At-Tawba 9:105

At-Tawba · from ayah 105

9:105

وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ؕ— وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۟ۚوَقُلِ اعۡمَلُوۡا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمۡ وَرَسُوۡلُهٗ وَالۡمُؤۡمِنُوۡنَ‌ؕ وَسَتُرَدُّوۡنَ اِلٰى عٰلِمِ الۡغَيۡبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمۡ بِمَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ‌ۚ

اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تم کو بتا دے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And say, "Do [as you will], for Allah will see your deeds, and [so, will] His Messenger and the believers. And you will be returned to the Knower of the unseen and the witnessed, and He will inform you of what you used to do."

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 13 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:105

اور اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہدو کہ تم عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل اب کیا رہتا ہے پھر تم اُس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تم کو بتا دے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہہ دیجئے کہ تم عمل کیے جاؤ تمہارے عمل اللہ خود دیکھ لے گا اور اس کا رسول اور ایمان والے (بھی دیکھ لیں گے) اور ضرور تم کو ایسے کے پاس جانا ہے جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کا جاننے واﻻ ہے۔ سو وه تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتلا دے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (ان سے) کہو کہ : تم عمل کرتے رہو۔ اب اللہ بھی تمہارا طرز عمل دیکھے گا، اور اس کا رسول بھی اور مومن لوگ بھی۔ پھر تمہیں لوٹا کر اس ذات کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کو چھپی اور کھلی تمام باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم فرما ؤ کام کرو اب تمہارے کام دیکھے گا اللہ اور اس کے رسول اور مسلمان، اور جلد اس کی طرف پلٹوگے جو چھپا اور کھلا سب جانتا ہے تو وہ تمہارے کام تمہیں جتاوے گا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور فرما دیجئے: تم عمل کرو، سو عنقریب تمہارے عمل کو اﷲ (بھی) دیکھ لے گا اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی) اور اہلِ ایمان (بھی)، اور تم عنقریب ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے (رب) کی طرف لوٹائے جاؤ گے، سو وہ تمہیں ان اعمال سے خبردار فرما دے گا جو تم کرتے رہتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کہہ دے تم عمل کرو، پس عنقریب اللہ تمہارا عمل دیکھے گا اور اس کا رسول اور ایمان والے بھی اور عنقریب تم ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے، تو وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز ان سے کہئے کہ عمل کرتے جاؤ۔ اللہ، اس کا رسول اور سب مومن تمہارے طرز عمل کو دیکھ لیں گے اور عنقریب تم کھلی اور چھپی چیزوں کے جاننے والے کی طرف لوٹائے جاؤ گے تو وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم کرتے رہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہہ دو ، عمل کرو، اب اللہ اور اس کا رسول اور اہل ایمان تمہارے عمل کو دیکھیں گے اور تم عنقریب غائب و حاضر کے جاننے والے کے حضور پیش کیے جاؤ گے۔ وہ تمہارے سارے کیے دھرے سے تم کو آگاہ کرے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہو (ان سے اے پیغمبر !) کہ تم لوگ کام کئے جاؤ، اللہ خود ہی دیکھ لے گا تمہارے کام کو اور اس کا رسول بھی، اور اہل ایمان بھی، اور تم سب کو بہر حال لوٹنا ہے اس کی طرف، جو کہ (ایک برابر) جانتا ہے نہاں وعیاں کو، پھر وہ خبر کر دے گا تم کو ان تمام کاموں کی جو تم کرتے رہے تھے (اپنی زندگیوں میں)

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کہہ دیجیے کہ عمل کئے جاؤ سو تمہارے عمل کو اللہ اور اس کا رسول اور مومنین ابھی دیکھے لیتے ہیں اور تمہیں ضرور ہی غیب وشہادۃ کے جاننے والے کے پاس واپس جانا ہے تو وہ تم کو بتلا دے گا کہ تم اب کیا کرتے رہے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آپ ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ تم عمل کرو اب اللہ اور اس کا رسول ﷺ اور اہل ایمان تمہارے عمل کو دیکھیں گے اور عنقریب تمہیں لوٹا دیا جائے گا اس کی طرف جو ہر غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ان سے کہہ دو کہ عمل کیے جاؤ اللہ اس کا رسول ﷺ اور مومن سب تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے اور تم غائب و حاضر کے جاننے والے اللہ واحد کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو وہ سب تم کو بتا دے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And tell them, (O Prophet): "Keep working: Allah will behold your works and so will His Messenger and the believers; and you shall be brought back to Him Who knows that which is beyond the reach of perception and that which is within the reach of perception. He will then declare to you all that you have been doing."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Do (what you do); Allah will see your deed, as will the Messenger and the believers. And you shall be returned to the Knower of the Seen and the Unseen, then He will tell you what you have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Do (what you do); Allah will see your deed, as will the Messenger and the believers. And you shall be returned to the Knower of the Seen and the Unseen, then He will tell you what you have been doing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And say "Do deeds! Allah will see your deeds, and (so will) His Messenger and the believers. And you will be brought back to the All-Knower of the unseen and the seen. Then He will inform you of what you used to do."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And say (unto them): Act! Allah will behold your actions, and (so will) His messenger and the believers, and ye will be brought back to the Knower of the Invisible and the Visible, and He will tell you what ye used to do.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And say, "Do [as you will], for Allah will see your deeds, and [so, will] His Messenger and the believers. And you will be returned to the Knower of the unseen and the witnessed, and He will inform you of what you used to do."

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "Act as you wish. God, His Messenger and the believers will see your deeds. You will be brought before the One who has absolute knowledge of the unseen and the seen. He will let you know about all that you have done.

— Muhammad Sarwar

And say: Work; so Allah will see your work and (so will) His Apostle and the believers; and you shall be brought back to the Knower of the unseen and the seen, then He will inform you of what you did.

— Muhammad Habib Shakir

And say thou: work on! Allah beholdeth your work and so do His apostle and the believers, and anon ye will be brought back to the Knower of the hidden and the manifest; He will then declare unto you that which ye have been working.

— Abdul Majid Daryabadi

And say: "Work (righteousness): Soon will Allah observe your work, and His Messenger, and the Believers: Soon will ye be brought back to the knower of what is hidden and what is open: then will He show you the truth of all that ye did."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:105

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اپنے اعمال سے ہوشیار رہو۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکامات کے خلاف کرتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ ڈرا رہا ہے کہ ان کے اعمال اللہ کے سامنے ہیں۔ اور اس کے رسول اور تمام مسلمانوں کے سامنے قیامت کے دن کھلنے والے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا اور پوشیدہ سے پوشیدہ عمل بھی اس دن سب پر ظاہر ہوجائے گا۔ تمام اسرار کھل جائیں گے دلوں کے بھید ظاہر ہوجائیں گے۔ اور یہ بھی ہوتا ہے کہ کبھی کبھی اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں پر بھی ان کے اعمال دنیا میں ہی ظاہر کردیتا ہے۔ چناچہ مسند احمد میں ہے " رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تم میں سے کوئی کسی ٹھوس پتھر میں گھس کر جس کا نہ دروازہ ہو، نہ اس میں کوئی سوراخ ہو، کوئی عمل کرے اللہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّوْبَة 99 یہاں جھوٹے مدعی امان اور گنہگار مومن کا فرق صاف صاف واضح کردیا گیا ہے۔ جو شخص ایمان کا دعوی کرتا ہے مگر فی الواقع خدا اور اس کے دین اور مومنین کی جماعت کے ساتھ کوئی خلوص نہیں رکھتا اس کے عدم اخلاص کا ثبوت اگر اس کے طرز عمل سے مل جائے تو اس کے ساتھ سختی کا برتاؤ کیا جائے گا۔ خدا کی راہ میں صرف کرنے کے لیے وہ کوئی مال پیش کرے تو اسے رد کردیا جائے گا۔ مر جائے تو نہ مسلمان اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے اور نہ کوئی مومن اس کے لیے دعائے مغفرت کرے گا چاہے وہ اس کا باپ یا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ بخلاف اس کے جو شخص مومن ہو اور اس سے کوئی غیر مخلصانہ طرز عمل سرزد ہوجائے وہ اگر اپنے قصور کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 103–105

(آیت) خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً ، واقعہ اس آیت کا یہ ہے کہ جن حضرات کا اوپر ذکر ہوا کہ بلا عذر غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، پھر نادم ہو کر اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ لیا پھر آیت مذکورہ سابقہ میں ان کی توبہ کی قبولیت نازل ہوئی اور قید سے کھولے گئے تو ان حضرات نے بطور شکرانہ اپنا سارا مال صدقہ کرنے کے لئے پیش کردیا، رسول اللہ ﷺ نے قبول کرنے سے انکار فرمایا کہ مجھے مال لینے کا حکم نہیں ہے، اس پر یہ آیت مذکورہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ نازل ہوئی، اور آپ نے پورے مال کے بجائے ایک تہائی مال کا صدقہ کرنا قبول فرمالیا کیونکہ آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ پورا مال نہ لیا جائے بلکہ اس کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 102–105

102۔ 105: وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا ۭعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو اگرچہ کمزوریوں میں متلا رہے تھے اور تبوک کے موقع پر بھی ان سے کمزوری صادر ہوگئی تھی لیکن ایمان کی رمق ان کے اندر باقی تھی۔ جب اس سورة نے منافقین کو اچھی طرح جھنجھوڑا اور ان کے علم میں یہ باتیں آئیں تو ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ انہوں نے باتیں بنانے کی کوشش کے بجائے صدق دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور نہایت بےچینی کے ساتھ اپنے آپ اللہ اور رسول کے آگے ڈال دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ بعض لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 رؤیت کا مطلب دیکھنا اور جاننا ہے۔ یعنی تمہارے عملوں کو اللہ تعالیٰ ہی نہیں دیکھتا، بلکہ ان کا علم اللہ کے رسول اور مومنوں کو بھی (بذریعہ وحی) ہوجاتا ہے (یہ منافقینی کے ضمن میں کہا جا رہا ہے) اس مفہوم کی آیت پہلے بھی گزر چکی ہے۔ یہاں مومنین کا بھی اضافہ ہے جن کو اللہ کے رسول کے بتلانے سے علم ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

80: اس آیت نے یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ توبہ کے بعد بھی کسی شخص کو بےفکر ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے ؛ بلکہ اپنی آئندہ زندگی میں اپنا طرز عمل درست کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وقل اور آپ کہہ دیجئے۔ یہ خطاب رسول اللہ (ﷺ) کو ہے ‘ یا سب لوگوں کو۔ اعملوا (جو چاہو) کرو۔ فسیری اللہ عملکم اللہ تمہارے (اچھے برے) عمل کو دیکھ لے گا ‘ اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے۔ ورسولہ والمؤمنون اور اللہ کا رسول اور مسلمان بھی (دیکھ لیں گے) جو چیز تم چھپاؤ گے ‘ اللہ وحی کے ذریعے سے اپنے رسول پر اس کا اظہار کر دے گا اور پھر مسلمان بھی واقف ہوجائیں گے۔ مجاہد نے کہا : یہ دھمکی ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کے دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنے نبی کو اطلاع دے دے گا اور مؤمنوں کی واقفیت اس طرح ہوگی کہ اللہ ان کے دلوں میں اہل صلاح کی محبت پیدا کر دے گا اور جو لوگ مفسد ہوں گے ‘ ان کی نفرت اہل ایمان کے دلوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی توبہ وغیرہ سے گزشتہ تقصیرات معاف ہوگئیں۔ لیکن آگے دیکھا جائے گا کہ تم کہاں تک صدق و استقامت کا عملی ثبوت پیش کرتے ہو۔ اس جہاد میں قصور ہوا تو آئندہ اور جہاد ہوں گے۔ پیغمبر ﷺ کے یا خلفاء کے روبرو ان میں امتحان ہوگا کہ کیسا عمل کرتے ہو۔ پھر خدا کے یہاں جا کر ہر عمل کو پورا بدلہ مل جائے گا کیونکہ وہ ہی تمام کھلی چھپی چیزوں اور ظاہری عمل اور باطنی نیتوں پر مطلع ہے ہر ایک کے ساتھ اس کی واقعی حالت کے موافق معاملہ کرے گا (آیت کی یہ تقریر حضرت شاہ صاحب کے مذاق پر کی گئی ہے کیونکہ اوفق بالسیاق ہے۔ واللہ اعلم)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 105 وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ط اب پھر سے محنت کرو ‘ سرفروشی اور جاں فشانی کا مظاہرہ کرو ‘ آئندہ تمہارے اعمال کا جائزہ لیا جائے گا کہ مطالبات دین کے بارے میں تمہارا کیا رویہ ہے اور یہ کہ پھر سے کوئی کوتاہی ‘ لغزش وغیرہ تو نہیں ہونے پا رہی۔ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ قیامت کے دن تمہیں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے ‘ جو تمہارے سارے کیے دھرے سے تم کو آگاہ کر دے گا۔ وہاں تمہارے سارے اعمال تمہارے سامنے پیش کردیے جائیں گے۔ اس بارے میں سورة الزلزال میں یوں فرمایا گیا :…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

118 ایک مسلمان اور منافق کا عذر جانچنے کے اصول :۔ ان آیات سے دراصل ایک منافق اور ایک غلطی سے گناہ کرنے والے مسلمان کے درمیان فرق کو واضح کیا گیا ہے۔ 1۔ منافق گناہ کر کے جھوٹے بہانے بناتے اور قسمیں اٹھاتے ہیں جبکہ مومن اپنے گناہ کا صاف صاف اقرار کرلیتے ہیں۔ 2۔ گناہ گار مومن کی سابقہ زندگی اس بات پر شاہد ہوتی ہے کہ یہ گناہ اس سے نفس کی کمزوری سے واقع ہوگیا ہے جبکہ منافق کا سابقہ ریکارڈ بھی گندہ ہوتا ہے۔ 3۔ توبہ صرف اس کی قبول ہوتی ہے جس کا سابقہ ریکارڈ درست ہو اور یہ موجودہ گناہ بہ تقاضائے بشریت واقع ہوگیا ہو۔ عادی مجرموں یعنی منافقوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ 4۔ اللہ تعالیٰ صدقات صرف ان کے قبول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

193۔ نفا ق قلب اور ضعف ایمان کا علاج اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں کہ آخرت وجزائے اعمال کا استحضار پوری پوری طرح رہے اور قرآن مجید ہر ایسے موقع پر اسی علاج سے کام لیتا ہے۔ (آیت) ” فسیری اللہ عملکم “۔ س عنقریب یا ابھی کے معنی میں ہے۔ مراد یہ ہے کہ اسی دنیا میں تمہارے اعمال سے تمہارے اخلاص یا نفاق کا امتحان ہوجائے گا۔ (آیت) ” اعملوا “۔ اس صیغہ جمع کے مخاطب کل لوگ ہیں۔ خطاب للجمیع (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 100–110

آیت نمبر 100 تا 110 ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقل اور آپ کہہ دیجئے۔ یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے ‘ یا سب لوگوں کو۔ اعملوا (جو چاہو) کرو۔ فسیری اللہ عملکم اللہ تمہارے (اچھے برے) عمل کو دیکھ لے گا ‘ اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے۔ ورسولہ والمؤمنون اور اللہ کا رسول اور مسلمان بھی (دیکھ لیں گے) جو چیز تم چھپاؤ گے ‘ اللہ وحی کے ذریعے سے اپنے رسول پر اس کا اظہار کر دے گا اور پھر مسلمان بھی واقف ہوجائیں گے۔ مجاہد نے کہا : یہ دھمکی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنے نبی کو اطلاع دے دے گا اور مؤمنوں کی واقفیت اس طرح ہوگی کہ اللہ ان کے دلوں میں اہل صلاح کی محبت پیدا کر دے گا اور جو لوگ مفسد ہوں گے ‘ ان کی نفرت اہل ایمان کے دلوں میں ڈال دے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(105) نبی کریم ﷺ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ توبہ کے بعد جو چاہو نیک کام کرو، اول تو دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اور مومنین تمہارے عمل کو دیکھے لیتے ہیں اور پھر مرنے کے بعد تمہیں ضرور اس کے پاس جانا ہے جو تمام اچھی اور کھلی چیزوں کو جاننے والا ہے، وہ تمہیں تمہاری سب نیکیوں اور برائیوں سے آگاہ کردے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ : یعنی اب اگر قصور ہوگیا تو آئندہ رسول اللہ ﷺ اور خلفاء کے دور میں جو جہاد ہونے والے ہیں ان میں خوب کام کرلو۔ (موضح) اللہ تعالیٰ تو پہلے ہی گزشتہ، موجودہ اور آئندہ کے تمام احوال سے پوری طرح باخبر ہے مگر تم عمل کرو، تمہارے عمل کو وجود میں آتا ہوا اللہ تعالیٰ بھی دیکھ لے گا، اس کا رسول بھی اور ان کے زمانے کے مومن اور بعد میں آنے والے خلفاء اور اہل ایمان بھی، کیونکہ آدمی اچھا یا برا جو کام بھی کرتا ہے اس کی اسی طرح کی شہرت ہر طرف پھیل جاتی ہے، خصوصاً مومن اس سے بیخبر نہیں رہتے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَنْتُمْ شُھَدَاء اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 105۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وقل اعملوا “۔ یہ خطاب تمام کو ہے (کہ تم عمل کرتے رہو) (آیت) ” فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمؤمنون “۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے انہیں تمہارے اعمال پر اطلاع دینے کے سبب (وہ تمہارے اعمال کو دیکھیں گے) اور حدیث میں ہے اگر کوئی آدمی ایسی چٹان میں عمل کرلے جس کا کوئی دروازہ نہ ہو اور نہ اسے کوئی سوراخ ہو تو پھر بھی اس کا عمل لوگوں کی طرف نکل جائے گا جیسے بھی وہ ہوا “۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن بی شیبہ وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولہ “ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعید ہے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ والطبرنی وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) ” وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمومنون “ 3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ فرمایا وہ ایک جنازہ کے ساتھ گزرے کسی نے اسکی تعریف کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی پھر دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی تعریف کی آپ نے فرمایا واجب ہوگئی اس بارے میں پوچھا تو آپ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقُلِ [ اور آپ کہہ دیجیے ] اعْمَلُوْا [ تم لوگ عمل کرو ] فَسَيَرَى [ پھر دیکھے گا ] اللّٰهُ [ اللہ ] عَمَلَكُمْ [ تمہارے عمل کو ] وَرَسُوْلُهٗ [ اور اس کا رسول ] وَالْمُؤْمِنُوْنَ ۭ [اور مومن لوگ (بھی ) ] وستردون [ اور تم لوگ لوٹائے جاؤگے ] اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ [ موجود اور غائب کے عالم کی طرف ] فَيُنَبِّئُكُمْ [ پھر وہ جتا دے گا تم لوگوں کو ] بِمَا [ وہ جو ] كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ] [ تم لوگ کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ ) (اور آپ ان سے فرما دیجیے کہ عمل کیے جاؤ، اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ لے گا اور اس کا رسول بھی اور مومنین بھی دیکھ لیں گے) حضرت مجاہد تابعی نے فرمایا ہے کہ یہ وعید کے طور پر فرمایا ہے دنیا میں جو بھی کوئی شخص کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ شانہٗ کو تو بہر حال اس کا علم ہی ہے وہ ازل سے سب کچھ جانتا ہے۔ اور جب کوئی عمل کسی سے صادر ہو اس کے وقوع کو بھی جان لیتا ہے۔ نیز لوگوں کے اعمال مخلوق سے بھی پوشیدہ نہیں رہتے۔ جب جیسا کوئی عمل کرے گا اگر رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ہوگا تو آپ بھی اسے جان لیں گے اور مومنین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–105

زعماء منافقین کا ذکر قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ وممن حولکم من الاعراب منافقون۔۔ الی۔۔۔ عذاب عظیم۔ (ربط): اوپر کی آیت میں اعیان مومن ین۔ یعنی مومنین کاملین کا ذکر تھا اب اس آیت میں زعماء منافقین کا ذکر ہے جو مدینہ میں اور مدینہ کے آس پاس رہتے تھے اور سرتاپا نفاق میں غرق تھے اور فن نفاق میں ایسے ماہر وحاذق اور پختہ تھے کہ نبی اکرم ﷺ باوجود کمال فراست کے ان کے نفاق پر مطلع نہ ہوسکے چناچہ مردوا علی النفاق کے بعد جو لفظ لا تعلمھم بڑھایا گیا وہ اسی طرف اشارہ ہے اعیان مومنین کے ذکر کے بعد اعیان منافقین کا ذکر نہایت مناسب ہے جس طرح مہاجرین اور انصآر کو ہجرت اور نصرت میں سبقت اور اولیت کا شرف حاصل تھا اسی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

100:“ وَ قُلِ اعْمَلُوْا الخ ” اس سے مراد وہی اعمال ہیں جو وہحضور ﷺ کی زندگی میں کرتے تھے۔ یعنی تم کام کیے جاؤ اللہ کا رسول اور مومنین تمہارے اعمال و اقوال کو دیکھ کر فیصلہ کرلیں گے کہ تم نے سچی توبہ کی ہے یا جھوٹی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 102–106

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ نے غزوہ تبوک اور جہاد فی سبیل اللہ کا زکر فرمایا اور جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی شدید مذمت بیان فرمائی ۔ منافقین کی کوتاہیوں غلطیوں اور سازشوں کا حال بیان فرمایا۔ پھر دیہاتی منافقوں اور دیہاتی مومنوں کا تذکرہ کیا اللہ نے جہاد کے لیے مرکزی جماعت کا ذکر بھی کیا جو کہ پوری امت کے لیے معیار ہے اور جس کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہے۔ یہ پہلی جماعت کا ذکر تھا۔ اس سلسلے کی دوسری جماعت کا ذکر آگے آئیگا۔ اللہ نے منافقین کا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ شہر کی طرح دیہات میں بھی منافقین موجود ہیں جو نفاق پر ڈٹے ہوئے ہیں ایسے لوگوں کا حال آپ نہیں جانتے بلکہ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللہُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُہٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ۝ 0 ۭ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ 105 ۚ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ وَاْلمُؤْمِنُونَ ط وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰی عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (التوبہ : 105) (اور کہہ دیجیے تم عمل کرتے رہوں عنقریب اللہ اور اس کا رسول اور مسلمان تمہارے طرز عمل کو دیکھیں گے پھر تم لو ٹائے جاؤ گے اس کی طرف جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے بس وہ تم کو بتائے گا تم کیا کرتے رہے ہو۔ ) غزوہ تبوک میں شرکت نہ کر کے ابو لبابہ اور ان کے ساتھی جو ایک بڑی کوتاہی کرچکے تھے اسے تو اللہ نے معاف فرما دیا اور ان کے تطہیرِ عمل اور تزکیہ نفس کے لیے ان سے مال و دولت بھی قبول فرمایا تاکہ حب دنیا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 105–106

فہم القرآن ربط کلام : توبہ اور صدقات قبول کرنے کے باوجود وارننگ۔ غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے والوں کی توبہ قبول کرلی گئی۔ مگر اس کے باوجود انھیں یہ کہہ کر وارننگ دی گئی۔ کہ آئندہ تمہیں دیکھا جائے گا کہ تم کیسا کردار پیش کرتے ہو۔ گویا اللہ اس کا رسول اور مومن تم پر کڑی نگاہ رکھیں گے۔ کہ تم دوبارہ ایسی غلطی تو نہیں کرتے۔ ہاں یاد رکھنا تم بالآخر اس ذات کبریا کے حضور پیش ہونے والے ہو۔ جس سے کسی کا ظاہر و باطن پوشیدہ نہیں ہے۔ باطن کا معنی جو چیز انسان کی نظروں سے اوجھل ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ظاہر اور باطن دونوں برابر ہیں۔ ان سات صحابہ کی توبہ قبول ہوئی مگر حضرت کعب بن مالک ؓ حضرت ھلال بن امیہ ؓ اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وعید برائے مستقبل : آیت 105: وَقُلِ (اور آپ کہہ دیں) ان توبہ کرنے والوں کو اعْمَلُوْا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ (عمل کئے جائو پس اللہ دیکھ لیگا تمہارے عمل کو اور اسکا رسول اور مؤمنین بھی ) ۔ نمبر 1۔ تمہارا کوئی عمل مخفی نہیں خواہ خیر ہو یا شر اللہ تعالیٰ پر اور نہ اسکے بندوں پر جیسا کہ تم نے دیکھ لیا اور تمہارے سامنے ظاہر ہوگیا۔ نمبر 2۔ غیر تائبین کو توبہ کی ترغیب کیلئے یہ فرمایا۔ روایت میں وارد ہے جب انکی توبہ قبول کرلی گئی تو ان لوگوں نے کہا جنہوں نے توبہ نہ کی تھی کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کل گزشتہ ہمارے ساتھ نہ کلام کرتے اور نہ بیٹھتے تھے۔ انکو کیا ہوگیا پس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

آیت نمبر 105: مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے لیے وعید ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا دیکھنا اللہ تعالیٰ کا آپ (علیہ السلام) کو خبر دینا ہے اور مئومنین کا دیکھنا ان کے دلوں میں نیک لوگوں کی محبت ڈالنا اور برے لوگوں کا بغض ڈالنا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

105۔ جہاد میں جن لوگوں سے سستی ہوئی تھی اور وہ اپنے عیش و آرام میں پڑے رہے انہوں نے اپنے قصور کا اقرار کیا تھا ان کی نسبت یہ حکم ہوا کہ اے رسول اللہ تم ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ ابھی تو بہتیرے جہاد ہوں گے اس وقت خدا اور خدا کا رسول اور مومنین سب تمہارے کام اور مستعدی دیکھ لیں گے۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس آیت میں برے کاموں سے خوف اور اچھے عمل کا شوق دلایا گیا ہے کیونکہ جس کو یہ معلوم ہوگا کہ میرے عمل اللہ سے پوشیدہ نہیں ہیں تو گناہوں سے بچے گا اور نیکی کی کوشش کرے گا۔ جب حضرت ﷺ موجود تھے تو آنکھوں سے لوگوں کے عمل دیکھتے اور کانوں سے سنتے تھے اب آپ کی امت کے عمل آپ کے اور مومنوں کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت (105) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے فرماتا ہے : (وقل) ” اور کہہ دیجئے ! “ یعنی ان منافقین سے کہہ دیجئے ! (اعملوا) ” عمل کیے جاؤ۔ “ یعنی تم جو اعمال بجا لانا چاہتے ہو بجا لاؤ ‘ اپنے باطل پر جمے رہو اور یہ نہ سمجھو کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ سے چھپا رہے گا۔ (فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمومنون) ” پھر دیکھ لے گا اللہ تمہارے کام کو اور اس کا رسول اور مومن “ یعنی تمہارا عمل ضرور ظاہر ہو کر رہے گا۔ (وستردون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون) ” اور جلد تم لوٹائے جاؤ گے اس کے پاس جو تمام چھپی اور کھلی چیزوں کو جانتا ہے ‘ پس وہ تم کو ان عملوں کی خبر دے گا جو تم کرتے تھے۔ “ وہ اچھے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 103–106

صدقہ باعث تطہی رہے قول باری ہے خذمن اموالھم صدقۃ تطھر ھم و ترکیھم بھا اے نبی ! تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور نیکی کی راہ میں انہیں بڑھائو ظاہری طور پر کنایہ ان لوگوں کی طرف راجع ہے جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا تھا۔ اس لیے کہ کنایہ کے لیے کسی اسم ظاہر کا ہونا ضروری ہوتا ہے جس کا سلسلہ خطاب میں پہلے ذکر ہو چکاہو ۔ آیت میں ظاہر کلام اور مقتضائے لفظ یہی ہے۔ اس سے تمام اہل ایمان مراد لینا بھی درست ہے اس لیے کہ اس پر دلالت حال موجود ہے جس طرح یہ قول باری ہے انا انزلناہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اسے قدر کی رات میں نازل کیا یعنی قرآن ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 105–106

196 عمل کی تعلیم و تلقین : " سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ عمل کیے جاؤ۔ تمہارے عمل کو اللہ بھی دیکھے گا، اس کا رسول بھی اور اہل ایمان بھی " اور عمل کی روشنی سے خود واضح ہوجائے گا کہ تم کتنے پانی میں ہو اور کہاں کھڑے ہو۔ پس زبانی کلامی دعو وں کی ضرورت نہیں بلکہ عمل سے اپنی صداقت کا ثبوت پیش کرو۔ اہل بدعت کے جو تحریف پسند { وَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ } سے اپنے شرکیہ عقائد کے لئے استدلال کرتے ہیں وہ یہاں کیا کہیں گے کہ یہاں تو { وَرَسُولُہ } کے ساتھ { وَالْمُؤمِنوُنَ } کا اضافہ بھی موجود ہے۔ تو کیا وہ اپنی اس تحریفانہ منطق کی بناء پر سب اہل ایمان کو بھی حاضر ناظر اور عالم غیب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 104–105

اللہ توبہ قبول کرنیوالا، غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے تشریح : ان آیات میں سچے اور مخلص مومن اور منافق کا فرق بتایا گیا ہے۔ اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ ان کا رابطہ سیدھا اللہ سے ہے وہی ان کے صدقات و خیرات قبول کرتا ہے اور وہی توبہ بھی قبول کرتا ہے۔ خیرات کا اصل مقصد اور توبہ کی سچائی، سب اللہ کو معلوم ہے۔ مگر یہاں فرمایا کہ تم عمل کرتے جاؤ اللہ، رسول اور مومنین سب تمہیں پہچان جائیں گے کہ تم سچے ہو یا کہ جھوٹے ؟ سچے کی تو توبہ قبول ہوجائے گی اور جھوٹے کی نہ توبہ قبول ہوگی نہ اس پر رحمت و برکت نازل ہوگی اور بتایا جا رہا ہے کہ مخلص اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 100–110

آیات 100 تا 110 اسرار و معارف سابقون الا ولون بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔ اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ۔ یعنی اگر اب قصور ہوگیا تو آئندہ آنحضرت ﷺ اور خلفاء کے دور میں جو جہاد ہونے والے ہیں ان میں خوب کام کرلو۔ (از موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:105) ستردون۔ تم پھیرے جاؤ گے۔ تم لوٹائے جاؤ گے۔ رد سے مضارع مجہول جمع مذکر حاضر۔ اعملوا۔ ای اعملوا ما شئتم۔ جو جی چاہے تم کرو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 105–110

لغات القرآن آیت نمبر 107 تا 110 مسجد ضرار (نقصان پہنچانے والی مسجد) تفریق (اختلاف پیدا کرنے کو) ارصاد (شکار کے لئے، گھات لگانے کے لئے) حارب (جس نے جنگ کی) الحسنی (نیکی) یشھد (وہ گواہی دیتا ہے) اسس (بنیاد رکھ دی گئی) اول یوم (پہلے دن) ان تقوم (یہ کہ آپ کھڑے ہوں) رجال (مرد ہیں، کچھ لوگ ہیں ) یحبون (جو پسند کرتے ہیں) ان یتطھروا (یہ کہ وہ پاک صاف رہیں) بنیان (عمارت) شفا (کنارہ) جرف (کمزور گڑھا، کھوکھلا گڑھا) ھار (گرنے کو) انھار (وہ گر پڑا) لایزال (ہمیشہ) ریبۃ (شک کا کانٹا) تقطع (ٹکڑے ہوجائیں) تشریح : آیت نمبر 107 تا 110 منافقین کی سازشوں کا ذکر پچھلی آیات میں آچکا ہے۔ اب یہاں ایک نئی خطرناک سازش…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

زندہ لوگوں کے اعمال فوت شدگان کے سامنے جہاد میں جن لوگوں سے سستی ہوئی تھی اور وہ اپنے عیش و آرام میں پڑے رہے، انہوں نے اپنے قصور کا اقرار کیا تھا ان کی نسبت یہ حکم ہوا کہ اے رسول ﷺ اللہ کے ! تم ان سے کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ ابھی تو بہت سے جہاد ہوں گے۔ اس وقت خدا اور خدا کا رسول اور مومنین سب تمہارے کام اور مستعدی دیکھ لیں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو ! جمعہ کے دن دررد زیادہ پڑھا کرو کہ تمہارے درود میرے روبرو پیش ہوتے ہیں۔ اسی طرح زندوں کے عمل، ان کے کنبے اور رشتہ دار مردوں کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔ اگر اچھے عمل ہیں تو وہ خوش ہوتے ہیں، اگر برے عمل ہوتے ہیں تو کہتے ہیں یا اللہ ! ان کے دل میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 102–105

[56] غزوہ تبوک میں ساتھ نہ جانے والوں میں علاوہ منافقین کے کچھ مومنین بھی تھے جو محض کاہلی کی بناء پر پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ اپنی غفلت و کوتاہی پر اس درجہ نادم تھے کہ جب ان کو رسول اللہ ﷺ کی واپسی کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا کہ رسول اللہ ﷺ کھولیں گے تو خیر ورنہ یوں ہی ختم ہوجائیں گے۔ یہاں انہی لوگوں کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 104–106

شان کریمی : (3) یعنی اللہ تعالیٰ احساس گناہ کے بعد فورا گناہ بخش دیتا ہے ، اس لئے اس کی شان کریمی کا تقاضا یہی ہے ، (آیت) ” عن عبادہ “۔ میں لطیف اشارہ ہے بندوں کے عجز اور اللہ کے پیار کی جانب یعنی جب انسان اس کا بندہ ہے تو وہ ضرور اس کی بیچارگی کا خیال رکھے گا ، اور باوجود اس کے نقائص وعیب ان کے نگاہ عفو سے کام لے گا ، کیونکہ بندگی وبیچارگی کے بعد ہماری حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے ، جو گناہوں کو خدا کے مقابلے میں کی چیز عبودیت کا اظہار ضروری ہے اس کے بعد اس کا قلزم عاطفہ ورحمت خود بخود موجزن ہوجاتا ہے ، حل لغات : سکن : وجہ سکون ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

105 اور آپ ان لوگوں سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ تم عمل کرتے رہو عنقریب اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ اور مسلمان سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل کیا رہتا ہے اور آخرت میں تم ضرور اس خدا کی طرف پھیرے جائوگے اور واپس کئے جائوگے جو عالم الغیب والشہادہ اور ہر چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے پس وہ تم کو ان سب کاموں کی حقیقت سے آگاہ کردے گا جو تم کیا کرتے تھے۔ پہلی آیت میں ترغیب تھی اس میں ترہیب فرمائی حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اس جہاد میں قصور ہوا تو آگے اور جہاد ہوں گے رسولوں کے اور خلیفوں کے تب کام کریو۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 104–108

ف 3۔ ملخص اس قصہ کا یہ ہے کہ شہر مدینہ کے قریب ایک محلہ ہے قبا اس کا نام ہے رسول اللہ ﷺ جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے ہیں تو اول اسی محلہ میں قیام فرمایا پھر شہر میں تشریف لے آئے تھے تو زمانہ قیام میں جس جگہ آپ نماز پڑھتے تھے وہاں اس محلہ کے مومنین مخلصین نے ایک مسجد بنالی اور اس میں نماز پڑھا کرتے منافقین میں باہم یہ صلاح ٹھہری کہ ایک مکان مسجد کے نام سے جداگانہ بنایا جائے اس میں سب جمع ہو کر اسلام کی ضرررسانی کے مشورے کیا کریں غرض مسجد کی شکل پر وہ مکان تیار ہوا تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کی گئی کہ آپ وہاں چل کر نماز پڑھ لیجیے تو پھر وہاں جماعت ہونے لگے آپ نے وعدہ کرلیا کہ تبوک سے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

معافی دیئے گئے لوگوں کے لئے ایک خاص تنبیہہ فرمائی گئی : 136: فرمایا جا رہا ہے کہ معاف تو تم کو کردیا گیا لیکن فقط اتنا ہی تمہارے لئے کافی نہیں ہے بلکہ اب وقت ہے کہ تم اچھے اعمال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو نفاق قلب اور ضعف ایمان کا علاج اس سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ہے کہ آخرت اور جزائے اعمال کا استخصار پوری پوری طرح رہے اور قرآن کریم ہر ایسے موقع پر اس علاج سے کام لیتا ہے۔ فرمایا اب وقت آیا ہے کہ تمہارے اعمال دیکھے جائیں اور وہی اس بات کا فیصلہ کریں کہ آیا تم نے دفعہ الوقتہ کی ہے یا سچے دل سے تاب ہوئے ہو اور یاد رکھو کہ اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ نیک بندوں کے مخلصانہ اعمال کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 104–106

Let us now turn to the statement: وَآخَرُ‌ونَ مُرْ‌جَوْنَ لِأَمْرِ‌ اللَّـهِ (And there are others whose matter is deferred till the command of Allah - 106). We already know that seven of the ten believers, who had missed the battle of Tabuk without a valid excuse, had demonstrated their heartfelt remorse by tying themselves up to the pillars of the Prophet's Mosque. The injunction which covers them appeared in the first verse (102): آخَرُ‌ونَ اعْتَرَ‌فُوا (And there are others who admitted their sins). Verse 106 is now referring to the other three gentlemen who had not done what the group of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–129

89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.

Read the full tafseer →