At-Tawba 9:101

At-Tawba · from ayah 101

9:101

وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ۛؕ— وَمِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ ؔۛ۫— مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ ۫— لَا تَعْلَمُهُمْ ؕ— نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ؕ— سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ ۟ۚوَمِمَّنۡ حَوۡلَــكُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ‌‌ ۛؕ وَمِنۡ اَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ‌ ‌ ‌ؔۛ مَرَدُوۡا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعۡلَمُهُمۡ ‌ؕ نَحۡنُ نَـعۡلَمُهُمۡ‌ ؕ سَنُعَذِّبُهُمۡ مَّرَّتَيۡنِ ثُمَّ يُرَدُّوۡنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيۡمٍ‌

اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And among those around you of the bedouins are hypocrites, and [also] from the people of Madinah. They have become accustomed to hypocrisy. You, [O Muhammad], do not know them, [but] We know them. We will punish them twice [in this world]; then they will be returned to a great punishment.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 13 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:101

تمہارے گرد و پیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہو گئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے، ہم ان کو جانتے ہیں قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے۔ ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کچھ تمہارے گردوپیش والوں میں اور کچھ مدینے والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ ان کو نہیں جانتے، ان کو ہم جانتے ہیں ہم ان کو دہری سزا دیں گے، پھر وه بڑے بھاری عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہارے ارد گرد جو دیہاتی ہیں، ان میں بھی منافق لوگ موجود ہیں، اور مدینہ کے باشندوں میں بھی۔ یہ لوگ منافقت میں (اتنے) ماہر ہوگئے ہیں (کہ) تم انہیں نہیں جانتے، انہیں ہم جانتے ہیں۔ ان کو ہم دو مرتبہ سزا دیں گے۔ پھر ان کو ایک زبردست عذاب کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہارے آس پاس کے کچھ گنوار منافق ہیں، اور کچھ مدینہ والے، ان کی خو ہوگئی ہے نفاق، تم انہیں نہیں جانتے، ہم انھیں جانتے ہیں جلد ہم انہیں دوبارہ عذاب کریں گے پھر بڑے عذاب کی طرف پھیرے جائیں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (مسلمانو!) تمہارے گرد و نواح کے دیہاتی گنواروں میں بعض منافق ہیں اور بعض باشندگانِ مدینہ بھی، یہ لوگ نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں (اب تک) نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں (بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی جملہ منافقین کا علم اور معرفت عطا کر دی گئی)۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ (دنیا ہی میں) عذاب دیں گے٭ پھر وہ (قیامت میں) بڑے عذاب کی طرف پلٹائے جائیں گے، ٭ ایک بار جب ان کی پہچان کرا دی گئی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ جمعہ کے دوران ان منافقین کو نام لے لے کر مسجد سے نکال دیا، یہ پہلا عذاب بصورتِ ذلت و رسوائی تھا؛ اور دوسرا عذاب بصورتِ ہلاکت و مُقاتلہ ہوا جس کا حکم بعد میں آیا۔

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان لوگوں میں سے جو تمہارے ارد گرد بدویوں میں سے ہیں، کچھ منافق ہیں اور کچھ اہل مدینہ میں سے بھی جو نفاق پر اڑ گئے ہیں، تو انھیں نہیں جانتا، ہم ہی انھیں جانتے ہیں۔ عنقریب ہم انھیں دو بار عذاب دیں گے، پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تمہارے ارد گرد بسنے والے دیہاتیوں میں کچھ منافق موجود ہیں اور کچھ خود مدینہ میں بھی موجود ہیں جو اپنے نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ انہیں تم نہیں جانتے، ہم ہی جانتے ہیں، جلد ہی ہم انہیں دو مرتبہ سزا دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہارے ارد گرد جو دیہاتی ہیں ان میں منافق ہیں اور مدینہ والوں میں بھی منافق ہیں۔ یہ اپنے نفاق میں منجھ گئے ہیں۔ تم ان کو نہیں جانتے، ہم ان کو جانتے ہیں، ہم انہیں دو بار سزا دیں گے۔ پھر وہ ایک عذاب عظیم کی طرف دھکیلے جائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تمہارے آس پاس کے دیہاتوں میں بھی بہت سے منافق ہیں، اور خود اہل مدینہ میں بھی، وہ نفاق میں ایسے طاق ہوگئے ہیں، کہ آپ بھی (اے پیغمبر) انہیں نہیں جانتے، ہم ہی جانتے ہیں ان سب کو، ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے، پھر ان کو لوٹایا جائے گا ایک بڑے (ہی ہولناک) عذاب کی طرف

— مولانا اسحاق مدنی

اور کچھ تمہارے گردوپیش والے دیہاتیوں میں سے اور کچھ مدینہ والوں میں سے (ایسے) منافق ہیں (کہ) نفاق میں اڑ گئے ہیں۔ آپ (بھی) انہیں نہیں جانتے ہیں ہم انہیں دہری سزا دیں گے پھر وہ عذاب عظیم کی طرف بھیجے جائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو تمہارے آس پاس کے بادیہ نشین ہیں ان میں منافق بھی ہیں اعلیٰ ترین مراتب والے اصحاب کے ذکر کے بعد اب بالکل نچلی سطح کے لوگوں کا تذکرہ ہو رہا ہے اور اہل مدینہ میں بھی جو نفاق پر اڑ چکے ہیں آپ ﷺ انہیں نہیں جانتے ہم انہیں جانتے ہیں۔ ہم انہیں دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ لوٹا دیے جائیں گے ایک بہت بڑے عذاب کی طرف

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہارے گردونواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینہ کے لوگ نفاق پر اڑ رہے ہیں۔ آپ ان کو نہیں جانتے ہمیں ان کا علم ہے۔ عنقریب ہم ان کو دہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

As for the bedouin Arabs around you, some are hypocrites; and so are some of the people of Madinah who have become inured to hypocrisy. You do not know them, but We know them. We will inflict double chastisement on them, and then they shall be returned to an awesome suffering.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And among those Bedouins who are around you there are hypocrites, and among the people of Madinah as well. They are adamant on hypocrisy. You do not know them. We know them. We will chastise them twice, then they shall be driven to a terrible punishment (in the Hereafter).

— Muhammad Taqi Usmani

And among those Bedouins who are around you there are hypocrites, and among the people of Madinah as well. They are adamant on hypocrisy. You do not know them. We know them. We will chastise them twice, then they shall be driven to a terrible punishment (in the Hereafter).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And among the bedouins around you, some are hypocrites, and so are some among the people of Al-Madinah who persist in hypocrisy; you know them not, We know them. We shall punish them twice, and thereafter they shall be brought back to a great (horrible) torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And among those around you of the wandering Arabs there are hypocrites, and among the townspeople of Al-Madinah (there are some who) persist in hypocrisy whom thou (O Muhammad) knowest not. We, We know them, and We shall chastise them twice; then they will be relegated to a painful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And among those around you of the bedouins are hypocrites, and [also] from the people of Madinah. They have become accustomed to hypocrisy. You, [O Muhammad], do not know them, [but] We know them. We will punish them twice [in this world]; then they will be returned to a great punishment.

— Saheeh International

Some of the desert dwelling Arabs around you are hypocrites as are some of the inhabitants of Medina. They are persisting in their hypocrisies. You do not know them but We know them well and will punish them twice over. Then they will be brought to the great torment (on the Day of Judgment).

— Muhammad Sarwar

And from among those who are round about you of the dwellers of the desert there are hypocrites, and from among the people of Medina (also); they are stubborn in hypocrisy; you do not know them; We know them; We will chastise them twice then shall they be turned back to a grievous chastisement

— Muhammad Habib Shakir

And of the dwellers of the desert around you some are hypocrites, and so are some of the people of Madinah; they have become inured to hypocrisy thou knowest them not, We know them. We will torment them twice, and thereafter they shall be brought back to a torment terrible.

— Abdul Majid Daryabadi

Certain of the desert Arabs round about you are hypocrites, as well as (desert Arabs) among the Medina folk: they are obstinate in hypocrisy: thou knowest them not: We know them: twice shall We punish them: and in addition shall they be sent to a grievous penalty.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:101

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

منافقت کے خوگر شہری اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ کو بتلاتا ہے کہ " مدینے کے اردگرد رہنے والے گنواروں میں اور خود اہل مدینہ میں بہت سے منافق ہیں۔ جو برابر اپنے نفاق کے خوگر ہوچکے ہیں "۔ تمرد فلان علی اللہ اس وقت کہتے ہیں جب کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی اور نافرمانی کرے۔ پھر فرماتا ہے کہ تم تو انہیں جانتے نہیں ہم جانتے ہیں۔ اور آیت میں ہے ـ" اگر ہم چاہیں تو تجھے اور ان کو دکھا دیں اور تو ان کی علامات اور چہروں سے انہیں پہچان لے۔ یقینا تو انہیں انکی باتوں کے لب و لہجے سے جان لے گا۔ " غرض ان دونوں آیتوں میں کوئی فرق نہ سمجھنا چاہیے۔ نشانیوں سے پہچان لینا اور بات ہے اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 101–104

سورة التَّوْبَة 97 یعنی اپنے نفاق کو چھپانے میں وہ اتنے مشاق ہوگئے ہیں کہ خود نبی ﷺ بھی اپنی کمال درجے کی فراست کے باوجود ان کو نہیں پہنچان سکتے تھے۔ سورة التَّوْبَة 98 دوہری سزا سے مراد یہ ہے کہ ایک طرف تو وہ دنیا جس کی محبت میں مبتلا ہو کر انہوں نے ایمان و اخلاص کے بجائے منافقت اور غداری کا رویہ اختیار کیا ہے، ان کے ہاتھ سے جائے گی اور یہ مال و جاہ اور عزت حاصل کرنے کے بجائے الٹی ذلت و نامرادی پائیں گے۔ دوسری طرف جس مشن کو یہ ناکام دیکھنا اور اپنی چال بازیوں سے ناکام کرنا چاہتے ہیں وہ ان کی خواہشوں کو کوششوں کے علی الرغم ان کی آنکھوں کے سامنے فروغ پائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور کچھ تمہارے گرد و پیش والوں میں اور کچھ مدینہ والوں میں ایسے منافق ہیں کہ نفاق کی حد کمال پر (ایسے) پہنچنے ہوئے ہیں (کہ) آپ (بھی) ان کو نہیں جانتے (کہ یہ منافق ہیں بس) ان کو ہم ہی جانتے ہیں ہم ان کو (دوسرے منافقین کی نسبت آخرت سے پہلے بھی) دوہری سزا دیں گے (ایک نفاق کی دوسرے کمال نفاق کی اور) پھر (آخرت میں بھی) وہ بڑے بھاری عذاب (یعنی جہنم مع خلو و دائمی) کی طرف بھیجے جاویں گے۔ معارف و مسائل سابقہ بہت سی آیات میں ان منافقین کا ذکر آیا ہے جن کا نفاق ان کے اقوال و افعال سے ظاہر ہوچکا تھا اور رسول اللہ ﷺ پہچانتے تھے کہ یہ منافق ہیں، اس آیت میں ایسے منافقین کا ذکر ہے جن کا نفاق…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ۔ منافقین کی نشان دہی : یہ منافقین کی نشان دہی ہے۔ فرمایا کہ بدوؤں میں بھی بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح اہل مدینہ میں بھی ایک گروہ منافقوں کا ہے۔ یہ لوگ محض اپنے اغراض و مفاد کے لیے مسلمانوں میں گھسے ہوئے ہیں اور نفاق میں یہ اتنے منجھے ہوئے ہیں کہ تمہارے لیے ان کا پہچاننا مشکل ہے۔ اللہ ہی ان سب سے واقف ہے۔ مرد علی النفاق، مرن واستمر علیہ، یعنی یہ نفاق میں نہایت شاطر، مشاق…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

11۔ 1 مرد اور تمرد کے معنی ہیں نرمی ملائمت (چکناہٹ) اور تجرد۔ چناچہ اس شاخ کو جو بغیر پتے کے ہو، وہ گھوڑا جو بغیر بال کے ہو، وہ لڑکا جس کے چہرے پر بال نہ ہوں، ان سب کو اَ مْرَدُ کہا جاتا ہے اور شیشے کو صَرْح مُمَرَّد اَیْ مُجَرَّدً کہا جاتا ہے (مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ) گویا انہوں نے نفاق کے لئے اپنے آپ کو خالص اور تنہا کرلیا، یعنی اس پر ان کا اصرار ہمیشہ رہنے والا ہے 11۔ 2 کتنے واضح الفاظ میں نبی سے علم غیب کی نفی ہے۔ کاش اہل بدعت کو قرآن سمجھنے کی توفیق نصیب ہو۔ 11۔ 3 اس سے مراد بعض کے نزدیک دنیا کی ذلت و رسوائی اور پھر آخرت کا عذاب ہے اور بعض کے نزدیک دنیا میں ہی دوہری سزا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

76: پہلے جن دیہاتیوں کا ذکر آیا تھا وہ مدینہ سے دور رہتے تھے اب ان دیہاتیوں کا ذکر ہے جو مدینہ منورہ کے آس پاس رہتے تھے اور خود مدینہ منورہ کے باشندوں میں ان منافقین کا جن کا نفاق آنحضرت ﷺ کو بھی معلوم نہیں تھا۔ 77: دو مرتبہ سزا دینے کی تشریح مختلف طریقوں سے کی گئی ہے صحیح مراد تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے ؛ لیکن بظاہر ایک سزا تو یہ ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی شکست کی جو آس لگائی ہوئی تھی وہ پوری نہ ہوئی اور مسلمان غزوہ تبوک سے صحیح و سلامت واپس آگئے، یہ بذات خود ان منافقوں کے لئے ایک سزا تھی اور دوسرے بہت سے منافقوں کا نفاق کھل گیا اور ان کو دنیا ہی میں ذلت اٹھانی پڑی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس سے قبل منافقین کے بارے میں عمومی بات ہوچکی ہے اور ان کے احوال کا انکشاف کردیا گیا ہے ان کا علق اہل مدینہ سے بھی تھا اور اہل مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے بدوی منافقین سے بھی تھا۔ یہاں منفقین کی ایک خاص صنف کا تذکرہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہنر نفاق میں طاق ہوگئے ہی اور اس آرٹ میں انہوں نے بہت ہی اچھا تجربہ حاصل کرلیا ہے۔ یہ عمل نفاق میں ڈوب چکے ہیں اور وہ اس قدر فنکار بن گئے ہیں کہ خود رسول اللہ ﷺ اپنی پیغمبرانہ بصیرت کے باوجود ان کو نہیں پہچان سکے حالانکہ آپ نے اس دور تک ان کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کرلی تھیں اور تجربات کے ایک طویل دور سے گزر چکے تھے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے منافقین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 پہلے سے دیہاتی عربوں کا ذکر چلا آرہا تھا۔ درمیان میں اعراب مومنین کے تذکرہ سے مہاجرین و انصار کی طرف کلام منتقل ہوگیا اب اس آیت میں خاص " مدینہ " اور اس کے آس پاس رہنے والوں کا بیان ہے یعنی بعض اہل مدینہ اور گردو پیش کے رہنے والے نفاق کے خوگر ہوچکے اور اسی پر اڑے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ نفاق اس قدر عریق و عمیق ہے کہ ان کے قرب مکانی اور نبی کریم ﷺ کی کمال فطانت و فراست کے باوجود آپ بھی بالتعیین اور قطعی طور پر محض علامات و قرائن سے ان کے نفاق پر مطلع نہیں ہو سکے ان کا ٹھیک ٹھیک تعین صرف خدا کے علم میں ہے۔ جس طرح عام منافقین کا پتہ چہرہ لب و لہجہ اور بات چیت سے لگ جاتا تھا (وَلَوْ نَشَاۗءُ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 101 وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ط وَمِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِقف مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ قف یہ وہ لوگ ہیں جن کے نفاق کا مرض اب آخری مرحلے میں پہنچ کر لا علاج ہوچکا ہے اور اب اس مرض سے ان کے شفایاب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ منافقت کے مرض کی بھی ٹی بی کی طرح تین stages ہوتی ہیں۔ جھوٹے بہانے بنانا اس مرض کی ابتدا ہے ‘ جبکہ بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانا دوسری سٹیج کی علامت ہے ‘ اور جب یہ مرض تیسری اور آخری سٹیج میں پہنچتا ہے تو اس کی واضح علامت منافقین کی اہل ایمان کے ساتھ ضد اور دشمنی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اہل ایمان تو دین کے تمام مطالبات خوشی خوشی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

114 مدینہ کے چالاک منافقین :۔ یعنی وہ اس قدر ہوشیار اور چالاک ہیں اور ان کا نفاق اتنا گہرا اور پراسرار ہے کہ وہ اپنی منافقت کو ظاہر نہیں ہونے دیتے تاہم اپنی منافقت پر پوری مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ عام مسلمان انہیں پکے مسلمان ہی سمجھتے ہیں۔ حتیٰ کہ آپ اپنی پیغمبرانہ فراست کے باوجود انہیں نہیں جانتے۔ ان کے نفاق کو بس اللہ ہی جانتا ہے جو دلوں کے ارادوں اور رازوں تک سے واقف ہے۔ 115 منافقوں کو دو سزائیں :۔ دو مرتبہ عذاب سے مراد اگر جنس عذاب لیا جائے تو ایک دنیا کا عذاب ہوگا۔ دوسرا عالم برزخ کا اور یہ دونوں قیامت کے بڑے عذاب سے پہلے انہیں بھگتنا ہوں گے اور اگر دنیا کے عذاب ہی مراد لیے جائیں تو ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

186۔ ( اور اے حدکمال تک پہنچا دیا ہے) اے اقاموا علیہ ولم یتوبوا (ابن جریر۔ عن ابن زید) اے ثبتوا واستمروا فیہ ولم یتوبوا عنہ (کبیر) اے تمھروافیہ (کشاف) (آیت) ” ممن حولکم “۔ تمہارے گردو پیش “ یعنی تمہارے شہر کے گردو پیش، یعنی حول بلدتکم وھی المدینۃ (کشاف۔ مدارک) 187۔ (آیت) ” لا تعلمھم “ یعنی ان کا نفاق اس حد کمال کو پہنچا ہوا ہے، اس قدر خفی ہے کہ آپ ﷺ کو بھی، بایں فطانت وذکاوت و کمال باخبری، ان کے منافق ہونے کا علم نہیں، اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کے علم غیب کی صریح نفی موجود ہے۔ جس کا دعوی ہمارے زمانہ کے بعض عالم نما جاہلوں نے کیا ہے۔ ووردت الایۃ فی نفی علم الغیب عن رسول اللہ ﷺ صریحا (تھانوی) کشف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 100–110

آیت نمبر 100 تا 110 ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وممن حولکم من الاعراب منافقون اور تمہارے آس پاس (اطراف مدینہ میں) رہنے والے بدویوں میں کچھ لوگ منافق ہیں۔ ان سے مراد ہیں قبائل مزینہ ‘ جہنیہ ‘ اشجع ‘ اسلم اور غفار کے منافق لوگ۔ ابن المنذر نے عکرمہ کے حوالہ سے یہی قول نقل کیا ہے۔ ان قبائل کی قیام گاہیں مدینہ کے گرداگرد تھیں ‘ جن میں سے بعض لوگ منافق بھی تھے۔ ممّن کا مِنْ تبعیضیہ اسی پر دلالت کر رہا ہے۔ احادیث مندرجۂ بالا میں قبائل مذکورہ کی جو تعریف و توصیف آئی ہے ‘ اس سے اس آیت کا تعارض نہیں ہوتا کیونکہ آیت میں بعض کو منافق کہا گیا ہے (اور احادیث مذکورہ میں ان قبائل کی تعریف اکثریت کے لحاظ سے کی گئی ہے) ۔ ومن اھل المدینۃ اور مدینے والوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(101) اور قبیلہ اسد وغطفان کے کچھ لوگ اور مدینہ والوں میں سے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ایسے منافق ہیں کہ جو نفاق کی آخری حدوں کو پہنچے ہوئے ہیں اور اس پر ثابت قدم ہیں، آپ بھی ان کے نفاق کو نہیں جانتے، ان کے نفاق کو بس ہم ہی جانتے ہیں ہم ان کو ایک بار ان کی جانیں قبض کرنے کے وقت اور دوسری بار ان کو عذاب قبردیں گے پھر یہ عذاب جہنم کی طرف بھیجے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ : پہلے اعراب (بدوی) منافقین کا ذکر فرمایا، پھر اعراب میں سے مخلصین کا تذکرہ کیا۔ ان کے بعد سابقین مہاجرین و انصار اور ان کے پیچھے آنے والے صاحب احسان لوگوں کو خوش خبری دی اور ان کے لیے بلند مراتب کا بیان فرمایا (ان کا تذکرہ سورة جمعہ کی ابتدائی آیات میں بھی فرمایا ہے) اب ان ضمنی مباحث کے بعد پھر منافقین کے ایک گروہ کا ذکر فرمایا جو مدینہ اور اس کے ماحول میں رہتے ہوئے اپنے نفاق میں ”مَرَدُوْا“ اتنے مشاق اور ماہر ہوگئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی تیز ترین فراست اور قوی ترین اندازے کے باوجود ان سب کو معین طور پر نہیں پہچان سکے، گو بعض کو ان کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 101۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) ” وممن حولکم من الاعراب منفقون “۔ یہ مبتدا اور خبر ہے، یعنی قوم منافقون “۔ اور یہ مزینہ، جہینہ، اسلم غفار اور اشجع کے قبائل تھے (1) (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 396) (آیت) ” ومن اھل المدینہ مردوا علی النفاق “۔ رہی قوم (آیت) ” مردوا علی النفاق “۔ (یعنی اہل مدینہ میں سے ایک قوم ہے جو نفاق پر پکے ہوگئے ہیں) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مردوا منافقین کی نعمت میں سے ہے پس کلام میں تقدیم وتاخیر ہوگی، اس کا معنی ہوگا : ومن حولکم من الاعراب منافقون مردوا علی النفاق، ومن اھل المدینۃ مثل ذالک “۔ (تمہارے آس پاس بسنے والے دیوتیوں سے کچھ منافق ہیں جو نفاق پر پکے ہوگئے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم والطبرانی نے الاوسط میں وابو الشیخ وابن جریر رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وممن حولکم من الاعراب منفقون “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا اے فلانے اے فلانے کھڑا ہوجا اور نکل جا بیشک تو منافق ہے (اس طرح) ان کو ان کے ناموں کے ساتھ باہر نکال دیا۔ اور ان کو خوب رسوا کیا اس جمعہ میں عمر بن خطاب ؓ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے حاضر نہیں تھے عمر ؓ ان سے ملے اور وہ لوگ مسجد سے نکل رہے تھے اور اس حیا کے سبب ان سے چھپنے لگے کہ آپ اس جمعہ میں حاضر نہیں تھے اور آپ نے لوگوں کے بارے میں یہ گمان کیا کہ یہ لوگ جھوٹ بول کر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمِمَّنْ [ اور ان میں سے ] حَوْلَكُمْ [ تمہارے اردگرد ] مِّنَ الْاَعْرَابِ [ دیہاتیوں میں سے ] مُنٰفِقُوْنَ ړ [ (وہ ) منافق ہیں ] وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ [ اور مدینہ والوں میں سے ] مَرَدُوْا [ جو اڑے رہے ] عَلَي النِّفَاقِ ۣ [ نفاق پر ] لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ [ آپ نہیں جانتے ان کو ] نَحْنُ [ ہم ] نَعْلَمُھُمْ ۭ [ جانتے ہیں ان کو ] سَنُعَذِّبُھُمْ [ ہم عذاب دیں گے ان کو ] مَّرَّتَيْنِ [ دو مرتبہ ] ثُمَّ [ پھر ] يُرَدُّوْنَ [ وہ لوٹائے جائیں گے ] اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم عذاب کی طرف ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 101 میں ہے کہ ایسے منافق جو نفاق میں بہت آگے جا چکے ہیں ۔ انھیں عذاب عظیم یعنی دوزخ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مدینہ منورہ اور آس پاس کے دیہات میں رہنے والے منافقین کا تذکرہ اس آیت میں بتایا ہے کہ مدینہ منورہ کے آس پاس رہنے والے دیہاتیوں میں منافقین ہیں صاحب معالم التنزیل نے اس سلسلہ میں بنی مزینہ و بنی جھینہ وغیر ہم کے نام لکھے ہیں اور یہ فرمایا کہ اہل مدینہ میں سے بھی بعض لوگ منافق ہیں اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو اوس اور خزرج میں منافق تھے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ منافقت پر مصر ہیں۔ مضبوطی کے ساتھ جمے ہوئے ہیں (جو لوگ مدینہ منورہ میں رہتے ہیں وہ صرف مدینہ منورہ ہی میں رہنے کو سب کچھ نہ سمجھیں اپنے ایمان و اعمال کی بھی خبر لیں۔ اب بھی مدینہ منورہ میں خاصی تعداد میں روافض ہیں۔ اور دجال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–105

زعماء منافقین کا ذکر قال اللہ تعالیٰ ٰ ۔ وممن حولکم من الاعراب منافقون۔۔ الی۔۔۔ عذاب عظیم۔ (ربط): اوپر کی آیت میں اعیان مومن ین۔ یعنی مومنین کاملین کا ذکر تھا اب اس آیت میں زعماء منافقین کا ذکر ہے جو مدینہ میں اور مدینہ کے آس پاس رہتے تھے اور سرتاپا نفاق میں غرق تھے اور فن نفاق میں ایسے ماہر وحاذق اور پختہ تھے کہ نبی اکرم ﷺ باوجود کمال فراست کے ان کے نفاق پر مطلع نہ ہوسکے چناچہ مردوا علی النفاق کے بعد جو لفظ لا تعلمھم بڑھایا گیا وہ اسی طرف اشارہ ہے اعیان مومنین کے ذکر کے بعد اعیان منافقین کا ذکر نہایت مناسب ہے جس طرح مہاجرین اور انصآر کو ہجرت اور نصرت میں سبقت اور اولیت کا شرف حاصل تھا اسی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

97:“ وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ الخ ” یہ مدینہ منورہ اور اس کے گرد و نواح کے منافقین کا ذکر ہے۔ “ لَا تَعْلَمُھُمْ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ” اس میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے۔ وہ نفاق اور اخفاء حال میں اس قدر ماہر اور چابکدست ہیں کہ آپ کو ان کے نفاق کا علم تک نہیں لیکن اللہ ان کو خوب جانتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہحضور ﷺ کو کلی غیب کا علم نہیں تھا۔ “ یعنی انھم بلغوا من المھارة فی النفاق والتنوق فی مراعاة التقیة والتحامی عن مواقع التھمة الی حیث یخفی علیک مع کمال فطنتک و صدق فراستک حالھم ” (روح ج 11 ص 12) ۔ 98:“ سَنُعَذِّبُھُمْ الخ ” یہ منافقین کے لیے تخویف دنیوی و اخروی ہے۔ دو دفعہ کے عذاب سے دنیا میں قتل یا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 100–101

ربط آیات : غزوہ تبوک کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ گذشتہ درس میں شہری منافقوں کے ساتھ ساتھ دیہاتی منافقوں کی بھی خدمت بیان ہوئی اور فرمایا کہ دیہات میں بعض مخلص مومن بھی رہتے ہیں جن کی اللہ نے تعریف بیان کی اور ان کے انعامات کا ذکر کیا۔ اب آج کی پہلی آیت اپنا الگ مضمون رکھتی ہے اور اس کے بعد پھر منافقین کی مذمت کا سلسلہ شروع ہو جات ہے۔ اس درمیانی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نیکی میں سبقت کرنے والے مخلص مہاجرین اور انصار کا ذکر کیا ہے اور باقیوں کے لیے انہیں بطور نمونہ پیش کیا ہے حاصل مقصد یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں دین کی اقامت کے لیے اس جماعت کو مرکزیت حاصل ہے۔ باقی لوگ ان کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ۝ 0 ۭ ۛ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَۃِ۝ 0 ۣ ۛؔ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ۝ 0 ۣ لَاتَعْلَمُھُمْ۝ 0 ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ۝ 0 ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ۝ 101 ۚ حول أصل الحَوْل تغيّر الشیء وانفصاله عن غيره، وباعتبار التّغيّر قيل : حَالَ الشیء يَحُولُ حُؤُولًا، واستحال : تهيّأ لأن يحول، وباعتبار الانفصال قيل : حَالَ بيني وبینک کذا، وقوله تعالی: وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24] ( ح ول ) ' الحوال ( ن ) دراصل اس کے معنی کسی چیز کے متغیر ہونے اور دوسری چیزوں سے الگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 101–104

ترکیب : منافقون مبتداء وممن خبر مقدم ‘ مردوا اس کی صفت ومن اھل المدینۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای ومن اھل المدینۃ قوم کذلک لا تعلمہم صفت ثانیہ وآخرون معطوف ہے منافقوں پر اور ممکن ہے کہ مبتداء ہو اور اعترفوا صفت وخلطوا خبر وآخر معطوف ہے عملا پر۔ تفسیر : باہر کے گنواروں ہی پر کچھ موقوف نہیں کہ وہ منافق اور حیلہ باز ہیں بلکہ بعض اہل مدینہ اور مدینہ کے آس پاس کے گنوار جن کو کہ آنحضرت ﷺ کا وعظ و پند سننا بھی ممکن ہے اور اہل اسلام سے پیشتر میل جول رکھتے ہیں ٗ مردوا علی النفاق نفاق پر اڑے ہوئے ہیں اور اس فن میں ایسے چالاک ہیں کہ باوجود فراست تامہ کے اے نبی ! ان سے تم واقف بھی نہیں ہاں ہم ان کو جانتے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰـفقِوْنَ ط َومِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ قف مَرَدُوْاعَلَیْ النِّفَاقِ قف لاَ تَعْلَمُھُمْ ط نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ط سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ ج (التوبہ : 101) (تمھارے گردو پیش بسنے والے دیہاتیوں میں سے کچھ منافق ہیں اور کچھ مدینے کے رہنے والوں میں سے جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں تم ان کو نہیں جانتے ہم انہیں جانتے ہیں ہم عنقریب ان کو عذاب دیں گے دو مرتبہ پھر وہ لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف۔ ) ” مَرَدَ “ کا معنی ہے پختہ ہوجانا طاق ہوجانا مشاق اور ماہر ہوجانا۔ سابقہ آیات میں ان منافقین کا ذکر کیا گیا ہیں جو اپنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 101–102

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کے دوسرے اور تیسرے طبقہ کا ذکر، مدینہ کے منافقین کا ذکر کرنے کے بعد اب ان منافقین کا بیان ہوتا ہے جو مدینہ اور اس کے مضافات میں رہتے تھے۔ مومنوں کے اعلیٰ طبقات بیان کرنے کے بعد منافقین کے اس گروہ کا ذکر کیا جاتا ہے جو مدینہ اور اس کے مضافات میں رہنے کی وجہ سے ہر وقت مسلمانوں کے ساتھ جڑے رہتے تھے لیکن حقیقتاً پکے منافق تھے مگر تمام کام مسلمانوں جیسے کرتے اور ہر کام میں مسلمانوں کی ہاں میں ہاں ملایا کرتے تھے۔ اس وجہ سے عام مسلمان ان کے اصلی کردار سے ناواقف تھے۔ یہ منافق مسلمانوں کے لیے آستین کے سانپ تھے۔ جنہیں پہچاننا عام مسلمانوں کے بس کی بات نہیں تھی اس لیے یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مدینہ کے گرد و پیش کے منافق : آیت 101: وَ مِمَّنْ حَوْلَکُمْ (اور ان لوگوں میں سے جو تمہارے گردوپیش ہیں) یعنی مدینہ کے اردگرد مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ (یعنی بددوں میں سے کچھ منافق ہیں) وہ جہینہ، اسلم، اشجع، غفار، کے منافق لوگ ہیں۔ یہی مدینہ کے اطراف میں آباد تھے۔ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ (اور مدینہ کے رہنے والوں میں سے بھی) اس کا عطف مِمَّن حَوْلَکُمْپر ہے جو مبتداء کی خبر ہے۔ جبکہ تقدیر عبارت یہ مانیں ومن اہل المدینۃ قوم مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ (وہ نفاق کی حد کمال پر پہنچے ہوئے ہیں) اسمیں ماہر ہیں یہ اس صورت میں معنی ہے جبکہ مردوا کو محذوف کی صفت مانا جائے اور پہلی صورت میں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 101: ” وممن حولکم من الاعراب منفقون “ اور یہ مزینہ ‘ جہینہ ‘ اشجع ‘ اسلم اور غفار کے لوگ ہیں ان کے گھر مدینہ کے ارد گرد تھے۔ ” ومن اھل المدینۃ “ یعنی اوس اور خزرج مدینہ کے ہیں ان میں میں سے بھی منافق ہیں۔” مردوا علی النفاق یعنی نفاق پر سرکشی کی لا تعلمھم آپ اے محمد ﷺ ط نحن نعلمھم ط سنعذبھم مرتین “ ان دونوں عذابوں کی تعیین میں اختلاف ہے۔ کلبی سدی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا اے فلاں تو نکل جا کیونکہ تو منافق ہے تو کئی لوگوں کو مسجد سے نکال دیا اور ان رسوا کیا۔ تو یہ پہلا عذاب ہے اور دوسرا قبر کا عذاب ہے اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

101۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت رسول خدا ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ پڑھتے پڑھتے چار پانچ آدمیوں کو فرمایا کہ تم منافق ہو نکل جاؤ۔ حضرت عمر ؓ آرہے تھے ان لوگوں کو مسجد سے آتے ہوئے دیکھ کر سمجھے کہ نماز ہوچکی اور چھپ گئے ان لوگوں نے بھی حضرت عمر ؓ کو دیکھ لیا تھا وہ یہ سمجھ کر چھپ گئے کہ ان پر ہمارا حال ظاہر ہوگیا۔ جب حضرت عمر ؓ مسجد میں پہنچے تو دیکھا کہ ابھی جماعت نہیں ہوئی ہے ایک شخص نے بڑھ کر کہا کہ آج تو منافق بہت ذلیل ہوئے خدا نے ان کو مسجد سے نکلوا دیا حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ایک عذاب تو یہی ہے کہ مسلمانوں کی مسجد سے یہ لوگ نکالے گئے بھری محفل میں رسوائی ہوئی اور دوسرا عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت (101) (وممن حولکم من الاعراب منفقون و من اھل المدینہ) ” اور تمہارے گرد رہنے والے گنواروں میں سے بعض منافق ہیں اور بعض مدینے والوں میں سے “ یعنی مدینہ میں بھی منافقین موجود ہیں (مردواعلی النفاق) ” اڑے ہوئے ہیں وہ نفاق پر “ یعنی نفاق کے عادی ہیں اور نفاق میں ان کی سرکشی بڑھتی جا رہی ہے (لا تعلمھم) ” آپ ان کو نہیں جانتے۔ “ یعنی آپ ان کے اعیان کو نہیں جانتے کہ آپ ان کو سزا دے سکیں یا ان کے نفاق کے مطابق ان کے ساتھ معاملہ کرسکیں۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی حکمت پنہاں ہے۔ (نحن نعلمھم سنعذبھم مرتین) ” ہم ان کو جانتے ہیں ‘ ہم ان کو دو مرتبہ عذاب دیں گے۔ “ اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ ”…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے وممن حولکم من الاعراب منافقون ومن اھل المدینۃ مردوا علی النفاق لا تعلمھم نحن نعلمھم سنعدبھم مرتین اور تمہارے گردو بیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں ۔ تم انہیں نہیں جانتے ہم ان کو جانتے ہیں قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے۔ حسن اور قتادہ کا قول کے دوہری سزا سے مراد دنیا اور قبر کا عذاب ہے ثم یردون الی عذاب عظیم اور پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔ اور اس سے جہنم کا عذاب مراد ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ ایک سزا وہ ہے جو دنیا میں ذلت اور رسوائی کی صورت میں ملنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 101–102

188 کچھ منافقوں کو پیغمبر بھی نہیں جان سکتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے آس پاس کے دیہاتیوں میں بھی بہت سے منافق ہیں اور خود اہل مدینہ کے اندر بھی۔ سو کچھ منافق ایسے پکے اور اس قدر منجھے ہوئے ہیں کہ ان کو آپ بھی اے پیغمبر نہیں جان سکتے بلکہ ان کو ہم ہی جانتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے کفر و نفاق اور مکاری و عیاری میں ایسے ماہر ہوگئے ہیں کہ آپ ﷺ بھی اے پیغمبر ﷺ باوجود اپنی اعلیٰ درجے کی زیرکی و فراست اور عظیم الشان فہم و ادراک کے ان کو نہیں جان سکتے۔ ان کو ہم ہی جانتے ہیں۔ ( روح، صفوہ، ابن کثیر اور معارف وغیرہ) ۔ سو اس آیت کریمہ سے اہل بدعت کے علم غیب کلی کے شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ والحمد…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 100–103

مہاجرین اور انصار صحابہ کے لیے خوشخبری اور منافقوں کے لیے عذاب تشریح : پچھلی آیات میں دیہاتی مومنین کا ذکر تھا اب یہاں تمام مخلص مومنین کا ذکر ہے اور پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو نبی اکرم ﷺ کی آواز پر فوراً مسلمان ہوگئے (جن میں مہاجرین وانصار شامل ہیں) اور کچھ نیک نیتی سے آہستہ آہستہ ان کے بعد مسلمان ہوتے گئے اور ان سب نے پورے خلوص کے ساتھ اسلام کے قوانین کی پابندی کی۔ پہلے گروہ کو صحابہ اور دوسرے کو تابعین کہیں گے اور بعض نے قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کو ان میں شامل کیا ہے۔ دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ غزوئہ تبوک کے لیے کچھ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 100–110

آیات 100 تا 110 اسرار و معارف سابقون الا ولون بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔ اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 پہلے منافقین اعراب (بدویوں) کا ذکر فرمایا پھر اعراب میں سے مخلصین کا تذکرہ کیا۔ ان کے بعد مہاجرین و انصار کو خوش خبری دی اور انکے لیے بلند مراتب کا بیان فرمایا۔ اب ان ضمنی مباحث کے بعد پھر منافقین کا تذکرہ شروع کیا جو مدینہ اور اس کے ماحول میں رہتے ہوئے اپنے نفاق میں اتنے مشاق اور ماہر ہوگئے ہیں کہ آں حضرت ﷺ باوجود اپنی فراست نافذہ اور قوت حدس کے ان سب کو معین طور پر نہیں پہچان سکتے گو بعض کو ان کے لہجے اور دوسری علامات سے پہچانتے ہوں۔ (دیکھیے سورة محمد آیت 30) لہذا جن روایات میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے بعض منافقین کے نام بھی حضرت حذیفہ کو بتا دئیے تھے وہ اس آیت کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہاں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:101) وممن حولکم من الاعراب منفقون۔ ای ومن من حولکم من الاعراب منفقون۔ اور ان اعراب میں سے جو تمہارے اردگرد بستے ہیں کچھ منافق ہیں ۔ ومن اہل المدینۃ۔ یہ وقف معانقہ کی صورت ہے۔ اگر علامت اول : پر وصل کیا جاوے اور علامت ثانی پر وقف کیا جائے تو اس کا عطف ممن حولکم پر ہوگا۔ اور مردوا علی النفاقصفت ہوگی منافقون کی اور تقدیر کلام یوں ہوگی ومن حولکم من الاعراب ومن اہل المدینۃ منافقون مردوا علی النفاق (اور تمہارے اردگرد یعنی مدینہ کے اردگرد بسنے والے بدوؤں میں سے اور اہل مدینہ میں سے کچھ منافق ہیں جو پکے ہوگئے ہیں نفاق میں اور اگر علامت اول پر وقف کیا جائے اور علامت ثانی پر وصل کیا جائے تو یہ جملہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 101–102

لغات القرآن آیت نمبر 101 تا 102 حولکم (تمہارے اردگرد، آس پاس) مردوا (اڑے ہوئے ہیں (مرتین (دو مرتبہ) یردون (لوٹائے جائیں گے) اخرون (کچھ دوسرے لوگ) اعترفوا (انہوں نے اقرار کیا خلطوا (وہ مل گئے، ملایا) سیء (برائی، گناہ) ان یتوب (یہ کہ وہ توبہ کرے گا) تشریح : آیت نمبر 101 تا 102 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر ان منافقین کا ذکر کیا ہے جو دیہات اور شہر مدینہ میں رہ کر بھی ایمان کی دولت سے محروم اور نفاق کے مرض میں مبتلا تھے۔ ان میں سے بعض تو وہ تھے جن کے اعمال، اخلاق اور کردار کا پردہ چاک ہوچکا تھا اور اہل ایمان بھی ان کو پہچاننے لگے تھے لیکن بعض ایسے چالاک اور عیار تھے کہ ان کی سازشوں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

اس آیت میں گنوار منافقوں کے عذاب کا ذکر ہے کہ ایک روز آنحضرت ﷺ نے جمعہ کے دن خطبہ پڑھتے پڑھتے چار پانچ آدمیوں کو نام بنام فرمایا کہ تم منافق ہو، نکل جاؤ۔ جس سے وہ منافق بہت ذلیل ہوئے۔ خدا نے ان کو مسجد سے نکلوا دیا بھری محفل میں رسوائی ہوئی اور دوسرا عذاب قبر کا عذاب ہے۔ پھر آخرت میں عذاب عظیم ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[55] یعنی یہ اپنی دوہری استعداد نفاق کی وجہ سے دوہرے عذاب کے مستحق ہوگئے۔ پہلی استعداد یہ کہ منافق ہوئے اور دوسری یہ کہ اس میں کامل ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) تمرد کے معنی سرکشی اور شدت کے ساتھ نافرمانی اور قبائح میں منہمک رہنے کے ہیں یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں جو نفاق کو ظاہر طور پر انجام دے رہے ہیں ، اور مصر ہیں ، غالبا یہ اس وقت کے بعض لوگوں کی جانب اشارہ ہے ، انہیں ودوگونہ عذاب میں مبتلا کیا جائے گا ، دنیا میں رسوائی وذلت ، اور عاقبت میں جہنم ، اس لئے انہوں نے عیب کو صواب اور گمراہی کو ہدایت قرار دیا ، معصیت اور کفر پر اڑے رہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

101 اورتمہارے ارد گرد اور آس پاس کے کچھ دیہاتی اور خود مدینہ کے کچھ لوگ ایسے منافق ہیں جو صفتِ نفاق میں پورے ماہر اور کمال کو پہنچے ہوئے ہیں ان ماہر فی النفاق لوگوں سے آپ واقف نہیں ہیں اور آپ ان کو نہیں جانتے مگر ہم ان سب کو جانتے ہیں ہم ان کو قیامت سے پہلے دوہری سزادیں گے پھر وہ قیامت میں بڑے سخت عذاب میں لوٹائے جائیں گے اور بھیجے جائیں گے۔ یعنی وہ نفاق میں ایسا کمال رکھتے ہیں کہ آپ بھی باوجود فطانت اور ذہانت کے ان کی حرکات سے پتہ نہیں چلاسکتے دوہری سزا یا دومرتبہ سزا دیں گے مطلب ایک ہی ہے یعنی نفاق کی سزا کہ ہر وقت اپنے کو سنبھال سنبھال کر رکھنا پڑتا ہے پھر قبر کا عذاب ارد گرد کے لوگ فرمایا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 101–102

ف 1۔ ان کو اور منافقین سے بڑھا ہوا اس لیے فرمایا کہ مدار نفاق کے نفاق ہونے کا اخفا ہے اور یہ اس میں ایسے بڑھے ہوئے ہیں کہ باوجودیکہ رسول اللہ ﷺ کا ذکاوت وفطانت میں تمام جہاں سے اکمل ہیں مگر انہوں نے آپ کو بھی پتہ نہ چلنے دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وعدہ الٰہی کہ ان منافقین کو ہم دوبارہ عذاب دین گے اور جہنم رسید کردیں گے : 132: اوپر ایمان والوں میں وہ مخصوص گروہ جو اللہ پر راضی تھے اور اللہ ان پر راضی ہوا کا ذکر تفصیل سے کرنے کے بعد دوبارہ منافقین کا ذکر چھیڑ دیا کہ خوب سن رکھو یہ منافقین کی نشاندہی ہے کہ بدوؤں میں بھی کتنے ہیں جو منافق ہیں اور اس طرح اہل مدینہ سے بھی ایک گروہ منافقوں کا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مفاد کی خاطر مسلمانوں میں گھسے ہوئے ہیں اور نفاق میں یہ اتنے طاق اور ہوشیار ہیں کہ تمہارے لئے ان کا پہچاننا بہت ہی مشکل ہے اللہ ہی ان سب سے واقف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ نفاق میں اتنے شاطر ، مشاق اور پختہ کار ہوگئے ہوئے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Mentioned in several previous verses there are hypocrites whose hypocrisy stood exposed through their words and deeds, and the Holy Prophet ﷺ did realize that they were hypocrites. Mentioned in the present verse appearing above there are hypocrites whose hy-pocrisy was so perfect in its camouflage that it remained hidden from the Holy Prophet ﷺ until then. In this verse, two Divine punishments to come much before 'Akhirah upon such diehard hypocrites have been mentioned. In the first instance, right here in this world, they are consumed by the concern to hide their hypocrisy and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–129

89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.

Read the full tafseer →