Explained with ayahs 7–17
انتہائی المناک اور دکھ درد کی جگہ
مطلب یہ ہے کہ برے لوگوں کا ٹھکانا سجین ہے یہ لفظ فعیل کے وزن پر سجن سے ماخوذ ہے سجن کہتے ہیں لغتا تنگی کو ضییق شریب خمیر سکیر وغیرہ کی طرح یہ لفظ بھی سجین ہے پھر اس کی مزید برائیاں بیان کرنے کے لیے فرمایا کہ تمہیں اس کی حقیقت معلوم نہیں وہ المناک اور ہمیشہ کے دکھ درد کی جگہ ہے مروی ہے کہ یہ جگہ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے حضرت براء بن عازب کی ایک مطول حدیث میں یہ گزر چکا ہے کہ کافر کی روح کے بارے میں جناب باری ارشاد ہوتا ہے کہ اس کی کتاب سجین میں لکھ لو اور سجین ساتویں زمین کے نیچے ہے کہا گیا ہے کہ یہ ساتویں زمین کے نیچے سبز رنگ کی ایک چٹان ہے اور کہا گیا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
سورة الْمُطَفِّفِيْن 4
یعنی ان لوگوں کا یہ گمان غلط ہے کہ دنیا میں ان جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد یہ یونہی چھوٹ جائیں گے اور کبھی ان کو اپنے خدا کے سامنے جواب دہی کے لیے حاضر نہ ہونا پڑے گا۔
سورة الْمُطَفِّفِيْن 5
اصل میں لفظ سجین استعمال ہوا ہے جو سجن (جیل یا قید خانے) سے ماخوذ ہے اور آگے اس کی جو تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس سے مراد رجسٹر ہے جس میں سزا کے مستحق لوگوں کے اعمال نامے درج کیے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ، مرقوم کے معنے اس جگہ مختوم کے ہیں۔ یعنی مہر لگی ہوئی۔ امام بغوی اور ابن کثیر نے فرمایا کہ یہ جملہ مقام سجین کی تفسیر نہیں، بلکہ اس سے پہلے جو کتب الفجار آیا ہے اس کا بیان ہے، معنے یہ ہیں کہ کفار و فجار کے اعمالنامے مہر لگا کر محفوظ کردئے جاویں گے کہ ان میں کسی کمی بیشی اور تغیر کا امکان نہ رہے گا اور انکے محفوظ کرنے کی جگہ سجین ہے یہیں کفار کی ارواح کو جمع کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
یعنی اس گمان میں نہ رہو کہ جس طرح آج چھوٹے پھر رہے ہو اسی طرح برابر چھوٹے ہی پھرو گے، بلکہ جب وہ جزا و سزا کا دن ظہور میں آئے گا تو ان لوگوں کی شامت آ جائے گی جو اس کو جھٹلاتے رہے ہیں۔ اس دن وہ دیکھ لیں گے کہ ان کا کوئی قول و عمل نہ ریکارڈ ہونے سے رہ گیا ہے اور نہ اب اس کے وبال سے بچنے بچانے کی کوئی صورت ہی باقی رہی۔ مجرم اس کو دیکھ کر پکار اٹھیں گے:
مَالِ ھٰذَا الْکِتَابِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَلَا کَبِیْرَۃً إِلَّا أَحْصَاہَا (الکہف ۱۸: ۴۹)
’’عجیب ہے یہ کتاب کہ اس نے نہ کوئی چھوٹی بات لکھنے سے چھوڑی ہے نہ کوئی بڑی بات!‘‘
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–13
13۔ 1 یعنی اس کا گناہوں میں مصروفیت اور حد سے تجاوز اتنا بڑھ گیا کہ اللہ کی آیات سن کر ان پر غور و فکر کرنے کے بجائے، انہیں اگلوں کی کہانیاں بتلاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
2: سجین کے لفظی معنی قید خانے کے ہیں۔ یہ اس جگہ کا نام ہے جہاں مرنے کے بعد کافروں کی روحوں کو رکھا جاتا ہے۔ وہیں پر ان کا اعمال نامہ بھی موجود رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
الذین ........................ الاولین (11:83 تا 13) ” اور اسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے۔ اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے ، ” یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں “۔ یہ الزام وہ اس لئے دیتے ہیں کہ قرآن کریم میں امم سابقہ کے قصے اور حالات برائے عبرت لائے گئے ہیں۔ اور ان کے ذریعہ اس کائنات میں چلنے والی سنت الٰہیہ کی نشاندہی کی گئی ہے اور یہ سنت ایک اٹل قانون کی طرح لوگوں کو گرفت میں لیتی ہے۔
اس دست درازی اور تکذیب کے بعد اب ایک سرزنش اور تنبیہہ آتی ہے اور یہ کلا سے شروع ہوتی ہے اور اس میں ان کی اس روش کی اصلی علت اور سبب بتایا جاتا ہے کہ وہ کیوں ظلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
5 جو شخص روز جزا کا منکر ہے فی الحقیقت اللہ کی ربوبیت، اس کی قدرت اور اس کے عدل و حکمت سب کا منکر ہے اور جو ان چیزوں کا منکر ہو وہ جس قدر گناہوں پر دلیر ہو تھوڑا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
آیت 9{ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ } ”لکھا ہوا دفتر۔“
اس ”کتاب“ سے مراد ایک انسان کی جان اور روح کا وہ ملغوبہ ہے جس میں اس کے اعمال کے اثرات بھی ثبت ہوتے ہیں۔ کسی برے انسان کے مرنے پر متعلقہ فرشتہ وہ ملغوبہ لا کر سجین میں ”جمع“ کرا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
5 یعنی تمہارا یہ خیال باطل ہے کہ نہ قیامت آنی ہے اور نہ تمہارا محاسبہ ہونا ہے۔ بلکہ تمہارا محاسبہ ہوگا اور ضرور ہوگا۔
6 سجین۔ سجن بمعنی قید خانہ، جیل اور سجن بمعنی عدالت کا ثبوت جرم کے بعد بطور سزا کسی کو قید میں ڈال دینا۔ اور سجین سے مراد وہ مقام یا دفتر ہے جہاں بدکردار لوگوں کے اعمال نامے بھی محفوظ کرلیے جاتے ہیں اور ایسے لوگوں کی ارواح بھی تاقیام قیامت اسی مقام پر قید رکھی جاتی ہیں۔ بعض اسلاف کے نزدیک یہ مقام سات زمینوں کے نیچے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
4۔ یعنی رسول کی تکذیب پر مصر اور دلیر تو وہی لوگ ہیں، جو فسق وفجور کی کثرت وشدت سے اپنی اخلاقی صلاحتیوں کو پہلے ہی برباد کرچکے ہیں۔ (آیت) ” قال اساطیر الاولین “۔ قرآن کے مکذبین ومنکرین میں بھی ایسے بہت سے گزرے ہیں اور اب بہت سے ایسے ہیں جو اس کی آیتوں اور ان کے مضامین کو سن کر بول اٹھتے ہیں کہ یہ بےسند اور بےبنیاد باتیں تو اگلے صحیفوں اور پرانے نوشتوں سے منقول چلی آرہی ہیں۔ گویا حقانیت قرآں کے خلاف یہ بھی کوئی دلیل ہوسکتی ہے کہ اس کی بیان کی ہوئی بعض روایتیں کسی نہ کسی بگڑی ہوئی شکل میں پہلے ہی بیان ہوچکی ہیں ! عجب مسخ شدہ ذہینت منکرین قرآن کی ہر زمانہ میں رہی ہے۔ قرآن کوئی نئی تعلیم پیش کرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
سجین کے معنی جیل یا قید خانہ کے ہیں، کتاب مرقوم میں اس کی تشریح کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سجین سے مراد وہ رجسٹر ہے جس میں سزا پانے والے لوگوں کے اعمال نامے درج کئے جا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →الذین یکذبون بیوم الدین . جو یوم سزا و جزا کی تکذیب کرتے ہیں۔ الذین سے پورا جملہ المکذبین کی
صرف توضیحی صفت ہے یا صفت ذم ہے یا مخصصہ ہے۔ (مکذبین حق کی تکذیب کرنے والے۔ حق کوئی بات ہو لیکن الذین سے خصوصیت کے ساتھ صرف روز جزاء کی تکذیب کرنے والوں کا ذکر کیا۔ اس لیے تعمیم کے بعد صفت مخصصہ ہوگئی) یا المکذّبین سے بدل ہے۔ ویل یومئذ للمکذبین پورا جملہ معترضہ ہے جو مکذبین کی مذمت کو ظاہر کر رہا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ جملہ مرقوم کا نائب فاعل ہو یعنی کتاب میں لکھ دیا گیا ہے کہ سزا و جزا کے دن مکذبین کے لیے ویل ہوگی یا یہ جملہ کتابٌ کی صفت ہے یعنی کتاب موجب ویل ہوگی۔ اوّل تاویل ‘ لفظی قرب کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(11۔ 13) جو کہ روز جزا کو جھٹلاتے ہیں اور اس کو وہی جھٹلاتا ہے جو حق سے گزرنے والا، دھوکا باز، فاجر ہو، جیسا کہ ولید بن مغیرہ جب اس کے سامنے قرآن مجید کے احکامات پڑھے جاتے ہیں تو وہ یوں کہہ دیتا ہے کہ یہ بےبنیاد باتیں ہیں جو پرانے لوگوں سے منقول چلی آتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
(کلا ان کتب الفجار لفی سجین…:”کلا“ یعنی یہ بات ہرگز نہیں کہ تم جس طرح چاہو اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے ہوئے ماپ تول میں کمی کرتے رہو اور وہ وقت ہی نہ آئے کہ تم سے اس ظلم کے متعلق باز پرس ہو۔ نہیں، بلکہ نافرمان لوگوں کا اعمال نامہ سجین میں ہے۔”سجین“ ”سجن“ سے مبالغہ ہے، جس کا معنی قید خانہ ہے۔ ق اسوس میں ہے ”السجین الدائم الشدید“ یعنی دائمی قید۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں ہمیشہ جہنم میں رہنے والوں کے نام اور ان کے اعمال محفوظ ہیں (گویا یہ دائمی قید والوں کا رجسٹر ہے) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود ”سجین“ کی وضاحت کی ہے کہ وہ ”کتب مرقوم“ یعنی ایک واضح لکھی ہوئی کتاب ہے، جس میں کوئی کمی بیشی یا رد و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ویل یومئذللمکذبین۔ الذین یکذبون بیوم الدین، ومایکذب بہ الا کل معتد اثیم۔ یعنی قیامت کے دن جھٹلانے والوں کے لیے سختی اور عذاب ہے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے امر کو بیان فرمایا، جو حساب، جز اور لوگوں کے درمیان فیصلہ والے دن کو جھٹلاتے ہیں اس کی وہی تکذیب کرتا ہے جو فاجر ہے، حق سے انحراف کرنے والا ہے، مخلوقات کے ساتھ معاملات کرنے میں مخلوق پر ظلم کرنے والا ہے اور اپنی ذات پر بھی ظلم کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ کا امر ترک کرنے میں وہ گناہ گار ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ، ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
29۔ ابن المبارک نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ سجین نیچے والی زمین ہے اور مرقوم سے مراد ہے لکھا ہوا۔ یعنی مرقوم سے مراد ہے۔ لکھی ہوئی کتاب۔
30۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کتب مرقوم سے مراد ہے کہ ان کیلیے شر لکھ دیا گیا۔
31۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لفی سجین سے مراد ہے کہ وہ بہت خسارہ پانے والے ہیں۔
32۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ مجھ کو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ فرشتہ بندے کے عمل کو لے کر بلندی کی طرف چڑھتا ہے وہ دکھائی دیتا ہے کہ ہاتھوں میں انتہائی فرحت ہے یہاں تک کہ وہ مقرر مقام تک پہنچ کر رک جاتا ہے…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ يُكَذِّبُوْنَ : وہ لوگ جو جھٹلاتے ہیں ][ بِيَوْمِ الدِّيْنِ : بِیَوْمِ الدِّیْنِ (11) چ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
﴿ وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌؕ008 ﴾ (اور آپ کو معلوم ہے کہ سجین میں رکھا ہو اعمال نامہ کیا ہے ؟ ) (بحذف مضاف) ای ما کتاب السجین ﴿ كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌؕ009﴾ وہ ایک لکھی ہوئی کتاب ہے جس میں اعمال لکھے ہیں۔
بعض اہل تفسیر نے مرقوم بمعنی مختوم لیا ہے مطلب یہ ہے کہ اس اعمال نامہ پر مہر لگی ہوئی ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل کا احتمال نہیں۔ اس کے بعد فرمایا ﴿ وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَۙ0010﴾ خرابی ہے اس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔
﴿الَّذِيْنَ يُكَذِّبُوْنَ بِيَوْمِ الدِّيْنِؕ0011﴾ جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں۔ ﴿ وَ مَا يُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِيْمٍۙ0012﴾ اور اسے نہیں جھٹلاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–17
وعید براتلاف حقوق وخیانت دروزن وپیمائش :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ویل للمطففین۔ 1............ الی ........... کنتم بہ تکذبون “۔
حاشیہ (المطففین۔ تطفیف سے ماخوذ ہے جس کے معنی کنارہ اور جانب میں ہونے کے ہیں طفف لغت میں کنارہ کو کہا جاتا ہے اور کمی کرنے کرنے کو بھی کہتے ہیں محاورات میں کہا جاتا ہے طف الاناء جب کہ برتن کو پورا نہ بھرا جائے بلکہ بھرنے کے قریب ہو تو چھوڑ دیا جائے۔ زجاج (رح) بیان کرتے ہیں مطفف پیمانہ اور ترازو میں کمی کرنے والے کو کہتے ہیں کیونکہ وہ اس میں سے کچھ مقدار دھوکہ کی صورت میں کم کردیتا ہے اسی کو بخس کہتے ہیں ” اکتیال کا مفہوم کوئی چیز ماپ کرلینا اور کال یکیل کوئی چیز ماپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
5:۔ ” ویل یومئذ “ زجر و تخویف۔ جس دن یہ دفتر اعمال پیش ہوگا یعنی (قیامت کے دن) اس دن جزاء و سزاء کا انکار کرنے والوں کے لیے ہلاکت و تباہی اور عذاب شدید ہوگا۔ ” وما یکذب بہ الخ “ یہ بھی سورت سابقہ سے علی سبیل الترقی ہے کیونکہ وہاں مکذبین پر زجر تھا اور یہاں زجر کے علاوہ مکذبین کا بیان بھی ہے کہ تکذیب کس قسم کے لوگ کرتے ہیں۔ قیامت کے دن کا انکار صرف وہی کرسکتا ہے ج وجہالت اور باپ دادا کی اندھی تقلید میں حد سے گذر چکا ہو اور شہوات نفسانیہ میں منہمک ہو کر ان کے نتائج بد سے غافل ہوچکا ہو۔ ” اذا تتلی علیہ الخ “ یہ شکوی ہے یہ برائی اور نفس پرستی میں اس قدر منہمک ہوتا ہے کہ خدا کی آیتوں میں ذرہ برابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
(گذشتہ سے پیوستہ)
اس سورة مبارکہ میں بھی قیامت کا ہی ذکر ہے۔ اس مقام پر تاجرانہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر قیامت کے مسئلہ پر کلام کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان تاجروں کی مذمت بیان کی ہے جو ماپ تول میں کمی کرکے لوگوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔ اپنا فرض پورا نہیں کرتے۔ اور دوسروں کو ان کا پورا حق ادا نہیں کرتے۔ گویا اپنے لیے انصاف پسند کرتے ہیں۔ اور دوسروں کے لیے ظلم۔ خود زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ دوسروں کو نقصان پہنچا نے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ انہیں لوگوں کے متعلق فرمایا۔ کہ کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ فرمایا یہ ان کی خام…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يُكَذِّبُوْنَ بِيَوْمِ الدِّيْنِ 11
كذب
وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی:
إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ،
( ک ذ ب ) الکذب
قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
يوم
اليَوْمُ يعبّر به عن وقت طلوع الشمس إلى غروبها . وقد يعبّر به عن مدّة من الزمان أيّ مدّة کانت، قال تعالی: إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 155] ،
( ی و م ) الیوم
(…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
ترکیب ¦ کلا الاکثرون علی انھا کلمۃ روع وتنبیہ ای لیس الامر ما زعمتم من انہ لاحساب ولا جزاء وقال ابو حاتم کلا ابتداء یتصل بما بعدہ علی معنی حقاوھو قول الحسن کتاب الفجار اسم ان لفی سجین خبرھا۔ وفی السجین قولان الاول وھو قول لجمہورانہ اسم علم علیٰ شیء معین فعلی ھذا فیہ اقوال عند الاکثر ھو الارض السابعۃ السفلی وھو قول ابن عباس وقیل جب 1 ؎ فی جہنم۔ والقول الثانی انہ مشتقف ہو فعیل من السجن بمعنی الجنس والتضیق کالفسیق من الفسق وھذا قول المبردد والزجاج وابی عبیدۃ وروہ الواحدی وقال صاحب الکشاف ان السجین فعیل من السجن ثم انہ ھھنا اسم علم منقول من وصف کحاتم وھو منصرف لانہ لیس فیہ الاسبب واحدوھو التعریف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ (المطففین : 10، 11)
(تباہی ہے اس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ جو روزجزاء کو جھٹلاتے ہیں۔ )
سابقہ مضمون کو مزید واضح اور محکم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ قیامت کو ایک وہم سمجھ کر نظرانداز کرنے اور جھٹلانے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آج تو تم نے اسے مذاق سمجھ رکھا ہے لیکن جب اس دن کا ظہور ہوگا تو اندازہ ہوگا کہ اس دن کے جھٹلانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کو کیسی صورتحال سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ تب انھیں معلوم ہوگا کہ ہم جس دن کو جھٹلاتے رہے ہیں وہ درحقیقت جزاء کا دن ہے۔ جس میں اپنے ایک ایک عمل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
فہم القرآن
ربط کلام : جس دن لوگوں کو رب العالمین کے حضور پیش کیا جائے گا اس دن کے لیے مجرموں کے اعمال ناموں کا اندراج سجّین میں محفوظ ہے۔
دنیا میں بیشمار انسان بالخصوص پیشہ ور مجرم اس طریقے سے جرم کرتے ہیں کہ وہ اپنے جرم کا کوئی نشان باقی نہیں چھوڑتے جس وجہ سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں ایسے لوگوں کو بالخصوص خبر دار کیا گیا ہے۔ کسی مجرم کا کوئی جرم ایسا نہیں جسے سجّین میں درج نہیں کیا جاتا۔ اے نبی ﷺ ! آپ نہیں جانتے کہ وہ سجّین کیا ہے ؟ وہ مجرمین کے جرائم کا لکھا ہوا ریکارڈ ہے جو قولاً یا فعلاً قیامت کے دن کو جھٹلاتے ہیں۔ قیامت کو وہی شخص جھٹلاتا ہے جو حدود اللہ سے نکل جانے والا اور گنہگار ہے۔ جب…
Read the full tafseer →11 : الَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ (جو کہ روز جزاء کو جھٹلاتے ہیں) الدینؔ سے جزاء و حساب کا دن مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
10 ۔” ویل یومئذ للمکذبین
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
7۔ 17۔ جو لوگ قیامت کے دن خدا کے رو برو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن خدا تعالیٰ کے رو برو کھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے کہ یہ لوگ ہیں پھر فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بد لوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں چناچہ ابو داؤد اور مسند 1 ؎ امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ بد لوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے ہیں تو ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا خدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (كَلَّآ اِنَّ كِتٰبَ الْفُجَّارِ ) ہرگز نہیں بدکاروں کے اعمال۔ یہ آیت کریمہ کفار، منافقین اور فاسقین کے مختلف انواع کے تمام فاجروں کو شامل ہے ( لَفِيْ سِجِّيْنٍ ) ، سجین میں ہیں۔ پھر اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے اس کی تفسیر فرمائی (وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سِجِّيْنٌ ۭ كِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ ۭ ) تجھے کس چیز نے بتایا کہ سجین کیا ہے لکھی ہوئی کتاب ہے یعنی وہ کتاب جس میں ان کے اعمال خبیثہ مذکور ہیں السجین سے مراد تنگ جگہ ہے اور سجین، علیین کی ضد ہے جو کہ ابرابر کی کتاب کا محل ومقام ہے جیسا کہ اس کا بیان آئندہ صفحات میں آئے گا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سجین ساتویں زمین کا سب سے نچلا حصہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(7) منکرین و مکذبین کے ہولناک انجام کا ذکرو بیان : سو اس سے واضح فرمایا دیا کہ منکرین و مکذبین کے لیئے اس روز بڑی خرابی ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم، چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی ہوگی ان جھٹلانے والوں کے لیے جو جھٹلاتے ہیں بدلے اور جزاء کے دن کو، سو جن لوگوں نے جزا و سزا کو جھٹلا کر لاپرواہی کی زندگی گزاری ہوگی ان کے لیے بڑی خرابی ہے، کیونکہ یوم جزا کی تکذیب دراصل جڑ بنیاد ہے تمام برائیوں اور جملہ خرابیوں کی، کہ اس کے بعد انسان ایک غیر ذمہ دار انسان بلکہ بدترین حیوان اور شر البریہ ( بدترین مخلوق) بن کر رہ جاتا ہے، بلکہ وہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر بدترین ہوجاتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
ناپ تول میں کمی اور آخرت میں پیشی
تشریح : اس پوری سورت کا مرکزی مضمون آخرت ہے۔ یعنی انسان کا انجام مرجانا یعنی مادی جسم کا ختم ہوجانا اور دوسری زندگی کی ابتدا ہوجانا۔ اس دنیا کی زندگی میں انسان روح اور شیطان کی طاقت سے لڑتا لڑتا رخصت ہوجاتا ہے۔ اسی لڑائی میں انسان یا تو سجین میں اور یا علیین میں جگہ پا لیتا ہے۔ علیین کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا نفس گناہ و بدکاری سے پاک ہوتا ہے اسطرح وہ بالکل ہلکا پھلکا ہوتا ہے لہٰذا وہ روحانی بلندیاں حاصل کرتے کرتے جنت حاصل کرلیتا ہے ہم عام انسان جب کسی کو سچا خواب دیکھنے کی خبر دیتے ہوئے سنتے ہیں تو کہہ اٹھتے ہیں '' لو جی یہ تو ہوگیا ولی اللہ '' یعنی ولی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
سورة مطففین
آیات 1 تا 36۔
اسرار ومعارف۔
بربادی ہے لوگوں کے حقوق پوری طرح ادا نہ کرنے والوں کے لیے کہ جب اپنا حق حاصل کریں تو پورا پورا حاصل کریں اور جب دوسروں کو دینے کی باری آئے تو انہیں پورا نہ دیں۔
حقوق وفرائض۔
زندگی کا مداردینے پر ہے جس طرح سورج چاند بادل ہواسب کی خاصیت دینا ہے ہر شے دیتی ہے دل خون پہنچاتا ہے توہررگ ہر شریان آگے دیتی ہے کہیں رک جائے توخرابی پیدا ہوتی ہے یہ بھی ضروری ہے کہ دینے والے کے بھی حقوق دوسروں پر ہیں جو انہیں بھی ادا کرنا ہیں یہی حال معاشرے کے نظام کا ہوتا ہے جو حقوق وفرائض سے عبارت ہے اور حکومت وہ ادارہ ہوتا ہے جو اس کی حفاظت کرتا ہے کوتاہی یاقصور کرنے والے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
ف 4 یعنی من گھڑت قصے اور فرسودہ کہانیاں ہیں جو پہلے لوگ اپنی جگہ بیٹھے بناتے رہتے تھے۔
Read the full tafseer →(83:11) الذین یکذبون بیوم الدین۔ جملہ المکذبین (آیت نمبر 10 مذکورہ بالا) سے بدل ہے یا اس کی صفت ذم ہے۔ (ان مکذبین کی خرابی ہوگی) جو روز انصاف کو جھٹلاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–36
لغات القرآن۔
المطففین۔ کم تولنے والے گھٹانے والے۔ اکتالوا۔ انہوں نے ماپ کرلیا۔ یستوفون۔ وہ پورا پورا لیتے ہیں۔ کالوا۔ ماپ کردیں۔ اوزنوا۔ انہوں نے وزن کیا۔ یخسرون۔ وہ گھٹا کردیتے ہیں۔ سجین (سجن) حفاظت سے رکھی جانے والی چیز۔ مرقوم۔ لکھا ہوا۔ ران۔ زنگ جم گیا۔ یکسبون۔ وہ کماتے ہیں۔ محجوبون۔ روک دئیے جائیں گے۔ علیین۔ بلند مقام) جہاں نیک لوگوں کے اعمال نامے محفوظ ہیں) ۔ یشھدہ۔ اس کو دیکھتے ہیں۔ یسقون۔ وہ پلائے جائیں گے۔ رحیق۔ خالص اور بہترین مشروب مختوم۔ مہر لگا دی گئی۔ مسک۔ مشک۔ یتنافس۔ آگے بڑھتا ہے۔ تسنیم۔ جنت کا نام ہے۔ مروا۔ وہ گزرے۔ یتغامزون۔ آنکھوں سے آپس میں اشارے کرتے ہیں۔ فکھین۔ دل لگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–14
انسان کے نیک و بدعمل کرنے، منکرین اسلام اور محبوبان حق کا ذکر۔
(ف 1) جو لوگ قیامت کے دن خدا کے روبرو کھڑے ہونے کے ڈرانے سے نہ ڈرے ، ان کو فرمایا کہ وہ گناہ گار قیامت کے منکر ہیں کیونکہ جس کو قیامت کے آنے اور اس دن اللہ کے روبروکھڑے ہونے کا یقین ہے وہ اس دن کے عذاب سے ایسا بےفکر نہیں ہے جیسے یہ لوگ ہیں فرمایا کہ ان کے نامہ اعمال سجین میں رکھے جائیں گے۔ سجین ساتویں زمین میں ایک جگہ ہے جہاں بدلوگوں کے اعمال نامے رکھے جاتے ہیں ، چناچہ ابوداؤد اور مسند امام احمد وغیرہ میں براء بن عازب ؓ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے بدلوگوں کی قبض روح کے بعد فرشتے ان روحوں کو آسمان پر لے جانے کا جب قصد کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–13
[1] یعنی وہ آیتیں جن میں قیامت اور جزا و سزا کی خبر دی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–16
ف 1: اس دن افسوس ان لوگوں کے لئے ہے جو مکذب ہیں اور مکافات عمل کے اصول کو تسلیم نہیں کرتے ۔ جو یہ نہیں مانتے کہ ان کو مرنے کے بعد زندہ ہوتا ہے ۔ اور اپنے اعمال کا جواب وہ ہوتا ہے ۔ جن کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کے بعد کیونکر دوبارہ زندگی عطا ہوسکے گی ۔ اور جن کے نزدیک عقلاً یہ مست بعد ہے کہ حیات رواں دواں اور مسلسل ہے ۔ جن کا عقیدہ یہ ہے کہ جو کچھ بھی بری بھلی زندگی ہے ، یہی ہے اس کے بعد نہ برزخ ہے نہ جنت اور نہ دوزخ ۔ قرآن حکیم کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کا انکار بربنائے معقول نہیں ہے ۔ ان کے پاس دلائل نہیں ہیں ۔ جن کی وجہ سے کفر پر مصر ہوں اور جزاوسزا کے اس قانون…
Read the full tafseer →(11) جو روز جزا کی تکذیب کرتے ہیں - یعنی جو لوگ روز جزا کی تکذیب کرنیوالے ہیں اس جزا کے دن ان کے لئے بڑی خرابی اور تباہی ہوگی اوپر جس دن کا ذکر آیا تھا وہ یہی روز جزا جس کو فرمایا تھا۔ لیوم عظیم یوم یقوم الناس لرب العالمین اسی دن کو یہاں فرمایا کہ جو لوگ اس دن تکذیب کررہے ہیں جب وہ دن واقع ہوگا تو ان کے لئے بڑی خرابی ہوگی آگے تکذیب کرنے والوں کے اور اعمال مشومہ کا ذکر فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–17
ف 3۔ سجین ایک مقام ارض سابعہ میں ارواح کفار کا مستقر ہے، کذا فی تفسیر ابن کثیر عن کعب و فی الدر المنثور عن ابن عباس و مجاہد و فرقد و قتادہ وعبداللہ بن عمر و مرفوعا۔
Read the full tafseer →جو سزا و سزا کے دن کو جھٹلاتے ہیں
11 ؎ وضاحت کی جا رہی ہے کہ ( ویل) کن لوگوں کے لیے ہے اور اس دن جھوٹے کن لوگوں کو کہا جا رہا ہے ؟ فرمایا ان لوگوں کو جو آخرت کے دن کو جھٹلاتے ہیں خواہ وہ کفار مکہ کی طرح بالکل تسلیم ہی نہیں کرتے اور خواہ آج کل ہم مسلمانوں کی طرح وہ زبان سے اقرار کرتے ہیں لیکن عملاً اس کی تکذیب کر رہے ہیں کیونکہ وہ قوم عملاً آخرت کی تکذیب نہ کرتی ہو وہ اپنے اعمال کو درست کرنے کی فکر کرتی ہے لیکن اس وقت ہم من حیث القوم آخرت کی طرف سے بالکل بےفکرہو کر رہ گئے ہیں ۔ ہمارے عالم ہیں یا جاہل امیر ہیں یا غریب ، شریف ہیں یا رذیل سب کے سب دنیوی زندگی کی رنگینوں میں مصروف نظر آتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
كِتَابٌ مَّرْقُومٌ (A register inscribed!...83:9) The word marqum (translated above as 'inscribed' ) signifies here makhtum meaning 'sealed'. Imam Baghawi and Ibn Kathir say that this statement is not the interpretation of sijjin, but rather the explication of a phrase before that, namely:
كِتَابَ الْفُجَّارِ
'Indeed the record of deeds of the sinners is in sijjin. [ 83:7] '
It is a book inscribed and sealed. No one can add anything to it, nor can anyone remove anything from it, nor is any alteration possible in it. The place where it will be kept for safe-custody is called sijjin, and it…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–12
4 That is, "These people are wrong in thinking that they will be let off without being called to account when they have committed such and such crimes in the world. "
5 The word sijjin in the original is derived from sijn (a prison) and the explanation of it that follows shows that it implies the general Register in which the actions and deeds of the people worthy of punishment are being recorded.
Read the full tafseer →