منافقت کے خوگر شہری
اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ کو بتلاتا ہے کہ " مدینے کے اردگرد رہنے والے گنواروں میں اور خود اہل مدینہ میں بہت سے منافق ہیں۔ جو برابر اپنے نفاق کے خوگر ہوچکے ہیں "۔ تمرد فلان علی اللہ اس وقت کہتے ہیں جب کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی اور نافرمانی کرے۔ پھر فرماتا ہے کہ تم تو انہیں جانتے نہیں ہم جانتے ہیں۔ اور آیت میں ہے ـ" اگر ہم چاہیں تو تجھے اور ان کو دکھا دیں اور تو ان کی علامات اور چہروں سے انہیں پہچان لے۔ یقینا تو انہیں انکی باتوں کے لب و لہجے سے جان لے گا۔ " غرض ان دونوں آیتوں میں کوئی فرق نہ سمجھنا چاہیے۔ نشانیوں سے پہچان لینا اور بات ہے اور اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
سورة التَّوْبَة 97
یعنی اپنے نفاق کو چھپانے میں وہ اتنے مشاق ہوگئے ہیں کہ خود نبی ﷺ بھی اپنی کمال درجے کی فراست کے باوجود ان کو نہیں پہنچان سکتے تھے۔
سورة التَّوْبَة 98
دوہری سزا سے مراد یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ دنیا جس کی محبت میں مبتلا ہو کر انہوں نے ایمان و اخلاص کے بجائے منافقت اور غداری کا رویہ اختیار کیا ہے، ان کے ہاتھ سے جائے گی اور یہ مال و جاہ اور عزت حاصل کرنے کے بجائے الٹی ذلت و نامرادی پائیں گے۔ دوسری طرف جس مشن کو یہ ناکام دیکھنا اور اپنی چال بازیوں سے ناکام کرنا چاہتے ہیں وہ ان کی خواہشوں کو کوششوں کے علی الرغم ان کی آنکھوں کے سامنے فروغ پائے گا۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور کچھ تمہارے گرد و پیش والوں میں اور کچھ مدینہ والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق کی حد کمال پر (ایسے) پہنچنے ہوئے ہیں (کہ) آپ (بھی) ان کو نہیں جانتے (کہ یہ منافق ہیں بس) ان کو ہم ہی جانتے ہیں ہم ان کو (دوسرے منافقین کی نسبت آخرت سے پہلے بھی) دوہری سزا دیں گے (ایک نفاق کی دوسرے کمال نفاق کی اور) پھر (آخرت میں بھی) وہ بڑے بھاری عذاب (یعنی جہنم مع خلو و دائمی) کی طرف بھیجے جاویں گے۔
معارف و مسائل
سابقہ بہت سی آیات میں ان منافقین کا ذکر آیا ہے جن کا نفاق ان کے اقوال و افعال سے ظاہر ہوچکا تھا اور رسول اللہ ﷺ پہچانتے تھے کہ یہ منافق ہیں، اس آیت میں ایسے منافقین کا ذکر ہے جن کا نفاق…
Read the full tafseer →وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ۔ منافقین کی نشان دہی : یہ منافقین کی نشان دہی ہے۔ فرمایا کہ بدوؤں میں بھی بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح اہل مدینہ میں بھی ایک گروہ منافقوں کا ہے۔ یہ لوگ محض اپنے اغراض و مفاد کے لیے مسلمانوں میں گھسے ہوئے ہیں اور نفاق میں یہ اتنے منجھے ہوئے ہیں کہ تمہارے لیے ان کا پہچاننا مشکل ہے۔ اللہ ہی ان سب سے واقف ہے۔ مرد علی النفاق، مرن واستمر علیہ، یعنی یہ نفاق میں نہایت شاطر، مشاق…
Read the full tafseer →11۔ 1 مرد اور تمرد کے معنی ہیں نرمی ملائمت (چکناہٹ) اور تجرد۔ چناچہ اس شاخ کو جو بغیر پتے کے ہو، وہ گھوڑا جو بغیر بال کے ہو، وہ لڑکا جس کے چہرے پر بال نہ ہوں، ان سب کو اَ مْرَدُ کہا جاتا ہے اور شیشے کو صَرْح مُمَرَّد اَیْ مُجَرَّدً کہا جاتا ہے
(مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ) گویا انہوں نے نفاق کے لئے اپنے آپ کو خالص اور تنہا کرلیا، یعنی اس پر ان کا اصرار ہمیشہ رہنے والا ہے
11۔ 2 کتنے واضح الفاظ میں نبی سے علم غیب کی نفی ہے۔ کاش اہل بدعت کو قرآن سمجھنے کی توفیق نصیب ہو۔
11۔ 3 اس سے مراد بعض کے نزدیک دنیا کی ذلت و رسوائی اور پھر آخرت کا عذاب ہے اور بعض کے نزدیک دنیا میں ہی دوہری سزا ہے۔
Read the full tafseer →76: پہلے جن دیہاتیوں کا ذکر آیا تھا وہ مدینہ سے دور رہتے تھے اب ان دیہاتیوں کا ذکر ہے جو مدینہ منورہ کے آس پاس رہتے تھے اور خود مدینہ منورہ کے باشندوں میں ان منافقین کا جن کا نفاق آنحضرت ﷺ کو بھی معلوم نہیں تھا۔
77: دو مرتبہ سزا دینے کی تشریح مختلف طریقوں سے کی گئی ہے صحیح مراد تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ؛ لیکن بظاہر ایک سزا تو یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی شکست کی جو آس لگائی ہوئی تھی وہ پوری نہ ہوئی اور مسلمان غزوہ تبوک سے صحیح و سلامت واپس آگئے، یہ بذات خود ان منافقوں کے لئے ایک سزا تھی اور دوسرے بہت سے منافقوں کا نفاق کھل گیا اور ان کو دنیا ہی میں ذلت اٹھانی پڑی۔
Read the full tafseer →اس سے قبل منافقین کے بارے میں عمومی بات ہوچکی ہے اور ان کے احوال کا انکشاف کردیا گیا ہے ان کا علق اہل مدینہ سے بھی تھا اور اہل مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے بدوی منافقین سے بھی تھا۔ یہاں منفقین کی ایک خاص صنف کا تذکرہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہنر نفاق میں طاق ہوگئے ہی اور اس آرٹ میں انہوں نے بہت ہی اچھا تجربہ حاصل کرلیا ہے۔ یہ عمل نفاق میں ڈوب چکے ہیں اور وہ اس قدر فنکار بن گئے ہیں کہ خود رسول اللہ ﷺ اپنی پیغمبرانہ بصیرت کے باوجود ان کو نہیں پہچان سکے حالانکہ آپ نے اس دور تک ان کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کرلی تھیں اور تجربات کے ایک طویل دور سے گزر چکے تھے۔
اللہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے منافقین…
Read the full tafseer →3 پہلے سے دیہاتی عربوں کا ذکر چلا آرہا تھا۔ درمیان میں اعراب مومنین کے تذکرہ سے مہاجرین و انصار کی طرف کلام منتقل ہوگیا اب اس آیت میں خاص " مدینہ " اور اس کے آس پاس رہنے والوں کا بیان ہے یعنی بعض اہل مدینہ اور گردو پیش کے رہنے والے نفاق کے خوگر ہوچکے اور اسی پر اڑے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ نفاق اس قدر عریق و عمیق ہے کہ ان کے قرب مکانی اور نبی کریم ﷺ کی کمال فطانت و فراست کے باوجود آپ بھی بالتعیین اور قطعی طور پر محض علامات و قرائن سے ان کے نفاق پر مطلع نہیں ہو سکے ان کا ٹھیک ٹھیک تعین صرف خدا کے علم میں ہے۔ جس طرح عام منافقین کا پتہ چہرہ لب و لہجہ اور بات چیت سے لگ جاتا تھا (وَلَوْ نَشَاۗءُ…
Read the full tafseer →آیت 101 وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ط وَمِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِقف مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ قف
یہ وہ لوگ ہیں جن کے نفاق کا مرض اب آخری مرحلے میں پہنچ کر لا علاج ہوچکا ہے اور اب اس مرض سے ان کے شفایاب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ منافقت کے مرض کی بھی ٹی بی کی طرح تین stages ہوتی ہیں۔ جھوٹے بہانے بنانا اس مرض کی ابتدا ہے ‘ جبکہ بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانا دوسری سٹیج کی علامت ہے ‘ اور جب یہ مرض تیسری اور آخری سٹیج میں پہنچتا ہے تو اس کی واضح علامت منافقین کی اہل ایمان کے ساتھ ضد اور دشمنی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اہل ایمان تو دین کے تمام مطالبات خوشی خوشی…
Read the full tafseer →114 مدینہ کے چالاک منافقین :۔ یعنی وہ اس قدر ہوشیار اور چالاک ہیں اور ان کا نفاق اتنا گہرا اور پراسرار ہے کہ وہ اپنی منافقت کو ظاہر نہیں ہونے دیتے تاہم اپنی منافقت پر پوری مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ عام مسلمان انہیں پکے مسلمان ہی سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ اپنی پیغمبرانہ فراست کے باوجود انہیں نہیں جانتے۔ ان کے نفاق کو بس اللہ ہی جانتا ہے جو دلوں کے ارادوں اور رازوں تک سے واقف ہے۔
115 منافقوں کو دو سزائیں :۔ دو مرتبہ عذاب سے مراد اگر جنس عذاب لیا جائے تو ایک دنیا کا عذاب ہوگا۔ دوسرا عالم برزخ کا اور یہ دونوں قیامت کے بڑے عذاب سے پہلے انہیں بھگتنا ہوں گے اور اگر دنیا کے عذاب ہی مراد لیے جائیں تو ایک…
Read the full tafseer →186۔ ( اور اے حدکمال تک پہنچا دیا ہے) اے اقاموا علیہ ولم یتوبوا (ابن جریر۔ عن ابن زید) اے ثبتوا واستمروا فیہ ولم یتوبوا عنہ (کبیر) اے تمھروافیہ (کشاف) (آیت) ” ممن حولکم “۔ تمہارے گردو پیش “ یعنی تمہارے شہر کے گردو پیش، یعنی حول بلدتکم وھی المدینۃ (کشاف۔ مدارک)
187۔ (آیت) ” لا تعلمھم “ یعنی ان کا نفاق اس حد کمال کو پہنچا ہوا ہے، اس قدر خفی ہے کہ آپ ﷺ کو بھی، بایں فطانت وذکاوت و کمال باخبری، ان کے منافق ہونے کا علم نہیں، اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کی صریح نفی موجود ہے۔ جس کا دعوی ہمارے زمانہ کے بعض عالم نما جاہلوں نے کیا ہے۔ ووردت الایۃ فی نفی علم الغیب عن رسول اللہ ﷺ صریحا (تھانوی) کشف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیت نمبر 100 تا 110
ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے…
Read the full tafseer →وممن حولکم من الاعراب منافقون اور تمہارے آس پاس (اطراف مدینہ میں) رہنے والے بدویوں میں کچھ لوگ منافق ہیں۔ ان سے مراد ہیں قبائل مزینہ ‘ جہنیہ ‘ اشجع ‘ اسلم اور غفار کے منافق لوگ۔ ابن المنذر نے عکرمہ کے حوالہ سے یہی قول نقل کیا ہے۔ ان قبائل کی قیام گاہیں مدینہ کے گرداگرد تھیں ‘ جن میں سے بعض لوگ منافق بھی تھے۔ ممّن کا مِنْ تبعیضیہ اسی پر دلالت کر رہا ہے۔ احادیث مندرجۂ بالا میں قبائل مذکورہ کی جو تعریف و توصیف آئی ہے ‘ اس سے اس آیت کا تعارض نہیں ہوتا کیونکہ آیت میں بعض کو منافق کہا گیا ہے (اور احادیث مذکورہ میں ان قبائل کی تعریف اکثریت کے لحاظ سے کی گئی ہے) ۔
ومن اھل المدینۃ اور مدینے والوں میں…
Read the full tafseer →(101) اور قبیلہ اسد وغطفان کے کچھ لوگ اور مدینہ والوں میں سے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ایسے منافق ہیں کہ جو نفاق کی آخری حدوں کو پہنچے ہوئے ہیں اور اس پر ثابت قدم ہیں، آپ بھی ان کے نفاق کو نہیں جانتے، ان کے نفاق کو بس ہم ہی جانتے ہیں ہم ان کو ایک بار ان کی جانیں قبض کرنے کے وقت اور دوسری بار ان کو عذاب قبردیں گے پھر یہ عذاب جہنم کی طرف بھیجے جائیں گے۔
Read the full tafseer →وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ : پہلے اعراب (بدوی) منافقین کا ذکر فرمایا، پھر اعراب میں سے مخلصین کا تذکرہ کیا۔ ان کے بعد سابقین مہاجرین و انصار اور ان کے پیچھے آنے والے صاحب احسان لوگوں کو خوش خبری دی اور ان کے لیے بلند مراتب کا بیان فرمایا (ان کا تذکرہ سورة جمعہ کی ابتدائی آیات میں بھی فرمایا ہے) اب ان ضمنی مباحث کے بعد پھر منافقین کے ایک گروہ کا ذکر فرمایا جو مدینہ اور اس کے ماحول میں رہتے ہوئے اپنے نفاق میں ”مَرَدُوْا“ اتنے مشاق اور ماہر ہوگئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی تیز ترین فراست اور قوی ترین اندازے کے باوجود ان سب کو معین طور پر نہیں پہچان سکے، گو بعض کو ان کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 101۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وممن حولکم من الاعراب منفقون “۔ یہ مبتدا اور خبر ہے، یعنی قوم منافقون “۔ اور یہ مزینہ، جہینہ، اسلم غفار اور اشجع کے قبائل تھے (1) (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 396)
(آیت) ” ومن اھل المدینہ مردوا علی النفاق “۔ رہی قوم (آیت) ” مردوا علی النفاق “۔ (یعنی اہل مدینہ میں سے ایک قوم ہے جو نفاق پر پکے ہوگئے ہیں) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مردوا منافقین کی نعمت میں سے ہے پس کلام میں تقدیم وتاخیر ہوگی، اس کا معنی ہوگا : ومن حولکم من الاعراب منافقون مردوا علی النفاق، ومن اھل المدینۃ مثل ذالک “۔ (تمہارے آس پاس بسنے والے دیوتیوں سے کچھ منافق ہیں جو نفاق پر پکے ہوگئے ہیں اور…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے الاوسط میں وابو الشیخ وابن جریر رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وممن حولکم من الاعراب منفقون “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے فلانے اے فلانے کھڑا ہوجا اور نکل جا بیشک تو منافق ہے (اس طرح) ان کو ان کے ناموں کے ساتھ باہر نکال دیا۔ اور ان کو خوب رسوا کیا اس جمعہ میں عمر بن خطاب ؓ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے حاضر نہیں تھے عمر ؓ ان سے ملے اور وہ لوگ مسجد سے نکل رہے تھے اور اس حیا کے سبب ان سے چھپنے لگے کہ آپ اس جمعہ میں حاضر نہیں تھے اور آپ نے لوگوں کے بارے میں یہ گمان کیا کہ یہ لوگ جھوٹ بول کر…
Read the full tafseer →وَمِمَّنْ [ اور ان میں سے ] حَوْلَكُمْ [ تمہارے اردگرد ] مِّنَ الْاَعْرَابِ [ دیہاتیوں میں سے ] مُنٰفِقُوْنَ ړ [ (وہ ) منافق ہیں ] وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ [ اور مدینہ والوں میں سے ] مَرَدُوْا [ جو اڑے رہے ] عَلَي النِّفَاقِ ۣ [ نفاق پر ] لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ [ آپ نہیں جانتے ان کو ] نَحْنُ [ ہم ] نَعْلَمُھُمْ ۭ [ جانتے ہیں ان کو ] سَنُعَذِّبُھُمْ [ ہم عذاب دیں گے ان کو ] مَّرَّتَيْنِ [ دو مرتبہ ] ثُمَّ [ پھر ] يُرَدُّوْنَ [ وہ لوٹائے جائیں گے ] اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم عذاب کی طرف ]
نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 101 میں ہے کہ ایسے منافق جو نفاق میں بہت آگے جا چکے ہیں ۔ انھیں عذاب عظیم یعنی دوزخ…
Read the full tafseer →مدینہ منورہ اور آس پاس کے دیہات میں رہنے والے منافقین کا تذکرہ
اس آیت میں بتایا ہے کہ مدینہ منورہ کے آس پاس رہنے والے دیہاتیوں میں منافقین ہیں صاحب معالم التنزیل نے اس سلسلہ میں بنی مزینہ و بنی جھینہ وغیر ہم کے نام لکھے ہیں اور یہ فرمایا کہ اہل مدینہ میں سے بھی بعض لوگ منافق ہیں اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اوس اور خزرج میں منافق تھے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ منافقت پر مصر ہیں۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے ہیں (جو لوگ مدینہ منورہ میں رہتے ہیں وہ صرف مدینہ منورہ ہی میں رہنے کو سب کچھ نہ سمجھیں اپنے ایمان و اعمال کی بھی خبر لیں۔ اب بھی مدینہ منورہ میں خاصی تعداد میں روافض ہیں۔ اور دجال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–105
زعماء منافقین کا ذکر
قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ وممن حولکم من الاعراب منافقون۔۔ الی۔۔۔ عذاب عظیم۔
(ربط): اوپر کی آیت میں اعیان مومن ین۔ یعنی مومنین کاملین کا ذکر تھا اب اس آیت میں زعماء منافقین کا ذکر ہے جو مدینہ میں اور مدینہ کے آس پاس رہتے تھے اور سرتاپا نفاق میں غرق تھے اور فن نفاق میں ایسے ماہر وحاذق اور پختہ تھے کہ نبی اکرم ﷺ باوجود کمال فراست کے ان کے نفاق پر مطلع نہ ہوسکے چناچہ مردوا علی النفاق کے بعد جو لفظ لا تعلمھم بڑھایا گیا وہ اسی طرف اشارہ ہے اعیان مومنین کے ذکر کے بعد اعیان منافقین کا ذکر نہایت مناسب ہے جس طرح مہاجرین اور انصآر کو ہجرت اور نصرت میں سبقت اور اولیت کا شرف حاصل تھا اسی…
Read the full tafseer →97:“ وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ الخ ” یہ مدینہ منورہ اور اس کے گرد و نواح کے منافقین کا ذکر ہے۔ “ لَا تَعْلَمُھُمْ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ” اس میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے۔ وہ نفاق اور اخفاء حال میں اس قدر ماہر اور چابکدست ہیں کہ آپ کو ان کے نفاق کا علم تک نہیں لیکن اللہ ان کو خوب جانتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہحضور ﷺ کو کلی غیب کا علم نہیں تھا۔ “ یعنی انھم بلغوا من المھارة فی النفاق والتنوق فی مراعاة التقیة والتحامی عن مواقع التھمة الی حیث یخفی علیک مع کمال فطنتک و صدق فراستک حالھم ” (روح ج 11 ص 12) ۔
98:“ سَنُعَذِّبُھُمْ الخ ” یہ منافقین کے لیے تخویف دنیوی و اخروی ہے۔ دو دفعہ کے عذاب سے دنیا میں قتل یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
ربط آیات :
غزوہ تبوک کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ گذشتہ درس میں شہری منافقوں کے ساتھ ساتھ دیہاتی منافقوں کی بھی خدمت بیان ہوئی اور فرمایا کہ دیہات میں بعض مخلص مومن بھی رہتے ہیں جن کی اللہ نے تعریف بیان کی اور ان کے انعامات کا ذکر کیا۔ اب آج کی پہلی آیت اپنا الگ مضمون رکھتی ہے اور اس کے بعد پھر منافقین کی مذمت کا سلسلہ شروع ہو جات ہے۔ اس درمیانی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نیکی میں سبقت کرنے والے مخلص مہاجرین اور انصار کا ذکر کیا ہے اور باقیوں کے لیے انہیں بطور نمونہ پیش کیا ہے حاصل مقصد یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں دین کی اقامت کے لیے اس جماعت کو مرکزیت حاصل ہے۔ باقی لوگ ان کے…
Read the full tafseer →وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ 0 ۭ ۛ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَۃِ 0 ۣ ۛؔ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ 0 ۣ لَاتَعْلَمُھُمْ 0 ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ 0 ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ 101 ۚ
حول
أصل الحَوْل تغيّر الشیء وانفصاله عن غيره، وباعتبار التّغيّر قيل : حَالَ الشیء يَحُولُ حُؤُولًا، واستحال : تهيّأ لأن يحول، وباعتبار الانفصال قيل : حَالَ بيني وبینک کذا، وقوله تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24]
( ح ول ) ' الحوال
( ن ) دراصل اس کے معنی کسی چیز کے متغیر ہونے اور دوسری چیزوں سے الگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–104
ترکیب : منافقون مبتداء وممن خبر مقدم ‘ مردوا اس کی صفت ومن اھل المدینۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای ومن اھل المدینۃ قوم کذلک لا تعلمہم صفت ثانیہ وآخرون معطوف ہے منافقوں پر اور ممکن ہے کہ مبتداء ہو اور اعترفوا صفت وخلطوا خبر وآخر معطوف ہے عملا پر۔
تفسیر : باہر کے گنواروں ہی پر کچھ موقوف نہیں کہ وہ منافق اور حیلہ باز ہیں بلکہ بعض اہل مدینہ اور مدینہ کے آس پاس کے گنوار جن کو کہ آنحضرت ﷺ کا وعظ و پند سننا بھی ممکن ہے اور اہل اسلام سے پیشتر میل جول رکھتے ہیں ٗ مردوا علی النفاق نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اور اس فن میں ایسے چالاک ہیں کہ باوجود فراست تامہ کے اے نبی ! ان سے تم واقف بھی نہیں ہاں ہم ان کو جانتے…
Read the full tafseer →وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰـفقِوْنَ ط َومِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قف مَرَدُوْاعَلَیْ النِّفَاقِ قف لاَ تَعْلَمُھُمْ ط نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ط سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ ج (التوبہ : 101)
(تمھارے گردو پیش بسنے والے دیہاتیوں میں سے کچھ منافق ہیں اور کچھ مدینے کے رہنے والوں میں سے جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں تم ان کو نہیں جانتے ہم انہیں جانتے ہیں ہم عنقریب ان کو عذاب دیں گے دو مرتبہ پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف۔ )
” مَرَدَ “ کا معنی ہے پختہ ہوجانا طاق ہوجانا مشاق اور ماہر ہوجانا۔ سابقہ آیات میں ان منافقین کا ذکر کیا گیا ہیں جو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
فہم القرآن
ربط کلام : منافقین کے دوسرے اور تیسرے طبقہ کا ذکر، مدینہ کے منافقین کا ذکر کرنے کے بعد اب ان منافقین کا بیان ہوتا ہے جو مدینہ اور اس کے مضافات میں رہتے تھے۔
مومنوں کے اعلیٰ طبقات بیان کرنے کے بعد منافقین کے اس گروہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو مدینہ اور اس کے مضافات میں رہنے کی وجہ سے ہر وقت مسلمانوں کے ساتھ جڑے رہتے تھے لیکن حقیقتاً پکے منافق تھے مگر تمام کام مسلمانوں جیسے کرتے اور ہر کام میں مسلمانوں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے۔ اس وجہ سے عام مسلمان ان کے اصلی کردار سے ناواقف تھے۔ یہ منافق مسلمانوں کے لیے آستین کے سانپ تھے۔ جنہیں پہچاننا عام مسلمانوں کے بس کی بات نہیں تھی اس لیے یہ…
Read the full tafseer →مدینہ کے گرد و پیش کے منافق :
آیت 101: وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ (اور ان لوگوں میں سے جو تمہارے گردوپیش ہیں) یعنی مدینہ کے اردگرد مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ (یعنی بددوں میں سے کچھ منافق ہیں) وہ جہینہ، اسلم، اشجع، غفار، کے منافق لوگ ہیں۔ یہی مدینہ کے اطراف میں آباد تھے۔ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ (اور مدینہ کے رہنے والوں میں سے بھی) اس کا عطف مِمَّن حَوْلَکُمْپر ہے جو مبتداء کی خبر ہے۔ جبکہ تقدیر عبارت یہ مانیں ومن اہل المدینۃ قوم مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ (وہ نفاق کی حد کمال پر پہنچے ہوئے ہیں) اسمیں ماہر ہیں یہ اس صورت میں معنی ہے جبکہ مردوا کو محذوف کی صفت مانا جائے اور پہلی صورت میں۔…
Read the full tafseer →تفسیر 101: ” وممن حولکم من الاعراب منفقون “ اور یہ مزینہ ‘ جہینہ ‘ اشجع ‘ اسلم اور غفار کے لوگ ہیں ان کے گھر مدینہ کے ارد گرد تھے۔
” ومن اھل المدینۃ “ یعنی اوس اور خزرج مدینہ کے ہیں ان میں میں سے بھی منافق ہیں۔” مردوا علی النفاق یعنی نفاق پر سرکشی کی لا تعلمھم آپ اے محمد ﷺ ط نحن نعلمھم ط سنعذبھم مرتین “ ان دونوں عذابوں کی تعیین میں اختلاف ہے۔ کلبی سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فلاں تو نکل جا کیونکہ تو منافق ہے تو کئی لوگوں کو مسجد سے نکال دیا اور ان رسوا کیا۔ تو یہ پہلا عذاب ہے اور دوسرا قبر کا عذاب ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →101۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت رسول خدا ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ پڑھتے پڑھتے چار پانچ آدمیوں کو فرمایا کہ تم منافق ہو نکل جاؤ۔ حضرت عمر ؓ آرہے تھے ان لوگوں کو مسجد سے آتے ہوئے دیکھ کر سمجھے کہ نماز ہوچکی اور چھپ گئے ان لوگوں نے بھی حضرت عمر ؓ کو دیکھ لیا تھا وہ یہ سمجھ کر چھپ گئے کہ ان پر ہمارا حال ظاہر ہوگیا۔ جب حضرت عمر ؓ مسجد میں پہنچے تو دیکھا کہ ابھی جماعت نہیں ہوئی ہے ایک شخص نے بڑھ کر کہا کہ آج تو منافق بہت ذلیل ہوئے خدا نے ان کو مسجد سے نکلوا دیا حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک عذاب تو یہی ہے کہ مسلمانوں کی مسجد سے یہ لوگ نکالے گئے بھری محفل میں رسوائی ہوئی اور دوسرا عذاب…
Read the full tafseer →آیت (101)
(وممن حولکم من الاعراب منفقون و من اھل المدینہ) ” اور تمہارے گرد رہنے والے گنواروں میں سے بعض منافق ہیں اور بعض مدینے والوں میں سے “ یعنی مدینہ میں بھی منافقین موجود ہیں (مردواعلی النفاق) ” اڑے ہوئے ہیں وہ نفاق پر “ یعنی نفاق کے عادی ہیں اور نفاق میں ان کی سرکشی بڑھتی جا رہی ہے (لا تعلمھم) ” آپ ان کو نہیں جانتے۔ “ یعنی آپ ان کے اعیان کو نہیں جانتے کہ آپ ان کو سزا دے سکیں یا ان کے نفاق کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کرسکیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت پنہاں ہے۔ (نحن نعلمھم سنعذبھم مرتین) ” ہم ان کو جانتے ہیں ‘ ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے۔ “ اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ ”…
Read the full tafseer →قول باری ہے وممن حولکم من الاعراب منافقون ومن اھل المدینۃ مردوا علی النفاق لا تعلمھم نحن نعلمھم سنعدبھم مرتین اور تمہارے گردو بیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں ۔ تم انہیں نہیں جانتے ہم ان کو جانتے ہیں قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے۔ حسن اور قتادہ کا قول کے دوہری سزا سے مراد دنیا اور قبر کا عذاب ہے ثم یردون الی عذاب عظیم اور پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔ اور اس سے جہنم کا عذاب مراد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ایک سزا وہ ہے جو دنیا میں ذلت اور رسوائی کی صورت میں ملنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
188 کچھ منافقوں کو پیغمبر بھی نہیں جان سکتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے آس پاس کے دیہاتیوں میں بھی بہت سے منافق ہیں اور خود اہل مدینہ کے اندر بھی۔ سو کچھ منافق ایسے پکے اور اس قدر منجھے ہوئے ہیں کہ ان کو آپ بھی اے پیغمبر نہیں جان سکتے بلکہ ان کو ہم ہی جانتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے کفر و نفاق اور مکاری و عیاری میں ایسے ماہر ہوگئے ہیں کہ آپ ﷺ بھی اے پیغمبر ﷺ باوجود اپنی اعلیٰ درجے کی زیرکی و فراست اور عظیم الشان فہم و ادراک کے ان کو نہیں جان سکتے۔ ان کو ہم ہی جانتے ہیں۔ ( روح، صفوہ، ابن کثیر اور معارف وغیرہ) ۔ سو اس آیت کریمہ سے اہل بدعت کے علم غیب کلی کے شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ والحمد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
مہاجرین اور انصار صحابہ کے لیے خوشخبری اور منافقوں کے لیے عذاب
تشریح : پچھلی آیات میں دیہاتی مومنین کا ذکر تھا اب یہاں تمام مخلص مومنین کا ذکر ہے اور پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو نبی اکرم ﷺ کی آواز پر فوراً مسلمان ہوگئے (جن میں مہاجرین وانصار شامل ہیں) اور کچھ نیک نیتی سے آہستہ آہستہ ان کے بعد مسلمان ہوتے گئے اور ان سب نے پورے خلوص کے ساتھ اسلام کے قوانین کی پابندی کی۔ پہلے گروہ کو صحابہ اور دوسرے کو تابعین کہیں گے اور بعض نے قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کو ان میں شامل کیا ہے۔ دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ غزوئہ تبوک کے لیے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–110
آیات 100 تا 110
اسرار و معارف
سابقون الا ولون
بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔
اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے…
Read the full tafseer →ف 4 پہلے منافقین اعراب (بدویوں) کا ذکر فرمایا پھر اعراب میں سے مخلصین کا تذکرہ کیا۔ ان کے بعد مہاجرین و انصار کو خوش خبری دی اور انکے لیے بلند مراتب کا بیان فرمایا۔ اب ان ضمنی مباحث کے بعد پھر منافقین کا تذکرہ شروع کیا جو مدینہ اور اس کے ماحول میں رہتے ہوئے اپنے نفاق میں اتنے مشاق اور ماہر ہوگئے ہیں کہ آں حضرت ﷺ باوجود اپنی فراست نافذہ اور قوت حدس کے ان سب کو معین طور پر نہیں پہچان سکتے گو بعض کو ان کے لہجے اور دوسری علامات سے پہچانتے ہوں۔ (دیکھیے سورة محمد آیت 30) لہذا جن روایات میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بعض منافقین کے نام بھی حضرت حذیفہ کو بتا دئیے تھے وہ اس آیت کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہاں…
Read the full tafseer →(9:101) وممن حولکم من الاعراب منفقون۔ ای ومن من حولکم من الاعراب منفقون۔ اور ان اعراب میں سے جو تمہارے اردگرد بستے ہیں کچھ منافق ہیں ۔ ومن اہل المدینۃ۔ یہ وقف معانقہ کی صورت ہے۔
اگر علامت اول : پر وصل کیا جاوے اور علامت ثانی پر وقف کیا جائے تو اس کا عطف ممن حولکم پر ہوگا۔ اور مردوا علی النفاقصفت ہوگی منافقون کی اور تقدیر کلام یوں ہوگی ومن حولکم من الاعراب ومن اہل المدینۃ منافقون مردوا علی النفاق (اور تمہارے اردگرد یعنی مدینہ کے اردگرد بسنے والے بدوؤں میں سے اور اہل مدینہ میں سے کچھ منافق ہیں جو پکے ہوگئے ہیں نفاق میں
اور اگر علامت اول پر وقف کیا جائے اور علامت ثانی پر وصل کیا جائے تو یہ جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 102
حولکم (تمہارے اردگرد، آس پاس) مردوا (اڑے ہوئے ہیں (مرتین (دو مرتبہ) یردون (لوٹائے جائیں گے) اخرون (کچھ دوسرے لوگ) اعترفوا (انہوں نے اقرار کیا خلطوا (وہ مل گئے، ملایا) سیء (برائی، گناہ) ان یتوب (یہ کہ وہ توبہ کرے گا)
تشریح : آیت نمبر 101 تا 102
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر ان منافقین کا ذکر کیا ہے جو دیہات اور شہر مدینہ میں رہ کر بھی ایمان کی دولت سے محروم اور نفاق کے مرض میں مبتلا تھے۔ ان میں سے بعض تو وہ تھے جن کے اعمال، اخلاق اور کردار کا پردہ چاک ہوچکا تھا اور اہل ایمان بھی ان کو پہچاننے لگے تھے لیکن بعض ایسے چالاک اور عیار تھے کہ ان کی سازشوں…
Read the full tafseer →اس آیت میں گنوار منافقوں کے عذاب کا ذکر ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ پڑھتے پڑھتے چار پانچ آدمیوں کو نام بنام فرمایا کہ تم منافق ہو، نکل جاؤ۔ جس سے وہ منافق بہت ذلیل ہوئے۔ خدا نے ان کو مسجد سے نکلوا دیا بھری محفل میں رسوائی ہوئی اور دوسرا عذاب قبر کا عذاب ہے۔ پھر آخرت میں عذاب عظیم ہے۔
Read the full tafseer →[55] یعنی یہ اپنی دوہری استعداد نفاق کی وجہ سے دوہرے عذاب کے مستحق ہوگئے۔ پہلی استعداد یہ کہ منافق ہوئے اور دوسری یہ کہ اس میں کامل ہوگئے۔
Read the full tafseer →(ف 1) تمرد کے معنی سرکشی اور شدت کے ساتھ نافرمانی اور قبائح میں منہمک رہنے کے ہیں یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو نفاق کو ظاہر طور پر انجام دے رہے ہیں ، اور مصر ہیں ، غالبا یہ اس وقت کے بعض لوگوں کی جانب اشارہ ہے ، انہیں ودوگونہ عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ، دنیا میں رسوائی وذلت ، اور عاقبت میں جہنم ، اس لئے انہوں نے عیب کو صواب اور گمراہی کو ہدایت قرار دیا ، معصیت اور کفر پر اڑے رہے ۔
Read the full tafseer →101 اورتمہارے ارد گرد اور آس پاس کے کچھ دیہاتی اور خود مدینہ کے کچھ لوگ ایسے منافق ہیں جو صفتِ نفاق میں پورے ماہر اور کمال کو پہنچے ہوئے ہیں ان ماہر فی النفاق لوگوں سے آپ واقف نہیں ہیں اور آپ ان کو نہیں جانتے مگر ہم ان سب کو جانتے ہیں ہم ان کو قیامت سے پہلے دوہری سزادیں گے پھر وہ قیامت میں بڑے سخت عذاب میں لوٹائے جائیں گے اور بھیجے جائیں گے۔
یعنی وہ نفاق میں ایسا کمال رکھتے ہیں کہ آپ بھی باوجود فطانت اور ذہانت کے ان کی حرکات سے پتہ نہیں چلاسکتے دوہری سزا یا دومرتبہ سزا دیں گے مطلب ایک ہی ہے یعنی نفاق کی سزا کہ ہر وقت اپنے کو سنبھال سنبھال کر رکھنا پڑتا ہے پھر قبر کا عذاب ارد گرد کے لوگ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
ف 1۔ ان کو اور منافقین سے بڑھا ہوا اس لیے فرمایا کہ مدار نفاق کے نفاق ہونے کا اخفا ہے اور یہ اس میں ایسے بڑھے ہوئے ہیں کہ باوجودیکہ رسول اللہ ﷺ کا ذکاوت وفطانت میں تمام جہاں سے اکمل ہیں مگر انہوں نے آپ کو بھی پتہ نہ چلنے دیا۔
Read the full tafseer →وعدہ الٰہی کہ ان منافقین کو ہم دوبارہ عذاب دین گے اور جہنم رسید کردیں گے :
132: اوپر ایمان والوں میں وہ مخصوص گروہ جو اللہ پر راضی تھے اور اللہ ان پر راضی ہوا کا ذکر تفصیل سے کرنے کے بعد دوبارہ منافقین کا ذکر چھیڑ دیا کہ خوب سن رکھو یہ منافقین کی نشاندہی ہے کہ بدوؤں میں بھی کتنے ہیں جو منافق ہیں اور اس طرح اہل مدینہ سے بھی ایک گروہ منافقوں کا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر مسلمانوں میں گھسے ہوئے ہیں اور نفاق میں یہ اتنے طاق اور ہوشیار ہیں کہ تمہارے لئے ان کا پہچاننا بہت ہی مشکل ہے اللہ ہی ان سب سے واقف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ نفاق میں اتنے شاطر ، مشاق اور پختہ کار ہوگئے ہوئے ہیں اور…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in several previous verses there are hypocrites whose hypocrisy stood exposed through their words and deeds, and the Holy Prophet ﷺ did realize that they were hypocrites. Mentioned in the present verse appearing above there are hypocrites whose hy-pocrisy was so perfect in its camouflage that it remained hidden from the Holy Prophet ﷺ until then. In this verse, two Divine punishments to come much before 'Akhirah upon such diehard hypocrites have been mentioned. In the first instance, right here in this world, they are consumed by the concern to hide their hypocrisy and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →