At-Tawba 9:100

At-Tawba · from ayah 100

9:100

وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ— رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا ؕ— ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ۟وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And the first forerunners [in the faith] among the Muhajireen and the Ansar and those who followed them with good conduct - Allah is pleased with them and they are pleased with Him, and He has prepared for them gardens beneath which rivers flow, wherein they will abide forever. That is the great attainment.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 13 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tawba

All translations of 9:100

وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہی عظیم الشان کامیابی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی۔ اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں اور اس نے ان کے لیے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں اور ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو مہاجرین اور انصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وه سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ ان کی پیروی کی، اللہ ان سب سے راضی ہوگیا ہے، اور وہ اس سے راضی ہیں، اور اللہ نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور مہاجرین اور ان کے مددگار (انصار) میں سے سبقت لے جانے والے، سب سے پہلے ایمان لانے والے اور درجۂ احسان کے ساتھ اُن کی پیروی کرنے والے، اللہ ان (سب) سے راضی ہوگیا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لئے جنتیں تیار فرما رکھی ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں، یہی زبردست کامیابی ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور مہاجرین اور انصار میں سے سبقت کرنے والے سب سے پہلے لوگ اور وہ لوگ جو نیکی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اس سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے ایسے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے ایمان لانے میں سبقت کی اور وہ لوگ جنہوں نے احسن طریق پر ان کی اتباع کی، اللہ ان سب سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی بہت بڑی کامیابی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور مہاجرین و انصار میں سے جو سب سے پہلے سبقت کرنے والے ہیں اور پھر جن لوگوں نے خوبی کے ساتھ ان کی پیروی کی ہے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اس سے راضی ہوئے، اور اس نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، ان میں یہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور بڑی کامیابی یہی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور سب سے پہلے سبقت لے جانے والے مہاجر و انصار اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی اچھائی (اور اخلاص) کے ساتھ، اللہ راضی ہوگیا ان سب سے، اور یہ راضی ہوگئے اللہ سے، اور اس نے تیار فرما رکھی ہیں ان کے لئے ایسی عظیم الشان جنتیں، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں، جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا، یہی ہے سب سے بڑی کامیابی،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (جو) مہاجرین وانصار میں سے سابق ومقدم (ہیں)۔ اور جتنے لوگوں نے نیک کرداری میں ان کی پیروی کی۔ اللہ ان (سب) سے راضی ہوا اور وہ (سب) اس سے راضی ہوئے۔ اور اس نے ان کیلئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں کہ ان کے نیچے ندیاں بہہ رہی ہوں گی ان میں یہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے یہی بڑی کامیابی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے اور وہ جنہوں نے ان کی پیروی کی نیکوکاری کے ساتھ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اس نے ان کے لیے وہ باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے یہی ہے بہت بڑی کامیابی

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مہاجرین اور انصار میں سے جن لوگوں نے ایمان لانے میں سبقت کی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں۔ اور اللہ نے ان کے لیے باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And of those who led the way - the first of the Emigrants (Muhajirun) and the Helpers (Ansar), and those who followed them in the best possible manner - Allah is well-pleased with them and they are well-pleased with Allah. He has prepared for them Gardens beneath which rivers flow; therein they will abide forever. That is the supreme triumph.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for the first and foremost of the Emigrants (Muhajirin) and the Supporters (AnSar) and those who followed them in goodness, Allah is pleased with them and they are pleased with Allah, and He has prepared for them gardens beneath which rivers flow, where they will live for ever. That is the supreme achievement.

— Muhammad Taqi Usmani

As for the first and foremost of the Emigrants (Muhajirin) and the Supporters (AnSar) and those who followed them in goodness, Allah is pleased with them and they are pleased with Allah, and He has prepared for them gardens beneath which rivers flow, where they will live for ever. That is the supreme achievement.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And the foremost to embrace Islam of the Muhajirin and the Ansar and also those who followed them exactly (in faith). Allah is well-pleased with them as they are well-pleased with Him. He has prepared for them Gardens under which rivers flow (Paradise), to dwell therein forever. That is the supreme success.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the first to lead the way, of the Muhajirin and the Ansar, and those who followed them in goodness - Allah is well pleased with them and they are well pleased with Him, and He hath made ready for them Gardens underneath which rivers flow, wherein they will abide for ever. That is the supreme triumph.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And the first forerunners [in the faith] among the Muhajireen and the Ansar and those who followed them with good conduct - Allah is pleased with them and they are pleased with Him, and He has prepared for them gardens beneath which rivers flow, wherein they will abide forever. That is the great attainment.

— Saheeh International

God is well pleased with the foremost ones of those who left their homes for the cause of God, those who helped them after their arrival in Medina and those who nobly followed these two groups. He has prepared gardens for them wherein streams flow and wherein they will live forever. This, certainly is the supreme triumph.

— Muhammad Sarwar

And (as for) the foremost, the first of the Muhajirs and the Ansars, and those who followed them in goodness, Allah is well pleased with them and they are well pleased with Him, and He has prepared for them gardens beneath which rivers flow, to abide in them for ever; that is the mighty achievement.

— Muhammad Habib Shakir

And the Muhajirs and Ansar, the leaders and the first ones and those who followed them in well-doing, --well-pleased is Allah with them, and well pleased are they with Him, and He hath gotten ready for them Gardens where under the rivers flow, as abiders therein forever. That is the achievement supreme.

— Abdul Majid Daryabadi

The vanguard (of Islam)- the first of those who forsook (their homes) and of those who gave them aid, and (also) those who follow them in (all) good deeds,- well-pleased is Allah with them, as are they with Him: for them hath He prepared gardens under which rivers flow, to dwell therein for ever: that is the supreme felicity.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 9:100

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

سابقوں کو بشارت اس مبارک آیت میں اللہ تبارک وتعالیٰ ان مہاجرین و انصار سے جو سبقت لے جانے والوں میں اولین تھے اور ان کی تابعداری کرنے کی وجہ سے انہیں اپنی رضامندی کا اظہار فرما رہا ہے کہ انہیں نعمتوں والی ابدی جنتیں اور ہمیشہ کی نعمتیں ملیں گی۔ شعبی کہتے ہیں " ان سے مراد وہ مہاجر و انصار ہیں جو حدیبیہ والے سال بیعت الرضوان میں شریک تھے "۔ لیکن حضرت موسیٰ اشعری وغیرہ سے مروی ہے کہ " جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی "۔ حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر اس کا ہاتھ پکڑ کر دریافت فرمایا کہ تمہیں یہ آیت کس نے پڑھائی ہے ؟ اس نے کہا حضرت ابی بن کعب ؓ نے۔ آپ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 98–100

سورة التَّوْبَة 96 مطلب یہ ہے کہ جو زکوٰۃ ان سے وصول کی جاتی ہے اسے یہ ایک جرمانہ سمجھتے ہیں۔ مسافروں کی ضیافت و مہمانداری کا جو حق ان پر عائد کیا گیا ہے وہ ان کی بری طرح کھلتا ہے۔ اور اگر کسی جنگ کے موقع پر یہ کوئی چندہ دیتے ہیں تو اپنے دلی جذبہ سے رضائے الہٰی کی خاطر نہیں دینے بلکہ بادل ناخواستہ اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور جو مہاجرین اور انصار (ایمان لانے میں سب امت سے) سابق اور مقدم ہیں اور (بقیہ امت میں) جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ (ایمان لانے میں) ان کے پیرو ہیں اللہ ان سب سے راضی ہوا (کہ ان کا ایمان قبول فرمایا جس پر ان کو جزا ملے گی) اور وہ سب اللہ سے راضی ہوئے (کہ اطاعت اختیار کی جس کی جزاء سے یہ رضا اور زیادہ ہوگی) اور اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (اور) یہ بڑی کامیابی ہے۔ معارف و مسائل اس سے پہلی آیت میں دیہاتی مؤمنین مخلصین کا ذکر تھا، اس آیت میں تمام مؤمنین مخلصین کا ذکر ہے، جن میں ان کے درجات فضیلت کا بھی بیان ہے۔ (آیت)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آیات 100 تا 112 کا مضمون : آگے کی آیات میں پہلے ان لوگوں کی تحسین فرمائی ہے۔ جو اسلام کی طرف سب سے پہلے سبقت کرنے والے بنے یا جنہوں نے کمال اخلاص کے ساتھ ان کے نقش قدم کی پیروی کی۔ اسلامی معاشرہ کے اصل اجزائے ترکیبی یہی ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی خوشنودی اور فوز عظیم کی بشارت دی۔ پھر مدینہ اور دیہاتی علاقوں کے منافقین کی طرف اشارہ کیا ہے اور ان کو دنیا اور برزخ اور آخرت تینوں ہی میں عذاب عظیم کی دھمکی دی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ ان کو اسلام اور اسلامی معاشرہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پھر ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جن کو اس عظیم سورة نے جھنجھوڑ کر اپنے گناہوں کے اعتراف اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 اس میں تین گروہوں کا ذکر ہے ایک مہاجرین کا جنہوں نے دین کی خاطر، اللہ اور رسول ﷺ کے حکم پر مکہ اور دیگر علاقوں سے ہجرت کی اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مدینہ آگئے دوسرا انصار جو مدینہ میں رہائش پذیر تھے انہوں نے ہر موقع پر رسول اللہ ﷺ کی مدد اور حفاظت فرمائی اور مدینہ آنے والے مہاجرین کی خوب پذیرائی اور تواضع کی۔ اور اپنا سب کچھ ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ تیسری قسم وہ ہے جو ان مہاجرین و انصار کے خلوص اور احسان کے ساتھ پیروکار ہیں۔ اس گروہ سے مراد بعض کے نزدیک اصطلاحی تابعین ہیں جنہوں نے نبی ﷺ کو نہیں دیکھا لیکن صحابہ کرام کی صحبت سے مشرف ہوئے اور بعض نے اسے عام رکھا یعنی قیامت تک جتنے بھی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 98–100

75: یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمان مصیبت کے کسی ایسے چکر میں پڑجائیں کہ ان لوگوں کو اس قسم کے احکام سے آزادی مل جائے جن پر عمل کرنا انہیں بہت مشکل معلوم ہوتا ہے خاص طور پر غزوہ تبوک کے موقع پر ان لوگوں کو یہ امید لگی ہوئی تھی کہ اس مرتبہ مسلمانوں کا مقابلہ روم کی عظیم طاقت سے ہو رہا ہے اس لئے شاید اس بار وہ رومیوں کے ہاتھوں شکست کھا کر اپنی ساری طاقت کھو بیٹھیں گے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ درحقیقت یہ لوگ خود نفاق کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں جو انہیں دنیا اور آخرت دونوں کی رسوائی میں مبتلا کرکے رہے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بدوی معاشرے کے اس تجزیے کے بعد اب اگلی آیات میں اس وقت کے پورے اسلامی معاشرے کی پوزیشن کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں چار طبقات تھے۔ انصار و مہاجرین کے سابقین اولین مسلمان اور وہ لوگ جو صحیح معنوں میں ان کے متبع تھے۔ دوسرے وہ منافقین جو مدینہ کے باشندوں میں سے بھی تھے اور مدینہ کی اردگرد کی آبادیوں میں بھی پھیلے ہوئے تھے اور عمل نفاق میں خوب طاق ہوگئے تھے ، تیسرے وہ لوگ تھے جن کے کچھ کام اچھے تھے اور کچھ برے تھے اور چہارم وہ تھے جن کے بارے میں اللہ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اس فیصلے کا انتظار تھا۔ پہلا گروہ : وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 " اعراب مومنین " کے بعد مناسب معلوم ہوا کہ زعماء و اعیان مومنین کا کچھ ذکر کیا جائے یعنی جن مہاجرین نے ہجرت میں سبقت و اولیت کا شرف حاصل کیا، اور جن انصار نے نصرت و اعانت میں پہل کی، غرض جن لوگوں نے قبول حق اور خدمت اسلام میں جس قدر آگے بڑھ بڑھ کر حصے لیے، پھر جو لوگ نیکوکاری اور حسن نیت سے ان پیش روان اسلام کی پیروی کرتے رہے، ان سب کو درجہ بدرجہ خدا کی خوشنودی اور حقیقی کامیابی حاصل ہوچکی۔ جیسے انہوں نے پوری خوش دلی اور انشراح قلب کے ساتھ حق تعالیٰ کے احکام تشریعی اور قضاء تکوینی کے سامنے گردنیں جھکا دیں، اسی طرح خدا نے ان کو اپنی رضا و خوشنودی کا پروانہ دے کر غیر محدود انعام و اکرام سے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اب اہل ایمان کے مابین حفظ مراتب کا مضمون آ رہا ہے ‘ کیونکہ کسی بھی معاشرے میں تمام انسان برابر نہیں ہوتے : ؂ خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مرد ! مدینہ کے اس معاشرے میں بھی سب لوگ نظریاتی طور پر برابر نہیں تھے ‘ حتیٰ کہ جو منافقین تھے وہ بھی سب ایک جیسے منافق نہیں تھے۔ چونکہ انسانی فطرت تو تبدیل نہیں ہوتی اس لیے آئندہ بھی جب کبھی کسی مسلمان معاشرے میں کوئی دینی تحریک اٹھے گی تو اسی طرح کی صورت حال پیش آئے گی۔ تحریک کے ارکان کے درمیان درجہ بندی کا ایک واضح اور غیر مبہم ادراک نا گزیر ہوگا۔ لہٰذا یہ درجہ بندی حکمت قرآنی کا ایک بہت اہم موضوع ہے اور اس اعتبار سے یہ آیات بہت…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

112 اولین مہاجر و انصار صحابہ اور ان کے نام :۔ مردوں میں سب سے پہلے سیدنا ابوبکر ؓ ایمان لائے تھے۔ عورتوں میں سیدہ خدیجہ ؓ ۔ لڑکوں میں سیدنا علی اور غلاموں میں سیدنا زید بن حارثہ ؓ ان میں ماسوائے سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کے باقی سب آپ کے گھر کے افراد تھے۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کی کوشش سے جو حضرات ایمان لائے ان کے نام یہ ہیں۔ سیدنا عثمان ؓ ، سیدنا زبیر بن عوام ؓ ، سیدنا عبدالرحمن بن عوف ؓ ، سیدنا سعد بن ابی وقاص اور سیدنا طلحہ ؓ ۔ پھر ان کے بعد بہت سے لوگ مسلمان ہوئے اور یہ سب مہاجرین اولین اور سابقین ہیں۔ اور انصار میں سابقین و اولین وہ پانچ شخص ہیں جنہوں نے پہلے لیلۃ العقبہ میں بیعت کی تھی یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

182۔ (ساری امت سے، ایمان لانے کے لحاظ سے اور وہ سارے ہی کے سارے مہاجروانصار ہیں) (آیت) ” السبقون۔ اور الاولون “۔ دونوں میں ال استغراق وجنس کا ہے۔ اور من تبعیض کا نہیں، تبیین کیلئے ہے، اس لئے آیت میں جو مدح آئی ہے، اس کے مصداق سارے ہی صحابہ کرام ؓ ہیں نہ کہ ان کا کوئی مخصوص طبقہ۔ (آیت) ” المھجرین “۔ مہاجر وہ مسلمان کہلائے جو اپنا وطن مکہ چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و متابعت کے لئے ہجرت کرکے مدینہ آئے (آیت) ” الانصار “۔ انصار وہ مسلمان اہل مدینہ کہلائے جنہوں نے مہاجرین مکہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور رسول اللہ ﷺ اور دین اسلام کی ہر طرح خدمت ونصرت کی۔ 183۔ (اور اس امت کے سارے طبقات قیامت تک کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 100–110

آیت نمبر 100 تا 110 ترجمہ : وہ مہاجر وانصار جنہوں نے (دعوت ایمان کی طرف) سب سے پہلے (لبیک) کہنے میں سبقت کی اور وہ، وہ لوگ ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے یا جمیع صحابہ مراد ہیں نیز وہ لوگ جو عمل میں راستبازی کے ساتھ تا قیامت ان کے نقش قدم پر چلیں گے، اللہ ان کی طاعت سے راضی ہوا اور وہ اللہ کے اجر سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن میں نہریں جاری ہوں گی، اور ایک قراءت میں مِنْ کی زیادتی کے ساتھ ہے، اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہی عظیم الشان کامیابی ہے، اے اہل مدینہ تمہارے گردوپیش جو بدّو رہتے ہیں ان میں (بہت سے) منافق ہیں جیسا کہ اسلم اور اشجع، اور غفار، اور مدینہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والسبقون الاولون من المھجرین والانصار اور جو مہاجرین و انصار (ایمان لانے میں) سب سے آگے اور مقدم ہیں۔ المہاجرین یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے قبیلہ اور قوم کو چھوڑا ‘ وطن اور مال کو چھوڑا اور مکہ سے نکل گئے۔ مہاجرین سے مراد ہیں قریش مکہ۔ الانصار یعنی وہ مدینہ والے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو اس وقت جبکہ قوم والوں نے آپ کو نکلنے پر مجبور کردیا تھا ‘ اپنے پاس جگہ دی اور آپ کی مدد کی۔ سابقین سے کونسے مہاجر و انصار مراد ہیں ؟ سعید بن مسیب ‘ قتادہ ‘ ابن سیرین اور ایک جماعت تابعین کے نزدیک وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ عطاء بن ابی رباح کے نزدیک بدری صحابی مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(100) یعنی جو اولین ایمان لانے والے اور مقدم ہیں اور جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے، اور بدر میں شریک ہوئے ہیں اور قیامت کے فرض ادا کرنے اور گناہ سے بچنے میں جتنے لوگ ان کے پیرو ہیں، اللہ رب العزت ان سب سے راضی ہوئے اور وہ سب اللہ رب العزت سے اجروثواب کے ملنے سے راضی ہوئے اور رب العزت کی طرف سے ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے درختوں اور مکانات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گے، وہ جنت میں سدا رہیں گے، وہ موت وحیات کی کشمکش سے آزاد ہوں گے اور اللہ رب العزت کی خوشنودی اور باغات بہت بڑی کامیابی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ : مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے ذکر کے بعد اس کے اردگرد رہنے والے بعض اعراب منافقین کا ذکر فرمایا، پھر بعض اعراب مومنوں کے اخلاص کا ذکر فرمایا اور انھیں اپنی رحمت کی خوش خبری سنائی، اب ان سے اعلیٰ مراتب والے خوش نصیبوں کا تذکرہ ہے۔ چناچہ اس آیت میں نبی ﷺ کے زمانے کے تین گروہوں کی تعریف فرمائی ہے، پہلا گروہ مہاجرین میں سے سبقت کرنے والے پہلے لوگ۔ ان کی تعیین میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں، وہ لوگ جنھوں نے مکہ میں اپنی جائدادیں، گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر ہجرت کی، بعض نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھنے والے، بعض نے بدری صحابہ، بعض نے بیعت رضوان تک والے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 100 اس میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ جب اللہ تعالیٰ نے اعرابیوں کی اقسم ذکر کیں تو پھر اس نے مہاجرین وانصار کا ذکر کیا اور بیان فرمایا کہ ان میں سے پہلے پہلے ہجرت کرنے والے بھی ہیں اور ان میں سے ان کی اتباع اور پیروی کرنے والے بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی۔ تحقیق ان کے طبقات اور ان کی اصناف کی تعداد میں اختلاف ہے۔ ہم اس میں سے کچھ ذکر کریں گے اور اس میں غرض اور مدعی بیان کریں گے انشاء اللہ تعالی۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے (آیت) والانصار کو (آیت) السابقون پر عطف کرتے ہوئے رفع کے ساتھ پڑھا ہے (2) (المحررالوجیز، جلد 3، صفحہ 74) ۔ اخفش نے کہا ہے :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابوعبید وسعید وابن جریر وابن منذر وابن جریر ورحمہم اللہ نے عمر بن عامر الانصاری ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے یوں پڑھا (آیت) ” والسبقون الاولون من المھجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان “ انہوں نے لفظ انصار کو رفع دیا اور ” الذین “ میں واو نہیں لگایا زیدبن ثابت ؓ عنہنے ان سے کہا یہ والذین ہے لیکن عمر ؓ نے فرمایا یہ الذین ہے زید نے کہا امیر المومنین زیادہ جانتے ہیں عمر ؓ نے فرمایا میرے پاس ابی بن کعب ؓ کو لے آؤ جب وہ ان کے پاس آئے تو انہوں نے اس بارے میں ان سے پوچھا تو ابی نے فرمایا ” والذین “ عمر ؓ نے فرمایا ہاں اب ٹھیک ہے اور انہوں نے ان کی پیروی کی۔ 2:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ [اور پہلے سبقت کرنے والے ] مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ [ مہاجروں میں سے ] وَالْاَنْصَارِ [ اور انصار میں سے ] ووَالَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] اتَّبَعُوْھُمْ [ پیروی کی ان کی ] بِاِحْسَانٍ ۙ [ بلاکم وکاست ] رَّضِيَ [ راضی ہوا ] اللّٰهُ [اللہ ] عَنْھُمْ [ ان سے ] وَرَضُوْا [اور وہ راضی ہوئے ] عَنْهُ [اس سے ] وَاَعَدَّ [ اور اس نے تیار کیے ] لَھُمْ [ ان کے لیے ] جَنّٰتٍ [ایسے باغات ] تَجْرِيْ [بہتی ہیں ] تَحْتَهَا [ جن کے نیچے ] الْاَنْهٰرُ [ نہریں ] خٰلِدِيْنَ [ ایک حالت میں رہنے والے ہوتے ہوئے ] فِيْهَآ [ ان میں ] اَبَدًا ۭ [ہمیشہ ہمیش ] ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

سبقت لے جانے والے مہاجرین اور انصار اور ان کا اتباع کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہے اس آیت میں حضرات مہاجرین اور انصار میں جو سابقین اولین تھے ان کی تعریف فرمائی۔ اور جنہوں نے احسان اور اخلاص کے ساتھ ان کا اتباع کیا ان کی بھی تعریف فرمائی، اور یہ اعلان فرمایا کہ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ بھی اللہ سے راضی ہوئے۔ ان کی اخروی نعمتوں کا بھی تذکرہ فرمایا کہ ان کے لیے ایسے باغ تیار فرمائے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور آخر میں فرمایا کہ یہ بڑی کامیابی ہے۔ جن حضرات نے اسلام کی طرف سبقت کی مہاجرین میں سے ہوں یا انصار میں سے اور جن حضرات نے ان کا اتباع کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

ذکر اعیان مومنین و فضائل سابقین اولین قال اللہ تعالیٰ ۔ و السابقون الاولون۔۔۔ الی۔۔۔ ذلک الفوز العظیم (ربط): اوپر کی آیت میں مومنین اعراب کا ذکر تھا جو متوسط درجہ کے مومن تھے اب اس آیت میں اعیان مومنین یعنی چیدہ اور پسندیدہ مسلمانوں کا ذکر ہے جن کو ایمان کا اعلی مرتبہ حاصل تھا۔ یعنی سابقین اولین اور مہاجرین وانصار کے فضائل و مراتب کا ذکر ہے جن کو سبقت اور اولیت کا شرف حاصل ہوا اور یہ طبقہ امت کے تمام طبقوں سے افضل ہے چناچہ فرماتے ہیں اور مہاجرین اور انصار میں سے قبول اسلام اور ہجرت اور نصرت میں سب امت سے سبقت کرنے والے اور سب سے اول رہنے والے اور جن لوگوں نے ان کے بعد ایمان اور اخلاص کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

96:“ وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ الخ ” یہ مہاجرین و انصار اور ان کے نقش پر چلنے والوں کے لیے بشارتِ اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 100–101

ربط آیات : غزوہ تبوک کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ گذشتہ درس میں شہری منافقوں کے ساتھ ساتھ دیہاتی منافقوں کی بھی خدمت بیان ہوئی اور فرمایا کہ دیہات میں بعض مخلص مومن بھی رہتے ہیں جن کی اللہ نے تعریف بیان کی اور ان کے انعامات کا ذکر کیا۔ اب آج کی پہلی آیت اپنا الگ مضمون رکھتی ہے اور اس کے بعد پھر منافقین کی مذمت کا سلسلہ شروع ہو جات ہے۔ اس درمیانی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نیکی میں سبقت کرنے والے مخلص مہاجرین اور انصار کا ذکر کیا ہے اور باقیوں کے لیے انہیں بطور نمونہ پیش کیا ہے حاصل مقصد یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں دین کی اقامت کے لیے اس جماعت کو مرکزیت حاصل ہے۔ باقی لوگ ان کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِـاِحْسَانٍ۝ 0 ۙ رَّضِيَ اللہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْہَآ اَبَدًا۝ 0 ۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ۝ 100 سبق أصل السَّبْقِ : التّقدّم في السّير، نحو : فَالسَّابِقاتِ سَبْقاً [ النازعات/ 4] ، والِاسْتِبَاقُ : التَّسَابُقُ. قال : إِنَّا ذَهَبْنا نَسْتَبِقُ [يوسف/ 17] ، وَاسْتَبَقَا الْبابَ [يوسف/ 25] ، ثم يتجوّز به في غيره من التّقدّم، قال : ما سَبَقُونا إِلَيْهِ [ الأحقاف/ 11][ أَنْ يَسْبِقُونَا } يَفُوتُونَا فَلَا نَنْتَقِم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

2 ؎ پیش قدمی اسلام میں کہ سب سے اول ایمان لائے یا عموماً ہر نیک کام میں دوڑ پڑنا اور پیش قدمی کرنا ان کا شیوہ ہے۔ 12 منہ ترکیب : جزاء مفعول مطلق اے یجزون جزاء مفعول لہ بھی ہوسکتا ہے من الاعراب خبر ہے من کی مغرما مفعول ہے یتخذ کا ویتربص کا مفعول الدوائر جمع دائرۃ یہ معطوف ہے یتخذ پر السوء بالضم مصدر ہے وما بفتح بمعنی الفساد۔ السابقون مبتداء رضی اللّٰہ عنہم الخ جملہ خبر ہے۔ تفسیر : چونکہ جھوٹ بولنا زمانہ سازی کرنا منافقوں کا کام ہے۔ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ بوقت واپسی آنحضرت ﷺ یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھائیں گے اور حیلہ بنائیں گے تاکہ آنحضرت ﷺ اور مسلمان ان سے درگذر کریں اور راضی ہوجاویں۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالسَّبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ لا رَّضِیَ اللَّہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْاعَنْہُ وَاَعَدَّلَھُمْ جَنَّتٍ تَجْرِیْ تَحْتَھَاالْاَنْھٰرُخٰلِدِیْنَ فِیْھَآاَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُالْعَظِیمُ (التوبہ : 100) (اور مہاجرین و انصار میں سے جو سب سے پہلے سبقت کرنے والے ہیں اور پھر جن لوگوں نے ان کی خوبی کے ساتھ پیروی کی ہے اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اس نے تیار کر رکھے ہیں ان کے لیے ایسے باغات جن کے نیچے ندیاں رواں ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور بڑی کامیابی یہی ہے۔ ) کفار مشرکین اور منافقین پر تنقید…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : منافقت سے اجتناب کرنے، نیکی کا حکم دینے کے بعد نیکی میں سبقت اختیار کرنے کی ترغیب : دیہاتی مخلصین کے تذکرہ کے بعد اسلام میں سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار کی فضیلت و منقبت کا بیان کیا گیا ہے۔ جس میں ان کی حوصلہ افزائی اور دوسروں کے لیے نیکیوں میں سبقت کرنے کی تلقین پائی جاتی ہے۔ اب ان پاکباز ہستیوں کی خدمات کا تذکرہ شروع ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کی خاطر سب کچھ قربان کیا اور اپنا وطن چھوڑ کر بےخانماں ہوئے۔ مہاجرین اور انصار میں سابقون الاولون کے بارے میں اہل علم کی مختلف آراء پائی جاتی ہیں جن میں اکثریت کا خیال ہے کہ ” سابقون الاولون “ سے مراد وہ صحابہ کرام ؓ ہیں جو غزوہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سابقون الاولون کا تذکرہ : آیت 100: وَالسّٰبِقُوْنَ (اور سبقت کرنے والے) یہ مبتداء ہے۔ الْاَوَّلُوْنَ (پہلے) یہ مبتداء کی صفت ہے مِنَ الْمُھٰجِرِیْنَ (جو مہاجر) من بیانیہ ہے۔ نمبر 1۔ اس سے مراد وہ لوگ جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ نمبر 2۔ جو بدر میں میں حاضر ہوئے۔ نمبر 3۔ بیعت رضوان میں جو موجود تھے۔ وَالْاَ نْصَارِ (اور انصار ہیں) اس کا عطف المہاجرین پر ہے ای ومن الانصاریہ بیعت عقبہ اولیٰ والے ہیں جنکی تعداد سات تھی اور بیعت عقبہ ثانیہ والے جنکی تعداد ستر 70 تھی۔ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ (اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں) مہاجرین انصار میں سے نمبر 1۔ اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

100 ” والسبقون الاولون من المھجرین والا نصار “ مرفوع ہے باری تعالیٰ کے قول ” والسابقون “ پر عطف ہے۔ سابقون الا ولون مہاجرین والا نصار میں سے کون ہیں سابقون سے کون مراد ہیں اس میں اختلاف ہے۔ سعید بن مسیب ‘ قتادہ ‘ ابن سیرین اور جماعت نے کہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ یہ اہل بدر ہیں اور شعبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو بیعت رضوان میں حاضر ہوئے تھے اور بیعت رضوان حدیبیہ میں ہوئی اور اس میں اختلاف ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی اہلیہ حضرت خدیجہ ؓ کے بعد کون پہلے ایمان لایا اور اس با پر تو اتفاق ہے کہ حضرت خدیجہ ؓ رسول اللہ ﷺ پر سب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

100۔ گنواروں کے بعد اللہ جل شانہ شہر والوں کا ذکر فرمایا ہے اس مقام پر مفسرین کا اختلاف ہے کہ سابقین سے کون لوگ مراد ہیں لیکن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگردوں میں جہاد مجاہد کا قول نہ ہو تو سعید بن المسیب کے قول کے موافق رفع اختلاف کیا جاتا ہے سعید بن مسیب کے قول کے موافق مہاجرین اور انصار میں سابقین وہ صحابہ ہیں جو بیت المقدس اور بیت اللہ دونوں قبلوں کی نمازوں میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک 1 ؎ تھے۔ عطاء بن ابی رباح کا قول ہے کہ جو صحابہ بدر کی لڑائی سے پہلے اسلام لائے اور اس لڑائی میں شریک ہوئے ان ہی کو سابقون فرمایا 2 ؎ ہے۔ یہی قول شاہ صاحب نے اپنے فائدہ میں لیا ہے۔ دو قبلوں کی نماز اور بدر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت (100) (والسبقون الاولون) ” جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے “ اس سے مراد اس امت کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان ‘ ہجرت ‘ جہاد اور اقامت دین میں سبقت کی۔ (من المھجرین) ” ہجرت کرنے والوں میں سے۔ “ یعنی وہ لوگ جن کو ان کے گھروں اور مال و متاع سے بےدخل کر کے نکال دیا گیا ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی رضا کی تلاش میں رہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ یہی درحقیقت سچے لوگ ہیں۔ (والانصار) ” اور انصاف میں سے۔ “ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے مہاجرین سے پہلے ‘ ہجرت کے گھر (یعنی مدینہ منورہ) اور ایمان میں جگہ پکڑی ‘ جو کوئی ہجرت کر کے ان کے پاس جاتا ہے یہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے والسابقون الاولون من المھاجرین والانصار والذین اتیعوھم باحسان اور وہ مہاجر انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی نیز وہ جو بعد میں راستبازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے۔ آیت میں اس بات کی دلالت موجود ہے کہ نیکی اور بھلائی کی طرف سبقت کر جانے والا بعد میں آنے والے سے افضل ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ سبقت کر کے وہ گویا اس نیکی کا داعی بن جاتا ہے اور بعد میں آنے والا اس کا تابع قرار پاتا ہے۔ اس طرح سابق تابع کا امام ہوتا ہے اور اسے تابع کے اجر کے برابر بھی اجر ملتا ہے ۔ جس طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے ( من سن سنۃ حسنۃ فلہ اجوھا واجرمن عمل بھا الی یومالقیامۃ ومن سن سنۃ سیئۃ فعلیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

187 حضرات صحابہ کرام کے لیے رضائے خداوندی کا مژدہ جانفزا : سو حضرات صحابہ کرام سب کے سب اللہ کے پیارے اور اس کی رضاء و خوشنودی سے سرفراز و سرشار ہیں۔ یہاں پر یہ فرق بھی واضح رہے کہ انصار و مہاجرین کے لئے رضائے حق کے اس مژدہ جانفزا کو تو مطلق اور بغیر کسی شرط و قید کے ذکر فرمایا گیا ہے مگر ان کے اتباع " پیروکاروں " کے لئے اس کو بھلائی کے ساتھ پیروی کرنے { اِتّباع بالْاِحْسان } کی قید کے ساتھ مقید و مشروط کرکے ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام سب کے سب اللہ کے پیارے اس کی رحمت و رضا سے سرفراز و سرشار اور جنتی ہیں۔ اور ان سے بغض وعناد رکھنے والا اور ان پر طعن وتشنیع کرنے والا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 100–103

مہاجرین اور انصار صحابہ کے لیے خوشخبری اور منافقوں کے لیے عذاب تشریح : پچھلی آیات میں دیہاتی مومنین کا ذکر تھا اب یہاں تمام مخلص مومنین کا ذکر ہے اور پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو نبی اکرم ﷺ کی آواز پر فوراً مسلمان ہوگئے (جن میں مہاجرین وانصار شامل ہیں) اور کچھ نیک نیتی سے آہستہ آہستہ ان کے بعد مسلمان ہوتے گئے اور ان سب نے پورے خلوص کے ساتھ اسلام کے قوانین کی پابندی کی۔ پہلے گروہ کو صحابہ اور دوسرے کو تابعین کہیں گے اور بعض نے قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کو ان میں شامل کیا ہے۔ دوسری صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ غزوئہ تبوک کے لیے کچھ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 100–110

آیات 100 تا 110 اسرار و معارف سابقون الا ولون بلکہ تمام انسانیت پر سبقت لے جانے والے لوگ کہ بجزانبیاسب سے افضل ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمادی کہ فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں لہٰذ افتح مکہ سے قبل جسقدر صحابہ کرام گھر چھوڑ کر اللہ کی راہ میں نکلے اور آپ ﷺ کی اطاعت میں کمربستہ ہوئے سب مہاجر ہیں ۔ انصار مدینہ منورہ کے ان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو فرمایا گیا جنہوں نے مہاجرین کونہ صرف قبول کیا جگہ دی جائیدادیں ان کے ساتھ بانٹ لیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ داد شجاعت دی اور اسلام کو غالب کرنے اور کفر کے مقابلہ میں سربکف رہے ۔ اگر چہ علماء نے مختلف انداز سے تعین کی کوشش فرمائی ہے مگر سید ھا سادا معنی یہی ہے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 بعض اعراب (گنواروں) کا اخلاص اور ان کو رحمت کی خوش خبری سنانے کے بعد ان سے اعلی مراتب کے لوگوں کی طرف اشارہ فرمایا یعنی مہاجرین اور انصار جنہوں نے ہجرت و نصرت دین میں پہل کی۔ ان کی تعیین میں مفسرین سے مختلف اقوال منقول ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اول سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی اور بعض نے بیعت رضوان (صلح حدیبیہ) میں شامل ہونے والے اور بعض نے بدری صحابہ مراد لیے ہیں۔ اور انصار سے مراد وہ لوگ ہیں جو بیعت عقبہ (اولی و ثانیہ) میں شریک ہوئے اور پھر وہ لوگ جو مدینہ میں حضرت مصعب بن عمیر کی آمد پر مسلمان ہوگئے تھے۔ مگر ہجرت و نصر کے اعتبار سے درجہ بدرجہ سبھی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(9:100) السابقون۔ آگے پہنچنے والے۔ آگے بڑھنے والے۔ سبق سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ سابق کی جمع۔ الاولون۔ اول کی جمع۔ السابقون الاولون من المھجرین والانصار۔ (مہاجرین و انصار میں سے وہ لوگ جنہوں نے ایمان و اطاعت میں سبقت اور پہل کی) سے کون حضرات مراد ہیں۔ ان کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) شعبی کہتے ہیں ان سے مراد مہاجرین و انصار ہیں جنہوں نے جنگ حدیبیہ میں بیعت رضوان کا شرف حاصل کیا۔ (2) حضرت ابو موسیٰ اشعری۔ سعید بن المسیب۔ حسن اور قتادہ ؓ کا قول ہے کہ : ان سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے رسول خدا ﷺ کے ساتھ قبلتین کی طرف نماز پڑھی ۔ (3) وہ لوگ جو جنگ بدر میں شہید ہوئے۔ اور اگر انصار کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

لغات القرآن آیت نمبر 100 السبقون الاولون (سب سے پہلے ایمان لانے میں جو آگے بڑھے) اتبغوا (انہوں نے اتباع کیا، پیروی کی) احسان (نیکی) ؓ (اللہ خوش ہوگیا، راضی ہوگیا) رضوا (وہ خوش ہوگئے۔ راضی ہوگئے) اعد (اس نے تیار کر رکھا ہے) تشریح :- آیت نمبر 100 عام اصطلاح میں صحابی اس شخص کو کہتے ہیں جس نے ایمان کی حالت میں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایک مرتبہ دیکھا ہو۔ ایمان کی حالت پر قائم رہتے ہوئے ایمان ہی کی حالت میں اس کا انتقال ہوا ہو۔ جس کو یہ مرتبہ و مقام حاصل ہوا کائنات میں نبی مکرم ﷺ اور انیباء کرام کے بعد اس سے بہتر و اعلیٰ مخلوق کوئی نہیں ہے صحابہ کرام بلاشک و شبہ تمام انسانوں میں ایک…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

صحابہ کی شان اور ان سے بدگوئی سے زبان روکنے کی تاکید یعنی رافضیوں کا رد ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ عام مسلمانوں پر جنہیں فضیلت وسبقت ہے وہ دو طرح کے لوگ ہیں : ایک تو وہ جو سب سے پیشتر مسلمان لو کر مدینہ میں ہجرت کر کے آئے۔ اسی طرح سابقین میں اہل بدر بھی داخل ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی، اور اہل بیعت رضوان اور انصار بھی یعنی وہ مسلمان جو مدینہ میں سکونت رکھتے تھے اور مکیوں (اہل مکہ) کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس سے عقبہ اولیٰ اور عقبہ ثانیہ کی بیعت کرنے والے مقصود ہیں جو کل ستر آدمی تھے۔ یا ان سے وہ لوگ مراد ہیں جو مصعب بن عمیر ؓ کے ہاتھ پر خدا اور رسول کے مطیع ہوئے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[52] نبوت کے تیرہویں سال رسول اللہ ﷺ کفار مکہ کی ایذا رسانیوں سے عاجز آ کر اللہ کے حکم سے مدینے چلے گئے۔ اس ترک وطن کا نام ہوا ہجرت۔ دوسرے مسلمان بھی رسول اللہ ﷺ کے آگے پیچھے مکہ سے ترک وطن کر کے مدینے میں جمع ہوتے گئے۔ یہ پردیسی مسلمان مہاجر کہلائے اور مدینے کے مسلمان جنہوں نے مہاجرین مکہ کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اسلام اور پیغمبر اسلام کی ہر طرح خدمت و نصرت کی انصار کہلائے۔ [53] اس میں امت مسلمہ کے سارے طبقات قیامت تک کے لئے آگئے۔ [54] سابقون الاولون کی تشریح اوپر گزر چکی ہے ( آیت 100) ان کی محبت ایمانی کا یہ حال تھا کہ انہوں نے راہ حق کی مصیبتیں صرف جھیلی ہی نہیں بلکہ دل کی پوری خوشحالی اور…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

سند رضا : (ف 2) اس آیت میں وضاحت کے ساتھ یہ فرمایا ہے کہ وہ صحابہ کرام ؓ اجمعین جن کو ایمان میں سبقت کا فخر حاصل ہوا ہے اور مہاجر ہوں یا انصاری اور وہ لوگ جن کو ان کی پیروی کی سعادت نصیب ہوئی ہے مقام رضاء پر فائز ہیں ، یعنی اللہ ان سے خوش ہیں ، اور وہ ہمیشہ اس کی رضاء کے جویاں رہے ، ان کے لئے جنات خلد کے جواب کھلے ہیں ، اور یہی فوز عظیم کی خوشخبری ہے جس سے وہ بہرہ مند ہیں ، کہئے وہ لوگ جو صحابہ کی شان میں گستاخی سے پیش آتے ہیں ، اور ان لوگوں کی توہین کرنا جزو ایمان سمجھتے ہیں ، جو جب تک زندہ رہے ، پیغمبر کی آنکھوں کا نور ہے ، اور جب مرے تو رضا الہی کی سند حاصل کر کے کیا یہ بدبختی و محرومی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

100 اور وہ مہاجر اور ترک وطن کرنے والے اور مہاجرین کی مدد کرنے والے انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمانی کے قبول کرنے میں سبقت کی اور جنہوں نے اخلاص کے ساتھ دعوت ایمانی کو قبول کرنے میں مہاجروں و انصار کا اتباع کیا اور مہاجرین و انصار کی پیروی کی اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہوا اور وہ سب اس سے راضی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان سب کے لئے ایسے باغ تیارکررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ انعامات کا حصول سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یعنی وہ مہاجرین و انصار جو ایمان لانے میں مقدم اور سابق ہیں خواہ وہ مسلمان ہوں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نما ز پڑھی ہو خواہ وہ ہوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ سابقون الاولون میں سب مہاجر و انصار آگئے اور الذین التبعوھم میں بقیہ مومنین جن میں اول درجہ تو ان کا ہے جو صحابہ ہیں گو مہاجر و انصار نہیں کیونکہ اخیر میں ہجرت فرض نہ تھی مسلمان ہو کر اپنے اپنے گھررہنے کی اجازت تھی اور دوسرا درجہ تابعین بالمعنی الاصطلاحی کا ہے پھر غیر صحابہ وغیر تابعین کا پھر خود اس اخیر درجہ میں بھی تفاوت ہے کہ تبع تابعین فضل میں اوروں سے مقدم ہیں جس طرح صحابہ میں مہاجرین و انصار دوسرے صحابہ سے افضل ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سابقون الاولون کے درجات سب کے درجات سے سوا ہیں : 131: قرآن کریم نے نیک لوگوں کے لئے بھی تین درجات قائم کئے ہیں۔ درجہ اول میں السابقون الاولون ہیں اور درجہ دون میں دائیں والوں کو رکھا گیا ہے اور درجہ ثالثہ عام مسلمانوں کا ہے۔ پھر ان تینوں اقسام میں ہر ایک کی ضمنی اقسام بھی بیان کی گئی ہیں تفصیل کی اس جگہ گنجائش نہیں اس جگ ان پاک ہستیوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کو مہاجرین و انصار کے نام سے موسوم کیا گیا جنہوں نے اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو اس وقت قبول کیا جب کہ اس کو قبول کرنا لوہے کے چنے چپانے کے مترادف تھا اور جس دعوت کو قبول کر کے ہزاروں مصیبتوں اور تکلیفوں کو دعوت دینا سمجھتا جاتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The verse before this (99) carried a description of sincere and true Muslims among the Bedouins of the desert. The present verse mentions all sincere and true Muslims along with their relative degrees of excellence. Let us begin with the opening statement: السَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِ‌ينَ وَالْأَنصَارِ‌ (the first and foremost of the Emigrants and the Supporters)._ Most commentators have taken the preposition مِن (min) for tab'id which denotes a part of something and may be translated as 'out of) and thus have set up two categories of the noble Sahabah from among…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 87–129

89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.

Read the full tafseer →