مال غنیمت کی تقسیم کا بیان
تمام اگلی امتوں پر مال غنیمت حرام ہے۔ لیکن اس امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے اسے حلال کردیا۔ اس کی تقسیم کی تفصیل یہاں بیان ہو رہی ہے۔ مال غنیمت وہ ہے جو مسلمانوں کو جہاد کے بعد کافروں سے ہاتھ لگے اور جو مال بغیر لڑے جنگ کے ہاتھ آئے مثلاً صلح ہوگئی اور مقررہ تاوان جنگ ان سے وصول کیا یا کوئی مرگیا اور لاوارث تھا یا جزئیے اور خراج کی رقم وغیرہ وہ فے ہے۔ سلف و خلف کی ایک جماعت کا اور حضرت امام شافعی ؒ کا یہی خیال ہے۔ بعض لوگ غنیمت کا اطلاق فے پر اور فے کا اطلاق غنیمت پر بھی کرتے ہیں۔ اسی لئے قتادہ وغیرہ کا قول ہے کہ یہ آیت سورة حشر کی (آیت ما افاء اللہ الخ،)…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْفَال 32
یہاں اس مال غنیمت کی تقسیم کا قانون بتایا ہے جس کے متعلق تقریر کی ابتدا میں کہا گیا تھا کہ یہ اللہ کا انعام ہے جس کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار اللہ اور اس کے رسول ہی کو حاصل ہے۔ اب وہ فیصلہ بیان کردیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ لڑائی کے بعد تمام سپاہی ہر طرح کا مال غنیمت لا کر امیر یا امام کے سامنے رکھ دیں اور کوئی چیز چھپا کر نہ رکھیں۔ پھر اس مال میں سے پانچواں حصہ ان اغراض کے لیے نکال لیا جائے جو آیت میں بیان ہوئی ہیں، اور باقی چار حصے ان سب لوگوں میں تقسیم کردیے جائیں جنہوں نے جنگ میں حصہ لیا ہو۔ چناچہ اس آیت کے مطابق نبی ﷺ ہمیشہ لڑائی کے بعد اعلان فرمایا کرتے تھے کہ ان…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اس بات کو جان لو کہ جو شئے (کفار سے) بطور غنیمت کے تم کو حاصل ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ (اس کے کل پانچ حصے کئے جائیں جن میں سے چار حصے تو مقاتلین کا حق ہے اور ایک حصہ یعنی) اس کا پانچواں حصہ (پھر پانچ حصوں پر تقسیم ہوگا جن میں سے ایک تو) اللہ تعالیٰ کا اور اس کے رسول کا ہے (یعنی رسول اللہ ﷺ کو ملے گا جن کو دینا بمنزلہ اس کے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش کردیا) اور (ایک حصہ) آپ کے قرابت داروں کا ہے اور (ایک حصہ) یتیموں کا ہے (ایک حصہ) غریبوں کا ہے اور (ایک حصہ) مسافروں کا ہے اگر تم اللہ پر یقین رکھتے ہو اور اس چیز پر (یقین رکھتے ہو) جس کو ہم نے اپنے بندہ (محمد ﷺ پر فیصلہ کے…
Read the full tafseer →آیات 41۔ 49 کا مضمون : یاد ہوگا اس سورة کا آغاز اموال غنیمت سے متعلق لوگوں کے سوال سے ہوا تھا۔ وہاں سوال کا ایک اصولی جواب دے کر کلام کا رخ مسلمانوں کے ایک گروہ کی ان کمزوریوں کی اصلاح کی طرف مڑ گیا تھا جو اس سوال اور اسی نوعیت کے بعض دوسرے معاملات کی وجہ سے سامنے آئی تھیں۔ اب سوال کے تعلق سے اموالِ غنیمت کی تقسیم کا ضابطہ بیان فرمایا اور مسلمانوں کو تاکید کی کہ اللہ کی اس تقسیم کو راضی خوشی قبول کرو اس لیے کہ جو کچھ تمہیں حاصل ہوا خدا کی تدبیر اور کارسازی سے حاصل ہوا اور آئندہ جو کچھ حاصل ہوگا اسی کی تدبیر و کارسازی سے حاصل ہوگا۔ یہ نہ خیال کرو کہ یہ سب کچھ تمہاری کار فرمائی ہوتی ہے بلکہ اصل…
Read the full tafseer →41۔ 1 غنیمت سے مراد وہ مال ہے جو کافروں سے کافروں پر لڑائی میں فتح و غلبہ حاصل ہونے کے بعد حاصل ہو پہلی امتوں میں اس کے لئے یہ طریقہ تھا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد کافروں سے حاصل کردہ سارا مال ایک جگہ ڈھیر کردیا جاتا اور آسمان سے آگ آتی اور اسے جلا کر بھسم کر ڈالتی۔ لیکن امت مسلمہ کے لئے یہ مال غنیمت حلال کردیا گیا۔ اور جو مال بغیر لڑائی کے صلح کے ذریعہ یا جزیہ و خراج سے وصول ہو اسے فییٔ کہا جاتا ہے تھوڑا ہو یا زیادہ، قیمتی ہو یا معمولی سب کو جمع کر کے اس کی حسب ضابطہ تقسیم کی جائے گی۔ کسی سپاہی کو اس میں سے کوئی چیز تقسیم سے قبل اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں۔
41۔ 2 اللہ کا لفظ تو بطور تبرک کے ہے،…
Read the full tafseer →26:: دشمن کا جو مال جہاد کے دوران مجاہدین کے ہاتھ آیا ہو وہ مال غنیمت کہلاتا ہے، اس آیت میں اس کی تقسیم کا اصول بیان فرمایا گیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جتنا مال اس طرح حاصل ہو اس کے پانچ حصے کئے جائیں گے، ان میں سے چار حصے تو مجاہدین کے درمیان تقسیم ہوں گے اور پانچواں حصہ بیت المال میں داخل کیا جائے گا، پھر بیت المال کے اس پانچویں حصہ (خمس) کو کس طرح خرچ کیا جائے گا ؟ اس کی تفصیل کرتے ہوئے اس آیت نے اول تو یہ بتلایا ہے کہ یہ مال اصل میں اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے اور اسی کے حکم کے تحت تقسیم ہوگا، اس کے بعد اس کے پانچ مصارف بیان فرمائے گئے ہیں، ایک حصہ نبی کریم ﷺ کا ہے دوسرا حصہ آنحضرت ﷺ کے…
Read the full tafseer →پارہ نمبر 10 ایک نظر میں
اس پارے میں سورت انفال کا باقی حصہ ہے ، جس کا ابتدائی حصہ نویں پارے میں گزر گیا ہے۔ اس کے بقیہ حصے میں سورت توبہ کا بیشتر حصہ ہے۔ یہاں ہم سورت انفال کے زیر بحث حصے کا تعارف کرائیں گے اور سورت توبہ کا تعارف آگاز سورت توبہ میں حسب دستور آئے گا۔ انشاء اللہ !
نویں پارے کے آخر میں ہم نے سورت انفال کے تعارف میں اس سورت کے مباحث کے اہم خطوط کو واضح کردیا۔ اس سورت کے حصہ زیر بحث کے خدو خال وہی ہیں جو کے پہلے حصے کے تھے۔ لیکن چونکہ موضوعات بحث مختلف ہیں ، اس لیے ان میں تکرار بالکل محسوس نہیں ہوتا۔ موضوعات کی ترتیب ایسی ہے کہ نظر آتا ہے کہ اس کا پہلا حصہ اس کا پہلا دور تھا اور…
Read the full tafseer →1 آغاز سورت میں فرمایا تھا " قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُولِ " الانفال :2) یہاں اس کی قدرے تفصیل بیان فرمائی ہے کہ جو مال غنیمت کافروں سے لڑ کر ہاتھ آئے اس میں پانچواں حصہ خدا کی نیاز ہے، جسے خدا کی نیابت کے طور پر پیغمبر (علیہ السلام) وصول کر کے پانچ جگہ خرچ کرسکتے ہیں۔ اپنی ذات پر اپنے ان قرابت داروں (بنی ہاشم و بنی المطلب) پر جنہوں نے قدیم سے خدا کے کام میں آپ کی نصرت و امداد کی اور اسلام کی خاطر یا محض قرابت کی وجہ سے آپ کا ساتھ دیا اور مد زکوٰۃ وغیرہ سے لینا ان کے لیے حرام ہوا۔ یتیموں پر، حاجت مند مسلمانوں پر، مسافروں پر۔ پھر غنیمت میں جو چار حصے باقی رہے، وہ لشکر پر تقسیم کئے…
Read the full tafseer →آیت 41 وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی
اس آیت میں مال غنیمت کا حکم بیان ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ بعثت کے بعد سے رسول اللہ ﷺ کا ذریعہ معاش کوئی نہیں تھا۔ شادی کے بعد حضرت خدیجہ رض نے اپنی ساری دولت ہر قسم کے تصرف کے لیے آپ ﷺ کو پیش کردی تھی۔ جب تک آپ ﷺ مکہ میں رہے ‘ کسی نہ کسی طرح اسی سرمائے سے آپ ﷺ کے ذاتی اخراجات چلتے رہے ‘ لیکن ہجرت کے بعد اس سلسلے میں کوئی مستقل انتظام نہیں تھا۔ پھر آپ ﷺ کے قرابت دار اور اہل و عیال بھی تھے جن کی کفالت آپ ﷺ کے ذمہ تھی۔ ان سب اخراجات کے لیے ضروری تھا کہ کوئی معقول اور مستقل انتظام کردیا…
Read the full tafseer →43 اللہ اور اس کے رسول کے پانچویں حصہ کی تقسیم کیسے ہوگی ؟:۔ اس آیت میں اس سوال کا تفصیلی جواب دیا جا رہا ہے۔ جس سے اس سورة کی ابتدا ہوئی تھی۔ وہاں صرف اتنا جواب دیا گیا کہ چونکہ یہ فتح خالصتاً اللہ کی امداد کے نتیجہ میں حاصل ہوئی تھی اس لیے سب اموال زائدہ (غنیمت سمیت) اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔ لہذا تمہیں آپس کا نزاع فوری طور پر بند کردینا چاہیئے اور تفصیلی جواب یہ ہے کہ اموال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا اور باقی 5/4 حصہ مجاہدین کا ہے۔ چناچہ غنیمت کا مال پورے کا پورا ایک جگہ اکٹھا کیا گیا اور اس کا 5/4 حصہ جہاد میں حصہ لینے والے مجاہدین میں برابر تقسیم کردیا گیا۔
اب جو اللہ…
Read the full tafseer →57 ۔ سورة کی ابتدائی آیتوں میں مال غنیمت اور اسکی تقسیم کا ذکر تھا، اب پھر اسی مضمون کی طرف مراجعت اور اب مصارف غنیمت کی تفصیل بیان ہورہی ہے۔ (آیت) ” ماغنیمتم۔ غنیمت کے لغوی معنی عام ووسیع ہیں یعنی ہر وہ شے جو انسان کوشش سے حاصل کرے۔ الغنیمۃ فی اللغۃ ماینالہ الرجل او الجماعۃ بسعی (قرطبی) اصطلاح فقہاء میں اس مال کو کہتے ہیں جو کافروں سے بہ زور قوت حالت جنگ میں حاصل ہو، الغنیمۃ مان نیل من الکفار عنوۃ والحرب قائمۃ (المغرب) الغنیمۃ فی الشریعۃ مادخلت فی ایدی المسلمین من اموال المشرکین علی سبیل القھر بالخیل والرکاب (کبیر) مال الکفار اذا ظفربہ المسلمون علی وجہ الغلبۃ والقھر (قرطبی) ما۔ الذی کے معنی…
Read the full tafseer →وَاعْلموا انّما غنمتم، یہاں سے مال غنیمت کی تقسیم کا قانون بیان ہورہا ہے جس کے بارے میں ابتداء میں کہا گیا تھا کہ یہ اللہ کا انعام ہے اور اس کے بارے میں فیصلہ کرنا اللہ کا اختیار ہے اب وہ فیصلہ بیان کردیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد تمام سپاہی ہر طرح کا مال غنیمت کا کر اپنے امام کے سامنے رکھ دیں اور کوئی چیز چھپا کر نہ رکھیں پھر اس مال میں سے پانچواں حصہ ان مقاصد کے لئے نکال لیا جائے جو آیت میں بیان ہوئی ہیں، اور باقی چار حصے ان مجاہدین میں تقسیم کردیئے جائے جنہوں نے جہاد میں حصہ لیا، ہے، چناچہ اس آیت کے مطابق آپ ﷺ ہمیشہ جنگ ختم ہونے کے بعد اعلان فرمایا کرتے تھے کہ اِنّ ھذہ غنائمکم…
Read the full tafseer →واعلموا انما غنمتم من شئ اور جان لو کہ جو شے بطور غنیمت تم کو (کافروں سے) حاصل ہو۔ مَا بمعنی اَلَّذِیْ ہے اور غَنِمْتُمْ صلہ ہے اور موصول کی طرف راجع ہونے والی ضمیر محذوف ہے ‘ یعنی جو کچھ مال غنیمت تم کو حاصل ہو۔ مَا کو (اَنَّ کے ساتھ) ملا کر لکھنادرست نہیں ورنہ مَا کافہ ہوجائے گا (موصولہ نہ ہوگا) غنیمت کافر حربی کے اس مال کو کہتے ہیں جو جبراً یا غالب آکر حاصل کیا گیا ہو (چونکہ خطاب مسلمانوں کی جماعت کو ہے) اسی لئے امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ امام (یعنی مسلمانوں کے حاکم یا قائم مقام) کی اجازت کے بغیر ایک یا دو مسلمان دارالحرب میں جا کر حربی کافروں سے کچھ مال چھین لیں گے یا چرا لیں گے تو اس میں…
Read the full tafseer →(41) اے مسلمانوں کی جماعت جو اموال غنیمت تمہارے ہاتھ آئے تو اس کے کل پانچ حصے ہیں اس میں ایک حصہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے اور ایک حصہ رسول اکرم ﷺ کے قرابت داروں کے لیے اور ایک حصہ یتامی بن عبدالمطلب کے علاوہ دوسرے یتیموں کا ہے اور ایک حصہ مساکین بنی عبدالمطلب کے علاوہ دوسرے مسکینوں کا ہے اور ایک حصہ کمزور محتاج مسافروں کا ہے، جتنا بھی ہو، رسول اکرم ﷺ کے دور میں مال غنیمت کے پانچویں حصے پانچ حصوں پر تقسیم کیے جاتے تھے۔
اول : رسول اکرم ﷺ کا اور وہی اللہ تعالیٰ کا حصہ ہے۔
دوم : قرابت داروں کا کیوں کہ رسول اکرم ﷺ اپنے قرابت داروں کو پرانی نصرت کی وجہ سے حصہ دیا کرتے تھے۔
سوم : یتیموں کا…
Read the full tafseer →وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ : غنیمت وہ مال ہے جو کفار سے جنگ کی صورت میں حاصل ہو، اگر ان سے جنگ کے بغیر کوئی مال حاصل ہو تو اسے فے کہتے ہیں، اس کا ذکر سورة حشر (6 تا 9) میں ہے، مثلاً کفار خود ہی ہتھیار پھینک دیں، یا صلح کی صورت میں ان سے جزیہ وصول ہو، یا زمین کا خراج وغیرہ ہو۔ غنیمت اور فے بعض اوقات ایک دوسرے کے معنی میں بھی آجاتے ہیں۔ ”غَنَمٌ“ کا معنی بھیڑ بکریاں ہے، جو عرب میں اکثر جنگ کے بعد غالب فریق کے قبضے میں آتی تھیں۔ بعد میں قبضے میں آنے والی ہر چیز کو غنیمت کہنے لگے۔
سورت کے شروع میں ”انفال“ کو اللہ اور اس کے رسول کی ملکیت قرار دیا گیا تھا، اب غنیمت کی تقسیم کا طریقہ بیان…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 41
قولہ تعالیٰ : آیت : واعلموا انما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ وللرسول ولذی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل ان کنتم امنتم باللہ اس میں چھبیس مسائل ہیں
مسئلہ نمبر : 1
قولہ تعالیٰ : آیت : واعلموا انما غنمتم من شیء لغت میں غنیمت سے مراد وہ ( مال) ہے جسے آدمی یا جماعت محنت اور کوشش کے ساتھ حاصل کرے۔ اسی معنی میں شاعر کا قول ہے :
وقد طوفت فی الآفاق حتی رضیت من الغنیمۃ بالایاب (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 528 )
اور دوسرے شاعر نے کہا :
ومطعم الغنم یوم الغنم مطعمہ انی توجہ والمحروم محروم (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 528 )
مغنم اور غنیمت دونوں ہم معنی ہیں : کہا جاتا ہے : غنم القوم غنما (…
Read the full tafseer →1۔ ابن اسحاق وابن ابی حاتم نے عباد بن عبد اللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ مال فئے حصے بیان کئے گئے اور ان کو بتاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” واعلموا انما غنمتم من شیء “ (اور یہ حکم) غزوہ بدر گزر جانے کے بعد نازل ہوا۔ (پھر فرمایا) ”(آیت) فان للہ خمسہ وللرسول “ آیت کے آخر تک۔
2:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” واعلموا انما غنمتم من شیء “ کے بارے میں فرمایا کہ ” شئ “ سے مراد ہے کوئی چیز حتی کہ سوئی تک تم غنیمت میں پاؤ۔
3:۔ ابن منذر نے ابن ابی نجیح (رح) سے روایت کیا کہ مال تین قسم کا ہے۔ غنیمت کا فئ…
Read the full tafseer →وَاعْلَمُوْٓا [ اور جان لو ] اَنَّـمَا [ کہ جو کچھ ] غَنِمْتُمْ [ تم لوگوں نے غنیمت حاصل کی ] مِّنْ شَيْءٍ [ کوئی بھی چیز ] فَاَنَّ [ تو یہ کہ ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لیے ] خُمُسَهٗ [ اس کا پانچواں حصہ ہے ] وَلِلرَّسُوْلِ [ اور ان رسول کے لیے ہے ] وَلِذِي الْقُرْبٰي [ اور قرابتداروں کے لیے ہے ] وَالْيَتٰمٰي [ اور یتیموں کے لیے ہے ] وَالْمَسٰكِيْنِ [ اور مسکینوں کے لیے ہے ] وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ [ اور مسافر کے لیے ہے ] اِنْ [ اگر ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] اٰمَنْتُمْ [ ایمان لائے ] بِاللّٰهِ [ اللہ پر ] وَمَآ [ اور اس پر جو ] اَنْزَلْنَا [ ہم نے اتارا ] عَلٰي عَبْدِنَا [ اپنے بندے پر ] يَوْمَ…
Read the full tafseer →اموال غنیمت کے مستحقین کا بیان
کافروں سے جب جہاد کیا جاتا ہے تو ان کے اموال بھی قبضہ میں آجاتے ہیں ان اموال کو شریعت اسلامیہ کی اصطلاح میں مال غنیمت کہا جاتا ہے۔ سابقہ امتوں کے مسلمان جب کافروں سے جہاد کرتے تھے اور ان کے اموال قابو میں آجاتے تھے تو ان اموال کو آپس میں تقسیم کرلینے کا شرعی قانون نہیں تھا بلکہ آسمان سے آگ نازل ہوتی تھی جو غنیمت کے اموال کو جلا کر خاکستر کردیتی تھی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے امت محمدیہ پر کرم فرمایا اور رحم فرمایا کہ انہیں اموال غنیمت آپس میں تقسیم کرنے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ قال النبی ﷺ فلم یحل الغنائم لاحد من قبلنا ذلک بان اللہ رای ضعفنا وعجزنا فطیبھا لنا۔ (رواہ…
Read the full tafseer →تقسیم غنائم
قال اللہ تعالیٰ ۔ واعلموا انما غنمتم من شیئ۔۔۔ الی۔۔۔ واللہ علی کل شیئ قدیر
(ربط) شروع سورت میں بھی انفال یعنی غنائم کا ذکر تھا کما قال تعالیٰ یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول اور گزشتہ آیت یعنی قاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ میں بھی کفار سے قتال کا حکم تھا۔ اور وعدہ فتح ونصرت کا تھا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قتال میں دشمن سے مال غنیمت بھی حاصل ہوگا۔ اس لیے اس آیت میں مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ بتلاتے ہیں کہ جو مال کافروں سے لوٹ میں آئے اس کو کس طرح کرچ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو یہ شرف بخشا کیہ مال غنیمت کو ان کے لیے حلال کردیا پہلی امتوں کے لیے مال غنیمت حلال نہ تھا…
Read the full tafseer →42: حصہ دوم : دوسرا حصہ “ وَاعْلَمُوْا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ الخ ” سے آخر سورت تک ہے۔ اس حصے میں بھی وہ دونوں مضمون مذکور ہیں جو حصہ اول میں مذکور ہوئے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس حصہ میں “ اَلْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ” کی تفصیل کی گئی ہے اور اس کی جو علل بیان کی گئی ہیں ان کی تعداد پانچ ہے اور قوانین جہاد سات ہیں وہ تمام مؤمنین کے لیے اور پانچ خاصحضور ﷺ کے لیے۔
مضمون اول (تفصیل مصارف انفال مع علل): یہاں “ اَلْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ” کا مضمون تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ چناچہ “ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ الخ ” میں مال غنیمت کے خمس یعنی پانچویں حصے کے مصارف مذکور ہیں۔ (1) “ لِلرَّسُوْلِ ”…
Read the full tafseer →ربطِ آیات :
گذشتہ درس میں جہاد کی غایت بیان کی گئی کہ اس سے مقصود فتنہ و فساد کو مٹانا ہے تا کہ اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کی ہو اور زمین میں اس کے دین کو غلبہ حاصل ہو ، اگر اہل ایمان اس نیت اور ارادے کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی مدد کرے گا اور انہیں کامیابی سے ہمکنار کرے گا کیونکہ (آیت) ” نعم المولیٰ “ اللہ تعالیٰ بہت ہی اچھا آقا (آیت) ” ونعم النصیر “ اور بہت ہی اچھا مدد کرنے والا ہے۔
انفال غنیمت اور فئے :
جہاد کے ضمن میں غنیمت کا مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ اس سورة کی ابتدائی آیت (آیت) ” یسئلونک عن الانفال میں بھی مال غنیمت کی طرف…
Read the full tafseer →وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ 0 ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللہِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ 0 ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 41
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان :
أحدهما : إدراک ذات الشیء .
والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له،
أو نفي شيء هو منفيّ عنه .
فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو :
لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] .
والثاني : المتعدّي إلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
ترکیب : انما غنمتم ما بمعنی الذی والعائد محذوف من شیء حال من العائد المحذوف والتقدیر ماغنمتوہ قلیلاً او کثیراً یہ سب مبتداء فان للّٰہ خمسہ جملہ خبرو فی الفاء وجہان احد ہما انہا دخلت فی خبر الذی لما فیہا معنی الشرط وان وماعملت فیہ فی موضع رفع خبر مبتداء تقدیرہ فالحکم ان للہ خمسہ والثانی ان الفاء زائدۃ وان بدل من الاولی اذ انتم بدل ہے یوم سے العدوۃ 1 ؎ بالضم والکسر ‘ القصوٰی اعلیٰ لاصل والقیاس ان تکون قصیا کالدنیا لانہا صفۃ تقلب واوہا یاء افرقابین الاسم والصفۃ۔
1 ؎ العدوۃ بضم العین فی موضعین وکذابالفتح والکسر وقری بھا ایضا ہی شطالوادی وعاقبۃ عدت لان یتجاوز ھاما فی الوادی من ماء وغیرہ وقال ابو…
Read the full tafseer →وَاعْلَمُوْآ اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ لا اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتََقَی الْجَمْعٰنِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ ( الانفال : 41 )
(اور جان رکھو کہ جو کچھ تمہیں غنیمت ملے تو بیشک اس کا خمس اللہ کے لیے ہے اور رسول کے لیے ہے اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری فیصلہ کے دن جس دن بھڑ گئیں دونوں جماعتیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سورة کی ابتدا مال غنیمت کے متعلق ایک سوال سے ہوئی۔ جس کا مختصر جواب یہ دیا گیا کہ غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے تمہارا کام اپنی اصلاح کرنا اور اللہ، اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرنا ہے یہاں اس کا تفصیلی جواب دیا گیا ہے۔
مال غنیمت کے حقدار لوگوں کی تفصیلات بتانے سے پہلے ” واعلموا “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس میں کسی بات سے آگاہ کرنے کے ساتھ انتباہ بھی پایا جاتا ہے۔ یعنی اچھی طرح جان لو کہ جو تمہیں بتلایا جا رہا ہے یہ معمولی مسئلہ نہیں حقیقت ہے کہ یہ مال اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اس لیے کہ وہی اسے حلال کرنے والا اور تمہیں فتح دینے والا ہے۔ مال غنیمت کے حق داروں میں رسول محترم…
Read the full tafseer →تقسیم غنائم :
آیت 41: وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ (اور اس بات کو جان لو کہ جو بطور غنیمت تم کو حاصل ہو) : ماؔ الذی کے معنی میں ہے اس کو الگ لکھنا ضروری ہے۔ ورنہ ما، کافہ بن جائے گا۔ غنمتم اس کا صلہ ہے اور موصول کی طرف لوٹنے والی ضمیرمحذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے الذی غنمتموہ۔ مِّنْ شَیْئٍ (یعنی کوئی چیز) یہ اس کا بیان ہے۔ کہا گیا کہ دھاگہ اور سوئی تھی۔ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ (اس کا حکم یہ ہے کہ اس کا پانچواں حصہ اللہ کا ہے) نحو : فاؔ اس لئے لائے کہ الذی میں مجازات کا معنی ہے۔ یہ فقرہ محل رفع میں ہے خواہ مبتدائے محذوف کی خبر مانیں تقدیر عبارت یہ ہے فالحکم ان لِلّٰہ خمسہ پس حکم یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →تفسیر 41 (واعلموآ نما غنمتم من شیء فان للہ خمسہ) مسلمانوں کو کفار سے جو مال حاصل ہوتا ہے اس کے لئے دو نام استعمال ہوتے ہیں (1) غنیمت (2) فئی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ دونوں ایک ہیں اور ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ دونوں مختلف ہیں۔ پس غنیمت وہ مال ہے جس کو مسلمان لڑائی کے غلبہ سے حاصل کرلیں اور فئی وہ مال جو بغیر لڑائی کے صلح سے مل جائے۔ ا سآیت میں اللہ تعالیٰ نے غنیمت کا حکم بیان کیا ہے اور فرمایا (للہ خمسہ و للرسول) اکثر مفسرین رحمہم اللہ اور فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ لفظ اللہ کلام کی بطور برکت ابتداء کے لئے ہے اور مال کی اپنی طرف نسبت کرنا اس کے اعزاز کے لئے ہے۔ یہ مراد نہیں ہے کہ غنیمت کا کوئی…
Read the full tafseer →41۔ غنیمت اور فے دوچیزیں جدا جدا ہیں غنیمت وہ ہے جو سوارپیادوں کا لشکر دشمنوں پر حملہ کر کے لڑے بھڑے اس جنگ میں جو کچھ مال ومتاع قلیل یا کثیر ہاتھ آوے وہ سب مال غنیمت ہے اور فے وہ مال ہے جو دشمنوں سے بےلڑے بھڑے حاصل ہو مثلا جو کچھ صلح میں مقرر ہو یا کوئی لاوارث شخص مسلمانوں کے ملک میں ہو اس کے مرنے کے بعد جو کچھ اس کا سامان مسلمانوں کے ہاتھ لگے یا خراج کے طور پر مال ملے یہ سب فے ہے فے کے احکام سورة حشر میں مذکور ہیں یہاں اللہ پاک نے مال غنیمت کے احکام بیان فرمائے یہ غنیمت اور کسی نبی کے وقت میں حلال نہ تھی بلکہ اور انبیاء کے زمانہ میں جب کسی نبی کو مال غنیمت ہاتھ لگتا تھا تو اس کو ایک جگہ…
Read the full tafseer →آیت
(واعلموا انما عنمتم من شی) ” اور جان رکھو کہ تم مال غنیمت سے جو کچھ حاصل کرو۔” یعنی کفار کا جو مال تم فتح یاب ہو کر حق کے ساتھ حاصل کرو، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ (فان للہ خمسہ) “ تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کے لئے ہے “ اور باقی تمہارے لئے ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے غنیمت کی اضافت ان کی طرف کی ہے اور اس میں سے پانچواں حصہ نکال دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پانچواں حصہ نکال کر باقی ان میں اسی طرح تقسیم کیا جائے گا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے تقسیم فرمایا تھا۔۔۔ یعنی پیادے کے لئے ایک حصہ اور سوار کے لئے دو حصے، ایک حصہ خود اس کے لئے اور ایک حصہ اس کے گھوڑے کے لئے 1 ۔ (1 لیکن حدیث سے سوار کے لئے…
Read the full tafseer →غنائم کی تقسیم کا بیان
قول باری ہے واعلموا انما غنتم من شئی فان للہ محمد وللرسول ولذی القربیٰ والیتمی والمساکین وابن السبیل۔ اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے) اللہ تعالیٰ نے ایک اور آیت میں فرمایا فکلوا مماغنمتم حلالاً صیبً ۔ پس جو کچھ مال تم نے حاصل کیا ہے اسے کھائو کہ وہ حلال اور پاک ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد سے مروی ہے کہ یہ آیت قول باری قل الانفال للہ والرسول کی ناسخ ہے۔ اس لئے کہ پہلے یہ بات تھی کہ جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ جو کچھ آتا حضور ﷺ اس میں سے جسے جتنا…
Read the full tafseer →74 مال غنیمت میں اللہ کا حصہ اور اس کا مصرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مال غنیمت کے خمس میں سب سے پہلے اللہ کا حق اور اس کا حصہ ہے۔ جس کی نصرت و مدد اور تائید و عنایت سے تم لوگ فتح و کامرانی سے ہمکنار و سرفراز ہوئے، اور ہوتے رہو گے۔ لہٰذا سب سے پہلے " خُمس " یعنی پانچویں حصے میں سے اسی کا حصہ نکالو۔ اور پھر اس غنی مطلق کا یہ حصہ بھی اس کے بندوں ہی کے لئے آئندہ آنے والی تفصیل کے مطابق تقسیم کردو۔ یعنی اللہ پاک کے حصے کا ذکر محض تیمن و تبرک کیلئے ہے کہ سب کا خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے، ورنہ اس کے نام کا یہ حصہ بھی اس کے بندوں ہی میں تقسیم ہوگا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا…
Read the full tafseer →اس پارے کے پہلے چھ رکوع سورة الانفال کے ہیں باقی گیارہ رکوع سورة توبہ کے ہیں۔ اس سورت کا آغاز مال غنیمت کے ذکر سے ہوا تھا۔ یہاں یوم بدر کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ دوسرے رکوع میں منافقین کا ذکر ہے۔ تیسرے رکوع میں جہاد کی برکات کا ذکر ہے۔ اس سورت کے آخر میں مہاجرین وانصار کے فضائل اور اللہ کی قدرت کا ملہ بیان کی گئی ہے۔ ساتویں رکوع سے سورة توبہ شروع ہوتی ہے۔ یہ سورت بسم اللہ کے بغیر شروع ہوتی ہے۔ نویں رکوع میں تمام نیکیوں پر جہاد کی فضیلت واضح کی گئی ہے۔ دسویں رکوع میں مسلمانوں کو صرف اللہ پر بھروسہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ گیارہویں رکوع میں عیسائیوں کا رد کیا گیا ہے۔ بارہویں رکوع میں غزوئہ تبوک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
آیات 38 تا 41
اسرار و معارف
مکر اللہ کے کرم کی تو انتہا نہیں آپ کفار سے بھی کہد دیجئے کہ اگر وہ اب بھی باز آجائیں تو جو ہوچکا اللہ کریم وہ معارف کردیں گے کافر اگر اللہ کا دین قبول کرلے تو سلام می داخل ہونا گذشتہ تمام جرائم کو مٹا دیتا ہے مگر اسلام کا داخلہ یہ ہے کہ کفر کو چھوڑ بھی دے یہ اسلام نہ ہوگا کہ کہہ دے آپ کی بات قبول کرتا ہوں اور پھر بتوں کو سجدے بھی کرتا رہے لہٰذا فرمایا کہ وہ باز آجائیں کفر اور اس کے کردارواعمال کو چھوڑدیں تو اگر کافربازآکر بچ سکتا ہے ۔
توبہ
تو مومن کی توبہ تو بدرجہ اولی قبول ہوتی ہے مگر حقیقی تو بہ یہی ہے کہ کردار کی اصلاح کی جائے اور گناہ کو ترک کرکے اللہ سے مغفرت…
Read the full tafseer →ف 1 وپر کی آیت وقاتلو ھم، الخ۔ میں مقاتلہ کا حکم تھا جس کے نتیجہ میں حصول غنیمت ایک لاذزمی امر تھا اس لیے اس آیت میں مال غنیمت کی تقسیم کے چند مصارف بیان فرما دیئے ( کبیر) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سورة کے آغاز میں جو اس کی تقسیم کا اختیار اللہ و رسول ﷺ کو دیا گیا تھا اسی کی تفصیل ہو ، ( کذافی بعض الحواشی) مطلب یہ ہے کہ کل مال غنیمت کے پانچ حصے کئے جائیں گے۔ چار حصے ان لوگوں کو ملیں گے جنہوں جنگ میں شرکت کی اور خمس پانچواں حصہ ان اغراض کے لیے الگ کرلیا جائے گا جن کا آیت میں ذکر کیا گیا ہے اس خمس کی تقسیم میں سلف کے مختلف اقوال ہیں۔ امام مالک (رح) اور اکثر سلف (رح) کا خیال یہ ہے کہ امام (خلیفہ…
Read the full tafseer →(8:41) انما۔ ان اور ما سے مرکب ہے ان حرف مشبہ بالفعل بمعنی بیشک تحقیق۔ بجز اس کے نہیں۔ ما موصولہ ہے بمعنی الذی۔ جو چیز ۔ جو مال۔ غنمتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر۔ (باب سمع) غنم اور غنیمۃ۔ مصدر۔ الغنم۔ بکریاں۔ ومن البقر والغنم (6:6) اور گائیوں اور بکریوں میں سے ۔ الخ۔ الغنم کہیں سے بکریوں کا ہاتھ لگنا۔ ان کو حاصل کرنا۔ پھر یہ لفظ ہر اس چیز پر بولا جانے لگا جو دشمن یا غیر دشمن سے حاصل ہو۔ خاص طور پر فتح کے بعد دشمن سے چھینا ہوا مال۔
غنمتم۔ تم نے دشمن سے پایا۔ یا چھپنا۔ لیکن غیر دشمن سے حاصل شدہ مال بھی غنیمت میں شمار ہے۔ قرآن میں ہے فعند اللہ مغانم کثیرۃ (4:94) سو اللہ کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں۔ من…
Read the full tafseer →آیات : 41
لغات القرآن۔
اعلموا۔ جان لو۔ غنمتم۔ جو تم نے مال غنیمت لیا۔ خمس۔ پانچواں حصہ۔ ابن السبیل۔ مسفر۔ عبدنا۔ ہمارا بندہ۔ یوم الفرقان۔ فیصلہ کا دن۔ التقی۔ مل گئیں۔ الجمعن۔ دو جماعتیں۔ دو فوجیں۔
تشریح : نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے جنگوں میں مال غنیمت کی تقسیم کا طریقہ یہ تھا کہ جنگ میں جو کچھ دشمن کا مال و دولت، لونڈی غلام ہاتھ آتے وہ اسی کے ہوجاتے تھے جو دشمن سے لوٹ لیا کرتا تھا۔
نبی کریم ﷺ نے اللہ کے حکم سے جہاں اور ہزاروں انقلابی اور اصلاحی اقدامات سے صحابہ کرام ؓ کی ایک مقدس جماعت تیار کی تھی وہیں جنگی صورت حال میں بھی ان کو زندگی کے اصول عطا فرمائیے۔
صحابہ کرام ؓ کی یہ جماعت اور…
Read the full tafseer →مال غنیمت کی تقسیم
غنیمت اور فے دو چیزیں جدا جدا ہیں۔ غنیمت وہ ہے جو سوار پیادوں کا لشکر دشمنوں پر حملہ کرکے لڑے بھڑے۔ اس جنگ میں جو کچھ مال ومتاع قلیل یا کثیر ہاتھ آوے وہ سب مال غنیمت ہے اور فے وہ مال ہے جو دشمنوں سے بغیر لڑے بھڑے حاصل ہو۔ مثلا جو کچھ صلح میں مقرر ہو یا کوئی لاوارث شخص مسلمانوں کے ملک میں ہو اس کے مرنے کے بعد جو کچھ اس کا سامان مسلمانوں کے ہاتھ لگے یا اخراج کے طور پر مال ملے یہ سب فے ہے۔ فے کے احکام سورة حشر میں مذکور ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کے احکام بیان فرمائے کہ غنیمت کا مال یوں تقسیم کرو کہ کل مال غنیمت کی چھوٹی بڑی چیز ایک جگہ کرکے اس کے پانچ حصے کرو۔ چار حصہ…
Read the full tafseer →[11] سورت کی ابتداء میں ارشاد ہوا تھا کہ مال غنیمت کی تقسیم کا اختیار اللہ اور اس کے رسول کو ہے۔ یہاں اس کی تقسیم کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ اس تقسیم میں اللہ اور رسول کا حصہ ایک ہی ہے جو نبی ﷺ کو زمانہ
حیات میں ملتا تھا۔ نائب الٰہی کی خدمت میں پیش کردینا گویا اللہ کے حضور ہی پیش کردینا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کا اور آپ کے قرابت داروں کے حصے ساقط ہوگئے اور یہ یتیموں اور مسکینوں کو ملیں گے یعنی خمس اب تین حصوں میں تقسیم ہوگا۔ خلفاء راشدین کا اسی پر عمل تھا۔
[12] یعنی معرکہ بدر کے دن۔
Read the full tafseer →خمس :
(ف 1) اسلام میں جہاں اخلاق و عقائد کی تشریح ہے وہاں عسکری ضابطوں کی توضیح بھی ہے کیونکہ یہ جامع مذہب ہے جس میں تمام ضروریات انسانی سے بحث ہے ۔
خمس کے معنی پانچویں حصے کے ہیں ، قاعدہ یہ ہے کہ جب مسلمان میدان جنگ میں جائیں ، اور دشمنوں کا مال لے کر لوٹیں تو اس کے پانچ حصے کردیئے جائیں ، پانچواں حصہ بیت المال میں دیں ، وہ دینی وملی ضروریات پر صرف ہو ، اسیرو یہ کہ مساکین یا مسافر جو زاد راہ کے محتاج ہوں انہیں حسب ضرورت و احتیاج دیا جائے باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کردیئے جائیں ،
یہ واضح رہے کہ اسلام کے عہد اول میں باقاعدہ وفوج نہ تھی نہ ان کی تنخواہیں معزز تھیں ہر مسلمان سپاہی تھا ، اور…
Read the full tafseer →41 اور یہ بات جان لو کہ جو چیز بھی تم کو جنگ میں کافروں سے بطور غنیمت حاصل ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس میں سے کل پانچواں حصہ اللہ کے لئے اور اس کے رسول کے لئے ہے۔ اور رسول کے قرابت داروں کے لئے اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہے اگر تم اللہ تعالیٰ پر اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے محمد ﷺ پر فیصلے کے دن نازل کی تھی وہ دن وہ تھا جس دن بدر میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مقابل ہوئی تھیں اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
یعنی سورت کے شروع میں جو مال غنیمت کی تقسیم کا سوال کرتے تھے اس کا حکم جان لو۔ جنگ لڑکر دشمنوں سے جو مال حاصل ہو اس کے پانچ…
Read the full tafseer →ف 10۔ فیصلہ کے دن سے مراد یوم بدر ہے کیونکہ اس میں عملا حق و باطل کا فیصلہ واضح ہوگیا۔
1۔ مراد اس سے امداد غیبی بواسطہ ملائکہ کے ہے یعنی اگر ہم پر اور ہمارے الطاف غیبیہ پر یقین رکھتے ہو تو اس حکم کو جان رکھو اور عمل کرو یہ اس لیے بڑھا دیا کہ خمس نکالنا شاق نہ ہو اور یہ سمجھ لیں کہ یہ ساری غنیمت اللہ ہی کی امداد سے تو ہاتھ آئی پھر اگر ہم کو ایک خمس نہ ملا تو کیا ہوا وہ چار خمس بھی تو ہماری قدرت سے خارج تھے بلکہ محض قدرت الہی سے حاصل ہوئے۔
Read the full tafseer →مال غنیمت کے متعلق فیصلہ الٰہی یہ ہے کہ پانچواں حصہ مکمل بیت المال میں جائے گا :
54: اس سورة الانفال کے شروع میں صرف اتنی بات ارشاد فرمائی تھی یعنی غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے جس کا مطلب یہ تفہیم کرایا تھا ہک اس کی تقسیم تمہاری مرضیغ یا اسلام سے پہلے کے رسم و رواج کے مطابق نہیں ہوگی بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق ہوگی اور اللہ کا رسول اللہ کے حکم سے جس طرح چاہے گا اس کو تقسیم کردے گا اور غزوہ بدر میں حاصل شدہ غنیمتوں کو سارے غازیوں کے درمیان برابر تقسیم فرما دیا گیا اور اس کی مزید وضاحت نہ فرمائی چونکہ اب جہاد کا حکم آجانے کے بعد اس کے جاری رکھنے کا حکم تھا سوائے اس کے کہ جب…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in this verse are injunctions of spoils and the law of their distribution. Before we take up the subject in detail, let us under-stand some important words first.
Lexically, the word: غَنِیمۃ (ghanimah) is applied to property which is acquired from the enemy. In the terminology of the Shari` ah, property which is acquired from non-Muslims through fighting and killing, triumph and control, is called: غَنِیمۃ (ghanimah, translated here as spoils). And the property which is acquired in peace and with consent, like: جِزیَہ Jizyah, خِرَاج Khiraj etc., is called: فَییء (fai'…
Read the full tafseer →32. This verse lay's down the law for distributing the spoils of war. Spoils of war, as mentioned earlier, essentially belong to God and His Messenger. They alone have the right to dispose of them. As for the soldiers who fight, they are not the rightful owners of the spoils; whatever they do receive should be considered an extra reward from God rather than their legitimate right.
Here it is stated how God and His Messenger decided to dispose of the spoils. The prescribed rule is that the soldiers should depbsit all the spoils with the ruler or the commander without making any effort to…
Read the full tafseer →