Explained with ayahs 107–108
ایک قصہ ایک عبرت، مسجد ضرار۔
ان پاک آیتوں کا سبب نزول سنئے ! رسول اللہ ﷺ مکہ شریف سے ہجرت کر کے مدینے پہنچے۔ اس سے پہلے مدینے میں ایک شخص تھا جس کا نام ابو عامر راہب تھا۔ یہ خزرج کے قبیلے میں سے تھا۔ جاہلیت کے زمانے میں نصرانی بن گیا تھا، اہل کتاب کا علم بھی پڑھا تھا۔ عابد بھی تھا اور قبیلہ خزرج اس کی بزرگی کا قائل تھا۔ جب حضور ﷺ یہاں آئے، مسلمانوں کا اجتماع آپ ﷺ کے پاس ہونے لگا۔ یہ قوت پکڑنے لگے یہاں تک کہ بدر کی لڑائی ہوئی اور اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں غالب رکھا تو یہ جل بھن گیا۔ کھلم کھلا مخالفت و عداوت کرنے لگا اور یہاں سے بھاگ کر کفار مکہ سے مل گیا۔ اور انہیں مسلمانوں سے لڑائی کرنے…
Read the full tafseer →سورة التَّوْبَة 102
نبی ﷺ کے مدینے تشریف لے جانے سے پہلے قبیلہ خزرج میں ایک شخص ابو عامر نامی تھا جو زمانہ جاہلیت میں عیسائی راہب بن گیا تھا۔ اس کا شمار علماء اہل کتاب میں ہوتا تھا اور رہبانیت کی وجہ سے اس کے علمی وقار کے ساتھ ساتھ اس کی درویشی کا سکہ بھی مدینے اور اطراف کے جاہل عربوں میں بیٹھا ہوا تھا۔ جب نبی ﷺ مدینے پہنچے تو اس کی مسیحت وہاں خوب چل رہی تھی۔ مگر یہ علم اور یہ درویشی اس کے اندر حق شناسی اور حق جوئی پیدا کرنے کے بجائے الٹی اس کے لئے ایک زبردست حجاب بن گئی اور اس حجاب کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضور ﷺ کی تشریف آوری کے بعد وہ نعمت ایمان ہی سے محروم نہ رہا بلکہ آپ کو اپنی مشیخت کا حریف…
Read the full tafseer →اس مسجد ضرار کے متعلق دوسری آیت میں رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم دیا گیا ہے (آیت) لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا، اس میں قیام سے مراد نماز کے لئے قیام ہے، مطلب یہ ہے یہ کہ آپ اس نام کی مسجد میں ہرگز نماز نہ پڑھیں۔
مسئلہاس سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ آج بھی اگر کوئی نئی مسجد پہلی مسجد کے متصل بلا کسی ضرورت کے محض ریاء و نمود کے لئے یا ضد وعناد کی وجہ سے بنائی جائے تو اس میں نماز پڑھنا بہتر نہیں، اگرچہ نماز ہوجاتی ہے۔
اسی آیت میں آپ کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ آپ کا نماز پڑھنا اسی مسجد میں درست ہے جس کی بنیاد اول سے تقوٰی پر رکھی گئی ہے، اور اس میں ایسے لوگ نماز پڑھتے ہیں جن کو پاکی اور طہارت میں پوری احتیاط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
107۔ 108: وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّكُفْرًا وَّتَفْرِيْقًۢا بَيْنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ ۭوَلَيَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّا الْحُسْنٰى وَاللّٰهُ يَشْهَدُ اِنَّھُمْ لَكٰذِبُوْنَ۔
یہ منافقین کے سب سے زیادہ شریر گروہ کا ذکر ہے۔ ان لوگوں کی جس شرارت کی طرف یہاں اشارہ ہے وہ یہ ہے کہ اگرچہ مدینہ میں دو مسجدیں پہلے سے موجود تھیں، ایک مضافات شہر میں مسجد قبا، دوسری شہر کے اندر، مسجد نبوی۔ لیکن انہوں نے اپنے مفسدانہ اغراض کے لیے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی ایک الگ مسجد بنائی۔ مقصود تو ان کا یہ تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو…
Read the full tafseer →18۔ 1 یعنی آپ نے وہاں جاکر نماز پڑھنے کا جو وعدہ فرمایا، اس کے مطابق وہاں جاکر نماز نہ پڑھیں چناچہ آپ نہ صرف یہ کہ وہاں نماز نہیں پڑھی بلکہ اپنے چند ساتھیوں کو بھیج کر مسجد گرا دی اور اسے ختم کردیا اس سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ جو مسجد اللہ کی عبادت کی بجائے، مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی غرض سے بنائی جائے، وہ مسجد ضرار ہے، اس کو ڈھا دیا جائے تاکہ مسلمانوں میں تفریق و انتشار پیدا نہ ہو۔
18۔ 2 اس سے مراد کونسی مسجد ہے ا ؟ اس میں اختلاف بعض نے اسے مسجد قبا اور بعض نے مسجد نبوی قرار دیا ہے، سلف کی ایک جماعت دونوں کی قائل رہی ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ آیت سے اگر مسجد قبا مراد ہے…
Read the full tafseer →83: اس سے مراد وہ مسجد قبا بھی ہے جو آنحضرت ﷺ نے اس وقت تعمیر فرمائی تھی۔ جب آپ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے تشریف لائے، اور قبا کی بستی میں چودہ دن قیام فرمایا۔ اور یہ پہلی باقاعدہ مسجد تھی جو آپ نے تعمیر فرمائی۔ اور وہ مسجد نبوی بھی اس کے مصداق میں داخل ہے جو آپ نے قبا سے مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد تعمیر فرمائی۔ دونوں ہی کی بنیاد تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر تھی۔ اس مسجد کی فضیلت یہ بتائی گئی ہے کہ اس میں نماز پڑھنے والے پاکی اور صفائی کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اس میں جسم کی ظاہری پاکی بھی داخل ہے، اور اعمال و اخلاق کی پاکی اور صفائی بھی۔
Read the full tafseer →لا تقسم فیہ ابدًا آپ (نماز کیلئے) اس میں کبھی نہ کھڑے ہوں۔ حضرت ابن عباس نے تفسیری مطلب یہی فرمایا۔
ابن النجار نے کہا : منافقوں نے یہ مسجد قبا والی مسجد کے مقابلہ میں بنائی تھی۔ سب وہاں جمع ہوتے اور رسول اللہ (ﷺ) کی برائی کرتے اور آپ کا مذاق بناتے تھے۔ جب (تبوک سے واپسی میں) رسول اللہ (ﷺ) مقام ذی اوان میں تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن اسحاق نے بسلسلۂ زہری حضرت ابو رہم کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے بنی سالم بن عوف کے مالک بن دخشم کو اور قبیلۂ عاصم بن عدی کے معن بن عدی کو طلب فرمایا۔ بغوی نے مالک بن دخشم کے ساتھ عامر بن اسکن اور حضرت حمزہ کے قاتل وحشی کا بھی ذکر کیا ہے ‘ عاصم کا ذکر…
Read the full tafseer →2 یعنی اس مسجد میں جس کی بنیاد محض ضد، کفر و نفاق، عداوت اسلام اور مخالفت خدا اور رسول پر رکھی گئی۔ آپ کبھی نماز کے لیے کھڑے نہ ہوں۔ آپ کی نماز کے لائق وہ مسجد ہے جس کی بنیاد اول دن سے تقویٰ اور پرہیزگاری پر قائم ہوئی (خواہ مسجد نبوی ہو یا مسجد قبا) اس کے نمازی گناہوں اور شرارتوں اور ہر قسم کی نجاستوں سے اپنا ظاہر و باطن پاک و صاف رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ اسی لیے خدائے پاک ان کو محبوب رکھتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اہل قبا سے دریافت کیا کہ تم طہارت و پاکیزگی کا کیا خاص اہتمام کرتے ہو، جو حق تعالیٰ نے تمہاری تطہیر کی مدح فرمائی۔ انہوں نے کہا کہ ڈھیلے کے بعد پانی سے استنجا کرتے ہیں۔ یعنی…
Read the full tafseer →آیت 108 لاَ تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا ط
مسجد بنانے کے بعد یہ منافقین حضور ﷺ کے پاس یہ درخواست لے کر آئے تھے کہ آپ ﷺ مسجد میں تشریف لے آئیں تو بڑی برکت ہوگی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بروقت روک دیا کہ آپ ﷺ وہاں تشریف نہ لے جائیں۔
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ ط یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی تھی ‘ وہ زیادہ مستحق ہے کہ آپ ﷺ اس میں کھڑے ہوں نماز پڑھیں
اس سے مراد مسجد قبا ہے جو قریب ہی تھی اور جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی تھی۔ یہ مقام اس وقت کے مدینہ کی آبادی سے تین میل کے فاصلے پر تھا۔ جب آپ ﷺ…
Read the full tafseer →121 تقویٰ پر تعمیر شدہ مسجد کونسی ہے ؟ وہ مسجد کونسی تھی اور کیسے حالات میں تعمیر ہوئی ؟ اس کی وضاحت کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :۔
1۔ سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے اس بات میں جھگڑا کیا کہ وہ کونسی مسجد ہے جس کی پہلے دن سے تقویٰ پر بنیاد رکھی گئی تھی۔ ایک نے کہا وہ مسجد قبا ہے اور دوسرے نے کہا وہ رسول اللہ کی مسجد ہے۔ تب آپ نے فرمایا کہ وہ یہی میری مسجد ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر)
2۔ مسجد نبوی کی تعمیر اور بعد میں وسعت :۔ سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے بلند حصہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں اترے آپ چوبیس (اور ایک روایت کے مطابق چودہ) راتیں وہاں…
Read the full tafseer →198۔ (نماز کے لیے) اے لا تقم فیہ للصلاۃ (قرطبی) یہ مسجد ضرار تو صرف صورۃ مسجد تھی ورنہ حقیقۃ تو عداوت اسلام کے لیے ایک کمین گاہ تھی جیسے کہ ابھی قرآن مجید تصریح کرچکا ہے، فقہاء نے اس سے یہ نکالا ہے کہ ہر ایسی مسجد جس کی بنیاد معصیت اور مخالفت مومنین پر ہو گرا دینے کے قابل ہے۔ فیہ الدلالۃ علی ان المسجد المبنی لضرار المو منین والمعاصی لایجوز القیام فیہ وانہ یجب ھدمہ (جصاص) بعض نے لاتقم سے مجاز مراد لی ہے۔ یعنی کسی قسم کا التاف ونصرت اس عمارت اور اس کے بانیوں کی جانب نہ کریں۔ اے لاتنصرہ ولا تلتفت الیہ ولا تکن معھم (جصاص) محض نام یانیت جبکہ حقیقت سے خالی ہو ہرگز کسی حکم شرعی پر مؤثر نہیں ہوسکتا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیت نمبر 100 تا 110
ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے…
Read the full tafseer →لا تقسم فیہ ابدًا آپ (نماز کیلئے) اس میں کبھی نہ کھڑے ہوں۔ حضرت ابن عباس نے تفسیری مطلب یہی فرمایا۔
ابن النجار نے کہا : منافقوں نے یہ مسجد قبا والی مسجد کے مقابلہ میں بنائی تھی۔ سب وہاں جمع ہوتے اور رسول اللہ ﷺ کی برائی کرتے اور آپ کا مذاق بناتے تھے۔ جب (تبوک سے واپسی میں) رسول اللہ ﷺ مقام ذی اوان میں تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن اسحاق نے بسلسلۂ زہری حضرت ابو رہم کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنی سالم بن عوف کے مالک بن دخشم کو اور قبیلۂ عاصم بن عدی کے معن بن عدی کو طلب فرمایا۔ بغوی نے مالک بن دخشم کے ساتھ عامر بن اسکن اور حضرت حمزہ کے قاتل وحشی کا بھی ذکر کیا ہے ‘ عاصم کا ذکر نہیں…
Read the full tafseer →(108) جب اس مسجد کی یہ حالت ہے تو آپ اس تفرقہ پیدا کرنے والی مسجد میں کبھی نماز نہ پڑھیے۔
البتہ مسجد قبا جس کی بنیاد جب سے رسول اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری پر رکھی گئی ہے، وہ واقعی اس قابل ہے کہ آپ اس میں نماز پڑھیں اور کہا گیا ہے کہ یہ مدینہ منورہ کی سب سے پہلی مسجد ہے۔
اور مسجد قبا میں ایسے اچھے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے یعنی کہ پتھروں کے بعد پانی کے ساتھ استنجا کرنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ایسے ہی لوگ کو جو پانی کے ساتھ استنجا کرتے ہیں پسند ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”والذین اتخذوا مسجدا ضرارا (الخ)۔”لا تقم فیہ ابدا“۔ (الخ)
ابن مردویہ رحمۃ اللہ…
Read the full tafseer →لَا تَقُمْ فِيْهِ اَبَدًا : اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ آپ اس میں کبھی نماز نہ پڑھیں، کیونکہ قیام نماز کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ حدیث ہے : (مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا) دوسرا یہ کہ نماز تو دور کی بات ہے آپ کبھی اس مسجد میں جا کر کھڑے بھی نہ ہوں، کیونکہ اس میں ان کی عزت افزائی ہوگی، جیسا کہ آپ کو منافقین کا جنازہ پڑھنے اور ان کی قبروں پر کھڑے ہونے سے بھی منع فرمایا : (وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓي اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰي قَبْرِهٖ) [ التوبۃ : 84 ] چناچہ آپ نے راستے ہی سے آدمی بھیج کر اس مسجد کو جلوا کر مسمار کروا دیا۔
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَي التَّقْوٰى…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 108۔
اس آیت میں گیارہ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” لا تقم فیہ ابدا، فیہ “۔ کی ضمیر کا مرجع مسجد ضرار ہے، یعنی آپ اس میں نماز کے لیے کبھی کھڑے نہ ہوں۔ اور کبھی نماز کو قیام سے تعبیر کیا جاتا ہے، کہا جاتا ہے : فلان یقوم اللیل، یعنی فلاں رات کے وقت نماز پڑھتا ہے۔ اور اسی طرح صحیح حدیث بھی ہے : من قام رمضان ایمانا واحتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ (1) (صحیح بخاری، کتاب الصوم، جلد 1، صفحہ 269)
(جس نے رمضان المبارک میں ایمان اور اخلاص نیت کے ساتھ نماز پڑھی تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیئے گئے) اسے امام بخاری (رح) نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے اور انہوں نے حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ سے…
Read the full tafseer →1:۔ ابودواد والترمذی وابن ماجہ وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ آیت اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی یعنی (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “۔
2:۔ طبرانی وابو الشیخ والحاکم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ( یہ آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “۔ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عویم بن ساعدہ کی طرف ایک آدمی کو بھیجا کہ یہ کون سی پاکی ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم سے جو مرد یا عورت قضائے کے حاجت کے لئے نکلتا ہے تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہے یا فرمایا اپنی پاخانے کی جگہ کو…
Read the full tafseer →لَا تَقُمْ [ آپ مت کھڑے ہوں ] فِيْهِ [ اس میں ] اَبَدًا ۭ [کبھی بھی ] لَمَسْجِدٌ [ بیشک ایسی مسجد ] اُسِّسَ [ بنیاد بھری گئی جس کی ] عَلَي التَّقْوٰى [ تقوی پر (یعنی سے ) ] مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ [ پہلے دن سے ] اَحَقُّ [ زیادہ حقدار ] اَنْ [کہ ] تَقُوْمَ [ آپ کھڑے ہوں ] فِيْهِ ۭ [ اس میں ] فِيْهِ [اس میں ] رِجَالٌ [ ایسے مرد ہیں ] يُّحِبُّوْنَ [ جو پسند کرتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] يَّتَطَهَّرُوْا ۭ [ وہ خوب پاک رہیں ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] يُحِبُّ [پسند کرتا ہے ] الْمُطَّهِّرِيْنَ [خوب پاک رہنے والوں کو ]
ء س س (ن) اسا ، کسی عمارت کی بنیاد رکھنا ۔ (تفعیل ) تاسیسا ، بنیاد رکھنا ۔ اس میں مبالغہ کا…
Read the full tafseer →پھر فرمایا : (فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَ ) (اس میں ایسے آدمی ہیں جو یہ پسند کرتے ہیں کہ خوب پاکی حاصل کریں اور اللہ بہت پاکی حاصل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) حضرت ابو ایوب، حضرت جابر، حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ جب آیت شریفہ (فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا) نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اے انصار کی جماعت بیشک اللہ نے پاکی اختیار کرنے کے بارے میں تمہاری تعریف فرمائی اور یہ تو بتاؤ تمہاری کیا پاکیزگی ہے انہوں نے عرض کیا ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں اور جنابت ہوجائے تو غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجاء کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
ذکر مسجد ضرار ومسجد تقوی
قال اللہ تعالیٰ ۔ والذین اتخذوا مسجدا ضرار۔۔ الی۔۔۔ واللہ علیم حکیم۔
(ربط): اوپر سے مسلسل منافقین کا ذکر چلا آرا ہے اب ان آیات میں منافقین کی ایک خاص خباثت کا ذکر ہے وہ یہ کہ انہوں نے مسجد قباء کے مقابلہ میں اور ضد میں ایک مسجد بنائی جس کا مقصد یہ تھا کہ مسجد کے نام سے منافقین کا ایک دفتر اور ایک اڈہ قائم ہوجاے۔ جس میں جمع ہو کر آں حضرت ﷺ کے خلاف مشورے کیا کریں نام اس کا مسجد ہو اور حقیق اس کی منافقین کی ایک انجمن ہو جس کا قصہ یہ ہوا کہ آں حضرت ﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے آئے تو اول مدینہ سے باہر قباء میں فروکش ہوئے چند روز وہاں قیام کر کے مدینہ میں تشریف لے گئے اور…
Read the full tafseer →104:“ لَاتَقُمْ فِیْهِ الخ ” یعنی یہ مسجد خانہ خدا نہیں اس میں آپ نماز نہ پڑھیں بلکہ اسے مسمار کرا دیں کیونکہ اس کی بنیاد خدا و رسول اور اسلام کی مخالفت پر رکھی گئی ہے۔ “ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ الخ ” بلکہ وہ مسجد جس کی بنیاد خوف خدا پر رکھی گئی وہ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں نماز پڑھیں اس سے مسجد قبا مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مومنوں کا حال ذکر کیا تھا جو کوتاہی اور سستی کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو سکے۔ ان میں سے ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ انہوں نے اعتراف گناہ کرکے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرما کی ان کی معافی کا اعلان کردیا۔ تین آدمیوں کے دوسرے گروہ پر کڑی آزمائش تھی لہٰذا ان کا معاملہ اللہ نے موخر کردیا ، یہاں پر بھی ان کا بیان بعد میں آئیگا۔ آب آج کی آیات میں بھی پکے مناقفین ہی کا ذکر ہو رہا ہے ، جن کے دل میں ایمان نہیں تھا ، اور وہ طرح طرح کی سازشیں کر کے اہل ایمان کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ ایسے ہی منافقوں…
Read the full tafseer →لَا تَقُمْ فِيْہِ اَبَدًا 0 ۭ لَمَسْجِدٌ اُسِّــسَ عَلَي التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ يَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِيْہِ 0 ۭ فِيْہِ رِجَالٌ يُّحِبُّوْنَ اَنْ يَّتَطَہَّرُوْا 0 ۭ وَاللہُ يُحِبُّ الْمُطَّہِّرِيْنَ 108
ابد
قال تعالی: خالِدِينَ فِيها أَبَداً [ النساء/ 122] . الأبد : عبارة عن مدّة الزمان الممتد الذي لا يتجزأ كما يتجرأ الزمان، وذلک أنه يقال : زمان کذا، ولا يقال : أبد کذا .
وكان حقه ألا يثنی ولا يجمع إذ لا يتصور حصول أبدٍ آخر يضم إليه فيثنّى به، لکن قيل :
آباد، وذلک علی حسب تخصیصه في بعض ما يتناوله، کتخصیص اسم الجنس في بعضه، ثم يثنّى ويجمع، علی أنه ذکر بعض الناس أنّ آباداً مولّد…
Read the full tafseer →3 ؎ امامت کریں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →لاَ تَقُمْ فِیْہِ اَ بَدًا ط لَمَسجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ ط فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا ط وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَ (التوبہ : 108)
(آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقوی پر پڑی ہے وہ حق دار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاکیزگی کو عزیز رکھتے ہیں اور اللہ پاکیزہ رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ )
مسجد قبا اور اس کے نمازیوں کی تعریف
منافقین نے مسجد تو بنالی لیکن وہ جانتے تھے کہ جب تک نبی کریم ﷺ اس مسجد میں نماز نہ پڑھائیں یا اس میں تشریف نہ لائیں اس وقت تک نہ اس مسجد کا…
Read the full tafseer →ایذا دینا، کفر پر پکے رہنا اور مسلمانوں میں تفریق ڈالنا تھا۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف مورچہ بندی کرنا شامل تھا۔ مسجد بنانے کے بعد منافقین نے آپ ﷺ کی خدمت میں درخواست پیش کی کہ آپ برکت کے طور پر اس مسجد میں ایک نماز پڑھائیں تاکہ ہم باقاعدہ اس میں نمازیں ادا کرنا شروع کریں۔ ان کے مذموم عزائم سے آگاہ کرنے کے لیے آپ کو حکم ہوا کہ : اے رسول ! آپ اس مسجد میں ہرگز داخل نہ ہوں۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تبوک سے واپسی پر اس مسجد میں نماز پڑھائیں گے لیکن تبوک سے واپسی پر آپ کو اس مسجد کی حقیقت بتلا کر منع کردیا گیا کہ آپ نے اس مسجد میں ہرگز قدم رنجہ نہیں فرمانا۔ کیوں کہ اس کی…
Read the full tafseer →ایسی مسجد میں قیام کی ممانعت :
آیت 108: لَاتَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا (آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں) نماز کیلئے لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی۔ (البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے)
مسجد قباء میں قیام کا حکم اور ان کے بانیوں کی تعریف :
لام ابتدائیہ ہے اسس یہ مسجد کی صفت ہے نمبر 1۔ مراد اس سے مسجد قباء ہے جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے قباء کے زمانہ قیام میں اپنے دست اقدس سے رکھی۔ نمبر 2۔ مسجد نبوی جو مدینہ میں ہے وہ مراد ہو۔ مِنْ اَوَّلِ یَومٍ (اول دن سے) اس کی تعمیر کے پہلے دن سے۔ ایک قول یہ ہے کہ تقاضہ قیاس تو یہ ہے کہ یہاں مُذْ ؔ آتا کیونکہ وہ ابتداء غایت فی الزمان کیلئے آتا ہے اور…
Read the full tafseer →تفسیر 108: لاتقم فیہ ابدا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) اس میں نماز نہ پڑھیں۔ اللہ تعالیٰ ن اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ مسجد ضرار میں نماز نہ پڑھیں۔ لام ابتداء کیلئے ہے اور بعض نے کہا ہے لام قسم ہے اصل عبادت ( والل لمسجد اسس) یعنی اس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی سو ( من اول یوم) یعنی جس دن پہلے اس کی بنیاد رکھی گئی تھی ” لمسجد اسس علی التقوی من اول یوم احق ان تقوم فیہ “ نماز پڑھنے کے لیے۔ اس مسجد کی تعیین میں اختلاف ہے۔ ابن عمر ؓ ‘ زید بن ثابت اور ابو سعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ یہ مدینہ کی مسجد مسجد نبوی ﷺ ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ ابو سلمہ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
107۔ 110۔ معتبر سند سے تفسیر ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردو یہ میں امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے موافق جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ خزرج میں ایک شخص ابو عامر تھا جو زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا اور تورات اور انجیل اس نے خوب پڑھی تھی اور قبیلہ کے لوگ اس کی عزت کرتے تھے جب آنحضرت مدینہ میں تشریف لائے اور قبیلہ خزرج کے لوگ بہت مسلمان ہوئے تو یہ ابو عامر اسلام نہ لایا اور آنحضرت سے ایک طرح کی عداوت رکھنے لگا اور مکہ کو چلا گیا احد کی لڑائی کے زمانہ میں اہل مکہ کو بہکا کر مسلمانوں پر چڑھا کر لایا اور چند گڑھے اس نے لڑائی کی صفوں کے بیچ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
آیت 107-110
اہل قبا میں سے کچھ منافقین نے مسجد قبا کے پہلو میں ایک مسجد بنائی اس مسجد کی تعمیر سے ان کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا اور ان کے درمیان اختلاف اور افتراق پیدا کرنا تھا ‘ نیز اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف تخریب کاری کرنے والوں کے لئے بوقت ضرورت محفوظ پناہ گاہ تیار کرنا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی رسوائی کو بیان کرتے ہوئے ان کا بھید ظاہر کردیا ‘ چناچہ فرمایا : (والذین اتخذوا مسجدالضرار) ” اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنائی نقصان پہنچانے کے لئے “ یعنی اہل ایمان اور ان کی اس مسجد کو نقصان پہنچانے کی خاطر جس میں اہل ایمان جمع ہو کر نماز پڑھتے تھے (وکفرا) ” اور کفر کے لئے “ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
قول باری ہے فید رجال یحبون ان یتطھروا واللہ یحب المتطھرین اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند میں اس میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ اہل مسجد کی فضلیت اس مسجد کی اور اس میں نماز پڑھنے کی فضلیت ہوتی ہے۔ قول باری یحبون ان یتطھروا کی تفسیر میں حسن سے مروی ہے کہ وہ لوگ گناہوں سے پاکیزگی اختیار کرنا پسند کرتے تھے ۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد پانی کے ذریعے طہارت حاصل کرنا ہے۔
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ، انہیں ابو دائود نے ، انہیں محمد بن العلاء نے ، انہیں معاویہ بن ہشام نے یونس بن الحارث سے ، انہوں نے ابراہیم بن ابی میمونہ سے ، انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
198 ۔ مسجد " ضرار " کا ذکر : اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں نے یہ نام نہاد مسجد بنائی اور انہوں نے یہ مسجد قبا کے نزدیک اپنی انہی اغراض خبیثہ کی تکمیل کے لیے جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے، یہاں تک کہ اس کا نام ہی مسجد " ضرار " مشہور ہوگیا۔ اور حضور نے بذریعہ وحی حقیقیت حال سے آگہی پانے کے بعد اس کی اینٹ سے اینٹ بجوا دی اور اسے جلا کر راکھ کردیا۔ اور اسی سے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ بدمعاشی و برائی کے ایسے تمام ادوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا چاہیے جو اسلام کے خلاف کارروائیوں کے لیے قائم کیے گئے ہوں، سو ان لوگوں نے اپنی اغراض خبیثہ کی تکمیل کے لیے ڈیڑھ اینٹ کی یہ مسجد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
منافقین کا منصوبہ اور ان کی سزا
تشریح : آیت 106 کا سلسلہ پچھلی آیات سے چل رہا ہے۔ غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین طرح کے لوگ تھے۔ ایک منافقین جن کی تعداد اسی (80) سے کچھ زائد تھی۔ دوسرے ابو لبابہ اور آپ کے چھ ساتھی، جنہوں نے آپ ﷺ سے سوال و جواب سے پہلے ہی اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا تھا۔ تیسرے کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھی۔
جیسا کہ پچھلی آیات سے منافقین کا ذکر چلا آرہا ہے تو یہاں بھی انہی کی سازش کا ذکر ہو رہا ہے اس کا تعلق ابوعامر نصرانی سے ہے اس نے مسجد قباء کے قریب ہی ایک مسجد بنائی اس مقصد کے لیے کہ وہاں بیٹھ کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنائے جائیں۔ مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیات 100 تا 110
اسرار و معارف
سابقون الا ولون
بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔
اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ مراد مسجد قبا ہے جیسا کہ آیت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے۔ چناچہ مسجد قبا میں نماز کی فضیلت میں مروی ہے کہ " اس میں ایک نماز عمرہ کے برابر ہے "۔ اور صحاح میں ہے کہ نبی ﷺ پیدل و سوار اس مسجد میں نماز کے لیے تشریف لایا کرتے۔ بعض صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد نبوی وہ مسجد ہے جس کی بنیاد پہلے روز سے تقوی پر رکھی گئی ہے اور اکثر مفسرین نے یہی مسجد مراد لی ہے مگر ان دونوں قسم کی احادیث میں تعارض نہیں ہے کیونکہ اگر مسجد قبا وہ مسجد ہوسکتی ہے جس کی بنا تقوی پر رکھی گئی ہے تو مسجد نبوی بطریق اولی اس صفت کی مستحق ہے۔ (از ابن کثیر و کبیر)
6 ۔ یعنی ڈھیلے استعمال کرنے کے بعد پانی سے بھی استنجاء…
Read the full tafseer →(9:108) لاتقم فیہ۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ تو اس میں مت کھڑا ہو یعنی لا تصل فیہ اس میں نماز مت پڑھ۔ قرآن مجید میں نماز کے لئے کہیں قیام کا لفظ استعمال ہوا ہے کہیں رکوع کا اور کہیں سجدہ کا ۔ اسے تسمیۃ الشیء باسم جزئہ (کسی چیز کو اس کے جزء کے نام سے پکارنا) کہتے ہیں۔ فیہ کی ضمیر واحد مذکر مسجد (ضرار) کے لئے ہے۔
مسجد اسس علی التقوی من اول یوم۔ وہ مسجد جس کی اساس (بنیاد) پہلے دن سے ہی تقویٰ پر درست کی گئی ہو۔
ان یتطھروا۔ مضارع منصوب جمع مذکر غائب۔ تطھر (تفعل) مصدر۔ ان ناصبہ کی وجہ سے مضارع بمعنی مصدر ہوگیا۔ یعنی پاک ہونے کو (پسند کرتے ہیں) ۔ المطھرین۔ اسم فاعل جمع مذکر تطھر مصدر۔ اصل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
لغات القرآن آیت نمبر 107 تا 110
مسجد ضرار (نقصان پہنچانے والی مسجد) تفریق (اختلاف پیدا کرنے کو) ارصاد (شکار کے لئے، گھات لگانے کے لئے) حارب (جس نے جنگ کی) الحسنی (نیکی) یشھد (وہ گواہی دیتا ہے) اسس (بنیاد رکھ دی گئی) اول یوم (پہلے دن) ان تقوم (یہ کہ آپ کھڑے ہوں) رجال (مرد ہیں، کچھ لوگ ہیں ) یحبون (جو پسند کرتے ہیں) ان یتطھروا (یہ کہ وہ پاک صاف رہیں) بنیان (عمارت) شفا (کنارہ) جرف (کمزور گڑھا، کھوکھلا گڑھا) ھار (گرنے کو) انھار (وہ گر پڑا) لایزال (ہمیشہ) ریبۃ (شک کا کانٹا) تقطع (ٹکڑے ہوجائیں)
تشریح : آیت نمبر 107 تا 110
منافقین کی سازشوں کا ذکر پچھلی آیات میں آچکا ہے۔ اب یہاں ایک نئی خطرناک سازش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
منافقوں کا ذکر اور مسجد نبوی (ﷺ) اور مسجف قبا کی فضیلت
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ قبیلہ خزرج میں ایک شخص ابو عامر تھا، جو زمانہ جاہلیت میں نصرانی ہوگیا تھا۔ جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے اور قبیلہ خزرج کے لوگ اور بہت سے مسلمان ہوئے تو یہ ابو عامر اسلام نہ لایا، اور آنحضرت ﷺ سے ایک طرح کی عداوت رکھنے لگا اور مکہ کو چلا گیا۔ ہر قل بادشاہ روم کے پاس اس ابو عامر نے جا کر مدد کی خواہش کی تو اس نے وعدہ کیا تھا۔ اسی وعدے کے بھروسہ پر اس نے قبیلہ کے چند منافقوں کو خط لکھا تھا کہ : ” تم اپنی جگہ ہتھیار اور سامان سے تیار رہو، میں چند روز میں روم سے فوج لے کر آتا ہوں اور میرے لئے کوئی ٹھکانا ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
[59] نبی ﷺ جب مدینے تشریف لائے تو پہلے قبا نامی مقام میں قیام فرمایا۔ یہاں آپ کے حکم سے ایک مسجد تعمیر ہوئی جو عہد اسلام کی پہلی مسجد ہے۔ بعض منافقوں نے اس مسجد کے پاس ایک نئی مسجد تعمیر کی اور جب آپ تبوک کے لئے نکل رہے تھے تو آپ کی خدمت میں آ کر عرض کی کہ ایک دن وہاں آکر نماز پڑھا دیجئے۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابھی تو سفر درپیش ہے واپسی پر دیکھا جائے گا۔ جب آپ تبوک سے واپس ہوئے اور مدینے کے بالکل قریب پہنچ گئے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بانیان مسجد کے منافقانہ مقاصد سے آپ کو مطلع کردیا۔ چناچہ آپ کے حکم سے مسجد گرا دی گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–110
مسجد ضرار :
(ف 1) حضور ﷺ جب مدینے تشریف لے گئے تو اسلام مدینے والوں کا قومی مذہب قرار پایا ، توحید کا اجالا گھر گھر پہنچا اور لوگوں کے سینے پر تو اسلام سے جگمگا اٹھے ، منافقین کے لئے یہ ترقی ناقابل برداشت تھی انہوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کے دو مرکز ہوگئے ایک قبا اور دوسرا مسجد نبوی ، اور دونوں آباد ہیں ، مومن دونوں جگہ نور ومعرفت سے استفادہ کر رہے ہیں ، اور دونوں جگہوں سے ہدایت ورشد کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ، مسجدیں اس زمانے میں ، اسلامیوں کی ہر تحریک خیر و برکت کی مدارو محور ہوتی تھیں ، مسجدیں صرف سجدہ گاہیں نہ تھیں ، بلکہ عمل اور جدوجہد کی ہر ابداء یہیں سے ہوتی ، یہ درس گائیں بھی تھیں اور…
Read the full tafseer →108 اے پیغمبر ﷺ ! آپ اس مسجد ضرار میں نماز کے لئے جاکر کھڑے بھی نہ ہوں البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد اول روز سے اور اول دن سے تقوے پر رکھی گئی ہے وہ مسجد اس کی مستحق اور اس کے لائق ہے کہ آپ اس میں جاکر کھڑے ہوں اور وہاں نماز پڑھیں اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب صاف ستھرے رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ یہ فرمایا مسجد قبا یا مسجد نبوی کو کہ ان کی بنیاد رکھتے وقت تقوے پر رکھی گئی ہے اور جس مسجد کی بنیاد تقوے اور اخلاص پر رکھی گئی ہو وہی مسجد اس کی مستحق ہے کہ اس میں پیغمبر جاکر کھڑے ہوں اور نماز پڑھیں۔ پاکیزگی کو دوست رکھنے والے صحابہ ؓ تھے جو استنجا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
ف 3۔ ملخص اس قصہ کا یہ ہے کہ شہر مدینہ کے قریب ایک محلہ ہے قبا اس کا نام ہے رسول اللہ ﷺ جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے ہیں تو اول اسی محلہ میں قیام فرمایا پھر شہر میں تشریف لے آئے تھے تو زمانہ قیام میں جس جگہ آپ نماز پڑھتے تھے وہاں اس محلہ کے مومنین مخلصین نے ایک مسجد بنالی اور اس میں نماز پڑھا کرتے منافقین میں باہم یہ صلاح ٹھہری کہ ایک مکان مسجد کے نام سے جداگانہ بنایا جائے اس میں سب جمع ہو کر اسلام کی ضرررسانی کے مشورے کیا کریں غرض مسجد کی شکل پر وہ مکان تیار ہوا تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کی گئی کہ آپ وہاں چل کر نماز پڑھ لیجیے تو پھر وہاں جماعت ہونے لگے آپ نے وعدہ کرلیا کہ تبوک سے…
Read the full tafseer →آپ ﷺ کے قیام کے لئے وہی مسجد بہتر ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہو :
140: اس آیت میں سب سے پہلے آپ ﷺ کو منع فرمایا گیا کہ اس مسجد یعنی جس مسجد کی بنیاد نفاق پر رکھی گئی ہے اس میں مطلق کھڑے نہ ہوں یعنی قیام نہ کریں اور وہاں نماز ادا نہ کریں۔ نماز پڑھنے کے لئے وہی مسجد بہتر ہے جس کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہو یہ حکم عام ہے پھر اس حکم عام کو حکم خاص اس طرح بنایا گیا کہ ان لوگوں کی تعریف کی گئی جن لوگوں نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ احادیث میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ یہ مسجد کونسی مسجد تھی ؟ اور بتایا گیا ہے کہ وہ مسجد مسجد قباء تھی اور یہ تعریف مسجد قبا بنانے والوں کی کی گئی ہے کہ اس میں ایسے لوگ…
Read the full tafseer →About this Masjid Dirar, the Holy Prophet ﷺ has Been given the order: لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا 'Do not ever stand there (in prayer) - 108.' The word ` qiyam' in the text denotes standing for prayer. The sense is that the Holy Prophet ﷺ should never go in to offer his prayers in a mosque by that name.
Ruling:
What it tells us is: If, even today, a new masjid is made adjacent to the one already there unnecessarily, just to show off or to take an opposing stance out of obstinacy and enmity, the better choice is not to offer prayers therein - though, Salah remains valid.
In the same verse…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →