تساہل اور سستی سے بچو
منافقوں کا حال اوپر کی آیتوں میں بیان فرمایا جو اللہ کی راہ میں جہاد سے بےایمانی، شک اور جھٹلانے کے طور پر جی چراتے ہیں اور شامل نہیں ہوتے۔ اس آیت میں ان کا بیان ہو رہا ہے جو ہیں تو ایمان دار اور سچے پکے مسلمان۔ لیکن سستی اور طلب راحت کی وجہ سے جہاد میں شامل نہ ہوئے۔ انہیں اپنے گناہوں کا اقرار ہے، اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کی نیکیاں بھی ہیں۔ پس یہ نیکی بدی والے لوگ اللہ تعالیٰ کے حوالے ہیں اس کی معافی اور درگذر کے ماتحت ہیں۔ یہ آیت گو معین لوگوں کے بارے میں ہے لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے، ہر مسلمان جو نیکی کے ساتھ بدی میں بھی ملوث ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
سورة التَّوْبَة 97
یعنی اپنے نفاق کو چھپانے میں وہ اتنے مشاق ہوگئے ہیں کہ خود نبی ﷺ بھی اپنی کمال درجے کی فراست کے باوجود ان کو نہیں پہنچان سکتے تھے۔
سورة التَّوْبَة 98
دوہری سزا سے مراد یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ دنیا جس کی محبت میں مبتلا ہو کر انہوں نے ایمان و اخلاص کے بجائے منافقت اور غداری کا رویہ اختیار کیا ہے، ان کے ہاتھ سے جائے گی اور یہ مال و جاہ اور عزت حاصل کرنے کے بجائے الٹی ذلت و نامرادی پائیں گے۔ دوسری طرف جس مشن کو یہ ناکام دیکھنا اور اپنی چال بازیوں سے ناکام کرنا چاہتے ہیں وہ ان کی خواہشوں کو کوششوں کے علی الرغم ان کی آنکھوں کے سامنے فروغ پائے گا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور کچھ اور لوگ ہیں جو اپنی خطا کے مقر ہوگئے جنہوں نے ملے جلے عمل کئے تھے کچھ بھلے (جیسے اعتراف جس کا منشاء ندامت ہے اور یہی توبہ ہے، اور جیسے اور غزوات جو پہلے ہوچکے ہیں، غرض یہ کام تو اچھے کئے) اور کچھ برے (کئے جیسے تخلف بلا عذر سو) اللہ سے امید (یعنی انکا وعدہ) ہے کہ ان (کے حال) پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرماویں (یعنی توبہ قبول کرلیں) بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں (جب اس آیت سے توبہ قبول ہوچکی اور وہ حضرات ستونوں سے کھل چکے تو اپنا مال آپ کی خدمت میں لے کر آئے اور درخواست کی کہ اس کو اللہ کی راہ میں صرف کیا جائے تو ارشاد ہوا کہ) آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–105
102۔ 105: وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا ۭعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ یہ ان لوگوں کا بیان ہے جو اگرچہ کمزوریوں میں متلا رہے تھے اور تبوک کے موقع پر بھی ان سے کمزوری صادر ہوگئی تھی لیکن ایمان کی رمق ان کے اندر باقی تھی۔ جب اس سورة نے منافقین کو اچھی طرح جھنجھوڑا اور ان کے علم میں یہ باتیں آئیں تو ان کی آنکھیں کھل گئیں۔ انہوں نے باتیں بنانے کی کوشش کے بجائے صدق دل سے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور نہایت بےچینی کے ساتھ اپنے آپ اللہ اور رسول کے آگے ڈال دیا۔ روایات میں آتا ہے کہ بعض لوگوں نے…
Read the full tafseer →12۔ 1 یہ وہ مخلص مسلمان ہیں جو بغیر عذر کے محض سستی کی وجہ سے تبوک میں نبی کے ساتھ نہیں گئے بلکہ بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگیا، اور اعتراف گناہ کرلیا۔
12۔ 2 بھلے سے مراد وہ اعمال صالحہ ہیں جو جہاد میں پیچھے رہ جانے سے پہلے کرتے رہے ہیں جن میں مختلف جنگوں میں شرکت بھی کی اور ' کچھ برے ' سے مراد یہی تبوک کے موقع پر ان کا پیچھے رہنا۔
12۔ 3 اللہ تعالیٰ کی طرف سے امید، یقین کا فائدہ دیتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ ان کی طرف رجوع فرما کر ان کے اعتراف گناہ کو توبہ کے قائم مقام قرار دے کر انہیں معاف فرما دیا۔
Read the full tafseer →78: منافقین تو اپنی منافقت کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہوئے تھے، اور اب تک انہیں کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ لیکن مخلص مسلمانوں میں بھی کچھ لوگ ایسے تھے جو سستی کی وجہ سے جہاد میں جانے سے رہ گئے تھے حضرت عبداللہ بن عباس کی روایت کے مطابق یہ کل دس حضرات تھے۔ ان میں سے سات کو اپنی اس سستی پر اتنی سخت شرمندگی ہوئی کہ ابھی آنحضرت صلی اللہ تبوک سے واپس بھی نہیں پہنچے تھے کہ یہ خود اپنے آپ کو سزا دینے کے لیے مسجد نبوی پہنچے، اور اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے بندھے رہیں گے۔ آپ کی واپسی کا وقت قریب تھا، اور جب آپ واپس تشریف لائے اور آپ نے انہیں بندھا ہوا دیکھا تو پوچھا کہ کیا معاملہ ہے ؟ اس پر آپ کو علم…
Read the full tafseer →1 :۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دس آدمی تھے جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ (ﷺ) سے پیچھے رہ گئے تھے جب رسول اللہ (ﷺ) واپس تشریف لے آئے تو ان میں سے سات آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا جب نبی کریم (ﷺ) مسجد میں ان کے پاس سے گزرے اور ان کو دیکھ کر فرمایا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا ہے صحابہ کرام ؓ نے فرمایا یہ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی ہیں جو آپ سے یارسول اللہ (ﷺ) پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →5 اہل مدینہ میں اگر ایک طرف یہ منافقین متمردین ہیں جو اپنی شرارتوں اور جرموں کو پردہ نفاق میں چھپاتے اور ان پر سختی سے اڑے رہتے ہیں تو دوسری جانب بعض وہ مسلمان ہیں جن سے بمقتضائے بشریت کوئی خطا و قصور سرزد ہوجائے تو نادم ہو کر بےتامل اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں۔ ان کی بھلائی اور برائی مخلوط (رلی ملی) ہے۔ برائی تو مثلاً یہ کہ نفیر عام کے باوجود نبی کریم ﷺ کی دعوت پر " غزوہ تبوک " میں حاضر نہ ہوئے بعدہ، اس غیر حاضری پر دل سے پشیمان و متأسف ہونا اور ظاہراً و باطناً توبہ کرنا اور دوسرے اعمال صالحہ (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج یا دوسرے غزوات کی شرکت وغیرہ) بجا لانا، یہ سب ان کی بھلائیوں کی فہرست میں…
Read the full tafseer →آیت 102 وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِہِمْ
وہ اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹ نہیں بولتے ‘ جھوٹی قسمیں نہیں کھاتے ‘ جھوٹے بہانے نہیں بناتے ‘ بلکہ کھلے عام اعتراف کرلیتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہوگئی ‘ معمولات زندگی کی مصروفیات اور اہل و عیال کی مشغولیات نے ہمیں اس قدر الجھایا کہ ہم دینی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کا ارتکاب کر بیٹھے۔ جب غلطی کا ایسا کھلا اعتراف ہوگیا تو نفاق کا احتمال جاتا رہا۔ لہٰذا انہیں توبہ کی توفیق مل گئی۔
خَلَطُوْا عَمَلاً صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَیِّءًا ط
نیک اعمال بھی کرتے ہیں مگر کبھی کوئی غلطی بھی کر بیٹھتے ہیں۔ ایثار وا نفاق بھی کرتے ہیں مگر دنیاداری کے جھمیلوں میں…
Read the full tafseer →116 غزوہ تبوک سے پیچھے رہ جانے والے سات مسلمان جنہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا تھا :۔ جب آپ غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو (80) اسی سے زیادہ منافق آپ کی خدمت میں حاضر ہو ہو کر طرح طرح کے بہانے بنانے لگے اور قسمیں کھا کھا کر اس بات کی یقین دہانی کرانے لگے کہ ہم فی الواقع معذور تھے۔ آپ نے ان سے کچھ تعرض نہ فرمایا بس اتنا کہہ دیا کہ اللہ تمہیں معاف کرے۔ ان کے علاوہ سات مسلمان ایسے تھے جو پیچھے رہ گئے تھے ان کے پاس کوئی معقول عذر نہ تھا الا یہ کہ وہ سستی کی وجہ سے شامل جہاد نہ ہو سکے تھے۔ انہوں نے آپ کی باز پرس سے پہلے ہی اپنے جرم کا اعتراف یوں کیا کہ اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون…
Read the full tafseer →188۔ غزوۂ تبوک میں ساتھ نہ جانے والوں میں علاوہ منافقین کے کچھ مومنین بھی تے جو محض کاہلی کی بنا پر پیچھے رہ گئے تھے۔ اب یہاں سے بیان ان کا شروع ہورہا ہے۔ ان میں بھی کچھ ایسے تھے جنہیں ندامت اس درجہ قوی تھی کہ انہوں نے جب آپ ﷺ کی واپسی کی خبر سنی تو اپنے کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا کہ آپ ﷺ کھولیں تو خیر ورنہ یوں ہی ختم ہوجائیں گے، پہلے ذکر اسی قسم کے نادمین تائبین کا شروع ہوتا ہے، یہ وہ لوگ تھے جن میں گناہ کا ملکہ راسخ نہ تھا بلکہ نوراستعداد پوری طرح باقی تھا۔ (آیت) ” عملا صالحا “۔ مثلا سابق کے غزوات میں شرکت یا خود اسی موقع پر یہ احساس ندامت۔ (آیت) ” اخر سیئا “۔ جیسے بلاعذر معقول اسی غزوہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیت نمبر 100 تا 110
ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے…
Read the full tafseer →واٰخرون اور (اعراب میں سے یا مدینہ والوں میں سے) کچھ اور لوگ ہیں (جو منافق نہیں ہیں بلکہ ان کی حالت یہ ہے)
اعترفوا بذنوبھم خلطوا عملاً صالحًا واخر سیءًا انہوں نے اپنے قصور کا اقرار کرلیا ہے۔ یعنی غزوۂ تبوک میں شریک نہ ہونے اور نہ جانے کا کوئی جھوٹا عذر نہیں پیش کیا بلکہ اپنے قصور کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے نیک عمل کو برے عمل کے ساتھ مخلوط کردیا۔ نیک عمل سے مراد ہے : ایمان ‘ نماز اور رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہ کر متعدد مرتبہ جہاد میں شرکت اور تبوک سے غیرحاضری پر ندامت اور اظہار قصور۔ برے عمل سے مراد ہے : تبوک سے غیرحاضری اور اس معاملہ میں منافقوں کے ساتھ عملی موافقت۔ وَاٰخَرَ سَیِّءًا میں واؤ…
Read the full tafseer →(102) اور اہل مدینہ میں سے کچھ اور لوگ ہیں یعنی ودیعتہ بن جزام انصاری، ابولبابہ بن عبد المنذر انصارنی، ابوثعلبہ انہوں نے اپنی غلطی کا اقرار کرلیا، جو ان سے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کی بنا پر سرزد ہوئی ہے، اس سے پہلے جو غزوات ہوچکے ہیں، اس میں تو وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے اور اس غزوہ میں آپ کے ساتھ شرکت نہیں کی، سو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ ان کی غلطی معاف کردی جائے گی، بیشک جو ان میں سے توبہ کرے، اللہ رب العزت اس کی بخشش کرنے والے اور جو توبہ پر مرے اس پر رحم کرنے والے ہیں (جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی) تو رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں اپنا مال واسباب لیکر آئے اور عرض کیا کہ اس کو اللہ…
Read the full tafseer →وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ : (وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ) والی آیت میں مسلمانوں کے بہترین لوگوں کا ذکر ہے اور (وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ) میں مسلمان کہلانے والے بدترین لوگوں کا ذکر ہے، جو آگ کے درک اسفل (سب سے نچلے حصے) کا ایندھن بننے والے ہیں اور اب عام مسلمانوں کا ذکر ہے جن کے صالح اعمال بھی ہیں اور کچھ اعمال سیۂ (برے کام) بھی ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ مفسرین نے یہاں ابولبابہ ؓ وغیرہ کا تذکرہ فرمایا کہ وہ مخلص مسلمان ہونے کے باوجود تبوک پر نہ جاسکے تو انھوں نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں خود کھولیں گے تو ہم سمجھیں گے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 102۔
یعنی اہل مدینہ میں سے اور تمہارے آس پاس رہنے والوں میں سے کچھ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار واعتراف کرلیا ہے اور دوسروں کے لیے اللہ تعالیٰ کا امر مؤخر کردیا گیا ہے وہ ان کے بارے میں وہی فیصلہ فرمائے گا جو چاہے گا۔ پس پہلی قسم یہ احتمال رکھتی ہے کہ وہ منافق تھے اور نفاق پر پختہ نہ ہوئے تھے۔ اور یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ وہ مومن ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : یہ آیت ان دس افراد کے بارے میں نازل ہوئی جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے اور ان میں سے سات آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ باندھ دیا تھا۔ حضرت قتادہ (رح) نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ اور یہ بھی کہا ہے…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دس آدمی تھے جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے جب رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لے آئے تو ان میں سے سات آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا جب نبی کریم ﷺ مسجد میں ان کے پاس سے گزرے اور ان کو دیکھ کر فرمایا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا ہے صحابہ کرام ؓ نے فرمایا یہ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی ہیں جو آپ سے یارسول اللہ ﷺ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا…
Read the full tafseer →وَاٰخَرُوْنَ [ اور کچھ دوسرے ہیں ] اعْتَرَفُوْا [ جنھوں نے اعتراف کیا ] بِذُنُوْبِهِمْ [ اپنے گناہوں کا ] خَلَطُوْا [ انھوں نے گڈمڈ کیا ] عَمَلًا صَالِحًا [ نیک عمل کو ] وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا ۭ [ اور دوسرے برے کو ] عَسَى [ قریب ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَنْ [ کہ ] يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭ [ وہ توبہ قبول کرے ان کی ] اِنَّ اللّٰهَ ہ [یقینا اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے والا ہے ] رَّحِيْمٌ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →مومنین مخلصین کی توبہ کا تذکرہ جو غزوۂ تبوک میں نہیں گئے تھے
جو منافقین غزوۂ تبوک میں شرکت کے لیے جانے سے رہ گئے تھے پھر آنحضرت سرور عالم ﷺ کے واپس تشریف لانے پر جھوٹے عذر پیش کرتے رہے (جن میں اہل مدینہ اور مدینہ منورہ کی آس پاس کی بستیوں کے رہنے والے دیہاتی بھی تھے) ان کا تذکرہ فرمانے کے بعد ان چند مومنین مخلصین کا تذکرہ فرمایا جو اپنے ایمان میں سچے ہوتے ہوئے سستی اور کاہلی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت تو رہ گئے اور ساتھ نہ گئے لیکن بعد میں پچھتائے اور نادم ہوئے کہ ہم عورتوں کے ساتھ سایوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ دھوپ کی گرمی اور سفر کی مشقت اور تکلیف میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
زعماء منافقین کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ وممن حولکم من الاعراب منافقون۔۔ الی۔۔۔ عذاب عظیم۔
(ربط): اوپر کی آیت میں اعیان مومن ین۔ یعنی مومنین کاملین کا ذکر تھا اب اس آیت میں زعماء منافقین کا ذکر ہے جو مدینہ میں اور مدینہ کے آس پاس رہتے تھے اور سرتاپا نفاق میں غرق تھے اور فن نفاق میں ایسے ماہر وحاذق اور پختہ تھے کہ نبی اکرم ﷺ باوجود کمال فراست کے ان کے نفاق پر مطلع نہ ہوسکے چناچہ مردوا علی النفاق کے بعد جو لفظ لا تعلمھم بڑھایا گیا وہ اسی طرف اشارہ ہے اعیان مومنین کے ذکر کے بعد اعیان منافقین کا ذکر نہایت مناسب ہے جس طرح مہاجرین اور انصآر کو ہجرت اور نصرت میں سبقت اور اولیت کا شرف حاصل تھا اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
99:“ وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا الخ ” یہ ان پانچ صحابہ کے بارے میں نازل ہوئی، جو مخلص مومن تھے مگر غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوئے۔ بعد میں سخت نادم ہوئے اور اپنے کو ستونوں سے باندھ لیا اور گڑ گڑا کر توبہ کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمالی۔ “ خُذْ مِنْ اَمواَلِھِمْ الخ ” آنحضرت ﷺ کو ان کے صدقات قبول کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ اب ان کی توبہ قبول ہوجانے کے بعد آپ کو حکم ملا کہ آپ ان کے صدقات قبول کریں اور ان کے حق میں دعا فرمائیں۔ کیونکہ آپ کی دعا ان کے لیے باعث آرام و سکون ہے۔ بعض مفسرین نے ان کی تعداد دس، آٹھ اور چھ ذکر کی ہے۔ (قرطبی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–106
ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ نے غزوہ تبوک اور جہاد فی سبیل اللہ کا زکر فرمایا اور جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی شدید مذمت بیان فرمائی ۔ منافقین کی کوتاہیوں غلطیوں اور سازشوں کا حال بیان فرمایا۔ پھر دیہاتی منافقوں اور دیہاتی مومنوں کا تذکرہ کیا اللہ نے جہاد کے لیے مرکزی جماعت کا ذکر بھی کیا جو کہ پوری امت کے لیے معیار ہے اور جس کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہے۔ یہ پہلی جماعت کا ذکر تھا۔ اس سلسلے کی دوسری جماعت کا ذکر آگے آئیگا۔ اللہ نے منافقین کا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ شہر کی طرح دیہات میں بھی منافقین موجود ہیں جو نفاق پر ڈٹے ہوئے ہیں ایسے لوگوں کا حال آپ نہیں جانتے بلکہ اللہ نے…
Read the full tafseer →وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِہِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّــئًا 0 ۭ عَسَى اللہُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْہِمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 102
اعْتِرَافُ
والاعْتِرَافُ : الإقرارُ ، وأصله :إظهار مَعْرِفَةِ الذّنبِ ، وذلک ضدّ الجحود . قال تعالی: فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ [ الملک/ 11] ، فَاعْتَرَفْنا بِذُنُوبِنا[ غافر/ 11] .
الاعتراف ( افتعال ) کے معنی اقرار کے میں اصل میں اس کے معنی گناہ کا اعتراف کرنے کے ہیں ۔ اس کی ضد جحود یعنی انکار کرنا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے ؛ فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ [ الملک/ 11] پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے ۔ فَاعْتَرَفْنا بِذُنُوبِنا[…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
ترکیب : منافقون مبتداء وممن خبر مقدم ‘ مردوا اس کی صفت ومن اھل المدینۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای ومن اھل المدینۃ قوم کذلک لا تعلمہم صفت ثانیہ وآخرون معطوف ہے منافقوں پر اور ممکن ہے کہ مبتداء ہو اور اعترفوا صفت وخلطوا خبر وآخر معطوف ہے عملا پر۔
تفسیر : باہر کے گنواروں ہی پر کچھ موقوف نہیں کہ وہ منافق اور حیلہ باز ہیں بلکہ بعض اہل مدینہ اور مدینہ کے آس پاس کے گنوار جن کو کہ آنحضرت ﷺ کا وعظ و پند سننا بھی ممکن ہے اور اہل اسلام سے پیشتر میل جول رکھتے ہیں ٗ مردوا علی النفاق نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اور اس فن میں ایسے چالاک ہیں کہ باوجود فراست تامہ کے اے نبی ! ان سے تم واقف بھی نہیں ہاں ہم ان کو جانتے…
Read the full tafseer →وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْابِذُنُوْبِِھِمْ خَلَطُوْعَمَلاً صَالِحًاوَّاٰخَرَسَیِـًٔا ط عَسَی اللَّہُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْھِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ (التوبہ : 102)
(کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا ہے۔ انھوں نے ملے جلے عمل کیے کچھ اچھے اور کچھ برے۔ اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے گا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ )
غزوہ ٔ تبوک میں شریک نہ ہونے والے ایک تو منافقین تھے جو اپنے نفاق کی وجہ سے شرکت سے گریزاں رہے لیکن کچھ ایسے لوگ بھی تھے جن کے اخلاص میں کوئی کمی نہ تھی وہ ہر لحاظ سے سچے مومن تھے اسلام لانے کے بعد ان کی زندگی اخلاص کا نمونہ رہی دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کے دوسرے اور تیسرے طبقہ کا ذکر، مدینہ کے منافقین کا ذکر کرنے کے بعد اب ان منافقین کا بیان ہوتا ہے جو مدینہ اور اس کے مضافات میں رہتے تھے۔
مومنوں کے اعلیٰ طبقات بیان کرنے کے بعد منافقین کے اس گروہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو مدینہ اور اس کے مضافات میں رہنے کی وجہ سے ہر وقت مسلمانوں کے ساتھ جڑے رہتے تھے لیکن حقیقتاً پکے منافق تھے مگر تمام کام مسلمانوں جیسے کرتے اور ہر کام میں مسلمانوں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے۔ اس وجہ سے عام مسلمان ان کے اصلی کردار سے ناواقف تھے۔ یہ منافق مسلمانوں کے لیے آستین کے سانپ تھے۔ جنہیں پہچاننا عام مسلمانوں کے بس کی بات نہیں تھی اس لیے یہ…
Read the full tafseer →معترف گناہ مومن :
آیت 102: وَاٰخَرُوْنَ (اور کچھ اور لوگ ہیں) ان مذکورہ لوگوں کے علاوہ اور لوگ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ (جو اپنی خطا کے معترف ہوگئے) اپنے پیچھے رہ جانے پر جھوٹے عذر پیش نہیں کئے بلکہ انہوں نے ندامت سے اس فعل کا اعتراف و اقرار کرلیا کہ انہوں نے بہت بڑی غلطی کی ہے ان کی تعداد دس تھی۔ ان میں سے سات نے ان آیات کو سنکر جو متخلفین کے متعلق اتری تھیں اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا۔ آپ ﷺ تشریف لائے اور عادت مبارکہ کے مطابق سب سے پہلے مسجد میں داخل ہو کردو رکعت نماز ادا فرمائی۔ آپ نے جب ان کو بند ھا ہوا دیکھا تو ان سے سوال کیا انہوں نے ذکر کیا کہ ہم نے قسم اٹھائی ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 102:
تفسیر آیت نمبر 102:” وآخرون “ یعنی اہل مدینہ اور اعراب میں سے دوسرے لوگ مراد ہیں۔ یہ منافقین کی طرف نہیں لوٹ رہا۔ ” اعترافوا انہوں نے اقرار کیا بذنو بھم خلطوا عملا صالحا “ اور وہ ان کا اپنے گناہوں اور اپنی توبہ کا اقرار کرنا ہے۔ ” وآ خر سینا “ یعنی دوسرے برے اعمال کے ساتھ۔ باء کو وائو کی جگہ لایا گیا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے خلطت الماء واللین یعنی باللبن بر اعمل ان کا نبی کریم ﷺ سے پیچھے رہ جانا اور نیک عمل ان کا شرمندہ ہونا اور خود کو ستونوں سے باندھنا ہے اور بعض نے کہا کہ نیک عمل ان کے نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوات ہیں۔
غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
102۔ 104۔ تفسیر ابن جریر ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور ابو الشیخ میں جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جس گروہ صحابہ نے اپنے قصور کا اقرار کر کے آنحضرت ﷺ کے تبوک کے سفر سے مدینہ واپس آنے سے پہلے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا پہلا ٹکڑا آیت کا اس شان میں ہے اور پھر جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی اور انہوں نے آنحضرت کی خدمت میں اپنا مال لاکر عرض کیا کہ حضرت جس مال کے لینے سے انکار کیا تھا دوسرا ٹکڑا آیت کا اس مال کے حکم میں ہے اور جن لوگوں کی توبہ پونے دو مہینے کے بعد قبول ہوئی تیسرا آیت کا ٹکڑا ان کی شان میں نازل ہوا 1 ؎ ہے علماء سلف نے اس آیت کے حکم سے یہ بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
آیت (102-103)
(واخرون) ” اور دوسرے لوگ ہیں “ مدینہ اور اس کے اردگرد رہنے والے دیگر لوگ ‘ بلکہ تمام بلا داسلامیہ کے لوگ (اعترفو بذنوبھم) ” انہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا۔ “ ان پر نادم ہوئے ‘ پھر وہ گناہوں سے توبہ کرنے اور ان کی گندگی سے پاک و صاف ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ (خلطوا عملا صالحا واخرسیئا) ” ملایا انہوں نے ایک نیک کام اور دوسرا برا کام۔ “ عمل اس وقت تک صالح نہیں ہوسکتا جب تک کہ بندے کے پاس توحید کی اساس اور ایمان موجود نہ ہو جو اسے کفر اور شرک کے دائرے سے باہر نکالتا ہے اور جو ہر عمل صالح کے لئے شرط ہے۔ پس ان لوگوں نے بعض محرمات کے ارتکاب کی جسارت اور بعض واجبات کی ادائیگی میں کوتاہی…
Read the full tafseer →قول باری ہے واخرون اعترفوابذنوبھم خلطوا عملا ًصالحا ً واخر سیئا ً عسی اللہ ان یتوب علیھم کچھ اور لگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کرلیا ہے ان کا عمل مخلوط ہے۔ کچھ نیک ہے اور کچھ بد ۔ بعید نہیں کہ اللہ ان پر مہربان ہوجائے۔ اعتراف کسی بات کے اس اقرار کو کہتے ہیں جو آگاہ ہوجانے کی بنیاد پر کیا جائے ۔ اس لیے کہ اقرار کا لفظ قرالشی ۔
ایک چیز نے قرار پکڑ لیا سے نکلا ہے اور اعتراف کا لفظ معرفت سے نکلا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے توبہ کے ذکر کے ساتھ گنا ہ کے اعتراکا ذکر کیا ہے اس لیے کہ گناہ کی قباحت کے تصور میں صدق دل سے توبہ کا زیادہ داعیہ ہوتا ہے ۔ اور ایسے شخص کی حالت اس شخص سے بہتر ہوتی ہے جسے توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
188 کچھ منافقوں کو پیغمبر بھی نہیں جان سکتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے آس پاس کے دیہاتیوں میں بھی بہت سے منافق ہیں اور خود اہل مدینہ کے اندر بھی۔ سو کچھ منافق ایسے پکے اور اس قدر منجھے ہوئے ہیں کہ ان کو آپ بھی اے پیغمبر نہیں جان سکتے بلکہ ان کو ہم ہی جانتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے کفر و نفاق اور مکاری و عیاری میں ایسے ماہر ہوگئے ہیں کہ آپ ﷺ بھی اے پیغمبر ﷺ باوجود اپنی اعلیٰ درجے کی زیرکی و فراست اور عظیم الشان فہم و ادراک کے ان کو نہیں جان سکتے۔ ان کو ہم ہی جانتے ہیں۔ ( روح، صفوہ، ابن کثیر اور معارف وغیرہ) ۔ سو اس آیت کریمہ سے اہل بدعت کے علم غیب کلی کے شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ والحمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
مہاجرین اور انصار صحابہ کے لیے خوشخبری اور منافقوں کے لیے عذاب
تشریح : پچھلی آیات میں دیہاتی مومنین کا ذکر تھا اب یہاں تمام مخلص مومنین کا ذکر ہے اور پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو نبی اکرم ﷺ کی آواز پر فوراً مسلمان ہوگئے (جن میں مہاجرین وانصار شامل ہیں) اور کچھ نیک نیتی سے آہستہ آہستہ ان کے بعد مسلمان ہوتے گئے اور ان سب نے پورے خلوص کے ساتھ اسلام کے قوانین کی پابندی کی۔ پہلے گروہ کو صحابہ اور دوسرے کو تابعین کہیں گے اور بعض نے قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کو ان میں شامل کیا ہے۔ دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ غزوئہ تبوک کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیات 100 تا 110
اسرار و معارف
سابقون الا ولون
بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔
اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے…
Read the full tafseer →ف 7 اوپر ان منافقین کا ذکر فرمایا جو غزوہ تبوک میں بوجہ نفاق پیچھے رہ گئے تھے۔ اب ان لوگوں کا ذکر فرمایا جو غلطی اور سستی سے غزوہ میں شرکت نہیں کرسکے ورنہ وہ حقیقت میں منافق نہیں تھے (ابن کثیر) یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرلیا
8 ۔ یعنی مسلمان ہونے کے بعد نماز روزہ بھی کرتے رہے جہاد میں بھی شریک رہے مگر اب یہ غلطی ہوگئی کہ غزوہ تبوک میں نہ نکلے۔ (قرطبی)
9 ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ آیت ابولبابہ اور ان کے ساتھیوں کے حق میں نازل ہوئی ہے وہ سچے مسلمان تھے اس لیے جب آنحضرت ﷺ غزوہ سے واپس تشریف لے آئے تو انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →(9:102) اخرون۔ دوسرے لوگ۔ اور لوگ۔ اخر کی جمع ہے۔ یعنی منافقوں کے علاوہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا (اور اپنے کئے پر نادم ہوئے کہ وہ کیوں جہاد کے لئے جنگ تبوک میں شامل نہ ہوئے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 102
حولکم (تمہارے اردگرد، آس پاس) مردوا (اڑے ہوئے ہیں (مرتین (دو مرتبہ) یردون (لوٹائے جائیں گے) اخرون (کچھ دوسرے لوگ) اعترفوا (انہوں نے اقرار کیا خلطوا (وہ مل گئے، ملایا) سیء (برائی، گناہ) ان یتوب (یہ کہ وہ توبہ کرے گا)
تشریح : آیت نمبر 101 تا 102
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر ان منافقین کا ذکر کیا ہے جو دیہات اور شہر مدینہ میں رہ کر بھی ایمان کی دولت سے محروم اور نفاق کے مرض میں مبتلا تھے۔ ان میں سے بعض تو وہ تھے جن کے اعمال، اخلاق اور کردار کا پردہ چاک ہوچکا تھا اور اہل ایمان بھی ان کو پہچاننے لگے تھے لیکن بعض ایسے چالاک اور عیار تھے کہ ان کی سازشوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
صدقہ خیرات کا حکم
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ جس گروہ صحابہ نے اپنے قصور کا اقرار کر کے آنحضرت ﷺ کے تبوک کے سفر سے مدینہ واپس آنے سے پہلے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ دیا، جب حضور ﷺ تشریف لائے اور انہیں ملاحظہ کیا تو فرمایا یہ کون ہیں۔ عرض کیا گیا یہ وہ لوگ ہیں جو جہاد میں حاضر ہونے سے رہ گئے تھے، انہوں نے اللہ سے عہد کیا ہے کہ یہ اپنے آپ کو نہ کھولیں گے جب تک حضور ﷺ ان سے راضی ہو کر انہیں خود نہ کھولیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں انہیں نہیں کھولوں گا نہ ان کا عذر قبول کروں گا، جب تک کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان کے کھولنے کا حکم نہ دیا جائے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور حضور ﷺ نے انہیں کھولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–105
[56] غزوہ تبوک میں ساتھ نہ جانے والوں میں علاوہ منافقین کے کچھ مومنین بھی تھے جو محض کاہلی کی بناء پر پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ اپنی غفلت و کوتاہی پر اس درجہ نادم تھے کہ جب ان کو رسول اللہ ﷺ کی واپسی کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا کہ رسول اللہ ﷺ کھولیں گے تو خیر ورنہ یوں ہی ختم ہوجائیں گے۔ یہاں انہی لوگوں کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
(ف 2) غزوہ تبوک سے تحلف کرنے والوں میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو سخت نادم تھے ابو لبابہ ؓ اور اس کے ساتھیوں نے تعزیرا اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ باند لیا ، اور کھانا پینا ترک کردیا ، حضور جنگ سے جب لوٹے تو لوگوں نے درخواست کی انکو معاف فرما دیجئے ، یہ اب نادم ہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا تب تک اللہ ان کی معذرت کو قبول نہ فرما دے میں کسی طرح ان سے خوش ہو سکتا ہوں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ، غرض یہ ہے کہ اظہار ندامت کے بعد گناہ دھل جاتے ہیں اور اللہ اپنے کرم سے معاف کردیتا ہے ۔
(آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “۔ سے مقصود یہ ہے کہ مال و دولت کی وجہ سے یہ لوگ رکے رہے اور میدان جہاد میں نہیں جاسکے اس…
Read the full tafseer →102 اور کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کرلیا انہوں نے کچھ اچھے اور کچھ برے ملے جلے کام کئے ایسے لوگوں کے لئے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائے کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت والا نہایت مہربان ہے۔
یہ ان مخلص مسلمانوں کا ذکر ہے جو محض کاہلی کی وجہ سے غزوئہ تبوک میں شریک نہ ہوسکے انہوں نے آنے کے بعد معذرت کی اور اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا اچھے کام یہ کہ خطا کا اعتراف کیا برا کام یہ کہ غزوہ سے تخلف کیا جب ان کو توبہ کی بشارت مل گئی تو انہوں نے اپنے مال کا کچھ حصہ بطور صدقہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کرنا چاہا حضور ﷺ نے انکار کیا اس پر آگے کی آیت نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
ف 1۔ ان کو اور منافقین سے بڑھا ہوا اس لیے فرمایا کہ مدار نفاق کے نفاق ہونے کا اخفا ہے اور یہ اس میں ایسے بڑھے ہوئے ہیں کہ باوجودیکہ رسول اللہ ﷺ کا ذکاوت وفطانت میں تمام جہاں سے اکمل ہیں مگر انہوں نے آپ کو بھی پتہ نہ چلنے دیا۔
Read the full tafseer →ملے جلے اعمال والوں پر بھی اللہ تعالیٰ اپنا خاص فضل و کرم کرے گا :
133: ان منافقین میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل تھے جو منافق تو نہ تھے لیکن منافقت کے چکر میں آگئے تھے یا دنیاوی کاروبار نے ان کو کافی حڈ تک سست کردیا تھا اور وہ کاہلی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے اب اس جگہ بیان ان ہی لوگوں کا شروع ہورہا ہے۔ ان میں بھی پھر کچھ ایسے تھے جنہیں ندامت اس درجہ قوی تھی کہ انہوں نے جب آپ ﷺ کی واپسی کی خبر سنی تو اپنے آپ کو مسجد نبوی ﷺ کے ستونوں سے باندھ لیا تھا کہ آپ ﷺ کھولیں گے تو خیر ورنہ اسی طرح ختم ہوجائیں گے اور اس جگہ پہلے ذکر ایسے ہی نادمین تابعین کا شروع ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جن میں گناہ کا ملکہ ہی…
Read the full tafseer →Commentary
When Muslims were given a general call for Jihad at Tabuk, the weather was extremely hot. The journey was long and they were supposed to be up against the trained army of a big state, the first such episode in Islamic history. These were some of the causes why people split into different groups.
The first group was that of sincere Muslims who got ready for Jihad without any hesitation at the very first call. Another group first hesitated initially, then joined in. They are the ones mentioned in: اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →