Al-Anfaal 8:42

Al-Anfaal · from ayah 42

8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰی وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ؕ— وَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ ۙ— وَلٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ۙ۬— لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَیِّنَةٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَةٍ ؕ— وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۟ۙاِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الدُّنۡيَا وَهُمۡ بِالۡعُدۡوَةِ الۡقُصۡوٰى وَ الرَّكۡبُ اَسۡفَلَ مِنۡكُمۡ‌ؕ وَلَوۡ تَوَاعَدْتُّمۡ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِى الۡمِيۡعٰدِ‌ۙ وَلٰـكِنۡ لِّيَقۡضِىَ اللّٰهُ اَمۡرًا كَانَ مَفۡعُوۡلًا ۙ لِّيَهۡلِكَ مَنۡ هَلَكَ عَنۡۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحۡيٰى مَنۡ حَىَّ عَنۡۢ بَيِّنَةٍ‌ ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌۙ‏

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Remember] when you were on the near side of the valley, and they were on the farther side, and the caravan was lower [in position] than you. If you had made an appointment [to meet], you would have missed the appointment. But [it was] so that Allah might accomplish a matter already destined - that those who perished [through disbelief] would perish upon evidence and those who lived [in faith] would live upon evidence; and indeed, Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

Juz 10 · Ruku 5 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Anfaal

All translations of 8:42

یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اِس جانب تھے اور وہ دُوسری جانب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرارداد ہو چکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کر جاتے، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کر چکا تھا اسے ظہُور میں لے آئے تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے، یقیناً خدا سُننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب کہ تم پاس والے کنارے پر تھے اور وه دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے تھا۔ اگر تم آپس میں وعدے کرتے تو یقیناً تم وقت معین پر پہنچنے میں مختلف ہو جاتے۔ لیکن اللہ کو تو ایک کام کر ہی ڈالنا تھا جو مقرر ہو چکا تھا تاکہ جو ہلاک ہو، دلیل پر (یعنی یقین جان کر) ہلاک ہو اور جو زنده رہے، وه بھی دلیل پر (حق پہچان کر) زنده رہے۔ بیشک اللہ بہت سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ وقت یاد کرو جب تم لوگ وادی کے قریب والے کنارے پر تھے اور وہ لوگ دور والے کنارے پر، اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف۔ اور اگر تم پہلے سے (لڑائی کا) وقت آپس میں طے کرتے تو وقت طے کرنے میں تمہارے درمیان ضرور اختلاف ہوجاتا، لیکن یہ واقعہ (کہ پہلے سے طے کیے بغیر لشکر ٹکرا گئے) اس لیے ہوا کہ جو کام ہو کر رہنا تھا، اللہ اسے پورا کر دکھائے، تاکہ جسے برباد ہونا ہو، وہ واضح دلیل دیکھ کر برباد ہو، اور جسے زندہ رہنا ہو وہ واضح دلیل دیکھ کر زندہ رہے، اور اللہ ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جب تم نالے کے کنا رے تھے اور کافر پرلے کنا رے اور قا فلہ تم سے ترائی میں اور اگر تم آپس میں کوئی وعدہ کرتے تو ضرور وقت پر برابر نہ پہنچتے لیکن یہ اس لیے کہ اللہ پورا کرے جو کام ہونا ہے کہ جو ہلاک ہو دلیل سے ہلاک ہو اور جو جئے دلیل سے جئے اور بیشک اللہ ضرور سنتا جانتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب تم (مدینہ کی جانب) وادی کے قریبی کنارے پر تھے اور وہ (کفّار دوسری جانب) دور والے کنارے پر تھے اور (تجارتی) قافلہ تم سے نیچے تھا، اور اگر تم آپس میں (جنگ کے لئے) کوئی وعدہ کر لیتے تو ضرور (اپنے) وعدہ سے مختلف (وقتوں میں) پہنچتے لیکن (اللہ نے تمہیں بغیر وعدہ ایک ہی وقت پر جمع فرما دیا) یہ اس لئے (ہوا) کہ اللہ اس کام کو پورا فرما دے جو ہو کر رہنے والا تھا تاکہ جس شخص کو مرنا ہے وہ حجت (تمام ہونے) سے مرے اور جسے جینا ہے وہ حجت (تمام ہونے) سے جئے (یعنی ہر کسی کے سامنے اسلام اور رسول برحق صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت پر حجت قائم ہو جائے)، اور بیشک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جب تم قریب والے کنارے پر اور وہ دور والے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف تھا اور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو ضرور مقرر وقت کے بارے میں آگے پیچھے ہوجاتے اور لیکن تاکہ اللہ اس کام کو پورا کردے جو کیا جانے والا تھا، تاکہ جو ہلاک ہو واضح دلیل سے ہلاک ہو اور جو زندہ رہے واضح دلیل سے زندہ رہے اور بیشک اللہ یقینا سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب تم (میدان جنگ کے) اس کنارے پر تھے اور وہ (دشمن) پرلے کنارہ پر تھے اور (ابوسفیان کا) قافلہ تم سے نیچے (ساحل کی طرف) اتر گیا تھا اور اگر تم دونوں (مسلمان اور کفار) باہم جنگ کا عہد و پیمان کرتے تو تم دونوں مقررہ وقت سے پہلوتہی کرجاتے۔ لیکن اللہ نے تو وہ کام پورا کرنا ہی تھا جو ہو کر رہنے والا تھا۔ تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ بھی دلیل کی بنا پر زندہ رہے اور اللہ تعالیٰ یقینا سننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

خیال کرو جب تم وادی کے قریبی کنارے پر تھے اور وہ دور کے کنارے پر، اور قافلہ تم سے نیچے تھا اور تم باہم میعاد ٹھہرا کر نکلتے تو میعاد پر پہنچنے میں ضرور تم مختلف ہوجاتے لیکن اللہ نے فرق نہ ہونے دیا تاکہ اللہ اس امر کا فیصلہ فرما دے جس کا ہونا طے ہوچکا تھا۔ تاکہ جسے ہلاک ہونا حجت دیکھ کر ہلاک ہو اور جسے زندگی حاصل کرنی ہے وہ حجت دیکھ کر زندگی حاصل کرے۔ بیشک اللہ سمیع وعلیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(یاد کرو کہ) جب تم لوگ (مدینہ منورہ کی نسبت سے) ادھر والے کنارے پر تھے، اور وہ لوگ (یعنی تمہارے دشمن) ادھر والے کنارے پر، اور قافلہ تم سے نیچے تھا، اور اگر تم اس بارے میں باہم عہد و پیمان کرتے، تو یقینا وقت مقرر کے سلسلے میں تم لوگ آپس میں اختلاف میں پڑجاتے، لیکن (اللہ تعالیٰ نے اس کی نوبت ہی نہ آنے دی) تاکہ اللہ پورا فرمادے ایسے کام کو جس نے (اس کے حکم واذن سے بہرکیف) پورا ہو کر رہنا تھا، تاکہ جس نے ہلاک ہونا ہے، وہ ہلاک ہو روشن دلیل کی بناء پر، اور جس نے زندہ رہنا ہے، وہ زندہ رہے روشن دلیل کی بناء پر، اور بیشک اللہ بڑا ہی سننے والا، سب کچھ جانتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

(یہ وہ وقت تھا) جب تم (میدان جنگ کے) نزدیک والے کنارہ پر تھے اور وہ دور والے کنارہ پر اور قافلہ تم سے نیچے (کی جانب) کو تھا۔ اور اگر تم (اور وہ) وقت مقرر کرتے تو ضرور اس تقرر کے بارے میں تم میں اختلاف ہوجاتا۔ لیکن (لڑائی بلا قصد ٹھن گئی) تاکہ اللہ اس امر کو پورا کردے جو ہو کر رہنا تھا۔ (یعنی) تاکہ جسے برباد ہونا ہو وہ کھلے ہوئے نشان آئے پیچھے برباد ہو اور جس کو زندہ ہونا ہے وہ (بھی) کھلے ہوئے نشان آئے پیچھے زندہ ہو۔ اور بیشک اللہ خوب سننے والا ہے خوب جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جب تم لوگ تھے قریب والے کنارے پر اور وہ لوگ تھے دور والے کنارے پر اور قافلہ تم سے نیچے تھا اور اگر تم لوگ آپس میں میعاد ٹھہرا کر نکلتے تو بھی وقت مقررہ (پر پہنچنے) میں تم ضرور مختلف ہوجاتے لیکن (یہ سب کچھ اس لیے ہوا) تاکہ اللہ فیصلہ کردے اس کام کا جو ہونے ہی والا تھا تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ ہلاک ہو بات واضح ہوجانے کے بعد اور جسے زندہ رہنا ہے وہ زندہ رہے واضح دلیل کی بنا پر۔ یقیناً اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس وقت تم (میدان جنگ کے) قریب کے کنارے پر تھے اور وہ (کافر) پرلے کنارے پر تھے۔ اور قافلہ تم سے نیچے اتر گیا تھا۔ اور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو تم دونوں وقت مقررہ سے خلاف کر بیٹھتے مگر اللہ کو منظور تھا کہ جو کام ہونے والا ہے اسے کر ہی ڈالے تاکہ جسے مرنا ہے یقین جان کر مرے اور جسے جینا ہے حق جان کر ہی جیے اور کچھ شک نہیں کہ اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And recall when you were encamped at the nearer end of the valley (of Badr) and they were at the farther end and the caravan below you (along the seaside). Had you made a mutual appointment to meet in encounter, you would have declined. But encounter was brought about so that Allah might accomplish what He had decreed, and that he who was to perish should perish through a clear proof, and who was to survive might survive through a clear proof. Surely Allah is All-Hearing, All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Remember) when you were on the nearest end of the valley, and they were on the farthest one, and the caravan was downwards from you. Had you made an appointment with each other, you would have disagreed about the appointment. But (it happened like this) so that Allah might accomplish what was destined to be done, so that whoever is going to perish may perish knowingly, and whoever is going to live may live knowingly. Allah is indeed All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

(Remember) when you were on the nearest end of the valley, and they were on the farthest one, and the caravan was downwards from you. Had you made an appointment with each other, you would have disagreed about the appointment. But (it happened like this) so that Allah might accomplish what was destined to be done, so that whoever is going to perish may perish knowingly, and whoever is going to live may live knowingly. Allah is indeed All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(And remember) when you (the Muslim army) were on the near side of the valley, and they on the farther side, and the caravan on the ground lower than you. Even if you had made a mutual appointment to meet, you would certainly have failed in the appointment, but (you met) that Allah might accomplish a matter already ordained (in His knowledge), so that those who were to be destroyed (for rejecting the faith) might be destroyed after a clear evidence, and those who were to live (believers) might live after a clear evidence. And surely, Allah is All-Hearer, All-Knower.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When ye were on the near bank (of the valley) and they were on the yonder bank, and the caravan was below you (on the coast plain). And had ye trysted to meet one another ye surely would have failed to keep the tryst, but (it happened, as it did, without the forethought of either of you) that Allah might conclude a thing that must be done; that he who perished (on that day) might perish by a clear proof (of His Sovereignty) and he who survived might survive by a clear proof (of His Sovereignty). Lo! Allah in truth is Hearer, Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Remember] when you were on the near side of the valley, and they were on the farther side, and the caravan was lower [in position] than you. If you had made an appointment [to meet], you would have missed the appointment. But [it was] so that Allah might accomplish a matter already destined - that those who perished [through disbelief] would perish upon evidence and those who lived [in faith] would live upon evidence; and indeed, Allah is Hearing and Knowing.

— Saheeh International

Recall when your army was positioned at the less defensible brink of the valley, (the pagans') army had the more defensible higher side of the valley and the caravan was led (out of your reach) below. This situation did not take place according to your previous plans, otherwise, everything would have been different. (It was God's plan) to place you in a vulnerable position, exposed to the enemy and it was His plan to lead the caravan out of your reach) so that His decree that you would be granted a victory by a miracle would become a doubtless fact and so that those who were to be destroyed would face destruction with a clear knowledge of the Truth and those who were to survive would also survive with a clear knowledge of the Truth. God is All-hearing and All-knowing.

— Muhammad Sarwar

When you were on the nearer side (of the valley) and they were on the farthest side, while the caravan was in a lower place than you; and if you had mutually made an appointment, you would certainly have broken away from the appointment, but-- in order that Allah might bring about a matter which was to be done, that he who would perish might perish by clear proof, and he who would live might live by clear proof; and most surely Allah is Hearing, Knowing;

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time ye were on the hither side and they were on the yonder side and the caravan below you. And if ye had mutually appointed ye would surely have failed the appointment. But the action wao brought about in order that Allah may decree an affair already enacted, so that he who was to perish, should perish after an evidence and he who was to remain alive may remain alive after an evidence. And verily Allah is Hearing, Knowing.

— Abdul Majid Daryabadi

Remember ye were on the hither side of the valley, and they on the farther side, and the caravan on lower ground than ye. Even if ye had made a mutual appointment to meet, ye would certainly have failed in the appointment: But (thus ye met), that Allah might accomplish a matter already enacted; that those who died might die after a clear Sign (had been given), and those who lived might live after a Clear Sign (had been given). And verily Allah is He Who heareth and knoweth (all things).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 8:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر کے ذریعے ایمان کو کفر سے ممتاز کر دیا فرماتا ہے کہ اس دن تم وادی الدینا میں تھے جو مدینے شریف سے قریب ہے اور مشرک لوگ مکہ کی جانب مدینے کی دور کی وادی میں تھے اور ابو سفیان اور اس کا قافلہ تجارتی اسباب سمیت نیچے کی جانب دریا کی طرف تھا اگر تم کفار قریش سے جنگ کا ارادہ پہلے سے کرتے تو یقینا تم میں اختلاف پڑتا کہ لڑائی کہاں ہو ؟ یہ بھی مطلب کہا گیا ہے کہ اگر تم لوگ آپس میں طے کر کے جنگ کے لئے تیار ہوتے اور پھر تمہیں ان کی کثرت تعداد اور کثرت اسباب معلوم ہوتی تو بہت ممکن تھا کہ ارادے پست ہوجاتے۔ اس لئے قدرت نے پہلے سے طے کئے بغیر دونوں جماعتوں کو اچانک ملا دیا کہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْفَال 34 یعنی ثابت ہوجائے کہ جو زندہ رہا اسے زندہ ہی رہنا چاہیے تھا اور جو ہلاک ہوا اسے ہلاک ہی ہونا چاہیے تھا۔ یہاں زندہ رہنے والے اور ہلاک ہونے والے سے مراد افراد نہیں ہیں بلکہ اسلام اور جاہلیت ہیں۔ سورة الْاَنْفَال 35 یعنی خدا اندھا، بہرا، بیخبر خدا نہیں ہے بلکہ دانا و بینا ہے۔ اس کی خدائی میں اندھا دھند کام نہیں ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر یہ وہ وقت تھا کہ جب تم اس میدان کے ادھر والے کنارہ پر تھے اور وہ لوگ (یعنی کفار) اس میدان کے ادھر والے کنارہ پر تھے (ادھر والے سے مراد مدینہ سے نزدیک کا موقع اور ادھر والے سے مراد مدینہ سے دور کا موقع) اور وہ قافلہ (قریش کا) تم سے نیچے کی طرف کو (بچا ہوا) تھا (یعنی سمندر کے کنارے کنارے جارہا تھا حاصل یہ کہ پورے جوش کا سامان جمع ہو رہا تھا کہ دونوں آپس میں آمنے سامنے تھے کہ ہر ایک دوسرے کو دیکھ کر جوش میں آئے ادھر قافلہ رستہ ہی میں تھا جس کی وجہ سے لشکر کفار کو اس کی حمایت کا خیال دلنشین ہوا جس سے اور جوش میں زیادتی ہو غرض وہ ایسا شدید وقت تھا پھر بھی اللہ تعالیٰ نے تم پر امداد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰي وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ۭوَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيْعٰدِ ۙ وَلٰكِنْ لِّيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ڏ لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰي مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ غزوہ بدر میں خدا کی کارسازی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی اس تدبیر و کارسازی کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جس کی طرف اوپر والی آیت میں اشارہ ہوا ہے کہ کس طرح اللہ نے تم کو ٹھیک وقت پر دشمن کے مقابلہ کے لیے محاذ جنگ پر پہنچا دیا کہ وادی کے ایک سرے پر تم پنچے، دوسرے سرے پر قریش تھے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 دُنْیَاسے مراد وہ کنارہ جو مدینہ شہر کے قریب تھا۔ قصویٰ کہتے ہیں دور کو۔ کافر اس کنارے پر تھے جو مدینہ سے دور تھا۔ 42۔ 2 اس سے مراد تجارتی قافلہ ہے جو حضرت ابو سفیان کی قیادت میں شام سے مکہ جا رہا تھا اور جسے حاصل کرنے کے لئے ہی دراصل مسلمان اس طرف آئے تھے۔ یہ پہاڑ سے بہت دور مغرب کی طرف نشیب میں تھا، جب کہ بدر کا مقام، جہاں جنگ ہوئی، بلندی پر تھا۔ 42۔ 3 یعنی اگر جنگ کے لئے باقاعدہ دن اور تاریخ کا ایک دوسرے کے ساتھ وعدہ یا اعلان ہوتا تو ممکن بلکہ یقین تھا کہ کوئی فریق لڑائی کئے بغیر ہی پسپائی اختیار کرلیتا لیکن چونکہ اس جنگ کا ہونا اللہ نے لکھ رکھا تھا اس لئے ایسے اسباب پیدا کردیئے گئے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

28: یہ میدان جنگ کا نقشہ بتایا جارہا ہے بدر ایک ودای کا نام ہے اس کا کنارہ جو مدینہ منورہ سے قریب تر ہے اس پر مسلمانوں کا لشکر فروکش تھا، جو کنارہ مدینہ منورہ سے نسبۃ دور ہے اس پر کفار کا لشکر تھا اور قافلے سے مراد ابوسفیان کا قافلہ ہے جو اس وادی کے نیچے کی جانب ساحل سمندر کی طرف بچ کر نکل گیا تھا، تفصیل اس سورت کے شروع میں بیان ہوچکی ہے۔ 29: مَفْعُوْلًا : مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسباب ایسے پیدا فرمادیئے کہ کفار مکہ سے باقاعدہ جنگ ٹھن گئی، ورنہ اگر دونوں فریق پہلے سے جنگ کے لئے کوئی وقت طے کرنا چاہتے تو اختلاف ہوجاتا، مسلمان چونکہ بےسروسامان تھے اس لئے باقاعدہ جنگ سے کتراتے اور مشرکین کے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب سیاق کلام یوم الفرقان کی مزید تفصیلات میں چلا جاتا ہے۔ معرکے کی جھلکیاں دی جاتی ہیں۔ ان میں اس معرکے کو نہایت ہی عجیب موثر اور منظر کشی کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کہ گویا یہ منظر اسکرین پر چل رہا ہے اور اس کے مناظر میں اللہ کی تدبیر اور تقدیر عیاں و نمایاں ہیں۔ اس طرح کہ دست قدرت صاف صاف نظر آتا ہے کہ وہ اپنا کام کرتا ہے۔ نیز ان جھلکیوں سے وہ مقاصد صاف صاف عیاں ہیں جو اللہ کو مطلوب ہیں اور ابھی ایمان کا مقصود ہیں۔ اس معرکے میں فریقین کے کیمپ سامنے نظر آتے ہیں اور اس میں دست قدرت رواں دواں ہے۔ اللہ کی قدرت کا ہاتھ نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ ان لوگوں کا کیمپ ہے اور وہ دوسری جانب فریق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 " ورلے کنارے " سے مراد میدان جنگ کی وہ جانب ہے جو مدینہ طیبہ سے قریب تھی۔ اسی طرح " پرلا کنارہ " وہ ہوگا جو مدینہ سے بعید تھا۔ 5 یعنی ابو سفیان کا تجارتی قافلہ نیچے کی طرف ہٹ کر سمندر کے کنارے کنارے جا رہا تھا۔ قافلہ اور مسلمانوں کے درمیان قریش کی فوج حائل ہوچکی تھی۔ 6 یعنی اگر فریقین پہلے سے لڑائی کا کوئی وقت ٹھہرا کر جانا چاہتے تو ممکن تھا اس میں اختلاف ہوتا، یا وعدہ کے وقت پہنچنے میں ایک فریق پس و پیش کرتا۔ کیونکہ ادھر مسلمان کفار کی تعداد اور ظاہری ساز و سامان سے خائف تھے۔ ادھر کفار مسلمانوں کی حقانیت، خدا پرستی اور بےجگری سے مرعوب رہتے تھے۔ دونوں کو جنگ کی ذمہ داری لینے یا شرکت کرنے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 42 اِذْ اَنْتُمْ بالْعُدْوَۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ بالْعُدْوَۃِ الْقُصْوٰی وادئ بدر دونوں اطراف سے تنگ ہے جب کہ درمیان میں میدان کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اس وادی کا ایک تنگ کنارہ شمال کی طرف ہے جہاں سے شام کی طرف راستہ نکلتا ہے اور دوسرا کنارہ جنوب کی طرف ہے جہاں سے مکہ کو راستہ جاتا ہے۔ وادی میں سے ایک راستہ مشرق کی سمت بھی نکلتا ہے جو مدینہ کی طرف جاتا ہے۔ لہٰذا پرانے زمانے میں حاجیوں کے زیادہ تر فاقلے وادئ بدر سے ہی گزرتے تھے۔ اب نئی موٹر وے طریق الھجرۃ بن جانے سے لوگوں کو ان مقامات سے گزرنے کا موقع نہیں ملتا۔ غزوۂ بدر کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تدبیر کا ظہور ہوا کہ دونوں لشکر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

44 اس کنارے یا نزدیکی کنارے سے مراد وہ سمت ہے جو مدینہ کی طرف تھی اور پرلے کنارے سے مراد اس سے مخالف سمت ہے جو مکہ کی طرف تھی۔ 45 جنگ بدر اضطراراً واقع ہوئی تھی :۔ یعنی مسلمان جب مدینہ سے نکلے تو جہاد کی غرض سے نہیں بلکہ تجارتی قافلہ پر حملہ کی غرض سے نکلے تھے۔ اسی وجہ سے غزوہ بدر سے پیچھے رہ جانے والے مسلمانوں پر کوئی مواخذہ نہیں اور کافر اس غرض سے نہیں نکلے تھے کہ جنگ لڑیں گے بلکہ اپنے قافلہ کو بچانے کی غرض سے نکلے تھے۔ اب اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ وہ قافلہ تو بچ بچا کر نکل آیا۔ اس طرح دونوں لشکروں کی آپس میں مڈ بھیڑ ہوگئی، اور یہ سب کچھ اللہ کی مشیت کے مطابق ہو رہا تھا۔ 46 یعنی اگر کافر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

61 ۔ یعنی وہ تجارتی قافلہ جس کے تعاقب میں تم آئے تھے۔ وہ تم سے بچتا ہوا سمندر کے کنارہ کنارہ چلا جارہا تھا۔ (آیت) ” العدوۃ الدنیا “۔ یعنی مدینہ سے قریب تر حصہ میں۔ شام سے جو شاہراہ مکہ کو آتی تھی، اسی سے متصل شہر بدر کے حدود سے ذرا پہلے شمال ومغرب کی سمت میں یہ پہاڑی پڑتی تھی، (آیت) ” العدوۃ القصوی “۔ یعنی مدینہ سے بعید تر حصہ میں، یہ پہاڑی شہر بد ر کے جنوب ومشرق میں تھی۔ ابوجہل اپنی فوج لے کر یہیں مقیم تھا۔ مقام بدر سمندر (بحر احمر) سے اونٹ پر ایک منزل کی راہ پر تھا، مدینہ سے چار منزل اور مکہ سے آٹھ منزل کی راہ پر۔ اسلامی فوج شمال ومشرق سے آئی تھی۔ اور مشرکوں کا لشکر جنوب ومشرق سے۔ اس موضوع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 42–44

اِذاَنتم با لعدوة الدنیا وھم بالعدوة القصویٰ ، عُدوة میں عین پر تینوں اعراب ہیں اس کے معنی ہیں ایک جانب، دُنیا ادنی سے بنا ہے جس کے معنی ہیں قریب تر، آخرت کے مقابلہ میں اس دنیا کو دنیا اس لئے کہتے ہیں کہ یہ آخرت کے مقابلہ میں قریب تر ہے، اور قصویٰ ، اقصیٰ سے ہے اس کے معنی ہیں بعید تر۔ لِیَھْلِکَ مَنْ ھَلْکَ عن بینة الخ یعنی علی وجہ البصیرت یہ بات ثابت ہوجانے کے جو زندہ رہا اس کو زندہ ہی رہنا چاہیے تھا اور جو ہلاک ہوا اسے ہلاک ہی ہونا چاہیے تھا، یہاں زندہ رہنے اور مرنے والوں سے افراد مراد نہیں ہیں، بلکہ اسلام اور کفر مراد ہیں، مطلب یہ ہے کہ یہاں موت وحیات سے اس کے ظاہری معنی مراد نہیں ہیں،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

(حاشیہ سابقہ آیت) امام ابوحنیفہ کے قول کا ثبوت مجمع بن جاریہ انصاری کے بیان سے ملتا ہے ‘ مجمع نے کہا : خیبر کا مال غنیمت حدیبیہ والوں کو تقسیم کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے کل مال کے اٹھارہ سو حصے کئے۔ کل لشکر کی تعداد پندرہ سو تھی جن میں تین سو سوار تھے۔ حضور ﷺ نے سوار کو دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ عطا فرمایا (بارہ سو پیدلوں کے بارہ سو حصے اور تین سو سواروں کے چھ سو حصے ‘ کل اٹھارہ سو) رواہ ابو داؤد۔ ابو داؤد نے کہا : یہ (راوی کا) وہم ہے ‘ صرف دو سو سوار تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے گھوڑے کے دو حصے اور آدمی کا یعنی سوار کا ایک حصہ دیا تھا۔ شافعی کا یہی قول ہے۔ ہم نے بھی سورة الفتح میں خیبر کے مال غنیمت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(42) اے مومنوں کی جماعت جب کہ تم مدینہ منورہ سے قریب ایک گھاٹی کے اس طرف اور ابوجہل اور اس کے ساتھی مدینہ منورہ سے دور وادی کے پیچھے تھے اور ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کا قافلہ دریا کے کنارا پر اس سے تین میل دور تھا اور اگر تم مدینہ منورہ میں لڑائی کے لیے کوئی اور بات طے کرتے تو مدینہ منورہ میں اس چیز کے بارے میں تمہارے اندر ضرور اختلاف ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ کو رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کی مدد اور مال غنیمت کا دینا اور ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کا مارا جانا اور شکست کھانا منظور تھا، لہٰذا اس کی تکمیل کردی تاکہ جس کو اللہ تعالیٰ کفر پر ہلاک کرنا چاہے اس کو ہلاک فرما دے اس کے باوجود کہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِذْ اَنْتُمْ بالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا : جنگ کا محل وقوع ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ تم جس ارادے سے نکلے تھے کہ ہمیں وہ قافلہ مل جائے گا جو نہایت قیمتی ہے اور جس کے محافظ صرف تیس یا چالیس شخص ہیں، اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسی جگہ لا کھڑا کیا جہاں لڑائی کے بغیر چارہ نہ تھا۔ ”عُدْوَۃٌ“ کنارا۔ ”الدُّنْيَا“ ”دُنُوٌّ“ (قریب ہونا) میں سے ”أَدْنٰی“ کی مؤنث ہے، قریب ترین، یعنی تم وادی بدر کے اس سرے پر تھے جو مدینہ کے قریب ترین ہے۔ ”الْقُصْوٰي“ ”أَقْصٰی“ کی مؤنث ہے دور ترین، یعنی قریش اسی وادی بدر کے مدینہ سے دور والے کنارے پر تھے۔ ”وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ“ یعنی جس قافلے کی خاطر تم نکلے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : اذا انتم بالعدوۃ الدنیا وھم بالعدوۃ القصوٰی، ای انزلنا ازانتم الخ یعنی ہم نے نازل کیے جب تم اس اور کسرہ دونون کے ساتھ پڑھا گیا ہے۔ ضمہ کی صورت میں جمع عدی ہوگی اور کسرہ کی صورت میں جمع عدی ہوگی جیسا کہ اور قصا یقمو سے ہے اور کہا جاتا ہے : القصیا اس میں اصل دائو ہے اور اہل حجاز کی لغت کے مطابق قصویٰ ہے پس الدنیا سے مراد وادی کا وہ کنارہ ہے جو مدینہ طیبہ کی جانب ہے اور قصویٰ وہ ہے جو مکہ مکرمہ کی طرف ہے، یعنی جب تم مدینہ طیبہ کی طرف جانب قریب وادی کے کنارے اترے وہئے تھے اور تمہارا دشمن دور کی جانب تھا۔ والرکب اسفل منکم یعنی ابو سفیان وغیرہ کا تجارتی قافلہ تم سے نیچے کی طرف تھا۔ وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اذانتم بالعدوۃ الدنیا “ سے مراد ہے وادی کا کنارہ (آیت) ” والرکب اسفل منکم “ سے مراد ابو سفیان (کا قافلہ) ہے۔ 2:۔ ابن منذر نے عکرمۃ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اذانتم بالعدوۃ “ میں ” عدوۃ “ سے مراد ہے دنیا یعنی وادی کا قریب والا کنارہ (آیت ) ” بالعدوۃ القصوی “ سے وادی کا دور والا کنارہ مراد ہے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” والرکب اسفل منکم “ کے بارے میں فرمایا کہ ابوسفیان ستر سواروں کے ساتھ وادی کے نیچے کی جانب تھا اور قریش کی تعداد نوسو پچاس تھی ابوسفیان نے قریش کی طرف (پیغام) بھیجا اور وہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِذْ [ جب ] اَنْتُمْ [ تم لوگ تھے ] بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا [ نزدیکی کنارہ پر ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ تھے ] بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰي [ دور والے کنارہ پر ] وَالرَّكْبُ [ اور سواروں کا دستہ (یعنی قافلہ ) ] اَسْفَلَ [ زیادہ نشیب میں تھا ] مِنْكُمْ ۭ [ تم سے ] وَلَوْ [ اور اگر ] تَوَاعَدْتُّمْ [ تم باہم معاہدہ کرتے ] لَاخْتَلَفْتُمْ [ تو ضرور اختلاف کرتے ] فِي الْمِيْعٰدِ ۙ [ مقررہ وقت میں ] وَلٰكِنْ [ اور لیکن ] لِّيَقْضِيَ [ تاکہ پورا کرلے ] اللّٰهُ [ اللہ ] اَمْرًا [ ایک ایسے کام کو جو ] كَانَ [ تھا ] مَفْعُوْلًا ڏ [ کیا جانے والا ] لِّيَهْلِكَ [ تاکہ وہ ہلاک ہو ] مَنْ : جو ] [ هَلَكَ : [ ہلاک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–44

بدر میں محاذ جنگ کا نقشہ اور اللہ تعالیٰ کی مدد ان آیات میں اول تو غزوۂ بدر کے محاذ جنگ کا نقشہ بتایا ہے پھر اپنے انعامات ذکر فرمائے ہیں جو غزوۂ بدر کے دن مسلمانوں کے فتح یاب ہونے کا ذریعہ بنے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ مشرکین مکہ نے مقام بدر میں پہنچ کر ایسی جگہ پر قیام کیا تھا جو مدینہ سے دور ہے اور وہ لوگ ایسی جگہ لے چکے تھے جو بظاہر محاذ جنگ کے لیے زیادہ مناسب تھی جب مسلمان پہنچے تو ان کو نیچے والی جگہ ملی یہ جگہ ریتلی تھی اور مدینہ سے قریب تھی اور تیسری جماعت یعنی ابو سفیان کا تجارتی قافلہ وہ اس جگہ سے نیچے کی طرف تھا۔ کیونکہ یہ لوگ ساحل سمندر پر چل رہے تھے جو مقام بدر سے تین میل دور تھا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

انعام ششم قال اللہ تعالیٰ ۔ اذ انتم بالعدوۃ الدنیا۔۔ الی۔۔۔ وان اللہ لسمیع علیم (ربط): ابتداء سورت سے غزوۂ بدر کے واقعات اور اس کے انعامات کا ذکر چلا آرہا ہے منجملہ ان انعامات کے ایک انعام یہ ہے جس کا اس آیت میں ذکر ہے یاد کرو اس وقت کو جب اے مسلمانو تم میدان جنگ کے نزدیک کے کنارہ پر تھے جو مدینہ منور سے قریب تھا اور کافر پر لے کنارہ پر تھے جو مدینہ سے بعدی تھا اور قریش کا قافلہ جس کے لیے مسلمان آئے تھے وہ نشیب میں تھا اور اگر تم اور مشرکین پہلے سے آپس میں لڑائی کا وعدہ کرلیتے اور پہلے سے لڑائی کا کوئی وقت ٹھہرا لیتے تو ضرور وعدہ کے پورا کرنے میں اختلاف کرتے۔ مسلمان تو اپنی قلت اور ان کی کثرت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

44: یہ حکم سابق کی پہلی علت ہے۔ یہاں تینوں جماعتوں کے مراکز قیام کا ذکر کیا گیا۔ “ اَلْعُدْعَةِ الدُّنْیَا ” یعنی وادی کا وہ کنارہ جو مدینہ سے قریب تھا یہاں مسلمانوں کا پڑاؤ تھا۔ “ اَلْعُدْوَةِ الْقُصْوٰي ” وادی کا دوسرا کنارہ جو مدینہ سے دور تھا اس پر مشرکین کی فوجیں خیمہ زن تھیں۔ “ والرَّکْبُ ” یہ راکب کی اسم جمع ہے۔ مراد مشرکین کا تجارت قافلہ ہے یعنی قافلہ دونوں لشکروں سے نچلی جانب ساحل سمندر پر تھا۔ حاصل یہ کہ مشرکین کا تجارتی قافلہ مشرک فوج کی پشت پر تھا اس طرح مسلمانوں کے مقابلے میں مشرکین کی قوت و شوکت کئی گنا تھی مگر اس کے باوجود الہک نے ان کو مسلمانوں کے ہاتھوں مغلوب کیا۔ 45: میدان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 42–44

ربطِ آیات : گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے ضمن میں حاصل ہونے والے مال غنیمت کے حصص کا تذکرہ فرمایا کل مال کے پانچ حصے کیے جائیں گے جن میں سے چار حصے تو غازیوں میں تقسیم ہو جائینگے اور پانچواں حصہ یعنی خمس پھر آگے پانچ حصوں میں تقسیم ہوگا ، پھر ان میں سے ایک ایک حصہ (1) حضور ﷺ (2) آپ کے قرابت داروں (3) یتیموں (4) مسکینوں (5) مسافروں تقسیم کردیا جائیگا۔ حضور ﷺ کے وصال کے بعد آپ کا اور آپ کے مددگار قرابت داروں کا حصہ عملا ختم ہوگیا اب خمس کا مال صرف تین قسم کے مستحقین میں ہی قابل تقسیم ہے حضور ﷺ کے قرابت دار وہ ہیں جن کا تعلق بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب سے ہے آپ کے بعد ان کا علیحدہ حصہ تو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَۃِ الدُّنْيَا وَہُمْ بِالْعُدْوَۃِ الْقُصْوٰي وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ۝ 0 ۭ وَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيْعٰدِ۝ 0 ۙ وَلٰكِنْ لِّيَقْضِيَ اللہُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا۝ 0ۥۙ لِّـيَہْلِكَ مَنْ ہَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَۃٍ وَّيَحْيٰي مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَۃٍ۝ 0 ۭ وَاِنَّ اللہَ لَسَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝ 42 ۙ ( العدوة) اسم بمعنی جانب الوادي أو حافّته، وزنه فعلة بضمّ الفاء وسکون العین . وقوله : إِذْ أَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوى[ الأنفال/ 42] ، أي : الجانب المتجاوز للقرب دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 41–42

ترکیب : انما غنمتم ما بمعنی الذی والعائد محذوف من شیء حال من العائد المحذوف والتقدیر ماغنمتوہ قلیلاً او کثیراً یہ سب مبتداء فان للّٰہ خمسہ جملہ خبرو فی الفاء وجہان احد ہما انہا دخلت فی خبر الذی لما فیہا معنی الشرط وان وماعملت فیہ فی موضع رفع خبر مبتداء تقدیرہ فالحکم ان للہ خمسہ والثانی ان الفاء زائدۃ وان بدل من الاولی اذ انتم بدل ہے یوم سے العدوۃ 1 ؎ بالضم والکسر ‘ القصوٰی اعلیٰ لاصل والقیاس ان تکون قصیا کالدنیا لانہا صفۃ تقلب واوہا یاء افرقابین الاسم والصفۃ۔ 1 ؎ العدوۃ بضم العین فی موضعین وکذابالفتح والکسر وقری بھا ایضا ہی شطالوادی وعاقبۃ عدت لان یتجاوز ھاما فی الوادی من ماء وغیرہ وقال ابو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ بِالْعُدْوَۃِ الْقُصْوٰی وَالرَّکْبُ اَسْفَلَ مِنْکُمْ ط وَلَوْتَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِیْ الْمِیْعٰدِ لا وَلٰکِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلًا 5 لا لِّیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ م بَیِّنَۃٍ وَّیَحْییٰ مَنْ حَیَّ عَنْم بَیِّنَۃٍ ط وَاِنَّ اللّٰہَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ لا (الانفال : 42 ) (یا دکرو ! جب تم وادی کے قریبی کنارے پر تھے اور وہ دور کے کنارے پر اور قافلہ تم سے نیچے تھا اگر تم آپس میں میعاد ٹھہرا کرنکلتے تو میعاد پر پہنچنے میں ضرور تم مختلف ہوجاتے لیکن اللہ کو کر ڈالنا تھا ایک کام جو مقرر ہوچکا تھا تاکہ جسے ہلاک ہونا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–44

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ میدان بدر کا نقشہ اور فریقین کا ایک دوسرے کو اصل تعداد سے کم دکھائی دینا۔ اس سے پہلی آیت میں غزوۂ بدر کے معرکہ کو یوم الفرقان کہا گیا ہے۔ یعنی ایسا دن جس میں حق اور باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان دو اور دو چار کی طرح فرق واضح کردیا گیا۔ غزوۂ بدر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ جو مرے وہ دلیل پر مرے اور جو زندہ رہے وہ بھی دلیل پر زندہ رہے۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ کے گھر سے نکلنے کے بارے میں فرمایا کہ آپ کو آپ کے رب نے ہی گھر سے نکالا تھا حالانکہ مومنوں میں سے ایک جماعت اسے پسند نہیں کر رہی تھی۔ (الانفال : 6) یہاں بدر کا نقشہ پیش…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

غزوئہ بدر کا ذکر : آیت 42: اِذْ اَنْتُمْ (اور وہ وقت تھا کہ جب تم) : یہ یوم الفرقان سے بدل ہے۔ یا نمبر 2۔ اذکروا کا مفعول ہے ای اذکروا اذانتم۔ بِالْعُدْوَۃِ (میدان کے کنارے پر تھے) وادی کا کنارہ قراءت : مکی اور ابو عمرو نے العِدْوَۃِ پڑھا ہے۔ الدُّنْیَا (قریب والے) مدینہ والی جانب۔ یہ ادنی کی مؤنث ہے۔ وَھُمْ بِالْعُدْوَۃِ الْقُصْوٰی (اور وہ لوگ اس میدان کے دور والے کنارہ پر تھے) مدینہ سے دور والا کنارا قصویٰ اقصیٰ کی مؤنث ہے۔ یہ دونوں فُعْلٰیکے وزن پر ہیں قیاس کا تقاضہ یہ تھا کہ وائو کو یا سے بدل دیا جائے جیسا کہ علیا جو اعلیٰ کی مؤنث ہے۔ البتہ یہ القود کی طرح اصل پر ہے۔ وَالرَّکْبُ (اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 42…(اذ انتم) یعنی اے مسلمانوں کی جماعت جب تم ٹھہرے تھے۔ (بالعدوۃ الدنیا) یعنی وادی کے اس حصہ پر جو مدینہ سے قریب تھا۔ دنیا اونی کی مئونث ہے۔ (وھم) یعنی تمہارے مشرک دشمن۔ (بالعدوۃ القصوی) وادی کے اس جانب جو مدینہ سے دور تھی اور ” القصویٰ “ اقصیٰ کی مئونث ہے۔ ابن کثیر اور اہل بصرہ نے ” بالعدوہ “ عین کی زبر کے ساتھ دونوں میں پڑھا ہے اور باقی حضرات نے ان دونوں کی پیش کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں۔ ” الکسوۃ “ اور ” الکسوہ “ اور ” الرشوۃ “ اور ” الرشوۃ “ کی طرح۔ (والرکب اسفل منکم) یعنی ابوسفیان کا تجارتی قافلہ سمندر کے ساحل کی طرف بدر سے تین میل دور تھا (ولوتوا اعدتم لاختلفتم فی المیعد) کیونکہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

42۔ اللہ پاک نے اس آیت میں مسلمانوں پر اپنا یہ احسان جتلایا ہے کہ ہم نے کس طرح تم کو کفار کے مقابل کردیا اور کس خوبی سے جنگ کا سامان مہیا کردیا اگر تم لوگ ارادہ کر کے بھی آتے اور لڑائی کے لئے میعاد بھی مقرر کرلیتے تو یہ بات نصیب نہ ہوتی تم چلے تھے اور خیال سے اور اللہ پاک کا اور ارادہ تھا اس نے اپنا ارادہ پورا کردیا کیونکہ تمہاری حالت یہ تھی کہ ابوسفیان کا قافلہ لوٹنے کو چلے تھے اور مدینہ کے قریب جنگل اور ٹیلوں کے پاس تھے اور تمہارے مخالف قریش مدینہ سے بہت دور پر مکہ کے قریب تھے اور ابوسفیان کا قافلہ مدینہ سے تین میل پر دریا کے پاس اترا ہوا تھا کسی کو کسی کی خبر نہ تھی تمہارے پاؤں ریت کی زمین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 42–44

آیت 42 اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو آپ کے خواب میں مشرکین کی بہت کم تعداد دکھائی۔ اس بناء پر آپ نے اپنے اصحاب کرام ؓ کو خوشخبری دے دی، اس سے وہ مطمئن اور ان کے دل مضبوط ہوگئے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ولوارکھم کثیراً ) ” اور اگر اللہ ان کو بہت کرکے تمہیں دکھاتا “ یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو کفار کثیر تعداد میں دکھائے ہوتے اور پھر آپ نے اس کی خبر اپنے اصحاب ؓ کو دی ہوتی (لفشلتم و لتنازعتم فی الامر) تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور جو معاملہ تمہیں در پیش تھا اس میں جھگڑنا شروع کردیتے، کوئی کہتا کہ آگے بڑھ کر کفار سے لڑائی کرو اور کوئی اس رائے کے خلاف ہوتا اور جھگڑا کمزوری کا باعث…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 42–44

(سابقہ آیت کی بقیہ تفسیر) آنحضور ﷺ کی وفات کے بعد خمس کا مصرف حضور ﷺ کی وفات کے بعد خمس میں آپ کے حصے کے مصرف کے متعلق سلف کے مابین اختلاف رائے ہے۔ سفیان نے قیس بن مسلم سے انہوں نے حسن بن محمد بن الحنفیہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے حصے اور آپ کے قرابت داروں کے حصے کے متعلق لوگوں میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا۔ ایک گروہ کا خیال یہ تھا کہ آپ کے بعد آپ کا حصہ آپ کی خلیفہ کو ملنا چاہیے۔ ایک اور گروہ کا خیال تھا کہ آپ کے قرابت داروں کا حصہ خلیفہ کے قرابت داروں کو ملنا چاہیے پھر سب کا اس پر اجماع ہوگیا کہ یہ دونوں حصے جہاد فی سبیل اللہ کے لئے سازوسامان اور ہتھیاروں کی تیاری نیز اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

80 قدرت کی تدبیر و کارسازی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو کہ " جب کہ تم ادھر کے کنارے پر تھے اور وہ ادھر کے کنارے پر اور قافلہ تمہارے نییجے سمندر کی طرف " بدر سے کوئی تین میل کے فاصلے پر۔ (تفسیر القاسمی وغیرہ) ۔ سو اس طرح قدرت کے غیبی ہاتھوں کے ذریعے جنگ کی وہ خاص صورتحال بہم پہنچا دی گئی جسکے نتیجے میں تم لوگ اے مسلمانو ! فتح و نصرت کی اس عزت و عظمت سے سرفراز ہوئے جس کا کسی کو گمان بھی نہ تھا۔ سو یہ بھی اس قادر مطلق اور حکیم مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا ایک واضح مظہر اور نمونہ تھا ۔ جل و علا شانہ ۔ اور یہ اس کی تدبیر و کارسازی کا ایک خاص…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 42–44

جنگ بدر کی وجہ سے مسلمانوں کی آزمائش اور اللہ کی مدد تشریح : ان آیات میں یہی بتایا گیا ہے کہ جنگ صرف اللہ کی مرضی اور پروگرام کے تحت ہوئی اور اسی کی مرضی اور پروگرام کے تحت جنگ کا نقشہ اور مسلمانوں کی فتح اور کفار کی شکست ہوئی۔ یہ خالصتاً اللہ ہی کی مرضی تھی ویسے تو اللہ ہی سب کچھ کرتا ہے کیونکہ وہی سب سے زیادہ طاقت والا اور قدرت والا ہے۔ اور اس جنگ کے بظاہر کوئی آثار نہ تھے اور مقابلہ بھی برابر کا نہ تھا مگر کیونکہ اللہ نے اپنی قدرت سے حق کی حمایت اور کفر کی جڑ کاٹنا تھی اس لیے اس نے ایسے حالات پیدا کیے مثلاً دونوں جماعتیں ہی باقاعدہ معاہدہ، یعنی جنگی حالات کا اعلان کیے بغیر آمنے سامنے آگئیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–44

آیات 42 تا 44 اسرار و معارف جب جہاد کے میدان کی بات ہوئی تو غنیمت کا مسئلہ ارشاد فرمادیا گیا غنیمت وہ مال ہوتا ہے جو فتح کے نتیجہ میں کفار سے ہاتھ آئے یہ تو فطری بات ہے کہ شکست کھانے والا لشکر مال ومنال بہت کچھ کھو بیٹھتا ہے ۔ اور فاتح اسے اپنا حق سمجھتے ہیں مگر انبیاء علہیم الصلوۃ والسلام نے جب کبھی جہاد کیا اور کفار کا مال ہاتھ لگاتو اسے میدان میں جمع کردیا جاتا تھا آسمان سے آگ آتی شعلہ لپکتا اور وہ مال راکھ ہوجاتا یہ بات قبولیت جہاد اور خلوص کی دلیل بھی تھی اگر لوگوں نے جہاد کا حق ادانہ کیا ہوتا یا زیادتی کی ہوتی تو یہ مال جلانے آسمان سے آگ یا بجلی نہ آتی تھی غزوئہ بدروہ پہلا جہاد تھا جو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی وادی بدر کے اس سرے پر جو مدینہ منورہ کی سمت ہے۔ ( کبیر)5 یعنی ساحل بحر کی طرف، یہ منصوب علی الطرفیتہ ہے یا موضع حال میں ہے جیسا کہ جمہور علمان کا خیال ہے جنگ کے اس نقشہ کو بیان کرنے سے مقصد یہ ہے کہ اسو قت بظاہر یہ نظر آرہا تھا کہ دشمن طاقتور ہے اور مسلمان کمزور اور ناتواں ہیں لیکن ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد فرمائی۔ ( روح)6 یعنی تم اپنے مقابلے میں ان کی کثرت تعداد سے ڈرتے اور وہ رسول اللہ صلعم کے رعب اور ہیبت سے ( کذافی الوحیدی)7 مراد اہل اسلام کی فتح اور اہل کفر کی شکست ہے۔ ( ازا بن کثیر)8 یا یہ کہ اتمام حجت ہو اور کسی کے لیے عذر کا ماقع نہ رہے یعنی اس کے بعد اگر کوئی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(8:42) اذ یا تو یوم الفرقان سے بدل ہے یا اس کی تقدیر یوں ہے اذکروا اذ انتم۔ العدوۃ۔ جانب ، وادی، کنارہ ۔ اس کی جمع عدی ہے اس کو عین کی کسر کے ساتھ عدوۃ بھی پڑھا جاتا ہے اس صورت میں اس کی جمع عدی ہوگی۔ بدر کے اطراف و جوانب میں جو پہاڑ ہیں ان کے مختلف حصے مختلف ناموں سے موسوم ہیں ان میں سے دو پہاڑیاں جو دور سے ریت کے دو سفید تودوں کی شکل میں دکھائی دیتی ہیں۔ اب بھی ان میں سے جو پہاڑی مدینہ منورہ کی جانب ہے اس کا نام العدوۃ الدنیا ہے اور دوسری جو مکہ کی طرف ہے العدوۃ القصویٰ سے موسوم ہے اور جو بہت اونچا سا پہاڑ ان دونوں کے درمیان ہے وہ آجکل جبل اسفل کہلاتا ہے کیونکہ اس کے نیچے نیچے ابو سفیان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 42–44

آیات : 42 تا 44 لغات القرآن۔ بالعدوۃ ال دنیا۔ قریب کے کنارے پر۔ بالعدوۃ القصوی۔ دور کے کنارے پر۔ الرکب۔ قافلہ۔ اسفل۔ نیچے۔ تو اعدتم۔ تم نے وعدہ کیا۔ میعاد۔ مدت مقرر۔ لیقضی۔ تاکہ فیصلہ کردے۔ امر۔ کام۔ مفعول۔ کیا گیا۔ لیھلک۔ تاکہ ہلاک ہوجائے۔ بینۃ۔ پہنچان کر۔ یحی۔ زندہ رہے گا۔ یریکھم۔ تمہیں دکھایا اس نے۔ منام۔ نیند۔ خواب۔ لفشلتم۔ البتہ تم بزدلی دکھاتے ۔ لتنازعتم۔ البتہ تم ضرور جھگڑے۔ سلم۔ اس نے حفاظت کی۔ فی اعینکم۔ تمہاری آنکھوں میں ۔ قلیل۔ تھوڑے۔ ترجع الامور۔ کام لوٹائے جائیں گے۔ تشریح : سورة انفال میں اللہ تعالیٰ نے دس رکوعوں میں مسلسل جہاد و قتال کے متعلق بیان فرمایا ہے یہ آیات جو صرف حکمت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

جنگ بدر کا قصہ جس کا مطلب یہ ہے کہ جنگ بدر اتفاق تھی ادھر سے مسلمان قافلہ لوٹنے آئے ادھر سے ابوجہل قافلہ کی حمایت کو چلا۔ قافلہ تو کتراکر نکل گیا مگر ایک میدان کے دونوں کناروں پر دونوں فوجوں کی مڈبھیڑ ہوگئی اور مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ یہ تدبیر اللہ تعالیٰ کی تھی اگر قصدا باہم لڑائی کا ٹھراؤ کرتے تو ایسے بروقت نہ پہنچتے۔ اگر یہ لڑائی نہ ہوتی تو ہر فریق اپنی جگہ شیخی مارتا لیکن اب سب نے دیکھ لیا کہ غالب کون رہا اور مغلوب کون۔ اور اللہ تعالیٰ کس کے پلے پر ہے آنحضرت ﷺ کا صدق کھل گیا اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا ہوا۔ جو مرا بھی حق پہچان کر مرا اور جو بچا وہ بھی حو جان کر جیتا رہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[13] یعنی عام دستور تو یہ ہے کہ لڑائی کے لئے فریقین اپنے قصد ومرضی سے کوئی میدان اور تاریخ مقرر کرتے تھے یہاں بھی اگر یہی صورت رہنے دی جاتی تو تم دشمنوں کی کثرت اور اپنی قلت اور بےسروسامانی کی وجہ سے جنگ سے ضرور پہلو تہی کر جاتے۔ [14] یعنی اللہ کو یہ جنگ اس لئے منظور ہوئی کہ اس سے اسلام کا برحق ہونا ظاہر ہوجائے اور دنیا دیکھ لے کہ قلت عدد و کم سامانی کے باوجود مسلمان غالب آئے۔ اس سے حجت الٰہی تمام ہوگئی۔ اس کے بعد جو گمراہ ہوگا اس کے لئے عذر کی گنجائش نہیں رہتی۔ اسی طرح جسے ہدایت پانا ہے وہ یقین کے ساتھ ایمان لائے اور حجت وبرہان سے جان لے کہ دین اسلام برحق ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) غرض یہ ہے کہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری کفار مکہ کے باقاعدہ لشکر سے مڈبھیڑ کرا دی ، ورنہ اگر لڑ کرکے گھروں سے نکلتے ، تو شاید وقت پر دونوں نہ پہنچ سکتے اللہ تعالیٰ نے اس طرح کا انتظام فرما دیا کہ مسلمان جو ابوسفیان کے قافلہ کے لئے گھروں سے نکلے تھے ، ایک ہزار کے لشکر سے بھڑ گئے اور وہ جو قافلہ کی حفاظت کے لئے آئے تھے مسلمانوں سے دوچار ہوگئے اس طریق سے گھمسان کی لڑائی ہوئی مدینے کہ ادھر مسلمان تھے اور دوسری جانب مکہ والے ، قافلہ بچ کر نکل گیا ، لڑائی بیحد حیرت انگیز طریق سے ہوئی مسلمان غالب آگئے اور مخالفین کو یہ معلوم ہوگیا کہ اسلام کے پاس روحانی قوتیں بھی ہیں ، ورنہ اس قلیل جماعت کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

42 یہ وہ وقت تھا جس وقت تم میدان کے ورلے کنارے پر تھے اور وہ کافر میدان کے پرلے کنارے پر تھے اور وہ قریش کا قافلہ تم سے نیچے کی جانب اتر چکا تھا اور تم سے نشیب میں تھا اور اگر تم اور کافر باہمی جنگ کا وقت مقرر کرتے تو تم میں مقررہ میعاد پر اختلاف ہوجات لیکن ہوا یہ کہ بغیر میعاد کے مڈبھیڑ ہوگئی تاکہ اللہ تعالیٰ اس کام کو پورا کردے جس کام کا ہونا اس کے علم ازلی میں مقرر ہوچکا تھا اور جو کام طے شدہ تھا یہ اس لئے ہوا کہ جس کو گمراہی کی موت مرنا ہے وہ قیام حجت اور روشن دلیل آجانے کے بعد مرے اور جس کو ہدایت یافتہ ہو کر جینا ہے وہ بھی قیام حجت اور روشن دلیل آنے کے بعد جئے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–47

ف 2۔ ادھر والے سے مراد مدینہ سے نزدیک کا موقع اور ادھر والے سے مراد مدینہ سے دور کا موقع ہے۔ 3۔ یعنی سمندر کے کنارے کنارے جارہا تھا۔ 4۔ مطلب یہ کہ اللہ کو منظور تھا لڑائی ہونا تاکہ ایک خاص طریق سے اسلام کا حق ہونا ظاہر ہوجائے کہ اس قلت عدد وکم سامانی پر مسلمان غالب آئے جو کہ خارق عادت ہے جس سے معلوم ہوا کہ اسلام حق ہے پس اس سے حجت الہیہ تام ہوگئی اس کے بعد جو گمراہ ہوگا وہ وضوح حق کے بعد ہوگا جس میں عذاب کا پورا استحقاق ہوگیا اور عذر کی گنجائش ہی نہ رہی اسی طرح جس کو ہدایت ہونا ہوگا وہ حق کو قبول کرے گا خلاصہ حکمت کا یہ ہوا کہ حق واضح ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم نے چند لفظوں میں میدان بدر کا پورا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا : 56: فرمایا غور کرو کہ کس ٹھیک وقت پر اللہ نے تم کو دشمن کے مقابلہ کے لئے محاذ جنگ میں پہنچایا کہ وادی کے اس قریبی سرے پر تم تھے اور وادی کے اس دور کر دو سرے سرے پر قریش مکہ کا لشکر تھا اور عین اس وقت مشرکین کا تجارتی قافلہ جو ابو سفیان کی معیت میں آرہا تھا نیچے ساحل سمندر کی طرف سے گزر رہا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو قریشی فوج اور تجارتقافلہ کی آمد کا پورا نقشہ اللہ تعالیٰ نے رویا میں دکھا دیا تھا اور اسی رویا کے مطابق آپ ﷺ مدینہ سے نکلے اور ٹھیک وقت پر آپ ﷺ وادی بدر میں پہنچ گئے جب قریش کی فوج قافلہ کی حفاظت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The battle of Badr was the first confrontation of Kufr and Islam which registered a practical proof of the superiority and veracity of Islam, even visibly and materially. Therefore, the Holy Qur'an has taken special steps to describe its details which appear in the verses cited above. Besides the many considerations of wisdom behind these details, one such consideration is to assert that there was just no possibility, either visibly or technically, that Muslims will win and that the disbelievers of Makkah will be defeated. But, the unseen power of Allah Ta` ala overturned all…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

34. The living and the dead spoken of in the above verse do not signify the individuals who survived the battle or those killed during it. The reference here is to the ideological entities of Islam and Jahiliyah. 35. God is neither blind nor deaf nor ignorant. On the contrary, He is All-Knowing, All-Seeing, All-Wise. Hence, we find reflection of God's knowledge, wisdom and justice in history.

Read the full tafseer →