب یہاں ایک نئی خطرناک سازش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
منافقوں کا ذکر اور مسجد نبوی (ﷺ) اور مسجف قبا کی فضیلت
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ خزرج میں ایک شخص ابو عامر تھا، جو زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا۔ جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور قبیلہ خزرج کے لوگ اور بہت سے مسلمان ہوئے تو یہ ابو عامر اسلام نہ لایا، اور آنحضرت ﷺ سے ایک طرح کی عداوت رکھنے لگا اور مکہ کو چلا گیا۔ ہر قل بادشاہ روم کے پاس اس ابو عامر نے جا کر مدد کی خواہش کی تو اس نے وعدہ کیا تھا۔ اسی وعدے کے بھروسہ پر اس نے قبیلہ کے چند منافقوں کو خط لکھا تھا کہ : ” تم اپنی جگہ ہتھیار اور سامان سے تیار رہو، میں چند روز میں روم سے فوج لے کر آتا ہوں اور میرے لئے کوئی ٹھکانا ایسا…
Read the full tafseer →[60] یعنی مسجد ضرار۔
[61] یعنی ہمیشہ موجب حسرت و حرمان ہی رہے گی کہ جن اغراض سے عمارت بنائی وہ کوئی بھی پوری نہ ہوئیں اور رسوائی جو ہوئی وہ الگ۔
[62] کنا یہ ہے دوام حسرت سے۔ یہ مراد نہیں کہ موت کے بعد انہیں راحت نصیب ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
مسجد ضرار :
(ف 1) حضور ﷺ جب مدینے تشریف لے گئے تو اسلام مدینے والوں کا قومی مذہب قرار پایا ، توحید کا اجالا گھر گھر پہنچا اور لوگوں کے سینے پر تو اسلام سے جگمگا اٹھے ، منافقین کے لئے یہ ترقی ناقابل برداشت تھی انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کے دو مرکز ہوگئے ایک قبا اور دوسرا مسجد نبوی ، اور دونوں آباد ہیں ، مومن دونوں جگہ نور ومعرفت سے استفادہ کر رہے ہیں ، اور دونوں جگہوں سے ہدایت ورشد کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ، مسجدیں اس زمانے میں ، اسلامیوں کی ہر تحریک خیر و برکت کی مدارو محور ہوتی تھیں ، مسجدیں صرف سجدہ گاہیں نہ تھیں ، بلکہ عمل اور جدوجہد کی ہر ابداء یہیں سے ہوتی ، یہ درس گائیں بھی تھیں اور…
Read the full tafseer →110 ان لوگوں کی عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں موجب شک و نفاق رہے گی اور ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکتی رہے گی یہاں تک کہ ان کے دل ہی پارا پارا ہوجائیں اور ان کے قلوب ہی ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں اور فنا ہوجائیں اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا بڑی حکمت والا ہے۔ یعنی اس عمارت سے جو ارمان وابستہ تھے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ ہوا راز فاش ہوگیا سو الگ اور اس کو منہدم کرادیا گیا اور جلا دی گئی اور آج تک وہ کوڑے کا ایک ڈھیر ہے اس لئے جب تک کہ مرنہ جائیں ان کے دل میں حسرت ہی رہے گی اور ہمیشہ یہ لوگ نفاق میں مبتلا رہیں گے… حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ یعنی اس عمل بد کا اثر یہ ہوا کہ ہمیشہ ان کے…
Read the full tafseer →ف 2۔ الا ان تقطع قلوبھم۔ کا یہ مطلب نہیں کہ بعد فنا وموت کے راحت ہوجائے گی بلکہ یہ محاورات میں کنایہ ہے دوام حسرت سے۔
3۔ اوپر متخلفین عن الجہاد کی مذمت تھی آگے مجاہدین کی فضیلت پھر ان میں سے خاص کاملین کی جن میں دوسرے اوصاف ایمانیہ بھی ہوں مناقبت مذکور ہے۔
Read the full tafseer →انہوں نے مسجد کیا تعمیر کی دلوں کے ساتھ چمٹ جانے والا روگ لگ گیا :
143: بظاہر عمل کتنا ہی اچھا دکھائی دے جب غرض فساد پر مبنی ہو تو وہ کبھی اچھا نہیں رہتا۔ جن لوگوں نے اس مسجد کو تعمیر کیا ، کیا انہوں نے مال و دولت صرف نہیں کیا تھا ؟ اس جگہ اور مکان کا نام مسجد نہیں رکھا تھا ؟ وہ وہاں نمازیں نہیں ادا کرتے تھے ؟ بلاشبہ انہوں نے مال و دولت اس پر صرف کیا اس کا نام بھی مسجد رکھا اور نمازیں بھی وہیں ادا کرتے تھے لیکن اصل غرض وغایت ان کی درست نہ تھی اس لئے وہ عنداللہ ان کے لئے دوزخ کا گڑھا ثابت ہوا اور پھر یہ تو اس کی حقیقت اخروی تھی جو دنیوی صورت حال تھی اس کا اس طرح بیان فرمایا کہ ان منافقین نے…
Read the full tafseer →Then, in the last verse (110), it was said that this building would al-ways keep increasing the doubt and hypocrisy in their hearts unless their hearts are shredded into pieces. The sense is that their doubt, hypocrisy, envy and chagrin would go on increasing right to the end of their life.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →