Explained with ayahs 18–28
نعمتوں، راحتوں اور عزت و جاہ کی جگہ
بدکاروں کا حشر بیان کرنے کے بعد اب نیک لوگوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کا ٹھکانا علیین ہے جو کہ سجین کے بالکل برعکس ہے حضرت ابن عباس نے حضرت کعب سے سجین کا سوال کیا تو فرمایا کہ وہ ساتویں زمین ہے اور اس میں کافروں کی روحیں ہیں اور علیین کے سوال کے جواب میں فرمایا یہ ساتواں آسمان ہے اور اس میں مومنوں کی روحیں ہیں ابن عباس فرماتے ہیں مراد اس سے جنت ہے عوفی آپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اعمال اللہ کے نزدیک آسمان میں ہیں قتادہ فرماتے ہیں یہ عرش کا داہنا پایہ ہے اور لوگ کہتے ہیں یہ سدرۃ المنتہی کے پاس ہے ظاہر یہ ہے کہ لفظ علو یعنی بلندی سے ماخوذ ہے۔ جس قدر کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
سورة الْمُطَفِّفِيْن 9
یعنی ان لوگوں کا یہ خیال غلط ہے کہ کوئی جزا و سزا واقع ہونے والی نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
يَّشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُوْنَ ، یشہد، شہود سے مشتق ہے جس کے معنے حاضر ہونے اور مشاہدہ کرنیکے آتے ہیں۔ بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ مراد آیت کی یہ ہے کہ ابرار و صالحین کی کتاب الاعمال کو مقربین دیکھتے ہوں گے اور مراد مقربین سے فرشتے ہیں اور دیکھنے سے مراد اس کی نگرانی اور حفاظت ہے، مطلب یہ ہے کہ ابرار و صالحین کے صحائف اعمال مقرب فرشتوں کی نگرانی میں ہوں گے (قرطبی) اور شہود سے مراد حضور کے معنی لئے جائیں تو یشہدہ کی ضمیر کتاب کے بجائے علیین کی طرف راجع ہوگی اور معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ مقربین بارگاہ کی ارواح اسی مقام علیین میں حاضر ہوں گی کیونکہ یہ ہی مقام ان کی ارواج کا مستقر بنایا گیا ہے۔ جس…
Read the full tafseer →’نَضْرَۃٌ‘ اس تازگی و بشاشت کو کہتے ہیں جو نعمتوں میں گھرے ہوئے لوگوں کے چہروں پر جھلکتی ہے۔ فرمایا کہ جو بھی دیکھے گا ان کے چہروں پر نعمت کی تازگی اور بشاشت پائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
26۔ 1 یعنی عمل کرنے والو ایسے عملوں میں سبقت کرنی چاہیے جس کے صلے میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوں۔ جیسے فرمایا، (لِــمِثْلِ ھٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعٰمِلُوْنَ 61) 37۔ الصافات :61)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
4: مومنوں کا اعمال نامہ چونکہ نیکیوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس لیے مقرب فرشتے اس کے اعزازو اکرام کے طور پر اسے دیکھتے ہیں، اور دیکھنے کا مطلب اس کی نگرانی بھی ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →تعرف .................... النعیم (24:83) ” ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کروں گے “۔
Read the full tafseer →1 یعنی جنت کے عیش وآرام سے ان کے چہرے ایسے پر رونق اور تروتازہ ہوں گے کہ ہر ایک دیکھنے والا دیکھتے ہی پہچان جائے کہ یہ لوگ نہایت عیش و تنعم میں ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 24{ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْہِہِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ۔ } ”تم دیکھو گے ان کے چہروں پر تروتازگی کی علامات۔“
جیسے دنیا میں انسان کی خوشحالی اور آسودگی کے اثرات اس کے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن اہل جنت اپنے تروتازہ چہروں سے صاف پہچانے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
15 یعنی جنت کی تمام نعمتوں سے مزے اڑائیں گے۔ شہنشاہوں کی طرح اونچی مسندوں پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے۔ ان کے پررونق چہرے ہی یہ بتا رہے ہوں گے کہ وہ جنت کی نعمتوں میں بڑی خوشحالی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کی نگاہیں بڑی تیز ہوں گی۔ وہ وہاں بیٹھے بیٹھے ہی دوسرے اہل جنت کے اعمال دیکھ لیا کریں گے۔ اسی طرح اگر انہیں دنیا کا کوئی ایسا ساتھی یاد آئے گا جو دوزخ میں پڑا ہوگا۔ وہ اس کے حالات سے باخبر ہونا چاہیں گے تو اس کا بھی نظارہ کرسکیں گے۔
Read the full tafseer →9۔ (اے مخاطب) مطلب یہ کہ اہل جنت کی مسرتیں نمایاں ہوں گی، اور ان کے چہروں ہی سے جھلک رہی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–36
کلا بل ران یعنی جزاء سزا کو افسانہ اور اساطیر الاولین قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے، لیکن جس وجہ سے یہ لوگ اسے افسانہ قرار دے رہے ہیں وہ یہ ہے کہ جن گناہوں کہ یہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کا زنگ ان کے دلوں پر پوری طرح چڑھ گیا ہے اس لئے جو چیز سراسر معقول ہے وہ ان کو افسانہ نظر آتی ہے، اس زنگ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے اگر وہ توبہ کرلے تو وہ نقطہ صاف ہوجاتا ہے لیکن اگر وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ نقطہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔ (مسند احمد، ترمذی، نسائی)
ختمہ مسلک، اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن برتنوں…
Read the full tafseer →تعریف فی وجوھھم نضرۃ النعیم . ان کے چہروں پر جنت النعیم کی وجہ سے تم کو تازگی نظر آئے گی۔ تصرف میں مخاطب عام ہے۔ حسن بصری (رح) نے کہا : تازگی چہرہ پر ہوتی ہے اور خوشی دل میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(22۔ 24) نیک لوگ نہ ختم ہونے والی بڑی آسائش میں ہوں گے، مسہریوں پر بیٹھے ہوئے دوزخیوں کو دیکھتے ہوں گے، محمد آپ جنتیوں کے چہرے میں آسائش کی بشاشت پہچانیں گے۔
Read the full tafseer →(تعرف فی وجوھھم نضرۃ النعیم : دنیا میں خوش حال لوگوں کے چہروں کی تازگی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ صاحب آسائش لوگ ہیں، اسی طرح جنتی لوگوں کے چہرے جنت کی نعمتوں سے ایسے ترو تازہ، پر ونق اور خوش و خرم ہوں گے کہ دیکھنے والا دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ وہ کس قدر نعمت اور عیش و آرام میں ہیں۔
Read the full tafseer →تعرف فی وجوھھم نضرۃ النعیم۔ نظرۃ سے مراد رونق اور نور ہے، یہ جملہ بولا جاتا ہے، نضر النبات جب وہ کلیاں نکالے، عام قرات تعرف ہے اور نضرہ منصوب ہے یعنی اے محمد آپ پہچان لیں گے ابوجعفر بن قعقاع، یعقوب، شیبہ اور ابن ابی اسحاق نے تعرف پڑھا ہے یہ مجہول کا صیغہ ہے نضرہ مرفوع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
19۔ عبد بن حمید نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ علیون سے عرش کا داہنا پایہ مراد ہے
20۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ علیون سے ساتواں آسمان مراد ہے۔
مومن کی روحوں کا اکرام
21۔ عبد بن حمید نے الاجلح کے طریق سے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب مومن بندے کی روح قبض کر کے اس کو آسمان دنیا کی طرف اوپر لے جائی جاتی ہے تو اس کے ساتھ مقرب فرشتے دوسرے آسمان کی طرف چلتے ہیں۔ اجلح (رح) نے کہا تو میں نے پوچھا مقربین کون ہیں ؟ فرمایا جو زیادہ قریب ہیں دوسرے آسمان کے پھر تیسرے پھر چوتھے پھر پانچویں پھر چھٹے پھر ساتویں آسمان کے یہاں تک کہ اس کی انتہا سدرۃ المتنہی کے پاس ہے اجل نے کہا : میں نے ضحاک سے پوچھا…
Read the full tafseer →[تَعْرِفُ فِيْ وُجوهِهِمْ : تو پہچانے گا ان کے چہروں میں ][ نَضْرَةَ النَّعِيْمِ؛دائمی خوشحالی کی تروتازگی کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ان آیات میں ابرار یعنی اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کا انعام و اکرام ذکر فرمایا ہے (جن کی کتاب کے بارے میں اوپر والی آیت میں فرمایا کہ وہ علیین میں ہے) ۔ ارشاد فرمایا کہ نیک بندے نعمتوں میں ہوں گے، مسہریوں پر (تكیے لگائے ہوئے) دیکھ رہے ہوں گے یعنی جنت کی نعمتیں اور وہاں کے مناظر ان کے پیش نظر ہوں گے۔ بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا کہ آپس میں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے اگرچہ بعد مکانی ہوگا۔
مزید فرمایا کہ اے دیکھنے والے ! تو ان کے چہروں میں نعمت کی تروتازگی پہچان لے گا۔ یعنی ان کو دیکھنے ہی سے معلوم ہوجائے گا کہ یہ حضرات اپنی نعمتوں میں خوب زیادہ خوش و خرم ہیں جیسا کہ سورة دہر میں فرمایا ﴿وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–36
کرامت وعزت برائے مومنین مطیعین :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” کلا ان کتب الابرار ...... الی ...... ما کانوا یفعلون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں مجرمین اور خیانت کرنے والوں پر وعید تھی، اب ان آیات میں اہل ایمان اور مخلصین پر ہونے والے انعام واکرام کا ذکر ہے کہ وہ کیسی عزت کے ساتھ جنت میں اللہ کی نعمتوں سے نوازے جائیں گے، ارشاد فرمایا۔
ہرگز نہیں : ایسا کہ نیک اور بد کا انجام ایک ہی طرح ہو، یہ جو کچھ سزائیں ذکر کی گئیں فساق وفجار اور مکذبین کی تھیں، اس کے برعکس بلاشبہ نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہوگا اور وہی ان کا ٹھکانا بھی ہے اور اے مخاطب تجھے معلوم بھی ہے کہ کیا ہے علیین، وہ ایک لکھا ہوا دفتر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–28
9:۔ ” ان الابرار “ مومنین جنت کی نعمتوں میں ہوں گے تختوں پر تکیہ لگائے اللہ تعالیٰ کے انعامات کی طرف دیکھ رہے ہوں گے ان کے چہروں سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے ان کے چہروں سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے اور ان کے چہرے سے نعیم جنت کی خوشی کے آثار نمایاں ہوں گے اور ان کے چہرے تروتازہ اور مسرت و شادمانی سے چمک رہے ہوں گے۔ انہیں خالص، سفید اور نہایت اعلی شراب پلائی جائیگی جو سربمہر ہوگی اور ان سے پہلے کسی نے اس کو ہاتھ تک نہ لگایا ہوگا اور اس کی مہر بھی کستوری کی ہوگی۔ جس شراب پر مہر لگانے کا مسالہ کستوری ہو اس سے اندازہ لگا لیں کہ وہ شراب کس قدر عمدہ اور قیمتی ہوگی۔ ” وفی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
(گذشتہ سے پیوستہ )
جیسا کہ گذشتہ درسوں میں بیان ہوچکا ہے۔ اس سورة میں اللہ رب العزت نے تاجروں کی ذہنیت کے پیش نظر قیامت کا حال بیان فرمایا ہے ۔ ان کی طرف سے ماپ تول میں کمی دبیشی کو مذموم قراردیا ہے اور اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ان کے تمام اعمال کا ذخیرہ محفوظ ہے۔ انہیں اس بڑے دن کا انتظار کرنا چاہیے۔ جس دن سب لوگ اللہ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ اور انہیں اپنا محاسبہ پیش کرنا ہوگا۔ فرمایا فجار کے اعمالنامے سجین میں درج ہیں۔ وہ جہنم میں داخل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم ہوں گے جو کہ سب سے بڑی سزا ہے۔
(جزائے عمل یقینی ہے)
قرآن پاک کا یہ عام اسلوب ہے۔ کہ جہاں ترہیب…
Read the full tafseer →تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْہِہِمْ نَضْرَۃَ النَّعِيْمِ 24 ۚ
عرف
المَعْرِفَةُ والعِرْفَانُ : إدراک الشیء بتفکّر وتدبّر لأثره، وهو أخصّ من العلم، ويضادّه الإنكار، قال تعالی: فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] ، فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ [يوسف/ 58]
( ع رف ) المعرفۃ والعرفان
کے معنی ہیں کسی چیز کی علامات وآثار پر غوروفکر کرکے اس کا ادراک کرلینا یہ علم سے اخص یعنی کم درجہ رکھتا ہے اور یہ الانکار کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے قرآن میں ہے ؛
فَلَمَّا جاءَهُمْ ما عَرَفُوا[ البقرة/ 89] پھر جس کو وہ خوب پہنچانتے تھے جب ان کے پاس آپہنچی تو اس کافر ہوگئے ۔ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنْكِرُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
ترکیب ¦ کلا الخ جملۃ مستانفۃ لبیان حال الابرار۔ علیین قال ابو الفتح الموصلی جمع علی ھو فعیل من العلو وقال الفراء والزجاج جمع و اعرابہ کا عراب الجمع رفعا و نصبا وجرا ولکن لا وا حد لہ من لفظہ نحو ثلاثین وقنسرین والمراد بہ المقام الاعلیٰ فقیل علی السماء السابعۃ وھناک یجتمع ارواح الابرار یشھد صفۃ اخریٰ الکتاب ای یحضرون ذلک الکتاب ویحفظونہ وقیل یرون مافیہ فعلی الاول من الشہودو علی الثانی من الشہادۃ ھنا ینظرون حال ویجوزان یکون مستانفاً وعلی یتعلق بہ والارائک جمع اریکۃ وھی السریر فی حجلۃ والجملۃ بیت مربع من الثیاب الفاخرۃ ترخی علی السریر ویقال فی الہندیۃ (چھ پر کھٹ و مسہری) تعرف الخ الحجلۃ مستانفۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ ۔ عَلَی الْاَرَآئِکِ یَنْظُرُوْنَ ۔ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِھِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ ۔ (المطففین : 22 تا 24)
(بیشک نیک لوگ عیش میں ہوں گے۔ اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کررہے ہوں گے۔ تم ان کے چہروں پر آسائش کی بشاشت محسوس کرو گے۔ )
ابرار کی عزت افزائی
اللہ تعالیٰ کے وفادار بندے جنھوں نے اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت، اس کی نعمتوں کا ادائے شکر اور اس کے دین کی سربلندی میں گزاریں، وہ فجار کے انجام کے بالکل برعکس نعمتوں میں گھرے ہوئے ہوں گے۔ ان کی نگاہ جدھر بھی اٹھے گی ہر طرف نعمتیں چھائی ہوئی ہوں گی۔ ایک عیش کی زندگی ہوگی جس سے وہ بہرہ اندوز ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
فہم القرآن
ربط کلام : جہنمی کا انجام ذکر کرنے کے بعد نیک لوگوں کے انجام اور انعام کا ذکر۔
سجیّن کے مقابلے میں جنت میں جانے والے خوش نصیبوں کا نام علییّن میں درج کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ علییّن کیا ہے ؟ یہ بھی ایک دفتر ہے جس میں جنتی کے نام اور ان کے اعمال کا اندراج کیا جاتا ہے، جس کی نگر انی اللہ کے مقرب ترین فرشتے کرتے ہیں جو اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ خود کرتے ہیں اور نہ ہونے دیتے ہیں۔ جن لوگوں کا علییّن میں نام لکھا جائے گا وہ نیکوکار لوگ ہیں جنہیں جنت میں داخل کیا جائے گا وہ شاندار تختوں پر بیٹھے جنت کا نظارہ کریں گے۔ آپ ان کے چہروں پر جنت کی نعمتوں کے اثرات دیکھیں…
Read the full tafseer →24 : تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْھِہِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ (اے مخاطب تو ان کے چہروں پر آسائش کی بشاشت پہچانے گا) خوش عیشی کی رونق اور تروتازگی۔
Read the full tafseer →24 ۔” تعرف فی وجوھھم نضرۃ النعیم “ جب آپ ان کو دیکھو گے تو پہچان جائو گے کہ وہ نعمتوں والے ہیں اس کی وجہ سے جو آپ ان کے چہروں پر نور اور حسن اور سفیدی دیکھیں گے۔ حسن (رح) فرماتے ہیں چہرہ پر رونق وتروتازگی اور دل میں خوشی۔ ابوجعفر اور یعقوب نے ” تعرف “ تاء کے پیش اور راء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے فعل مجہول کی بناء پر۔ ” نضرۃ “ مرفوع اور باقی حضرات نے تاء کے زبر اور راء کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” نضرۃ “ نصب کے ساتھ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
18۔ 28۔ اوپر حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ کے لئے ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا اور اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ براء بن عازب کی وہ حدیث جس کا ذکر اوپر گزرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے کا قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے رو برو جب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے تو علیین مقام کے دفر میں جو ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس…
Read the full tafseer →(تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيْمِ ) اسے دیکھنے والے تو پہچان لے گا ان کے چہروں پر نعمت کی خوبصورتی اس کی تروتازگی اور اس کی رونق کیونکہ لذتوں مسرتوں اور فرحتوں کا پے درپے حاصل ہونا چہرے کو نور، خوبصورتی اور خوشی عطا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
(18) اس شراب کی ایک اور خصوصیت کا ذکرو بیان : سو اس شراب طہور کی ایک اور خصوصیت کے ذکرو بیان کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کی آمیزش تسنیم سے ہوگی "۔ " تسنیم " اصل میں ماخوذ ہے " سنام " سے، جس کے معنی کوہان اور بلندی کے ہیں، یعنی یہ چشمہ جو کہ نہایت عمدہ اور اعلی قسم کا چشمہ پوگا بلندی سے بہتا ہوا آرہا ہوگا، سو یہ شراب جنت کا سب سے اعلی اور اشرف شراب ہوگی جس سے اہل جنت کو نوازا جائے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ یہ شراب مقربین کے لیے خاص ہوگی اور باقی اہل جنت کو اس کی آمیزش ملے گی (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، مدارک وغیرہ) " مزاج " کے معنی آمیزش ملونی کے ہوتے ہیں اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی
تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین
آیات 1 تا 36۔
اسرار ومعارف۔
بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔
حقوق وفرائض۔
زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی جنت کی نعمتوں سے ان کے چہرے ایسے ترو تازہ اور پر ونق ہوں گے کہ دیکھنے والے دیکھتے ہی پہچان لے گا کہ یہ لوگ نہایت عیش و آرام میں ہیں۔
Read the full tafseer →(83:24) تعرف فی وجوہہم نضرۃ النعیم : یہ بھی جملہ حالیہ ہے (اور حال ابرار کا یہ ہوگا اے مخاطب تجھے ان کے چہروں پر تازگی دکھائی دے گی۔ تعرف مضارع معروف واحد مذکر حاضر معرفۃ وعرفان (باب ضرب) مصدر سے تو پہچانتا ہے۔ تو پہچانے۔ کسی چیز کی نشانیوں پر غور و فکر کے بعد اس چیز کے ادراک کرنے کا نام معرفت اور ادراک ہے یہ علم سے اخص ہے اور انکار اس کی ضد ہے۔
فلان یعرف اللہ (فلاں اللہ کو پہچاننا ہے) بولتے ہیں۔ یعلم اللہ (وہ اللہ کو جانتا ہے) نہیں بولتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا ادراک ہوتا ہے اسی طرح ذات باری تعالیٰ کے لئے ” علم “ کا لفظ استعمال ہوتا ہے معرفت کا نہیں۔ اللہ یعلم کذا اور یعرف کذا نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔
المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
(ف 2) اوپر سے حشر کے منکر اہل دوزخ کا ذکر تھا اس کے مقابلہ میں ان آیتوں میں ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کو دنیا میں ایک دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کا پورا یقین تھا او اس یقین کے سبب سے جہاں تک ہوسکا دنیا سے اس دن کی راحت کا کچھ سامان بھی وہ اپنے ساتھ لے گئے براء بن عازب ؓ کی وہ حدیث جس کا ذکراوپرگذرا اس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ نیک لوگوں کی روح قبض کرکے جب فرشتے آسمان پر لے جانے ایک قصد کرتے ہیں تو ساتوں آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے روبروجب اس روح کو حاضر کیا جاتا ہے، توعلیین مقام کے دفتر میں جا ساتویں آسمان پر ہے اس کے نامہ اعمال کا حوالہ لکھنے کا حکم ہوتا ہے اور اس روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–26
[2] یعنی دنیا کی ناپاک شراب اس قابل نہیں کہ بھلے آدمی اس کی طرف رغبت کریں۔ ہاں یہ شراب طہور ہے جس کے حصول کے لئے لوگوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کریں اور اس کے حاصل کرنے کا ذریعہ نیک اعمال ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–28
ف 1: پاکبازوں کا نامہ اعمال مقام علو و رفعت میں ہوگا ۔ جس کو فرشتے بھی عزت اور فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔ ان کا ٹھکانہ جنت ہے ۔ جہاں ان کو ہر نعمت سے نوازا جائے گا ۔ جہاں یہ مسہریوں پر بیٹھے خدا کی نعمتوں اور بخششوں کا نظارہ کریں گے ۔ تم ان کو دیکھو گے کہ چہروں سے تکلف اور تنعم کے اثرات نمایاں ہیں ۔ ان کو وہاں ہر نوع کے کھانے پینے کی آزادی میسر ہوگی ۔ حتیٰ کہ شراب بھی ملے گی جو سربمہر ہوگی اور آخر میں جو مزا ہوگا ، مشک سا ہوگا ۔ خوشبودار اور معطر ۔ یہ وہ کیفیت اور زندگی ہے جس میں تنافس اور تفاخر کی ضرورت ہے ۔ دنیا کی ذلیل چیزوں کے لئے ایمان اور دیانت کو قربان کردینا انتہا درجہ کی بےعقلی…
Read the full tafseer →(24) اے مخاطب تو ان کے چہروں میں نازونعم کی تروتازگی نمایاں پائے گا۔ یعنی جنت کے آرام اور آسائش کے آثار ان ابرار کے چہروں سے ظاہر ہونگے کہ دیکھتے ہی دیکھنے والا پہچان جائے گا کہ یہ انتہائی آرام میں زندگی بسر کررہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
ف 2۔ یہ مومن کے لئے کرامت عظیمہ ہے جیسا کہ روح المعانی میں بتخریج عبد ابن حمید حضرت کعب سے روایت ہے کہ جب ملائکہ مومن کی روح کو قبوض کر کے لے جاتے ہیں تو ہر آسمان کے مقرب فرشتے اس کے ساتھ ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچ کر اس روح کو رکھ دیتے ہیں، پھر فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ہم اس کا نامہ اعمال دیکھنا چاہتے ہیں۔ چناچہ وہ نامہ اعمال کھول کر دکھلایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →تو اگر دیکھے تو ان کے چہروں پر نعمت کی شادابی محسوس کرے گا
24 ؎ ( نضرۃ) اسم منصوب معرفہ مضاف ، ترو تازگی ، رونق چہرہ۔ اس کا مادہ ن ض ر ہے۔ اس مادہ کے صرف دو الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں نضرۃ ناضرۃ۔ نضرۃ سورة الانسان کی آیت 11 میں اور زیر نظر سورة کی آیت 24 میں اور ( ناضرۃ) سورة القیامہ کی آیت 22 میں اور علاوہ ازیں نہ تو یہ لفظ کہیں استعمال ہوا ہے اور نہ ہی اس مادہ کے الفاظ میں سے کوئی اور لفظ ہی استعمال ہوا ہے۔ اس میں مخاطب ہر ایک انسان ہے جو اہل جنت میں سے ہوگا کہ آگ لوگ ان نعمتوں کے آثار ان لوگوں کے چہروں پر بھی پائیں گے جو لوگ یہ نعمتیں دیئے جائیں گے اور بلا شبہ اس دنیا کی زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ (...attended by those [ angels ] who are blessed with nearness to Allah!...83:21) The verb yash-hadu is derived from shuhud which means 'to attend, to witness, to be present, to observe'. The verse purports to say that the record of deeds of the righteous will be in the custody of angels who are blessed with nearness to Allah. [ Qurtubi ]. If shuhud is taken in the sense of 'being present', then the attached pronoun will refer to ` illiyyin instead of kitab or 'register' (and 'those who are blessed with nearness to Allah' will refer to the righteous people, and not…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
9 That is, they are wrong in thinking that there is going to be no meting out of rewards and punishments.
Read the full tafseer →