كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ ۟ؕكِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌؕ
ایک دفتر ہے لکھا ہوا
— Fateh Muhammad Jalandhari
It is [their destination recorded in] a register inscribed.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz
كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ ۟ؕكِتٰبٌ مَّرۡقُوۡمٌؕ
ایک دفتر ہے لکھا ہوا
— Fateh Muhammad Jalandhari
It is [their destination recorded in] a register inscribed.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 8 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Mutaffifin
ایک کتاب ہے لکھی ہوئی
ایک دفتر ہے لکھا ہوا
(یہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے
وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے۔
وہ لکھت ایک مہر کیا نوشتہ ہے
(یہ قید خانۂ دوزخ میں اس بڑے دیوان کے اندر) لکھی ہوئی (ایک) کتاب ہے (جس میں ہر جہنمی کا نام اور اس کے اعمال درج ہیں)،
ایک کتاب ہے، واضح لکھی ہوئی۔
ایک کتاب ہے، لکھی ہوئی
لکھا ہوا دفتر !
وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی
ایک رجسٹر ہے نشان کیا ہوا۔
لکھا ہوا دفتر۔
دفتر ہے لکھا ہوا
It is a Book inscribed.
A register, inscribed!
A register, inscribed!
A Register inscribed.
A written record.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
It is [their destination recorded in] a register inscribed.
It is a comprehensively written Book (of records).
It is a written book.
A record of misdeeds written.
(There is) a Register (fully) inscribed.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 7–17
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا سجین ہے یہ لفظ فعیل کے وزن پر سجن سے ماخوذ ہے سجن کہتے ہیں لغتا تنگی کو ضییق شریب خمیر سکیر وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی سجین ہے پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے حضرت براء بن عازب کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی کتاب سجین میں لکھ لو اور سجین ساتویں زمین کے نیچے ہے کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
سورة الْمُطَفِّفِيْن 4 یعنی ان لوگوں کا یہ گمان غلط ہے کہ دنیا میں ان جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد یہ یونہی چھوٹ جائیں گے اور کبھی ان کو اپنے خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر نہ ہونا پڑے گا۔ سورة الْمُطَفِّفِيْن 5 اصل میں لفظ سجین استعمال ہوا ہے جو سجن (جیل یا قید خانے) سے ماخوذ ہے اور آگے اس کی جو تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد رجسٹر ہے جس میں سزا کے مستحق لوگوں کے اعمال نامے درج کیے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ، مرقوم کے معنے اس جگہ مختوم کے ہیں۔ یعنی مہر لگی ہوئی۔ امام بغوی اور ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ جملہ مقام سجین کی تفسیر نہیں، بلکہ اس سے پہلے جو کتب الفجار آیا ہے اس کا بیان ہے، معنے یہ ہیں کہ کفار و فجار کے اعمالنامے مہر لگا کر محفوظ کردئے جاویں گے کہ ان میں کسی کمی بیشی اور تغیر کا امکان نہ رہے گا اور انکے محفوظ کرنے کی جگہ سجین ہے یہیں کفار کی ارواح کو جمع کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →’کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ‘۔ وہ لکھا ہوا دفتر ہے۔ یعنی اس میں تمام مجرمین کا سارا ریکارڈ بشکل تحریر محفوظ کیا جاتا ہے۔ ’بشکل تحریر‘ کی قید سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ نہ اس میں کسی سہو و نسیان کا کوئی امکان ہے اور نہ اس کے حجت ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش۔ معلوم ہوا کہ ’سِجِّیْنٌ‘ اس دفتر کا نام ہے جس میں مجرموں کے اعمال کا سارا ریکارڈ تحریری صورت میں محفوظ کیا جا رہا ہے اور جس کی بنیاد پر قیامت کے دن فیصلہ ہو گا کہ کون دوزخ کے کس درجے میں داخل کیے جانے کا سزاوار ہے۔ ’سِجِّیْنٌ‘ کا مادہ ’سجن‘ ہے جس کے معنی قید یا قید خانہ کے ہیں۔ اس مناسبت سے مستحقین سزا کے ریکارڈ آفس کا نام ’سِجِّیْنٌ‘ رکھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
13۔ 1 یعنی اس کا گناہوں میں مصروفیت اور حد سے تجاوز اتنا بڑھ گیا کہ اللہ کی آیات سن کر ان پر غور و فکر کرنے کے بجائے، انہیں اگلوں کی کہانیاں بتلاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
2: سجین کے لفظی معنی قید خانے کے ہیں۔ یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں مرنے کے بعد کافروں کی روحوں کو رکھا جاتا ہے۔ وہیں پر ان کا اعمال نامہ بھی موجود رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ان لوگوں کو یہ یقین نہیں ہے کہ یہ لوگ قیامت کے یوم عظیم میں اٹھائے جائیں گے۔ اسی لئے قرآن کریم نہایت سرزنش اور زجروتوبیخ کے انداز میں اس سے روکتا ہے اور نہایت تاکید کے ساتھ بتاتا ہے کہ ایک کتاب میں ان کے تمام اعمال ثبت کئے جارہے ہیں۔ اور اس بات کو زیادہ تاکیدی بنانے کے لئے یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کتاب کہاں رکھی ہوئی ہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جب ان فساق وفجار کے سامنے ، اس عظیم دن میں ان کی کتاب پیش کی جائے گی تو ان پر بڑی بربادی واقع ہوگی۔ کلا ان .................................... للمکذبین (7:83 تا 10) ” ہرگز نہیں ، یقینا بدکاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے۔ اور تمہیں کیا معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
4 یعنی سجین ایک دفتر ہے جس میں نام ہر ایک دوزخی کا درج ہے۔ اور " بندوں کے عمل لکھنے والے فرشتے " جن کا ذکر اس سے پہلی سورت میں آچکا، ان بدکاروں کے مرنے اور عمل منقطع ہونے کے بعد ہر شخص کے عمل علیحدہ علیحدہ فردوں میں لکھ کر اس دفتر میں داخل کرتے ہیں اور اس فرد پر یا ہر ایک دوزخی کے نام پر ایک علامت بنا دیتے ہیں جس کے دیکھتے ہی معلوم ہوجائے کہ یہ شخص دوزخی ہے اور بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کی ارواح بھی اسی مقام میں رکھی جاتی ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی ان کے نام وہاں داخل ہوتے ہیں مر کر وہیں پہنچیں گے۔ " بعض سلف نے کہا ہے کہ یہ مقام ساتویں زمین کے نیچے ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیت 9{ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ } ”لکھا ہوا دفتر۔“ اس ”کتاب“ سے مراد ایک انسان کی جان اور روح کا وہ ملغوبہ ہے جس میں اس کے اعمال کے اثرات بھی ثبت ہوتے ہیں۔ کسی برے انسان کے مرنے پر متعلقہ فرشتہ وہ ملغوبہ لا کر سجین میں ”جمع“ کرا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
5 یعنی تمہارا یہ خیال باطل ہے کہ نہ قیامت آنی ہے اور نہ تمہارا محاسبہ ہونا ہے۔ بلکہ تمہارا محاسبہ ہوگا اور ضرور ہوگا۔ 6 سجین۔ سجن بمعنی قید خانہ، جیل اور سجن بمعنی عدالت کا ثبوت جرم کے بعد بطور سزا کسی کو قید میں ڈال دینا۔ اور سجین سے مراد وہ مقام یا دفتر ہے جہاں بدکردار لوگوں کے اعمال نامے بھی محفوظ کرلیے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی ارواح بھی تاقیام قیامت اسی مقام پر قید رکھی جاتی ہیں۔ بعض اسلاف کے نزدیک یہ مقام سات زمینوں کے نیچے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
3۔ (جس میں کسی تغیروتبدل و ترمیم وتنسیخ کا احتمال ہی نہیں) مطلب یہ ہوا کہ ہر شخص کے اعمال سارے کے سارے منضبط و محفوظ ہیں۔ (آیت) ” سجین “۔ سجن (قیدخانہ) ہی کے معنی میں ہے، اور حرف ہی کی زیادتی معنی میں زیادتی کے اظہار کے لیے ہے۔ زید لفظہ تنبیھا علی زیادۃ معناہ (راغب) تشریح میں مختلف قول نقل ہوئے ہیں، حاصل ولب لباب یہ ہے کہ وہ عالم غیب میں کوئی ایسا مقام ہے، جہاں مجرموں، منکروں کے اعمال نامے محفوظ رہتے ہیں۔ (آیت) ” ما سجین “۔ تقدیر کلام ماکتاب سجین ہے۔ اور حذف مضاف قرآن کے اسلوب بیان میں بہت عام ہے۔ (آیت) ” الفجار “۔ فجار سے مراد وہی لوگ ہیں جو غرق فجور رہے ہیں۔ اور ایمان وتصدیق تک کی نیکی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
سجین کے معنی جیل یا قید خانہ کے ہیں، کتاب مرقوم میں اس کی تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجین سے مراد وہ رجسٹر ہے جس میں سزا پانے والے لوگوں کے اعمال نامے درج کئے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →کتاب مرقوم . وہ ایک ایسی تحریر ہے جس میں کافروں کے اعمال چھپا دیئے گئے ہیں اور اس طرح ثبت کر دیئے گئے ہیں جیسے نقوش کپڑے میں ثبت ہوتے ہیں ‘ نہ وہ بھولے میں آئیں گے نہ مٹائے جائیں گے ‘ یہاں تک کہ اس تحریر کے مطابق سزا دی جائے گی یا یہ معنی ہے کہ اس کتاب پر ایسی علامات ہیں کہ ہر دیکھنے والا دیکھتے ہی پہچان لے کہ اس کے اندر کوئی خیر نہیں ہے بعض لوگوں کا قول ہے کہ قبائل حمیر (یمنی) کے محاورہ میں مرقوم کا معنی ہے ‘ مہری۔ مہر زدہ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کتابٌ مرقوم سجین کی تشریح نہیں ہے بلکہ کتاب الفجار کا بیان ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے یہ سجین کی تشریح ہے۔ سجین کو کتاب کے لقب سے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
(7۔ 10) کافروں کے نامہ اعمال سجین میں رہیں گے اور آپ کو معلوم بھی ہے کہ سجین میں رکھا ہوا نامہ اعمال کیا چیز ہے وہ ساتویں زمین کے نیچے سبز پتھر پر انسانوں کے نامہ اعمال کا دفتر ہے قیامت کے دن جھٹلانے والوں کو سخت عذاب ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
(کلا ان کتب الفجار لفی سجین…:”کلا“ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ تم جس طرح چاہو اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے ماپ تول میں کمی کرتے رہو اور وہ وقت ہی نہ آئے کہ تم سے اس ظلم کے متعلق باز پرس ہو۔ نہیں، بلکہ نافرمان لوگوں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔”سجین“ ”سجن“ سے مبالغہ ہے، جس کا معنی قید خانہ ہے۔ ق اسوس میں ہے ”السجین الدائم الشدید“ یعنی دائمی قید۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں کے نام اور ان کے اعمال محفوظ ہیں (گویا یہ دائمی قید والوں کا رجسٹر ہے) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ”سجین“ کی وضاحت کی ہے کہ وہ ”کتب مرقوم“ یعنی ایک واضح لکھی ہوئی کتاب ہے، جس میں کوئی کمی بیشی یا رد و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
وما ادراک ماسجین۔ میں کوئی ایسی چیز نہیں جو اس امر پر دلالت کرے کہ سجین عربی زبان کا لفظ نہیں جس طرح القارعہ، مالقاریہ، وما ادراک ما القارعہ میں کوئی ایسی دلیل نہیں کہ یہ عربی زبان کا لفظ نہیں بلکہ یہ سجین کیے امر کی تعظیم ہے کتاب کے مقدمہ میں یہ بات گزرچکی ہے، الحمدللہ قرآن حکیم میں کوئی غیر عربی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
29۔ ابن المبارک نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ سجین نیچے والی زمین ہے اور مرقوم سے مراد ہے لکھا ہوا۔ یعنی مرقوم سے مراد ہے۔ لکھی ہوئی کتاب۔ 30۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کتب مرقوم سے مراد ہے کہ ان کیلیے شر لکھ دیا گیا۔ 31۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لفی سجین سے مراد ہے کہ وہ بہت خسارہ پانے والے ہیں۔ 32۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ فرشتہ بندے کے عمل کو لے کر بلندی کی طرف چڑھتا ہے وہ دکھائی دیتا ہے کہ ہاتھوں میں انتہائی فرحت ہے یہاں تک کہ وہ مقرر مقام تک پہنچ کر رک جاتا ہے…
Read the full tafseer →[كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ: (وہ) ایک لکھی ہوئی کتاب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌؕ008 ﴾ (اور آپ کو معلوم ہے کہ سجین میں رکھا ہو اعمال نامہ کیا ہے ؟ ) (بحذف مضاف) ای ما کتاب السجین ﴿ كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ009﴾ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے جس میں اعمال لکھے ہیں۔ بعض اہل تفسیر نے مرقوم بمعنی مختوم لیا ہے مطلب یہ ہے کہ اس اعمال نامہ پر مہر لگی ہوئی ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل کا احتمال نہیں۔ اس کے بعد فرمایا ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَۙ0010﴾ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ ﴿الَّذِيْنَ يُكَذِّبُوْنَ بِيَوْمِ الدِّيْنِؕ0011﴾ جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں۔ ﴿ وَ مَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍۙ0012﴾ اور اسے نہیں جھٹلاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔ حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
4:۔ ” کلا ان کتب الفجار “ یہ تخویف اخروی ہے۔ ” کلا “ بمعنی ” حقا “ ہے۔ ” سجین “ تحت الثری میں ایک مقام جس میں کافروں کی روحیں قیامت تک محبوس رہیں گی۔ وہیں ان کے اعمالنامے محفوط ہوتے ہیں وہاں ایک دفتر (رجسٹر) بھی ہے۔ جس میں تمام کافروں کے نام درج کیے جاتے ہیں۔ وسجین علم لکتاب جامع دون فیہ اعمال الشیاطین و اعمال الکفرۃ والفسقۃ من الثقلین (ابو السعود) ۔ قال عبداللہ بن عمر و قتادۃ و مجاھد والضحاک سجینھی الارض السابعۃ السفلی فیھا اروح الاکفار (مظہری ) ۔ اور ” مرقوم “ کے معنی مختوم (مہرزدہ) کے ہیں۔ المرقوم ھہنا المختوم (کبیر 9۔ وہ دفتر مہر زدہ ہوگا اس میں نہ کسی کا نام درج کیا جاسکے اور نہ کسی کافر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
(گذشتہ سے پیوستہ) اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ہی ذکر ہے۔ اس مقام پر تاجرانہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر قیامت کے مسئلہ پر کلام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تاجروں کی مذمت بیان کی ہے جو ماپ تول میں کمی کرکے لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اپنا فرض پورا نہیں کرتے۔ اور دوسروں کو ان کا پورا حق ادا نہیں کرتے۔ گویا اپنے لیے انصاف پسند کرتے ہیں۔ اور دوسروں کے لیے ظلم۔ خود زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ دوسروں کو نقصان پہنچا نے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ انہیں لوگوں کے متعلق فرمایا۔ کہ کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا یہ ان کی خام…
Read the full tafseer →كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ 9 ۭ رقم الرَّقْمُ : الخطّ الغلیظ، وقیل : هو تعجیم الکتاب . وقوله تعالی: كِتابٌ مَرْقُومٌ [ المطففین/ 9] ، حمل علی الوجهين، وفلان يَرْقُمُ في الماء يضرب مثلا للحذق في الأمور، وأصحاب الرَّقِيمِ قيل : اسم مکان، وقیل : نسبوا إلى حجر رُقِمَ فيه أسماؤهم، ورَقْمَتَا الحمار : للأثر الذي علی عضديه، وأرض مَرْقُومَةٌ: بها أثر نبات، تشبيها بما عليه أثر الکتاب، والرُّقْمِيَّاتُ : سهام منسوبة إلى موضع بالمدینة . ( ر ق م ) الرقم کے معنی گاڑھے خط کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ رقم کے معنی کتاب پر اعراب اور نقطے لگانے کے ہیں ۔ اور آیت ؛كِتابٌ مَرْقُومٌ [ المطففین/ 9] وہ ایک کتاب ہے ( وقتا فوقتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
ترکیب ¦ کلا الاکثرون علی انھا کلمۃ روع وتنبیہ ای لیس الامر ما زعمتم من انہ لاحساب ولا جزاء وقال ابو حاتم کلا ابتداء یتصل بما بعدہ علی معنی حقاوھو قول الحسن کتاب الفجار اسم ان لفی سجین خبرھا۔ وفی السجین قولان الاول وھو قول لجمہورانہ اسم علم علیٰ شیء معین فعلی ھذا فیہ اقوال عند الاکثر ھو الارض السابعۃ السفلی وھو قول ابن عباس وقیل جب 1 ؎ فی جہنم۔ والقول الثانی انہ مشتقف ہو فعیل من السجن بمعنی الجنس والتضیق کالفسیق من الفسق وھذا قول المبردد والزجاج وابی عبیدۃ وروہ الواحدی وقال صاحب الکشاف ان السجین فعیل من السجن ثم انہ ھھنا اسم علم منقول من وصف کحاتم وھو منصرف لانہ لیس فیہ الاسبب واحدوھو التعریف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
وَمَـآ اَدْرٰ کَ مَا سِجِّیْنٌ۔ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ (المطففین : 8، 9) (اور تم کیا جانو کہ سجین کیا ہے ؟ وہ ایک لکھا ہوا دفتر ہے۔ ) سجین کی تحقیق سجین، سجن سے ہے، قیدخانے کو کہتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم نے چونکہ اس کے مفہوم کی خود وضاحت کردی ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس سے لغوی معنی مراد نہیں بلکہ وہ ایک لکھا ہوا دفتر ہے جس میں تمام مجرمین کا سارا ریکارڈ بشکل تحریر محفوظ کیا جاتا ہے۔ مرقوم سے شاید اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ قیامت کو ایک وہم سمجھنے والے یہ مت بھولیں کہ ان کے اعمال کا سارا ریکارڈ ایسی جگہ پر رکھا گیا ہے جو خود یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ اور دوسری یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
فہم القرآن ربط کلام : جس دن لوگوں کو رب العالمین کے حضور پیش کیا جائے گا اس دن کے لیے مجرموں کے اعمال ناموں کا اندراج سجّین میں محفوظ ہے۔ دنیا میں بیشمار انسان بالخصوص پیشہ ور مجرم اس طریقے سے جرم کرتے ہیں کہ وہ اپنے جرم کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑتے جس وجہ سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بالخصوص خبر دار کیا گیا ہے۔ کسی مجرم کا کوئی جرم ایسا نہیں جسے سجّین میں درج نہیں کیا جاتا۔ اے نبی ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ وہ سجّین کیا ہے ؟ وہ مجرمین کے جرائم کا لکھا ہوا ریکارڈ ہے جو قولاً یا فعلاً قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ قیامت کو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حدود اللہ سے نکل جانے والا اور گنہگار ہے۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8، 9 : وَمَآ اَدْرٰکَ مَاسِجِّیْنٌ۔ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ (آپ کو کچھ معلوم ہے کہ سجین میں رکھا ہوا نامہ عمل کیا چیز ہے۔ وہ ایک نشان کیا ہوا دفتر ہے) سوال : اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ فجار کا نامہ عمل سجین میں ہے اور یہاں سجین کی تفسیر کتاب مرقوم سے کی گئی ہے ؟ گویا اس طرح کہہ دیا گیا کہ ان کا نامہ عمل مرقوم میں ہے پس آیت کا مطلب کیا ہوا ؟ جواب : سجین وہ جامع کتاب ہے وہ برائیوں کا رجسٹر ہے جس میں شیاطین کے اعمال مدون کیے گئے ہیں اور کفار جنات اور انسانوں کے۔ وہ مہر شدہ کتاب ہے اس کی کتابت واضح غیرمخفی ہے نمبر 2۔ یا نشان زدہ کتاب ہے جو اس کو دیکھ پائے گا اور وہ یہ معلوم کرلے گا کہ اس میں کوئی خیر…
Read the full tafseer →9 ۔” کتاب مرقوم “ یہ سجین کی تفسیر نہیں ہے بلکہ وہ اس کتاب کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ کے قول ” ان کتاب الفجار “ میں مذکور ہے یعنی ” ھو کتاب الفجار مرقوم “ یعنی وہ لکھی ہوئی کتاب ہے جس میں ان کے اعمال لکھے ہوئے ہیں، ان پر ثابت ہیں جیسے کپڑے میں نقش، نہ وہ بھلائی جاتی ہے اور نہ مٹائی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ اس کا بدلہ دیئے جائیں اور قتادہ اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر اس کے شرکاء کی وجہ سے ایک علامت لکھی گئی ہے جس کے ذریعے پہچانا جائے گا کہ وہ کافر ہے اور کہا گیا مہر لگائی ہوئی ہے حمیر کی لغت میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
7۔ 17۔ جو لوگ قیامت کے دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن خدا تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے کہ یہ لوگ ہیں پھر فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بد لوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں چناچہ ابو داؤد اور مسند 1 ؎ امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے ہیں تو ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ ) ہرگز نہیں بدکاروں کے اعمال۔ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ( لَفِيْ سِجِّيْنٍ ) ، سجین میں ہیں۔ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی (وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌ ۭ كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ ۭ ) تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے لکھی ہوئی کتاب ہے یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں السجین سے مراد تنگ جگہ ہے اور سجین، علیین کی ضد ہے جو کہ ابرابر کی کتاب کا محل ومقام ہے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سجین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(6) ایک بڑے ہی ہولناک دفت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا " سجین " کی تعریف و توضیح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایک عظیم الشان کتاب ہے جس میں ان سب دوزخیوں کے نام اور ان کے مراتب و درجات کی تفصیل درج ہوگی، اور لفظ " سجین " کا اطلاق اس نہایت تنگ و تاریک قید خانے پر بھی ہوتا ہے جو کہ اس کا اصل مصداق ہے، اور اسی طرح اس کا اطلاق " سجل " اور رجسٹر پر بھی ہوتا ہے جس میں ان دوزخیوں کے نام درج ہوں گے کہ اسی ریکارڈ کے مطابق یہ لوگ اس قید خانے اور اس کے مختلف درجات میں داخل ہوں گے، اور نار جہنم کا ایندھن بنیں گے ( ابن کثیر، خازن وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم الذی لا الہ الا ھو۔ اوپر والی آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین آیات 1 تا 36۔ اسرار ومعارف۔ بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔ حقوق وفرائض۔ زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ف 3 یعنی ایک دفتر ہے جس میں تمام بدکاروں اور کافروں کے نام اور کام درج ہیں قادہ سعید بن جبیر مقاتل اور مجاہد غیرہ کہتے ہیں کہ سجین اس جگہ کا نام ہے جہاں کافروں اور بدکاروں کے نامہ اعمال رکھے جاتے ہیں اور وہ ساتویں زمین کے نیچے ایک چٹان ہے اس لئے شاہ صاحب فرماتے ہیں :” یعنی ان کے نام وہیں داخل ہوتے ہیں مر کر وہاں پہنچیں گے۔ “ (موضح)
Read the full tafseer →(83:9) کتب مرقوم۔ موصوف و صفت، سجین (بمعنی کتاب جامع، رجسٹر، دیوان) کی تشریح ہے۔ مرقوم : رقم (باب نصر) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مذکر، لکھا ہوا۔ جلی خط سے لکھا ہوا۔ (نیز ملاحظہ ہو 83:8 متذکرۃ بالا) یعنی سجین کیا ہے ایک تحریر کردہ شدہ دفتر ایک لکھی ہوئی کتاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔ المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
انسان کے نیک و بدعمل کرنے، منکرین اسلام اور محبوبان حق کا ذکر۔ (ف 1) جو لوگ قیامت کے دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ، ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن اللہ کے روبروکھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے یہ لوگ ہیں فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے۔ سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بدلوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں ، چناچہ ابوداؤد اور مسند امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے بدلوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
[1] یعنی وہ آیتیں جن میں قیامت اور جزا و سزا کی خبر دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
ف 1: اس دن افسوس ان لوگوں کے لئے ہے جو مکذب ہیں اور مکافات عمل کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے ۔ جو یہ نہیں مانتے کہ ان کو مرنے کے بعد زندہ ہوتا ہے ۔ اور اپنے اعمال کا جواب وہ ہوتا ہے ۔ جن کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کے بعد کیونکر دوبارہ زندگی عطا ہوسکے گی ۔ اور جن کے نزدیک عقلاً یہ مست بعد ہے کہ حیات رواں دواں اور مسلسل ہے ۔ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی بری بھلی زندگی ہے ، یہی ہے اس کے بعد نہ برزخ ہے نہ جنت اور نہ دوزخ ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کا انکار بربنائے معقول نہیں ہے ۔ ان کے پاس دلائل نہیں ہیں ۔ جن کی وجہ سے کفر پر مصر ہوں اور جزاوسزا کے اس قانون…
Read the full tafseer →(9) وہ ایک دفت رہے صاف لکھا ہوا ، حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کے نام وہاں داخل ہوتے ہیں مرکر وہیں پہنچیں گے۔ خلاصہ : یہ کہ سجین ایک دفتر ہے جس میں ہر دوزخی کا نام درج ہے بندوں کے عمل لکھنے والے فرشتے جن کا ذکر سورة انفطار میں گزر چکا ہے وہ ان فجار کے مرنے کے بعد ان میں سے ہر شخص کے اعمال کی فردیں بنا کر اس دفتر میں داخل کردیتے ہیں ہر فرد پر کوئی ایسی خاص علامت لگا دیتے ہیں جس کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کی یہ فرد ہے وہ دوزخی ہے۔ بعض احادیث سے معلوم ہے کہ یہی مقام ارواح کفار کا مستقر ہے قیامت تک یہ ارواح وہیں رہیں گی کفار کی ارواح کو نہ آسمان قبول کرتا ہے نہ طبقات ارضی پسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
ف 3۔ سجین ایک مقام ارض سابعہ میں ارواح کفار کا مستقر ہے، کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب و فی الدر المنثور عن ابن عباس و مجاہد و فرقد و قتادہ وعبداللہ بن عمر و مرفوعا۔
Read the full tafseer →وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی 9 ؎ جیسا کہ پیچھے عرض کیا جا چکا ہے کہ ( سجین) کے متعلق بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن جب خود قرآن کریم نے اس کی وضاحت فرما دی ہے کہ یہ اس کتاب کا نام ہے جس میں فجاز کے اعمال اور ان کے نتائج محفوظ کیے گئے ہیں تو پھر اس کی مزید وضاحت کی ضرورت آخر کیا رہ گئی ؟ اس لیے ( سجین) سے مراد ہم وہ دیوان ہی لیں گے جہاں اہل دوزخ کے اسماء اور ان کے اعمال درج کیے جا رہے ہیں اور بعض روایات میں بھی اس کا یہی نام آیا ہے جہاں دوزخیوں کی روحیں محبوس ہوں گی لیکن اس کی وضاحت ہم اس جگہ نہیں کرنا چاہتے کہ اس کہ اس جگہ ذرا مزید وضاحت کرنا ضروری ہے تاکہ بات سمجھ میں آسکے ، اگر بات مبہم رکھی جائے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
كِتَابٌ مَّرْقُومٌ (A register inscribed!...83:9) The word marqum (translated above as 'inscribed' ) signifies here makhtum meaning 'sealed'. Imam Baghawi and Ibn Kathir say that this statement is not the interpretation of sijjin, but rather the explication of a phrase before that, namely: كِتَابَ الْفُجَّارِ 'Indeed the record of deeds of the sinners is in sijjin. [ 83:7] ' It is a book inscribed and sealed. No one can add anything to it, nor can anyone remove anything from it, nor is any alteration possible in it. The place where it will be kept for safe-custody is called sijjin, and it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
4 That is, "These people are wrong in thinking that they will be let off without being called to account when they have committed such and such crimes in the world. " 5 The word sijjin in the original is derived from sijn (a prison) and the explanation of it that follows shows that it implies the general Register in which the actions and deeds of the people worthy of punishment are being recorded.
Read the full tafseer →