Explained with ayahs 103–104
صدقہ مال کا تزکیہ ہے
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ " آپ ان کے مالوں کا صدقہ لیا کریں۔ تاکہ اس وجہ سے انہیں پاکی اور ستھرائی حاصل ہو۔ " اس کی ضمیر کا مرجع بعض کے نزدیک وہ مسلمان ہیں جنہوں نے اپنی نیکیوں کے ساتھ کچھ برائیاں بھی کرلیں تھیں۔ لیکن حکم اس کا عام ہے۔ عرب کے بعض قبیلوں کو اسی سے دھوکا ہوا تھا کہ یہ حکم آنحضرت ﷺ کے ساتھ خاص ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے خلیفہ برحق حضرت ابوبکر صدیق کو (زکوۃ کو فرض مان کر) زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ جس پر آپ نے مع باقی صحابہ کے ان سے لڑائی کی کہ وہ زکوٰۃ خلیفۃ الرسول کو اسی طرح ادا کریں جسطرح رسول اللہ ﷺ کو ادا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اگر وہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
سورة التَّوْبَة 97
یعنی اپنے نفاق کو چھپانے میں وہ اتنے مشاق ہوگئے ہیں کہ خود نبی ﷺ بھی اپنی کمال درجے کی فراست کے باوجود ان کو نہیں پہنچان سکتے تھے۔
سورة التَّوْبَة 98
دوہری سزا سے مراد یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ دنیا جس کی محبت میں مبتلا ہو کر انہوں نے ایمان و اخلاص کے بجائے منافقت اور غداری کا رویہ اختیار کیا ہے، ان کے ہاتھ سے جائے گی اور یہ مال و جاہ اور عزت حاصل کرنے کے بجائے الٹی ذلت و نامرادی پائیں گے۔ دوسری طرف جس مشن کو یہ ناکام دیکھنا اور اپنی چال بازیوں سے ناکام کرنا چاہتے ہیں وہ ان کی خواہشوں کو کوششوں کے علی الرغم ان کی آنکھوں کے سامنے فروغ پائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–105
(آیت) خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً ، واقعہ اس آیت کا یہ ہے کہ جن حضرات کا اوپر ذکر ہوا کہ بلا عذر غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے، پھر نادم ہو کر اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ لیا پھر آیت مذکورہ سابقہ میں ان کی توبہ کی قبولیت نازل ہوئی اور قید سے کھولے گئے تو ان حضرات نے بطور شکرانہ اپنا سارا مال صدقہ کرنے کے لئے پیش کردیا، رسول اللہ ﷺ نے قبول کرنے سے انکار فرمایا کہ مجھے مال لینے کا حکم نہیں ہے، اس پر یہ آیت مذکورہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ نازل ہوئی، اور آپ نے پورے مال کے بجائے ایک تہائی مال کا صدقہ کرنا قبول فرمالیا کیونکہ آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ پورا مال نہ لیا جائے بلکہ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–105
102۔ 105: وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا ۭعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو اگرچہ کمزوریوں میں متلا رہے تھے اور تبوک کے موقع پر بھی ان سے کمزوری صادر ہوگئی تھی لیکن ایمان کی رمق ان کے اندر باقی تھی۔ جب اس سورة نے منافقین کو اچھی طرح جھنجھوڑا اور ان کے علم میں یہ باتیں آئیں تو ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ انہوں نے باتیں بنانے کی کوشش کے بجائے صدق دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور نہایت بےچینی کے ساتھ اپنے آپ اللہ اور رسول کے آگے ڈال دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ بعض لوگوں نے…
Read the full tafseer →13۔ 1 یہ حکم عام ہے۔ صدقے سے مراد فرضی صدقہ یعنی زکٰوۃ بھی ہوسکتی ہے اور نفلی صدقہ بھی نبی کو کہا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعے سے آپ مسلمانوں کو تطہیر اور ان کا تزکیہ فرما دیں۔ جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ زکٰوۃ و صدقات انسان کے اخلاق و کردار کی طہارت و پاکیزگی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ علاوہ ازیں صدقے کو صدقہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ خرچ کرنے والا اپنے دعوائے ایمان میں صادق ہے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ صدقہ وصول کرنے والے کو صدقہ لینے والے کے حق میں دعائے خیر کرنی چاہیے۔ جس طرح یہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو دعا کرنے کا حکم دیا، اور آپ ﷺ اس کے مطابق دعا فرمایا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
79: یہی حضرات جنہوں نے توبہ کے طو رپر اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ لیا تھا، جب ان کی توبہ قبول ہوئی اور انہیں آزاد کیا گیا تو انہوں نے شکرانے کے طور پر اپنا مال صدقے میں دینے کے لئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، آپ نے شروع میں فرمایا کہ مجھے تم سے کوئی مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ ان سے صدقہ قبول فرمالیں، آیت میں صدقے کی دو خاصیتیں بیان فرمائی گئی ہیں، ایک یہ کہ وہ انسان کو گناہوں اور برے اخلاق سے پاک ہونے میں مدد دیتا ہے، اور دوسرے یہ کہ اس سے انسان کی نیکیوں میں برکت اور ترقی ہوتی ہے، یہاں یہ بھی واضح رہے کہ اگرچہ یہ آیت اس خاص واقعے میں نازل ہوئی تھی ؛ لیکن…
Read the full tafseer →خذ من اموالھم صدقۃً ان کے مالوں سے صدقہ لے لو۔ یعنی گناہوں کے کفارہ میں (جو مال وہ دے رہے ہیں) لے لو۔ بعض کے نزدیک صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے۔
تطھرھم (وہ صدقہ) ان کو گناہوں سے پاک کر دے گا ‘ یا تم ان کو مال صدقہ لے کر گناہوں سے پاک کر دو گے۔ پہلی صورت میں تطہر کی ضمیر مؤنث غائب صدقہ کی طرف راجع ہوگی۔ دوسری صورت میں خطاب کا صیغہ ہوگا اور رسول اللہ (ﷺ) کو خطاب ہوگا۔
فتزکیھم بھا اور تم ان کو صدقہ لے کر پاکیزہ و صاف کر دو گے۔ یعنی ان کی نیکیاں بڑھا دو گے اور مخلص اہل ایمان کے درجات پر پہنچا دو گے۔
ابن جریر نے علی بن ابی طلحہ کے طریق سے حضرت ابن عباس کا قول یہی نقل کیا ہے اور حضرت سعید بن جبیر ‘ ضحاک…
Read the full tafseer →1 " صدقہ " کا ترجمہ مترجم محقق نے " زکوٰۃ " کیا ہے۔ لیکن اگر لفظ " صدقہ " کو عام رکھا جاتا جو زکوٰۃ و صدقات نافلہ سب کو شامل ہو تو بہتر تھا۔ کیونکہ اکثر روایات کے موافق یہ آیت ان ہی لوگوں کے حق میں نازل ہوئی ہے جو بعد معافی تکمیل توبہ کے طور پر صدقہ لے کر حاضر ہوئے تھے۔ جیسا کہ ابھی پیچھے فائدہ میں نقل کیا جا چکا ہے۔ ہاں عموم الفاظ کو دیکھتے ہوئے حکم کو مورد نص پر مقصور رکھنے کی ضرورت نہیں۔ اسی لیے سلف ؓ مسئلہ زکوٰۃ میں بھی اس آیت کو پیش کرتے رہے ہیں۔
2 توبہ سے گناہ معاف ہوجاتا ہے۔ یعنی اس پر مواخذہ باقی نہیں رہتا۔ لیکن ایک قسم کی روحانی کدورت و ظلمت وغیرہ جو گناہ کا طبعی اثر ہے وہ ممکن ہے…
Read the full tafseer →آیت 103 خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِمْ بِہَا
روایت میں آتا ہے کہ یہ اصحاب رض اپنے اموال کے ساتھ خود حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کہ توبہ کی قبولیت کے شکرانے کے طور پر ہم اللہ کی راہ میں یہ اموال پیش کرتے ہیں۔ چونکہ یہ لوگ مخلص مؤمن تھے ‘ صرف سستی اور کمزوری کے باعث کوتاہی ہوئی تھی ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے کمال مہربانی سے آپ ﷺ کو یہ صدقات قبول کرنے کی اجازت فرمائی۔ جبکہ منافقین کے صدقات قبول کرنے سے آپ ﷺ کو منع فرما دیا گیا تھا۔
وَصَلِّ عَلَیْہِمْط اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمْ ط
آپ ﷺ کی دعا ان کے لیے باعث اطمینان ہوگی اور انہیں تسلی ہوجائے گی کہ ان کی خطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
117 ایسے توبہ کرنے والوں سے صدقہ قبول کیجئے :۔ ان مسلمانوں نے یہ سمجھا کہ چونکہ مال و دولت کی محبت ہی جہاد کے فریضہ میں کوتاہی کا سبب بنی ہے۔ لہذا یہ سب کچھ اللہ کی راہ میں دے دینا چاہئے۔ چناچہ انہوں نے آپ سے پوچھا کہ کیا ہماری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہم اپنا سارا مال صدقہ کردیں۔ آپ نے فرمایا سارا مال دینے کی ضرورت نہیں بلکہ ایک تہائی مال کا صدقہ کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے فرمایا کہ ان کے صدقات قبول کیجئے۔ کیونکہ یہ سب سچے مومن اور اللہ کے رسول کے خیر خواہ تھے پھر آپ ان کے حق میں دعا بھی کریں۔
ربط مضمون کے لحاظ سے اگرچہ اس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان ہوا مگر اس کا حکم عام ہے۔…
Read the full tafseer →190۔ (ہر ظلمت و کدورت سے) ” جب توبہ سے گناہ معاف ہوگیا تو صدقہ کے آلہ تطہیروتزکیہ کے کیا معنی۔ سو وجہ اس کی یہ ہے کہ توبہ سے گناہ معاف ہوجاتا ہے لیکن گاہے اس کی ظلمت و کدورت کا عموما مندفع ہوجاتی ہے “ (تھانوی (رح) (آیت) ” تطھرو تزکی “۔ کو صدقہ کی صفت بھی سمجھا گیا ہے، اور حال بھی قرار دیا گیا ہے۔ لیکن بہترین ترکیب یہ ہے کہ ضمیرین مخاطب یعنی رسول اللہ ﷺ کی طرف سمجھی جائیں۔ والاجود ان تکون المخاطبۃ للنبی ﷺ اے فانک تطھر وتزکیھم بھا (قرطبی۔ عن الزجاج) گناہوں سے صفائی تو تطھیر میں خود ہی آگئی، اب اس کے بعدتزکیہ لانا معنی میں مزید ترقی کے لئے ہے۔ التزکیۃ مبالغۃ فی التطھیر وزیادۃ فیہ (کشاف، مدارک)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیت نمبر 100 تا 110
ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے…
Read the full tafseer →خذ من اموالھم صدقۃً ان کے مالوں سے صدقہ لے لو۔ یعنی گناہوں کے کفارہ میں (جو مال وہ دے رہے ہیں) لے لو۔ بعض کے نزدیک صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے۔
تطھرھم (وہ صدقہ) ان کو گناہوں سے پاک کر دے گا ‘ یا تم ان کو مال صدقہ لے کر گناہوں سے پاک کر دو گے۔ پہلی صورت میں تطہر کی ضمیر مؤنث غائب صدقہ کی طرف راجع ہوگی۔ دوسری صورت میں خطاب کا صیغہ ہوگا اور رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہوگا۔
فتزکیھم بھا اور تم ان کو صدقہ لے کر پاکیزہ و صاف کر دو گے۔ یعنی ان کی نیکیاں بڑھا دو گے اور مخلص اہل ایمان کے درجات پر پہنچا دو گے۔
ابن جریر نے علی بن ابی طلحہ کے طریق سے حضرت ابن عباس کا قول یہی نقل کیا ہے اور حضرت سعید بن جبیر ‘ ضحاک اور…
Read the full tafseer →(103) چناچہ ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے مالوں میں سے جو یہ لائے ہیں تیسرا حصہ صدقہ لے لیجے جس کے لینے سے آپ ان کو گناہ کے آثار سے پاک وصاف کردیں گے اور ان کے لیے استغفار بھی کیجیے اور دیا بھی فرمائیے کیوں کہ آپ کا استغفار اور آپ کی دعا ان کے لیے دلی سکون کا باعث ہے کہ ان کی توبہ قبول ہوگی، اللہ تعالیٰ ان کے قرار اور ان کی درخواست کو کہ ہمارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیجیے، خوب سنتے اور ان کی توبہ اور نیت کو خوب جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَـةً : ابن عباس ؓ کی روایت جو پچھلی آیت کی تفسیر میں ذکر ہوئی، اس میں ہے کہ جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی تو یہ اپنے اموال لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہمارا صدقہ قبول فرمایے اور ہمارے لیے استغفار کیجیے، مگر آپ ﷺ نے صدقہ قبول کرنے سے انکار فرما دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم نہیں دیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے ان کا صدقہ قبول فرما لیا۔
اس حکم میں ان اعتراف گناہ کرنے والوں کا صدقہ قبول کرنے کے ساتھ تمام مسلمانوں سے بھی صدقہ وصول کرنے کا حکم ہے، کیونکہ زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان خمسہ میں شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی عدم موجودگی میں ان کے نائب کو صدقہ ادا…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 103۔
اس آیت میں آٹھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” خذمن اموالھم صدقۃ “۔ یہ صدقہ جس کے بارے میں حکم دیا گیا ہے اس میں اختلاف ہے پس کیا گیا ہے کہ یہ فرض صدقہ ہے، یہ جویبر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے اور یہ عکرمہ کا قول ہے جس کو قشیری نے ذکر کیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ان کے ساتھ مخصوص ہے جن کے بارے میں آیت نازل ہوئی، کیونکہ حضور نبی مکرم ومعظم ﷺ نے ان سے ان کے مالوں کا تیسرا حصہ لیا، اور فرض زکوۃ میں سے یہ کسی میں نہیں ہے، اسی لیے امام مالک (رح) نے کہا ہے : جب کوئی آدمی اپنا تمام مال صدقہ کر دے تو ثلث نکالنا اس کے لیے جائز ہے، اور استدلال حضرت ابولبابہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ تطہرہم وتزکیہم بھا “ سے مراد ہے کہ ان کو گناہوں سے پاک کرو جن کو پہنچے ہیں۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وصل علیہم “ سے مراد ہے کہ ان کے لئے ان کے گناہوں سے استغفار کیجئے جو انہوں نے کئے (پھر فرمایا) (آیت) ” ان صلوتک سکن الہم “ یعنی آپ کی دعا رحمت ہے ان کے لئے۔
3:۔ ابی ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وصل علیہم “ سے مراد ہے کہ انکے لئے دعا کیجئے (آیت) ” ان صلوتک سکن لہم “ یعنی آپ کا ان کے لئے استغفار کرنا ان کے دلوں کو سکون دے گا اور ان کو اطمینان…
Read the full tafseer →خُذْ [ آپ پکڑیں (یعنی قبول کریں ) ] مِنْ اَمْوَالِهِمْ [ ان کے مالوں سے ] صَدَقَـةً [ وہ صدقہ ] تُطَهِّرُھُمْ [ جو پاک کرتا ہے ان کو ] وَتُزَكِّيْهِمْ [ اور آپ تزکیہ کرتے ہیں ان کا ] بِهَا [ جس سے ] وَصَلِّ [ اور آپ دعا دیں ] عَلَيْهِمْ ۭ [ انکو ] اِنَّ [ بیشک ] صَلٰوتَكَ [آپ کی دعا ] سَكَنٌ [ تسکین ہے ] لَّھُمْ ۭ [ ان کے لیے ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] سَمِيْعٌ [ سننے والا ہے ] عَلِيْمٌ [جاننے والا ہے ]
(آیت ۔ 103) صدقۃ نکرہ موصوفہ ہے اور تطھر واحد مؤنث کے صیغہ میں اس کی صفت ہے۔ یہاں پر تطھر کو واحد مذکر مخاطب کا صیغہ ماننے کی گنجائش نہیں ہے ۔ کیونکہ ایسی صورت میں یہ فعل امر خذ کا جواب امر…
Read the full tafseer →جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے پاس جو یہ اموال ہیں انہیں نے ہم کو پیچھے ڈالا اور جہاد کی شرکت سے روکا۔ لہٰذا ہم ان کا صدقہ کردیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا مجھے اموال میں سے کچھ لینے کا حکم نہیں ہوا اس پر آیت کریمہ (خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَا) نازل ہوئی یعنی آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجیے جس کے ذریعہ آپ ان کو پاک اور صاف کردیں۔ 1
(وَصَلِّ عَلَیْھِمْ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ ) (اور آپ ان کے لیے دعا کیجیے بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے اطمینان قلب کا ذریعہ ہے) (وَ اللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
زعماء منافقین کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ وممن حولکم من الاعراب منافقون۔۔ الی۔۔۔ عذاب عظیم۔
(ربط): اوپر کی آیت میں اعیان مومن ین۔ یعنی مومنین کاملین کا ذکر تھا اب اس آیت میں زعماء منافقین کا ذکر ہے جو مدینہ میں اور مدینہ کے آس پاس رہتے تھے اور سرتاپا نفاق میں غرق تھے اور فن نفاق میں ایسے ماہر وحاذق اور پختہ تھے کہ نبی اکرم ﷺ باوجود کمال فراست کے ان کے نفاق پر مطلع نہ ہوسکے چناچہ مردوا علی النفاق کے بعد جو لفظ لا تعلمھم بڑھایا گیا وہ اسی طرف اشارہ ہے اعیان مومنین کے ذکر کے بعد اعیان منافقین کا ذکر نہایت مناسب ہے جس طرح مہاجرین اور انصآر کو ہجرت اور نصرت میں سبقت اور اولیت کا شرف حاصل تھا اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
99:“ وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا الخ ” یہ ان پانچ صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی، جو مخلص مومن تھے مگر غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ بعد میں سخت نادم ہوئے اور اپنے کو ستونوں سے باندھ لیا اور گڑ گڑا کر توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔ “ خُذْ مِنْ اَمواَلِھِمْ الخ ” آنحضرت ﷺ کو ان کے صدقات قبول کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ اب ان کی توبہ قبول ہوجانے کے بعد آپ کو حکم ملا کہ آپ ان کے صدقات قبول کریں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں۔ کیونکہ آپ کی دعا ان کے لیے باعث آرام و سکون ہے۔ بعض مفسرین نے ان کی تعداد دس، آٹھ اور چھ ذکر کی ہے۔ (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے غزوہ تبوک اور جہاد فی سبیل اللہ کا زکر فرمایا اور جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی شدید مذمت بیان فرمائی ۔ منافقین کی کوتاہیوں غلطیوں اور سازشوں کا حال بیان فرمایا۔ پھر دیہاتی منافقوں اور دیہاتی مومنوں کا تذکرہ کیا اللہ نے جہاد کے لیے مرکزی جماعت کا ذکر بھی کیا جو کہ پوری امت کے لیے معیار ہے اور جس کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہے۔ یہ پہلی جماعت کا ذکر تھا۔ اس سلسلے کی دوسری جماعت کا ذکر آگے آئیگا۔ اللہ نے منافقین کا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ شہر کی طرح دیہات میں بھی منافقین موجود ہیں جو نفاق پر ڈٹے ہوئے ہیں ایسے لوگوں کا حال آپ نہیں جانتے بلکہ اللہ نے…
Read the full tafseer →خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَيْہِمْ 0 ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ 0 ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ 103
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
ترکیب : منافقون مبتداء وممن خبر مقدم ‘ مردوا اس کی صفت ومن اھل المدینۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای ومن اھل المدینۃ قوم کذلک لا تعلمہم صفت ثانیہ وآخرون معطوف ہے منافقوں پر اور ممکن ہے کہ مبتداء ہو اور اعترفوا صفت وخلطوا خبر وآخر معطوف ہے عملا پر۔
تفسیر : باہر کے گنواروں ہی پر کچھ موقوف نہیں کہ وہ منافق اور حیلہ باز ہیں بلکہ بعض اہل مدینہ اور مدینہ کے آس پاس کے گنوار جن کو کہ آنحضرت ﷺ کا وعظ و پند سننا بھی ممکن ہے اور اہل اسلام سے پیشتر میل جول رکھتے ہیں ٗ مردوا علی النفاق نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اور اس فن میں ایسے چالاک ہیں کہ باوجود فراست تامہ کے اے نبی ! ان سے تم واقف بھی نہیں ہاں ہم ان کو جانتے…
Read the full tafseer →خُذْ مِنْ اَمْوَلِہِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَاوَصَلِّ عَلَیْھِمْ ط اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّھُمْ ط وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ (التوبہ : 103)
(آپ ان کے مالوں کا صدقہ قبول کریں اس سے آپ ان کو پاکیزہ بنائیں گے اور ان کا تزکیہ کریں گے اور ان کے لیے دعا کریں بیشک آپ کی دعا ان کے لیے تسکین کا سبب ہے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ )
حضرت ابو لبابہ اور ان کے ساتھیوں کی جب توبہ قبول ہوگئی اور ان کو کھول دیا گیا تو جس مال کی محبت نے ان کو نکلنے سے روکا تھا انھوں نے حضرت محمد ﷺ کی خدمت میں پیشکش کی کہ ہم اپنا یہ سارا مال دولت اور باغات اللہ کے لیے صدقہ کرنے کے لیے تیار ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
فہم القرآن
ربط کلام : چھپے ہوئے منافقوں کے بیان کے بعد ان مسلمانوں کا ذکر جو معقول عذر نہ رکھنے کے باوجود غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ نیز اس میں بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ اگر منافق بھی اخلاص کے ساتھ توبہ اور صدقہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرنے اور صدقہ منظور فرمانے والا ہے۔
اس سے پہلے منافقوں کے گھناؤنے کردار اور مخلص مسلمانوں کے درجات اور مقام کا ذکر فرمایا۔ ان کے بعد عملی منافقوں کو بخشش کی امید دلانے کے بعد ان مسلمانوں کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ جنہوں نے تبوک کے موقع پر سستی کا مظاہرہ کیا تھا۔ چھپے ہوئے منافقوں کے بیان کے معاً بعد سستی کے مرتکب حضرات کا ذکر ایک طرح کی سرزنش ہے مزید…
Read the full tafseer →تکمیل توبہ کے لئے صدقہ و دعا :
آیت 103: خُذُ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً (آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیں) نمبر 1۔ ان کے گناہوں کا کفارہ نمبر 2 بعض کے بقول زکوٰۃ مراد ہے تُطَھِّرُھُمْ ( آپ ان کو پاک کردیں گے) گناہوں سے۔ یہ صدقہ کی صفت ہے۔ اور تاؔ۔ نمبر 1۔ خطاب کی ہے۔ نمبر 2۔ واحد مونث غائب کا صیغہ ہے وَتُزَکِّیْھِمْ (اور ان کو صاف کردیں گے) اس میں تاؔ یقینا خطاب ہی کیلئے ہے۔ بِھَا (جس کے ذریعہ) صدقہ کے ذریعہ التزکیہ، نمبر 1: تطہیر و پاکیزگی میں مبالغہ اور اضافہ نمبر 2۔ مال میں برکت و نمو وَصَلِّ عَلَیْھِمْ (اور ان کے لئے دعا کریں) دعا کے ساتھ ان پر مہربانی فرما کر۔ رحم کر کے۔
مسئلہ : صدقہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 103:
توبہ کرنے والے افراد کی تعداد
تفسیر : ان توبہ کرنے والے حضرات کی تعداد میں اختلاف ہے۔ علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ دس تھے ‘ ان میں سے حضرت ابو لبابہ ؓ بھی تھے اور عطیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ پانچ تھے۔ ان میں سے ایک ابو لبابہ ؓ تھے۔ سعید بن جبیر ؓ اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں کہ آٹھ تھے۔ ضحاک اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ سات تھے اور یہ سب کہتے ہیں کہ ان میں سے ایک ابو لبابہ ؓ تھے اور علماء کی ایک جماعت نے کہا ہے کہ صرف ابو لبابہ ؓ کے بارے میں آیت نازل ہوئی ہے۔ پھر ان کے گناہ میں اختلاف ہے۔
حضرت ابو لبابہ کی توبہ کا ذکر
مجاہد (رح) فرماتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
102۔ 104۔ تفسیر ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور ابو الشیخ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس گروہ صحابہ نے اپنے قصور کا اقرار کر کے آنحضرت ﷺ کے تبوک کے سفر سے مدینہ واپس آنے سے پہلے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا پہلا ٹکڑا آیت کا اس شان میں ہے اور پھر جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی اور انہوں نے آنحضرت کی خدمت میں اپنا مال لاکر عرض کیا کہ حضرت جس مال کے لینے سے انکار کیا تھا دوسرا ٹکڑا آیت کا اس مال کے حکم میں ہے اور جن لوگوں کی توبہ پونے دو مہینے کے بعد قبول ہوئی تیسرا آیت کا ٹکڑا ان کی شان میں نازل ہوا 1 ؎ ہے علماء سلف نے اس آیت کے حکم سے یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
آیت (102-103)
(واخرون) ” اور دوسرے لوگ ہیں “ مدینہ اور اس کے اردگرد رہنے والے دیگر لوگ ‘ بلکہ تمام بلا داسلامیہ کے لوگ (اعترفو بذنوبھم) ” انہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔ “ ان پر نادم ہوئے ‘ پھر وہ گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کی گندگی سے پاک و صاف ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ (خلطوا عملا صالحا واخرسیئا) ” ملایا انہوں نے ایک نیک کام اور دوسرا برا کام۔ “ عمل اس وقت تک صالح نہیں ہوسکتا جب تک کہ بندے کے پاس توحید کی اساس اور ایمان موجود نہ ہو جو اسے کفر اور شرک کے دائرے سے باہر نکالتا ہے اور جو ہر عمل صالح کے لئے شرط ہے۔ پس ان لوگوں نے بعض محرمات کے ارتکاب کی جسارت اور بعض واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–106
صدقہ باعث تطہی رہے
قول باری ہے خذمن اموالھم صدقۃ تطھر ھم و ترکیھم بھا اے نبی ! تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور نیکی کی راہ میں انہیں بڑھائو ظاہری طور پر کنایہ ان لوگوں کی طرف راجع ہے جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا تھا۔ اس لیے کہ کنایہ کے لیے کسی اسم ظاہر کا ہونا ضروری ہوتا ہے جس کا سلسلہ خطاب میں پہلے ذکر ہو چکاہو ۔ آیت میں ظاہر کلام اور مقتضائے لفظ یہی ہے۔ اس سے تمام اہل ایمان مراد لینا بھی درست ہے اس لیے کہ اس پر دلالت حال موجود ہے جس طرح یہ قول باری ہے انا انزلناہ فی لیلۃ القدر بیشک ہم نے اسے قدر کی رات میں نازل کیا یعنی قرآن ۔…
Read the full tafseer →193 توبہ کرنے والوں کے مالوں سے صدقہ لینے کا حکم : اور اس طرح انہیں مخلصین کے مقام رفیع تک پہنچا دیجئے۔ روایات میں ہے کہ جب ان حضرات صحابہ ؓ کی توبہ قبول ہوگئی تو انہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے یہ اموال آپ ﷺ اللہ پاک کی راہ میں صرف فرما دیں کہ انہی کی وجہ سے ہم اس غزؤہ تبوک سے اس طرح پیچھے رہ گئے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس بارے مجھے کوئی حکم نہیں دیا گیا۔ تو پھر اس ارشاد کے نزول کے بعد آپ ﷺ نے ان کے اموال کا ایک تہائی حصہ لے کر ان کے گناہوں کے کفارے کے طور پر اسے صدقہ فرما دیا۔ اور اسی سے علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ گناہوں سے توبہ کے طور پر کچھ صدقہ کرنا بھی مسنون ہے۔ بہرکیف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
مہاجرین اور انصار صحابہ کے لیے خوشخبری اور منافقوں کے لیے عذاب
تشریح : پچھلی آیات میں دیہاتی مومنین کا ذکر تھا اب یہاں تمام مخلص مومنین کا ذکر ہے اور پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو نبی اکرم ﷺ کی آواز پر فوراً مسلمان ہوگئے (جن میں مہاجرین وانصار شامل ہیں) اور کچھ نیک نیتی سے آہستہ آہستہ ان کے بعد مسلمان ہوتے گئے اور ان سب نے پورے خلوص کے ساتھ اسلام کے قوانین کی پابندی کی۔ پہلے گروہ کو صحابہ اور دوسرے کو تابعین کہیں گے اور بعض نے قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کو ان میں شامل کیا ہے۔ دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ غزوئہ تبوک کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیات 100 تا 110
اسرار و معارف
سابقون الا ولون
بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔
اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی تو یہ اپنے اموال لے کر آنحضرت صلی اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ہمارا صدقہ قبول فرمائیے اور ہمارے لیے استغفار کیجیے مگر آپ نے صدقہ قبول کرنے سے انکار فرما دیا کہ مجھے اللہ نے حکم نہیں دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (وحیدی)
11 ۔ اس لیے آنحضرت ﷺ کا معمول تھا کہ جب کوئی شخص صدقہ (فرض زکوۃ یا نفلی صدقہ) لے کر حاضر ہوتا تو اس کے لیے دعا فرماتے : اللہم صل علی ال فلان۔ کہ اے اللہ فلاں کے گھر والوں پر اپنی رحمت نازل فرما۔ (بخاری و مسلم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
(9:103) تطھرھم وتزکیہم بھا۔ مضارع واحد مذکر حاضر ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ جس کا مرجع اخرون ہے۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع صدقۃ ہے۔ یعنی ان کے مالوں سے صدقہ وصول کیجئے کہ اس طرح آپ ان کو پاک و صاف کردیں گے۔
ہل علیہم۔ ان کے لئے دعا کیجئے۔ امرواحد مذکر حاضر۔
سکن۔ تسکین ۔ آرام۔ راحت۔ رحمت۔ برکت۔ جس سے سکون حاصل ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–104
لغات القرآن آیت نمبر 103 تا 106
خذ (لے لو، لیجیے) صدقۃ (صدقہ) تطھرھم (ان کو پاک کیجیے) تزکیھم (ان کے دل پاکیزہ بنایئے) صلوتک (آپ کی دعا) سکن (سکون ہوگا) یقبل (وہ قبول کرتا ہے ) عباد (بندے) یاخذ (وہ لیتا ہے ) مرجون (روک دیئے گئے)
تشریح : آیت نمبر 103 تا 106
تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیات حضرت ابولبابہ اور ان کے چھ ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہیں۔ حضرت ابولبابہ ہجرت مدینہ سے پہلے بیعت عقبہ کے موقع پر حلقہ اسلام میں داخل ہوئے وہ اور ان کے چھ ساتھی کم و بیش ہر جہاد میں اپنے مالوں اور جانوں سے ایثار و قربانی کا عظیم مظاہرہ کرتے رہے لیکن غزوہ تبوک کے موقع پر بعض مجبوریوں کا سہارا لے کر اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
صدقہ خیرات کا حکم
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ جس گروہ صحابہ نے اپنے قصور کا اقرار کر کے آنحضرت ﷺ کے تبوک کے سفر سے مدینہ واپس آنے سے پہلے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا، جب حضور ﷺ تشریف لائے اور انہیں ملاحظہ کیا تو فرمایا یہ کون ہیں۔ عرض کیا گیا یہ وہ لوگ ہیں جو جہاد میں حاضر ہونے سے رہ گئے تھے، انہوں نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ یہ اپنے آپ کو نہ کھولیں گے جب تک حضور ﷺ ان سے راضی ہو کر انہیں خود نہ کھولیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں انہیں نہیں کھولوں گا نہ ان کا عذر قبول کروں گا، جب تک کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان کے کھولنے کا حکم نہ دیا جائے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور حضور ﷺ نے انہیں کھولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–105
[56] غزوہ تبوک میں ساتھ نہ جانے والوں میں علاوہ منافقین کے کچھ مومنین بھی تھے جو محض کاہلی کی بناء پر پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ اپنی غفلت و کوتاہی پر اس درجہ نادم تھے کہ جب ان کو رسول اللہ ﷺ کی واپسی کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا کہ رسول اللہ ﷺ کھولیں گے تو خیر ورنہ یوں ہی ختم ہوجائیں گے۔ یہاں انہی لوگوں کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
(ف 2) غزوہ تبوک سے تحلف کرنے والوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو سخت نادم تھے ابو لبابہ ؓ اور اس کے ساتھیوں نے تعزیرا اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ باند لیا ، اور کھانا پینا ترک کردیا ، حضور جنگ سے جب لوٹے تو لوگوں نے درخواست کی انکو معاف فرما دیجئے ، یہ اب نادم ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا تب تک اللہ ان کی معذرت کو قبول نہ فرما دے میں کسی طرح ان سے خوش ہو سکتا ہوں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ، غرض یہ ہے کہ اظہار ندامت کے بعد گناہ دھل جاتے ہیں اور اللہ اپنے کرم سے معاف کردیتا ہے ۔
(آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “۔ سے مقصود یہ ہے کہ مال و دولت کی وجہ سے یہ لوگ رکے رہے اور میدان جہاد میں نہیں جاسکے اس…
Read the full tafseer →103 اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے تاکہ آپ اس صدقہ کی وجہ سے ان کو خوب پاک اور صاف کردیں اور جب آپ ان سے وہ مال لیں تو ان کے لئے خیرو برکت کی دعا کیجئے بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لئے موجب اطمینان اور موجب تسکین ہے اور اللہ تعالیٰ سب سنتا اور جانتا ہے یعنی توبہ کی قبولیت کے سلسلہ میں بطور نفلی صدقہ کے کچھ پیش کرتے ہیں تو اس کو قبول کرلیجئے اور ان کے حق میں دعائے خیر بھی کیجئے آپ کی دعا ان کے قلب کے لئے اطمینان اور تسکین کا موجب ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی جیسے بعضوں پر عتاب ہوا کہ ہمیشہ کو ان کی زکوٰۃ بند ہوئی ان پر عتاب نہیں۔
Read the full tafseer →ف 2۔ اس لیے ان کی توبہ قبول کی اور اپنی رحمت سے مال قبول کرنے کا حکم اور ان کے لیے دعا کرنے کا حکم فرمایا پس آئندہ بھی خطایا وذنوب کے صدور پر توبہ کرلیاکریں اور اگر توفیق ہو تو خیر خیرات کیا کریں۔
فائدہ۔ جب توبہ سے گناہ معاف ہوگیا تو صدقہ کے آلہ تطہیر وتزکیہ ہونے کے کیا معنی سو وجہ اس کی یہ ہے کہ توبہ سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں لیکن گاہے اس کی ظلمت و کدورت کا اثر باقی رہ جاتا ہے اور گو اس پر مواخذہ نہیں لیکن اس سے آئندہ اور گناہوں کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے پس صدقہ سے خصوصا اور دیگر اعمال صالحہ سے عموما یہ ظلمت اور کدورت مندفع ہوجاتی ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ان بریاں دلوں کے صدقات قبول فرما کر سلامتی کی دعا کرو :
134: پیچھے آیت 53 ، 54 میں آپ پڑھ آئے ہیں کہ منافقین کے صدقات سے نیت کریم ﷺ کو روک دیا تھا اور حکم دیا گیا تھا کہ ان کے صدقات قبول نہ کئے جائیں اور اب اس جگہ دوبارہ حکم دیا جا رہا ہے کہ ان کے صدقات قبول کرو اور ان کو برکت کی دعا بھی دو ایسا کیوں ؟ اس لئے کہا ہے کہ جب وہ اس قابل نہ رہے کہ ان کے صدقات قبول کئے جائیں تو روک دیا گیا اور جب وہ خود اس قابل ہوگئے کہ ان کے صدقات قبول کرلیے جائیں تو ان کے صدقات کے قبول کرنے کا حکم دے دیا گیا اور اس طرح یہ بات واضح کردی کہ اس طرح حکم الٰہی نہیں بدلا بلکہ ان لوگوں کی حالت بدل گئی…
Read the full tafseer →The imperative: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً : "Take out of their wealth a Sadaqah (obligatory alms) " in the second verse (103) has its background. Some people, as mentioned a little earlier, had stayed back from the battle of Tabuk without a valid excuse. Then, out of remorse, they had tied themselves to the pillars of the Mosque. Then came the acceptance of their repentance as revealed in the previous verse (102) and. they were released from their self-imprisonment. When this happened, they presented their entire wealth as a token of their gratitude so that it could be given out as…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →