Explained with ayahs 97–99
دیہات، صحرا اور شہر ہر جگہ انسانی فطرت یکساں ہے
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ دیہاتیوں اور صحرا نشین بدؤں میں کفار و منافق بھی ہیں اور مومن مسلمان بھی ہیں۔ لیکن کافروں اور منافقوں کا کفر و نفاق نہایت سخت ہے۔ ان میں اس بات کی مطلقاً اہلیت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان حدوں کا علم حاصل کریں جو اس نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائی ہیں۔ چناچہ ایک اعرابی حضرت زید بن صوحان کے پاس بیٹھا ہوا تھا اس وقت یہ اس مجلس میں لوگوں کو کچھ بیان فرما رہے تھے۔ نہاوند والے دن انکا ہاتھ کٹ گیا تھا۔ اعرابی بول اٹھا کہ آپ کی باتوں سے تو آپ کی محبت میرے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ لیکن آپ کا یہ کٹا ہوا ہاتھ مجھے اور ہی شبہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
سورة التَّوْبَة 96
مطلب یہ ہے کہ جو زکوٰۃ ان سے وصول کی جاتی ہے اسے یہ ایک جرمانہ سمجھتے ہیں۔ مسافروں کی ضیافت و مہمانداری کا جو حق ان پر عائد کیا گیا ہے وہ ان کی بری طرح کھلتا ہے۔ اور اگر کسی جنگ کے موقع پر یہ کوئی چندہ دیتے ہیں تو اپنے دلی جذبہ سے رضائے الہٰی کی خاطر نہیں دینے بلکہ بادل ناخواستہ اپنی وفاداری کا یقین دلانے کے لیے دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →دیہاتی منافقین کے حالات کا ذکر کرنے کے بعد قرآنی اسلوب کے مطابق تیسری آیت میں ان دیہاتیوں کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھا گیا جو سچے اور پکے مسلمان ہیں، تاکہ معلوم ہوجائے کہ دیہات کے باشندے بھی سب ایک سے نہیں ہوتے، ان میں مخلص مسلمان اور سمجھ دار لوگ بھی ہوتے ہیں، ان کا حال یہ ہے کہ وہ جو زکوٰة و صدقات دیتے ہیں تو اس کو اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ سمجھ کر اور رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں کی امید پر دیتے ہیں۔
صدقات کا اللہ تعالیٰ کے تقرب کا ذریعہ ہونا تو ظاہر ہی ہے، رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں کی امید اس بناء پر ہے کہ قرآن حکیم نے جہاں رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں سے اموال زکوٰة وصول کرنے کا حکم دیا ہے وہیں یہ بھی…
Read the full tafseer →وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ۭ اَلَآ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّھُمْ ۭ سَـيُدْخِلُھُمُ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ قربات، قربۃ کی جمع ہے۔ اس سے مراد برّ وتقوی اور احسان و انفاق کے وہ کام ہیں جو خدا کے تقرب کا وسیلہ و ذریعہ بنتے ہیں۔
اعراب میں مخلصین اور راست باز : اعراب، میں جو مخلص اور راست باز مسلمان تھے یہ ان کا بیان ہے۔ فرمایا کہ ان اعراب میں سچے اور پکے مسلمان بھی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر مضبوط ایمان رکھتے ہیں۔ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو یہ منافقین کی…
Read the full tafseer →99۔ 1 یہ اعراب کی دوسری قسم ہے جن کو اللہ نے شہر سے دور رہنے کے باوجود، اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی۔ اور اس ایمان کی بدولت ان سے وہ جہالت بھی دور فرما دی جو بددینیت کی وجہ سے اہل بادیہ میں عام طور پر ہوتی ہے۔ چناچہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردہ مال کو جرمانہ سمجھنے کی بجائے۔ اللہ کے قرب کا اور رسول کی دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہ اشارہ ہے رسول اللہ کے اس طرز عمل کی طرف، جو صدقہ دینے والوں کے بارے میں آپ تا یعنی آپ ان کے حق میں دعائے خیر فرماتے۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے کہ ایک صدقہ لانے والے کے لئے آپ نے دعا فرمائی اللَّہُمَّ صَلِّ عَلَی آلِ اَبِیْ اَوْفٰی (صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–100
75: یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ مسلمان مصیبت کے کسی ایسے چکر میں پڑجائیں کہ ان لوگوں کو اس قسم کے احکام سے آزادی مل جائے جن پر عمل کرنا انہیں بہت مشکل معلوم ہوتا ہے خاص طور پر غزوہ تبوک کے موقع پر ان لوگوں کو یہ امید لگی ہوئی تھی کہ اس مرتبہ مسلمانوں کا مقابلہ روم کی عظیم طاقت سے ہو رہا ہے اس لئے شاید اس بار وہ رومیوں کے ہاتھوں شکست کھا کر اپنی ساری طاقت کھو بیٹھیں گے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ درحقیقت یہ لوگ خود نفاق کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں جو انہیں دنیا اور آخرت دونوں کی رسوائی میں مبتلا کرکے رہے گا۔
Read the full tafseer →اللہ پر ایمان اور جزائے یوم آخرت کی امیدواری کی وجہ سے یہ لوگ خرچ کرتے ہیں ، عوام الناس کے خوف کی وجہ سے نہیں اور نہ اہل اقتدار کو خوش کرنے کے لیے ۔ نہ ان لوگوں کے پیش نظر دنیا کا سود و زیاں ہے۔ بلکہ یہ فریق اللہ اور یوم آخرت پر پختہ ایمان رکھتا ہے اور جو کچھ خرچ کرتا ہے محض رضائے الہی کے لیے خرچ کرتا ہے۔ اور اس بات کا طلبگار ہے کہ رسول خدا ان کے حق میں دعائے خیر کردیں اور حضور کسی کے لیے تب ہی دعا کرتے ہیں جب وہ کسی سے راضی ہوں اور جب آپ کسی کے لیے دعا کردیں تو یقینی ہے کہ وہ شخص مفہوم دعا کو پا گیا۔ کیونکہ حضور کی دعا ہی ان کے ایمان ، بعد ، ایمان بالآخرت اور طلب رضائے الٰہی اور خلوص کی…
Read the full tafseer →1 یہاں قرآن کریم کی معجزانہ تاثیر اور نبی کریم ﷺ کی تعلیم کا حیرت انگیز کرشمہ دکھلایا ہے کہ ان ہی درشت مزاج، سنگدل، تُندخو گنواروں میں جو کفر و نفاق اور جہل و طغیان کی وجہ سے اس لائق ہی نہ تھے کہ خدا کے بتلائے ہوئے ادب اور قاعدے سمجھ سکیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیم اور قرآن کریم کی آواز نے ایسے عارف اور مخلص افراد پیدا کردیے جو مبداً و معاد سب چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے ہیں، خالص قرب الٰہی حاصل کرنے اور پیغمبر ﷺ کی دعا لینے کی غرض سے کرتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے ان کو بشارت دی کہ بیشک وہ اپنی امیدوں میں حق بجانب ہیں۔ یقینا ان کو وہ چیز مل کر رہے گی جس کی نیت کی ہے (یعنی…
Read the full tafseer →آیت 99 وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَیَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ط
یعنی یہ بادیہ نشین لوگ سب کے سب ہی کفر و نفاق پرکار بند اور انفاق فی سبیل اللہ کو تاوان سمجھنے والے نہیں ہیں ‘ بلکہ ان میں سچے مؤمن بھی ہیں ‘ جو نہ صرف اللہ کے راستے میں شوق سے خرچ کرتے ہیں بلکہ اس انفاق کو تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ دین کے لیے مال خرچ کرنے سے اللہ کے رسول ﷺ کی دعائیں بھی ان کے شامل حال ہوجائیں گی۔
Read the full tafseer →111 بدوی مومنوں کا کردار :۔ یعنی یہ بدو لوگ بھی سب ایک جیسے نہیں۔ ان میں سے بھی کچھ حقیقی مومن ہیں۔ قرآن کی معجزانہ تاثیر اور آپ کی تعلیم سے کافی حد تک متاثر ہوچکے ہیں اور اللہ کی راہ میں رغبت اور خوش دلی سے خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرتے وقت دو مقاصد ان کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ ایک قرب الٰہی کا حصول دوسرے آپ سے دعا لینے کی آرزو۔ کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی تھی کہ جب آپ صدقہ وصول کریں تو صدقہ دینے والے کو دعا دیا کریں۔ اس لیے کہ آپ کی دعا انکے لیے باعث تسکین ہوتی ہے۔ اور اس دعا کا ثمرہ بھی اللہ کی رحمت اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو بشارت دی ہے کہ واقعی ان…
Read the full tafseer →181۔ (سو وہ کیوں نہ ان مومنین صادقین پر رحمت ومغفرت کی بارش کردے گا) اعرابی سب کے سب منافق نہ تھے۔ بہت سے ان میں سے اچھے مخلص مسلمان بھی تھے، آیت میں ذکر ان کا ہورہا ہے (آیت) ” یتخذ ما۔۔۔۔۔ الرسول “۔ یعنی ان کا یہ امور خیر میں خرچ نمایشی اور شرما شرمی میں نہیں ہوتا، اخلاص وحسن نیت کے ساتھ ہوتا ہے۔ (آیت) ” انھا “۔ ضمیر ھا خرچ یا نفقہ کی طرف ہے۔ یعنی النفقۃ (ابن عباس ؓ یعنی نفقاتھم (قرطبی) (آیت) ’ ’ قربت عند اللہ “۔ یعنی رضائے الہی ان کا اصلی اور آخری مقصود ہوگیا ہے اور (آیت) ” صلوت الرسول “۔ یعنی رسول کی دعائیں اس کا ذریعہ ہیں۔ لانھا غایۃ القصوی وصلوۃ الرسول من ذرائعھا (روح) (آیت) ” ماینفق “۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت نمبر 94 تا 99
ترجمہ : جب آپ غزوہ سے لوٹ کر ان کے پاس جائیں گے تو وہ پیچھے رہ جانے کے (طرح طرح) کے اعذار پیش کریں گے (مگر) آپ کہہ دینا بہانے نہ کرو، ہم تمہاری بات کا ہرگز اعتبار نہ کریں گے اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہارے حالات بتا دئیے ہیں، یعنی تمہارے حالات کی خبر دے دی ہے، اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا پھر بعث کے بعد تم ایسی ذات کی طرف لوٹائے جائو گے جو پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے یعنی اللہ کی طرف اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو جس کی جزاء وہ تم کو دے گا، اب جب تم اظہار ناراضگی کو ترک کر کے ان سے صرف نظر کرو تو تم ان سے صرف نظر کرو تو تم ان سے صرف نظر…
Read the full tafseer →ومن الاعراب من یؤمن باللہ والیوم الاخر اور صحرا نشینوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ابن جریر نے مجاہد کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت قبیلۂ مزینہ کے مقرن کی اولاد کے حق میں نازل ہوئی۔ انہی کے متعلق آیت ولا عَلَی الَّذِیْنَ اِذَا مَآ اَتَوْکَ لِتَحْمِلَھُمْ الخ نازل ہوئی تھی۔ عبدالرحمن بن مغفل (مزنی) کا خود بیان ہے کہ ہم مقرن کے دس بیٹے تھے۔ کلبی نے کہا : قبائل تمیم ‘ اسد بن خزیمہ ‘ ہوازن اور عظفان میں سے بنی اسلم ‘ بنی غفار اور بنی جہینہ کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔
صحیحین میں حضرت ابن عمر کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →(99) اور قبیلہ مزینہ جہنیہ اور اسلم میں سے بعض دیہاتی ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ اور روز جزا پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ جہاد وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں، قرب الہی کا ذریعہ اور آنحضرت ﷺ کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں۔ یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ اللہ کی راہ میں کرنا بلاشبہ ان کے لیے اللہ کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں جگہ دیں گے، وہ بڑے غفور و رحیم ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”ومن الاعراب من یؤمن باللہ“۔ (الخ)
ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت بنی مقرن کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جن کے بارے میں یہ آیت ”۔ ولا علی الذین…
Read the full tafseer →وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ باللّٰهِ : ”قُرُبٰتٍ“ یہ ”قُرْبَۃٌ“ کی جمع ہے، وہ عمل جسے انسان اپنے خالق کے قریب ہونے کا ذریعہ بنائے۔ ”صَلَوٰتِ“ یہ ”صَلاَۃٌ“ کی جمع ہے جس کا معنی نماز کے علاوہ دعا بھی آتا ہے۔ یعنی سب اعراب ایک جیسے نہیں، ان میں کئی مخلص مسلمان بھی ہیں، جو خوش دلی سے صدقہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کے ہاں قربتوں اور رسول کی دعاؤں کو حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں شہادت دی کہ ان کے یہ اعمال یقیناً ان کے لیے قرب کا ذریعہ ثابت ہوں گے اور اللہ تعالیٰ انھیں ضرور اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا۔ عبداللہ بن ابی اوفی ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گروہ رسول اللہ ﷺ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 99
قولہ تعالیٰ : (آیت) ومن الاعراب من یوء من باللہ اور کچھ دیہاتیوں میں سے وہ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو سچ تسلیم کیا ہے اور ان سے مراد مزینہ قبیلے کے بنو مقرن ہیں۔ اس کا ذکر مہدوی نے کہا ہے۔ قربات یہ قربۃ کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ شی ہے جس کے سبب اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ اور جمع قرب، قربات، قربات، اور قربات ہے۔ اسے نحاس نے بیان کیا ہے۔ اور القربات ضمہ کے ساتھ ہو تو مراد وہ شے ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوا جاتا ہے۔ اسی سے آپ کہتے ہیں : قربت اللہ قربانا (میں اللہ تعالیٰ کے انتہائی قریب ہوا) اور القربۃ قاف کے کسرہ کے ساتھ ہو تو مراد وہ مشکیزہ ہے جس میں پانی بھر جاتا…
Read the full tafseer →دیہاتیوں کے مضبوط ہونے کی تعریف :
1:۔ سعید بن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ومن الاعراب من یومن باللہ والیوم الاخر “ سے مرادخزینہ قبیلہ میں ہے بنو معراج میں اور یہ لوگ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ولا علی الذین اذا ما اتوک لتحملہم “
2:۔ ابن جریر وابن منذر ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے وصلوت الرسول “ یعنی نبی کریم ﷺ کا استغفار کرنا (ان ایمان والوں کے لئے)
3:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ومن الاعراب من یومن باللہ والیوم الاخر “ کے بارے…
Read the full tafseer →وَمِنَ الْاَعْرَابِ [ اور دیہاتیوں میں سے ] مَنْ [ وہ بھی ہیں جو ] يُّؤْمِنُ [ ایمان لاتے ہیں ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ [ اور آخری دن پر ] وَيَتَّخِذُ [ اور وہ بناتے ہیں ] مَا [ اس کو جو ] يُنْفِقُ [ وہ خرچ کرتے ہیں ] قُرُبٰتٍ [ قربت (کا ذریعہ ) ] عِنْدَ اللّٰهِ [ اللہ کے پاس ] وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ۭ [ اور ان رسول کی دعاؤں (کا ذریعہ ) ] اَلَآ [ سنو !] اِنَّهَا [ یقینا یہ ] قُرْبَةٌ [ قربت کا ذریعہ ہیں ] لَّھُمْ ۭ [ ان کے لیے ] سَـيُدْخِلُھُمُ [ داخل کرے گا ان کو ] اللّٰهُ [اللہ ] فِيْ رَحْمَتِهٖ ۭ [ اپنی رحمت میں ] اِنَّ اللّٰهَ [ بیشک اللہ ] غَفُوْرٌ [ بےانتہا بخشنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
دیہاتیوں میں سخت نفاق والے بھی ہیں اور مخلصین بھی
ان آیات میں اعراب یعنی دیہات کے رہنے والوں کا حال بتایا ہے۔ اوّل تو یہ بتایا کہ دیہاتی کفر اور نفاق میں بہت ہی سخت ہیں۔ اور علم کے ماحول سے دور ہونے کی وجہ سے ان کا یہی حال ہونا چاہئے کہ اللہ کے احکام کا انہیں علم نہ ہو جو اس نے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمائے۔ ایمان و یقین اور علم و عمل کے ماحول میں رہیں تو کفر سے بھی بچیں اور نفاق سے بھی، اور اللہ کے احکام کو بھی جانیں، لیکن مرکز علم و عمل سے دوری کی وجہ سے ان میں کفر بھی شدید ہے اور نفاق اور جہالت میں بھی آگے آگے ہیں۔ قال صاحب الروح (ص 4 ج 11) أشد کفراً و نفاقاً من اھل الحضر الکفار و المنافقین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
مذمت منافقین اعراب اور مدح مخلصین اعراب
قال اللہ تعالیٰ الاعراب اشد کفرا ونفاقا۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ غفور رحیم
(ربط) یہاں تک مدینہ کے منافقین اور مومنین مخلصین کے احوال بیان ہوئے اب ان آیات میں اعراب (اہل دیہات کا کچھ حال بیان کرتے ہیں کہ ان میں بھی کئی طرح کے آدمی ہیں کفار اور منافقین اور مخلصین ان میں جو منافق ہیں ان کی مذمت فرماتے ہیں اور جو ان میں سے مخلصین ہیں ان کی مدح فرماتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ سب اعراب یکساں نہیں بعض ان میں سے سخت منافق ہیں کہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے کو تاوان سمجھتے ہیں اور مسلمانوں پر مصیبت آنے کی خواہش میں رہتے ہیں اور بعضے ان میں سے سچے ایماندار ہیں اور وہ جو کچھ…
Read the full tafseer →95:“ وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ الخ ” یہاں ان دیہات والوں کی تعریف فرمائی جو مخلص مومن تھے۔ ان کا حال یہ تھا کہ وہ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کے تقرب اس کی رضا اور اللہ کے رسول کی دعا کا ذریعہ سمجھتے ہیں “ اَلَا اِنَّھَا قُرْبَةٌ لَّھُمْ ” بیشک وہ ان کے لیے قرب خداوندی کا ذریعہ ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے اعتقاد کی تصدیق ہے۔ “ سَیُدْخِلُھُمُ اللّٰهُ الخ ” یہ بشارت اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
ربط آیات :
جہاد سے پیچھے رہنے والے منافقین ، ان کے کوائف اور ان کے انجام کا بیان ہوا ہے۔ غزوہ تبوک پر روانہ ہونے سے پہلے اور وہاں سے واپس آنے کے بعد منافقین نے جو حیلے بہانے بنائے اور اہل ایمان کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کی کوشش کی ، اللہ نے اس کا ذکر کیا کہ دیکھیں یہ لوگ آپ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھائیں گے تا کہ تم ان سے راضی ہو جائو۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر تم ان سے راضی بھی ہو جائو تو اللہ ان سے راضی نہیں ہوگا۔
نزولِ قرآن کے زمانہ میں جس طرح شہروں میں منافق لوگ رہتے تھے اسی طرح وہ دیہات میں بھی آباد تھے۔ مدینہ شہر کے منافقوں کا ذکر مختلف انداز سے ہوچکا ہے اور آگے بھی آرہا ہے۔ اب آج کے درس…
Read the full tafseer →وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ 0 ۭ اَلَآ اِنَّہَا قُرْبَۃٌ لَّھُمْ 0 ۭ سَـيُدْخِلُھُمُ اللہُ فِيْ رَحْمَتِہٖ 0 ۭ اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 99 ۧ
قرب
الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] ، فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
1 ؎ یعنی وہ دیہاتی جو تبوک میں شریک نہیں ہوئے یا عموماً گنوار بوجہ جہالت کے کفر و نفاق میں بڑے سخت ہوا کرتے ہیں۔ 12 منہ
3 ؎ عربی کی جمع عرب جیسا کہ یہودی کی یہود اور اعرابی جنگلی کو کہتے ہیں یعنی گنوار اس کی جمع اعراب یا اعاریب
Read the full tafseer →وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَایُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَاللّٰہِ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ ط اَ لَآ اِنَّھَا قُرْبَۃٌ لَّہُمْ ط سَیُدْخِلُہُمُ اللّٰہُ فِی رَحْمَتِہٖ ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ع
(اور ان دیہاتیوں میں سے وہ بھی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور سمجھتے ہیں کہ جو وہ خرچ کرتے ہیں قرب الٰہی اور رسول پاک کی دعائیں لینے کا ذریعہ ہے بیشک یہ ان کے لیے واسطہ قربت ہی ہے اللہ ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ )
اس آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اعراب سارے یکساں نہیں ہیں ان کی اکثریت…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دیہاتی منافقین کے بعد دیہاتی مومنوں کے ایمان اور کردار کا تذکرہ۔
یہ بات کئی مرتبہ عرض کی جا چکی ہے کہ قرآن مجید کی عدل پسندی اور طرز بیان ہے کہ جہنم کے ساتھ جنت، برے انجام کے ساتھ اچھے انجام، کفار اور منافقین کے بیان کے معاً بعد مخلص مسلمانوں اور مومنوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ تاکہ قارئ قرآن کو دونوں کردار اور انجام کا تجزیہ کرنے میں آسانی رہے چناچہ اس بات کی وضاحت کردی گئی کہ دیہات میں رہنے والے سب کے سب کافر اور منافق نہیں بلکہ ان میں ایسے خوش بخت بھی ہیں جو اپنے رب پر کامل ایمان اور قیامت کے دن اس کی بارگاہ میں پیش ہونے کا پکا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ…
Read the full tafseer →آیت 99: وَمِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰ خِرِ وَیَتَّخِذُمَا یُنْفِقُ (اور بعض دیہاتی ایسے بھی ہیں جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور قرار دیتے ہیں اس چیز کو جو وہ خرچ کرتے ہیں) جہاد و صدقات میں قُرُبٰتٍ (قرب کا ذریعہ) قربت الٰہی کے اسباب عِنْدَ اللّٰہِ (اللہ کے ہاں) یہ یَتَّخِذُ کا دوسرا مفعول ہے۔ وَصَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ (اور رسول کی دعائوں کا ذریعہ) رسول اللہ ﷺ کی دعائیں لینا مقصود ہے کیونکہ آپ ﷺ ان کیلئے دعائیں فرماتے کہ اللہ تعالیٰ برکت دے۔ اور تمہارے گناہ معاف فرمائے جیسا کہ اس ارشاد میں اللّٰھم صل علی اٰل ابی اوفٰی (بخاری، 1497۔ مسلم 1078)…
Read the full tafseer →تفسیر 99:” ومن الاعراب من یئومن باللہ والیوم الاخر “ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ وہ مزینہ کے بنو مقرن ہیں اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ اسلم ‘ غفار اور جہینہ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اسلم اور غفار اور جہینہ کا کچھ حصہ اور مزینہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں بہتر ہوں گے تمیم ‘ اسد بن خزیمہ ‘ ہوازن اور غطفان سے۔” ویتخذ ما ینفق قربت عند اللہ “ قربات قربتہ کی جمع ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرتا ہے۔ وصلوت الرسول “ یعنی اس کی دعاء اور استغفار۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کی دعا میں رغبت کرتے ہیں ” الآ انھا قربۃ الھم نافع نے ورش کی روایت سے قربۃ راء کے پیش کے ساتھ…
Read the full tafseer →99۔ پھر فرمایا کہ تیسری قسم کے وہ گنوار ہیں جو خدا پر اور قیامت کے دن پر سچے دل سے ایمان لاچکے ہیں اور خدا کی راہ میں اس امید پر خرچ کر رہے ہیں کہ خدا سے نزدیکی ہو اور رسول ان کے مغفرت چاہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے اور صدقہ دینے والوں کے لئے دعا فرمایا کرتے تھے۔ عبدالرحمن بن مغفل (رح) کہتے ہیں ہم مقرن کے دس بیٹے تھے یہ آیت ہماری شان میں اتری 1 ؎ ہے مجاہد نے بھی آیت کی یہی شان نزول بیان کی 2 ؎ ہے جو عبدالرحمن بن مغفل (رح) کہتے ہیں ہم مقرن کے دس بیٹے تھے یہ آیت ہماری شان میں اتری 3 ؎ ہے مجاہد نے بھی آیت کی یہی شان نزول بیان کی 4 ؎ ہے جو عبدالرحمن بن مغفل (رح) کہتے ہیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
آیت : (97 تا 99)
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (الاعراب) ” بدوی “ اس سے مراد حرا اور دیہات میں رہنے والے لوگ ہیں (اشد کفرا ونفاقا) ” زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں۔ “ یعنی صحرا میں رہنے والوں میں شہر کے ان لوگوں کی نسبت زیادہ کفر اور نفاق ہے جن میں نفاق کر مرض پایا جاتا ہے۔ اس کے بہت سے اسباب ہیں۔
(1) بدوی لوگ شریعت ‘ اعمال اور احکام سے بہت دور ہوتے ہیں۔ پس وہ اسی قابل ہوتے ہیں (واجدر الا یعلموا حدود ما انزل اللہ علی رسولہ) ” اور اس قابل ہیں کہ جو احکام اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ‘ مثلاً اصول ایمان اور او امرو نواہی وغیرہ۔۔۔۔ ان سے واقف نہ ہوں۔ اس کے برعکس شہر میں رہنے والے لوگ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
قول باری ہے الاعذاب اشدکفرا ً ونفاقا ً واجدد الا یعلموا حدود ما انزل اللہ علی رسولہ ، یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے۔ آیت میں ہدویوں کے بارے میں خبرکومطلق رکھا گیا ہے لیکن اس سے مراد ان کی اکثریت ہے ، یہ وہ لوگ تھے جو منافقین کو کفر اور نفاق پر انگیختہ کیا کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق بتایا کہ اس امر کے زیادہ امکانات ہیں کہ یہ لوگ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے اس لیے کہ انہیں قرآن سننے کے بہت کم مواقع نصیب ہوتے تھے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
183 دیہاتیوں کے گنوار پن کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دیہاتی زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ وہ دین کی حدود کو نہ جانیں۔ کیونکہ ایک طرف تو انہیں روٹی پیٹ اور تن و توش کے دھندوں سے ہی فراغت نہیں ہوتی اور دوسری طرف علم اور اہل علم کی مجلسوں میں بیٹھنے اور ان سے استفادہ کرنے کے مواقع بھی ان کو میسر نہیں آتے اور تیسری اور بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ بادیہ نشینی اور اس کی کو کھ سے جنم لینے والے اپنے معروف گنوارپن کی بناء پر یہ لوگ علم اور علمی استفادہ کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے ۔ اِلاّماشاء اللہ ولا قوۃ الا باللہ ۔ سو ان لوگوں نے نہ اللہ کے رسول اور صالحین کی صحبت سے فیض اٹھایا اور نہ ہی انہوں نے کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
دیہاتی منافقوں اور دیہاتی مؤمنوں کا کردار
تشریح : ان آیات میں مدینہ کے گردونواح میں رہنے والے دیہاتیوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ مدینہ میں رہنے والے مشرک، منافق اور کفار مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے اسی طرح یہ دیہاتی لوگ اپنی کم علمی اور اکھڑ پنے کی وجہ سے اسلام کو سمجھنے کی صلاحیت کم رکھتے تھے۔ جبکہ شہری لوگ ان کی نسبت زیادہ عقل سمجھ اور تہذیب و تمدن کو اپنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، یہ ایک عام سی بات ہے آج کل بھی ہر جگہ یہ فرق شہری اور دیہاتی میں پایا جاتا ہے۔ عرب کے دیہاتی لوگوں نے اسلام کو پھلتے پھولتے دیکھا تو مجبورًا اور مصلحتاً اسلام قبول کرلیا تو اسلام کے قوانین کو سوچے سمجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیات 94 تا 99
اسرار و معارف
منافقین کا قاعدہ ہی یہی ہے کہ جب آپ واپس جائیں گے تو معذرت کرنے حاضر ہوجائیں گے اور مختلف بہانے کریں گے حضور ! ہم تو خادم ہیں بس فلاں مجبوری درمیان آگئی اور جب ایمان کمزور ہو یہی حال ہوتا ہے جیسے آج بھی کوئی مصروفیت یا تھوڑی بہت بیماری ہی آجائے تو لوگ سب سے پہلے نماز کو خیر یاد کہتے ہیں یعنی مصر وفیات کا سب سے کمزور حصہ دین ہی ہے۔ مگر لوگوں کے سامنے یہ بات قبول کرنا پسند نہیں کرتے اور حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں تو آپ فرمادیجئے ! کہ ہمیں تو اللہ نے تمہاری سب باتیں بتاوی ہیں ۔ یہ صورت یقنی طور پر تو صرف وحی کے سبب تھی مگر دک کی بات دل کو پہنچ ضرور جاتی ہے ۔ اگر چہ آپ…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ اس آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ اعراب (گنواروں) میں کچھ مخلص مسلمان بھی ہیں جو مال کے خرچ کرنے کو جرمانہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کے قرب اور پیغمبر (علیہ السلام) کی دعا حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(9:99) قربت۔ قربۃ کی جمع ہے۔ مرتبہ کا قرب۔ خوشنودی۔ رضا۔ یعنی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ۔
صلوات۔ صلوۃ کی جمع۔ دعائیں۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی دعائیں لینے کا ذریعہ۔
الا انھا یہ اللہ کی طرف سے ان کے اعتقاد کی صحت کی تصدیق کی شہادت ہے۔ اور انھا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب۔
نفضتہم۔ (ان کا راہ خدا میں خرچ) کے لئے ہے الا انھا قربۃ لہم بیشک ان کا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ان کے لئے قرب الٰہی کا موجب ہے۔ سیدخلہم۔ میں س تحقیق اور تاکید کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
لغات القرآن آیت نمبر 97 تا 99
الاعراب (دیہاتی، گاؤں کے رہنے والے) اشد کفراً (کفر میں شدید ہیں) اجدر (زیادہ موزوں ہیں) حدود (حدیں) یتخذ (وہ بناتا ہے ) مغرم (جرمانہ، تاوان) الدوابر (دائرے، گردش زمانہ) قربت (قربتیں، ثواب) صلوت (دعائیں)
تشریح : آیت نمبر 97 تا 99
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایک مرتبہ پھر اہل ایمان کے اخلاص اور منافقین کی زندگی کے دوہرے کردار کا تقابل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ منافقین جو شہروں میں رہتے ہیں اور اپنے نفاق اور وقتی مفادات کے لئے دوہری زندگی گذار رہے ہیں وہ اپنے نفاق کی وجہ سے بدترین لوگ ہیں لکین وہ منافقین جو شہروں کے آس پاس دیہات اور گاؤں میں رہتے ہیں وہ زیادہ برے اس…
Read the full tafseer →عشق و محبت کی درخشندہ مثال
شان نزول : جس کا حاصل یہ ہے کہ عبد اللہ ذوالبجادین ؓ ایک نوجوان اور خوش رو آدمی تھے۔ اپنے چچا کے پاس رہا کرتے تھے اور سارا مال چچا کے قبضہ میں تھا۔ یہ ایک عرصہ سے اسلام کی خوبیوں پر فریفتہ تھے۔ جس وقت آنحضرت ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تھے، انہیں ان کی ازلی سعادت نے قدیم اشتیاق پر مجبور کردیا۔ چچا کے پاس آکر کہنے لگے کہ میرا دل تو اسلام پر فریفتہ ہوگیا ہے کہ اسلام قبول کروں۔ چچا بولا کہ اگر پھر تیر زبان سے کلمہ سنوں گا تو ترکہ تو الگ نہ دوں گا، اور جو تیرے پاس ہے چھین لوں گا۔ حتیٰ کہ کپڑے تک بدن سے اتار لوں گا۔ انہوں نے کپڑے بدن سے اتار کر چچا کے حوالے کئے اور ماں سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
[50] یعنی ان سے درگزر کرو۔ یہاں اعراض درگزر اور چشم پوشی کے معنی میں ہے۔
[51] یعنی قطع تعلق کرلو۔ یہاں اعراض تعلق ختم کرنے کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) قرآن حکیم نے تمام دیہات والوں کو نفاق سے مہتم نہیں کیا ، بلکہ ارشاد فرمایا ہے کہ ان لوگوں میں ایسے صاحب ایمان وذوق بھی ہیں جن کو اللہ سے محبت ہے اور آخرت وعقبی کے عقیدے پر ایمان رکھتے ہیں ، وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں سمجھتے ہیں کہ اس سے اللہ کے تقرب کو حاصل کر رہے ہیں ، نیز پیغمبر کی دعاؤں کے مستحق و سزاوار ہو رہے ہیں ، یقینا ان کی یہ آرزوئیں حق بجانب ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو اپنی آغوش رحمت میں داخل کرے گا اور ان کو رحمت ومغفرت سے نوازے گا ۔
Read the full tafseer →99 اور انہی دیہاتیوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ پر اور یوم آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ اور جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ اور پیغمبر کی دعائیں لینے کا ذریعہ سمجھتے ہیں یاد رکھو ان کی خیرات و صدقات واقعی ان کے لئے تقرب اور قربت ِ خداوندی کا ذریعہ ہیں اللہ تعالیٰ ضرور ان لوگوں کو اپنی خاص رحمت میں داخل کرے گا بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا ہے۔
اوپر منافق دیہاتیوں کا ذکر تھا اس آیت میں مسلمان دیہاتیوں کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →ف 3۔ کیونکہ آپ کی عادت شریف تھی کہ ایسے مواقع پر خرچ کرنے والے کو دعادیتے تھے جیسا کہ احادیث میں ہے۔
Read the full tafseer →کیا سارے اعرابی ایسے ہیں ؟ فرمایا نہیں ، انہیں میں اللہ پر بھروسہ رکھنے والے بھی ہیں :
130: اوپر اکھڑ اور اجدر اعرابیوں کا ذکر کیا گیا تتھا زیر نظر آیت میں وضاحر فرمائی اج رہی ہے کہ سارے اعرابی ایک جیسے نہیں بلکہ ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جو دل و جان سے اسلام قبول کرچکے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ اور یوم قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور راہ الٰہی میں جو مال خرچ کرتے ہیں اسے تاوان خیال نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی دعا کا سبب سمجھتے ہیں۔ یعنی جب وہ خرچ کرتے ہیں تو اس یقین سے خرچ کرتے ہیں کہ اس سے ہمیں اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوگا اور نبی کریم ﷺ ہمارے لئے خیر و برکت کی…
Read the full tafseer →After having described the state of affairs prevailing among hypocrites of distant deserts, it was considered appropriate that the true and staunch Muslims from among the same stock of Bedouins should also be mentioned. This was done in verse 99 - very much in line with the typical style of the Qur'an - so that, it stands established that Bedouins too are not all alike. Among them, there are many sincere Muslims, and people of sense and discernment as well. Their style of life is different. When they give in obligatory alms (Zakah) or in voluntary charities (Sadaqat), they regard these as a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–129
89.“They do not understand”for they deliberately and intentionally chose the shameful way of staying at home with women, when they were required to go forth for Jihad, though they were healthy, physically fit and well-to-do, and professed Islam. Therefore, according to the divine law of nature, a seal was set upon their hearts and they were bereft of those noble feelings which make one feel ashamed of adopting such a disgraceful conduct.
Read the full tafseer →