Ayahs 78:1–21 کفار مکہ کے نزدیک قیامت کا تصور اور نظریہ ایک عجوبہ چیز تھی۔ جب قرآن نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا کہ قیامت فی الواقع آنے والی ہے اور تمہیں تمہارے مٹی میں گل سڑ جانے کے بعد دوبارہ زندہ کرکے تمہارے اعمال کی باز پرس کی جائے گی تو اس کا مذاق اڑانے لگے۔ وہ مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کے سامنے آپس میں ہی گفتگو کرتے کہ بھئی یہ قیامت کیا بلا ہے ؟ ہم مٹی میں مل جانے کے بعد کیونکر زندہ ہوسکتے ہیں ؟۔ آج تک تو کوئی مرا ہوا زندہ ہوا نہیں۔ پھر یہ کیسی انہونی بات ہے اور یہ آئے گی کب ؟ یہی وہ سوالات تھے جو ان کی دلچسپی کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ وہ مسلمانوں سے بھی، نبی آخرالزمان سے بھی اور آپس میں بھی ایسے سوالات کرتے رہتے تھے اور اس بات سے ان کا مقصد مسلمانوں کو چڑانا ہوتا تھا۔
Ayahs 78:3–42 دور نبوی میں عقیدہ آخرت کے متعلق کئی طرح کے اختلاف پائے جاتے تھے۔ کچھ لوگ تو دہریے تھے جو سرے سے اللہ کی ہستی کے ہی قائل نہ تھے۔ ان کے لیے عقیدہ آخرت خارج از بحث تھا۔ مشرکین مکہ اللہ کی ہستی کے تو قائل تھے مگر آخرت کے منکر تھے۔ عیسائی آخرت کے تو قائل تھے مگر ان میں سے اکثریت کا عقیدہ یہ تھا کہ اخروی عذاب وثواب صرف روح پر وارد ہوگا۔ بدن جو گل سڑ چکا ہے اسے دوبارہ زندہ کرکے نہیں اٹھایا جائے گا اور کچھ لوگ نظریہ لا ادریت کے قائل تھے یعنی وہ شک و شبہ میں مبتلا تھے۔ ان کے خیال میں یہ دونوں صورتیں ممکنات سے تھیں یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ قیامت قائم ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ مرنے کے ساتھ ہی انسان کا قصہ پاک ہوجائے۔ اور قیامت کا نظریہ محض ایک قیاسی اور وہمی نظریہ ہو۔ ان سب اختلافات کے باوجود یہ لوگ عملاً اور نتیجہ کے لحاظ سے آخرت کے منکر تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو آخرت کے منکر ہونے کی وجہ سے کافر ہی قرار دیا ہے۔
Ayah 78:53 یعنی اسی دنیا میں ان کی موت کے وقت آخرت سے متعلق سب حقائق پوری طرح کھل کر ان کے سامنے آجائیں گے۔
Ayah 78:64 کیا کائنات کے چودھری حضرت انسان کی زندگی کا کچھ مقصد نہ ہونا چاہیے :۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کائنات سے چند ایسے آثار و شواہد پیش فرمائے ہیں جن سے ہر انسان کو سابقہ پڑتا ہے اور وہ ان سے متمتع ہو رہا ہے۔ انسان کو بتانا یہ مقصود ہے کہ کائنات میں یہ اشیاء کسی خاص مقصد کے لیے اور بڑی حکمت کے ساتھ پیدا کی گئی ہیں اور ان میں سے ہر چیز اپنے مقاصد کو پورا کر رہی ہے۔ اب رہا انسان جسے عقل و شعور اور ارادہ و اختیار دے کر اور اس کائنات میں چودھری بنا کر بھیجا گیا ہے کہ وہ ان تمام اشیاء سے حسب ضرورت فائدے اٹھائے تو کیا اس کی زندگی کا کچھ بھی مقصد نہ ہونا چاہیے ؟ کیا عقل اسے باور کرتی ہے کہ انسان فائدے تو ہر طرح سے اٹھائے۔ دنیا میں جو جی میں آئے کرتا پھرے۔ پھر جب مرجائے تو اس کا قصہ پاک ہوجائے اور اس سے کوئی مؤاخذہ کرنے والا نہ ہو ؟ کیا کائنات کی باقی سب اشیاء کے علی الرغم انسان کو ہی ایسا بےکار پیدا کیا گیا ہے۔ کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو ؟ انسان کی زندگی کا مقصد یہ آزمائش ہے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ قوتوں کا استعمال درست کرتا ہے یا غلط ؟ اسے اس امتحان کے لیے اس کی موت تک کا وقت دیا گیا ہے۔
خ اللہ کی نشانیاں زمین کا گہوارہ ہونا :۔ اس دوران وہ پرچہ امتحان کو جس طرح چاہے حل کرسکتا ہے۔ موت کے وقت اسے اس کے امتحان کے نتیجہ سے آگاہ کردیا جائے گا۔ اور دوسری دنیا یعنی عالم آخرت میں اسے اس کے کیے ہوئے اعمال کی جزا و سزا بھی دی جائے گی۔ آگے ان چند آثار و شواہد کا ذکر کیا جارہا ہے۔ سرفہرست یہ ہے کہ زمین اس کے لیے گہوارہ بنادی گئی ہے۔ جس میں ہم نے اس کی رہائش، اس کے چلنے پھرنے اور اس کے کھانے پینے اور نشوونما کے جملہ انتظامات کردیئے ہیں۔
Ayah 78:75 پہاڑوں کی تنصیب :۔ زمین جب پیدا کی گئی تو ابتداً لرزتی رہتی تھی، ڈولتی تھی، جھولتی تھی اور ادھر ادھر ہچکولے کھاتی تھی۔ ایسی صورت میں انسان کا اس پر زندہ رہنا ممکن نہ تھا۔ ہم نے اس کی پشت پر جابجا پہاڑوں کے طویل سلسلے میخوں کی طرح گاڑ دیئے اور انہیں اس تناسب سے جا بجا مقامات پر پیدا کیا جس سے زمین میں لرزش اور جھول بند ہوگئی اور وہ اس قابل بنادی گئی کہ انسان اس پر اطمینان سے چل پھر سکے۔ اس پر مکانات وغیرہ تعمیر کرسکے اور سکون سے پوری زندگی بسر کرسکے۔
Ayah 78:86 مرد وزن کی تخلیق :۔ بقائے نوع کے لیے ہم نے انسان کی دو بڑی انواع مرد اور عورت پیدا کیں۔ ان انواع میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے فطری کشش رکھتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے راحت و سکون کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں محبت اور مودت پیدا ہوتی ہے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی لابدی ضرورت ہیں اور ایک دوسرے کے بغیر ان کا زندگی گزارنا مشکل ہے۔ بقائے نوع انسانی کا مقصد کچھ کم اہم نہ تھا۔ ان دونوں میں کشش، سکون اور محبت پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کو بڑا پر لطف بنادیا۔
Ayah 78:97 نیند کی حقیقت اور مقصد :۔ نیند بھی اللہ تعالیٰ کے معجزہ نما عجائب میں سے ہے۔ نیند کیا چیز ہے ؟ اس کی حقیقت آج تک انسان کے لیے ايک معمہ بنی ہوئی ہے۔ ہم صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ جب انسان کام کرتے کرتے تھک جاتا ہے تو اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن محض کام چھوڑ دینے سے تھکاوٹ دور نہیں ہوتی جب تک نیند نہ آئے۔ نیند ایک اضطراری امر ہے جو تھکے ہوئے انسان کو لیٹنے پر مجبور کردیتی ہے پھر اس پر چھا جاتی ہے۔ کام کرتے کرتے انسان کے جسم سے جو خلیے جل کر تباہ ہوجاتے ہیں۔ نیند کی حالت میں ان کی جگہ نئے خلیے پیدا ہوتے ہیں۔ اور انسان کی نیند اس وقت تک پوری نہیں ہوتی جب تک تلافی مافات ہو نہ جائے۔ پھر جب انسان کے جسم کی تعمیر و مرمت پوری ہوجاتی ہے تو انسان کی نیند کا وقت ختم ہوجاتا ہے اور وہ تازہ دم ہو کر از خود جاگ اٹھتا ہے۔
Ayah 78:108 آرام کے لیے رات :۔ رات دن کی نسبت ٹھنڈی بھی ہوتی ہے اور تاریک بھی اور یہ دونوں باتیں نیند کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ دن کو بھی جب کسی وقت انسان کو سونے کی حاجت محسوس ہوتی ہے تو وہ کوئی تاریک گوشہ تلاش کرتا ہے۔ آنکھوں پر کپڑا رکھ لیتا ہے اور بسا اوقات رات کو بھی اسی غرض سے کپڑا اوڑھ لیتا ہے کہ اسے گہری نیند کا لطف میسر ہو۔
Ayahs 78:11–129 کام کرنے کے لیے دن :۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ فطری ذرائع یہ ہیں کہ انسان دن کو کام کرے جبکہ اسے قدرتی روشنی آسانی سے میسر آتی ہے۔ اور رات کو آرام کرے اور نیند لے کیونکہ نیند کے لیے جس تاریکی کی ضرورت ہے وہ اسے رات کو آسانی سے قدرتی ذرائع سے مہیا ہوجاتی ہے اس کے برعکس اگر کوئی شخص رات کو کام کرتا رہے اور دن کو سویا کرے تو وہ نہ گہری نیند کا لطف حاصل کرسکتا ہے اور نہ اس کے پورے فوائد حاصل کرسکتا ہے۔ بلکہ کچھ عرصہ بعد اس کی صحت خراب ہوجاتی ہے۔
Ayahs 78:13–1510 سورج کی دوری اور فوائد :۔ وَھَّاجاً : الوھج بمعنی سورج یا آگ کی بھڑک جس میں تپش بھی ہو اور چمک بھی۔ یعنی سورج ایک بھڑکتا ہوا گولا ہے جو انسانوں اور اہل زمین کو حرارت بھی مہیا کرتا ہے اور روشنی بھی۔ یہ سورج زمین سے 9 کروڑ تیس لاکھ میل کے فاصلہ پر رکھا گیا ہے۔ اگر یہ فاصلہ اس سے کم رکھا جاتا تو انسان سورج کی تپش سے جل بھن کر مرجاتا اور اگر یہ فاصلہ زیادہ کردیا جاتا تو انسان سردی سے ٹھٹھر کر مرجاتا۔ سورج کو زمین سے اتنے مناسب فاصلہ پر رکھنا اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے۔
Ayah 78:1611 بارش کا نزول اور روئیدگی :۔ پھر اسی سورج کی حرات سے سطح سمندر سے آبی بخارات اٹھتے ہیں جو کسی سرد طبقہ میں پہنچ کر پانی کے قطرے بن کر برسنے لگتے ہیں۔ یہی بارش زمین سے نباتات اور درختوں کی روئیدگی کا سبب بنتی ہے اور یہی نباتات روئے زمین پر بسنے والی تمام جاندار مخلوق کے رزق کا ذریعہ اور زندگی کی بقا کا سبب بنتی ہے۔
Ayah 78:1712 ان سب باتوں پر غور کرنے سے انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کوئی چیز بھی بےمقصد پیدا نہیں کی۔ پھر کیا انسان کو ہی اس نے اتنی معجز نما قوتیں عطا کر کے بےکار پیدا کردیا ہوگا ؟ وہ جو چاہے کرتا پھرے اور اس سے کوئی مؤاخذہ نہ ہو ؟ یہ سب باتیں حیات بعد الممات پر قوی دلائل ہیں اور ایک وقت یقیناً آنے والا ہے جب اس کائنات کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور سب انسانوں کو دوبارہ پیدا کرکے ان سے محاسبہ کیا جائے گا یہ کام کب ہوگا ؟ اللہ کے ہاں اس کے لیے بھی ایک ٹھیک وقت مقرر ہے۔
Ayah 78:1813 یہ دراصل نفخہ صور ثانی کے وقت ہوگا کہ لوگ اپنے جرائم کی بنا پر مختلف گروپوں میں بٹ جائیں گے اور اللہ کے حضور پیش ہوجائیں گے۔ فیصلہ کے دن کی مناسبت سے اس صورت حال کا ذکر پہلے کردیا گیا ہے۔
Ayah 78:1914 آج ہمیں آسمان ایک نیلگوں اور صحیح وسالم چھت نظر آتی ہے جس میں کہیں کوئی رخنہ، دراڑ یا شگاف نظر نہیں آتا۔ لیکن جب قیامت کا پہلا صور پھونکا جائے گا تو اس آسمان میں اتنی دراڑیں یا شگاف پڑجائیں گے کہ یوں معلوم ہوگا کہ سارا آسمان بس دروازے ہی دروازے بن گیا ہے۔ اس وقت یہ ایک محفوظ چھت نہیں رہے گا بیشمار ستارے آپس میں ٹکرا کر زمین پر گرپڑیں گے۔ کئی ٹوٹنے والے ستارے اور دوسری بلائیں بھی زمین کا رخ کرلیں گی۔
Ayahs 78:20–2115 پہاڑوں کی زمین میں گرفت ڈھیلی پڑجائے گی۔ ان کے مقامات میں تبدیلی واقع ہوجائے گی پھر ان کے پتھر ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر بالآخر چمکتی ریت کے تودے بن جائیں گے جن پر ایک خاص زاویہ سے دیکھنے سے معلوم ہوگا کہ یہ گویا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ پھر ان کی یہ کیفیت بھی نہ رہے گی بلکہ ہوا ان ریت کے تودوں کو ادھر سے ادھر اڑاتی پھرے گی۔
Ayah 78:2216 مِرْصَاد بمعنی گھات یا تاک لگا کر بیٹھنے کی جگہ جہاں شکاری غافل شکار کو پھانسنے کے لیے بیٹھتا ہے۔ پھر جب شکار اس کی زد میں آجاتا ہے تو یکدم اسے قابو کرلیتا ہے۔ آخرت کے منکر بھی جہنم کے غافل شکار ہیں جو انجام سے بیخبر اور لاپروا ہو کر زمین میں آزادانہ زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان کے مرنے کی دیر ہے کہ جہنم فوراً انھیں اپنے قبضہ میں لے لے گی۔ وہ تو پہلے ہی اس انتظار میں ہے کہ اسے کب کوئی شکار مہیا ہوتا ہے ؟
Ayahs 78:23–2517 اَحْقَابًا۔ حُقْبَہ کی جمع ہے اور حقبہ بمعنی اسّی سال کا عرصہ یا اس سے زائد مدت، طویل اور غیر معینہ مدت (مفردات) اور اس کی جمع حقب بھی آتی ہے اور احقاب بھی یعنی اہل دوزخ پر جب ایک حقبہ گزر جائے گا تو دوسرا حقبہ شروع ہوجائے گا۔ پھر تیسرا گویا وہ لامتناہی مدت تک دوزخ میں ہی پڑے رہیں گے۔
Ayahs 78:26–2918 یعنی انہیں اتنی ہی سزا دی جائے گی جس قدر اس کے برے اعمال تھے۔ اس سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔ اور ان کے جرائم کی بنیاد یہ بات تھی کہ انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ان کا محاسبہ کیا جانے والا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے آیات کا انکار کیا تھا اور پوری زندگی شتر بےمہار کی طرح آزادانہ گزار دی تھی۔
Ayah 78:3019 بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اہل دوزخ کو جب دوزخ کے عذاب سہتے سہتے ایک طویل مدت گزر جائے گی تو پھر ان کی طبیعتیں ہی اس طرح کی ہوجائیں گی کہ وہ عذاب کو عذاب محسوس نہ کریں گے جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے :
رنج کا خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں
اس آیت سے ان کے اس نظریہ کی تردید ہوگئی کیونکہ اہل دوزخ کو جو عذاب دیا جائے گا وہ ایک حالت پر نہ رہے گا کہ اہل دوزخ کی طبیعتیں اس کی عادی اور خوگر بن جائیں بلکہ اس عذاب میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ نیز بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ طویل زمانہ گزرنے کے بعد جہنم پر بھی ایک وقت ایسا آئے گا جب اس کی آگ ماند پڑجائے گی بلکہ بجھ جائے گی۔ خواہ اہل دوزخ اس میں ابھی موجود ہوں۔ اس آیت سے ان لوگوں کے نظریہ کی بھی تردید ہوجاتی ہے۔
Ayah 78:3120 مَفَازًا کا لغوی مفہوم :۔ مَفَازًا : فاز بمعنی نجات حاصل کرنا اور مصیبتوں سے نجات حاصل کرکے خیر و عافیت کے ساتھ سلامتی کی جگہ پہنچنا ہے۔ اسی لیے فاز الرجل اور فَوْزَ الرجل کے معنی مرنا اور ہلاک ہونا بھی آتا ہے اور اس میں تصور یہ ہے کہ انسان مر کر دنیا کی پریشانیوں اور مصیبتوں سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔ گویا پرہیزگاروں کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انہیں قیامت کے دن کے مصائب و آلام اور دوزخ کے عذاب سے نجات مل جائے اور وہ ایسے محفوظ اور سلامتی والے مقام پر پہنچا دیئے جائیں جہاں جہنم کے عذاب کی لو تک بھی نہ پہنچ سکے۔ رہا اس کے بعد جنت میں داخلہ اور جنت کی نعمتوں کا حصول تو وہ اللہ کے فضل اور مہربانی سے زائد انعام ہوگا۔ اور اس مضمون پر پہلے متعدد مقامات پر بحث گزر چکی ہے۔
Ayah 78:3221 پرہیزگاروں کو نجات کے بعد زائد انعام جنت یا جنت کی نعمتوں کی صورت میں ملے گا ان میں سے چند ایک کا یہاں ذکر کیا جارہا ہو۔ ان میں پہلی چیز تو حدائق ہیں اور حدائق حدیقہ کی جمع ہے اور حدیقہ ایسے باغ کو کہتے ہیں جس کے گرد حفاظت کی خاطر چار دیواری کی گئی ہے۔ ایسے باغات میں بالخصوص انگوروں کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ یہی ایک ایسا پھل ہے جو پورے کا پورا کھایا جاسکتا ہے نہ اس کا چھلکا اتارنا پڑتا ہے اور نہ اس میں گٹھلی یا بیج ہوتے ہیں اور اگر بیج ہوتے ہیں تو صرف بڑے سائز کے انگور میں جس سے منقیٰ بنتا ہے۔ یہ بیج بھی اگر کوئی شخص کھالے تو کچھ حرج نہیں۔ اور نرم اتنا کہ منہ میں ڈالتے ہی گھل جاتا ہے۔ شیریں بھی ہوتا ہے اور مزیدار بھی۔
Ayahs 78:33–3422 کو اعب کا لغوی مفہوم :۔ کَوَاعِبَ ۔ کعب بمعنی ٹخنہ، پھر جو کوئی ابھار ٹخنہ کی مانند ہو اس پر بھی کعب کا اطلاق ہوتا ہے۔ کعبت الجاریہ بمعنی لڑکی کے پستان ابھر آئے اور بڑے ہوئے اور کعب بمعنی عورت کے ابھرے ہوئے پستان اور کا عب اور کا عبہ اس نوجوان عورت کو کہتے ہیں جس کے پستان ابھر آئے ہوں اور اس کی جمع کو اعب آتی ہے۔ یعنی اہل جنت کو باغات اور انگوروں کے علاوہ نوخیز عورتیں بھی ملیں گی جو ہم عمر ہوں گی۔ ہم عمر کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ وہ آپس میں ہم عمر ہوں گی اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے جنت کے خاوندوں کی بھی ہم عمر ہوں گی۔ یعنی ان کے خاوندوں کو بھی جوان بنا کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔
Ayahs 78:35–3623 اگر کسی سے پوچھا جائے کہ آیا تم نے جھوٹ بولا تھا تو وہ اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ مجھے جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی ؟ گویا انسان جب جھوٹ بولتا ہے تو کسی ضرورت کے تحت بولتا ہے۔ یہ ضرورت خواہ کسی فائدہ کا حصول ہو یا کسی مصیبت یا تکلیف سے بچنا مقصود ہو۔ انہیں دو باتوں کے لیے وہ جھوٹ بولتا، ایک دوسرے سے الجھتا، لڑائی جھگڑا کرتا اور بیہودہ باتیں کرتا ہے۔ لیکن جنت میں نہ تو کوئی تکلیف پہنچنے کا امکان ہوگا نہ کسی فائدہ کا حصول مطلوب ہوگا کیونکہ ہر طرح کی نعمتیں تو انہیں پہلے ہی سے میسر ہوں گی۔ لہذا جنت میں جھوٹ، چغلی، غیبت اور دوسری بیہودہ باتوں کی کبھی ضرورت ہی پیش نہ آئے گی۔
Ayah 78:3724 یعنی اللہ تعالیٰ کی اہل جنت کو جود و عطا کا تو وہ حال ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے جلال، رعب اور دبدبے کا یہ حال ہوگا کہ جب تمام مخلوق قیامت کی ہولناکیوں سے گھبراہٹ میں مبتلا ہوگی تو کسی کو یہ ہمت نہیں پڑے گی کہ وہ مخلوق خدا پر اللہ تعالیٰ سے رحم کے لیے سفارش کرسکے اور ہر شخص نفسی نفسی پکار رہا ہوگا۔ حتیٰ کہ انبیاء بھی رب سلّم وسلّم پکار رہے ہوں گے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کے سامنے سفارش کے لیے قرعہ فال رسول اللہ کے نام پر پڑے گا اور آپ اللہ کے حضور سب کے لیے سفارش کریں گے۔ اس مضمون کی طویل اور مفصل حدیث سورة بقرہ کی آیت نمبر 255 کے تحت گزر چکی ہے۔
Ayah 78:3825 وقال صوابا کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ سفارش کرنے والا ایسے شخص کے حق میں ہی سفارش کرسکے گا جس نے دنیا میں درست بات کہی ہوگی اور درست بات سے مراد کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ ہے۔ یعنی سفارش ایسے گنہگار کے حق میں تو کی جاسکے گی جو توحید پر قائم اور اللہ کا فرمانبردار رہا ہو۔ مگر کسی مشرک یا اللہ کے باغی کے حق میں سفارش نہ کی جاسکے گی اور دوسرے مطلب کے لحاظ سے یہ دونوں صفات سفارش کرنے والے کی ہیں۔ یعنی سفارش وہی شخص کرسکے گا جسے اللہ کی طرف سے اجازت ملے گی اور سفارش کرتے وقت وہ درست بات ہی کرے گا جو اللہ کی رضا کے مطابق ہوگی یعنی اللہ تعالیٰ اس گنہگار کے جس جرم کے متعلق سفارش قبول کرنا چاہے گا، سفارش کرنے والا صرف وہی سفارش کرے گا۔
Ayah 78:3926 یعنی مرنے کے بعد اور قیامت کے دن جو جو حالات پیش آنے والے ہیں وہ کھول کر بیان کیے جارہے ہیں ان کی رو سے دو راہیں انسان کے سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ انسان جوابدہی کے تصور سے محتاط اور ذمہ دارانہ زندگی اختیار کرے۔ دوسری یہ کہ وہ آنے والے حالات سے آنکھیں بند کرکے دنیا کی زندگی ہی پر مست و شیدا رہے۔ اب انسان کو اختیار ہے کہ جونسی راہ وہ پسند کرتا ہے اختیار کرے۔
Ayah 78:4027 اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ میں پیدا ہی نہ کیا جاتا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد مٹی میں مل کر مٹی ہی بنا رہتا۔ مجھے دوبارہ زندگی نہ عطا کی جاتی اور نہ یہ سختی کا دن دیکھنا پڑتا۔ تیسرا مطلب سیدنا ابوہریرہ ؓ کی اس حدیث سے ماخوذ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جانور، چرند اور پرند سب کا حشر ہوگا حتیٰ کہ سینگ والی بکری کا بدلہ بےسینگ بکری سے لیا جائے گا جس نے دنیا میں اسے مارا ہوگا۔ (مسلم کتاب، البرو الصلہ ( باب تحریم الظلم) پھر ان سے کہا جائے گا کہ اب تم خاک بن جاؤ۔ اس وقت کافر آرزو کرے گا کہ کاش میں بھی ان جانوروں کی طرح خاک بن جاتا۔