At-Tawba 9:104

At-Tawba · from ayah 104

9:104

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَیَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۟اَلَمۡ يَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ يَقۡبَلُ التَّوۡبَةَ عَنۡ عِبَادِهٖ وَيَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات (وخیرات) لیتا ہے اور بےشک خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Do they not know that it is Allah who accepts repentance from His servants and receives charities and that it is Allah who is the Accepting of repentance, the Merciful?

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 13 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:104

کیا اِن لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے، اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحیم ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات (وخیرات) لیتا ہے اور بےشک خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے میں اور رحمت کرنے میں کامل ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ بھی قبول کرتا ہے اور صدقات بھی قبول کرتا ہے، اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا انہیں خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے خود اپنی دست قدرت میں لیتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ نہیں جانتے کہ بیشک اﷲ ہی تو اپنے بندوں سے (ان کی) توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات (یعنی زکوٰۃ و خیرات اپنے دستِ قدرت سے) وصول فرماتا ہے اور یہ کہ اﷲ ہی بڑا توبہ قبول فرمانے والا نہایت مہربان ہے؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا انھوں نے نہیں جانا کہ بیشک اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور صدقے لیتا ہے اور یہ کہ بیشک اللہ ہی ہے جو بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور (ان کے) صدقے قبول کرتا ہے اور یہ کہ وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور صدقات کی پذیرائی فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ وہ اللہ ہی ہے جو توبہ قبول فرماتا ہے اپنے بندوں سے، اور وہ شرف قبولیت سے نوازتا ہے ان کے صدقات کو، اور یہ کہ بیشک اللہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا، نہایت ہی مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے اور وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا اور بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور ان کے صدقات کو قبولیت عطا فرماتا ہے اور یہ کہ وہ بہت ہی توبہ قبول فرمانے والا بہت رحم فرمانے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات و خیرات لیتا ہے اور بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Are they not aware that it is Allah Who accepts the repentance of His servants and accepts their alms, and that it is Allah Who is Oft-Relenting, Ever Merciful?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have they not come to know that Allah is He who accepts repentance from His slaves and accepts Sadaqat, and that Allah is Most-Relenting, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

Have they not come to know that Allah is He who accepts repentance from His slaves and accepts Sadaqat, and that Allah is Most-Relenting, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Know they not that Allah accepts repentance from His servants and accepts the Sadaqat, and that Allah alone is the One Who forgives and accepts repentance, Most Merciful

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Know they not that Allah is He Who accepteth repentance from His bondmen and taketh the alms, and that Allah is He Who is the Relenting, the Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Do they not know that it is Allah who accepts repentance from His servants and receives charities and that it is Allah who is the Accepting of repentance, the Merciful?

— Saheeh International

Do they not know that it is God who accepts the repentance of His servants and receives the welfare funds and that it is God who is All-forgiving and All-merciful?

— Muhammad Sarwar

Do they not know that Allah accepts repentance from His servants and takes the alms, and that Allah is the Oft-returning (to mercy), the Merciful?

— Muhammad Habib Shakir

Know they not that it is Allah who accepteth the repentance of His bondmen and taketh the alms, and that it is Allah who is the Relenting, the Merciful!

— Abdul Majid Daryabadi

Know they not that Allah doth accept repentance from His votaries and receives their gifts of charity, and that Allah is verily He, the Oft-Returning, Most Merciful?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:104

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 103–104

صدقہ مال کا تزکیہ ہے اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ " آپ ان کے مالوں کا صدقہ لیا کریں۔ تاکہ اس وجہ سے انہیں پاکی اور ستھرائی حاصل ہو۔ " اس کی ضمیر کا مرجع بعض کے نزدیک وہ مسلمان ہیں جنہوں نے اپنی نیکیوں کے ساتھ کچھ برائیاں بھی کرلیں تھیں۔ لیکن حکم اس کا عام ہے۔ عرب کے بعض قبیلوں کو اسی سے دھوکا ہوا تھا کہ یہ حکم آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے خلیفہ برحق حضرت ابوبکر صدیق کو (زکوۃ کو فرض مان کر) زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ جس پر آپ نے مع باقی صحابہ کے ان سے لڑائی کی کہ وہ زکوٰۃ خلیفۃ الرسول کو اسی طرح ادا کریں جسطرح رسول اللہ ﷺ کو ادا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر وہ ایک…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 101–104

سورة التَّوْبَة 97 یعنی اپنے نفاق کو چھپانے میں وہ اتنے مشاق ہوگئے ہیں کہ خود نبی ﷺ بھی اپنی کمال درجے کی فراست کے باوجود ان کو نہیں پہنچان سکتے تھے۔ سورة التَّوْبَة 98 دوہری سزا سے مراد یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ دنیا جس کی محبت میں مبتلا ہو کر انہوں نے ایمان و اخلاص کے بجائے منافقت اور غداری کا رویہ اختیار کیا ہے، ان کے ہاتھ سے جائے گی اور یہ مال و جاہ اور عزت حاصل کرنے کے بجائے الٹی ذلت و نامرادی پائیں گے۔ دوسری طرف جس مشن کو یہ ناکام دیکھنا اور اپنی چال بازیوں سے ناکام کرنا چاہتے ہیں وہ ان کی خواہشوں کو کوششوں کے علی الرغم ان کی آنکھوں کے سامنے فروغ پائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 103–105

(آیت) خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً ، واقعہ اس آیت کا یہ ہے کہ جن حضرات کا اوپر ذکر ہوا کہ بلا عذر غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، پھر نادم ہو کر اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ لیا پھر آیت مذکورہ سابقہ میں ان کی توبہ کی قبولیت نازل ہوئی اور قید سے کھولے گئے تو ان حضرات نے بطور شکرانہ اپنا سارا مال صدقہ کرنے کے لئے پیش کردیا، رسول اللہ ﷺ نے قبول کرنے سے انکار فرمایا کہ مجھے مال لینے کا حکم نہیں ہے، اس پر یہ آیت مذکورہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ نازل ہوئی، اور آپ نے پورے مال کے بجائے ایک تہائی مال کا صدقہ کرنا قبول فرمالیا کیونکہ آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ پورا مال نہ لیا جائے بلکہ اس کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 102–105

102۔ 105: وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا ۭعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو اگرچہ کمزوریوں میں متلا رہے تھے اور تبوک کے موقع پر بھی ان سے کمزوری صادر ہوگئی تھی لیکن ایمان کی رمق ان کے اندر باقی تھی۔ جب اس سورة نے منافقین کو اچھی طرح جھنجھوڑا اور ان کے علم میں یہ باتیں آئیں تو ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ انہوں نے باتیں بنانے کی کوشش کے بجائے صدق دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور نہایت بےچینی کے ساتھ اپنے آپ اللہ اور رسول کے آگے ڈال دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ بعض لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 صدقات قبول فرماتا ہے کا مطلب (بشرطیکہ وہ حلال کی کمائی سے ہو) اس میں اضافہ فرماتا ہے۔ جس طرح حدیث میں آیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا ' اللہ تعالیٰ تمہارے صدقے کی اس طرح پرورش کرتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتا ہے، حتٰی کہ ایک کھجور کے برابر صدقہ (بڑھ بڑھ کر) احد پہاڑ کی مثل ہوجاتا ہے (صحیح بخاری)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 103–104

79: یہی حضرات جنہوں نے توبہ کے طو رپر اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ لیا تھا، جب ان کی توبہ قبول ہوئی اور انہیں آزاد کیا گیا تو انہوں نے شکرانے کے طور پر اپنا مال صدقے میں دینے کے لئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، آپ نے شروع میں فرمایا کہ مجھے تم سے کوئی مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ ان سے صدقہ قبول فرمالیں، آیت میں صدقے کی دو خاصیتیں بیان فرمائی گئی ہیں، ایک یہ کہ وہ انسان کو گناہوں اور برے اخلاق سے پاک ہونے میں مدد دیتا ہے، اور دوسرے یہ کہ اس سے انسان کی نیکیوں میں برکت اور ترقی ہوتی ہے، یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اگرچہ یہ آیت اس خاص واقعے میں نازل ہوئی تھی ؛ لیکن…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ یاخذ الصدقات کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور ان کے صدقات کو (قبول کے ہاتھوں سے) لے لیتا ہے۔ یعنی اس طرح قبول کرلیتا ہے جیسے کوئی کسی چیز کو معاوضہ ادا کرنے کیلئے لے لیتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو بندہ پاک کمائی سے خیرات کرتا ہے ‘ اور اللہ صرف پاک (کمائی کی خیرات) کو ہی قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف پاک (کلام ‘ عمل ‘ خیرات) کو ہی عروج نصیب ہوتا ہے تو وہ گویا اس خیرات کو اللہ کے ہاتھ میں رکھتا ہے ‘ اللہ اپنے ہاتھ میں اس کو (اس طرح) بڑھاتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی توبہ اور صدقات کا قبول کرنا صرف خدا کے اختیار میں ہے کیونکہ وہ ہی جانتا ہے کہ کس نے اخلاص قلب اور شرائط قبول کی رعایت کے ساتھ توبہ کی یا صدقہ دیا۔ چناچہ پہلے بعضوں پر عتاب ہوچکا کہ ہمیشہ کے لیے ان کی زکوٰۃ لینی موقوف ہوئی اور منافقین کے صدقات کو مردود ٹھہرایا گیا اور ان کے حق میں دعاء و استغفار کو بھی بےسود بتلایا۔ بلکہ جنازہ پڑھنے کی ممانعت کردی۔ جن لوگوں کا یہاں ذکر ہے ان کی توبہ قبول کی اور صدقات قبول کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی کہ حضور ﷺ ان کے حق میں (حیًا ومیتًا) دعاء کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 104 اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ یعنی اللہ کے بندوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ التوّاب بھی ہے اور اپنے بندوں کے صدقات کو شرف قبولیت بھی بخشتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ و خیرات وغیرہ کے مال کو اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ مگر اللہ کا اپنے بندوں پر یہ خاص احسان ہے کہ وہ الغنی ہے ‘ بےنیاز ہے ‘ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ‘ مگر پھر بھی وہ اپنے بندوں سے ان کے نفقات و صدقات کو قبول فرماتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 103–104

117 ایسے توبہ کرنے والوں سے صدقہ قبول کیجئے :۔ ان مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ چونکہ مال و دولت کی محبت ہی جہاد کے فریضہ میں کوتاہی کا سبب بنی ہے۔ لہذا یہ سب کچھ اللہ کی راہ میں دے دینا چاہئے۔ چناچہ انہوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا ہماری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم اپنا سارا مال صدقہ کردیں۔ آپ نے فرمایا سارا مال دینے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک تہائی مال کا صدقہ کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ ان کے صدقات قبول کیجئے۔ کیونکہ یہ سب سچے مومن اور اللہ کے رسول کے خیر خواہ تھے پھر آپ ان کے حق میں دعا بھی کریں۔ ربط مضمون کے لحاظ سے اگرچہ اس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوا مگر اس کا حکم عام ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

192۔ (چنانچہ اس تو اب نے ان گنہگاروں کی توبہ قبول کرلی اور اس رحیم نے ان لوگوں کا مال قبول کرنے اور ان کے حق میں دعا کرنے کا حکم دے دیا) (آیت) ” یاخذالصدقت “۔ اخذ یہاں لفظی معنی میں نہیں بلکہ قبول کرلینے کے مفہوم میں ہے۔ الاخذھنا استعارۃ للقبول (روح) (آیت) ” الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ “۔ یہاں پر زور دے کر بتایا ہے کہ توبہ قبول کرنے کا تعلق تو خدائے تو اب رحیم سے ہے نہ کہ رسول کریم ﷺ سے۔ اے ان ذلک لیس الی رسول اللہ ﷺ انما اللہ ھو الذی یقبل التوبۃ (مدارک) ھذا نص صریح فی ان اللہ تعالیٰ ھو الا خذلھا والمثیب علیھا وان الحق لہ عزوجل والنبی ﷺ واسطۃ (قرطبی) الفائدۃ الثانیۃ فی ھذا التخصیص ھو ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 100–110

آیت نمبر 100 تا 110 ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ یاخذ الصدقات کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور ان کے صدقات کو (قبول کے ہاتھوں سے) لے لیتا ہے۔ یعنی اس طرح قبول کرلیتا ہے جیسے کوئی کسی چیز کو معاوضہ ادا کرنے کیلئے لے لیتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو بندہ پاک کمائی سے خیرات کرتا ہے ‘ اور اللہ صرف پاک (کمائی کی خیرات) کو ہی قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف پاک (کلام ‘ عمل ‘ خیرات) کو ہی عروج نصیب ہوتا ہے تو وہ گویا اس خیرات کو اللہ کے ہاتھ میں رکھتا ہے ‘ اللہ اپنے ہاتھ میں اس کو (اس طرح) بڑھاتا ہے جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(104) کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے اور کیا ان کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے کی صفت میں اور تائب پر رحمت فرمانے کی صفت میں کامل ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ ھُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ : اس آیت میں (گناہ گاروں کو) توبہ اور صدقے پر ابھارا گیا ہے، کیونکہ یہ دونوں چیزیں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو بھی توبہ کرے اور پھر عمل صالح کرے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے، بلکہ ساتھ ہی اس کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے۔ دیکھیے سورة فرقان (70، 71) بھلا اس کرم کی کوئی حد ہے ؟ پھر وہ صدقہ قبول ہی نہیں کرتا، بلکہ اسے بڑھاتا ہے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بیشک اللہ تعالیٰ صدقہ قبول کرتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے، پھر اسے تمہارے ایک کے لیے پالتا بڑھاتا ہے، جس طرح…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 104۔ اس آیت میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر : (1) کہا گیا ہے : پیچھے بیٹھے رہنے والوں میں سے جنہوں نے توبہ نہیں کی انہوں نے کہا : یہ لوگ گزشتہ کل تو ہمارے ساتھ تھے، نہ وہ کلام کرتے ہیں اور نہ وہ (ہمارے ساتھ) بیٹھتے ہیں، تو اب انہیں کیا ہوگیا ہے ؟ اور یہ کون سی خصوصیت ہے جس کے ساتھ ہمارے سوا وہ خاص کردیئے گئے ہیں ؟ تب یہ آیت نازل ہوئی : الم یعلموا “ ، پس یعلموا “ میں ضمیر ان کی طرف لوٹ رہی ہے جنہوں نے توبہ نہیں کی پیچھے رہنے والوں میں سے، ابن زید نے یہ معنی بیان کیا ہے اور یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ضمیر ان لوگوں کی طرف لوٹ رہی ہو جنہوں نے توبہ کی اور اپنے آپ کو باندھ دیا، اور قول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

صدقہ کے اجروثواب کا بڑھنا : 1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ دوسروں نے کہا یہ لوگ کل کو ہمارے ساتھ تھے نہ وہ بات کرتے ہیں اور نہ وہ بیٹھے ہیں تو کیا ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ “ (الآیہ) 2:۔ عبدالرزاق والحکیم الترمذی نے نوادرالاصول میں وابن ابی حاتم والطبرانی رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ کوئی صدقہ نہیں کرتا مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے سائل کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے راوی نے کہا حالانکہ وہ اس کو سائل کے ہاتھ میں رکھتا ہے پھر ( یہ آیت) الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ ویاخذ الصدقت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَ [ کیا ] لَمْ يَعْلَمُوْٓا [ انھوں نے نہیں جانا ] اَنَّ [ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] ھُوَ [ وہ ہی ] يَقْبَلُ [ قبول کرتا ہے ] التَّوْبَةَ [ توبہ ] عَنْ عِبَادِهٖ [ اپنے بندوں سے ] وَيَاْخُذُ [ اور وہ پکڑتا (قبول کرتا ہے ) ] الصَّدَقٰتِ [ صدقات ] وَاَنَّ [ اور یہ کہ ] اللّٰهَ [ اللہ ] ھُوَ التَّوَّابُ [ ہی بار بار قبول کرنے والا ہے ] الرَّحِيْمُ [ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ ) (الآیۃ) اس کا شان نزول بتاتے ہوئے (درمنثور ص 275 ج 2) میں لکھا ہے کہ جب ان حضرات کی توبہ قبول ہوگئی جنہوں نے اپنی جانوں کو ستونوں سے باندھ دیا تھا تو وہ پھر بےتکلف مسلمانوں کے ساتھ رہنے سہنے لگے اس پر منافقین نے کہا کہ کل تک تو یہ لوگ اسی حال میں تھے جس میں ہم ہیں نہ ان سے کوئی بات کرتا تھا اور نہ ان کے پاس کوئی شخص بیٹھتا تھا آج کیا ہوا (کہ سب مسلمان ان سے خوش ہیں اور ہم سے بدستور ناراض ہیں) اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت کریمہ (اَلَمْ یَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–105

زعماء منافقین کا ذکر قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ وممن حولکم من الاعراب منافقون۔۔ الی۔۔۔ عذاب عظیم۔ (ربط): اوپر کی آیت میں اعیان مومن ین۔ یعنی مومنین کاملین کا ذکر تھا اب اس آیت میں زعماء منافقین کا ذکر ہے جو مدینہ میں اور مدینہ کے آس پاس رہتے تھے اور سرتاپا نفاق میں غرق تھے اور فن نفاق میں ایسے ماہر وحاذق اور پختہ تھے کہ نبی اکرم ﷺ باوجود کمال فراست کے ان کے نفاق پر مطلع نہ ہوسکے چناچہ مردوا علی النفاق کے بعد جو لفظ لا تعلمھم بڑھایا گیا وہ اسی طرف اشارہ ہے اعیان مومنین کے ذکر کے بعد اعیان منافقین کا ذکر نہایت مناسب ہے جس طرح مہاجرین اور انصآر کو ہجرت اور نصرت میں سبقت اور اولیت کا شرف حاصل تھا اسی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 102–104

99:“ وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا الخ ” یہ ان پانچ صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی، جو مخلص مومن تھے مگر غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ بعد میں سخت نادم ہوئے اور اپنے کو ستونوں سے باندھ لیا اور گڑ گڑا کر توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔ “ خُذْ مِنْ اَمواَلِھِمْ الخ ” آنحضرت ﷺ کو ان کے صدقات قبول کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ اب ان کی توبہ قبول ہوجانے کے بعد آپ کو حکم ملا کہ آپ ان کے صدقات قبول کریں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں۔ کیونکہ آپ کی دعا ان کے لیے باعث آرام و سکون ہے۔ بعض مفسرین نے ان کی تعداد دس، آٹھ اور چھ ذکر کی ہے۔ (قرطبی) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 102–106

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ نے غزوہ تبوک اور جہاد فی سبیل اللہ کا زکر فرمایا اور جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی شدید مذمت بیان فرمائی ۔ منافقین کی کوتاہیوں غلطیوں اور سازشوں کا حال بیان فرمایا۔ پھر دیہاتی منافقوں اور دیہاتی مومنوں کا تذکرہ کیا اللہ نے جہاد کے لیے مرکزی جماعت کا ذکر بھی کیا جو کہ پوری امت کے لیے معیار ہے اور جس کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہے۔ یہ پہلی جماعت کا ذکر تھا۔ اس سلسلے کی دوسری جماعت کا ذکر آگے آئیگا۔ اللہ نے منافقین کا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ شہر کی طرح دیہات میں بھی منافقین موجود ہیں جو نفاق پر ڈٹے ہوئے ہیں ایسے لوگوں کا حال آپ نہیں جانتے بلکہ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ ھُوَيَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَيَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللہَ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۝ 104 الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 101–104

ترکیب : منافقون مبتداء وممن خبر مقدم ‘ مردوا اس کی صفت ومن اھل المدینۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای ومن اھل المدینۃ قوم کذلک لا تعلمہم صفت ثانیہ وآخرون معطوف ہے منافقوں پر اور ممکن ہے کہ مبتداء ہو اور اعترفوا صفت وخلطوا خبر وآخر معطوف ہے عملا پر۔ تفسیر : باہر کے گنواروں ہی پر کچھ موقوف نہیں کہ وہ منافق اور حیلہ باز ہیں بلکہ بعض اہل مدینہ اور مدینہ کے آس پاس کے گنوار جن کو کہ آنحضرت ﷺ کا وعظ و پند سننا بھی ممکن ہے اور اہل اسلام سے پیشتر میل جول رکھتے ہیں ٗ مردوا علی النفاق نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اور اس فن میں ایسے چالاک ہیں کہ باوجود فراست تامہ کے اے نبی ! ان سے تم واقف بھی نہیں ہاں ہم ان کو جانتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَمْ یَعْلَمُْوْآاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ َیقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِھٖ وَیَاْخُذُالصَّدَقٰتِ وَاَنَّ اللّٰہَ ھُوالتَّوَّابُ الرَّحِیْمُ (التوبہ : 104) (کیا وہ جان نہیں چکے کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور صدقات کی پذیرائی فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ ہی توبہ قبول فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ) سابقہ آیت میں نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا تھا کہ چونکہ ان لوگوں نے توبہ کرلی ہے اور ان کو اپنے گناہوں کا اعتراف ہے۔ تو اب آپ انھیں ازسر نو اپنی تربیت میں لے لیں۔ تاکہ آپ کی راہنمائی میں ان کی مکمل اصلاح ہو سکے اس آیت کریمہ میں براہ راست ان مخلص اور خوش نصیب مسلمانوں سے خطاب کیا جا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 103–104

فہم القرآن ربط کلام : چھپے ہوئے منافقوں کے بیان کے بعد ان مسلمانوں کا ذکر جو معقول عذر نہ رکھنے کے باوجود غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ نیز اس میں بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ اگر منافق بھی اخلاص کے ساتھ توبہ اور صدقہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرنے اور صدقہ منظور فرمانے والا ہے۔ اس سے پہلے منافقوں کے گھناؤنے کردار اور مخلص مسلمانوں کے درجات اور مقام کا ذکر فرمایا۔ ان کے بعد عملی منافقوں کو بخشش کی امید دلانے کے بعد ان مسلمانوں کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ جنہوں نے تبوک کے موقع پر سستی کا مظاہرہ کیا تھا۔ چھپے ہوئے منافقوں کے بیان کے معاً بعد سستی کے مرتکب حضرات کا ذکر ایک طرح کی سرزنش ہے مزید…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مالک قبولیت اللہ ہی ہے : آیت 104: اَلَمْ یَعْلَمُوْا (کیا انکو یہ خبر نہیں) اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنکی توبہ قبول کی گئی یعنی کیا انکو قبول توبہ اور قبول صدقات سے قبل معلوم نہیں۔ اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ (کہ اللہ تعالیٰ ہی توبہ کو قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے) بشرطیکہ وہ صحیح طریق سے ہو وَیَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ (اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے) اور انکو قبول فرماتے ہیں جبکہ خلوص نیت سے دیئے جائیں۔ نکتہ : ھُوَ ،ؔ کا لفظ تخصیص کو بتلا رہا ہے کہ یہ کام رسول اللہ ﷺ کے حوالے نہیں بیشک اللہ تعالیٰ ہی توبہ کو قبول کرنے والے اور مسترد کرنے والے ہیں پس توبہ میں اسی ہی کا قصد کرو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 104: الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ ویا خذالصدقت یعنی ان کو قبول کرتے ہیں وان اللہ ھوالتواب الرحیم “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نے ابو القاسم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ نہیں ہے کوئی بندہ جو اپنی پاکیزہ کمائی سے صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ تو پاکیزہ مال ہی کو قبول کرتے ہیں اور آسمان کی طرف پاکیزہ چیز ہی بلند ہوتی ہے مگر اس کو رحمن کے ہاتھ میں رکھ دیتا ہے تو وہ اس کی ایسے پرورش کرتا ہے جیسے تم میں سے کوئی ایک اپنے بچھڑ نے کی پرورش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک لقمہ قیامت کے دن بڑے پہاڑ کی مثل آئے گا۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے پڑھا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 102–104

102۔ 104۔ تفسیر ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور ابو الشیخ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس گروہ صحابہ نے اپنے قصور کا اقرار کر کے آنحضرت ﷺ کے تبوک کے سفر سے مدینہ واپس آنے سے پہلے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا پہلا ٹکڑا آیت کا اس شان میں ہے اور پھر جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی اور انہوں نے آنحضرت کی خدمت میں اپنا مال لاکر عرض کیا کہ حضرت جس مال کے لینے سے انکار کیا تھا دوسرا ٹکڑا آیت کا اس مال کے حکم میں ہے اور جن لوگوں کی توبہ پونے دو مہینے کے بعد قبول ہوئی تیسرا آیت کا ٹکڑا ان کی شان میں نازل ہوا 1 ؎ ہے علماء سلف نے اس آیت کے حکم سے یہ بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت (104) کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں رحمت اور اس کے فضل و کرم کے فیضان عام کو نہیں جانتے ؟ (یقبل التوبۃ عن عبادہ) ” اللہ ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتا ہے۔ “ توبہ کرنے والے بندوں کی ‘ خواہ یہ توبہ کسی بھی گناہ سے کیوں نہ ہو بلکہ جب توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر بہت زیادہ خوش ہوتا ہے۔ (ویاخدوالصدقت) ” اور صدقات لیتا ہے۔ “ یعنی وہ اپنے بندوں کے صدقات قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ سے لیتا اور ان کے صدقات کو اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جس طرح کوئی کوئی شخص اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے حتیٰ کہ صدقہ میں دیا گیا کھجور کا ایک دانہ بڑے پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے اور اس صدقہ کا کیا حال…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 103–106

صدقہ باعث تطہی رہے قول باری ہے خذمن اموالھم صدقۃ تطھر ھم و ترکیھم بھا اے نبی ! تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور نیکی کی راہ میں انہیں بڑھائو ظاہری طور پر کنایہ ان لوگوں کی طرف راجع ہے جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا تھا۔ اس لیے کہ کنایہ کے لیے کسی اسم ظاہر کا ہونا ضروری ہوتا ہے جس کا سلسلہ خطاب میں پہلے ذکر ہو چکاہو ۔ آیت میں ظاہر کلام اور مقتضائے لفظ یہی ہے۔ اس سے تمام اہل ایمان مراد لینا بھی درست ہے اس لیے کہ اس پر دلالت حال موجود ہے جس طرح یہ قول باری ہے انا انزلناہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اسے قدر کی رات میں نازل کیا یعنی قرآن ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

195 اللہ اپنے بندوں کے صدقات کو قبول فرماتا ہے : اور کیسی عظمت شان سے قبول فرماتا ہے اس کا اندازہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی اس روایت سے لگایا جاسکتا ہے کہ صدقہ سائل کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے اللہ کے ہاتھ میں پہنچ جاتا ہے۔ اور صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہحضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی آدمی اپنے پاکیزہ مال سے اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہے اور اللہ پاکیزہ مال ہی قبول فرماتا ہے، تو اللہ پاک اس شخص کے صدقہ کو اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے اگرچہ وہ کھجور کے ایک دانے کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ پھر اس کو وہ ایسے بڑھاتا اور پالتا جاتا ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 104–105

اللہ توبہ قبول کرنیوالا، غیب اور حاضر کا جاننے والا ہے تشریح : ان آیات میں سچے اور مخلص مومن اور منافق کا فرق بتایا گیا ہے۔ اللہ رب العزت رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ ان کا رابطہ سیدھا اللہ سے ہے وہی ان کے صدقات و خیرات قبول کرتا ہے اور وہی توبہ بھی قبول کرتا ہے۔ خیرات کا اصل مقصد اور توبہ کی سچائی، سب اللہ کو معلوم ہے۔ مگر یہاں فرمایا کہ تم عمل کرتے جاؤ اللہ، رسول اور مومنین سب تمہیں پہچان جائیں گے کہ تم سچے ہو یا کہ جھوٹے ؟ سچے کی تو توبہ قبول ہوجائے گی اور جھوٹے کی نہ توبہ قبول ہوگی نہ اس پر رحمت و برکت نازل ہوگی اور بتایا جا رہا ہے کہ مخلص اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 100–110

آیات 100 تا 110 اسرار و معارف سابقون الا ولون بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔ اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ صدقہ قبول فرما کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کی اس طرح پرورش کرتا ہے جیسے کوئی شخص اپنے گھوڑے کے بچے کو پالتا ہے حتی کہ ایک کھجور کا ثواب احد پہاڑ کے برابر ہوجاتا ہے۔ (ترمذی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 103–104

(9:103) تطھرھم وتزکیہم بھا۔ مضارع واحد مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ جس کا مرجع اخرون ہے۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع صدقۃ ہے۔ یعنی ان کے مالوں سے صدقہ وصول کیجئے کہ اس طرح آپ ان کو پاک و صاف کردیں گے۔ ہل علیہم۔ ان کے لئے دعا کیجئے۔ امرواحد مذکر حاضر۔ سکن۔ تسکین ۔ آرام۔ راحت۔ رحمت۔ برکت۔ جس سے سکون حاصل ہو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 103–104

لغات القرآن آیت نمبر 103 تا 106 خذ (لے لو، لیجیے) صدقۃ (صدقہ) تطھرھم (ان کو پاک کیجیے) تزکیھم (ان کے دل پاکیزہ بنایئے) صلوتک (آپ کی دعا) سکن (سکون ہوگا) یقبل (وہ قبول کرتا ہے ) عباد (بندے) یاخذ (وہ لیتا ہے ) مرجون (روک دیئے گئے) تشریح : آیت نمبر 103 تا 106 تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیات حضرت ابولبابہ اور ان کے چھ ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔ حضرت ابولبابہ ہجرت مدینہ سے پہلے بیعت عقبہ کے موقع پر حلقہ اسلام میں داخل ہوئے وہ اور ان کے چھ ساتھی کم و بیش ہر جہاد میں اپنے مالوں اور جانوں سے ایثار و قربانی کا عظیم مظاہرہ کرتے رہے لیکن غزوہ تبوک کے موقع پر بعض مجبوریوں کا سہارا لے کر اس میں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 102–104

صدقہ خیرات کا حکم شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ جس گروہ صحابہ نے اپنے قصور کا اقرار کر کے آنحضرت ﷺ کے تبوک کے سفر سے مدینہ واپس آنے سے پہلے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا، جب حضور ﷺ تشریف لائے اور انہیں ملاحظہ کیا تو فرمایا یہ کون ہیں۔ عرض کیا گیا یہ وہ لوگ ہیں جو جہاد میں حاضر ہونے سے رہ گئے تھے، انہوں نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ یہ اپنے آپ کو نہ کھولیں گے جب تک حضور ﷺ ان سے راضی ہو کر انہیں خود نہ کھولیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں انہیں نہیں کھولوں گا نہ ان کا عذر قبول کروں گا، جب تک کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان کے کھولنے کا حکم نہ دیا جائے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور حضور ﷺ نے انہیں کھولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 102–105

[56] غزوہ تبوک میں ساتھ نہ جانے والوں میں علاوہ منافقین کے کچھ مومنین بھی تھے جو محض کاہلی کی بناء پر پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ اپنی غفلت و کوتاہی پر اس درجہ نادم تھے کہ جب ان کو رسول اللہ ﷺ کی واپسی کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا کہ رسول اللہ ﷺ کھولیں گے تو خیر ورنہ یوں ہی ختم ہوجائیں گے۔ یہاں انہی لوگوں کا ذکر ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 104–106

شان کریمی : (3) یعنی اللہ تعالیٰ احساس گناہ کے بعد فورا گناہ بخش دیتا ہے ، اس لئے اس کی شان کریمی کا تقاضا یہی ہے ، (آیت) ” عن عبادہ “۔ میں لطیف اشارہ ہے بندوں کے عجز اور اللہ کے پیار کی جانب یعنی جب انسان اس کا بندہ ہے تو وہ ضرور اس کی بیچارگی کا خیال رکھے گا ، اور باوجود اس کے نقائص وعیب ان کے نگاہ عفو سے کام لے گا ، کیونکہ بندگی وبیچارگی کے بعد ہماری حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے ، جو گناہوں کو خدا کے مقابلے میں کی چیز عبودیت کا اظہار ضروری ہے اس کے بعد اس کا قلزم عاطفہ ورحمت خود بخود موجزن ہوجاتا ہے ، حل لغات : سکن : وجہ سکون ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

104 کیا ان لوگوں کو یہ خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی کی وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور وہ ہی ان کے صدقات کو قبول فرماتا ہے اور کیا ان کو خبر نہیں کہ اللہ توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی رسول بےاختیار ہے جس کے حق میں اللہ نے جو فرمایا وہ ادا کرتا ہے۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 104–108

ف 3۔ ملخص اس قصہ کا یہ ہے کہ شہر مدینہ کے قریب ایک محلہ ہے قبا اس کا نام ہے رسول اللہ ﷺ جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے ہیں تو اول اسی محلہ میں قیام فرمایا پھر شہر میں تشریف لے آئے تھے تو زمانہ قیام میں جس جگہ آپ نماز پڑھتے تھے وہاں اس محلہ کے مومنین مخلصین نے ایک مسجد بنالی اور اس میں نماز پڑھا کرتے منافقین میں باہم یہ صلاح ٹھہری کہ ایک مکان مسجد کے نام سے جداگانہ بنایا جائے اس میں سب جمع ہو کر اسلام کی ضرررسانی کے مشورے کیا کریں غرض مسجد کی شکل پر وہ مکان تیار ہوا تو آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر درخواست کی گئی کہ آپ وہاں چل کر نماز پڑھ لیجیے تو پھر وہاں جماعت ہونے لگے آپ نے وعدہ کرلیا کہ تبوک سے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور صدقات منظور فرماتا ہے : 135: ” کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے “ اور وہی ہے جس نے ان گنہگار اور عاصیوں کی توبہ بھی قبول فرمالی ” اور جو کچھ بطور خیرات کے نکالیں اسے منظور کرلیتا ہے۔ “ یہی وجہ ہے کہ اب اس نے ان کے صدقات کو شرف قبول بخشا اور رسول اللہ ﷺ کا کام یہی تھا جب کہ ان کے صدقات سے روک دیا تو وہ رک گئے اور جب دوبارہ صدقات کو قبال کرنے کا حکم دیا تو ان کو قبول فرمالیا۔ اس جگہ پورا زور دے کر فرما دیا کہ توبہ قبول کرنے کا تعلق تو اللہ ذولجلال والاکرام سے ہے نہ کہ رسول اللہ ﷺ سے اور کسی انسان کے گناہوں کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 104–106

Let us now turn to the statement: وَآخَرُ‌ونَ مُرْ‌جَوْنَ لِأَمْرِ‌ اللَّـهِ (And there are others whose matter is deferred till the command of Allah - 106). We already know that seven of the ten believers, who had missed the battle of Tabuk without a valid excuse, had demonstrated their heartfelt remorse by tying themselves up to the pillars of the Prophet's Mosque. The injunction which covers them appeared in the first verse (102): آخَرُ‌ونَ اعْتَرَ‌فُوا (And there are others who admitted their sins). Verse 106 is now referring to the other three gentlemen who had not done what the group of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–129

89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.

Read the full tafseer →