79. Surah An-Naazi'aat

النازعاتThose who drag forth · 46 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 79:41–43

فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 79:41 in the Quran reader

تو جنت 27 ہی اس کا ٹھکانا ہوگا

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ Open ayah 79:42 in the Quran reader

یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ وہ کب قائم ہوگی

فِیْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَاؕ Open ayah 79:43 in the Quran reader

آپ کو اس کے ذکر (وقت بتانے) سے کیا واسطہ ؟

27 یعنی اس دن ساری مخلوق دو گروہوں میں بٹ جائے گی۔ ایک وہ جو آخرت کے منکر تھے انہیں اللہ کے سامنے پیش ہونے اور اپنے اعمال کی جوابدہی کا نہ کوئی تصور تھا اور نہ خطرہ تھا۔ لہذا وہ دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ کر اس پر فریفتہ رہے اور آخرت سے بالکل بےفکر بنے رہے ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ وہ جب جہنم پر پہنچیں گے تو فوراً اس میں داخل کردیئے جائیں گے۔ دوسرے وہ جنہیں آخرت میں اپنے اعمال کی جوابدہی کا ہر وقت خطرہ لا حق رہتا تھا۔ لہذا انہوں نے اپنے اخروی مفاد کی خاطر ہر وقت اپنے نفس کی خواہشات کو دبائے رکھا اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نہایت محتاط اور ذمہ دارانہ زندگی گزاری ہوگی۔ ایسے ہی لوگ جنت کے حق دار قرار پائیں گے اور انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں داخل کیا جائے گا۔
Ayahs 79:44–45

اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَاؕ Open ayah 79:44 in the Quran reader

اس کا علم تو آپ کے پروردگار پر ختم 28 ہوتا ہے

اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ یَّخْشٰىهَاؕ Open ayah 79:45 in the Quran reader

آپ تو صرف ایک ڈرانے والے ہیں، اس شخص کو جو اس سے ڈر جائے

28 ان کافروں نے بھی عجیب مذاق بنا رکھا ہے کہ اکثر آپ سے یہی سوال پوچھتے رہتے ہیں کہ قیامت کب آنے والی ہے۔ حالانکہ یہ بات آپ کے احاطہ علم سے باہر ہے۔ یہ لوگ جتنا بھی اس سوال کے پیچھے پڑیں اور اس سلسلہ میں آپ کو پریشان کریں بالآخر اس کا یہی جواب سامنے آئے گا کہ اس بات کا علم صرف اللہ کو ہے اور اس بات کا جاننا عملی لحاظ سے کچھ مفید بھی نہیں۔ مثلاً ہر شخص کا یہ تصور ہوتا ہے کہ مرنے سے پہلے مجھے فلاں کام کر جانا چاہیے۔ حالانکہ اپنی موت کا علم اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہوتا۔ لہذا قیامت کے عقیدہ کا عملی پہلو یہی ہے کہ انسان اس دنیا کی زندگی میں جو دارالامتحان ہے ایسے کام کر جائے جو اس کے لیے مفید ثابت ہوں۔
Ayah 79:46

كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَهَا لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا عَشِیَّةً اَوْ ضُحٰىهَا۠ Open ayah 79:46 in the Quran reader

جب وہ اسے دیکھیں گے تو انہیں ایسا معلوم 29 ہوگا کہ گویا وہ (دنیا میں) بس ایک پچھلا یا پہلا پہر ٹھہرے تھے۔

29 گزشتہ واقعات کے متعلق انسان کا تصور یہ ہوتا ہے کہ بیسیوں سال پہلے گزرے ہوئے واقعہ کے متعلق وہ کہتا ہے کہ یہ کل کی بات ہے۔ یہ اس عالم دنیا کا حال ہے جس میں لیل و نہار کی گردش اسے نظر آتی ہے اور ماہ و سال کا وہ حساب لگا سکتا ہے لیکن عالم برزخ میں تو یہ دن رات بھی نہیں ہوں گے جیسے اصحاب کہف پر تین سو سال گزرنے کے بعد وہ یہ فیصلہ نہ کرسکے تھے کہ وہ اس غار میں پورا دن سوئے رہے ہیں یا دن کا کچھ حصہ۔ بالکل یہی صورت حال قیامت کے دن لوگوں کو پیش آئے گی اور کافر قیامت کا دن دیکھ کر یہی سمجھیں گے کہ ان کی دنیا کی زندگی تو پورا ایک دن بھی نہ تھی۔ کاش یہ تھوڑی سی مدت ہم اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہی گزار کر یہاں آتے۔