Explained with ayahs 109–110
وہ کہ جس نے اللہ کے ڈر اور اللہ کی رضا کی طلب کے لئے بنیاد رکھی اور جس نے مسلمانوں کو ضرر پہنچانے اور کفر کرنے اور پھوٹ ڈلوانے اور مخالفین اللہ و رسول کو پناہ دینے کے لئے بنیاد رکھی یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ یہ دوسرے قسم کے لوگ تو اپنی بنیاد اس خندق کے کنارے پر رکھتے ہیں۔ جس میں آگ بھری ہوئی ہو اور ہو بھی وہ بنیاد ایسی کمزور کہ آگ میں جھک رہی ہو ظاہر ہے کہ ایک دن وہ آگ میں گرپڑے گی۔ ظالموں اور فسادیوں کا کام بھی نیک نتیجہ نہیں ہوتے۔ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسجد ضرار سے دھواں نکلتے دیکھا۔ امام ابن جریر ؒ کا قول ہے کہ ہم سے ذکر کیا گیا ہے کہ جن…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 103
متن میں لفظ ”جرف“ استعمال ہوا ہے جس کا اطلاق عربی زبان میں کسی ندی یا دریا کے اس کنارے پر ہوتا ہے جس کے نیچے کی مٹی کو پانی نے کاٹ کاٹ کر بہا دیا ہو اور اوپر کا حصہ بےسہارا کھڑا ہو۔ جو لوگ اپنے عمل کی بنیاد خدا سے بےخوفی اور اس کی رضا سے بےنیازی پر رکھتے ہیں ان کی تعمیر حیات کو یہاں اس عمارت سے تشبیہ دی گئی ہے جو ایسے ایک کھوکھلے بےثبات کنارہ دریا پر اٹھائی گئی ہو۔ یہ ایک بےنظیر تشبیہ ہے جس سے زیادہ بہتر طریقہ سے اس صورت حال کی نقشہ کشی نہیں کی جاسکتی۔ اس کی پوری معنویت ذہن نشین کرنے کے لیے یوں سمجھیے کہ دنیوی زندگی کی وہ ظاہری سطح جس پر مومن، منافق، کافر، صالح، فاجر، غرض…
Read the full tafseer →تیسری اور چوتھی آیت میں اس مسجد مقبول کے مقابلہ میں منافقین کی بنائی ہوئی مسجد ضرار کی مذمت بیان کی گئی ہے کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسے دریا کے کنارے بعض اوقات پانی زمین کے حصہ کو اندر سے کھا لیتا ہے اور اوپر زمین کی سطح ہموار نظر آتی ہے، اس پر اگر کوئی تعمیر کرے تو ظاہر ہے کہ وہ فوراً گر جائے گی، اسی طرح اس مسجد ضرار کی بنیاد ناپائدار تھی، اس کا انجام یہ ہوا کہ وہ گر پڑی، اور جہنم کی آگ میں گئی، جہنم کی آگ میں جانا مجازی معنی کے لئے بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے بنانے والوں کے لئے اس نے جہنم کا راستہ ہموار کردیا، اور بعض حضرات نے اس کو حقیقت پر بھی محمول کیا ہے کہ حقیقۃً جب یہ مسجد گرائی گئی ہے تو…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ۔
شَفا کسی چیز کے کنارے اور اس کی دھار کو کہتے ہیں۔ جرف، ندیوں، نالوں اور وادیوں میں دیکھا ہوگا کہ بعض اوقات پانی کا زور کسی کنارے کے نیچے سے مٹی بہا لے جاتا ہے، اور چھجے کی طرح صرف کنارہ لٹکا رہ جاتا ہے۔ اس طرح کی کھوکھلی اور بےثبات کگر کو عربی میں جرف کہتے ہیں۔ ھار، یہور ھورا سے ہے، ھار البناء کے معنی عمارت پھٹ کر مائل بہ سقط ہے، اسی کا فاعل ھائر بھی آتا ہے اور قلب ہو کر ھار بھی…
Read the full tafseer →19۔ 1 اس میں مومن اور منافق کے عمل کی مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ مومن کا عمل اللہ کے تقوٰی پر اور اس کی رضامندی کے لئے ہوتا ہے۔ جب کہ منافق کا عمل ریاکاری اور فساد پر مبنی ہوتا ہے۔ جو اس حصہ زمین کی طرح جس کے نیچے سے وادی کا پانی گزرتا ہے اور مٹی کو ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ وہ حصہ نیچے سے کھوکھلا رہ جاتا ہے۔ جس پر کوئی تعمیر کرلی جائے تو فوراً گرپڑے۔ ان منافقین کا مسجد بنانے کا عمل بھی ایسا ہی ہے جو انہیں جہنم میں ساتھ لے گرے گا۔
Read the full tafseer →84: قرآن کریم نے جو لفظ استعمال فرمایا ہے۔ وہ ”جرف“ ہے۔ یہ در اصل کسی زمین یا ٹیلے یا پہاڑ کے اس حصے کو کہتے ہیں جس کا نچلا حصہ پانی کے سیلاب وغیرہ کی وجہ سے بہہ گیا ہو، اور اوپر کھوکھلی مٹی رہ گئی ہو جو کسی بھی وقت گر سکتی ہو۔ اردو میں ایسی جگہ کو ڈھانگ کہتے ہیں۔ اس لیے ترجمے میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →افمن اسس بنیانہ علی تقوی من اللہ ورضوان خیر ام من اسس بنیانہ علی شفاجرف ھارٍ فانھا ربہ فی نار جھنم پھر کیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت (مسجد) کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی یا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی (غار) کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو ‘ رکھی پھر وہ عمارت اپنے بنانے والے کو لے کر دوزخ کی آگ میں گر پڑی۔
اَفَمَنْ میں سوال تقریری ہے اور جواب چونکہ واضح تھا ‘ اسلئے اس کو ذکر نہیں کیا۔ بُنْیَانَہٗ سے مراد ہے اپنے دین کی بنیاد یا اپنی عمارت کی بنیاد۔ عَلی اتقوٰی یعنی اللہ کے خوف اور اللہ کی رضا جوئی کی مضبوط دیواروں اور بنیادوں پر۔ عَلٰی شفاجُرُفٍ…
Read the full tafseer →3 یعنی جس کام کی بنیاد تقویٰ ، یقین و اخلاص اور خدا کی رضا جوئی پر ہو، وہ نہایت مستحکم اور پائدار ہوتا ہے۔ برخلاف اس کے جس کام کی بناء شک و نفاق اور مکرو خداع پر ہو، وہ اپنی ناپائداری، بودے پن اور انجام بد کے لحاظ سے ایسا ہے جیسے کوئی عمارت ایک کھائی کے کنارہ پر کھڑی کی جائے کہ ذرا زمین سر کی یا پانی کی تھپیڑ کنارہ کو لگی، ساری عمارت دھڑام سے نیچے آرہی اور آخرکار دوزخ کے گڑھے میں جا پہنچی۔
4 یعنی بظاہر کوئی نیک عمل بھی کریں (جیسے مسجد بنانا) ظلم و ناانصافی کی شامت سے بن نہیں پڑتا۔
Read the full tafseer →آیت 109 اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌ
اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ہَارٍ فَانْہَارَ بِہٖ فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ ط
یعنی جب انسان کوئی عمارت تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے کسی مضبوط اور ٹھوس جگہ کا انتخاب کرتا ہے۔ اگر وہ کسی کھوکھلی جگہ پر یا کسی کھائی وغیرہ کے کنارے پر عمارت تعمیر کرے گا تو جلد یا بدیر وہ عمارت گر کر ہی رہے گی۔ دراصل یہ منافقین کی تدبیروں اور سازشوں کی مثال دی گئی ہے کہ ان کی مثال ایسی ہے جیسے وہ جہنم کی گہری کھائی کے کنارے پر اپنی عمارتیں تعمیر کر رہے ہوں ‘ چناچہ وہ کنارہ بھی گر کر رہے گا اور خود ان کو اور ان…
Read the full tafseer →122 جرف سے مراد دریا وغیرہ کا ایسا کنارہ ہے جس کے نیچے کی زمین دریا بہا کرلے گیا ہو اور وہ کسی وقت بھی پانی کی ایک ہی ٹکر سے گر کر دریا میں گرپڑے۔ اس آیت میں اللہ کے خوف اور اس کی رضا کو پختہ اور ٹھوس زمین سے اور نفاق کو کھوکھلے گڑھے یا کھائی سے تشبیہ دی گئی ہے یعنی جس عمل کی بنیاد نفاق پر ہو وہ خواہ دیکھنے میں اچھا نظر آتا ہو، جیسے کوئی مسجد بنانا وہ اسے جہنم کی گہرائیوں میں جاپٹکے گا۔
Read the full tafseer →201۔ مراد اس سے اغراض باطلہ کفریہ ہیں۔ تشبیہ ناپائداری بےثباتی، کمزوری میں دی گئی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ دو عمارتیں ہیں ایک کی بنیاد تقوی اور رضائے الہی پر ہے اور دوسری کی معصیت وکفر پر ہے۔ پہلی معزز ہے اور باقی رکھنے کے قابل، دوسری ذلیل ہے اور گرادیئے جانے کے قابل ہے۔ وحاصل الکلام ان احد البنائین قصد بانیہ ببناۂ تقوی اللہ ورضوانہ والبناء الثانی قصد بانیہ ببناۂ المعصیۃ والکفر فکان البناء الاول شریفا واجب الابقاء وکان الثانی خبیثا واجب الھدم (کبیر)
202۔ یعنی ان کو جو نام دین کا لے کر طرح طرح کے مفسدہ دین ہی میں برپا کرتے رہتے ہیں۔ فانھار بہ۔ ضمیر بانی عمارت کی طرف سے جو اس میں رہا کرتا تھا۔ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیت نمبر 100 تا 110
ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے…
Read the full tafseer →افمن اسس بنیانہ علی تقوی من اللہ ورضوان خیر ام من اسس بنیانہ علی شفاجرف ھارٍ فانھا ربہ فی نار جھنم پھر کیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت (مسجد) کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی یا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی (غار) کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو ‘ رکھی پھر وہ عمارت اپنے بنانے والے کو لے کر دوزخ کی آگ میں گر پڑی۔
اَفَمَنْ میں سوال تقریری ہے اور جواب چونکہ واضح تھا ‘ اسلئے اس کو ذکر نہیں کیا۔ بُنْیَانَہٗ سے مراد ہے اپنے دین کی بنیاد یا اپنی عمارت کی بنیاد۔ عَلی اتقوٰی یعنی اللہ کے خوف اور اللہ کی رضا جوئی کی مضبوط دیواروں اور بنیادوں پر۔ عَلٰی شفاجُرُفٍ…
Read the full tafseer →(109) پھر سمجھ لو آیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت یعنی مسجد قباء کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری اور اس کی خوشنودی پر رکھی ہو، یا وہ شخص بہتر ہوگا جس نے اپنی عمارت یعنی مسجد شقاق کی بنیاد کسی گھاٹی یا غار کے کنارہ پر جو گرنے ہی کو ہورکھی، پھر وہ عمارت اس بانی کو لے کر آتش دوزخ میں گرپڑے، اللہ تعالیٰ ان منافقین کی نہ مغفرت فرماتے ہیں اور نہ ہی ان کو نجات دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْيَانَهٗ عَلٰي تَقْوٰى : ”شَفَا“ کنارا ”جُرُفٍ“ ندی نالے یا دریا کا کنارا جس کے نیچے سے پانی مٹی بہا کرلے گیا ہو اور وہ بس گرنے ہی والا ہو، کیونکہ اس کے نیچے کوئی بنیاد ہی نہیں کہ ٹھہر سکے، صرف مٹی کا نیچے سے کھوکھلا تودا ہے۔ ”ھَارٍ“ اسم فاعل ہے ”ھَارَ یَھَارُ (خَافَ یَخَافُ)“ سے یا ھار یَھُوْرُ (قَالَ یَقُوْلُ)“ سے۔ اصل ”ھَاءِرٌ“ تھا، جیسا کہ ”خَاءِفٌ“ یا ”قَاءِلٌ“ ، پھر اس میں قلب واقع ہوا تو ”ھَارِیٌ“ ہوگیا اور ”رَاضِیٌ“ سے یاء گرنے کے بعد ”رَاضٍ“ کی طرح ”ھَارِیٌ“ سے ”ھَارٍ“ ہوگیا۔ ”فَانْهَارَ“ باب انفعال ”اِنْھِیَارٌ“ سے ماضی معلوم ہے۔
یہ دو شخصوں کی مثال ہے، ایک وہ جس…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 109۔
اس آیت میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” افمن اسس “۔ یعنی کیا وہ جس نے بنیاد رکھی، یہ استفہام برائے تقریر ہے، اور من بمعنی الذی ہے اور یہ مبتدا ہونے کے سبب محل رفع میں ہے اور اس کی خبر خیر ہے، حضرت نافع، ابن عامر اور ایک جماعت نے اسس بنیانہ پڑھا ہے یعنی یہ صیغہ فعل مجہول ہے اور دونوں مقامات پر بنیان کو رفع دیا گیا ہے اور ابن کثیر، ابو عمرو، حمزہ، کسائی اور ایک جماعت نے اسس بنیانہ “ پڑھا ہے یعنی صیغہ فعل معروف ہے اور دونوں مقامات پر بنیان کو نصب دی گئی ہے۔ (1) (المحرر الوجیز، جلد 3، صفحہ 84 دارالکتب العلمیہ)
اور یہی ابو عبید کی پسند ہے، کیونکہ جنہوں نے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کی ہے۔ (آیت) ” افمن اسس بنیانہ علی تقوی من اللہ ورضوان خیر “ سے مسجد قباء مراد ہے اور (آیت) ام من اسس بنیانہ علی شفا جرف ھار فانھار “ سے مسجد ضرار مراد ہے۔
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے ضحاک ؓ سے روایت کیا کہ مسجد رضوان وہ پہلی مسجد ہے جو مدینہ منورہ میں بنائی گئی اسلام کے زمانہ میں۔
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اس مسجد کی بنیاد رکھی جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی جب بھی ایک اینٹ اٹھاتے تو فرماتے اے اللہ بلاشبہ خیر تو آخرت کی خیر ہے پھر آپ کا بھائی اینٹیں اٹھانے لگا۔ اور وہ وہی کلمات کہتا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہاں تک…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ [تو کیا وہ ] اَسَّسَ [ جس نے بنیاد بھری ] بُنْيَانَهٗ [ اپنی عمارت کی ] عَلٰي تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ [ اللہ کے تقوی پر ] وَرِضْوَانٍ [ اور رضا مندی پر ] خَيْرٌ [ بہتر ہے ] اَمْ مَّنْ [ یا وہ ] اَسَّسَ [ جس نے بنیاد بھری ] بُنْيَانَهٗ [اپنی عمارت کی ] عَلٰي شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ [ گرنے والے چھجے کے کنارے پر ] فَانْهَارَ [ تو وہ گرپڑا ] بِهٖ [ اس کے (یعنی ) عمارت کے ساتھ ] فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ ۭ [ دوزخ کی آگ میں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] لَا يَهْدِي [ ہدایت نہیں دیتا ] الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظالم لوگوں کو ]
ج ر ف، (ن) جرفا ، مٹی کھودنا ، مٹی کھرچنا۔ جرف ۔ دریا کا ایسا کنارہ جس کی مٹی…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی) (الآیۃ) کیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے عمارت کی بنیاد اللہ سے ڈرنے پر اور اللہ کی خوشنودی پر رکھی ہو یا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی کے کنارے پر رکھی ہو جو گرنے ہی کو ہو رہی ہو۔ پھر وہ عمارت اس بنانے والے کو دوزخ کی آگ میں لے کر گرپڑے۔ جس جگہ پانی بہتا ہو وہاں پانی زمین کو کاٹتا رہتا ہے اور جس کنارے سے کاٹتا ہے اس میں اندر کی جگہ کھوکھلی رہ جائی ہے۔ اور اوپر سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری جگہ کی طرح یہ جگہ بھی مضبوط ہوگی لیکن چونکہ وہ اندر سے خالی ہوچکی ہوتی ہے اس لیے وہ تھوڑی دیر میں گر جاتی ہے اسی کو (عَلٰی شَفَاجُرُفٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
ذکر مسجد ضرار ومسجد تقوی
قال اللہ تعالیٰ ۔ والذین اتخذوا مسجدا ضرار۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم۔
(ربط): اوپر سے مسلسل منافقین کا ذکر چلا آرا ہے اب ان آیات میں منافقین کی ایک خاص خباثت کا ذکر ہے وہ یہ کہ انہوں نے مسجد قباء کے مقابلہ میں اور ضد میں ایک مسجد بنائی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسجد کے نام سے منافقین کا ایک دفتر اور ایک اڈہ قائم ہوجاے۔ جس میں جمع ہو کر آں حضرت ﷺ کے خلاف مشورے کیا کریں نام اس کا مسجد ہو اور حقیق اس کی منافقین کی ایک انجمن ہو جس کا قصہ یہ ہوا کہ آں حضرت ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے آئے تو اول مدینہ سے باہر قباء میں فروکش ہوئے چند روز وہاں قیام کر کے مدینہ میں تشریف لے گئے اور…
Read the full tafseer →105:“ اَفَمَنْ اَسَّسَ الخ ” اس میں مسجد قبا کے بانیوں کی تعریف اور ان کے لیے بشارت ہے اور مسجد ضرار کے بانیوں کی مذمت اور ان کے لیے تخویف ہے۔ “ فَانْھَارَ بِهٖ ” میں با تعدیہ کے لیے ہے۔ مسجد قبا والوں نے چونکہ اس کی بنیاد خوف خدا اور اللہ کی رضا جوئی پر رکھی تھی۔ اس لیے وہ ان کے لیے دخول جنت کا باعث بنی۔ اس کے برعکس مسجد ضرار والوں نے اس کی بنیاد جہنم کے کنارے پر یعنی کفر و نفاق اور شر و فساد پر رکھی اس لیے وہ ان کو جہنم میں لے گری۔ “ اي من اسس بنیانه علی الاسلام خیر ام من اسس بنیانه علی الشرک والنفاق ” (قرطبی ج 8 ص 285) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مومنوں کا حال ذکر کیا تھا جو کوتاہی اور سستی کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو سکے۔ ان میں سے ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ انہوں نے اعتراف گناہ کرکے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرما کی ان کی معافی کا اعلان کردیا۔ تین آدمیوں کے دوسرے گروہ پر کڑی آزمائش تھی لہٰذا ان کا معاملہ اللہ نے موخر کردیا ، یہاں پر بھی ان کا بیان بعد میں آئیگا۔ آب آج کی آیات میں بھی پکے مناقفین ہی کا ذکر ہو رہا ہے ، جن کے دل میں ایمان نہیں تھا ، اور وہ طرح طرح کی سازشیں کر کے اہل ایمان کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ ایسے ہی منافقوں…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ اَسَّـسَ بُنْيَانَہٗ عَلٰي تَقْوٰى مِنَ اللہِ وَرِضْوَانٍ خَيْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّـسَ بُنْيَانَہٗ عَلٰي شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ فَانْہَارَ بِہٖ فِيْ نَارِ جَہَنَّمَ 0 ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِــمِيْنَ 109
أسَس
أَسَّسَ بنیانه : جعل له أُسّاً ، وهو قاعدته التي يبتنی عليها، يقال : أُسٌّ وأَسَاسٌ ، وجمع الأس :
إِسَاسٌ وجمع الإساس : أُسُس، يقال : کان ذلک علی أسّ الدهر ، کقولهم : علی وجه الدهر .
( ا س س ) اسس بنیانہ ۔ (9 ۔ 9 ۔ 1) کے معنی ہیں اس نے عمارت کی بنیاد رکھی اور بنیاد کو اس و اساس کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع اساس اور اساس کی جمع اسس آتی ہے محاورہ ہے کان ذالک علی اس الدھر (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
4 ؎ یہ قباء میں ایک پہلی مسجد تھی جو حضور ﷺ کی تشریف آوری پر بنی تھی جس کو مسجد قوت الاسلام کہتے ہیں 12 منہ
Read the full tafseer →اَفَمَنْ اَ سَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ فَانْھَارَبہٖ فِیْ نَارِجَھَنَّمَ ط واللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (التوبہ : 109)
(کیا جس نے اپنی تعمیر کی بنیاد رکھی اللہ کے تقوی اور اس کی خوشنودی پر۔ وہ بہتر ہے یا وہ جس نے بنیاد رکھی اپنی عمارت کی ایک کھو کھلی گرتی ہوئی کگر پر، پس وہ گرگئی اس کو لے کر جہنم میں اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ )
مسجد قبا اور مسجد ضرار کا فرق ایک مثال
اس آیت میں چند مشکل الفاظ ہیں۔ اس لیے میں پہلے اس کی تشریح کیے دیتا ہوں۔ ” شفا “ کسی چیز کے کنارے کو کہتے ہیں۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
پچھلی آیت میں حکم ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس مسجد میں نماز پڑھنا ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر اٹھائی گئی ہے۔ اس مسجد کو آپ ﷺ نے مدینہ داخل ہونے سے پہلے قبا محلہ میں اس وقت تعمیر فرمایا تھا۔ جب آپ تقریبًا پندرہ دن کے لیے قبا میں قیام پذیر ہوئے تھے۔ یہاں نہ صرف اس مسجد کی تعریف فرمائی گئی ہے۔ بلکہ وہاں کے نمازیوں کے اوصاف بھی گنوائے گئے ہیں کہ یہ لوگ طہارت کا خیال رکھنے والے نہایت پاکباز ہیں۔ اللہ پاکباز لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ اس کے بعد دونوں مسجدوں کا موازنہ کیا گیا ہے۔ کہ کیا دونوں برابر ہوسکتی ہیں ؟ ایک کی بنیاد خدا خوفی اور اپنے رب کی خوشنودی پر اٹھائی گئی…
Read the full tafseer →دونوں میں تقابلی فرق :
آیت 109: اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَا نَہٗ (کیا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی) تعمیر کی بنیاد رکھتا ہے۔ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ھَارٍ (تقویٰ پر اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر وہ زیادہ بہتر ہے یا وہ شخص جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی کھائی کے گرنے والے کنارے پر رکھی ہو) یہ استفہام تقریری ہے اور واضح ہونے کی وجہ سے جواب ذکر نہیں کیا گیا، مطلب یہ ہے۔ جس نے اپنے دین کی بنیاد مضبوط اساس پر رکھی ہو۔ وہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور رضا مندی ہے۔ خیرام من جس نے اپنی عمارت کی تعمیر کمزور بنیادوں پر رکھی ہو۔ وہ…
Read the full tafseer →تفسیر آیت نمبر 109: ” افمن اسس بنیا نہ علی تقوی من اللہ ورضوان خیر ام من اسس بنیانہ علی شفا جرف “ ابن عمر و اور حمزہ اور ابوبکر رحمہم اللہ نے راء کے سکون کے ساتھ اور باقی حضرات نے راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں فصیح ہیں۔ جرف ایسا کنواں جس کی منڈیر نہ ہو ” ھار “ یعنی ہائر اور بمعنی وہ گرنے والا ہے۔ ” فانھار بہ یعنی بنانے والے ساتھ گرپڑے فی نار جھنم “ مراد یہ ہے کہ اس مسجد ضرار کو تعمیر کرنا جہنم کے کنارے پر تعمیر کی طرح ہے وہ اپنے اوپر آباد لوگوں کے ساتھ جہنم میں گرجائے گا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ ان کا نفاق ان کو جہنم میں لے جائے گا ” واللہ لا یھدی القوم الظلمین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
107۔ 110۔ معتبر سند سے تفسیر ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردو یہ میں امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ خزرج میں ایک شخص ابو عامر تھا جو زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا اور تورات اور انجیل اس نے خوب پڑھی تھی اور قبیلہ کے لوگ اس کی عزت کرتے تھے جب آنحضرت مدینہ میں تشریف لائے اور قبیلہ خزرج کے لوگ بہت مسلمان ہوئے تو یہ ابو عامر اسلام نہ لایا اور آنحضرت سے ایک طرح کی عداوت رکھنے لگا اور مکہ کو چلا گیا احد کی لڑائی کے زمانہ میں اہل مکہ کو بہکا کر مسلمانوں پر چڑھا کر لایا اور چند گڑھے اس نے لڑائی کی صفوں کے بیچ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
آیت 107-110
اہل قبا میں سے کچھ منافقین نے مسجد قبا کے پہلو میں ایک مسجد بنائی اس مسجد کی تعمیر سے ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور ان کے درمیان اختلاف اور افتراق پیدا کرنا تھا ‘ نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف تخریب کاری کرنے والوں کے لئے بوقت ضرورت محفوظ پناہ گاہ تیار کرنا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو بیان کرتے ہوئے ان کا بھید ظاہر کردیا ‘ چناچہ فرمایا : (والذین اتخذوا مسجدالضرار) ” اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لئے “ یعنی اہل ایمان اور ان کی اس مسجد کو نقصان پہنچانے کی خاطر جس میں اہل ایمان جمع ہو کر نماز پڑھتے تھے (وکفرا) ” اور کفر کے لئے “ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
قول باری ہے فید رجال یحبون ان یتطھروا واللہ یحب المتطھرین اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند میں اس میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ اہل مسجد کی فضلیت اس مسجد کی اور اس میں نماز پڑھنے کی فضلیت ہوتی ہے۔ قول باری یحبون ان یتطھروا کی تفسیر میں حسن سے مروی ہے کہ وہ لوگ گناہوں سے پاکیزگی اختیار کرنا پسند کرتے تھے ۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد پانی کے ذریعے طہارت حاصل کرنا ہے۔
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ، انہیں ابو دائود نے ، انہیں محمد بن العلاء نے ، انہیں معاویہ بن ہشام نے یونس بن الحارث سے ، انہوں نے ابراہیم بن ابی میمونہ سے ، انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
198 ۔ مسجد " ضرار " کا ذکر : اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں نے یہ نام نہاد مسجد بنائی اور انہوں نے یہ مسجد قبا کے نزدیک اپنی انہی اغراض خبیثہ کی تکمیل کے لیے جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے، یہاں تک کہ اس کا نام ہی مسجد " ضرار " مشہور ہوگیا۔ اور حضور نے بذریعہ وحی حقیقیت حال سے آگہی پانے کے بعد اس کی اینٹ سے اینٹ بجوا دی اور اسے جلا کر راکھ کردیا۔ اور اسی سے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ بدمعاشی و برائی کے ایسے تمام ادوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے جو اسلام کے خلاف کارروائیوں کے لیے قائم کیے گئے ہوں، سو ان لوگوں نے اپنی اغراض خبیثہ کی تکمیل کے لیے ڈیڑھ اینٹ کی یہ مسجد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
منافقین کا منصوبہ اور ان کی سزا
تشریح : آیت 106 کا سلسلہ پچھلی آیات سے چل رہا ہے۔ غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین طرح کے لوگ تھے۔ ایک منافقین جن کی تعداد اسی (80) سے کچھ زائد تھی۔ دوسرے ابو لبابہ اور آپ کے چھ ساتھی، جنہوں نے آپ ﷺ سے سوال و جواب سے پہلے ہی اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا تھا۔ تیسرے کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھی۔
جیسا کہ پچھلی آیات سے منافقین کا ذکر چلا آرہا ہے تو یہاں بھی انہی کی سازش کا ذکر ہو رہا ہے اس کا تعلق ابوعامر نصرانی سے ہے اس نے مسجد قباء کے قریب ہی ایک مسجد بنائی اس مقصد کے لیے کہ وہاں بیٹھ کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنائے جائیں۔ مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیات 100 تا 110
اسرار و معارف
سابقون الا ولون
بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔
اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ یا وہ عمارت دھڑام سے اپنے بنانے والے کو لے کر دوزخ کی آگ میں جا پڑے
9 ۔ یعنی بےانصافی کی یہ شامت پڑتی ہے کہ نیک عمل کرنا بھی چاہیں تو بن نہیں آتا۔ (از موضح)
Read the full tafseer →(9:109) اسس بنیاتہ۔ اسس (باب تفعیل) تاسیس بنیاد رکھنا۔ اس نے بنیاد رکھی۔ بنیانہ۔ بنیان یعنی مبنیۃ ۔ غفران کی طرح مصدر ہے بمعنی مفعول استعمال ہوا ہے ہ ضمیر واحد مذکر دین کے لئے یعنی من اسس بنیان دینہ جس نے اپنے دین کی بنیاد رکھی۔ یا من وضع اساس ما یبنیہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ۔
شفا۔ شفاء کنارہ۔ کنویں وغیرہ کے کنارے کو کہتے ہیں۔ جمع اشفاء (شفو مادہ) اس کا تثنیہ شفوان آتا ہے۔ شفا قرب ہلاکت کے لئے ضرب المثل ہے۔ علی شفاحفرۃ من النار (3:103) آگ کے گڑھے کے کنارے تک۔ اور اشفی فلان علی الہلاک فلاں ہلاکت کے قریب پہنچ گیا ۔
جرف۔ ندی یا نالے کا وہ کنارہ جس کا نچلہ حصہ پانی بہا کرلے گیا ہو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
لغات القرآن آیت نمبر 107 تا 110
مسجد ضرار (نقصان پہنچانے والی مسجد) تفریق (اختلاف پیدا کرنے کو) ارصاد (شکار کے لئے، گھات لگانے کے لئے) حارب (جس نے جنگ کی) الحسنی (نیکی) یشھد (وہ گواہی دیتا ہے) اسس (بنیاد رکھ دی گئی) اول یوم (پہلے دن) ان تقوم (یہ کہ آپ کھڑے ہوں) رجال (مرد ہیں، کچھ لوگ ہیں ) یحبون (جو پسند کرتے ہیں) ان یتطھروا (یہ کہ وہ پاک صاف رہیں) بنیان (عمارت) شفا (کنارہ) جرف (کمزور گڑھا، کھوکھلا گڑھا) ھار (گرنے کو) انھار (وہ گر پڑا) لایزال (ہمیشہ) ریبۃ (شک کا کانٹا) تقطع (ٹکڑے ہوجائیں)
تشریح : آیت نمبر 107 تا 110
منافقین کی سازشوں کا ذکر پچھلی آیات میں آچکا ہے۔ اب یہاں ایک نئی خطرناک سازش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
منافقوں کا ذکر اور مسجد نبوی (ﷺ) اور مسجف قبا کی فضیلت
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ خزرج میں ایک شخص ابو عامر تھا، جو زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا۔ جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور قبیلہ خزرج کے لوگ اور بہت سے مسلمان ہوئے تو یہ ابو عامر اسلام نہ لایا، اور آنحضرت ﷺ سے ایک طرح کی عداوت رکھنے لگا اور مکہ کو چلا گیا۔ ہر قل بادشاہ روم کے پاس اس ابو عامر نے جا کر مدد کی خواہش کی تو اس نے وعدہ کیا تھا۔ اسی وعدے کے بھروسہ پر اس نے قبیلہ کے چند منافقوں کو خط لکھا تھا کہ : ” تم اپنی جگہ ہتھیار اور سامان سے تیار رہو، میں چند روز میں روم سے فوج لے کر آتا ہوں اور میرے لئے کوئی ٹھکانا ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
[59] نبی ﷺ جب مدینے تشریف لائے تو پہلے قبا نامی مقام میں قیام فرمایا۔ یہاں آپ کے حکم سے ایک مسجد تعمیر ہوئی جو عہد اسلام کی پہلی مسجد ہے۔ بعض منافقوں نے اس مسجد کے پاس ایک نئی مسجد تعمیر کی اور جب آپ تبوک کے لئے نکل رہے تھے تو آپ کی خدمت میں آ کر عرض کی کہ ایک دن وہاں آکر نماز پڑھا دیجئے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابھی تو سفر درپیش ہے واپسی پر دیکھا جائے گا۔ جب آپ تبوک سے واپس ہوئے اور مدینے کے بالکل قریب پہنچ گئے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بانیان مسجد کے منافقانہ مقاصد سے آپ کو مطلع کردیا۔ چناچہ آپ کے حکم سے مسجد گرا دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
مسجد ضرار :
(ف 1) حضور ﷺ جب مدینے تشریف لے گئے تو اسلام مدینے والوں کا قومی مذہب قرار پایا ، توحید کا اجالا گھر گھر پہنچا اور لوگوں کے سینے پر تو اسلام سے جگمگا اٹھے ، منافقین کے لئے یہ ترقی ناقابل برداشت تھی انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کے دو مرکز ہوگئے ایک قبا اور دوسرا مسجد نبوی ، اور دونوں آباد ہیں ، مومن دونوں جگہ نور ومعرفت سے استفادہ کر رہے ہیں ، اور دونوں جگہوں سے ہدایت ورشد کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ، مسجدیں اس زمانے میں ، اسلامیوں کی ہر تحریک خیر و برکت کی مدارو محور ہوتی تھیں ، مسجدیں صرف سجدہ گاہیں نہ تھیں ، بلکہ عمل اور جدوجہد کی ہر ابداء یہیں سے ہوتی ، یہ درس گائیں بھی تھیں اور…
Read the full tafseer →109 کیا بھلا وہ شخص جو اپنی عمارت کی بنیاد خدا سے ڈرنے اور اس کی رضامندی اور رضاجوئی پر رکھے وہ بہتر ہے یا وہ بہتر ہے جو اپنی عمارت کی بنیاد کسی کھائی کے ایسے کڑاڑے کے کنارے پر رکھے جو گراہی چاہتا ہو پھر وہ کڑاڑا اس بانی کو لیکر جہنم کی آگ میں جاگرے اور دوزخ کی آگ میں گرپڑے اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔
یعنی کہاں وہ مسجد قبا اور مسجد نبوی جس کے بانی نے اس کی بنیاد تقوے اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی پر رکھی اور کہاں وہ بدبخت جس نے اپنی مسجد ضرار کی بنیاد عقائد فاسدہ اور توقعات باطلہ پر رکھ دی اور کھائی کے ایسے کڑاڑے پر رکھ دی جس کو پانی کے کاٹ کر گرنے کے قریب کردیا ہے…
Read the full tafseer →ف 1۔ مراد اس سے اغراض باطلہ کفریہ ہیں ناپائیداری میں اس کے ساتھ تشبیہ دی گئی۔
Read the full tafseer →مسجد ضرار اور مسجد قباء کا تقابل کر کے دکھایا گیا ہے تاکہ بات ذہن نشین ہوجائے :
141: نبی اعظم وآخر ﷺ نے ایسے شخص کو امام بنانے سے منع فرمایا جس کو آپ نے قبلہ رو تھوکتے دیکھا اس محلّہ کے لوگوں نے یہ فرمایا کہ فلاں شخص تم کو جماعت کراتا ہے لیکن آئندہ تم اس کو امامت کے لئے کھڑا نہ کرنا۔ لوگوں نے عین نماز کے وقت اس کو نماز سے روک دیا کن لوگوں نے ؟ جن لوگوں نے اس کو وہاں مقرر کیا تھا اور یہ اس لئے فرمایا گیا کہ انہی لوگوں کو حق ہے جن لوگوں نے اس کو امام منتخب کیا ہے۔ وہ شخص جس کو اماتم سے روکا گیا آپ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ نے ان لوگوں کو میری امامت سے منع فرمایا ؟ آپ ﷺ نے…
Read the full tafseer →In the third (109) and the fourth (110) verses, Masjid Dirar (the harmful mosque) made by the hypocrites has been condemned as it has to be when compared with a masjid that is blessed. This has been accomplished through the use of a similitude. The surface of the land on which they were laying the foundation of their ` masjid' has been likened to a landmass that has been corroded on the inside by flowing water. The topsoil looks solid and smooth. Now, if someone starts building there, it is obvious that the whole thing would collapse instantly. Similarly, the foundation of this Masjid Dirar…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →