Ayahs 79:41–4327 یعنی اس دن ساری مخلوق دو گروہوں میں بٹ جائے گی۔ ایک وہ جو آخرت کے منکر تھے انہیں اللہ کے سامنے پیش ہونے اور اپنے اعمال کی جوابدہی کا نہ کوئی تصور تھا اور نہ خطرہ تھا۔ لہذا وہ دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ کر اس پر فریفتہ رہے اور آخرت سے بالکل بےفکر بنے رہے ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ وہ جب جہنم پر پہنچیں گے تو فوراً اس میں داخل کردیئے جائیں گے۔ دوسرے وہ جنہیں آخرت میں اپنے اعمال کی جوابدہی کا ہر وقت خطرہ لا حق رہتا تھا۔ لہذا انہوں نے اپنے اخروی مفاد کی خاطر ہر وقت اپنے نفس کی خواہشات کو دبائے رکھا اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نہایت محتاط اور ذمہ دارانہ زندگی گزاری ہوگی۔ ایسے ہی لوگ جنت کے حق دار قرار پائیں گے اور انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل کیا جائے گا۔
Ayahs 79:44–4528 ان کافروں نے بھی عجیب مذاق بنا رکھا ہے کہ اکثر آپ سے یہی سوال پوچھتے رہتے ہیں کہ قیامت کب آنے والی ہے۔ حالانکہ یہ بات آپ کے احاطہ علم سے باہر ہے۔ یہ لوگ جتنا بھی اس سوال کے پیچھے پڑیں اور اس سلسلہ میں آپ کو پریشان کریں بالآخر اس کا یہی جواب سامنے آئے گا کہ اس بات کا علم صرف اللہ کو ہے اور اس بات کا جاننا عملی لحاظ سے کچھ مفید بھی نہیں۔ مثلاً ہر شخص کا یہ تصور ہوتا ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے فلاں کام کر جانا چاہیے۔ حالانکہ اپنی موت کا علم اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہوتا۔ لہذا قیامت کے عقیدہ کا عملی پہلو یہی ہے کہ انسان اس دنیا کی زندگی میں جو دارالامتحان ہے ایسے کام کر جائے جو اس کے لیے مفید ثابت ہوں۔
Ayah 79:4629 گزشتہ واقعات کے متعلق انسان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ بیسیوں سال پہلے گزرے ہوئے واقعہ کے متعلق وہ کہتا ہے کہ یہ کل کی بات ہے۔ یہ اس عالم دنیا کا حال ہے جس میں لیل و نہار کی گردش اسے نظر آتی ہے اور ماہ و سال کا وہ حساب لگا سکتا ہے لیکن عالم برزخ میں تو یہ دن رات بھی نہیں ہوں گے جیسے اصحاب کہف پر تین سو سال گزرنے کے بعد وہ یہ فیصلہ نہ کرسکے تھے کہ وہ اس غار میں پورا دن سوئے رہے ہیں یا دن کا کچھ حصہ۔ بالکل یہی صورت حال قیامت کے دن لوگوں کو پیش آئے گی اور کافر قیامت کا دن دیکھ کر یہی سمجھیں گے کہ ان کی دنیا کی زندگی تو پورا ایک دن بھی نہ تھی۔ کاش یہ تھوڑی سی مدت ہم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہی گزار کر یہاں آتے۔