تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ۟ؕتَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ
پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
There will follow it the subsequent [one].
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ۟ؕتَتۡبَعُهَا الرَّادِفَةُ
پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا
— Fateh Muhammad Jalandhari
There will follow it the subsequent [one].
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz
Read the whole surah · Surah An-Naazi'aat
اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا
پھر اس کے پیچھے اور (بھونچال) آئے گا
اس کے بعد ایک پیچھے آنے والی (پیچھے پیچھے) آئے گی
پھر اس کے بعد ایک اور جھٹکا آئے گا۔
اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی
پیچھے آنے والا ایک اور زلزلہ اس کے پیچھے آئے گا،
اس کے بعد ساتھ ہی پیچھے آنے والا (زلزلہ) آئے گا۔
اور اس کے بعد زلزلے کا ایک اور جھٹکا آپڑے گا
، اس کے پیچھے ایک دوسرا جھٹکا آئے گا
اس کے پیچھے آلگے گا ایک اور (ایسا ہی زوردار) جھٹکا
جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آجائے گی۔
اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا آئے گا۔
پھر اس کے پیچھے اور بھونچال آئے گا
and will be followed by another quaking.
followed by the next one (i.e. the second blowing of the trumpet.)
followed by the next one (i.e. the second blowing of the trumpet.)
Followed by the Radifah.
And the second followeth it,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
There will follow it the subsequent [one].
and will be followed by the second one,
What must happen afterwards shall follow it.
And there will follow it the next blast.
Followed by oft-repeated (commotions):
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
فرشتے موت اور ستارے اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے، بعض کہتے ہیں والنازعات غرقاً سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں پہلی آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں مراد سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے موت اور ستارے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں، اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة النّٰزِعٰت 2 پہلے جھٹکے سے مراد وہ جھٹکا ہے جو زمین اور اس کی ہر چیز کو تباہ کر دے گا اور دوسرے جھٹکے سے مراد وہ جھٹکا ہے جس کے بعد تمام مردے زندہ ہو کر زمین سے نکل آئیں گے۔ اسی کیفیت کو سورة زمر میں یوں بیان کیا گیا ہے " اور صور پھونکا جائے گا تو زمین اور آسمان میں جو بھی ہیں وہ سب مر کر گر جائیں گے سوائے ان کے جنہیں اللہ (زندہ رکھنا) چاہے۔ پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا تو یکایک وہ سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے "۔ (آیت 68)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
پانچویں صفت فالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ہے۔ امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے یعنی ان ملائکہ موت کا آخری کام یہ ہوگا کہ جس روح کو ثواب اور راحت دینے کا حکم ہوگا اس کے لئے راحت کے سامان جمع کردیں اور جس کو عذاب اور تکلیف میں ڈالنے کا حکم ہوگا اس کے لئے اس کا انتظام کردیں۔ قبر میں ثواب وعذاب موت کے وقت فرشتوں کا آنا اور انسان کی روح قبض کرکے آسمان کی طرف لیجانا پھر اسکے اچھے یا برے ٹھکانے پر جلدی سے پہنچا دینا اور وہاں ثواب یا عذاب، تکلیف یا راحت کے انتظامات کردینا ان آیات مذکورہ سے ثابت ہوگیا۔ یہ عذاب وثواب قبر یعنی برزخ میں ہوگا۔ حشر کا عذاب وثواب اس کے بعد ہے احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
یہ مقسم علیہ نہیں ہے، جیسا کہ بعض لوگوں نے گمان کیا ہے، بلکہ اس دن کی یاددہانی ہے جس دن اس عذاب سے سابقہ پیش آئے گا جس سے ان کو ڈرایا جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے رسولوں نے اپنی قوموں کو دو عذابوں سے ڈرایا ہے۔ ایک اس عذاب سے جس سے قیامت کے دن دوچار ہونا پڑے گا۔ دوسرے اس عذاب سے جس سے اسی دنیا میں قوم کو سابقہ پیش آتا ہے اگر وہ اپنے رسول کی تکذیب کر دیتی ہے۔ قیامت کے دن کی یاددہانی: پہلے آیات ۶-۱۴ میں عذاب قیامت کی تصویر ہے اس کے بعد آیات ۱۶-۱۷ میں اس عذاب کی تاریخی شہادت پیش کی گئی ہے جو تکذیب رسول کے نتیجہ میں اس دنیا میں پیش آتا ہے۔ عذاب قیامت کا ذکر یہاں اس لیے مقدم کر دیا ہے کہ اصل عذاب وہی…
Read the full tafseer →7۔ 1 یہ دوسرا نفخہ ہوگا، جس سے سب لوگ زندہ ہو کر قبروں سے نکل آئیں گے۔ یہ دوسرا نفخہ پہلے نفخہ سے چالیس سال بعد ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
3: اس سے مراد پہلا صور ہے۔ جب وہ پھونکا جائے گا تو ہر جان دار کو موت آجائے گی، اور پوری کائنات زیر و زبر ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
پہلے جھٹکے سے مراد زمین پر طاری ہونے والا جھٹکا ہے کیونکہ دوسری جگہ رجف کی نسبت صراحتہ زمین کی طرف کی گئی ہے۔ یوم ترجف .................... والجبال ” جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے “۔ رادفہ سے مراد ، مطابق روایات آسمان کا لرزنا ہے۔ یعنی زمین کے لرزاٹھنے کے بعد آسمان بھی لرز اٹھے گا۔ یہ پھٹ جائے گا ، اور اس کے ستارے بکھر جائیں گے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ راجفہ سے مراد پہلا صور ہے۔ پہلا صور جب سخت آواز نکالے گا تو زمین اور پہاڑ لرزاٹھیں گے ، زمین کے اوپر درندے چرندے انسان سب لرز اٹھیں گے اور اس کے بعد زمین و آسمان کی تمام مخلوق بےہوش ہوجائے گی۔ اور رادفہ سے مراد دوسرا صور ہے ، جس کے نتیجے میں…
Read the full tafseer →9 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی لگاتار (یکے بعد دیگرے) بھونچال چلے آئیں، اور اکثر مفسرین نے " رادفۃ " سے صور کا دوسرا نفخہ مراد لیا ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
آیت 7{ تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ۔ } ”اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا آئے گا۔“ اس سے نفخہ ثانیہ مراد ہے ‘ جس کے بعد سب ُ مردے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
7 آیت نمبر 6 اور نمبر 7 کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ نفخہ صور اول کے وقت زمین کانپنے لگے گی۔ پھر اسے لگاتار زلزلہ کے مزید جھٹکے پڑنے لگیں گے۔ دوسرا یہ کہ رادفہ سے زلزلہ کے بجائے نفخہ صور مراد لیا جائے۔ یعنی پہلے نفخہ صور کے نتیجہ میں زمین کانپنے لگے گی پھر اس کے بعد جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو تمام مرے ہوئے لوگ زندہ ہو کر قبروں سے باہر نکل آئیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
3۔ یعنی صور کا نفخہ ثانی جو ہر مردہ چیز کو از سرنو زندہ کھڑا کردے گا۔ (آیت) ” یوم ترجف الراجفۃ “۔ یعنی صور کا نفخہ اولی جو چھوٹی بڑی زندہ مخلوق کو فناء کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–13
فالمدبرات امرا، یعنی امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ کرنے والے ہیں، امر الٰہی کی تدبیر و تنفیذ سے روح کے معاملے میں تدبیر و تنفیذ مراد ہے اور اس کے علاوہ اور دیگر امور میں بھی تدبیر و تنفیذ مراد ہوسکتی ہے۔ خلاصہ : یہاں پانچ اوصاف رکھنے والی ہستیوں کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے اس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن بعد کا مضمون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ قسم اس بات پر کھائی گئی ہے کہ قیامت ضرور آئے گی اور تمام مردوں کو ازسرنو ضرور زندہ کیا جائے گا، نیز اس امر کی وضاحت بھی نہیں کی گئی کہ یہ اوصاف کن ہستیوں کے ہیں لیکن صحابہ ؓ اور تابعین اور اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ ان سے مراد فرشتے ہیں۔ نفس اور روح سے…
Read the full tafseer →تتبعھا الرادفۃ . الراجفۃ سے مراد ہے پہلا نفخہ اور الرادفۃ سے مراد ہے ‘ دوسرا نفخہ۔ بیہقی نے حضرت ابن عباس کا قول بھی یہی نقل کیا ہے ‘ پہلے نفخہ کو راجفہ کہنے کی یہ وجہ ہے کہ پہلی بار صور پھونکنے سے زلزلہ آجائے گا اور ہر چیز ہل جائے گی اور مخلوق مرجائے گی۔ دوسرے نفخہ کو رادفۃ اس لیے کہا کہ وہ پہلے کے پیچھے آئے گا۔ ابن مبارک نے حسن بصری کا قول نقل کیا ہے کہ دونوں نفخوں کے درمیان چالیس برس کی مدت ہوگی۔ اوّل نفخ سے بحکم خدا ہر مرنے والی چیز مرجائے گی۔ حلیمی (رح) نے بیان کیا کہ دونوں نفخوں کے درمیان چالیس سال کی مدت ہونے پر تمام روایات متفق ہیں۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–10
(6۔ 10) ان تمام چیزوں کی قسمیں کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دونوں مرتبہ صور پھونکا جائے گا اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا وقفہ ہوگا۔ چناچہ فرما رہے ہیں کہ جس دن ہلا دینے والی چیز ہر ایک چیز کو ہلا دے گی یعنی نفخہ اولی ہوگا اور پھر اس کے بعد نفخہ ثانیہ ہوگا۔ قیامت کے دن دل خوف زدہ ہوں گے اور ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی مگر یہ مکہ کے کافر کہتے ہیں کیا ہم دنیاوی حالت کی طرف پھر واپس ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
یوم ترجف الراجفتہ …: قاموس میں ہے :”رجف حرک و تجرک واضطرب شدیداً“ یعنی ”رجف“ کا معنی سخت حرکت کرنا اور حرکت دینا دونوں آتے ہیں۔ یہاں حرکت دینا زیادہ مناسب ہے۔ ”الراجقہ“ سے مراد پہلی دفعہ صور میں پھونکے جانے سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے ہر چیز فنا ہوجائے گی۔ ”الرادفۃ“ سے مراد دوسرے نفخہ سے برپا ہونے والا زلزلہ ہے جس سے تمام لوگ زندہ ہو کر از سر نو قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے۔ سورة زمر (68) میں بھی انہی دونوں نفخوں کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →تتبعھا الرادفہ۔ رادفہ سے مراد چیخ ہے، مجاہد، حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور قتادہ نے کہا، دونوں سے مراد چیخیں ہیں یعنی دونوں نفخے، جہاں تک پہلے نفخہ کا تعلق ہے وہ اللہ کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کردے گا، جہاں تک دوسرے نفخے کا تعلق ہے وہ اللہ کے حکم سے ہر چیز کو زندہ کردے گا حدیث میں نبی کریم کا ارشاد ہے، دونوں فخوں کے درمیان چالیس سال کا عرصہ ہوگا، مجاہد نے بھی کہا، رادفہ اس وقت ہوگا جب آسمان پھٹ جائے گا زمین اور پہاڑ اٹھالیے جائیں گے اور انہیں ایک ہی بار ریزہ ریزہ کردیا جائے گا، یہ سلسلہ زلزلہ کے بعد ہوگا ایک قول یہ کیا گیا ہے، راجفہ سے مراد زمین کا حرکت کرنا ہے رادفہ سے مراد دوسرا زلزلہ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
19۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم ترجف الراجفہ جس دن کانپنے والی کانپے گی سے مراد ہے پہلی مرتبہ صور پھونکنا۔ آیت تتبعہا الرادفۃ اس کے پیچھے آنے والی پیچھے آئے گی سے مراد ہے دوسری مرتبہ صور پھونکنا آیت قلوب یومئذ واجفۃ کئی دل اس دن دھڑ رہے ہوں گے۔ یعنی خوف زدہ ہوں گے آیتء انا لمردودون فی الحافرۃ کیا ہم پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے یعنی کیا ہم دوبارہ زندہ ہوں گے۔ 20۔ عبد بن حمید و بیہقی نے البعث میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم ترجف الراجفۃ یعنی زمیان اور پہاڑ کانپیں گے اور وہ زلزلہ ہوگا آیت تتبعہا الرافۃ یعنی دونوں ریزہ ریزہ…
Read the full tafseer →[تَتْبَعُهَا : اس کے پیچھے آئے گی ][ الرَّادِفَةُ : وہ پیچھے لگنے والی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
﴿تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُؕ007﴾ یعنی (ہلا دینے والی چیز) کے پیچھے اس کے بعد آنے والی چیز آجائے گی اس سے نفخہ ثانیہ یعنی دوسری دفعہ صور پھونکنا مراد ہے۔ ﴿ قُلُوْبٌ يَّوْمَىِٕذٍ وَّاجِفَةٌۙ008﴾ (اس دن دل دھڑک رہے ہوں گے) ﴿ اَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌۘ009﴾ (ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
ہیبت و اضطراب در روز محشر و فلاح وکامرانی اہل ایمان : قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” والنزعت غرقا ....... الی ......... ان فی ذلک لعبرۃ لمن یخشی “۔ (ربط) سورة نبا میں منکرین قیامت کا قیامت کے بارے میں معاندانہ سوال اور تمسخر کا ذکر تھا اور ان کے جواب ورد کے بعد روز محشر کی حاضری کی کچھ کیفیات ذکر کی گئی تھیں، اب اس سورت میں بالخصوص قیامت قائم ہونے پر جو اضطراب وبے چینی قلوب پروارد ہوگی، اور بدحواسی کا عالم لوگوں پر ہوگا اس کا بیان ہے، جزاء وسزا اور مومنین ومجرمین کا فرق بھی بیان کیا جارہا ہے اور یہ کہ اللہ رب العزت حق کو کس طرح باطل پر غلبہ اور کامیابی عطا فرماتا ہے ؟ اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4:۔ ” یَوْمَ تَرْجُفُ “۔ یہ تخویف اخروی ہے اور ظرف جواب قسم مقدر کے ساتھ متعلق ہے۔ ” ترجف “ ہل جائے گی اور کانپ اٹھے گی۔ ” الراجفۃ “ سے مراد زمین ہے۔ جس دن کانپ اٹھے گی کانپنے والی یعنی نفخہ اولی کے وقت ایک زبردست زلزلہ آئے گا جس کی وجہ سے زمین کو اس قدر شدید جھٹکے لگیں گے کہ پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجائیں گے۔ اس کے بعد پیچھے آنے والی آئے گی۔ مراد نفخہ ثانیہ ہے جس سے ساری مخلوق زندہ ہو کر اٹھ کھڑی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
(کوائف اور موضوع ) اس سورة کا نام سورة النزعت ہے۔ اور یہ اس کے پہلے لفظ سے لیا گیا ہے۔ اس کے دوسرے نام سبحت اور سبقت بھی ہیں جو اس سورة کی تیسر ی اور چوتھی آیات سے ماخوذ ہیں ۔ تا ہم زیادہ راحج نام نازعت ہی ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی چھیالیس 46 آیات ہیں ۔ اس کا مضمون پہلی سورة نبا کے ساتھ ملتا جلتا ہے ۔ ان سورتوں میں قیامت کا ہی ذکر ہے اس کے بعد بھی دور تک اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ہی ذکر فرمایا ہے جسکے لیے مختلف طریقے اختیار کئے ہیں ۔ (پہلی سورة کے ساتھ ربط) گذشتہ سورة میں ایک کسان کی ذہنیت کو پیش نظررکھ کر قیامت کا ذکر کیا گیا تھا ان یوم الفصل کان میقاتا زمین میں دانہ بونے کے…
Read the full tafseer →تَتْبَعُہَا الرَّادِفَۃُ 7 ۭ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ، ، قالَ يا قَوْمِ اتَّبِعُوا الْمُرْسَلِينَ اتَّبِعُوا مَنْ لا يَسْئَلُكُمْ أَجْراً [يس/ 20- 21] ، فَمَنِ اتَّبَعَ هُدايَ [ طه/ 123] ، اتَّبِعُوا ما أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ [ الأعراف/ 3] ، وَاتَّبَعَكَ الْأَرْذَلُونَ [ الشعراء/ 111] ، وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبائِي [يوسف/ 38] ، ثُمَّ جَعَلْناكَ عَلى شَرِيعَةٍ مِنَ الْأَمْرِ فَاتَّبِعْها وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ترکیب ¦ یوم منصوب بالجواب المضمر والتقدیرلتبعثن یوم ترجف الراجفۃ اے فی الوقت الواسع الذی یحصل فیہ النفختان وقیل منصوب بمادل علیہ قلوب یومئذوا جفۃ ای یوم ترجف رجفت القلوب۔ والرجفۃ الحرکۃ والاضطراب یقال رجف یرجف اذا اضطرب ومنہ قولہ تعالیٰ یوم ترجف الارض والجبال وقیل الھدۃ النکرۃ والصوت الھائل من قولھم رجف الرعدیر جف رجفا ورجیفا ومنہ قولہ تعالیٰ فاخذتھم الرجفۃ فعلی ھذا الراجفۃ صیحۃ عظیمۃ تبتعھا الراوفۃ الجملۃ منصوب علی الحال من الراجفۃ والمعنی لتبعثن یوم النفخۃ الاولی حال کون النفخۃ الثانیۃ تابعۃ لھا والرادفۃ کل شیء جاء بعدہ شیء آخر یقال ردفہ ای جاء بعدہ۔ قلوب مبتداء یومئذ منصوب بواجفۃ وھی صفۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
یَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَۃُ ۔ تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ ۔ (النازعات : 6، 7) (اس دن سے ڈرو جس دن ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا۔ اور اس کے پیچھے آئے گا ایک اور جھٹکا۔ ) وقوعِ قیامت کی تصویر اس میں وقوع قیامت کی تصویر کھینچی گئی ہے۔ پہلے جھٹکے سے مراد نفخہ اولیٰہے جو زمین اور اس کی ہر چیز کو تباہ کردے گا۔ ہر چیز ٹوٹ پھوٹ جائے گی، پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ اور دوسرے جھٹکے سے مراد نفخہ ثانیہ ہے۔ یعنی جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو سب اپنی قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور میدانِ حشر کی طرف چل پڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
فہم القرآن ربط کلام : موت کے بعد پہلا مرحلہ۔ پانچ قسمیں اٹھا کر ہر شخص کو یہ حقیقت یاد کروائی گئی ہے کہ نیک ہو یا بد اس نے موت کے مشکل ترین لمحات سے گزرنا ہے اور موت کے بعد ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب زمین کا چپہ چپہ کانپنے لگے گا کیونکہ اسے پے در پے جھٹکے لگیں گے اس طرح پوری زمین ہلا کر رکھ دی جائے گی یہاں تک کہ زمین چٹیل میدان میں تبدیل ہوجائے گی۔ اس دن لوگوں کے دل دہل جائیں گے اور ہر شخص یوں محسوس کرے گا جیسے اس کا کلیجہ منہ میں آکر پھنس گیا ہے۔ آنکھیں ڈری ڈری اور جھکی ہوں گی، چاہیے تو یہ کہ کافر قیامت پر ایمان لاتے لیکن وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم قبروں سے نکل کر پہلی حالت پر لوٹ جائیں گے ؟…
Read the full tafseer →7 : تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ (جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آئے گی) یہ الراجفہ سے حال ہے۔ اور الراد فہؔ سے ٔ ثانیہ مراد ہے۔ کیونکہ وہ پہلے کے بعد پیش آئے گا۔ ان کے مابین چالیس سال کا فاصلہ ہوگا۔ پہلے سے مخلوق مرجائے گی اور دوسرے سے ان کو زندہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →6 ۔” یوم ترجف الراجفۃ “ یعنی پہلا نفخہ اس کی وجہ سے ہر چی ہلنے لگے اور اس کی وجہ سے تمام مخلوق مرجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
6۔ 14۔ اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقین ہوتی ہے۔ راجفۃ سخت آواز کو کہتے ہیں یہاں مراد اس سے پہلا صور ہے رادفۃ وہ چیز ہے جو پہلی چیز کے بعد آئے یہاں اس سے مراد دوسرا صور ہے جو پہلے صور کے بعد پھونکا جائے گا۔ واجفۃ کے معنی خوف زدہ کے ہیں۔ حافرہ کے معنی قبر کے ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ حشر کے منکر کہتے تھے کہ جب قبر میں بدن گل سڑ گیا اور ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں تو پھر کیا دوبارہ جی سکتے ہیں اور اگلے پچھلے سب جئے تو ایک…
Read the full tafseer →(تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ) یعنی ایک اور زلزلہ جو اس کے ساتھ ہی اس کے پیچھے پیچھے آئے گا۔
Read the full tafseer →(7) " الراجفۃ " اور " الرادفۃ " سے مقصود و مرا ؟ ان دونوں سے مراد ہیں نفخہ اولی اور ثانیہ۔ کہ نفخہ اولی سے کچھ نیست و نابود ہوجائے گا اور نفخہ ثانیہ سے تمام مردے پھر جی اٹھیں گے۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت حسن بصری (رح) وغیرہ جیسے اکابرین سے مروی و منقول ہے ( ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل، اور جامع البیان وغیرہ) اور جیسا کہ سورة زمر کی آیت نمبر 68 پ 14 میں فرمایا گیا وَنُفِخَ فِیْ الصُّورِ فَصَعِقَ مَن فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَن فِیْ الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاء اللَّہُ ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ أُخْرَی فَإِذَا ہُم قِیَامٌ یَنظُرُونَ ۔ اور بعض اہل علم نے کہا کہ اس سے مراد وہ دو عذاب ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
قیامت کے دن لوگوں کا اور کائنات کا حال تشریح : جیسا کہ اکثر اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کے قریب اکثر زلزلے آئیں گے۔ زلزلے تو اکثر آتے رہے ہیں جو اصل میں اس تباہی کا تصور دلاتے ہیں جو قیامت کے دن کائنات کو پیش آنے والی ہے۔ یہاں ماضی قریب میں آنے والے ایک ایسے زلزلے کا ذکر معروف سائنسدان کرتے ہیں۔ '' ایک زلزلہ 79 ء عیسوی میں اٹلی میں آیا تھا جس کی طاقت آٹھ تھی۔ جس کی وجہ سے آتش فشاں پھوٹ پڑا اور دو بڑے شہر 1. Pompell. 2. Hercilaman. تہ وبالا ہوگئے۔ ایک شہر پر گردوغبار اور راکھ کی بارش ہوئی جبکہ دوسرے شہر پر گرم گرم کیچڑ کی بارش ہوئی دونوں شہر چند گھنٹوں میں مل یا میٹ ہوگئے۔ یہ واقعہ دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–26
سورة نازعات۔ آیات 1 تا 26۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے ان فرشتوں کی جو کافر کی روح کھینچ کرنکالتے ہیں کہ ملک الموت ایک ایک بال اور ناخن کی جڑوں تک سے کھینچ کر نکالتا ہے اس لیے کہ وقت موت برزخ سامنے آجاتا ہے اور عذاب الٰہی دیکھ کر کافر کی روح چمٹی رہناچاہتی ہے اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو آرام سے مومن کی روح نکال لیتے ہیں گویا وقت موت ہی کافر پہ سختی اور مومن کو راحت شروع ہوجاتی ہے اس سے ظاہری حالت مراد نہیں نہ ظاہر سے اندازہ ہوسکتا ہے الاماشاء اللہ یعنی بہت کم لوگوں کے حال سے پتہ چلتا ہے اس سے مراد باطنی کیفیات ہیں جو دونوں پہ گزررہی ہوتی ہیں پھر ان روحوں کو لے کر آسمان کی طرف تیزی سے جاتے ہیں اور ان…
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی دوسری مرتبہ صور پھونکنا یعنی لگاتار بھونچال چلا جاوے۔
Read the full tafseer →(79:7) تتبعھا الرادفۃ : تتبع مضارع واحد مؤنث غائب تبع (باب سمع) مصدر سے۔ بمعنی پیچھے چلنا۔ پیچھے پیچھے آنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الراجفۃ ہے۔ الرادفۃ؛ ردف (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث پیچھے سوار ہونے والی۔ پیچھے جانے والی۔ ترادف ایک دوسرے کے پیچھے آنا۔ یا سوار ہونا۔ لفظوں کا ہم معنی ہونا۔ مترادف ہم معنی۔ اس کے پیچھے آئے گی ایک اور لرزاہٹ، بھونچال ، زلزلہ۔ فائدہ : بعض کے نزدیک ردف سے مراد نفخہ ثانیہ ہے جو پہلے نفخہ کے بعد ہوگا۔ جس کے بعد سب مردے دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔ صاحب تفسیر حقانی رقمطراز ہیں :۔ یوم ترجف الراجفۃ۔ اس روز کہ لرزنے والی چیزیں لرزیں یعنی زمین اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–46
لغات القرآن النازعات۔ گھسیٹنے والے۔ غرق۔ ڈوب کر۔ الناشطات ۔ بند کھولنے والے۔ السابحات۔ تیرنے والے۔ السابقات۔ آگے بڑھ جانے والے۔ المدبرات۔ انتظام کرنے والے ۔ واجفہ۔ دھڑکنے والے۔ الحافرۃ۔ پہلی پیدائش۔ نخرۃ ۔ گلی سڑی۔ کرۃ۔ دوبارہ۔ رجرۃ واحدۃ۔ ایک زبردست ڈانٹ۔ الساھرہ۔ میدان۔ اری۔ دکھایا۔ الایۃ الکبری۔ بڑی نشانی۔ حشر۔ اس نے جمع کیا۔ نکال۔ سزا۔ اشدخلقا۔ زیادہ مشکل ہے بنانا۔ رفع۔ بلند کردیا۔ سمک۔ اٹھان۔ اغطش۔ اس نے سیاہ کردیا۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ دحی۔ اس نے پھیلایا۔ مری۔ چارہ (جانوروں کی غذا) ۔ الطامہ۔ آفت و مصیبت۔ برزت۔ ظاہر کردی گئی۔ اثر۔ اس نے اختیار کیا۔ ترجیح دی۔ الماوی ۔ ٹھکانا۔ نھی النفس۔ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
حشر کا ذکر۔ (ف 3) اوپر کی قسموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں پہلے صور سے دنیا کے اجڑ جانے اور دوسرے صور سے حشر کے ہوجانے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ حشر کا برپا ہونا ایسا یقینی ہے جس طرح قسم کھانے کے بعد کی کوئی بات یقینی ہوتی ہے فرمایا کہ قیامت کے دن وہ ہوگا کہ زمین اور پہاڑ جنبش میں آئیں گے پہلاصور جب پھونکاجائے گا اس وقت روحیں بدن سے جدا ہوجائیں گی اور دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، پھر اس کے بعد دوسرا صور پھونکاجائے گا اس وقت پھر ارواحیں قالب میں آئیں گی اور نئے سرے سے عالم ایک ارعالم میں ظاہر ہوگا، بہت دل اس دن خوف زدہ ہوں گے اور نظریں مارے دہشت کے جھک رہی ہوں گی غرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[3] یہ اثر ہوگا دوسری دفعہ صور کے پھونکے جانے کا (نفخہء ثانیہ) جس سے تمام انسان جی اٹھیں گے (ملاحظہ ہو سورة زمر آیت 68 صفحہ 1110) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–25
ف 2: السبحت وہ ہیں جو سبک سیری مکینوں کی مانند ہیں ۔ اور فالسبقت وہ ہیں کہ تیزی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔ اور فالمدبرات سے مراد وہ کواکب ہیں جو اپنی طبعی خاصیتوں کی بنا پر دنیا پر اپنا مستقل اثر قائم کرتے رہتے ہیں ۔ اس طرح گویا ان نجوم کواکب کو انسانی زندگی کے بمنزلہ قرار دیا گیا ہے ۔ کہ بعض لوگ بہت طویل عمر کے ہوتے ہیں اور ان کی ولادت اور موت کا مطلع ومغرب دور دور ہوتا ہے ۔ بعض وہ ہوتے ہیں جو تھوڑی عمر پاتے ہیں اور ہنسی خوشی گزار دیتے ہیں ۔ بعض کی زندگی حوادث اور مقابلہ وتقدم سے مبرا ہوتی ہے ۔ اور وہ سبک سیر سیاروں کی طرح فضائے حیات میں تیر کر منزل تک پہنچ جاتے ہیں…
Read the full tafseer →(7) جس کے بعد ایک پیچھے آنے والی چیز آئے گی۔ عام مفسرین کے نزدیک نفخہ ثانیہ مراد ہے۔ لیکن بعض حضرات نے پیچھے آنے والی سے پے درپے زلزے مراد لئے ہیں، رجف اس زلزلے کو کہتے ہیں جس میں ہولناک آواز بھی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ف 2۔ والنزعات والنشطت سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ بعض اوقات کفار کا نزع آسان اور مومنین کا سخت دیکھا جاتا ہے، اصل یہ کہ یہ سختی اور سہولت جسمانی ظاہری ہوتی ہے اور آیت میں شدت و سہولت روحانی و حقیقی مراد ہے۔
Read the full tafseer →جس کے بعد اس کو ایک دوسرا جھٹکا لگایاجائے گا ۔ 7 گویا اس زمین کے ایک بار کپکپانے سے اس کائنات کی ہرچیز فنا ہو کر فنا فی الارض ہوجائے گی اور ساتھ اس کے پیچھے آسمانوں میں ہل چل مچ جائے گی اور قرآن کریم کے دوسرے مقامات کی بنا پر ستارے جھڑنا شروع ہوجائیں گے اور مہر و ماہ سب آپس میں ٹکرا جائیں گے جس سے زمین کی طرح آسمان پر رہنے والے بھی سب کے سب تباہ و برباد ہوجائیں گے۔ باقی بنا رہتا ہے تو صرف ایک ذات کے لئے باقی رہنا ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ہے : (کل من علیھا فان ویبقی وجہ ربک ذی الجلال والاکرام تتبعھا) وہ اسکے پیچھے پیچھے لگی آئے گی۔ تتبع تبع سے مضارع کا صیغہ واحد مئونث غائب ھا ضمیر واحد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–24
The fifth quality of the angels: فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا (then manage [ to do ] everything [ they are ordered to do,]...79:5). In other words, the last task of these angels of death will be as follows: Those who are commanded to reward and comfort the deserving souls, will gather means of reward and comfort for them; and those who are commanded to punish and cause pain to [ the evil souls ] will organize means for that. Reward and Punishment in the Grave The Surah thus far confirms that at the time of death, the angels will arrive and extract human souls. Then they will take them to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
2 The first jolt implies the jolt which will destroy the earth and everything on it, and the second jolt at which all dead men will rise up from death and from their graves. This same state has been described in Surah Az-Zumar, thus: "And when the Trumpet shall be blown on that Day, all those who are in the heavens and the earth shall fall down dead except those whom Allah may allow (to live) . Then the Trumpet shall be blown again and they will all stand up, looking around." (v. 68)
Read the full tafseer →