اس سے مراد وہ تین بزرگ صحابہ ہیں جن کی توبہ ڈھیل میں پڑگئی تھی۔ حضرت مرارہ بن ربیع، حضرت کعب بن مالک، حضرت ہلال بن امیہ ؓ۔ یہ جنگ تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ شک اور نفاق کے طور پر نہیں بلکہ سستی، راحت طلبی، پھلوں کی پختگی سائے کے حصول وغیرہ کے لئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے تو اپنے تئیں مسجد کے ستونوں سے باندھ لیا تھا جیسے حضرت ابو لبابہ ؓ اور ان کے ساتھی۔ اور کچھ لوگوں نے ایسا نہیں کیا تھا ان میں یہ تینوں بزرگ تھے۔ پس اوروں کی تو توبہ قبول ہوگئی اور ان تینوں کا کام پیچھے ڈال دیا گیا یہاں تک کہ (لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
سورة التَّوْبَة 101
یہ لوگ ایسے تھے جن کا معاملہ مشکوک تھا۔ نہ ان کے منافق ہونے کا فیصلہ کیا جاسکتا تھا نہ گناہگار مومن ہونے کا ان دونوں چیزوں کی علامات ابھی پوری طرح نہ ابھری تھیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے معاملہ کو ملتوی رکھا۔ نہ اس معنی میں کہ فی الواقع خدا کے سامنے معاملہ مشکوک تھا، بلکہ اس معنی میں کہ مسلمانوں کو کسی شخص یا گروہ کے معاملہ میں اپنا طرز عمل اس وقت تک متعین نہ کرنا چاہیے کہ جب تک اس کی پوزیشن ایسی علامات سے واضح نہ ہوجائے جو علم غیب سے نہیں بلکہ حس اور عقل سے جانچی جاسکتی ہوں۔
Read the full tafseer →(آیت) وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ دس حضرات مؤمنین جو بلا عذر کے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے سات نے تو اپنی ندامت و افسوس کا پورا اظہار اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ کر کردیا تھا ان کا حکم پہلی آیت میں آچکا، وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا اس آیت سے باقی وہ تین حضرات مراد ہیں جنہوں نے یہ عمل مسجد میں قید ہونے کا نہیں کیا تھا، اور اس طرح کھلے طور پر اعتراف نہیں کیا، ان کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دے دیا کہ مسلمان ان کا مقاطعہ کریں، ان سے سلام کلام بند کردیں، یہ معاملہ ہونے کے بعد ان کی حالت درست ہوگئی، اور اخلاص کے ساتھ اعتراف جرم کرکے تائب ہوگئے، تو ان…
Read the full tafseer →وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا يُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا يَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ الجاء کے معنی کسی معاملے کو مؤخر اور ملتوی کرنے کے ہیں۔
بعض لوگوں نے اگرچہ اپنے گناہ کا نہایت سچائی سے اعتراف کرلیا تھا لیکن ان کو اس وقت معافی نہیں ملی بلکہ ان کے معاملے کا فیصلہ آئندہ پر اٹھا رکھا گیا۔ آگے آیت 118 میں ان کا حوالہ آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تین آدمی تھے۔ روایات میں ان کے نام کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع مذکور ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ حضرات نفاق میں متہم نہیں تھے بلکہ اسلام کے لیے قربانیاں پیش کرنے والے لوگوں میں سے تھے، پچھلے غزوات میں بھی…
Read the full tafseer →16۔ 1 جنگ تبوک میں پیچھے رہنے والے ایک تو منافق تھے، دوسرے وہ جو بلا عذر پیچھے رہ گئے تھے۔ اور انہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا تھا لیکن انہیں معافی عطا نہیں کی گئی تھی، اس آیت میں اس گروہ کا ذکر ہے جن کے معاملے کو مؤخر کردیا گیا تھا (یہ تین افراد تھے، جن کا ذکر آگے آرہا ہے۔)
16۔ 2 اگر وہ اپنی غلطی پر مصر رہے۔
16۔ 3 اگر وہ خالص توبہ کرلیں گے۔
Read the full tafseer →81: یہ ان دس میں سے تین حضرات تھے جو کسی عذر کے بغیر صرف سستی کی وجہ سے تبوک کی مہم میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے۔ یہ حضرت کعب بن مالک، حضرت ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع ؓ تھے۔ ان حضرات کو ندامت تو تھی، لیکن انہوں نے توبہ کرنے میں اتنی جلدی نہیں کی جتنی حضرت ابو لبابہ ؓ اور ان کے ساتھیوں نے کی تھی، نہ وہ طریقہ اختیار کیا جو ان سات حضرات نے اختیار کیا تھا۔ چنانچہ جب یہ حضرات آنحضرت ﷺ کے پاس معذرت کرنے کے لیے پہنچے تو آپ نے ان کے بارے میں اپنا فیصلہ ملتوی فرما دیا۔ اور جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نہ آئے، ان کے بارے میں یہ حکم دیا کہ سب مسلمان ان کا معاشرتی بائیکاٹ کریں۔ چنانچہ…
Read the full tafseer →واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبھم واما یتوب علیھم اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے کہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا۔ یعنی مدینہ کے رہنے والے ان لوگوں میں سے جو تبوک کے جہاد پر نہیں گئے ‘ کچھ اور لوگ ہیں جن کا فیصلہ اللہ کے حکم آنے تک ڈھیل میں پڑا ہوا ہے۔ وہ چاہے تو عذاب دے ‘ اس کو صغیرہ گناہ پر بھی عذاب دینے کا اختیار ہے اور چاہے تو بغیر توبہ کے معاف کر دے ‘ وہ کبیرہ گناہوں کو بھی بغیر توبہ کے معاف کرسکتا ہے ‘ کوئی چیز اس پر لازم نہیں ہے ‘ لہٰذا بندوں کو امید بھی رکھنی چاہئے اور ڈرتے بھی رہنا چاہئے (ا اللہ کو تو کسی کو عذاب دینے یا بخش دینے میں کوئی…
Read the full tafseer →5 اہل مدینہ میں سے یہاں ایک چھوٹی سی جماعت کا ذکر فرمایا ہے اصل یہ ہے کہ متخلفین عن تبوک (یعنی تبوک میں نہ شریک ہونے والے) تین قسم کے تھے۔ ایک منافقین جو ازراہ شک و نفاق علیحدہ رہے۔ دوسرے بعض مومنین جو محض سستی اور تن آسانی کی بدولت شریک جہاد نہ ہوئے۔ پھر ان میں دو قسمیں تھیں۔ اکثر وہ تھے جنہوں نے واپسی کی اطلاع پا کر اپنے کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا ان کا ذکر پچھلی آیات میں گزر چکا۔ صرف تین شخصوں کی جماعت وہ تھی جنہوں نے نہ اپنے کو ستونوں سے بندھوایا نہ کوئی عذر تراشا۔ بس جو واقعہ تھا اور جو قصور ہوا تھا صاف صاف بلا کم وکاست آنحضرت ﷺ کے سامنے عرض کردیا۔ ان کے بارے میں آیت (وَاٰخَرُوْنَ…
Read the full tafseer →آیت 106 وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُہُمْ وَاِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْہِمْط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ
یہ ضعفاء میں سے دوسری قسم کے لوگوں کا ذکر ہے ‘ جن کا معاملہ مؤخر کردیا گیا تھا۔ یہ تین اصحاب رض تھے : کعب بن مالک ‘ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن الربیع رض ‘ ان میں سے ایک صحابی حضرت کعب بن مالک انصاری رض نے اپنا واقعہ بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے جو کتب احادیث اور تفاسیر میں منقول ہے۔ مولانا مودودی رح نے بھی تفہیم القرآن میں بخاری شریف کے حوالے سے یہ طویل حدیث نقل کی ہے۔ یہ بہت سبق آموز اور عبرت انگیز واقعہ ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد مدینہ کے اس معاشرے ‘ حضور ﷺ کے زیر تربیت افراد…
Read the full tafseer →119 معذرت کرنے والوں کی قسمیں :۔ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین طرح کے لوگ تھے۔ ایک منافقین جو (80) اسی سے کچھ زیادہ تھے اور جھوٹی معذرتیں پیش کر رہے تھے۔ دوسرے سیدنا ابو لبابہ اور آپ کے چھ ساتھی جنہوں نے آپ سے سوال و جواب سے پہلے ہی اپنے آپ کو مسجدنبوی کے ستون سے باندھ دیا تھا جن کا قصہ پہلے گزر چکا ہے اور تیسرے سیدنا کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھی سیدناہلال بن امیہ اور مرارہ بن الربیع۔ یہ تینوں بھی پکے مومن تھے۔ انہوں نے رسول اللہ کے سامنے کوئی بہانہ یا عذر پیش نہیں کیا بلکہ سچی سچی بات برملا بتلا دی۔ ان کے معاملہ کو تاحکم الٰہی آپ نے التواء میں ڈال دیا ان کا قصہ آگے اسی سورت کی آیت…
Read the full tafseer →194۔ (شرائط قبول توبہ کے نہ موجود اور موجود ہونے کی بنا پر۔ عدم اخلاص واخلاص کی بنا پر) ملاحظہ ہو حاشیہ 188 ۔ اب بیان مومنین کے ایک دوسرے طبقے کا ہورہا ہے۔ یہ لوگ بھی کاہلی اور سہل انگاری ہی کی بنا پر غزوۂ تبوک میں شرکت سے محروم رہ گئے تھے، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی واپسی پر نہ تو ایک طرف منافقین کی طرف کچھ عذرات تراشے، لیکن دوسری طرف تابئین صادقین کی طرح یہ بھی نہ کیا کہ اپنے کو ستون سے باندھ دیتے یا کوئی اور سزا اپنے کو دینے لگتے، انہوں نے خدمت اقدس میں حاضری دے کر محض سیدھی اور سچی بات عرض کردی، انہوں جواب ملا کہ وحی الہی کا انتظار کرو، جیسا بھی حکم تمہارے باب میں نازل ہو۔ ان لوگوں کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیت نمبر 100 تا 110
ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے…
Read the full tafseer →واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبھم واما یتوب علیھم اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے کہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا۔ یعنی مدینہ کے رہنے والے ان لوگوں میں سے جو تبوک کے جہاد پر نہیں گئے ‘ کچھ اور لوگ ہیں جن کا فیصلہ اللہ کے حکم آنے تک ڈھیل میں پڑا ہوا ہے۔ وہ چاہے تو عذاب دے ‘ اس کو صغیرہ گناہ پر بھی عذاب دینے کا اختیار ہے اور چاہے تو بغیر توبہ کے معاف کر دے ‘ وہ کبیرہ گناہوں کو بھی بغیر توبہ کے معاف کرسکتا ہے ‘ کوئی چیز اس پر لازم نہیں ہے ‘ لہٰذا بندوں کو امید بھی رکھنی چاہئے اور ڈرتے بھی رہنا چاہئے (ا اللہ کو تو کسی کو عذاب دینے یا بخش دینے میں کوئی…
Read the full tafseer →(106) اور مدینہ والوں میں سے کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ یہ لوگ اور ہیں کہ جن کا معاملہ حکم الہی کے آنے تک ملتوی ہے، خواہ عدم شرکت غزوہ تبوک پر ان کو سزادے اور خواہ انھیں معاف فرما دے اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کو خوب جاننے والا ہے اور اس فیصلہ فرمانے میں بڑی حکمت والا ہے۔
Read the full tafseer →وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ : جو لوگ غزوۂ تبوک میں شریک نہیں ہوئے اور مدینہ سے نہیں نکلے، وہ تین طرح کے تھے، ایک منافقین، دوسرے ابولبابہ ؓ اور ان کے ساتھی، جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور تیسرے کعب بن مالک ؓ اور ان کے دو ساتھی مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ ؓ ، جنھوں نے اگرچہ آپ ﷺ کے سامنے کوئی جھوٹا عذر بنا کر پیش نہیں کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ جلدی قبول نہ فرمائی بلکہ ان کے معاملے کو مؤخر رکھا۔ اس آیت میں انھی کا ذکر ہے اور ان کی توبہ کی قبولیت کا ذکر آگے آیت میں آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 106۔
یہ آیت ان تین کے بارے میں نازل ہوئی جن کی توبہ قبول کرلی گئی : وہ کعب بن مالک، ہلال بن امیہ یہ بنی واقف سے تھے اور مرارہ بن ربیع تھے (1) (معالم التنزیل، جلد 3، صفحہ 105)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ابن ربعی العمری تھا، اسے مہدوی نے ذکر کیا ہے یہ لوگ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، حالانکہ یہ خوشحال تھے، جیسا کہ ان کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اور تقدیر کلام ہے، ومنھم آخرون مرجون “ یہ ارجاتہ سے ہے یعنی میں نے اسے مؤخر کردیا اور اسی سے مرجئۃ کہا گیا ہے، کیونکہ ان کا معاملہ ملتوی اور مؤخر کردیا (اخرتہ) اور مبرد نے کہا ہے : ارجیتہ بمعنی اخرتہ نہیں کہا جاسکتا، البتہ یہ الرجاء سے ہوگا۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →1:۔ ابن منذر (رح) نے عکرمہ (رح) سے فرمایا کہ (آیت) ” واخرون مرجون لامر اللہ “ سے وہ تین آدمی مراد ہیں جو پیچھے رہ گئے تھے۔
2:۔ ابن منذر ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخرون مرجون “ سے مراد ہیں بلال بن امیہ مرارہ بن ربیع اور کعب بن مالک ہیں جو قبیلہ اوس اور خزرج میں سے تھے۔
3:۔ ابوالشیخ (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ ابولبابہ ؓ نے بنوقریظہ کی طرف اپنی انگلی سے اشارہ فرمایا کہ وہ ذبح کئے جائیں گے پھر فرمایا کہ میں نے اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کی تو (یہ آیت) ” لاتخونو اللہ والرسول “ (الانفال آیت 27) نازل ہوئی اور (یہ آیت) ” واخرون مرجون لامر…
Read the full tafseer →وَاٰخَرُوْنَ [ اور کچھ دوسرے ] مُرْجَوْنَ [ ملتوی کیے ہوئے ہیں ] لِاَمْرِ اللّٰهِ [ اللہ کے حکم کے لیے ] اِمَّا [ یا ] يُعَذِّبُھُمْ [ وہ عذاب دے گا ان کو ] وَاِمَّا [ اور یا ] يَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۭ [ وہ توبہ قبول کرے گا ان کی ] وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ [ اور اللہ جاننے والا ہے ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُھُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) (اور جو لوگ ایسے ہیں جن کا معاملہ اللہ کا حکم آنے تک ملتوی ہے وہ انہیں عذاب دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے) اس آیت میں ان تین صحابیوں کا ذکر ہے جو بلا عذر تبوک میں جانے سے رہ گئے تھے۔ انہیں اس پر ندامت بھی تھی اور سچائی کے ساتھ انہوں نے عرض کردیا تھا کہ ہم واقعی بلا عذر رہ گئے۔ لیکن ان لوگوں کی طرح سے توبہ کے لیے پیش بھی نہ ہوئے جنہوں نے اپنی جانوں کو ستونوں سے باندھ دیا تھا۔ یہ تین آدمی کعب بن مالک، ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے بول…
Read the full tafseer →ذکر قسم دوم
قال اللہ تعالیٰ ۔ واخرون مرجون لامر اللہ الایۃ۔
ان آیات میں مومنین متخلفین کی قسم دوم کا کر ہے یہ تین آدمی تھے کعب بن مالک اور ہلال بن مایہ اور مرارۃ بن ربیع ؓ ان تینوں آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے تو نہیں باندھا تھا مگر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے گناہ کا اقرار کیا آپ ﷺ نے حکم دیا کہ کوئی مسلمان ان سے بات نہ کرے اور نہ ان کے پاس بیٹھے۔ ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم پر موقوف رکھا گیا یعنی جن کا معاملہ اللہ کے حکم کے انتظار میں التواء میں رکھا گیا ہے یا تو اللہ ان کو سزا دے یا ان پر مہربانی فرمائے کہ ان کی خطا کو معاف کرے…
Read the full tafseer →101:“ وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ الخ ” اس میں ان تین مخلص صحابہ کا ذکر ہے جو قدرت کے باوجود محض سستی کی وجہ سے جنگ تبوک میں شریک نہ ہوئے اورحضور ﷺ کی واپسی پر کوئی معذرت نہ کی بلکہ ذرا تاخیر سے اپنے قصور کی معافی مانگی اور سچی توبہ کی۔ ان کی توبہ کچھ دن تاخیر سے قبول ہوئی۔ مذکور الصدر پانچ صحابہ نے بلا تاخیر توبہ کی مگر یہ تینوں توبہ میں پیچھے رہے اس لیے قبولیت میں بھی تاخیر ہوئی۔ “ و الفرق بین القسم الثانی و بین ھذا الثالث ان اولئک سارعوا الی التوبة وھؤلاء لم یسارعوا الیھا قال ابن عباس ؓ عنھما نزلت ھذه الایة فی کعب بن مالک و مرارة بن الربیع وھلال بن امیة ” (کبیر ج 4 ص 738) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے غزوہ تبوک اور جہاد فی سبیل اللہ کا زکر فرمایا اور جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی شدید مذمت بیان فرمائی ۔ منافقین کی کوتاہیوں غلطیوں اور سازشوں کا حال بیان فرمایا۔ پھر دیہاتی منافقوں اور دیہاتی مومنوں کا تذکرہ کیا اللہ نے جہاد کے لیے مرکزی جماعت کا ذکر بھی کیا جو کہ پوری امت کے لیے معیار ہے اور جس کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہے۔ یہ پہلی جماعت کا ذکر تھا۔ اس سلسلے کی دوسری جماعت کا ذکر آگے آئیگا۔ اللہ نے منافقین کا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ شہر کی طرح دیہات میں بھی منافقین موجود ہیں جو نفاق پر ڈٹے ہوئے ہیں ایسے لوگوں کا حال آپ نہیں جانتے بلکہ اللہ نے…
Read the full tafseer →وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللہِ اِمَّا يُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا يَتُوْبُ عَلَيْہِمْ 0 ۭ وَاللہُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ 106
رَّجَاءُ
ظنّ يقتضي حصول ما فيه مسرّة، وقوله تعالی: ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] ، قيل : ما لکم لا تخافون وأنشد :إذا لسعته النّحل لم يَرْجُ لسعها ... وحالفها في بيت نوب عواملووجه ذلك أنّ الرَّجَاءَ والخوف يتلازمان، قال تعالی: وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ ما لا يَرْجُونَ [ النساء/ 104] ،
اور رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ اور آیت کریمہ ؛۔ ما لَكُمْ لا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقاراً [ نوح/ 13] تو تمہیں کیا بلا مار گئی کہ تم نے خدا…
Read the full tafseer →ترکیب : وآخرون مرجون معطوف ہے وآخرون اعترفوا پر والذین معطوف ہے وآخرون مرجون پر ای ومنھم الذین اتخذوا اور ممکن ہے کہ مبتداء ہو والخبر اَفَمَنْ اسس والعائد محذوف ای منھم۔ ضرار ممکن ہے کہ مفعول ثانی ہو اتخذوا کا وکذلک ما بعدہ والمصادر کلھا ورقعۃً موضع اسم الفاعل ای مفراو مفر قا۔ لمسجد مبتداء اسس الخ اس کی صفت احق ان تقوم اے بان تقوم الخ خبر۔
تفسیر : اب ان عذر کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں اور دیگر بندگان کے لئے ترغیب و ترہیب میں ایسی بات کہتا ہے کہ اگر کوئی اس کا لحاظ رکھے تو معاصی سے بچنے اور طاعت الٰہی کے اختیار کرنے میں ہمیشہ سرگرم رہے۔ فقال وقل اعملوا الخ کہ تم اعمال کئے جاؤ آیندہ جو کچھ…
Read the full tafseer →وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِاللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْھِمْ ط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ
(التوبہ : 106)
(اور کچھ دوسرے بھی ہیں جن کا معاملہ اللہ کا حکم آنے تک ملتوی کردیا گیا ہے چاہے وہ انھیں عذاب دے اور چاہے تو توبہ قبول فرمائے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ )
گزشتہ آیات میں جن مخلص مسلمانوں کی توبہ قبول ہوئی ان کے علاوہ بھی تین افراد ایسے تھے جن کے ایمان و اخلاص میں کوئی شبہ نہ تھا گذشتہ حق و باطل کی کشکش میں وہ کبھی پیچھے نہ رہے تھے لیکن اب کوئی ایسا الجھائو پڑا کہ وہ اندیشہ ہائے دور دراز کا شکار ہو کر گھر بیٹھ رہے تھے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بجائے عذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
فہم القرآن
ربط کلام : توبہ اور صدقات قبول کرنے کے باوجود وارننگ۔
غزوہ تبوک سے پیچھے رہنے والوں کی توبہ قبول کرلی گئی۔ مگر اس کے باوجود انھیں یہ کہہ کر وارننگ دی گئی۔ کہ آئندہ تمہیں دیکھا جائے گا کہ تم کیسا کردار پیش کرتے ہو۔ گویا اللہ اس کا رسول اور مومن تم پر کڑی نگاہ رکھیں گے۔ کہ تم دوبارہ ایسی غلطی تو نہیں کرتے۔ ہاں یاد رکھنا تم بالآخر اس ذات کبریا کے حضور پیش ہونے والے ہو۔ جس سے کسی کا ظاہر و باطن پوشیدہ نہیں ہے۔ باطن کا معنی جو چیز انسان کی نظروں سے اوجھل ہو۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ظاہر اور باطن دونوں برابر ہیں۔ ان سات صحابہ کی توبہ قبول ہوئی مگر حضرت کعب بن مالک ؓ حضرت ھلال بن امیہ ؓ اور…
Read the full tafseer →التواء والے لوگ :
آیت 106: وَ ٰاخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِ (اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی کردیا گیا ہے) مدنی، کوفی قراء سوائے ابوبکر نے بلا ھمزہ پڑھا ہے۔ دوسرے قراء نے مُرْجُؤُوْنَ پڑھا ہے یہ ارجیتہ ارجأتہٗ سے ہے۔ جب کہ اس کو مؤخر کیا جائے۔ اور اسی سے المرجئہ ہے۔ مطلب اس طرح ہے واٰخرون من المتخلفین موقوفون الی ان یظھر امراللّٰہ فیھم۔ متخلفین میں سے دوسرے روک دیئے گئے یہاں تک کہ ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ظاہر ہو۔
اِمَّا یُعَذِّ بُھُمْ (خواہ وہ ان کو سزا دے) اگر وہ اصرار کریں اور توبہ نہ کریں۔ وَاِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْھِمْ (یا ان کی توبہ قبول کرلے)…
Read the full tafseer →آیت نمبر 106:”۔۔۔ “ اہل مدینہ اور اہل کوفہ نے ابوبکر کے علاوہ ” مرجون “ بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے ہمزہ کے ساتھ اور ” الارجائ “ تاخیر کرنا۔
آخرون مرجون سے کون لوگ مراد ہیں
” مرجون “ یہ وہ تین لوگ تھے جن کا واقعہ آگے تفصیل سے آرہا ہے۔ حضرت کعب بن مالک ؓ ‘ ہلال بن امیہ ‘ مرارۃ بن ربیع ؓ ان حضرات نے توبہ کرنے اور عذر کرنے میں اتنی کوشش نہیں کی جو ابو لبابہ ؓ اور ان کے ساتھیوں نے کی تھی تو نبی کریم نے پچاس راتیں ان کا معاملہ موقوف رکھا اور لوگوں کو ان سے بات چیت کرنے اور ان کے ساتھ بیٹھنے سے منع کردیا تو یہ چیز ان پر بہت گراں گزری اور زمین تنگ ہوگئی ‘ یہ بدر کے شرکاء میں سے تھے تو کچھ…
Read the full tafseer →106۔ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ منافق اپنے نفاق پر اڑے رہے جہاد میں نہیں شامل ہوئے ان پر دنیا میں بھی عذاب نازل ہوا اور آخرت میں بھی ہوگا ایک وہ لوگ بھی تھے جو آرام کے واسطے لڑائی سے پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے اپنے قصور کا اقرار کیا اور حضرت سے عذر چاھا آپ نے قبول فرمایا اللہ نے معاف کردیا اس آیت میں جس کا ذکر ہے یہ وہ لوگ ہیں جو جہاد میں نہیں شامل ہوئے تھے ان کو کوئی عذر نہ سوجھا جو حیلہ کرتے اس لئے حضرت ﷺ ان کے بارے میں چپ ہو رہے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ ان کا کام ڈھیل میں ہے پچاس روز کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم اور حکمت کے موافق جو کچھ ٹھہرا ہے وہ ظہور میں آجاویگا اس عرصہ میں حضرت ﷺ اور سارے…
Read the full tafseer →آیت (106)
(واخرون) ” اور کچھ دوسرے لوگ “ یعنی جہاد سے پیچھے رہ جانے والے کچھ دوسرے لوگ (مرجون لامر اللہ) ” جن کا کام اللہ کے حکم پر موقوف ہے۔ “ یعنی جن کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر موخر ہے (امایعذبھم واما یتوب علیھم) ” چاہے ان کو عذاب دے ‘ چاہے ان کی توبہ قبول کرلے۔ “ اس آیت کریمہ میں جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے لئے سخت تخویف ہے اور ان کو توبہ کرنے اور اپنے اس عمل پر نادم ہونے کی ترغٰب دی گئی ہے۔ (واللہ علیم حکیم) ” اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔ “ یعنی وہ تمام اشیاء کو ان کے لائق مقام پر رکھتا ہے ‘ اگر اللہ تعالیٰ کی حکمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دے اور ان کی توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
صدقہ باعث تطہی رہے
قول باری ہے خذمن اموالھم صدقۃ تطھر ھم و ترکیھم بھا اے نبی ! تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور نیکی کی راہ میں انہیں بڑھائو ظاہری طور پر کنایہ ان لوگوں کی طرف راجع ہے جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا تھا۔ اس لیے کہ کنایہ کے لیے کسی اسم ظاہر کا ہونا ضروری ہوتا ہے جس کا سلسلہ خطاب میں پہلے ذکر ہو چکاہو ۔ آیت میں ظاہر کلام اور مقتضائے لفظ یہی ہے۔ اس سے تمام اہل ایمان مراد لینا بھی درست ہے اس لیے کہ اس پر دلالت حال موجود ہے جس طرح یہ قول باری ہے انا انزلناہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اسے قدر کی رات میں نازل کیا یعنی قرآن ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–106
196 عمل کی تعلیم و تلقین : " سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ عمل کیے جاؤ۔ تمہارے عمل کو اللہ بھی دیکھے گا، اس کا رسول بھی اور اہل ایمان بھی " اور عمل کی روشنی سے خود واضح ہوجائے گا کہ تم کتنے پانی میں ہو اور کہاں کھڑے ہو۔ پس زبانی کلامی دعو وں کی ضرورت نہیں بلکہ عمل سے اپنی صداقت کا ثبوت پیش کرو۔ اہل بدعت کے جو تحریف پسند { وَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمْ وَرَسُوْلُہٗ } سے اپنے شرکیہ عقائد کے لئے استدلال کرتے ہیں وہ یہاں کیا کہیں گے کہ یہاں تو { وَرَسُولُہ } کے ساتھ { وَالْمُؤمِنوُنَ } کا اضافہ بھی موجود ہے۔ تو کیا وہ اپنی اس تحریفانہ منطق کی بناء پر سب اہل ایمان کو بھی حاضر ناظر اور عالم غیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
منافقین کا منصوبہ اور ان کی سزا
تشریح : آیت 106 کا سلسلہ پچھلی آیات سے چل رہا ہے۔ غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے تین طرح کے لوگ تھے۔ ایک منافقین جن کی تعداد اسی (80) سے کچھ زائد تھی۔ دوسرے ابو لبابہ اور آپ کے چھ ساتھی، جنہوں نے آپ ﷺ سے سوال و جواب سے پہلے ہی اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا تھا۔ تیسرے کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھی۔
جیسا کہ پچھلی آیات سے منافقین کا ذکر چلا آرہا ہے تو یہاں بھی انہی کی سازش کا ذکر ہو رہا ہے اس کا تعلق ابوعامر نصرانی سے ہے اس نے مسجد قباء کے قریب ہی ایک مسجد بنائی اس مقصد کے لیے کہ وہاں بیٹھ کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنائے جائیں۔ مسلمانوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیات 100 تا 110
اسرار و معارف
سابقون الا ولون
بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔
اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ جو لوگ غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہوئے اور مدینہ سے نہیں نکلے وہ تین طرح کے تھے ایک منافقین، دوسرے حضرت ابو لبابہ اور ان کے ساتھی جن کا اوپر ذکر گزر چکا ہے اور تیسرے کعب بن مالک اور ان کے دو ساتھی مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ جنہوں نے اگرچہ آنحضرت ﷺ کی واپسی پر کوئی جھوٹا عذر بنا کر پیش نہیں کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول نہ فرمائی اور ان کے معاملے کو موخر رکھا۔ اس آیت میں انہی کے معاملے کو ڈھیل میں رکھے جانے کا ذکر ہے۔ حضرت ابولبابہ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ جلد ہی قبول کرلی گئی تھی جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکیے۔ آیت 117 تا 118)
Read the full tafseer →(9:106) مرجون۔ (رج و۔ رج ی مادہ) رجاء کنارہ۔ جیسے رجا البئر۔ کنویں کا کنارہ۔ اس کی جمع ارجاء ہے قرآن مجید میں ہے والملک علی ارجائھا۔ (69: 17) اس کے کناروں پر فرشتے ہوں گے۔ رجاء ایسے ظن کو کہتے ہیں جس میں مسرت حاصل ہونے کا امکان ہو۔ قرآن میں ہے مالکم لا ترجون للہ وقارا (71:127) تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم نے خدا کا وقار دل سے بھلا دیا ہے۔
بعض مفسرین نے اس کا معنی لا تخافون کیا ہے یعنی تم کیوں نہیں ڈرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خوف ورجاء باہم لازم و ملزوم ہیں۔ جب کسی محبوب چیز کے حصول کی توقع ہوگی تو ساتھ ہی اس کا ہاتھ سے چلے جانے کا اندیشہ بھی ہوگا۔ اور ایسے ہی اس کے برعکس صورت میں اندیشہ کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–110
لغات القرآن آیت نمبر 107 تا 110
مسجد ضرار (نقصان پہنچانے والی مسجد) تفریق (اختلاف پیدا کرنے کو) ارصاد (شکار کے لئے، گھات لگانے کے لئے) حارب (جس نے جنگ کی) الحسنی (نیکی) یشھد (وہ گواہی دیتا ہے) اسس (بنیاد رکھ دی گئی) اول یوم (پہلے دن) ان تقوم (یہ کہ آپ کھڑے ہوں) رجال (مرد ہیں، کچھ لوگ ہیں ) یحبون (جو پسند کرتے ہیں) ان یتطھروا (یہ کہ وہ پاک صاف رہیں) بنیان (عمارت) شفا (کنارہ) جرف (کمزور گڑھا، کھوکھلا گڑھا) ھار (گرنے کو) انھار (وہ گر پڑا) لایزال (ہمیشہ) ریبۃ (شک کا کانٹا) تقطع (ٹکڑے ہوجائیں)
تشریح : آیت نمبر 107 تا 110
منافقین کی سازشوں کا ذکر پچھلی آیات میں آچکا ہے۔ اب یہاں ایک نئی خطرناک سازش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
شان نزول : اس آیت میں جس کا ذکر ہے یہ وہ لوگ ہیں جو جہاد میں نہیں شامل ہوئے تھے اور کوئی حیلہ بھی نہیں کیا۔ اس لئے آنحضرت ﷺ ان کے بارے میں چپ ہو رہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان کا کام ڈھیل میں ہے، پچاس روز کے بعد اللہ تعالیٰ کے علم اور حکمت کے موافق جو کچھ ٹھہرا ہے وہ ظہور میں آجاوے گا۔ اس عرصہ میں آنحضرت ﷺ اور سارے مسلمانوں نے ان سے بولنا چھوڑ دیا، ان کی عورتیں بھی علیحدہ ہوگئیں۔ بہت ہی پریشان اور حیران ہوئے پھر معافی کی آیت اتری۔
Read the full tafseer →[57] یہ کل تین آدمی تھے، مرارہ بن ربیع، کعب بن مالک اور بلال بن امیہ، انہوں نے پیچھے رہ جانے پر کوئی معذرت نہیں کی اور کہا کہ سچی بات یہ ہے کہ کوئی عذر نہ تھا۔ محض کاہلی اور سستی تھی جس نے نکلنے نہ دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے حکم کا انتظار کرو۔ چناچہ آگے چل کر ان کا حکم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
شان کریمی :
(3) یعنی اللہ تعالیٰ احساس گناہ کے بعد فورا گناہ بخش دیتا ہے ، اس لئے اس کی شان کریمی کا تقاضا یہی ہے ، (آیت) ” عن عبادہ “۔ میں لطیف اشارہ ہے بندوں کے عجز اور اللہ کے پیار کی جانب یعنی جب انسان اس کا بندہ ہے تو وہ ضرور اس کی بیچارگی کا خیال رکھے گا ، اور باوجود اس کے نقائص وعیب ان کے نگاہ عفو سے کام لے گا ، کیونکہ بندگی وبیچارگی کے بعد ہماری حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے ، جو گناہوں کو خدا کے مقابلے میں کی چیز عبودیت کا اظہار ضروری ہے اس کے بعد اس کا قلزم عاطفہ ورحمت خود بخود موجزن ہوجاتا ہے ،
حل لغات :
سکن : وجہ سکون ۔
Read the full tafseer →106 اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ خدا کا حکم آنے تک ملتوی ہے یا وہ ان کو سزا دے گا اور یا ان کی توبہ قبول کرے گا اور اللہ تعالیٰ بڑے علم اور بڑی حکمت کا مالک ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اوپر کئی فرقے مذکور ہوئے ایک منافق جھوٹے بہانے کرتے ایک گنوار غرض کا وقت تاکتے ایک گنوار صاف دل رفیق ایک وہ جو اپنا گناہ مانے ان کو معاف فرمایا مگر جو قدیم یاروں میں تین شخص اپنا گناہ مانتے تھے ان کو ادب دینے کو پچاس دن ڈھیل میں رکھا اس بیچ میں حضرت اور سب مسلمان ان سے کلام نہ کرتے اور ان کی عورتیں جدا ہوگئیں جب ان کے دل خوب پشیمان ہوئے تب معافی نازل ہوئی وہ آیت آگے ہے یہ ذکر ان کا فرمایا۔ 12 ۔ کعب بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–108
ف 3۔ ملخص اس قصہ کا یہ ہے کہ شہر مدینہ کے قریب ایک محلہ ہے قبا اس کا نام ہے رسول اللہ ﷺ جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے ہیں تو اول اسی محلہ میں قیام فرمایا پھر شہر میں تشریف لے آئے تھے تو زمانہ قیام میں جس جگہ آپ نماز پڑھتے تھے وہاں اس محلہ کے مومنین مخلصین نے ایک مسجد بنالی اور اس میں نماز پڑھا کرتے منافقین میں باہم یہ صلاح ٹھہری کہ ایک مکان مسجد کے نام سے جداگانہ بنایا جائے اس میں سب جمع ہو کر اسلام کی ضرررسانی کے مشورے کیا کریں غرض مسجد کی شکل پر وہ مکان تیار ہوا تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کی گئی کہ آپ وہاں چل کر نماز پڑھ لیجیے تو پھر وہاں جماعت ہونے لگے آپ نے وعدہ کرلیا کہ تبوک سے…
Read the full tafseer →کچھ لوگوں کو معاملہ ابھی زیر غور کردیا گیا ان کی آزمائش مزید بڑھ گئی :
137: اس آیت میں وضاحت کی جارہی ہے کہ کچھ لوگ ابھی ایسے ہیں جن کو نہ تو منافق کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی ابھی ان کی توبہ قبول ہوئی ہے ان کو ابھی فیصلہ الٰہی کا منتظر رہنا ہوگا کیونکہ ان کی توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا اور احادیث و روایات میں آیا ہے کہ یہ کل تین آدمی تھے۔ 1 : مرارہ بن ربیع ، 2 : کعب بن مالک ، 3 : بلال بن امیہ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تبوک سے واپسی پر یہ لوگ کوئی عذر پیش نہ کرسکے اس لئے کہ یقیناً ان کے پاس کوئی عذر موجود ہی نہ تھا اور اپنی طرف سے عذع بنا کر انہوں نے پیش کرنا پسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–106
Let us now turn to the statement: وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللَّـهِ (And there are others whose matter is deferred till the command of Allah - 106). We already know that seven of the ten believers, who had missed the battle of Tabuk without a valid excuse, had demonstrated their heartfelt remorse by tying themselves up to the pillars of the Prophet's Mosque. The injunction which covers them appeared in the first verse (102): آخَرُونَ اعْتَرَفُوا (And there are others who admitted their sins). Verse 106 is now referring to the other three gentlemen who had not done what the group of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →