Ayah 79:11 یعنی ان فرشتوں کی قسم جو موت کے وقت میت کے ایک ایک رگ و ریشہ میں ڈوب کر وہاں سے اس کی روح کو کھینچ لاتے ہیں۔ واضح رہے کہ نزع کا لغوی معنی کسی چیز کو اس کی قرارگاہ سے کھینچنا ہے۔
Ayah 79:22 نشط کا لغوی مفہوم :۔ نشط لغت اضداد سے ہے نشط الحبل بمعنی رسی کو گرہ لگائی۔ اور نَشَطَ الْعُقْدَۃُ بمعنی گرہ کو مضبوط کیا اور النَّشُوْطُ بمعنی آسانی سے کھل جانے والی گرہ۔ گویا نشط کا معنی گرہ لگانا بھی ہے اور گرہ کھولنا بھی۔ یعنی اللہ نے جب انسان کو بنایا یا پیدا کیا تو ایک ایک جوڑ اور بند کو مضبوط کیا تھا۔ موت کے وقت فرشتے انہیں جوڑوں کے بند کھول کر انہیں ڈھیلا کردیں گے۔
Ayah 79:33 سَبَحَ بمعنی کسی چیز کا پانی یا ہوا میں تیرنا اور تیز رفتاری سے گزر جانا۔ اور سباّح بمعنی ماہر تیراک۔ یعنی وہ فرشتہ جو روح کو نکال کر زمین سے آسمان کی طرف اس قدر سرعت و سہولت سے چلتے ہیں گویا بےروک ٹوک ہوا میں تیرتے جارہے ہیں۔
Ayah 79:44 پھر ان ارواح کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے جیسا حکم صادر ہوتا ہے اس کی بجاآوری کے لیے ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں۔
Ayah 79:55 پھر ارواح کے متعلق فرشتوں کو جو حکم ملتا ہے خواہ وہ حکم ثواب کا ہو یا عذاب کا۔ اس پر فوراً عمل درآمد کی تدبیر کرتے ہیں۔ اور اگر الفاظ کی عمومیت کا لحاظ رکھا جائے تو ان سے مراد وہ تمام فرشتے ہیں جو تدبیر امور کائنات پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔
Ayah 79:66 مذکورہ بالا پانچ قسم کے فرشتوں اور ان کے کارناموں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ پر روز آخرت کے قیام پر حجت قائم فرمائی کہ جو فرشتے تمہاری رگ رگ سے روح نکال کر تمہیں موت سے دوچار کرتے ہیں اور تمہاری روح کو اپنے قبضہ میں لے لیتے ہیں وہ کسی وقت یہی روح تمہارے جسم میں داخل بھی کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ کفار مکہ فرشتوں کی ہستی اور ان کے کارناموں کے قائل تھے۔ ان کی بنیادی غلطی یہ تھی کہ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں سمجھتے تھے۔ فلہٰذا انہیں بھی تدبیر امور کائنات میں اللہ کا شریک سمجھتے تھے۔ اگرچہ مختار کل اللہ ہی کو سمجھتے تھے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے فرشتے نہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور نہ اللہ کے شریک، بلکہ وہ اللہ کی مخلوق اور اس کے فرمانبردار بندے ہیں اور وہ اللہ کے حکم سے سرتابی کر ہی نہیں سکتے۔ تدبیر امور میں ان کے لیے اپنے اختیار کو ذرہ بھر بھی عمل دخل نہیں۔
Ayahs 79:7–97 آیت نمبر 6 اور نمبر 7 کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ نفخہ صور اول کے وقت زمین کانپنے لگے گی۔ پھر اسے لگاتار زلزلہ کے مزید جھٹکے پڑنے لگیں گے۔ دوسرا یہ کہ رادفہ سے زلزلہ کے بجائے نفخہ صور مراد لیا جائے۔ یعنی پہلے نفخہ صور کے نتیجہ میں زمین کانپنے لگے گی پھر اس کے بعد جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو تمام مرے ہوئے لوگ زندہ ہو کر قبروں سے باہر نکل آئیں گے۔
Ayahs 79:10–118 حافرہ کا لغوی معنی :۔ الحَافِرَۃَ : حفر بمعنی گڑھا کھودنا اور حفرۃ بمعنی گڑھا بھی اور قبر بھی۔ اور حافرۃ بمعنی کھودی ہوئی زمین بھی اور ابتدائی حالت بھی اور ردّ فی الحافرۃ بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جہاں سے چلا تھا وہیں واپس جانے والا۔ بقول شاعر : پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، یعنی کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ ہم قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے ؟ ہماری گلی سڑی ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑجائے، یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔
Ayahs 79:12–139 قرآن میں متعدد مقامات پر مذکور ہے کہ جو لوگ قیامت پر یقین نہیں رکھتے وہ اس دن بڑے خسارے میں رہیں گے۔ کافر ایسی ہی آیات کا مذاق اڑاتے تھے اور کہتے تھے اگر واقعی ہمیں دوبارہ زندہ کیا گیا تو پھر تو ہم مارے گئے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اگر ہمیں دوبارہ زندہ کرکے اس دنیا میں بھیجا گیا تو ہماری زمین اور مکانوں کے تو کئی وارث بن چکے ہوں گے۔ ایک ایک جائداد کے کئی مدعی ہوں گے اور جھگڑے ہی پڑے رہیں گے اس لحاظ سے تو یہ بڑے گھاٹے کا سودا ہوگا۔
Ayah 79:1410 یعنی جس کام کو یہ کافر خلاف عقل اور ناممکن العمل سمجھ رہے ہیں۔ اس کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ جب دوسری مرتبہ صور پھونکا یا ڈانٹ پلائی جائے گی تو اس وقت سب اگلے پچھلے لوگ بلا توقف میدان حشر کی طرف اکٹھے ہونا شروع ہوجائیں گے۔
Ayah 79:1511 قصہ موسیٰ و فرعون :۔ قیامت کے ذکر میں فرعون کا ذکر آپ کو تسلی دینے کے خاطر لایا گیا ہے۔ یعنی یہ مکہ کے کافر تو فرعون کے مقابلہ میں کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔ وہ مصر کے بہت سے علاقہ کا واحد حکمران انتہائی مغرور اور سرکش بادشاہ تھا۔ اس نے بھی جب ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبروں کو جھٹلایا۔ ان کی دعوت کو تسلیم کرنے کی بجائے اکڑ بیٹھا تو ہم نے اسے اور اس کی آل کو سمندر میں غرق کردیا تھا۔ اور اب یہ کفار بھی اگر فرعون جیسا ہی کردار ادا کریں گے تو یہ اللہ کی گرفت سے کیونکر بچ سکیں گے ؟
Ayah 79:1612 نبوت سے سرفرازی :۔ یہ مقدس وادی، جس کا نام طویٰ ہے، کوہ طور کے دامن میں واقع ہے۔ مدین سے مصر یا مصر سے مدین جاتے ہوئے راستہ میں پڑتی ہے۔ اسی مقام پر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا دو دفعہ شرف حاصل ہوا تھا۔ پہلی دفعہ جب وہ اپنے اہل و عیال سمیت مصر جارہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حالات ہی ایسے پیدا کردیئے کہ آپ اس وادی میں آگ دیکھ کر وہاں پہنچ گئے اسی مقام پر اور اسی موقع پر آپ کو منصب نبوت سے نوازا گیا تھا۔ اور دوسری دفعہ جب تورات لینے کی غرض سے وہاں گئے تھے۔
Ayahs 79:17–1813 فرعون کے پاس جانے کا حکم :۔ نبوت عطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر جو ذمہ داری لگائی وہ آپ کے لیے بڑی کڑی آزمائش تھی۔ آپ کے ہاتھ سے اتفاقاً ایک قبطی کی موت واقع ہوگئی تھی ایک خیر خواہ کی اطلاع پر کہ آپ کے قتل کے مشورے فرعونی پارلیمنٹ میں ہو رہے ہیں آپ عارضی طور پر مدین کی جانب چلے گئے اس وجہ سے فرعون کی حکومت آپ کو مجرم سمجھتی تھی۔ آپ کا نام ریکارڈ پر موجود تھا۔ علاوہ ازیں فرعون ایک انتہائی مغرور اور سرکش حکمران تھا جسے اس قسم کا پیغام پہنچانا بذات خود جان جوکھوں کا کام تھا۔ ان خطرات کا موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کے دوران اظہار بھی کیا تھا اور یہ ایک طویل قصہ ہے جس کا ذکر پہلے متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔ یہاں ایسی سب باتوں کو حذف کردیا گیا ہے۔
Ayah 79:1914 فرعون کو اللہ کا پیغام پہنچانا :۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی مقام پر ایک استدعا یہ بھی کی تھی کہ میرے بھائی ہارون کو بھی نبوت عطا کرکے میرے ہمراہ روانہ کیا جائے تاکہ کم از کم میرا ایک ساتھی تو میرا مددگار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ استدعا قبول فرمائی اور سیدنا ہارون کو نبی بنا کر آپ کے ہمراہ کردیا مگر ساتھ ہی یہ تاکید کردی کہ فرعون چونکہ متکبر اور بددماغ ہے لہذا اس سے جو بات کہنی ہو نہایت نرم لہجے میں کہنا۔ اسی طرح ممکن ہے کہ وہ آپ کی بات سننے پر آمادہ ہوجائے ورنہ وہ جوش غضب میں بھڑک اٹھے گا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت نرم اور دل نشین انداز میں اسے سمجھایا کہ کیا تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ تم اس تکبر اور سرکشی کے رویہ سے باز آکر اللہ کے فرمانبردار بن جاؤ۔ اس طرح تمہاری یہ دنیا کی زندگی بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی سنور جائے گی اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ میری رسالت کو تسلیم کرلو۔ میں تمہیں تمہارے پروردگار کی سیدھی راہ بتادوں گا۔ اگر تمہیں اپنے پروردگار کی صحیح معرفت حاصل ہوگئی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ تم میں اللہ کی خشیت اور خوف پیدا ہوجائے گا اور جو کام بھی کرو گے اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو گے اور یہ چیز تمہاری زندگی کو سنوارنے کا بہترین ذریعہ ہوگا۔
Ayahs 79:20–2115 فرعون کا معجزہ کا مطالبہ :۔ اس انتہائی نرم گفتگو کے باوجود اور بات کو سمجھ جانے کے باوجود فرعون اپنے اقتدار اور متکبرانہ روش سے دستبردار ہونے کے لیے قطعاً تیار نہ ہوا اور پوچھنے لگا کہ تم اپنے اس دعویٰ رسالت کی تائید میں اللہ کی طرف سے کوئی نشانی بھی پیش کرسکتے ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سوال کا اثبات میں جواب دیا اور بھرے دربار میں اپنا عصا جو زمین پر پھینکا تو وہ ایک اژدھا بن گیا جس سے فرعون اور سب درباری سخت مرعوب اور دہشت زدہ ہوگئے۔ بالآخر فرعون نے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ وہ جلد از جلد اس اژدھا کو سنبھال لیں۔ چناچہ آپ نے آگے بڑھ کر اسے پکڑ لیا تو وہ پھر سے وہی پہلے والاعصا بن گیا۔
Ayahs 79:22–2316 فرعون کی سرکشی :۔ فرعون اور درباریوں کو یہ معجزہ دیکھ کر یقین تو آچکا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) واقعی اللہ کا رسول ہے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ یہ بات تسلیم کرلینے سے ان سب کو اپنے اپنے اقتدار اور مناصب سے دستبردار ہو کر سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا مطیع فرمان بننا پڑتا تھا اور یہ بات ان کے لیے موت تھی۔ لہذا انہوں نے عوام الناس کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ یہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ نہیں بلکہ جادو کا کرشمہ ہے۔ اپنے اس جھوٹ کو سچا بنانے کے لیے انہوں نے یہ چال چلی کہ ملک بھر کے ماہر جادوگروں کا برسر عام موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کروا دیا جائے۔ فرعون نے جادوگروں کو لالچ بھی بہت دیا۔ مگر جب جادوگروں نے میدان مقابلہ میں ہار کر بھرے مجمع میں یہ اعلان کردیا کہ یہ جادو کا کرشمہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ معجزہ ہے اور ہم موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لاتے ہیں تو اس سے فرعون اور اس کے درباریوں کی بھرے مجمع میں خوب رسوائی ہوئی۔
Ayahs 79:24–2517 فرعون کا رعایا میں پروپیگنڈا :۔ میدان مقابلہ میں مات کھانے کے بعد بہت سے لوگ درپردہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے لگے تو فرعون بہت سیخ پا ہوگیا۔ اس نے ایک دوسرا پینترا بدلا اور لوگوں سے کہنے لگا تم لوگ میرے مقابلہ میں اس شخص کی پیروی کرنے لگے ہو جو میرے مقابلہ میں ایک کمزور اور حقیر انسان ہے جبکہ میں تمہارا سب سے بڑا حکمران ہوں۔ تمہارے تمام وسائل معاش بھی میرے ہاتھ میں ہیں۔ فرعون نے اپنے آپ کو ان معنوں میں رب الاعلیٰ نہیں کہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو خالق کائنات سمجھتا تھا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو کائنات کا خالق ومالک سمجھتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو لوگوں کا معبود بھی نہیں کہتا تھا بلکہ وہ تو خود سورج دیوتا کی پرستش کرتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ملک میں سب سے بڑا سیاسی اقتدار کا مالک اور حکمران سمجھتا تھا۔ وہ یہ کہتا تھا کہ اس ملک میں سب سے بڑا سیاسی مقتدر اعلیٰ میں ہوں۔ میرے بغیر یہاں کسی دوسرے کا قانون یا حکم نہیں چل سکتا۔
Ayah 79:2618 یعنی جس طرح فرعون نے سرکشی کی راہ اختیار کی تھی۔ وہی کچھ تم کر رہے ہو۔ اس کا انجام دیکھ لو۔ اور اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو کہ تمہیں بھی کہیں ایسے ہی انجام سے دو چار نہ ہونا پڑے۔
Ayah 79:2719 مختصر طور پر قصہ فرعون بیان کرنے کے بعد اب پھر اصل مضمون یعنی عقیدہ آخرت کی طرف رجوع کرتے ہوئے کافروں سے سوال کیا جارہا ہے کہ کیا اس کائنات کو وجود میں لانا زیادہ مشکل کام ہے یا تمہیں پہلی بار یا دوسری بار پیدا کرنا ؟ یہاں لفظ سماء استعمال ہوا ہے جس سے مراد آسمان بھی ہوسکتا ہے اور تمام عالم بالا بھی۔
Ayah 79:2820 آسمانوں کی تخلیق اور انہیں ہموار کرنا :۔ سَمَکَ : سَمَکَ بمعنی بلند کرنا، موٹا اور دبیز کرنا اور بمعنی چھت یا چھت کی موٹائی نیز ہر اونچی اور موٹی چیز کا قدوقامت، اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آسمان محض حد نگاہ کا نام نہیں جیسا کہ موجودہ ہیئت دانوں کا خیال ہے۔ بلکہ آسمان ایک ٹھوس اور موٹی یا دبیز چیز ہے جس میں دروازے بھی ہیں اور آسمان کی اونچائی زمین کے ہر مقام سے یکساں ہے۔ کیونکہ اس کی نچلی اور اوپر کی دونوں سطحوں کو ہموار بنادیا گیا ہے۔
Ayah 79:2921 لیل ونہار :۔ یعنی اس آسمان میں سورج پیدا کیا ہے۔ جب تک وہ اہل زمین کے سامنے رہتا ہے تو یہ ان کے لیے دھوپ کا وقت اور دن ہوتا ہے اور جب وہ غروب ہوجاتا ہے اور چھپا رہتا ہے تو یہ ان کے لیے رات کا وقت ہوتا ہے۔
Ayahs 79:30–3222 دَحٰی کا معنی اور زمین کا گول ہونا :۔ دحیٰ اور طحٰی دونوں ہم معنی بلکہ ایک ہی لفظ ہے۔ صرف مختلف علاقوں کے الگ الگ تلفظ کی وجہ سے یہ دو لفظ بن گئے ہیں۔ قرآن میں یہ دونوں الفاظ صرف ایک ایک بار ہی استعمال ہوئے ہیں اور ایک ہی معنی میں آئے ہیں۔ کہتے ہیں دحی المطر الحصی یعنی بارش کنکریوں کو دور دور تک بہا کرلے گئی۔ گویا ان دونوں الفاظ کا معنی دور دور تک بچھا دینا یا پھیلادینا ہے نیز دحی ٰکے مفہوم میں گولائی کا تصور پایا جاتا ہے۔ دحوۃ شتر مرغ کے انڈہ کو کہتے ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے زمین کے گول ہونے پر استدلال کیا ہے۔
Ayah 79:3323 پہاڑوں کے فوائد کا ذکر قرآن میں بہت سے مقامات پر مذکور ہوا ہے۔ یہاں سورج اور پہاڑوں کا ذکر اس مناسبت سے ہے کہ بارش کے نزول میں یہ دونوں چیزیں اسباب ہیں۔ سورج کی حرارت سے سطح سمندر کے آبی بخارات اٹھتے ہیں جو پہاڑوں سے ٹکرا کر اور ٹھنڈے ہو کر برسنے لگتے ہیں۔ اسی بارش سے نباتات اور چارہ اور غلے پیدا ہوتے ہیں۔ غلے انسانوں کی غذا کے کام آتے ہیں اور گھاس اور چارہ ہمارے مویشیوں کی غذا کا کام دیتا ہے۔
Ayah 79:3424 الطّامۃ : الطَّمُّ بمعنی پانی سے بھرا ہوا اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اور الطامہ ایسی آفت جو دوسری تمام مصیبتوں پر حاوی ہوجائے۔ اور الکبریٰ کا لفظ اس بڑی آفت کو مزید نمایاں کرنے کے لیے تاکید کے طور پر آیا ہے اور اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔
Ayah 79:3525 اس بڑی مصیبت کا اصل مقصد سب کو معلوم ہوگا کہ آج کا دن لوگوں کے حساب کتاب کا دن ہے۔ اور ہر انسان کو اپنا اعمال نامہ دیکھنے سے پہلے ہی وہ تمام کام یاد آنے لگیں گے جو اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں سرانجام دیئے تھے، خواہ وہ کام اچھے تھے یا برے تھے۔
Ayahs 79:36–4026 بُرّزَت : بَرَزَ بمعنی کسی چیز کا نکل کر کھلے میدان میں آجانا۔ سامنے آنا۔ گم نامی اور پوشیدگی کے بعد ظاہر ہونا۔ اور برز کے معنی فضا اور کھلا میدان اور دعوت مبارزت بمعنی کسی شخص کا میدان جنگ میں آگے بڑھ کر دشمن کے کسی آدمی کو مقابلہ کے لیے للکارنا ہے اور برز بمعنی کسی چھپی ہوئی چیز کو نکال کر سامنے کھلے میدان میں لے آنا۔ یعنی اس دن جہنم کو سب لوگوں کے سامنے لے آیا جائے گا خواہ وہ نیک لوگ ہوں یا بدکردار۔ اسی مضمون کو ایک دوسرے مقام پر یوں بیان فرمایا : ( وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا 71ۚ ) 19 ۔ مریم :71) یعنی تم میں سے ہر شخص جہنم پر پہنچنے والا ہے۔